[you] آپ کے زیر مطالعہ کتب میں کمپوزنگ کی غلطیاں

اہل الحدیث نے 'مطالعہ' میں ‏مارچ 17, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    4,974
    شیخ رفیق طاہر حفظہ اللہ کے تھریڈ کو دیکھتے ہوئے میں نے بھی یہ ایک تھریڈ سوچا ہے جس میں کتب میں پائی جانے والی کمپوزنگ کی فاش غلطیوں کی اصلاح کی جائے گی۔ اور شیخ صاحب کے تھریڈ میں فکری اغلاط پیش کی جائیں گی۔ [you] ، اگر آپ کو کوئی کمپوزنگ کی غلطی کسی کتاب میں ملے تو یہاں ضرور مطلع کریں۔
    جزاکم اللہ خیرا​
     
  2. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,021
    صحیح بخاری مترجم کے عربی متن میں کپوزنگ کی ایک غلطی

    صحیح بخاری میں گیارہ رکعات تراویح مع وتر پردلالت کرنے والی ایک حدیث ہے جو یوں ہے:


    حدثنا إسماعيل قال حدثني مالك عن سعيد المقبري عن أبي سلمة بن عبد الرحمن أنه سأل عائشة رضي الله عنها كيف كانت صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم في رمضان فقالت ما كان يزيد في رمضان ولا في غيره على إحدى عشرة ركعة يصلي أربعا فلا تسل عن حسنهن وطولهن ثم يصلي أربعا فلا تسل عن حسنهن وطولهن ثم يصلي ثلاثا فقلت يا رسول الله أتنام قبل أن توتر قال يا عائشة إن عيني تنامان ولا ينام قلبي
    [صحيح البخاري :كتاب صلاة التراويح : باب باب فضل من قام رمضان رقم 2013 منقول از مکتبہ شاملہ]


    اسماعیل، مالک، سعید مقبری، ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے (ابوسلمہ) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز رمضان میں کیسی تھی۔ انہوں نے جواب دیا کہ رمضان میں اور اس کے علاوہ دونوں میں گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہ بڑھتے تھے۔ چار رکعتیں پڑھتے تھے۔ ان کے طول و حسن کو نہ پوچھو۔ پھر چار رکعتیں پڑھتے جن کے طول و حسن کا کیا کہنا۔ پھر تین رکعتیں پڑھتیں تھے۔ تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ وتر پڑھنے سے پہلے سو جاتے ہیں، آپ نے فرمایا کہ اے عائشہ رضی اللہ عنہا میری دونوں آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا۔
    (ترجمہ منقول ازEasy QuranWaHadees V3.0 صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1903 حدیث مرفوع مکررات 85 متفق علیہ 52 )

    اس حدیث میں‌ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا نے رمضان میں پڑھی جانے والی نماز تراویح شامل مان کرجواب دیا ہے کہ کہ رمضان ہو یا غیررمضان آ پ صلی اللہ علیہ وسلم گیارہ رکعات سے زائد نہیں پڑھتے تھے۔

    اس کی دلیل یہ ہے کہ سائل نے رمضان کے نام سے سوال کیاتھا، گویا کہ سائل کا مقصد رمضان میں باجماعت پڑھی جانے والی نماز تراویح کے بارے میں تھا ، لہٰذا سائل کے سوال میں‌ لفظ رمضان کی موجودگی بہت اہم ہے، اسی لئے امام بخاری رحمہ اللہ نے اوربھی بہت سے محدثین نے اس روایت کو صلاۃ التراویح کے کتاب یا باب میں ذکر کیا ہے۔


    لیکن افسوس کہ صحیح بخاری کا جونسخہ مولانا محمد داؤدراز رحمہ اللہ کے ترجمہ کے ساتھ مطبوع ہے اس میں اس حدیث کے عربی متن میں موجود مذکورہ سوال میں رمضان کا لفظ چھوٹ گیا ہے، جو بہت‌ بڑی غلطی ہے اس کی اصلاح ہونی چاہئے، کیونکہ استدلال میں اس لفظ کا بھی حوالہ دیا جاتاہے۔

    یادرہے کہ ترجمہ میں رمضان کا لفظ موجود ہے اس سے کوئی غلط فہمی میں مبتلا ہوسکتاہے کہ مترجم نے اپنی طرف سے ترجمہ میں‌ رمضان کا لفظ بڑھا دیا ہے، تاکہ اپنے مسلک پراستدلال کرسکیں۔

    میرے علم کے مطابق پاکستان سے اس ترجمہ کو کمپوزنگ کرکے مکتبہ قدوسیہ نے سب سے پہلے چھاپا ہے پھر اسی کا فوٹو لیکر ہندوستان کے بھی کئی اہل حدیث اور دیوبندی مکتبات نے چھاپا ہے اورسب میں‌ یہ غلطی موجودہے۔

    ملاحظہ ہو صحیح بخاری مترجم ازمولانا داؤد راز رحمہ اللہ : جلد:3صفحہ 241 حدیث نمبر2013۔

    اس جلد کو درج ذیل صفحہ سے ڈاؤنلوڈ کرکے دیکھ سکتے ہیں۔


    http://www.ircpk.com/Kutab/Hadeeth%20Kutabs.html


    ہوسکتاہے کہ مکتبہ قدوسیہ والوں نے صحیح بخاری کے جس عربی نسخہ کو سامنے رکھا ہواس میں مذکورہ حدیث ایسے ہی ہو ، لیکن ترجمہ کے وقت مترجم کے سامنے دوسرانسخہ تھا اس لئے اس کی وضاحت ہونی چاہئے۔
     
  3. M_HUZAIFA

    M_HUZAIFA -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 7, 2011
    پیغامات:
    28
    انشاءاللہ
     
  4. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    4,974
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    فتاویٰ الدین الخالص اردو مترجم جلد 1 صفحہ 212 پر ایک سوال کا جواب ہے کہ کیا مردے کو قبر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دکھائے جاتے ہیں۔ اس میں شیخ حفظہ اللہ نے لکھا ہے کہ
    میں کہتا ہوں: کہ یہ مجاز نہیں بلکہ "ھذا" کا کلمہ معلوم اور محسوس دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے کیونکہ صحیح قول یہ ہے کہ عربی زبان میں سرے سے مجاز موجود ہی نہیں جیسے شیخ الاسلام رحمہ اللہ نے (20/) میں ذکر کیا ہے۔
    کیا یہ حوالہ ٹھیک ہے۔ اگر ٹھیک ہے تو اس کا کیا مطلب ہے؟ کیا عربی کتاب میں بھی اسی طرح لکھا ہوا ہے یا کچھ اور طرح سے ہے؟​
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں