توحید کیا ہے ؟ کیا مسلمان بھی شرک کرسکتے ہیں؟

فاروق نے 'مَجلِسُ طُلابِ العِلمِ' میں ‏مارچ 7, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    بغیر شرعی عزر کے فرض نماز ترک کرنا 157:46
    بغیر شرعی عزر کے فرض نماز ترک کرنا کفر ہے اور شرعی عزر کیا ہے کہ خواتین کا وہ طبقہ جن کو حیض یا فساس کے ایام ہوں ان ایام میں نماز ادا نہیں کریں گی اس کے علاوہ وہ بچے جب تک کہ وہ بلوغت کو نہیں پہنچ جاتے اس کے علاوہ انسان جو پاگل ہو جائے اسی طرح وہ انسان جو بے حوش وہ جائے ان چیزوں کے علاوہ کسی بھی مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ نماز کو ترک کرے کیوں کہ ترمذی کے اندر حدیث ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ()ارشاد فرمایا کہ ہمارے اور ان کے درمیان جو عہد ہے وہ نماز ہے جس نے نماز چھوڑی وہ کافر ہو گیا ۔اسی طرح صحیح مسلم کے اندر حدیث ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ()کہ مسلمان اور کفر اور شرک کے درمیان فرق حد فاصل کرنے والی چیز وہ نماز ہے یعنی جس نے نماز چھوڑ دی وہ کافر ہو گیا میرے بھائیو ان دو احادیث کی روشنی میں بے نمازی کافر ہے اور یہی شیخ بن باز اور آپ لجنہ کا فتواہ ہے کہ بے نمازی کافر ہے اور ملت اسلامیہ سے خارج ہے اور شیخ ابن عثیمین رحمتہ اللہ علیہ آپنے رسالے ماحکم طارق الصلاۃ میں فرماتے ہیں کہ بے نمازی واجب قتل ہے مسلمان عورت کے ساتھ اس کا نکاح حرام ہے اس کے ہاتھ کا ذبح کیا ہوا جانور حرام ہے اور مسلمانوں کی ویراست میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہے اگر بے نمازی مر جائے نہ اسے غصل دیا جائےنہ کفن دیا جائے نہ ہی اس کا جنازہ پڑھا جائے نہ ہی مسلمانوں کے قبرستان میں اسے دفن کی جائے بلکہ جنگل میں جاکر پھینک دیا جائے نیز ایسے انسان کا حشر قیامت کے دن فرعون کے ساتھ ہامان کے کے ساتھ قارون کے ساتھ ابیہ ابن خلف ان کفار کے ساتھ ہو گااسی طرح اللہ رب العزت سے سورۃ المدثر میں ارشاد فرمایا () ارشاد فرمایاکہ اہل جنت جہنمیوں سے پوچھیں گے کہ کون سی چیز تمیں دوزخ میں لیے گئی جہنمی جواب دیں گے کہ ہم نمازیں نہیں پڑھ تے تھے۔اسی طرح اللہ رب العزت نے قرآن کریم کے اندر ایک اور جگہ پر ارشاد فرمایا () اگر یہ توبہ کرلیں نماز قائم کریں زکاۃ ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو یعنی ان کے ساتھ جہاد مت کرو اسی طرح میرے بھائیو صحیح بخاری اور مسلم کے اندر حدیث ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا() ارشاد فرمایا کہ اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ قتال کروں جب تک کہ وہ ایمان نہیں لے اتے شہادتین کا اقرار رہیں کر لیتے اور نماز قائم نہیں کرتے اور زکاۃ ادا نہیں کرتے اگر انہوں نے یہ عمل کرلیے تو انہوں نے آپنا جان مال خون مجھ سے محفوظ کرلیا مگر اسلام کے حق کے علاوہ ان کا حساب اللہ رب العزت کے اوپر ہے تو اے مسلمانوں غور کرو قتال کن کے ساتھ کیا جاتا ہے کیا مسلمانوں کے ساتھ نہیں بلکہ کفار کےساتھ تو میرے بھائیو کیا پتا چلا جو بغیر شرعی عذر کے فرض نماز ترک کرتا ہے وہ کافر ہے ملت اسلامیہ سے خارج ہے مسلمانوں کے لیے واجت ہے کہ اس کے ساتھ قتال کریں۔ پیارے بھائیو اب جو چیز میں آپ لوگوں کے سامنےذکر کرنا چاہتا ہوں وہ ہے
     
  2. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    منکرے تقدیر کے بارے میں 162:05
    تقدیر پر ایمان لانا فرض ہے تقدیر کا انکار کفر ہے جناب عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں اگر کسی انسان کے پاس احد کے پہاڑکے جتنا سونا ہو تو اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرے اللہ رب العزت اس کا یہ عمل تب تک قبول نہیں فرمائے گا جب تک کہ وہ تقدیر پر ایمان نہ لائے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو بطور دلیل پیش کیا جب جناب جبرائیل علیہ السلاۃ السلام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا ()کےاے محمدصلی اللہ علیہ وسلم مجھے بتلائیے کہ ایمان کیا ہےتو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جناب جبرائیل علیہ السلاۃ السلام کو ایمان کے چھ ارکان بتلائے اور ان میں سے ایک رکن یہ بھی بتلایا کہ اچھی بری تقدیر پر ایمان لایا جائے کہ وہ اللہ رب العزت ہی کی طرف سے ہے اسی طرح میرے بھائیو سنن ابی داؤد کے اندر حدیث ہے ۔جناب عبادہ ابن صامت رضی اللہ تعالی عنہ نے آپنے بیٹے سے ارشاد فرمایااے میرے بیٹے تو اس وقت تک لزت ایمان سے لطف اندوز نہیں ہو سکتا جب تک کہ تو یہ یقین نہ کرلے کہ جو تقلیف تجھے پہنچنے والی ہے وہ تجھ سے کبھی ٹل نہیں سکتی اور جو تجھے نہیں پہنچی وہ تجھے کبھی پہنچ نہیں سکتی بیٹا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ آپ علیہ السلاۃ السلام نے ارشاد فرمایا اللہ رب العزت نے سب سے قلم کو پیدا فرمایا اور اسے لکھنے کا حکم دیا اس نے عرض کیا اے میرے رب میں کیا لکھوں ۔اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا قیامت تک آنے والے ہر چیز کی تقدیر لکھ دے بیٹا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا جو شخص اس عقیدے کے علاوہ کسی دوسرے عقیدے پر مرا وہ میری امت میں سے نہیں ہے اور ایک حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاجو شخص اچھی بری تقدیر پر ایمان نہیں لایا اللہ رب العزت اسے دوزخ میں جلائے گا پیارے بھائیو ایمان بلقدر چارامور کے ساتھ مکمل ہوتا ہے
    نمبر ایک کہ یہ عقیدہ رکھنا کہ اللہ رب العزت آپنے علم سابق کی بنا پر قائنات میں رونما ہونے والی ہر بات کا اجمالا اور تفصیلا علم رکھتا ہے جیسا کہ اللہ رب العزت نے سورۃ الحج میں ارشاد فرمایا ()ارشاد فرمایا کیا آپ نے نہیں جانا کہ آسمان اور زمین کی ہر چیز اللہ کے علم میں ہے یہ سب لکھی ہوئی کتاب میں محفوظ ہے اللہ رب العزت پر تو یہ عمر بلکل آسان ہے ۔
    نمبر دو یہ عقیدہ رکھنا کہ اللہ رب العزت نے ہر چیز کی تقدیر لوہے محفوظ میں لکھ رکھی ہےجیسا کہ اللہ رب العزت نے سورۃ الحدید میں ارشاد فرمایا ()ارشاد فرمایا نہ کوئی مصیبت دنیا میں آتی ہے نہ خاص تمہاری جانوں میں مگر اس سے پہلے کہ ہم اسے پیدا کریں وہ ایک خاص کتاب میں لکھی ہوئی ہے ۔ اور صحیح مسلم کی ایک حدیث کے اندر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ رب العزت نے آسمانوں اور زمینوں کی تخلیق سے پچاس ہزار سال پہلےمخلوق کی تقدیر مقرر فرمادی تھی ۔
    نمبر تین یہ عقیدہ رکھنا کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب اللہ رب العزت کی مشیت اور ایرادے سے ہو رہا ہے اور یہ کہ اللہ رب العزت کا ایرادہ اور مشیت، رحمت پر مبنی ہے یا حکمت پر وہ آپنی رحمت سے جسے چاہتا ہے ہدایت سے نوازتا ہے اور آپنی حکمت سے جسے چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے اس کی کمال حکمت اور کمال حکومت کے پیشے نظر اس سے اس کے افعال کے مطعلق سوال نہیں کیا جائے گا۔جب کہ مخلوق سے اس کے افعال کے مطعلق سوال کی جائے گا۔اور میرے بھائیوقائنات میں جو کچھ وہ رہا ہے وہ اس کے علم سابق اور لوہے محفوظ میں جو کچھ لکھا ہوا ہے بلکل اس کے عین مطابق ہو رہا ہے۔ کیوں کہ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے ()بے شک ہم نے ہر چیز کو ایک مقررہ اندازے پر قائم کیا ہے ۔
    نمبر چار :- یہ عقیدہ رکھنا کہ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اللہ رب العزت ہی کی مخلوق ہے ۔اللہ رب العزت کے سوانہ کوئی کسی چیز کا خالق ہے ،اور نہ ہی رب جیسا کہ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے ()ارشاد فرمایا اور ہر چیز کو اس نے پیدا کر کے ایک مناسب اندازہ ٹھرادیا ہے۔
    پیارے بھائیو ایمان بلقدر کے پورے چارے مراتب کا جائزہ کرکے خلاصہ یہ ہے ۔کہ پہلے اس بات پر ایمان لایاجائے کہ اللہ رب العزت ہر چیز کو اس کے وقوع سے پہلے جاننے والا ہے ،یہ اللہ رب العزت کا علم سابق ہے ۔دوسرا مرتبہ یہ ہے کہ اللہ رب العزت نے کائنات کے بارے میں آپنے اسی علم سابق کو لوہے محفوظ میں لکھ دیا۔ تیسرا مرتبہ یہ ہے کہ اس کائنات کی ہر مخلوق اسی لکھے ہوئے کے مطابق عمل کر رہی ہے ۔اور چوتھا مرتبہ یہ ہے کہ مخلوقات کہ یہ عمل کرنا اللہ رب العزت کی مشیت اور ایرادہ، خلق اور امر کے تابع ہے ۔اور میں یہاں ایک غلط فہمی کا ایزالہ چاہتا ہوں کہ گناہ گار شخص گناہ کرنے سے پہلے یہ نہیں جانتا کہ اس کے مقدر میں کیا ہے جب کہ وہ استطاعت کے پیش نظر گناہ کرنے کا اور چھوڑ نے کا دونوں کا اختیار رکھتا ہے تو ایسا شخص غلط راہ پر چل کر تقدیر مجہول سے کیوں ہجت پکڑتا ہے اور ایسا کیوں نہیں کہ نیک اعمال کرے اور کہے کہ یہ میرے مقدر میں تھا ۔پیارے بھائیو اگر گناہ گاروں کے لیے آپنے گناہ کے جواز پر تقدیر ہجت ہوتی تووہ انبیاء کی بعاثت کے ذریعے کیسے ختم ہوتی جیسا کہ اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا()تاکہ لوگوں کی کوئی ہجت اور الزام رسولوں کے بھجنے کے بعد اللہ رب العزت پر نہ رہ جائے ۔پیارے بھائیو اب جو چیز میں آپ لوگوں کے سامنےذکر کرنا چاہتا ہوں وہ ہے
     
  3. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    اللہ رب العزت کی تقدیر پر صبر کرنا169:19
    اللہ رب العزت کی تقدیر پر صبر کرناایمان کا جز ہے جیسا کہ اللہ رب العزت نے قرآن کریم کے اندر ارشاد فرمایا ()ارشاد فرمایا جوشخص اللہ پر ایمان رکھتا ہے اللہ رب العزت اس کے د ل کو صبر اور استقامت کی رہ دکھلاتا ہے۔اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے ۔یعنی جو شخص اللہ کی لکھی ہوئی تقدیر پر صبر کرتا ہےاللہ رب العزت اس کے دل کو ہدایت سے نوازتا ہے ۔امام احمد ابن حمبل رحتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اللہ رب العزت نے آپنی کتاب میں نوے 90 جگہ صبر کا ذکر کیا ہے اور صحیح مسلم کی ایک حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ صبر ایک روشنی ہے اور صحیح بخاری کے اندر جناب عمر رضی اللہ تعال عنہ کا فرمان ہے کہ ہم نے بہترین زندگی صبرکے ذریعے پائی ہے ۔جناب علی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ایمان کے درجات میں صبر کا وہی مقام ہے جو سر کا جسم میں ہے آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے بلند آواز میں کہا جس کے پاس صبر نہیں اس کے پاس ایمان نہیں پیارے بھائیو صبر کی تین قسمیں ہیں ۔
    نمبر ایک :- اللہ رب العزت کے عوامر کی ادائگی پر صبر کرنا ۔جیسا کہ نماز ، روزہ ،زکاۃ ، حج اسی طرح اور نیک اعمال جن کا اللہ رب العزت نے حکم دیا ہے ۔ان کی ادائگی پر صبر کرنا ۔
    نمبر دو:- جن چیزوں سے اللہ رب العزت نہیں منع فرمایا ہے ان سے باز رہنے پر صبر کنا۔جیسا کہ زناہ ، شراب ، جوواہ، رشوت ، سود ،چوری، قتل و غارت ،غیبت ،جھوٹ، لواط، بے پردگی،گانہ بجانہ اسی طرح دیگر محرمات جن سے اللہ رب العزت نے منع فرمایا ہے ان سے باز رہنے پر صبر کرنا ۔
    نمبر دین:- اللہ رب العزت کے مقرر قردہ مصائب پر صبر کرنا ۔میرے بھائیو اس بات پر ایمان رکھیں کہ انسان کو کوئی مصیبت بھی اللہ رب العزت کے حکم کے بغیر نہیں پہنچ سکتی ۔جیسا کہ اللہ رب العزت نے قرآن کریم کے اندر ارشاد فرمایا ()ارشاد فرمایا کہ کسی کو کوئی مصیبت نہیں پہنچتی مگر اللہ رب العزت کے حکم سے یعنی اللہ رب العزت کے ارادے اور اس کی مشیت ہی سے کوئی مصیبت آتی ہے ۔جیسا کہ اللہ رب العزت نے سورۃ الحدید کے اندر ارشاد فرمایا()ارشاد فرمایا جو مصیبت بھی زمین پر نازل ہوتی ہے یا تمہاری جان پر تو وہ لوحے محفوظ میں قبل اس کے کہ ہم اسے پیدا کریں لکھی ہوئی ہے بیشک ایسا کرنا اللہ رب العزت کے لیے بڑا ہی آسان ہے ۔پیارے بھائیو ترمذی کے اندر حدیث ہے ۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ رب العزت جب آپنے کسی بندے کے ساتھ خیر کا ایرادہ فرماتا ہے تو اس کو اس کے گناہوں کی سزا دنیا میں جلد دے دیتا ہے اور جب کسی کے ساتھ شر کا ایرادہ کرے تو اس سے اس کے گناہوں کی سزا کو روک لیتا ہے یہاں تک کہ قیامت کو اس کا پورا پورا حساب لے۔اور ایک حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بڑھی آزمائیش میں بڑھا بدلہ ہوتا ہے اللہ رب العزت جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو انہیں آزماتا ہے جو شخص اس آزمائیش پر راذی ہو اللہ رب العزت اس سے راضی ہو جاتا ہے اور جو شخص اس آزمائیش پر نہ خوش ہو تو اللہ رب العزت اس سے نہ خوش اور ناراض ہو جاتا ہے ۔شیخ السلام ابن تیمیہ رحمتہ علیہ کہتے ہیں کہ مصائب اللہ رب العزت کی نعمتیں ہیں اس لیے ان سے گناہ معاف ہوتے ہیں اور بندہ ان پر صبر کرتا ہے تو اسے اجر ملتا ہے نیز ان کے سبب بندہ اللہ رب العزت کی طرف رجوع کرتا ہے اس کے لیے ذلت اور انکساری اختیار کرتا ہے اور مخلوق سے بے نیاز ہو جاتا ہے ابتلہ اور آزمائیش کے ذریع اللہ رب العزت گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور یہ سب سے بڑھی نعمت ہے پیارے بھائیو پیچھے آپ لوگوں نے سنا ہے کہ حدیث کے اندر شر کا لفظ آیا ہے کچھ لوگوں کو اشکال ہو سکتا ہے اس شر کی نصبت اللہ رب العزت کی طرف کی گئی ہے تو میرے بھائیو اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ رب العزت خالق خیر بھی ہے اور خالق شر بھی لیکن شر اس کے افعال میں سے نہیں ہے مگر اس نے ایسے اسباب پیدا کر رکھے ہیں جو لوگ شر کے مستحق ہیں ان کو وہ شر پہنچانے پر قادر ہے ۔دوسری حدیث کے اندر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ جتنی بڑھی آزمائیش ہوتی ہے اتنا ہی بڑھا ثواب بھی ملتا ہے ۔ابن قیم جوزی رحتہ اللہ علیہ کہتے ہیں بیشک بڑھی آزمائیش کا بڑھا ثواب ہے مگر جب بندہ صبر اور اجر کی نیت کرے ۔مگر اس کے برعکس میرے بھائیو جو لوگ اللہ رب العزت کی تقدیر پر صبر نہیں کرتے اگر کوئی مشکل آجائے ،کوئی عزیز فوت ہو جائے ، یا کسی بیماری کاشکار ہو جائیں ، یا فقر یا بیماری یا محتاجی میں مبتلا وہ جائیں ،یاں نوکریں نہ ملے ،یاں دکان یاکاروبار نہ چلے ، یا شادی کے بعد کچھ عرصہ اولاد نہ ہو تو صبر کا دامن چھوڑ دیتے ہیں ۔مثلا اگر اللہ رب العزت کی حکمت سے کچھ عرصہ اولاد نہ وہ یا نوکری نہ ملے یا بیماری سے شفاء حاصل نہ ہو تو قبروں پر نظریں مانتیں ہیں ،قبروں پر جاکر مردوں کے وسیلے سے اللہ کو پکارتےہیں اس طرح شرک کی دلدل میں گرتے جاتے ہیں اسی طرح کچھ لوگ اگر بیمار ہوں تو اس بیماری کے علاج کے لیے حتہ کہ حرام چیزوں کا بھی ارتکاب کرجاتے ہیں ،جیساکہ تعویزات ،دھاگے ،کڑے ، چھلے،امام زامن اسی طرح وہ شرکیہ منتر جن میں اللہ رب العزت کو چھوڑ کے غیروں سے مدد مانگی جاتی ہے ان کا بھی ارتکاب کرتے ہیں ،حالنکہ انکو اس حال میں اللہ رب العزت کی قضاء پر راضی ہونا چاہیے،اور اللہ رب العزت ہی کی طرف رجوع کرنا چاہیے پیارے بھائیو میں آپ لوگوں کو مثال کے طور پر ایک واقع بتلاتہ ہوں میں نے ایک شخص کو دیکھا اس نے گلے میں تعویز پہنا ہواتھا میں نے اس کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان پیش کیا کہ اللہ کے رسول نے تعویزات کو شرک قرار دیا ہے اس شخص نے جانتیں ہیں کہ مجھے کیا جواب دیا کہنے لگا میں نہیں جانتا کہ یہ چیز دین کے اندر حلال ہے یا حرام ہے مگر مجھے اس سے فائدہ ہو رہا ہے میں اسے کسی حالت میں بھی نہیں اتار سکتا ۔اسی طرح میرے بھائیو مصیبت کے وقت شور کرتے ہیں چیختے ہیں چلاتے ہیں گرےبان پھاڑتے ہیں آپنے چہروں پر تھپڑ مارتے ہیں نفاق کا اظہار کرتے ہیں ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص صدمے کے وقت آپنے چہرے پر تھپڑمارے ،گرے بان پھاڑے اور جہالت کے بول بولے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔اور کچھ لوگ اللہ رب العزت کے ساتھ بدگمانی کرتے ہیں ،یوں کہتے ہیں کیا اللہ کو ہم ہی ملے تھے مصیبت کے لیے ، اور کچھ لوگ یوں کہتے ہیں جن لوگوں کو اولاد کی ، مال کی ضرورت نہیں ہوتی اللہ انکو دیتا ہے اور جن لوگوں کو ضرورت ہو تی ہے اللہ ان کو نہیں دیتا ۔حالنگہ یہ بات میرے بھائیو اللہ رب العزت کی تقسیم میں بدگمانی کی ایک شکل ہے جو کہ کفر ہے ۔پیارے بھائیو جو لوگ اللہ رب العزت کی آزمائیش پر صبر کرتے ہیں ایسے لوگوں کے لیے اللہ رب العزت کی نوازشیں ہیں اور اس کی رحمتیں ہیں ۔جیسا کہ اللہ رب العزت نے سورۃ البقرہ کے اندر ارشاد فرمایا ()ارشاد فرمایا اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائیش ضرور کریں گے دشمن کے ڈر سے، بھوک پیاس سے، مال اور جان اور پھلوں کی کمی سے اور ان صبر کرنے والوں کو خشخبری دے دیجیے جنہیں جب کوئی مصیبت آتی ہے تو کہدیا کرتے ہیں ہم تو اللہ رب العزت ہی کی ملکیت ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں اور ان پر ان کے رب کی نوازشیں ہیں اور رحمتیں ہیں اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں اس لیے میرے بھائیو ہر مسلمان کو ہر حال میں اللہ رب العزت کی تقدیر پر صبر کرنا چاہیےاور اللہ رب العزت سے اجرو ثواب کی امید رکھنی چاہیے ۔اور میں یہاں ایک غلط فہمی کا ایزالہ چاہتا ہوں کہ کچھ لوگوں کا یہ معقولہ ہے کہ جب ان سے کہا جائے بھائیو آپ لوگ مزاروں پر جاکر درگاہوں پر جاکر نظر و نیاز دیتے ہو مردوں کے وسیلے سے اللہ کو پکارتے ہو آپ لوگوں کا یہ عمل شرک پر مبنی ہے تو آگے سے جواب یہ دیتے ہیں دیکھو یہاں جو لوگ آتے ہیں یہاں ان کو کچھ ملتا ہے بت ہی تو آتے ہیں اگر یہا ں لوگوں کو کچھ نہ ملے تو لوگ یہاں کیوں آئیں ۔میں ایسے لوگوں سے کہنا چاہوں گا دیکھوں ایک ہندو مندر میں جاتا ہے مندر میں جاکر وہ بت کے سامنے جھکتا ہے بت کے سامنے نظرانے پیش کرتا ہے اغربتیاں جلاتا ہے ہندو بت کے سامنے کھڑا ہو کر اولاد طلب کرتا ہے مال طلب کرتا ہے رزق طلب کرتا ہے اور جب یہ چیزیں اسے حاصل ہوجاتی ہیں تو وہ کیا کہے گامجھے یہ چیزیں کہاں سے ملی ہیں جی میں مندر گیا تھایہ سب کچھ رام کی کرپا ہے اے میرے بھائیو آپ لوگ خود فیصلہ کرو کیا اس ہندو کا یہ کہنا سہی ہے آپ لوگ ضرور کہیں گے وہ ہندو آپنے کہے میں جھوٹا ہے اس کو تو یہ سب کچھ بت کی وجہ سے نہیں ملابلکہ اس کو سب کچھ اللہ رب العزت نے عطا کیا ہے تو میرے بھائیو میں بھی یہ کہناں چاہوں گا یہ جو لوگوں کی حاجتیں پوری ہوتی ہیں لوگوں کو اولاد ملتی ہے لوگوں کو رزق ملتا ہے لوگوں کو مال ملتا ہے یہ مردوں کی وجہ سے نہیں بلکہ یہ اللہ رب العزت عطا کر تا ہے ۔پیارے بھائیو اب جو چیز میں آپ لوگوں کے سامنےذکر کرنا چاہتا ہوں وہ ہے
     
  4. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    اللہ رب العزت کی تدبیرسے بے خوف ہو جانا 180:52
    اللہ رب العزت کی تدبیرسے وہی لوگ بے خوف ہوتے ہیں جو کہ خسارہ اٹھانے والےہو ں۔جیسا کہ اللہ رب العزت نے قرآن کریم کے اندر ارشاد فرمایا ()کیا یہ لوگ اللہ کی تدبیر سے بے خوف ہیں اللہ کی تدبیر سے وہی لوگ بے خوف ہوتے ہیں جو خسارہ اٹانے والے ہوں ۔میرے بھائیو اس آیت کریمہ میں اللہ رب العزت نے ان لوگوں کا بیان فرمایا جو لوگ اللہ رب العزت کی تدبیر سے لا پرواہ ہوجاتے ہیں اور نہ ہی اللہ رب العزت کے احکام کی پابندی کرتے ہیں۔مثلا نماز، زکاۃ، روزہ ،حج اسی طرح دیگر نیک اعمال کی بھی کوئی پرواہ نہیں کرتے اور خوب اللہ رب العزت کی نافرمانی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔مثلا زناہ ، شراب ، سود، غیبت ، جھوٹ،لواط ، گانہ بجانہ، فلمیں ، بے پردگی گوہ ہر برائی کا بے خوف ہو کر ارتکاب کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہمیں کوئی نہیں دیکھ رہا لیکن اللہ رب العزت نے قرآن کریم کے اندر ارشاد فرمایا ()کیا یہ نہیں جانتا کہ اللہ دیکھ رہا ہے ۔ اور ایک جگہ پر آپنے نبی کو مخاطب ہو کر ارشاد فرمایا ()اے نبی آپ ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں ۔اور ایک جگہ اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا()اس کا خیال تھا اللہ کی طرف لوٹ کر ہی نہیں جائے گا۔آگے ارشاد فرمایا()ارشاد فرمایا کیوں نہیں حالنکہ اس کا رب اس کو باخوبی دیکھ رہا تھا ۔ایسے لوگوں کو اللہ رب العزت کی تدبیر سے خوف رکھنا چاہیے۔اللہ رب العزت کا ارشاد ہے ()بے شک آپ کے رب کی پکڑ بہت ہی سخت ہے ۔اور ایک جگہ اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا()اور میں انہیں ٹھیل دوں گابے شک میری تدبیر بڑی ہی مضبوت ہے۔ پیارے بھائیو اب جو چیز میں آپ لوگوں کے سامنےذکر کرنا چاہتا ہوں وہ ہے۔
     
  5. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    اللہ رب العزت کی تدبیرسے بے خوف ہو جانا 180:52
    اللہ رب العزت کی تدبیرسے وہی لوگ بے خوف ہوتے ہیں جو کہ خسارہ اٹھانے والےہو ں۔جیسا کہ اللہ رب العزت نے قرآن کریم کے اندر ارشاد فرمایا ()کیا یہ لوگ اللہ کی تدبیر سے بے خوف ہیں اللہ کی تدبیر سے وہی لوگ بے خوف ہوتے ہیں جو خسارہ اٹانے والے ہوں ۔میرے بھائیو اس آیت کریمہ میں اللہ رب العزت نے ان لوگوں کا بیان فرمایا جو لوگ اللہ رب العزت کی تدبیر سے لا پرواہ ہوجاتے ہیں اور نہ ہی اللہ رب العزت کے احکام کی پابندی کرتے ہیں۔مثلا نماز، زکاۃ، روزہ ،حج اسی طرح دیگر نیک اعمال کی بھی کوئی پرواہ نہیں کرتے اور خوب اللہ رب العزت کی نافرمانی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔مثلا زناہ ، شراب ، سود، غیبت ، جھوٹ،لواط ، گانہ بجانہ، فلمیں ، بے پردگی گوہ ہر برائی کا بے خوف ہو کر ارتکاب کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہمیں کوئی نہیں دیکھ رہا لیکن اللہ رب العزت نے قرآن کریم کے اندر ارشاد فرمایا ()کیا یہ نہیں جانتا کہ اللہ دیکھ رہا ہے ۔ اور ایک جگہ پر آپنے نبی کو مخاطب ہو کر ارشاد فرمایا ()اے نبی آپ ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں ۔اور ایک جگہ اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا()اس کا خیال تھا اللہ کی طرف لوٹ کر ہی نہیں جائے گا۔آگے ارشاد فرمایا()ارشاد فرمایا کیوں نہیں حالنکہ اس کا رب اس کو باخوبی دیکھ رہا تھا ۔ایسے لوگوں کو اللہ رب العزت کی تدبیر سے خوف رکھنا چاہیے۔اللہ رب العزت کا ارشاد ہے ()بے شک آپ کے رب کی پکڑ بہت ہی سخت ہے ۔اور ایک جگہ اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا()اور میں انہیں ٹھیل دوں گابے شک میری تدبیر بڑی ہی مضبوت ہے۔ پیارے بھائیو اب جو چیز میں آپ لوگوں کے سامنےذکر کرنا چاہتا ہوں وہ ہے۔
     
  6. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    اللہ رب العزت کی رحمت سے نہ امیدی 183:17
    اللہ رب العزت کی رحمت سے گمراہ لوگ ہی نہ امید ہو تے ہیں ۔جیساکہ اللہ رب العزت نے قرآن کریم کے اندر ارشاد فرمایا ()اور گمراہ لوگ ہی اللہ کی رحمت سے مایوس ہوتے ہیں۔اسی طرح میرے بھائیو حدیث کے اندر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ سب سے بڑھے گناہ یہ ہیں کہ اللہ رب العزت کے ساتھ شرک کرنااور اللہ رب العزت کی تدبیر سے بے خوف ہونااور اللہ رب العزت کی رحمت اور اس کے فضل سے مایوس ہونالیکن بڑھے افسوس کی بات یہاں یہ ہے کہ آج کلمہ پڑھنے والے مسلمان مرد اور خواتین اللہ رب العزت کی رحمت سے نہ امید ہوتے ہیں یو‎ں کہتے ہیں ہم تو بڑھے ہی گناہ گار ہیں اللہ رب العزت ہماری سنتا نہیں حالنکہ اللہ رب العزت نے قرآن کریم کے اندر ارشاد فرمایا ()ارشاد فرمایا کہ پیارے نبی آپ میرے بندوں سے کہ دیجیےکہ اے اللہ کے بندو اگر تم آپنے نفسوں پر ظلم کرلیتے ہوتو اللہ کی رحمت سے نہ امید مت ہوبےشک اللہ رب العزت تو سارےگناہ معاف کرنے والا ہے بےشک اللہ رب العزت تو وہ ذات ہے جو درگزر کرنے والااور معاف کرنے والا ہے میرے بھائیو اللہ رب العزت تو وہ ذات ہے جس نے سو انسانون کے قاتل کو بھی معاف کردیا اور اس سے آپنی جنت میں داخل کردیا بشرطے کہ انسان اللہ رب العزت کے ہاں سچی اور خالص توبہ کرے۔اور سچی اور خالص توبہ کے لیے چار شرطیں ہیں ۔
    نمبر ایک :- انسان گناہ کو ترک کردے۔
    نمبر دو :- گناہ کے اوپر ندامت ہو۔
    نمبر تین :- آئندہ نہ کرنے کا عزم کرلے۔
    نمبر چار:- اگر گناہ کا تعالق کسی انسان کے ساتھ ہے، مثلا اگر کسی کے اوپر ظلم و ذیادتی کی ہے تو اس سے معافی مانگے، اگر کسی کا حق مارا ہے تو اس کا حق ادا کرے۔میرے بھائیو اللہ رب العزت قرآن کریم کے اندر ان لوگوں کو خوش خبری دیتا ہے جو لوگ اللہ رب العزت کے ہاں سچی اور خالص توبہ کرتے ہیں ۔جیسا کہ سورۃ الفرقان میں ارشاد فرمایا ()ارشاد فرمایامگر جو توبہ کرلے ایمان لے آئے نیک اعمال کرےتو میں اس کے گناہوں کو نیکیوں میں تبدیل کردوں گا۔اس لیے میرے بھائیو ایک مسلمان کو کسی حال میں بھی اللہ رب العزت کی رحمت سے اس کے فضل سے مایوس نہیں ہونا چاہیے ۔ پیارے بھائیو اب جو چیز میں آپ لوگوں کے سامنےذکر کرنا چاہتا ہوں وہ ہے۔
     
  7. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    اللہ رب العزت کی نعمتوں کا انکار186:36
    پیارے بھائیو اللہ رب العزت نے قرآن کریم کے اندر ارشاد فرمایا ()ارشاد فرمایا یہ لوگ اللہ رب العزت کی نعمتوں کی پہچانتے ہوئے بھی انکار کرتے ہیں اور ان میں سے اکثر ایسے ہیں جو اللہ رب العزت کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں ۔پیارے بھائیو مجاہد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے اس آیت سے مراد مال ودولت چھپائےجائداد کے بارے میں اللہ رب العزت کی رحمت اور اس کے فضل کی بجائےیہ کہنا مجھے یہ سب کچھ میرے بزرگوں سےویراثت میں ملا ہے اسی طرح میرے بھائیو یہ کہنا بھی غلط ہے یہ سب کچھ مجھے میری کوشش اچھی کارکردگی میری محنت اور میرے علم کے ذریعہ حاصل ہوا ہے ۔پیارے بھائیو صحیح طریقہ یہ ہے کہ یوں کہنا چاہیے یہ سب کچھ مجھے اللہ کی توفیق سے اللہ کی رحمت سے اللہ کے فضل سے پھر میری کوشش میری محنت سے عطا ہوا ہے ۔اسی طرح میرے بھائیو اولاد کی نعمت کو غیروں کی طرف منصوب کرتے ہیں مثلا یہ کہتے ہیں کہ یہ بچہ جو مجھے عطا ہوا ہے اس لیے کہ میں نے فلاں درگاہ پر نظر مانی تھی۔یہی میرے بھائیو اللہ رب العزت کی نعمت کے ساتھ کفر ہے ۔اولاد اللہ رب العزت نے عطا کی لیکن اس میں کمال غیروں کا بیان کیا جا رہا ہے اسی بات کو اللہ رب العزت نے سورۃ الاعراف آیت نمبر 190 اور 191 کے اندر یوں بیان کیا ہےارشاد فرمایا ()ارشاد فرمایاچنانچہ جب اللہ رب العزت نے دونوں کو صحیح سالم اولاد دے دی، تو اللہ کی دی ہوئی چیز میں وہ دونوں اللہ کے شریک قرار دینے لگے۔چنانچہ اللہ رب العزت پاک ہے ان کے اس شرک سے ()ارشاد فرمایا کیا یہ اللہ رب العزت کے ساتھ ایسوں کو شریک ٹھراتے ہیں جو کچھ بھی پیدا نہیں کرسکتے وہ بیچارے تو خود پیدا کیے گئے ہیں ۔اور یہی حال میرے بھائیو آج کثیر تعداد میں کچھ مسلمانوں کا ہے۔جب اولاد مل جاتی ہے تو اللہ رب العزت کو بھول کر بابوں کی کرامتین یاد آجاتی ہیں یہ سب کچھ ہمیں بزرگوں کی طفیل عطا ہوا ہے ۔پیارے بھائیو اب جو چیز میں آپ لوگوں کے سامنےذکر کرنا چاہتا ہوں وہ ہے۔
     
  8. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفائت کس خوش نصیب کو انسان کو حاصل ہو گی189:36
    پیارے بھائیو سب سے پہلے تو یہ جان لیجیے کہ شفاعت کی دو قسمیں ہیں ۔ایک وہ شفاعت جس کی قرآن کریم میں نفی کی گئی ہے اور وہ کافروں اور مشرکوں کے لیے شفاعت ہے ۔ جیسا کہ اللہ رب العزت نے سورۃ البقرہ میں ارشاد فرمایا()جیسا کہ اللہ رب العزت نے سورۃ المدثر میں ارشاد فرمایا()بس اس وقت شفاعت کرنے والوں کی شفاعت ان کے کسی کام نہیں آئے گی اور دوسری شفاعت میرے بھائیو یہ ہے ۔جسے اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں ثابت کیا ہےاور یہ شفاعت میرے بھائیو فقط ان لوگوں کو لیے ہے جو توحید پرست ہیں اور آپنے عقیدہ توحید میں مخلص ہیں اور اس شفاعت کے لیے بھی دو شرطیں ہیں ۔پہلی شرط یہ ہے کہ جو شفاعت کرنے والا ہے اسے اللہ رب العزت شفاعت کرنے کی اجازت دے ۔جیسا کہ اللہ رب العزت نے آیت الکرسی میں ارشاد فرمایا ()کون ہے جو اس کے جناب میں بغیر اس کی اجازت کےکسی کے لیے شفاعت کرسکے ، اور اس کی اجازت اس وقت ہو گی جب اللہ رب العزت آپنے موحد گناہ گار بندے پر رحم کرتے ہوئےشفاعت کرنے والے کو شفاعت کی اجازت دے گا۔ اور دوسری شرط یہ ہے کہ اللہ رب العزت اس بندے سے راضی ہو جس کے لیے شفاعت کی جارہی ہے ۔اور اللہ رب العزت راضی نہ ہو گا مگر اہل توحید سے۔جیسا کہ اللہ رب العزت نے سورۃ الانبیاء میں ارشاد فرمایا ()اور وہ صرف انہیں کی شفارش کریں گے جن کے لیے اللہ شفارش کو پسند کرے گا۔اور اللہ رب العزت راضی نہ ہو گامگر اہل توحید سے۔پیارے بھائیو اس میں کوئی شک نہیں ہے ہمارے نبی جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن آپنی امت کے لیے شفاعت کریں گے ۔لیکن یہ شفاعت کن لوگوں کے لیے ہو گی جیسا کہ صحیح بخاری کے اندر حدیث ہے جناب ابی ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا ، اے اللہ کے رسول وہ کون سا خوش قسمت انسان ہو گاجس کو آپ کی شفاعت ملے گی نبی صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمایا ()فرمایا اس خوش قسمت انسان کو قیامت کے دن میری شفاعت ملے گی جس نے دل کے اخلاص کے ساتھ (لاالہ اللہ )کا اقرار کیا اور ایک دوسری حدیث میں ارشاد فرمایا جو کہ صحیح مسلم کے اندر ہے ()ارشاد فرمایا کہ میری شفاعت ہر اس امتی کو ملے گی جو اس حال میں مرا کہ وہ اللہ رب العزت کے ساتھ کسی قسم کا شرک نہ کرتا تھا ۔پیارے بھائیو میں آپ لوگوں کی یہاں توجہ چاہتا ہوں کہ حدیث کے اندر (ان شاء اللہ )کا لفظ آیا ہے ۔ یعنی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی چاہت سے اللہ کے اذن سے اللہ کی اجازت سے شفاعت کریں گے، یعنی جس کے لیے اللہ رب العزت اجازت دے گا ،جس کے قول اور عمل سے اللہ رب العزت راضی ہو گااللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لیے ہی شفاعت کر سکیں گے ۔اور آخر میں میں یہ کہنا چاہوں گاکہ ایک مسلمان کی تمام عبادات فقط اللہ رب العزت ہی کے لیے خاص ہوں، سجدہ کرے تو فقط اللہ رب العزت ہی کے لیے ، رکوع کرے تو اللہ رب العزت ہی کے لیے ، قیام کرے تو اللہ رب العزت ہی کے لیے ، ذکاۃ دے تو اللہ رب العزت ہی کے لیے ، روزہ رکھے تو اللہ رب العزت ہی کے لیے ، حج کرے تو اللہ رب العزت ہی کے لیے ، طواف کرے تو کعبۃ اللہ کا نہ کہ قبروں کا ، نظرو نیاز ، ذبحہ کرنا ، قربانی ، سب کچھ اللہ رب العزت ہی کے لیے خاص کرے ، بوصہ دے تو حجرہ اسود کو نہ کہ قبروں کو ، حجرہ اسود کو بھی بوصہ دے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سمجھتے ہوئے، خوف رکھے تو صرف اللہ ہی سے ، امیدیں وبستا کرے تو صرف اللہ رب العزت ہی سے ، توکل کرے تو اللہ پر ، مدد مانگے تو اللہ ہی سے، پناہ طلب کرے تو اللہ رب العزت ہی سے ، محبت کرے تو سب سے بڑھ کر اللہ رب العزت ہی سے ۔ پیارے بھائیو میں نے آپ لوگوں کے سامنے رب ذلجلال کا قرآن بیان کیا ہے ،اور پیارے نبی جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ بیا ن کی ہیں ۔میرے بھائیو ان باتوں کو قرآن اور حدیث کے اندر پڑھو اور آپنے عقائد کی اصلاح کرو اور ہر قسم کے شرک سے توبہ کرو اور توحید خالص کو آپناؤ اور یہ پیری مریدی ، یہ تقلید ان چکروں سے باہر نکلو اور قرآن اور حدیث کو آپنا منہج بناؤ ۔
    اللہ رب العزت سے دعا ہے جو بات حق کہی ، حق سنی اس پر ایمان رکھنے کی اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ اور جس چیز میں مجھ ناچیز سے کوئی غلطی ہو گئی ہو اللہ رب العزت مجھے معاف کرے اور میری اصلاح کرے ()
     
  9. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفائت کس خوش نصیب کو انسان کو حاصل ہو گی189:36
    پیارے بھائیو سب سے پہلے تو یہ جان لیجیے کہ شفاعت کی دو قسمیں ہیں ۔ایک وہ شفاعت جس کی قرآن کریم میں نفی کی گئی ہے اور وہ کافروں اور مشرکوں کے لیے شفاعت ہے ۔ جیسا کہ اللہ رب العزت نے سورۃ البقرہ میں ارشاد فرمایا()جیسا کہ اللہ رب العزت نے سورۃ المدثر میں ارشاد فرمایا()بس اس وقت شفاعت کرنے والوں کی شفاعت ان کے کسی کام نہیں آئے گی اور دوسری شفاعت میرے بھائیو یہ ہے ۔جسے اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں ثابت کیا ہےاور یہ شفاعت میرے بھائیو فقط ان لوگوں کو لیے ہے جو توحید پرست ہیں اور آپنے عقیدہ توحید میں مخلص ہیں اور اس شفاعت کے لیے بھی دو شرطیں ہیں ۔پہلی شرط یہ ہے کہ جو شفاعت کرنے والا ہے اسے اللہ رب العزت شفاعت کرنے کی اجازت دے ۔جیسا کہ اللہ رب العزت نے آیت الکرسی میں ارشاد فرمایا ()کون ہے جو اس کے جناب میں بغیر اس کی اجازت کےکسی کے لیے شفاعت کرسکے ، اور اس کی اجازت اس وقت ہو گی جب اللہ رب العزت آپنے موحد گناہ گار بندے پر رحم کرتے ہوئےشفاعت کرنے والے کو شفاعت کی اجازت دے گا۔ اور دوسری شرط یہ ہے کہ اللہ رب العزت اس بندے سے راضی ہو جس کے لیے شفاعت کی جارہی ہے ۔اور اللہ رب العزت راضی نہ ہو گا مگر اہل توحید سے۔جیسا کہ اللہ رب العزت نے سورۃ الانبیاء میں ارشاد فرمایا ()اور وہ صرف انہیں کی شفارش کریں گے جن کے لیے اللہ شفارش کو پسند کرے گا۔اور اللہ رب العزت راضی نہ ہو گامگر اہل توحید سے۔پیارے بھائیو اس میں کوئی شک نہیں ہے ہمارے نبی جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن آپنی امت کے لیے شفاعت کریں گے ۔لیکن یہ شفاعت کن لوگوں کے لیے ہو گی جیسا کہ صحیح بخاری کے اندر حدیث ہے جناب ابی ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا ، اے اللہ کے رسول وہ کون سا خوش قسمت انسان ہو گاجس کو آپ کی شفاعت ملے گی نبی صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمایا ()فرمایا اس خوش قسمت انسان کو قیامت کے دن میری شفاعت ملے گی جس نے دل کے اخلاص کے ساتھ (لاالہ اللہ )کا اقرار کیا اور ایک دوسری حدیث میں ارشاد فرمایا جو کہ صحیح مسلم کے اندر ہے ()ارشاد فرمایا کہ میری شفاعت ہر اس امتی کو ملے گی جو اس حال میں مرا کہ وہ اللہ رب العزت کے ساتھ کسی قسم کا شرک نہ کرتا تھا ۔پیارے بھائیو میں آپ لوگوں کی یہاں توجہ چاہتا ہوں کہ حدیث کے اندر (ان شاء اللہ )کا لفظ آیا ہے ۔ یعنی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی چاہت سے اللہ کے اذن سے اللہ کی اجازت سے شفاعت کریں گے، یعنی جس کے لیے اللہ رب العزت اجازت دے گا ،جس کے قول اور عمل سے اللہ رب العزت راضی ہو گااللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لیے ہی شفاعت کر سکیں گے ۔اور آخر میں میں یہ کہنا چاہوں گاکہ ایک مسلمان کی تمام عبادات فقط اللہ رب العزت ہی کے لیے خاص ہوں، سجدہ کرے تو فقط اللہ رب العزت ہی کے لیے ، رکوع کرے تو اللہ رب العزت ہی کے لیے ، قیام کرے تو اللہ رب العزت ہی کے لیے ، ذکاۃ دے تو اللہ رب العزت ہی کے لیے ، روزہ رکھے تو اللہ رب العزت ہی کے لیے ، حج کرے تو اللہ رب العزت ہی کے لیے ، طواف کرے تو کعبۃ اللہ کا نہ کہ قبروں کا ، نظرو نیاز ، ذبحہ کرنا ، قربانی ، سب کچھ اللہ رب العزت ہی کے لیے خاص کرے ، بوصہ دے تو حجرہ اسود کو نہ کہ قبروں کو ، حجرہ اسود کو بھی بوصہ دے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سمجھتے ہوئے، خوف رکھے تو صرف اللہ ہی سے ، امیدیں وبستا کرے تو صرف اللہ رب العزت ہی سے ، توکل کرے تو اللہ پر ، مدد مانگے تو اللہ ہی سے، پناہ طلب کرے تو اللہ رب العزت ہی سے ، محبت کرے تو سب سے بڑھ کر اللہ رب العزت ہی سے ۔ پیارے بھائیو میں نے آپ لوگوں کے سامنے رب ذلجلال کا قرآن بیان کیا ہے ،اور پیارے نبی جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ بیا ن کی ہیں ۔میرے بھائیو ان باتوں کو قرآن اور حدیث کے اندر پڑھو اور آپنے عقائد کی اصلاح کرو اور ہر قسم کے شرک سے توبہ کرو اور توحید خالص کو آپناؤ اور یہ پیری مریدی ، یہ تقلید ان چکروں سے باہر نکلو اور قرآن اور حدیث کو آپنا منہج بناؤ ۔
    اللہ رب العزت سے دعا ہے جو بات حق کہی ، حق سنی اس پر ایمان رکھنے کی اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ اور جس چیز میں مجھ ناچیز سے کوئی غلطی ہو گئی ہو اللہ رب العزت مجھے معاف کرے اور میری اصلاح کرے ()
     
  10. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    کیا اس کی پروف ریڈینگ پوری ہو چکی ہے میہر بانی فرما کر مطلع کریں اور ایک بار پھر شکریہ کا موقع فراہم کریں
     
  11. فتاة القرآن

    فتاة القرآن -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 30, 2008
    پیغامات:
    1,446
    اللہ آپ سے مزید اپنے دین کی خدمت لے
    اور اسے آپ کے میزان حسنات مین جمع کرے
    بہت شکریہ
    جزاک اللہ عنا خیرا جزاء
     
  12. فتاة القرآن

    فتاة القرآن -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 30, 2008
    پیغامات:
    1,446
    آپ نے جو لنک دیا ہے
    اڈیو کا وہ میرے پاس ایرور دے رہا ہے
     
  13. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    سسٹر بالکل درست فریا آپ نے کہ وہ لنک ایرر ہی دے گا کیوں کہ جس ویب سائٹ پر وہ فائل تھی وہ بند ہو چکی ہے
    اب ان شاء اللہ کسی اور سائٹ پر آپ لوڈ کرکے لنک چسپاں کرتا ہوں
     
  14. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    اب میں نے اس فائل کے دو حصہ کر کے آپلوڈ کی ہے

    پہلا حصہ یہ ہے
    دوسرا حصہ یہ ہے

    نیٹ کی کمزوری کی وجہ سے سی ڈی کی کوالٹی کم کرنی پڑی ہے اس کے لیے میں دلی معاضرت چاہتا ہوں
    ان شاء اللہ نیٹ کی فراوانی پر اصل فائل جو کہ تقریبا دوسو ایم بی کی ہے آپ لوڈ کر کے لنک چسپاں کر دوں گا
     
  15. فتاة القرآن

    فتاة القرآن -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 30, 2008
    پیغامات:
    1,446
    جزاک اللہ خیرا
     
  16. مخلص1

    مخلص1 -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 25, 2010
    پیغامات:
    1,038
    فاروق بھائی آپ نے بھت عمدہ موضوع تحریر کیا ہے یہ وقت کی سخت ضرورت ہے اللہ آپ کو جزائے خیر دے اور لوگوں کو استفا دہ کی توفیق دے آمین
     
  17. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    459

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں