توحید کیا ہے ؟ کیا مسلمان بھی شرک کرسکتے ہیں؟

فاروق نے 'مَجلِسُ طُلابِ العِلمِ' میں ‏مارچ 7, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    کچھ شبہات کا ازالہ چاہتا ہوں113:55
    1) ایک حدیث ہے جو کہ صحیح بخاری کے اندر ہے ایک موقع پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا (وَاللَّهِ مَا أَخَافُ بَعْدِي أَنْ تُشْرِكُوا، وَلَكِنْ أَخَافُ أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا)اللہ کی قسم میں تمہارے متعلق اس بات سے نہیں ڈرتا کہ تم میرے بعد شرک کرو گے لیکن مجھے ڈر ہے کہ تم ایک دوسرے کے مقابلے پر دنیاں میں رغبت کروگےمیرے بھائیو اس حدیث کی آڑ میں لوگوں کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ دیکھو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ ارشاد فرمایا ہے کہ مجھے تمہارے متعلق شرک کا اندیشا نہیں ہے پھر یہ امت کیسے شرک کر سکتی ہے اور خوب لوگوں کو اس حدیث کی آڑ میں قبر پرستی کے شرک میں مبتلا کیا جاتا ہے پیارے بھائیو سب سے پہلے میں آپ لوگوں کے سامنے اس حدیث کی وہ شرح بیان کرتا ہوں جو اس حدیث کی شرح حافظ ابن حجر عسکلانی رحمتہ اللہ علیہ نے فتح الباری کے اندر بیان کی ہے حافظ ابن حجر عسکلانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں (قَوْلُهُ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا أَيْ عَلَى مَجْمُوعِكُمْ لِأَنَّ ذَلِكَ قَدْ وَقَعَ مِنَ الْبَعْضِ)وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ مجھے تمہارے متعلق شرک کا ڈر نہیں ہے یعنی آپ صلی علیہ وسلم کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی امت مجموعی طور پر شرک نہیں کرے گی کیوں کہ امت مسلمہ میں سے بعض افراد کی جانب سے شرک کا وقوع ہوا ہے اللہ رب العزت ہمیں اپنی پناہ میں رکھے اسی طرح میرے بھائیو علامہ بدردین عینی حنفی رحمتہ اللہ علیہ نے عمدہ القاری شرح صحیح البخاری جلد نمبر آٹھ صفہ 197 کے اندر بھی یہی اس حدیث کی شرح بیان کی ہے اور دوسری بات یہاں یہ ہے کہ اس حدیث یہاں یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کے صحابہ کرام شرک نہیں کریں گے کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کے اولین مخاطب آپ کے صحابہ کرام ہی تھے اور یہی بات حافظ ابن حجر عسکلانی رحمتہ اللہ علیہ نے فتح الباری کے اندر بھی بیان کی ہے وہ کہتے ہیں (وَأَنَّ أَصْحَابَهُ لَا يُشْرِكُونَ بَعْدَهُ فَكَانَ كَذَلِكَ)یقینن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کے صحابہ کرام شرک کا ارتقاب نہیں کریں گے اور اسی طرح ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام میں سے کسی نے بھی شرک کا ارتقاب نہیں کیا اس کے علاوہ میرے بھائیو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اور احادیث مروی ہیں جن کے اندر اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے کچھ لوگ شرک کا ارتقاب کریں گے اور کر رہے ہیں جیسا کہ ترمذی کے اندر حدیث ہے کتاب الفتن میں حدیث کا نمبر ہے 2224 ثوبان رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا (لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَلْحَقَ قَبَائِلُ مِنْ أُمَّتِي بِالمُشْرِكِينَ، وَحَتَّى يَعْبُدُوا الأَوْثَانَ)کہ قیامت تب تک قائم نہیں ہو گی جب تک میری امت میں سے کچھ قبیلے مشرکوں کے ساتھ جاکر نہ مل جائیں اور بت پرستی اختیار نہ کرلیں اسی طرح میرے بھائیو صحیح بخاریاور مسلم کے اندر حدیث ہے ابی سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا (لَتَتَّبِعُنَّ سَنَنَ مَنْ قَبْلَكُمْ)کہ تم آپنے پہلوں کے نقشے قدم پر چلو گے بلکل ان کے برابر ہوجاؤ گے اگر ان میں سے کوئی کسی سانڈے کے سوراخ میں گیا تو تم بھی ان کے پیچھے جاؤ گے (قَالُوا اليَهُودُ وَالنَّصَارَى؟)اللہ کے رسول سے کہا گیا اے اللہ کے نبی کیا آگلے لوگوں سے مراد آپ کی یہودی اور عیسائی ہیں (قَالَ:فَمَنْ)اللہ کر رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اور کون مراد ہو سکتے ہیں میرے بھائیو یہودی اور عیسائی قبر پرستی کے شرک میں مبتلاء تھے جیسا کہ آپ لوگ تفصیل سے پیچھے سن چکے ہیں اسی طرح میرے بھائیو آج مسلمانوں کے اندر بھی کچھ لوگ ہیں جو صاحلین کی قبروں کی عبادت کر رہے ہیں لیکن مسلمان ان باتوں کی شرک نہیں سمجھ تے یہودیوں اور عیسائیوں نے اپنے انبیاء اورصالحین کی شان غلو کیا اسی طرح آپ مسلمانوں کے اندر بھی کچھ لوگ ہیں جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں غلو کیا اور دیگر صالحین کی شان میں غلو کیا عیسائیوں کے بارے میں اللہ رب العزت نے قرآن کریم کے اندر ارشاد فرمایا (لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ)یقین کفر کیا ان لوگوں نے جنہوں نے کہامسیح علیہ السلام ہی اللہ ہیں اور مسلمانوں کے اندر بھی ایک شاعر اٹھا اس نے کہ دیا
    وہ ہی جو مستوی تھا عرش پر خدا ہو کر
    اتر پڑا مدینے میں مصطفے ہو کر
    أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ ذَلِكَ نبی کو اللہ بنادیا اور اللہ کو نبی بنا دیا اور ایک نے کہا
    حقیقت میں دیکھا تو خواجہ خدا ہے
    ہمیں در خواجہ پے سجدے رواں ہیں
    اور ایک نے کہا
    چاچر وانگ مدینہ دیسے کوٹ میٹھن بیت اللہ
    ظاہر دے ویچ پیر فریدن باطن دیے ویچ اللہ
    أَعُوذُ بِاللَّهِ مَنْ هَذَا كُفْرٌ وَمَنْ هَذَاالضُّلَّالُ اور کچھ لوگوں نے عیسائیوں کی طرح یہ کفریہ نارہ بلند کیا نارہ الاہی یا علی میرے بھائیو اب آپ خود سن لیجیے کہ کس طرح ان لوگوں نے جناب علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ کو الاہ معبود اللہ قرار دیا ہے 120:00نارے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہم کہتے ہیں اگر یہ کفر نہیں یہ شرک نہیں تو ہم نہیں جانتے کہ کفر کیا ہے شرک کیا ہے کیا مشرکین کے سینگ ہوتے ہیں میرے بھائیو یہودی اور عیسائی اپنے اپنے علماء اور مشائخ کی اندہی تقلید میں مبتلاہ تھے اسی طرح آج مسلمانوں کے اندر کچھ لوگ ہیں جو آپنے اماموں اور پیروں کی اندہی تقلید میں مبتلاع ہو کر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرموزات کو رد کردیتے ہیں (لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ)
    اسی طرح میرے بھائیو دوسرا شبہ کیا ہے کہ کچھ لوگ اس بدعقیدگی کا شکار ہیں کہ جب آدم علیہ السلام سے غلطی سرزد ہو گئی تھی تو انہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے اللہ رب العزت کو پکارا تھا اور ان کی توبہ قبول ہوئی تھی میرے بھائیو یہ حدیث موضوع ہے من گھرت ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منصوب کی جاتی ہےحالنکہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات نہیں فرمائی بلکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندہا گیا ہے میرے بھائیو اس حدیث کی سند میں ایک راوی ہے عبد الرحمن بن زید ابن اسلم جس کے بارے میں شیخ السلام ابن تیمیہ اور امام ذہبی ہے لکھا ہے کہ یہ موضوع روایت کرنے والا راوی ہےمیرے بھائیو آدم علیہ السلام نے جو کلمات کہے تھےجب ان کی توبہ قبول ہوئی تھی وہ سورۃ الاعراف :23 کے اندر وارد ہیں (رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ) امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ یہ وہ کلمات ہیں یہ وہ دعاء ہے جو آدم علیہ السلام نےکی تھی اور ان کی توبہ قبول ہوئی تھی اسی طرح میرے بھائیو لوگوں کے اندر ایک اور بات بھی پھیلی ہوئی ہے کہ اللہ رب العزت نے سب سے پہلے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے نور سے پیدا کیا میرے بھائیو یہ ایک جھوٹ ہے اس کی کوئی اصل نہیں بلکہ یہ کلمہ کفر ہےاللہ رب العزت وہ ذات ہے جو لم یا لد ہے اور لم یو لد ہے نہ وہ کسی سے نکلا اور نہ کوئی اس سے نکلایہ بات بھی میرے بھائیو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منصوب کی جاتی ہے حالنکہ یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نہیں ہے بلکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھا گیا ہے اسی طرح میرے بھائیو لوگوں کے اندر ایک اور بات بھی پھیلی ہوئی ہے کہ اللہ رب العزت نے اس کائنات کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر پیدا کیا اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیدا نہ ہوتے تو اس کائنات کا وجود ہی نہ ہوتا یہ بات بھی میرے بھائیو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منصوب کی جاتی ہے حالنکہ یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نہیں ہے بلکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر جھوٹ باندھا گیا ہے میرے بھائیو یہ بات قرآن کریم کی آیت کے خلاف ہے اللہ رب العزت نے سورۃ الزاریات:56 کے اندر یوں ارشاد فرمایا(وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ)اور نہیں پیدا کیا میں نے جنوں اور انسانوں کو مگر اس لیےکہ وہ میری ہی عبادت کے لیے یعنی ہماری تخلوق کا مقصد کیا ہے ہم صرف اللہ رب العزت ہی کی عبادت کریں خالص پیارے بھائیو اب جو چیزں آپ لوگوں کے سامنے ذکر کرنا چاہتا ہوں وہ ہیں
     
  2. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    جادو، کہانت اور نجومیت124:00
    اللہ رب العزت نے سورۃ البقرہ:102 کے اندر جادو کو کفر قرار دیا ہے اور ارشاد فرمایا کہ ایسے لوگوں آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے جو جادو کرتے ہیں یا جادو کرواتے ہیں اسی طرح میرے بھائیو تبرانی کے اندر حدیث ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو جادو کرے یا جادو کروائے اس کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اسی طرح میرے بھائیو جادو ان سات گناہوں میں سے ایک جو انسان کی حلاقت کا سبب بن جاتے ہیں جو کہ صحیح بخاری کی حدیث کے اندر وارد ہیں اسی طرح میرے بھائیو جادوگر کی سزا جو حدیث میں مروی ہے کہ تلوار کے ساتھ اس کا سر قلم کر دیا جائےاسی طرح میرے بھائیو اللہ رب العزت نے سورۃ النساء :91 کے اندر یہودیوں کے بارےمیں ارشاد فرمایا ہے (يُؤْمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ)یہ لوگ جبت اور طاغوت پر ایمان رکھتے ہیں عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے جبت سے مراد جادو ہے اور جناب جابر ابن عبدالل رضی اللہ تعالی عنہ کا قول ہے کہ طاغوت سے یہاں مراد کاہن ہے جس پر شیطان اتراکرتا تھا اور ہر قبیلے کا الگ الگ کاہن ہوتا تھا اور ہر مسلمان اس بات کو اچھی طرح جان لیے کہ جادو گر کی سزا جو حدیث میں مروی ہےتلوار کے ساتھ اس کا سر قلم کر دیا جائےلیکن ہمیں افسوس کے ساتھ یہ بات کہنا پڑ رہی ہے کہ جادوگر جو کہ قرآن اور حدیث کی روشنی میں کافر ہے اس کی شیطانی حرکتوں کو اور شوبدا بازیوں کو دیکھ کرکچھ لوگ اسے اللہ کا ولی تصور کرتے ہیں میرے بھائیو جادو کی کمائی حرام اور خبیس ہے جاہل اور کمزور ایمان والے لوگ جادو کے عمل کے لیے جادوگر کا رخ کرتے ہیں اور جادو کے ذریئے لوگوں پر ظلم اور ذیادتیں کرتے ہیں اور کچھ لوگ جادو کے علاج کے لیے جادوگروں کے پاس جاتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا (هِيَ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ)یہ شیطانی عمل ہے البتہ قرآن کریم کی آیات سے اور بنی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کے اندر جو دعائیں مروی ہیں ان سے علاج کیا جاسکتا ہے اور میں یہاں ایک نقطہ پر روشنی ڈالنا چاہتا ہوں کہ کچھ لوگ جب جادو کا علاج کروانے کے لیے کسی علاج کرنے والے کے پاس جاتے ہیں تو ان کو یہ پہچان نہیں ہوتی کہ یہ علاج کرنے والا قرآن وسنت کی روشنی میں علاج کرنے والا ہے یا جادو گر ہے میرے بھائیو ان باتوں کو آپ اچھی طرح اپنے ذہنوں میں بٹھا لیجیے اگر علاج کرنے والا آپ سے یہ کہتا ہے کہ مریض کے والد کا نام کیا ہے اس کی والدہ کا نام کیا ہے آپ کے گھر کی چھوکھٹ کس طرف ہے کوئی بال مجھے لا کردو کوئی رومال مجھے لا کر دو یا چادر کا ٹکرا لا کردو یا بخور کا دھواں دو یا مرغا ذبح کرکے مرغے کو فلاں جگہ میں پھینک دو یا بکرا ذجح کرکے بکرے کے سر کو جنگل میں پھینک دو یا وہ میرے بھائیو آپ لوگ دیکھیں کہ وہ آپنے ہونٹوں کے اندر کسر پسر کرتا ہے تو سمجھ لیجیے کہ وہ تلسم پڑھتا ہے اور شیاطین اور جنات سے علاج کر رہا ہے وہ جادو کے ذریع یہ سب کچھ کر رہا ہے تو میرے بھائیو اس سے ہوشیار ہو جاؤ وہ جادوگر ہے شیطان ہے کافر ہے اس سے بچ کر رہو اور میں ایسے تمام لوگوں سے گزارش کرنا چاہتا ہوں جو لوگ بھی اس جادو جیسے کفرمیں مبتلا ہیں چاہیے وہ جادو کرنے والے ہیں یا جادو کروانے والے ہیں ایسے لوگ اللہ رب العزت کے حضرو سچی اور خالص توبہ کریں اس جادو جیسے کفر سے اور جہاں تک میرے بھائیو کاہن اور نجومی کا تعالق ہے تو یہ دونوں اللہ رب العزت کے ساتھ کفر کے مرتقب ہیں کیوں کہ یہ دونوں غائب کے علم کے داوے دار ہیں جب کہ غائب کا علم اللہ رب العزت کے سوا کوئی نہیں جانتا جیسا کہ سورۃ النمل:65 کے اندر اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایالیکن یہ کفر اکبر کے مرتکب لوگ سادہ اور بھولے بھالے لوگوں کی سادگی سے فائدہ اٹھتے ہوئے ان کا مال بٹورنے کے لیے انہیں بوقوف بناتے ہیں اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے بہت سے وسائل استعمال کرتے ہیں مثلا ریت پر لکیرے کھینچنا یا لوگوں کے ہاتھ دیکھنا یا پیالی یا شیشوں میں مختلف کلمات لکھنا اور کبھی ایک بات ان کی بات سچ نکل بھی آئے تو ننانوے بار جھوٹ سامنے آتا ہے لیکن میرے بھائیو جن لوگوں کی عقل پر شرک کا پردہ پرجاتا ہے ان لوگوں کو ان ٹھگوں کا وہ ایک بار سچ یاد رہتا ہے ننانوےبار کے چھوٹ پر کوئی توجوہ نہیں دیتے چنانچہ اپنے مستقبل کے احوال معلوم کرنے کے لیے شادی یا تجارت کے تعلق سے خیر اور شر کا پتا لگانے کے لیے یا اپنی گم شدہ چیز کی تلاش وغیرہ کے لیے ان کا رخ کرتے ہیں اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے ان کاہنوں کے پاس جانے والے شخص کا کیا حکم ہے تو میرے بھائیو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر کاہنوں کے پاس جانے والا شخص ان کی باتوں کو سچ مانتا ہے تو وہ کافر ہے ملت اسلامیہ سے خارج ہے اس بات کی دلیل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے جو کہ مسند احمد کے اندر مروی ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ()جو کسی کاہن یا نجومی کے پاس گیا جاکر ان سے کسی چیز کے متعلق سوال کیا پھر ان کی بات کی تصدیق کی تو یقین اس نے اس چیز کے ساتھ کفر کیا جو چیز محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اتاری گئی ہے یعنی قرآن و سنت کے ساتھ اس کے علاوہ میرے بھائیو کاہنوں کے پاس جانے والا شخص ان کی تصدیق نہیں کرتا اور نہ ہی ان کے بارے میں علم غائب جاننے کا عقیدہ رکھتا ہے بلکہ فقظ تحربہ کے طور پر جاتا ہے تو ایسا انسان کافرتو نہ ہوگا لیکن اتنا بڑھا گناہ گار ہو گا کہ اس کی چالیس روز کی نماز قبول نہ ہو گی اور اس بات کی دلیل صحیح مسلم کی حدیث ہے جس میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو کسی کاہن یا نجومی کے پاس گیا جاکر اس سے کسی چیز کے متعلق سوال کیا تو اس کی چالیس روز کی نماز قبول نہ ہوگی ۔پیارے بھائیو کہانت اور نجومیت کے تعلق سے آپ لوگ ایک بات اور بھی جان لیجیے کہ آج کل پاکستان کیو ٹی وی کے اوپر ایک صاحب استخارہ کی آڑ میں کہانت اور نجومیت کرتے ہیں اور لوگوں کو غائب کی خبریں دینے کے دعوے کرتے ہیں میرے بھائیو اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ استخارہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے لیکن اللہ کے نبی نے ایسی کوئی تعلیم اپلی امت کو نہیں دی کہ ایک آدمی بیٹھ کر لاکھوں لوگوں کے لیے استخارہ کرے بلکہ میرے بھائیو یہ شخص کاہن ہے نجومی ہے جو استخارہ کی آڑ میں کہانت اور نجومیت کر رہا ہے اور لوگوں کے عقیدے کے ساتھ کھیل رہا ہے میرے بھائیو اس سے ہوشیار ہو جاؤ پیارے بھائیو اب جو چیز آپ لوگوں کے سامنے ذکر کرنا چاہتا ہوں وہ ہے
     
  3. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    تعویذات کی حقیقت 131:47
    کچھ لوگ آپنے گلوں میں یااپنے بچھوں کے گلوں میں تعویذات لٹکاتے ہیں ہاتھوں کی سیکھوں کی طرح کڑے پہن تے ہیں کانوں میں بھیل اور بھنیوں کی طرح مندریں پہن تے ہیں اپنے باذوں پر بخار کے لیے دھاگے باندھتے ہیں گھروں اور گھاڑیوں میں ہرے ہرے اور کالے کالے کپڑے لٹکاتے ہیں اسی طرح کچھ لوگ امام ذامن باندھ تے ہیں اسی طرح کچھ لوگ اپنی انگلیوں میں چھلے پہن تے ہیں جی فلاں درگاہ سے چھلا لاکر پہنا ہے اور کچھ لوگ مختلف نگینوں والی انگوٹھیں پہن تے ہیں فائیدہ حاصل کرنے کے لیے یا نقصانات سے بچنے کے لیے اسی طرح کچھ لوگ جانوروں کےگلوں میں لکڑی کے گٹھ بنا کر ڈال دیتے ہیں یا جانوروں کے گلوں میں جوتے لٹکا دیتے ہیں نظر نہ سے بچنے کے لیے اسی طرح کچھ لوگ اپنے گھروں کی چوکھٹ میں جوتے لٹکاتے ہیں اسی طرح میرے بھائیو اپنے ہاتھوں پر یا ٹخنوں کے ساتھ منکے یا سپیں باندھ تے ہیں اور کچھ لوگ اس قسم کے تعویذات پہن تے ہیں جن کے اندر مختلف گنتی کےعدد لکھے ہوتے ہیں یا فرشتوں سے مدد مانگی جاتی ہے یا شیاطینوں سے یا جنوں سے مدد مانگی جاتی ہے جو کہ کھلم کھلا شرک ہے اسی لیے تو میرے بھائیو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ()جس نے کوئی تعویذ لٹکایا اس نے شرک کیا ترمذی کے اندر یہ حدیث ہے میرے بھائیو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم عام ہے آپ علیہ السلاۃ السلام نے کوئی تخصیص نہیں فرمائی کہ یہ تعویذ قرآن پر مبنی ہے اور یہ غیر قرآن پر مبنی ہے بلکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر قسم کے تعویذات سے اپنی امت کو منع کیا ہے اور میں یہاں یہ کہنا چاہوں گا کہ اللہ رب العزت نے قرآن کریم کو گلے میں لٹکانے کے لیے نازل نہیں کیا بلکہ میرے بھائيو قرآن کریم کی تلاوت کریں قرآن کریم پڑھ کر آپنے اوپر دم کریں قرآن کریم کے حکم کے مطابق ذندگی گزاریں اس معنع میں قرآن کریم ہمارے لیے شفاء ہے اکثر لوگ قرآن کریم کے حکم کو تو مانتے نہیں قرآن کہتا ہے نماز پڑھو نماز تو پڑھتے نہیں لیکن لکھ لکھ کر آپنے گلوں میں لٹکالیتے ہیں یہ عجیب اصول ہے اور کچھ لوگ قرآن کریم کو گلے میں لٹکا کر لیٹرین /بیت الخلا کے اندر چلے جاتے ہیں اس طرح تو میرے بھائیو قرآن کریم کی توحین لازم آتی ہے اس لیے ان حرکتوں سے توبہ کرو میرے بھائیو تعویذات کے تعلق سے یہ بات آپ لوگ اچھی طرح جان لیجیے کہ اگر تعویذات لٹکانے والا شخص یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ یہ اللہ رب العزت کے علاوہ نفع یا نقصان پہنچاتے ہیں تو ایسا انسان شرک اکبر کا مرتکب ہے اور اگر ان چیزوں کو فقط نفع یا نقصان میں سے کرار دیتا ہے چونکہ اللہ رب العزت نے ان چیزوں کو نفع یا نقصان کے اسباب میں سے قرار نہیں دیا چنانچہ وہ ایسا مشرک ہو گا جو شرک اصغر میں مبتلہ ہے پیارے بھائیو اب جو چیز میں آپ لوگوں کے سامنے ذکر کرنا چاہتا ہوں وہ ہے
    اللہ رب العزت کو چھوڑ کر غیروں کی قسم اٹھانے کے بارے میں
    میرے بھائیو قسم جو ہے یہ عذمت کی ایک نوع ہے جو کہ فقط اللہ رب العزت ہی کا حق ہے مگر ہمیں افسوس کے ساتھ یہ بات کہنا پڑ رہی ہے کہ کتنے ہی کلمہ پڑھنے والے مسلمان مرد اور خواتین اللہ رب العزت کو چھوڑ کر غیروں کی قسم اٹھاتے ہیں مثلا کوئی کہتا ہے ماں کی قسم باپ کی قسم اور لاد کی قسم مرشد کی قسم علی کی قسم حسین کی قسم نبی کی قسم دودھ کی قسم رزق کی قسم کوئی کہتا ہے میرے سامنے نعمت پڑی ہوئی ہے کوئی کہتا ہے امانت کی قسم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ()جس نے اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کی قسم اٹھائی اس نے شرک کیا یہ حدیث مسند احمد کے اندر ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک بندے نے کہ دیا کعبے کی قسم اللہ کے رسول نے ارشاد فرمایا کہ یوں کہو کعبے کے رب کی قسم اسی طرح میرے بھائیو صحیح بخاری کے اندر حدیث ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے جو کوئی قسم اٹھائے تو اللہ کی اٹھائے ورنہ خاموش رہےاسی طرح میرے بھائیو صحیح مسلم کے اندر حدیث ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو اللہ رب العزت کو چھوڑ کر کسی اور کی قسم اٹھا لے تو اس کا کفارہ کیا ہے کہ وہ فورا لا الاہ اللہ کا اقرار کرے۔پیارے بھائیو اب جو چیز میں آپ لوگوں کے سامنے ذکر کرنا چاہتا ہوں وہ ہے
     
  4. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    تعویذات کی حقیقت 131:47
    کچھ لوگ آپنے گلوں میں یااپنے بچھوں کے گلوں میں تعویذات لٹکاتے ہیں ہاتھوں کی سیکھوں کی طرح کڑے پہن تے ہیں کانوں میں بھیل اور بھنیوں کی طرح مندریں پہن تے ہیں اپنے باذوں پر بخار کے لیے دھاگے باندھتے ہیں گھروں اور گھاڑیوں میں ہرے ہرے اور کالے کالے کپڑے لٹکاتے ہیں اسی طرح کچھ لوگ امام ذامن باندھ تے ہیں اسی طرح کچھ لوگ اپنی انگلیوں میں چھلے پہن تے ہیں جی فلاں درگاہ سے چھلا لاکر پہنا ہے اور کچھ لوگ مختلف نگینوں والی انگوٹھیں پہن تے ہیں فائیدہ حاصل کرنے کے لیے یا نقصانات سے بچنے کے لیے اسی طرح کچھ لوگ جانوروں کےگلوں میں لکڑی کے گٹھ بنا کر ڈال دیتے ہیں یا جانوروں کے گلوں میں جوتے لٹکا دیتے ہیں نظر نہ سے بچنے کے لیے اسی طرح کچھ لوگ اپنے گھروں کی چوکھٹ میں جوتے لٹکاتے ہیں اسی طرح میرے بھائیو اپنے ہاتھوں پر یا ٹخنوں کے ساتھ منکے یا سپیں باندھ تے ہیں اور کچھ لوگ اس قسم کے تعویذات پہن تے ہیں جن کے اندر مختلف گنتی کےعدد لکھے ہوتے ہیں یا فرشتوں سے مدد مانگی جاتی ہے یا شیاطینوں سے یا جنوں سے مدد مانگی جاتی ہے جو کہ کھلم کھلا شرک ہے اسی لیے تو میرے بھائیو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ()جس نے کوئی تعویذ لٹکایا اس نے شرک کیا ترمذی کے اندر یہ حدیث ہے میرے بھائیو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم عام ہے آپ علیہ السلاۃ السلام نے کوئی تخصیص نہیں فرمائی کہ یہ تعویذ قرآن پر مبنی ہے اور یہ غیر قرآن پر مبنی ہے بلکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر قسم کے تعویذات سے اپنی امت کو منع کیا ہے اور میں یہاں یہ کہنا چاہوں گا کہ اللہ رب العزت نے قرآن کریم کو گلے میں لٹکانے کے لیے نازل نہیں کیا بلکہ میرے بھائيو قرآن کریم کی تلاوت کریں قرآن کریم پڑھ کر آپنے اوپر دم کریں قرآن کریم کے حکم کے مطابق ذندگی گزاریں اس معنع میں قرآن کریم ہمارے لیے شفاء ہے اکثر لوگ قرآن کریم کے حکم کو تو مانتے نہیں قرآن کہتا ہے نماز پڑھو نماز تو پڑھتے نہیں لیکن لکھ لکھ کر آپنے گلوں میں لٹکالیتے ہیں یہ عجیب اصول ہے اور کچھ لوگ قرآن کریم کو گلے میں لٹکا کر لیٹرین /بیت الخلا کے اندر چلے جاتے ہیں اس طرح تو میرے بھائیو قرآن کریم کی توحین لازم آتی ہے اس لیے ان حرکتوں سے توبہ کرو میرے بھائیو تعویذات کے تعلق سے یہ بات آپ لوگ اچھی طرح جان لیجیے کہ اگر تعویذات لٹکانے والا شخص یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ یہ اللہ رب العزت کے علاوہ نفع یا نقصان پہنچاتے ہیں تو ایسا انسان شرک اکبر کا مرتکب ہے اور اگر ان چیزوں کو فقط نفع یا نقصان میں سے کرار دیتا ہے چونکہ اللہ رب العزت نے ان چیزوں کو نفع یا نقصان کے اسباب میں سے قرار نہیں دیا چنانچہ وہ ایسا مشرک ہو گا جو شرک اصغر میں مبتلہ ہے پیارے بھائیو اب جو چیز میں آپ لوگوں کے سامنے ذکر کرنا چاہتا ہوں وہ ہے
    اللہ رب العزت کو چھوڑ کر غیروں کی قسم اٹھانے کے بارے میں
    میرے بھائیو قسم جو ہے یہ عذمت کی ایک نوع ہے جو کہ فقط اللہ رب العزت ہی کا حق ہے مگر ہمیں افسوس کے ساتھ یہ بات کہنا پڑ رہی ہے کہ کتنے ہی کلمہ پڑھنے والے مسلمان مرد اور خواتین اللہ رب العزت کو چھوڑ کر غیروں کی قسم اٹھاتے ہیں مثلا کوئی کہتا ہے ماں کی قسم باپ کی قسم اور لاد کی قسم مرشد کی قسم علی کی قسم حسین کی قسم نبی کی قسم دودھ کی قسم رزق کی قسم کوئی کہتا ہے میرے سامنے نعمت پڑی ہوئی ہے کوئی کہتا ہے امانت کی قسم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ()جس نے اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کی قسم اٹھائی اس نے شرک کیا یہ حدیث مسند احمد کے اندر ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک بندے نے کہ دیا کعبے کی قسم اللہ کے رسول نے ارشاد فرمایا کہ یوں کہو کعبے کے رب کی قسم اسی طرح میرے بھائیو صحیح بخاری کے اندر حدیث ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے جو کوئی قسم اٹھائے تو اللہ کی اٹھائے ورنہ خاموش رہےاسی طرح میرے بھائیو صحیح مسلم کے اندر حدیث ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو اللہ رب العزت کو چھوڑ کر کسی اور کی قسم اٹھا لے تو اس کا کفارہ کیا ہے کہ وہ فورا لا الاہ اللہ کا اقرار کرے۔پیارے بھائیو اب جو چیز میں آپ لوگوں کے سامنے ذکر کرنا چاہتا ہوں وہ ہے
     
  5. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    اندہی تقلید136:36
    آج اس اندہی تقلید کا فتنہ بھی مسلمانوں میں عام ہو چکا ہے مسلمان اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرموزات کے سامنے اماموں اور پیروں کے اقوال پیش کرتے ہیں میرے بھائیو آپ لوگ جانتے ہیں کہ تقلید کی تعریف کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر کسی امتی کی بات کو بغیر دلیل کے مان لینا یہی اندی تقلید ہے اور میرے بھائیو تقلید کی ابتدا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے چار سو سال بعد جاکر ہوتی ہے جیساکہ ابن قیم جوزی رحت اللہ علیہ نے کلام الموقعین کے اندر لکھا ہے اور تقلید کا لفظ میرے بھائیو قرآن کریم کے اندر جانوروں کے لیے استعمال کیا گیا ہے جیسا کہ اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا ()حدی کے وہ جانور جن کے گلوں میں پٹے ڈالے جاتے ہیں اسی اندہی تقلید کی وجہ سے یہودیوں اور عیسائی گمراہ ہوئے اس کے اوپر اللہ رب العزت کا غضب نازل ہوا جیسا کہ اللہ رب العزت نے سورۃ التوبہ:31 کے اندر ارشاد فرمایا ()ارشاد فرمایا انہوں نے اللہ رب العزت کو چھوڑ کر اپنے علماء اور مشائخ کو اپنا رب بنا لیا ۔میرے بھائیو ترمذی کے اندر حدیث ہے عدی ابن حاتم رضی اللہ تعالی عنہ جب یہ آیت کریمہ سنتے ہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کرتے ہیں اے اللہ کے نبی میں پہلے نسرانی تھا ہم لوگ آپنے علماء کو اپنے مشائخ کو رب نہیں کہتے تھے آپ علیہ السلاۃ السلام نے ارشاد فرمایا کہ جس چیز کو تمہارے علماء حلال کرتے تھے اس چیز کو تم حلال جانتے تھےعدی نے عرض کی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے بلکل صحیح کہا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یہی مقصود ہے اللہ رب العزت کا کہ یہودیوں اور عیسائیوں نے اللہ رب العزت کو چھوڑ کے اپنے علماء اور مشائخ کو اپنا رب بنا لیا ۔اور یہی حال میرے بھائیو مسلمانوں کا بھی ہے انہوں نے آپنے اماموں اور پیروں کو حرام کرنے کا اور حلال کرنے کا حق دیے دیا ہے امام اور پیر جس چیز کو حلال کریں جس چیز کوحرام کریں یہ اسی کے اوپر چلتے ہیں قرآن و سنت میں ذرا بھی دیکھنے کی کوشش نہیں کرتے اور یہی وجہ ہے کہ آج کچھ مسلمانوں نے اسلام کے اندر ایسی ایسی بدعات اجاد کر لی ہیں جن کا قرآن و حدیث کے اندر کوئی وجود نہیں مثلا قل ،دسواں ، چالیسواں، برسی ،میلاد، میراج مصطفے، شب برات، سبیلے لگانا، گیاہرویں شریف ، لوگوں کو جمع کرکے قرآن پڑھا کے مردوں کو پارسل کرنا ہلنکہ میرے بھائیو حقیقت بات یہ ہے کہ ان چیزوں کا نہ تو قرآن کریم کے اندر کوئی وجود ہے اور نہ ہی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح حدیث کے اندران کا کوئی وجود ہے اور کچھ لوگ اس بد عقیدگی کا شکار ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نور تھے یا بشر آپ کا سایہ تھا یا نہیں آپ کے جوتوں کے نقش بنا کر انہیں مسجدوں میں لٹکانا ۔انہیں باتوں کو میرے بھائیو یہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کا میار قرار دیتے ہیں جہاں قرآن و حدیث کے اوپر عمل کرنے کی باری آتی ہے تو شیطان انہیں کوئی اور ہی خواب دکھلاتا ہے کہ تم فلاں امام کے مقلد ہو فلاں پیر کے مدید ہو اور انہی چکروں میں مبتلا ہو کر یہ لوگ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرموذات کو رد کر دیتے ہیں لا حولاولاقوت الاباللہ ۔پیارے بھائیو اب جو چیزیں میں آپ لوگوں کے سامنے ذکر کرنا چاہتا ہوں وہ ہیں
     
  6. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    چند چھپے ہوئے شرکیہ کلمات140:33
    مثلا یوں کہنا میں اللہ کی اور تیری پناہ پکرتا ہوں،جو اللہ چاہیں اور آپ چاہیں ، یہ اللہ اور آپ کی طرف سے ہے، اللہ کے سوا اور آپ کے سوا کوئی نہیں، میں اللہ پر اور آپ پر توکل کرتا ہوں، اگر اللہ نہ ہوتا اور فلاں نہ ہوتا ، میرے بھائیو ان کلمات میں صحیح طریقہ یہ ہےکہ لفظ اور کے بجائے لفظ پھر استعمال کیا جائے مثلا یوں کہنا چاہیے میں اللہ کی پھر آپ کی پناہ پکرتا ہوں۔اس طرح یہ کہنا بھی غلط ہے کہ میں اسلام سے بری ہوں، اسی طرح یہ کہنا بھی غلط ہے زمانے کی ناکامی،بڑا برا زمانہ ہے بڑا برا وقت ہے زمانہ خراب ہے زمانہ خراب ہے زمانہ غددار ہے زمانہ غددار ہے کیوں کہ زمانے کو گالی دینا اللہ کورب العزت کی طرف لوٹتی ہے جو زمانے کا خالق ہے اسی طرح میرے بھائیو آج کل بہت سی نئی اسطلحات اور عبارتیں سننے میں آتی ہیں جو توحید کے مخالف اور منافی ہیں مثلا یہ کہنا اسلامی اشتراکیت اسلامی جمہوریت عوام کا ارادہ اللہ کا ارادہ ہے دین اللہ کا اور وطن سب کا اسی طرح میرے بھائیو ملک الملوک،شیہنشاہ یا قاضی و قضاءیعنی چیف جسٹس کا لفظ بھی کسی انسان کے لیے بولنا حرام ہے اسی طرح لفظ سید بامعنی بزرگ یا مسٹر یا اس کا ہم معنی اور کوئی دوسرا لفظ کسی کافر یا منافق کے لیے نہ بولا جائے نہ عربی زبان میں نہ کسی دوسری زبان میں اسی طرح میرے بھائیو اپنی گفتگو میں حرف لو یعنی اگر کا استعمال کرنا بھی ناجائز ہے کیوں کہ حسرت پر ندامت پر ناراضگی پر دلالت کرتا ہے مثلا یہ کہنا اگر گھر میں کتیا نہ ہوتی تو چوری ہوجاتی، اگر گھر میں بطخ نہ ہوتی تو چوری ہوجاتی، اگر میں فلاں جگہ نہ جاتا تو میرا ایسی ڈنٹ نہ ہوتا یہ کلمہ اگر میرے بھائیو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق شیطانی دروازہ کھولتا ہے اسی طرح میرے بھائیو یہ کہنا بھی غلط ہے (اللہ ہما اغفر لی ان شئت)اے اللہ اگر تو چاہتا ہے تو مجھے بخش دے میرے بھائیو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر تم میں سے کوئی دعاء کرے تو پورے ازم کے ساتھ دعاء کرے اسی طرح میرے بھائیو بہت سارے نام رکھنا حرام ہیں جن کے اندر اللہ رب العزت کو چھوڑ کر غیروں عبد کی اضافت کی جاتی ہے مثلا اس طرح نام رکھنا عبدنبی ، عبدرسول، عبدحسین، غلام علی، غلام حسین، غلام محیدین، غلام رسول، غلام بخش ، پیر بخش ، پیر امداد۔پیارے بھائیو تمام فرشتے تمام جنات تمام تمام انسان اللہ رب العزت ہی کے بندے ہیں اللہ ہی کے غلام ہیں جیسا کہ اللہ رب العزت نے سورۃ المریم:93 کے اندر ارشاد فرمایا ()ارشاد فرمایا کہ زمین اور آسمانوں میں جو کچھ بھی ہے وہ اللہ رب العزت ہی کے غلام بن کر آنے والے ہیں اسی طرح میرے بھائیو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک جس میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپنے رب کو یوں مخاطب کرتے ()اے اللہ میں تیرا بندا ہوں اور تیرے بندے کا بیٹا ہوں۔اسی طرح میرے بھائیو علامہ ابن حزم رحتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ تمام علامہ کا اس بات پر اجماع ہے کہ ہر وہ نام جس میں بندے کی نسبت اللہ رب العزت کو چھوڑ کر غیروں کی طرف کی جاتی ہے مثلا عبدنبی ، عبدرسول، عبدحسین اس طرح کے نام رکھنے حرام ہیں اسی طرح میرے بھائیو صحیح مسلم اور بخاری کے اندر حدیث ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے کوئی کسی کو یہ نہ کہےکہ میرا بندا میری بندی بلکہ یہ تمام کے تمام لوگ اللہ رب العزت ہی کے بندے ہیں اسی ہی کے غلام ہیں پیارے بھائیو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عبد اللہ اور عبد الرحمن اللہ رب العزت کے نزدیک بڑے ہی محبوب ترین نام ہیں میرے بھائیو ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی اولاد کے وہ نام رکھیں جن میں عبد کی نسبت اللہ رب العزت کے اسماء الحسن کی طرف کی جاتی ہے عبد اللہ ،عبد الرحمن،عبد سمیع، عبد اللطیف ، عبد الخبریر، عبد الخالق، عبد الشکور، عبد الواحد، عبد الوھاب اسی طرح میرے بھائیو یوں نام رکھیں آپنی اولاد کے محمد ،احمد، ابراہیم،اسمائیل، اسحاق، یعقوب، یوسف، ادریس، صالح، موسی، عیسی،زکریا، یحیا،سلیمان، داؤد اسی طرح میرے بھائیو یوں نام رکھیں آپنی اولاد کے ابوبکر،عمر،عثمان ،علی، طلحہ،زبیر،سعید، سعد، حمزہ، حسن ، حسین، جعفر،عباس اسی طرح میرے بھائیو اپنی بیٹیوں کے یوں نام رکھیں ختیجہ، مریم، عائشہ،فاطمہ، حفصہ، کلثوم،رقیہ، جویریہ اس طرح میرے بھائیو پیارے پیارے نام رکھیں اپنی اولاد کے اسی طرح میرے بھائیو اپنی گفتگو میں یوں کہتے ہیں کہ میرے بندے کہاں ہیں یہ میرے بندوں کا کام ہے یہاں میرے بندے کام کر رہے تھے میرے بھائیو اس طرح کہنا بھی حرام ہے اسی طرح میرے بھائیو اللہ رب العزت کے لیے کلمہ حاضر استعمال کرنا جو کہ اس کی شان کے خلاف ہے اسی طرح لفظ اللہ کے بجائے خدا استعمال کرنا بھی صحیح نہیں ہے اسی طرح میرے بھائیو کچھ لوگ بسم اللہ کی جگہ سات سو چھیاسی 786 کا استعمال کرتے ہیں اور قرآنی آیات کے نقش نکال تے ہیں میرے بھائیو یہ تشمنان اسلام کی ایک کفیر جسارت ہے جو انہوں نے قرآن کریم کے اندر تحریف کرنے کے لیے کی لیکن ہمیں افسوس کے ساتھ یہ بات کہنا پڑ رہی ہے کہ وہ لوگ جنہیں لوگ علماء آلہ حضرت حکیم الامت کے القابات سے نوازتے ہیں وہ لوگ بھی اس بد عقیدگی کاشکار ہوگئے اور کچھ لوگ آپنے گھروں میں دیواروں کے اوپر یہ کلمہ لکھتے ہیں اللہ محمد اسی طرح مساجد میں اسی طرح مساجد میں فرض نماز کے بعد اٹھتے ہیں اور اس طرح علان کرتے ہیں کہ بقیہ نماز کے بعد اللہ رسول کی بات ہو گی اللہ رسول کی بات ہو گی میرے بھائیو اس طرح کہنا سخت ناجائز ہےاللہ رب العزت نے قرآن کریم کے اندر جہاں کہیں بھی یہ کلمہ استعمال کیا ہے (اللہ و رسول )اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یعنی کلمہ واو عطف ہے خالق اور مخلوق میں تفریق کرتا ہے اسی طرح کی بات میرے بھائیو ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذندگی میں کہی تھی جیسا کہ صحیح مسلم کے اندر حدیث ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سناکہ ایک شخص لوگوں کو خطبہ دیے رہا تھا اس خطیب نے اپنے خطبے میں کیا کہا ()جس نے اللہ اور اس کے رسول کی عطاعت کی وہ کامیاب ہو گیا پھر اس نے کہا ()جس نے ان دونوں کو جھٹلایا ()وہ گمراہ ہو گیا ۔پیارے بھائیو اللہ کے رسول کے کانوں میں جب یہ بات پڑی تو اللہ کے رسول نے ارشاد فرمایا ()تو کتنا برا خطیب ہے ۔اس خطیب نے کہاں غلطی کی پہلے تو اس نے یہ کہا() جس نے اللہ اور اس کے رسول کی فرمابرداری کی وہ کامیاب ہو گیا پھر اس نے کہا ()جس نے ان دونوں کو جھٹلایا وہ ناکام ہو گیا یعنی اس نے کلمہ دونوں کہ کر خالق اور مخلوق کو جمع کردیااس بات پر اللہ کے رسول اتنا ناراض ہوئے کہ اس کے منہ پر کہ دیا ()کہ تو کتنا برا خطیب ہے پیارے بھائیو اب جو چیز میں آپ لوگوں کے سامنے ذکر کرنا چاہتا ہوں وہ ہے
     
  7. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    بدشگونی لینا 149:20
    بدشگونی جو کہ ایک حرام عقیدہ ہے توحید کے کمال کے منافی ہے اس میں بہت سی چیزیں شامل کی جاسکتی ہیں مثلا بعض لوگ صفر کے مہینے کو منھوس قرار دیتے ہیں، تیراں کے عدد کو منھوس قرار دیتے ہیں،بد کے دن کو منھوس قرار دیتے ہیں،الو کے بولنے کو منھوس قرار دیتے ہیں ، کالی بلی کے دیکھنے کو منھوس قرار دیتے ہیں ، کچھ لوگ بیماری والے شخص کو منھوس قرار دیتے ہیں ، اس سے نھوست پکڑتے ہیں مثلا اگر کوئی آدمی آپنی دکان کھولنے کے لیے جائے مگر راستے میں اسکی نظر کسی کانے انسان پر پڑ جائے اور وہ وہیں سے واپس پلٹ آئے ، اسی طرح کچھ لوگ صبح کسی لنگڑے انسان کو دیکھ لیں تو اپنا کاروبار ترک کردیتے ہیں اسی طرح کچھ لوگ جب آپنی دکان کھولتے ہیں اگر ان کے پاس صبح کوئی ادھار لینے والا آجائےتو اسے کہتے ہیں کہ تھوڑی سی بونی کروا کر جاؤ ورنہ سارا دن بے برکتی ہو گی اسی طرح کچھ لوگ رات کو جھاڑو دینے کو بڑا برا تصور کرتے ہیں اسی طرح کچھ لوگ یہ بد عقیدگی رکھتے ہیں اگر ہاتھ پر چارش ہوئی تو پیسےملیں گے اسی طرح کچھ لوگ یہ بدعقیدگی رکھتے ہیں کہ اگر جوتے پر جوتہ گیا تو صفر پر جانا ہے اگر چھت کے اوپر کوا بولا توکوئی مہمان آنے والا ہے اگر آٹا اڑا تو مہمان آنے والا ہے اسی طرح کچھ لوگ یہ بدعقیدگی رکھتے ہیں کہ اگر آنکھ پھڑکی تو کوئی مصیبت آنے والی ہے میرے بھائیو یہ ساری بدشگونیں ہیں جن کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے شرک قرار دیا ارشاد فرمایا()ارشاد فرمایا بدشگونی شرک ہے بدشگونی شرک ہے بدشگونی شرک ہے اور ایک حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کوبدشگونی کام کرنے سے روک دے اس نے شرک کا ارتقاب کیا صحابہ کرام نے عرض کی اے اللہ کے رسول صل اللہ علیہ وسلم اس کا علاج کیا ہے آپ علیہ السلاۃ السلام نے ارشاد فرمایایوں کہو ()پیارے بھائیو بدشگونی لینا انسانی طبیت میں شامل ہے جو کم اور زیادہ ہو سکتی ہے اور اس کا سب سے اہم اور کار آمد علاج توکل عل اللہ ہے جیسا کہ عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ہم میں سے ہر شخص کے دل میں کچھ نہ کچھ بد شگونی پیدا ہو جاتی ہے لیکن اللہ رب العزت توکل کی برکت سے اسے ختم کردیتا ہے پیارے بھائیو اب جو چیز میں آپ لوگوں کے سامنے ذکر کرنا چاہتا ہوں وہ ہے
     
  8. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    لوگوں کی ذندگی اور حوادث میں ستاروں کی تعسیر کاعقیدہ رکھنا 152:04
    صحیح بخاری کے اندر حدیث ہے ایک موقع پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپنے صحابہ کرام کو مخاطب ہو کر ارشاد فرمایا کہ اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا ہے کہ میرے بندوں میں سے کچھ مومن ہوئے اور کچھ کافر جنہوں نے یہ کہا کہ ہمیں یہ بارش اللہ رب العزت کے فضل اور اس کی رحمت سے عطا ہوئی وہ میرے ساتھ ایمان رکھنے والے اور ستاروں کی تاسیر کا انکار کرنے والے ہیں اور جنہوں نےیہ کہا اس بارش میں فلاں ستارے کی تاسیر ہے وہ میرے ساتھ کفر کرنے والے اور ستاروں کے ساتھ ایمان رکھنے والے ہیں اسی طرح میرے بھائی آج کل کچھ لوگ اخبار اور ریسالوں میں شایع ہونے والے ستاروں کی برجوں سے قسمت کے احوال جاننے کی کوشش کرتے ہیں ان کا یہ قردار شرک کو قبول کرنے والا ہے چناچنہ اگر وہ ان نجوم اور افلاک کے قسمت کے تعلق سے اثر انداز ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں تو مشرک ہیں اور اگر فقط تسلی کے لیے ستاروں کے ان احوال کر پڑھتے ہیں تو وہ نافرمان اور گناہ گار ہیں کیوں کہ شرک پر مشتمل تحریر پڑھ کر تسلی لینا جائز نہیں ہے اسی طرح میرے بھائیو کچھ لوگ ستاروں کے بارے میں یہ بدعقیدگی رکھتے ہیں کہ اگر کسی کو فائدہ یا نقصان حاصل ہو جائے تو کہتے ہیں کہ اس کا ستارہ گردش میں ہے میرے بھائی ستارے تو خود اللہ رب العزت کی مخلوق ہیں جن کو آسمانے دنیا کی زینت کے لیے، راستے ہی ریہنمائی حاصل کرنے کے لیے اور شیاطین کو مارنے کے لیے پیدا کیا گیا ہے پیارے بھائی اب جو چیز میں آپ لوگوں کے سامنے ذکر کرنا چاہتا ہوں وہ ہے
     
  9. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    ریاکاری 153:49
    عمل کی قبولیت کے لیے تین شرطیں ہیں
    1)عمل کرنے والا انسان توحید پرست ہو موحد ہو عقیدہ توحید اس کا صحیح ہو عقیدے میں شرک کی آمیزش نہ ہو
    2)عمل خالصن فقط اللہ رب العزت ہی کے لیے ہو ریاکاری سے پاک ہو
    3)عمل اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق ہو
    پیارے بھائیو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ریاکاری کے فتنے کو فتنہ دجال سے بھی زیادہ خطرناق قرار دیا ہے لیکن اللہ رب العزت معاف آج کل کتنے ہی مسلمان مرد اور خواتین اس ریاکاری اس ریارکای کے فتنے میں مبتلاء ہیں پیارے بھائی میں آپ لوگوں کے سامنے چند چیزوں کی نشان دہی کرنا چاہتا ہوں تاکہ آپ لوگ اس ریاکاری کے فتنے سے خبردار ہو جائيں مثلا اگر کوئی نماز پڑھے نماز کو اس لیے لمبا کرے کہ کوئی دیکھ رہا ہے تو یہ ریاکاری ہےاسی طرح رات کو کوئی تحجد کی نماز کے لیے اٹھتا ہے اور اس کی یہ کوشش ہو کہ میرے اس عمل کی خبر لوگوں کو ہو جائے تو یہ ریاکاری ہے اسی طرح اگر کوئی نفلی روزہ رکھے اس کی یہ کوشش ہو کہ لوگوں کو میرے اس عمل کی خبر ہو جائے تو یہ ریاکاری ہے اسی طرح کوئی قرآن کریم کی تلاوت کر تا ہے اور آواز کو خوب صورت اس لیے بناتا ہے کہ لوگ اس کی تعریف کریں تو یہ بھی ریاکاری ہے اسی طرح اگر علم اس لیے حاصل کرے کہ لوگ کہیں کہ یہ عالم ہے تو ریاکاری ہے اسی طرح جو شخص آپنے منہ سے خود کہے کہ میں عالم ہوں تاکہ لوگوں میں شوہرت ہو تو ریاکاری ہے اسی طرح کچھ لوگ ہاتھوں میں لمبی لمبی تسبیں لیے کر گھومتیں ہیں یہ بھی ایک ریاکاری کا ایک نمونہ ہے میرے بھائیو میں یہاں ایک اور چیز کی بھی نشاندھی کرنا چاہتاہوں وہ یہ ہے کہ اگر آپ لوگ دیکھیں ایک مسلمان دعوت تبلیغ کا کام کر رہا ہے لوگ اس سے استفادہ کر رہے ہیں لوگ اس کی دعوت کو قبول کر رہے ہیں میرے بھائی اگر آپ لوگ آپنے دل میں محسوس کریں کہ آپ کے دل میں اس مسلمان کے لیے حسد پیدا ہو رہی ہے قراہیت پیدا ہو رہی ہے بغض پیدا ہو رہا ہے تو میرے بھائیو جان لیجیے کہ آپ کے دل میں اخلاص کی قلت ہےاور ریاکاری کا غلبہ ہے پیارے بھائیو غرض ہر وہ عبادت چھوٹی ہو یا بھڑی ہوجس میں اللہ رب العزت کی خوشنودی مقصود نہ ہو بلکہ شوہرت تعریف مقصود ہو تو میرے بھائیو یہ ریاکاری ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاجو آپنے عمل کے ذریعے شوہرت کمانا چاہتا ہے تو اللہ رب العزت اسے شوہرت ہی دیتا ہے اور جو آپنا عمل لوگوں کو دکھلانے کے لیے کرتا ہے تو اس کو دکھلاوا ہی حاصل ہو تا ہے پیارے بھائیو ریاکاری جسے حدیث کے اندر شرک اصغر قرار دیا گیا ہے اگر اس کا علاج نہ کیا جائے تو شیطان بڑھی آسانی سے انسان کو شرک اکبر کی طرف لے جاسکتا ہے پیارے بھائیو اس کا علاج کیا ہے کہ عمل کرنے سے پہلے انسان آپنے دل میں اللہ رب العزت ہی کے لیے اخلاص پیدا کرے اور وہ دعاء صبح و شام پڑھا کرے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جناب ابی بکر رضی اللہ تعالی عنہ کو سکھلائی تھی()اے اللہ میں تیری پناہ طلب کرتا ہوں کہ میں تیرے ساتھ کسی قسم کا شرک کروں اور میں تجھ سے بخشش طلب کرتا ہوں کہ مجھ سے لاعلمی میں شرک صادر ہو جائے۔ پیارے بھائیو اب جو چیز میں آپ لوگوں کے سامنےذکر کرنا چاہتا ہوں وہ ہے
     
  10. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    ریاکاری 153:49
    عمل کی قبولیت کے لیے تین شرطیں ہیں
    1)عمل کرنے والا انسان توحید پرست ہو موحد ہو عقیدہ توحید اس کا صحیح ہو عقیدے میں شرک کی آمیزش نہ ہو
    2)عمل خالصن فقط اللہ رب العزت ہی کے لیے ہو ریاکاری سے پاک ہو
    3)عمل اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق ہو
    پیارے بھائیو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ریاکاری کے فتنے کو فتنہ دجال سے بھی زیادہ خطرناق قرار دیا ہے لیکن اللہ رب العزت معاف آج کل کتنے ہی مسلمان مرد اور خواتین اس ریاکاری اس ریارکای کے فتنے میں مبتلاء ہیں پیارے بھائی میں آپ لوگوں کے سامنے چند چیزوں کی نشان دہی کرنا چاہتا ہوں تاکہ آپ لوگ اس ریاکاری کے فتنے سے خبردار ہو جائيں مثلا اگر کوئی نماز پڑھے نماز کو اس لیے لمبا کرے کہ کوئی دیکھ رہا ہے تو یہ ریاکاری ہےاسی طرح رات کو کوئی تحجد کی نماز کے لیے اٹھتا ہے اور اس کی یہ کوشش ہو کہ میرے اس عمل کی خبر لوگوں کو ہو جائے تو یہ ریاکاری ہے اسی طرح اگر کوئی نفلی روزہ رکھے اس کی یہ کوشش ہو کہ لوگوں کو میرے اس عمل کی خبر ہو جائے تو یہ ریاکاری ہے اسی طرح کوئی قرآن کریم کی تلاوت کر تا ہے اور آواز کو خوب صورت اس لیے بناتا ہے کہ لوگ اس کی تعریف کریں تو یہ بھی ریاکاری ہے اسی طرح اگر علم اس لیے حاصل کرے کہ لوگ کہیں کہ یہ عالم ہے تو ریاکاری ہے اسی طرح جو شخص آپنے منہ سے خود کہے کہ میں عالم ہوں تاکہ لوگوں میں شوہرت ہو تو ریاکاری ہے اسی طرح کچھ لوگ ہاتھوں میں لمبی لمبی تسبیں لیے کر گھومتیں ہیں یہ بھی ایک ریاکاری کا ایک نمونہ ہے میرے بھائیو میں یہاں ایک اور چیز کی بھی نشاندھی کرنا چاہتاہوں وہ یہ ہے کہ اگر آپ لوگ دیکھیں ایک مسلمان دعوت تبلیغ کا کام کر رہا ہے لوگ اس سے استفادہ کر رہے ہیں لوگ اس کی دعوت کو قبول کر رہے ہیں میرے بھائی اگر آپ لوگ آپنے دل میں محسوس کریں کہ آپ کے دل میں اس مسلمان کے لیے حسد پیدا ہو رہی ہے قراہیت پیدا ہو رہی ہے بغض پیدا ہو رہا ہے تو میرے بھائیو جان لیجیے کہ آپ کے دل میں اخلاص کی قلت ہےاور ریاکاری کا غلبہ ہے پیارے بھائیو غرض ہر وہ عبادت چھوٹی ہو یا بھڑی ہوجس میں اللہ رب العزت کی خوشنودی مقصود نہ ہو بلکہ شوہرت تعریف مقصود ہو تو میرے بھائیو یہ ریاکاری ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاجو آپنے عمل کے ذریعے شوہرت کمانا چاہتا ہے تو اللہ رب العزت اسے شوہرت ہی دیتا ہے اور جو آپنا عمل لوگوں کو دکھلانے کے لیے کرتا ہے تو اس کو دکھلاوا ہی حاصل ہو تا ہے پیارے بھائیو ریاکاری جسے حدیث کے اندر شرک اصغر قرار دیا گیا ہے اگر اس کا علاج نہ کیا جائے تو شیطان بڑھی آسانی سے انسان کو شرک اکبر کی طرف لے جاسکتا ہے پیارے بھائیو اس کا علاج کیا ہے کہ عمل کرنے سے پہلے انسان آپنے دل میں اللہ رب العزت ہی کے لیے اخلاص پیدا کرے اور وہ دعاء صبح و شام پڑھا کرے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جناب ابی بکر رضی اللہ تعالی عنہ کو سکھلائی تھی()اے اللہ میں تیری پناہ طلب کرتا ہوں کہ میں تیرے ساتھ کسی قسم کا شرک کروں اور میں تجھ سے بخشش طلب کرتا ہوں کہ مجھ سے لاعلمی میں شرک صادر ہو جائے۔ پیارے بھائیو اب جو چیز میں آپ لوگوں کے سامنےذکر کرنا چاہتا ہوں وہ ہے
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں