مکہ مکرمہ اور مسجد الحرام کی تاریخ پر ایک معتبر تصنیف

ابوعکاشہ نے 'تاریخ اسلام / اسلامی واقعات' میں ‏اپریل 11, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,372
    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    مکہ مکرمہ اور مسجد الحرام کی تاریخ پر ایک معتبر تصنیف

    بقلم : ڈاکتر مقتدی حسن محمد یاسین ازہری رحمہ اللہ

    ملک کے بعض جرائد حج کے موقع پر جو خصوصی نمبر پیش کرتے ہیں اس کی اہمیت کے متعدد پہلو ہیں ، بیت اللہ پوری دنیا کے مسلمانوں کا قبلہ ہے اس لئے مسلمانوں کاسرزمین مقدس سے قلبی و جذباتی لگاؤ ہے ، اسلام کی تاریخ یہیں سے شروع ہوئی ، اور توحید کی دعوت کا آغاذ یہیں سے ہوا ، دین کے لئے جس جذبہ قربانی و خود سپردگی کی ضرورت ہے اس کی جھلک اسی کی جھلک اسی جگہ کے واقعات میں پوشیدہ ہے ـ دینی حیثیت کے ساتھ ساتھ ادبی ، تاریخی ، معاشرتی اور اقتصادی حیثیت سے بھی مسلمانوں کے لئے مکہ مکرمہ ممتاز حیثیت رکھتا ہے ـ اس سرزمین پر اللہ تعالٰی نے اپنے آخری پیغمبر کو مبعوث فرما کر اور ان پر قرآن کریم نازل فرما کر نیز ان کی دعوت کو عالمی اور دائمی و دعوت کا امتیاز عطا فرما کر اس سرزمین اور اس کی تاریخ کو ایسی معنویت عطا فرمادی ہے جس کا بیان الفاظ کے ذریعے ممکن نہیں ـ

    راقم سطور ایک کتاب کے تعارف کے ذریعہ حجاج کی نیک دعاؤں کا متمنی ہے ، مکہ مکرمہ ، مسجد الحرام اور بیت اللہ شریف پر کتابوں کی فہرست طویل ہے ، ان کے بیچ سے اس کتاب کے انتخاب کی دو بڑی وجہ ہے ـ ـ
    اول :: یہ کہ اس کتاب کے مصنف ہندوستان میں اترپردیش کے باشندہ اور فی الحال مکہ مکرمہ کی ام القرٰی یوبنورسٹی میں استاذ نیز حرم شریف کے مفتی و مدارس ہیں ـ
    دوسری وجہ یہ ہے کہ موصوف نے اپنی کتاب محدیثین کےمنہج کے مطابق اور تحقیق و تدقیق کے اصولوں کی پیروی کرتے ہوئے لکھی ہے ،کسی انسانی عمل کے لئے کمال کا دعوٰی درست نہیں ، لیکن اعتراف حقیقت کے طور پر یہ توضیح بیجانہ ہوگی کہ مکہ مکرمہ اور حرم شریف کی تاریخ نیز حج و عمرہ سے متعلق شرعی احکام کی توضیح کے باب میں زیر تعارف کتاب ایک قابل اعتماد و مستحق ستائش اقدام ہے ـ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس سے بیش از بیش مستفید فرمائے ـ

    کتاب المسجدالحرام : تاریخہ و احکامہ ـ

    تاریخہ و احکامہ کے مدرس ڈاکٹر وصی اللہ بن محمد عباس حفظ اللہ ہیں جو جامعہ سلفیہ بنارس کے اولین فیض یافتگان میں سے ہیں اور اس وقت ام القرٰی یونیورسٹی کے شعبہ سنت میں ریڈر ہیں ، ساتھ ہی آپ کو حرم مکی میں درس و افتاء کا شرف بھی حاصل ہے ـ [/b]

    موصوف کی مذکورہ( کتاب "المسجد الحرام : تاریخہ و احکامہ ) پہلی بار 1408ھ میں عزت مآب شہزادہ متعب بن عبد العزیز آل سعود کے خرچ پر شائع ہوئی تھی ، کتاب کی یہی اشاعت ہمارے سامنے ہے ، اور اس پر مسجد الحرام کے امام و خطیب اور امور حرمین شریفین کے نائب صدر فضیلت مآب محمد بن السبیل کی تفریظ ہے ، پھر س کے بعد مصنف کا قریب دس صفحات کا مقدمہ ہے ، کتاب کے صفحات کی مجموعی تعداد (456) ہے

    کتاب کی جامعیت کا اندازا اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ مصنف نے مختلف واقعات سے مختلف روایات کی تنقید و تحقیق کے علاوہ کی تشریح میں دقت رسی کا ثبوت دیا ہے ، اور فقہی مسائل کی تشریح کی ہے ، اختلاف کی صورت میں ترجیح و محاکمہ سے کام لیا ہے تاکہ اس مو ضوع کا مطالعہ کرنے والوں کے سامنے احکام و حج و عمرہ کا واضح بیان آ جائے ـ

    کتاب کا متن 441 صفحات پر تمام ہوا ہے ، اس کے بعد دو فہرستیں ہیں ، اول مآخذ کی ، اور دوسری ابواب و موضوعات کی ، مآخذ کی فہرست پر نظ ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ مصنف نے دقت نظر اور وسعت پسندی سے کام لیا ہے ، مآخذ کی تعداد (222) ہے ، اور تمام اپنے موضوع پر اہم اور مستند ہیں ـ

    ابواب و موضوعات کی جع فہرست مصنف نے پیش کی ہے اس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں ، البتہ اجمالا عرض ہے کہ : ابواب کی تعداد (11) ہے ، ان میں پہلا باب مکہ اور حرم کے متعلق ہے ، اور اس میں مندرج کل عناوین 53 ہیں ـ دوسرا مسجد الحرام سے متعلق ہے ، اور کے ذیل میں کل (28) عناوین ہیں ـ تیسرے باب کا تعلق کعبہ شریف سے ہے، اور اس کے ذیل میں مصنف کل (39) عناوین قائم کر کے بحث کی ہے ـ چوتھے باب کا عنوان حجر اسود ہے ، اس کے ضمن میں ( 22) ذیلی عناوین ہے ـ پانچواں باب حجر اسماعیل (حطیم ) سےمتعلق ہے ـ اس کے ذیل میں چھ عناوین ہیں ـ چھٹے باب کا تعلق رکن یمانی سےہے، اور س میں صرف دو عنوان ہیں ـ ساتویں باب کا موضوع ملتزم ہے ،اس کے ذیل میں بھی صرف دو عنوان ہیں ـ آٹھویں باب کا تعلق کعیہ شریف کے غلاف سےمتلعق ہے ،اس میں کل آٹھ عناوین ہیں ، دسواں باب مقام ابراہیم سے متعلق ہے ، اور اسکے ذیل میں (9) عناوین ہیں ، گیارہواں باب زمزم پرہے ، اور اس کے ذیل عناوین (20) ہیں ـ مقدمہ میں سب سے پہلے ڈاکٹر وصی اللہ نے کتاب کی تصنیف کا محرک بتایا ہے ، یہ محرک ایک معمولی سوال ہے جسے حج کے موقع پر ایک مراکشی حاجی نے ڈاکٹر صاحب سے پوچھا تھا کہ ، اللہ تعالی کی مشیت پرغور کیجئے کہ ایک معمولی ساسوال ایک بیحد عظیم کام کا محرک بن گیا ـ سوال کا خلاصہ یہ تھا کہ: کیا مسجد الحرام میں انبیاء علیہم السلام کی قبریں موجودہیں ؟ مصنف نے اسے بتایا کہ مسجد الحرام میں قبروں کے وجود کی بات صحیح نہیں ـ مراکشی حاجی مذکورہ جواب سے مطمئن نہ ہواـ بلکہ حوالہ دیا کہ :فقہاء کہتے کہ مسجد الحرام حجر میں نامی حصہ میں اسماعیل علیہ السلام کی اور رکن و مقام کے مابین ستر(70) انبیاء کی قبریں موجود ہیں ، مصنف نے یہ بات سن کر کہا کہ بعض تاریخی روایتوں میں اس طرح کا ذکر موجود ہے ، لیکن یہ روایتیں ثابت نہیں ہیں ـ مسجد حرام میں قبروں کے وجود کی بات ــ بقول مصنف ــ لوگوں میں پھیلنے کا سبب یہ ہے کہ مسجد الحرام اور مکہ مکرمہ کی تاریخ کے موضوع پر لکھی گئی اکثر کتابوں میں یقینی طور پرمذکور ہے کہ مسجد الحرام میں قبریں موجود ہیں ، بلکہ بعض مصنفین کے نزدیک حجر اسماعیل علیہ السلام اور ان کی ماں کی قبر اس کی فضیلت کا سبب ہے ـ

    عوام میں پھلیے ہوئے اسی نوعیت ک خیالات و تاثرات نے مصنف کو موضوع کے غیر جانبدار مطالعہ پر آمادہ کیا ، اور انہوں نے روایات کی چھان بین کے سلسہ میں محدثین کے بنائے ہوئے قواعد و ضوابط کی روشنی میں اپنی کتاب تصنیف کی ـ
    اس مقام پرڈاکٹر وصی اللہ صاحب نے وضاحت کی پے کہ کتب تاریخ سے روایات و واقعات کو محض نقل کرنے سے تحقیق کا فرض پورا نہیں ہوتا ، بلکہ اس کے لئے محدیثین کے ضوابط کی روشنی میں روایات کا پرکھنا ضروری ہے ـ مصنف نے بطور مثال بعض کتابوں کی جانب اشارہ کیاہے جو تحقیق و تثبیت کے بغیر صرف تاریخی واقعات کی ترتیب کے طور پر لکھی گئی ہیں اور ان سے عثمان عنی رضی اللہ جیسے صحابی کے متعلق یہ غلط فہمی پیدا ہو تی ہے کہ انتظامی امور میں ان کے تصرفات درست نہ تھے ! مصنف نےاس موقع پرقاضی عیاض کےشیخ امام ابن العربی ( 468---- 543ھ) کتاب العواصم من القواصم کا حوالہ دیا ہے ، اسی طرح ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور ابن کثیر کی کوششوں کا ذکر کیا ہے ، جنہیں ان لوگوں نے روایات کی تنقیح کےسلسلہ میں انجام دیا ہے ـ

    روایات حدیث اور روایات تاریخ کے باہمی فرق کو مصنف نے بتفصیل واضح کیاہے ، اور قرآنی آیات سے استدلال کر کے بتایا کہ محدیثین کےقواعد کی بنیاد آیات کریمہ میں موجود ہے ـ

    مقدمہ کے اختتام پر ڈاکٹر وصی اللہ صاحب نے اعتراف کیا ہے کہ واقعات کی ترتیب اور حوادث کی تصویر کشی میں ان کو سخت مشقت کا سامنا کرنا پڑا ، کیونکہ اکثر کتابوں میں اسرائیلی روایات کو صحیح و ضعیف کی نشان دہی کےبغیر ذکر کیا گیا تھا ، اس ذخیرہ سے صحیح روایتواں کا انتخاب ایک صبر آزما عمل تھا ـ

    موضو ع کی مناسبت سےمصنف نے (32) کتابوں کی فہرست اسما ء مصنفین و سنین وفات ذکر کی ہے جس سے قاری کو ایک نظر می بعض کتابوں کا علم ہو جاتا ہے جو مکہ اور مسجد الحرام کے موضوع پرتصنیف کی گئی ہیں ـ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,372
    مکہ ایک پرامن شہر ::
    سورہ البقرہ کی آیت 125 میں اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کو ثواب کی ، باربار لوٹ کر آنے کی اور امن و سلامتی کی جگہ بتایا ہے ـ منصف نے تفسیر ابن جریر کے حوالہ سے لکھا ہے کہ بیت اللہ کا یہ شرف ہے کہ انسان کی روح اس کی مشتاق اور دل اس کی طرف مائل رہتا ہے ، ضرورت پوری ہو جائے تب بھی انسان وہاں جانے کی تمنا رکھتا ہے ، اور کبھی اسے اکتاہٹ نہیں پیدا ہوتی ، سورہ القصص کی آیت 57 کو نقل کر کے مصنف نے لکھا ہے کہ اللہ تعالی نبی صلی اللہ علیہ کو حکم فرما رہا ہے کہ ان سے کہ دیں کہ حق کی پیروی کے نتیجہ میں تم اچانک لئے جانے کا جو عذر پیش کررہے ہو وہ جھوٹ ہے ، اللہ تعالیٰ ہی نے تم کو پرامن شہر میں رکھا ہے ـ جس کی حرمت کو کوئی پامال کرنے کی جرات نہیں کر سکتا ہے ، یہاں پر خوں ریزی سے اور مکہ کے باشندوں کو تکلیف پہنچانے سے ہم نے روک دیا ہے ـ، جاہلی دور میں عربوں کے یہاں معروف تھا کہ آپس میں ایک دوسرے پرچڑھائی کرتے تھے ، اور ایک دوسرے کو قتل بھی کرتے تھے جبکہ مکہ کے باشندے حرم کے احترام کے باعث پرامن زندگی گزراتے تھے ، قرآن کا وعدہ سچا ہے ، مکہ آج بھی پرامن ہے جبکہ بہت سی جگہ جان و مال میں سے کسی خیر ںہیں ـ

    پہلے باب میں مصنف نے مکہ اور حرم سے بحث کی ہے اور لکھا ہے کہ مکہ اللہ کا حرمت والا شہرہے جو دنیا کے وسط میں اس کی ناف کی حیثیت رکھتا ہے ، اور روئے زمین کی سب سے اعلی جگہ ہے ـ جدید دور کی تحقیق سے اس کی تائید کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ریاض یونیورسٹی کی سول انجینئرنگ کے شعبہ کے صدر ڈاکٹر حسین کمال الدین نے قاہرہ میں شائع ہونے والے اپنے ایک انٹرویو میں تصریح کی ہے کہ ایک نوعیت کے جغرافیائی نظریہ تک ان کی رسائی ہوئی ہے جس کی رو سے مکہ مکرمہ کرہ ارضی کا مرکز ہے ، موصوف دراصل سمت قبلہ کے تعین میں معاون ایک کم قیمت آلہ تیار کرنے کے لئے روئے زمین کے تمام مقامات کی دوری معلوم کرنے کے لیے ایک نقشہ تیار کر رہے تھے ، نقشہ پر نظر دوڑاتے ہوئے انہیں انکشاف ہوا ہے کہ مکہ مکرمہ دنیا کے وسط میں واقع ہے ، اپنی اس تحقیق کے دوران موصوف کو اس حکمت الہیہ کا اندازہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کو بیت اللہ الحرام کا مستقر اور آسمانی رسالت کا مرکز کیوں بنایا ہے ـ (الاھرام ـ قاہرہ ، 15/1/1397 ھ مطابق 15/1/1977 ء )

    مکہ کب وجود میں آیا ، اس پر مصنف نے مفصل بحث کی ہے اور لکھا ہے کہ عبداللہ بن عمرو کی ایک موقوف روایت میں ذکر ہے کہ بیت اللہ زمین سے دو ہزار سال قبل بنایا گیا تھا ـ لکھتے ہیں کہ اگر اس روایت کو اوراسی طرح علیہ السلام کی طرف سے کعبہ کی روایت کو صحیح مان بھی لیا جائے تو قطعیت کے ساتھ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ابراہیم علیہ السلام کے اپنی ذریت کو لیکر مکہ آنے سے قبل وہاں آبادی تھی ، مکہ وادی غیر مزروع تھا ـ بخاری کی ایک روایت میں بنی جراہم کا یہ قول مذکور ہے کہ ہمارے علم میں اس وادی میں پانی نہ تھا ـ آدمی وہیں سکونت پذیر ہوتا ہے جہاں پانی اور چارا ہو ، اللہ تعالیٰ کا جب یہ فیصلہ ہوا کہ مکہ کی مبارک وادی اس کی توحید کا گہوارہ بنے تو اس نے ابراہیم علیہ السلام کو وہاں ہجرت کرنے کا حکم فرمایا تاکہ یہ سرزمین آخری رسالت کا گہوارہ اور خاتم البین محمد ﷺ پر وحی نازل ہونے کی جگہ بنے

    حرم مکی میں نماز کا اجر ::
    مصنف نے اس موضوع کے ضمن میں پہلے یہ لکھا ہے کہ نماز کے قصد سے اور حصول ثواب کے لیے دنیا کی کسی مسجد کا سفر جائز نہیں سوائے مسجد حرام ، مسجد نبوی اور مسجد اقصی کے ـ مصنف نے اس سلسلہ کی بہت ساری روایتیں ذکر کی ہیں ـ ، اور ان پر فنی لحاظ سے کلام کیا ہے ، ان سب کا مفاد یہ ہے کہ مسجد حرام میں ایک نماز کا ثواب دوسری مسجدوں میں ایک لاکھ نما زکے برابر ہے ، اور مسجد نبوی میں نماز کاثواب ایک ہزار نماز کے برابر ہے اور مسجد اقصی میں پانچ سو نمازوں کے برابر ـ

    حرام مکی میں نماز کے ثواب کی بحث کے بعد مصنف نے یہ سوال قائم کیا ہے کہ حرم کی دیگر نیکیوں کا کیا حکم ہے ، کیا ان پر ایک نیکیوں کو ثواب ملے گا ؟
    مختلف حدیثوں کے بعد مصنف نےحسن بصری اور نووی کے اقوال ذکر کیے ہیں ، اور اس کے بعد لکھا ہے کہ : ہمیں اللہ کی رحمت سے امید ہے کہ مکہ میں جو نیکی بھی کی جائے گی اس کا ثواب ایک لاکھ نیکیوں کے برابر ہو گا ـ (ص 103 )
    (المسجد الحرام ص 19 )

    فتح مکہ ::
    اس عنوان کے آغاز پر مصنف نے لکھا ہے کہ یہ فتح اعظم ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اپنے دین ، اپنے رسول ، اپنے لشکر اور حرم امین کو عزت عطا فرمائی ، نیز اس کے ذریعہ اپنے شہر کو اور اپنے گھر کو جسے سارے جہانوں کے لئے ہدایت بنایا تھا ـ کفار و مشرکین کے ہاتھوں سے بچایا ، اس فتح کی خوشی آسمان والوں نے منائی ، اور اس کے غلبہ کی دھوم جوزاء ستارے تک پہنچی ، لوگ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہونے لگے ، اور روئے زمین رونق و روشنی سے چمک اٹھا ،
    فتح مکہ ہی کے باب میں مصنف نےاس نقطہ پربحث کی ہے نبی ﷺ کعبہ میں موجود تصویروں کو مٹانے کے بعد اس میں داخل ہوئے ، جن روایتوں میں بعض تصویروں کو چھوڑ دیا تھا ، یا صحابہ نے دوبارہ تصویریں بنا دی تھیں ، اسلام کے مخالفین ان ضعیف اور موضوع روایتوں کا سہارا لیکر اسلام کو مطعون کرنا چاہتے ہیں ، اور یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ تصویروں کے سلسلہ میں اسلام کا رویہ نرم ہے ـ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,372
    مسجد الحرام کی تعمیر::

    ''مسجد الحرام '' کے لفظ سے پورا حرم بھی مراد ہوتا ہے ، اور کعبہ شریف کا احاطہ کرنے والی مسجد بھی ـ جاہلی دور میں اور شروع اسلام میں مسجد کی چار دیواری نہ تھی ، بلکہ مطاف کا حصہ چھوڑ کر لوگوں کے رہائشی مکانات شروع ہو جاتے تھے ، ان مکانات اور کعبہ کے بیچ کے حصہ کو جاہلی دور میں مسجد الحرام کے نام سے موسوم نہیں کیا جاتا تھا ، بلکہ یہ نام اسلام اور قرآن سے آیا ہے ، مسجد میں سایہ کے لئے معمولی چھپر کے علاوہ کوئی چھت بھی نہ تھی ـ نبی ﷺ نے جب حج کیا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تعداد ایک لاکھ تھی ، ان میں سے کم سے کم ستر پچھتر ہزار لوگ آپ کے ساتھ طواف و نماز ادا کرتے تھے ، اس سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ رہائشی مکانات اور کعبہ کے درمیان اتنی گنجائش تھی کہ مذکورہ تعداد وہاں سما سکے ، اور اس سواری پر طواف کرنے والے کے لئے بھی جگہ ہو ـ

    مسجد الحرام کی اہمیت کے پیش نظر ہر دور میں سلاطین و حکام نے اس کی تعمیر پر توجہ مبذول کی ، اور مؤرخین نے اس کی تفصیل قلم بند کی ، ڈاکٹر وصی ﷲ نے اس موضوع پر جو بحث کی ہے وہ تقریبا (28 ) صفحات پر پھیلی ہوئی ہے اور اس میں تمام ضروری تفاصیل آ گئی ہیں ـ
    مسجد الحرام کی چار دیواری اور تعمیر کے سلسلہ میں پہلا نام::
    حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ہے ، انھوں نے 17 ھجری میں اس خدمت کو انجام دیا اور متصل مقامات کو خرید کر مسجد کی توسیع کی
    دوسری تعمیر 26 ھجری میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے حکم سے ہوئی ـ
    تیسری تعمیر 64 ھجری میں عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ نے کرائی ـ
    عبد المالک بن مروان نے 75 ھجری میں تعمیر کروائی ـ
    91 ھجریہ میں ولید بن عبدالملک کے حکم سے مسجد کی تعمیر عمل میں آئی ـ
    137 ھجری تا 140 ھجری میں ابوجعفر منصور کی تعمیر ہوئی ـ
    160 ھجری میں مہدی کی تعمیر و توسیع ہوئی اسی نے 167 ھجری میں بھی توسیع کا حکم دیا ـ
    170 ھجری میں موسی الہادی کی تعمیر ہوئی ـ
    271 ھجری میں معتمد علی اللہ احمد بن جعفر کی تعمیر ہوئی معتضد باللہ کے عہد میں 281 ھجری اور 284 ھجری کے مابین دارالندہ کو مسجد الحرام میں شامل کیا گیا ـ
    المقتدر باللہ جعفر بن احمد کے عہد خلافت میں 306 ھجری میں باب ابراہیم کا اضافہ ہوا ـ
    شیخ حسن باسلامہ کے مطابق مقتدر باللہ کے بعد 1354 ھجری تک مسجد الحرام میں کوئی توسیع نہیں ہوئی ـ البتہ اصلاح و ترمیم کا عمل جاری رہا ـ
    803 ھجری ، 807 ھجری میں امیر بیسق الظاہری کی تعمیر عمل میں آئی ـ
    سلطان قابیتائی 882 ھجری میں ، سلطان سلیمان نے 972 ھجری میں ، سلطان سلیم نے 979 ھجری میں اور سلطان مراد نے 980 ھجری میں اپنی اپنی تعمیر مکمل کی

    اس کے بعد سعودی حکومت کی جانب سے توسیع و تعمیر کا سلسلہ شروع ہوا ـ اس مرحلہ کو مسجد حرام کی تعمیر و توسیع کا ایک عظیم مرحلہ مانا جاتا ہے ، اس میں قدیم عمارت کی اصلاح کے ساتھ ساتھ توسیع اور جدید تعمیر بھی عمل میں آئی ـ سعودی عہد کی تعمیر و توسیع کا سلسلہ سب سے پہلے شاہ عبد العزیز رحمہ اللہ کے حکم سے 1344 ھجری میں شروع ہوا ـ پھر 1370 ھجری میں سعودی توسیع کا بڑا مرحلہ سامنے آیا اور مختلف کاموں کی تکمیل ہوئی ـ دوسرا مرحلہ 1379 ھجری اور 1380 ھجری میں اور تیسرا مرحلہ 1382 ھجری میں شروع ہوا ـ توسیع کے بعد مسجد الحرام کی دونوں منزل کو شامل کر کے اس کا رقبہ (160168) میٹر مسطح ہے ـ ( تیسرا مرحلہ جو کہ ملک فہد بن عبد العزیز رحمہ اللہ کے حکم سے 1412 ھجری میں مکمل ہوا ـ اور چوتھا مرحلہ میں مسجد الحرام کی نئی توسیع جاری ہے ـ)

    مسجد الحرام میں آئمہ کے مقامات

    ڈاکٹر وصی اللہ نے حرم میں آئمہ اربعہ کے علیحدہ چار مصلوں کا تذکرہ اپنے اظہار افسوس سے کیا ہے ، کیونکہ صحیح حدیث میں وارد ہے کہ جب فرض نماز کی اقامت ہو جائے تو دوسری کوئی نماز نہیں ـ لیکن حرم شریف میں یہ صورتحال تھی کہ کسی ایک فقہی مسلک کا امام نماز پڑھاتا تو دوسرے مسلک ماننے والے اس کے پیچھے نماز نہ پڑھتے ـ سعودی حکمران شاہ عبد العزیز آل سعود رحمہ اللہ تعالیٰ نے ان مصلوں کو ختم کر دیا ، اس لئے اب ان کا ذکر مسلمانوں کی ایک سابقہ غلطی کے طور پر ہی کیا جا سکتا ہے ، مزید بحث کی ضرورت نہیں ـ مصنف نے البتہ یہ جاننے کی کوشش کی ہے ان مصلوں کا قیام کب عمل میں آیا ؟ ـ

    '' لکھتے ہیں کہ میں اس موضوع کی کتابوں مذکورہ سوال کا جواب نہیں پایا ـ قرائن کا سہارا لیا جائ تو پتہ چلتا ہے کہ 328 ھجری میں یہ مصلے موجود نہ تھے کیونکہ اندلسی عالم ابن عبدربہ کی وفات کا سال یہی ہے ، انہوں نے اپنے بیان میں مسجد الحرام کا ذکر کرتے ہوئے دروازے اور برآمد کا ذکر کیا ہے ـ لیکن مصلوں کا ذکر نہیں کیا ہے ـ (العقد الفرید 282/7) اتحاف لوری نامی کتاب میں 488 ھجری میں مالکی مصلی کا تذکرہ کیا ہے ـ (اتحاف الوری 487/2) ، ابن جبیر اندلسی نے بلاد الحرمین کا سفر جمادی الاولی 578 ھجری میں کیا تھا ، اس کے سفر نامے میں حرم کے موقع پر چاروں مصلوں کاذکر موجود ہے ـ (رحلہ ابن جبیر ص 70) ''

    نماز کی حالت میں ستری کا حکم صحیح احادیث میں وارد ہے ـ حرم شریف میں اژدحام کے سبب اس پر عمل میں دشواری محسوس ہوتی ہے ، مصف نے اس مسئلہ کی تنقیح میں جو بحث کی ہے وہ پانچ صفحات پر پھیلی ہوئی ہے ، لکھتے ہیں کہ ابن حجر نے کثیر بن کثیر کی روایت کی جانب اشارہ کیا ہے جس میں سترہ کاذکر نہیں ، لیکن یہ روایت ضعیف ہے ، اگر یہ روایت صحیح بھی ہوتی تو اسے مجبوری کی حالت میں طواف کرنے والوں کے ساتھ خاص مانا جاتا ـ مختلف حدیثوں پر فنی بحث اور آئمہ کے اقوال کی توجیہ کے بعد مصنف لکھتے ہیں کہ صحیح احادیث کی بناء پر مکہ اور دوسری جگہوں میں سترہ لگانا میرے نزدیک راجح ہے ، پھر صحیح بخاری کی ایک حدیث ذکر کی ہے جس میں عبد اللہ بن ابی اونی کہتے ہیں رسول ﷺ نے عمرہ کیا ، بیت اللہ کا طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز ادا کی ، آپ کے ساتھ کے لوگ آپ کے لئے سترہ بنائے ہوئے تھے ، ایک شخص نے سوال کیا کہ آپ کعبہ میں داخل ہوئے تھے ؟ راوی نے جواب دیا کہ نہیں ـ (صحیح البحاری 467/3)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,372
    كعبة المشرفة

    مصنف نے کعبہ شریف سے متعلق باب میں پہلے ان آیتوں کو پیش کیا ہے جن میں بیت اللہ کا ذکر ہے ، پھر بیت اللہ کی اولین تعمیر کا سوال اٹھایا ہے ، اور متعدد ادلہ و اقوال ذکر کرکے اس بات کو راجح قرار دیا ہے کہ بیت اللہ ابراہیم علیہ السلام سے قبل بنایا گیا تھا ، اور لوگ اس کا طواف و زیارت بھی کرتے تھے ، لیکن وقت گزر نے پر منہدم ہو گیا تھا ، اور نشان مٹ گئے تھے ، پھر اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو اسکی جگہ بتائی اور انہوں نے اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ بیت اللہ کی تعمیر کی ـمصنف نے اس سوال سے متعلق روایات بھی ذکر کی ہیں کہ '' بہت اللہ کی اولین تعمیر کس کے ہاتھوں سے ہوئی ؟ ایک قوال ملائکہ کے ہاتھوں تعمیر کا ہے ، اس سے متعلق روایات ذکر کر کے مصنف نے ان پر حکم لگایا ہے ـ ایک قول یہ ہے کہ آدم علیہ السلام نے بیت اللہ کی اولین تعمیر کی ، مصنف نے اس ست متعلق روایات پر بھی بحث کی ہے ، پھر بنی آدم کی تعمیر کا تذکرہ مع روایات کیا ہے ، اور صحت و ضعیف کی توضیح کی ہے ـ

    مصنف نے ملائکہ کے ذریعہ کعبہ کی تعمیر کے موضوع کا تذکرہ کرتے ہوئے ابن جریر کا قول نقل کیا ہے ابراہیم اور ان کے بیٹے اسماعیل نے بیت اللہ کی بنیاد اٹھائی ـ اب یہاں پر یہ کہ سکتے ہیں کہ انہوں نے اس گھر کی بنیاد اٹھائی تھی ـ جسے اللہ تعالی نے آدم علیہ السلام کے ساتھ اتارا تھا ، اور مکہ میں بیت اللہ کی جگہ اسے رکھ دیا تھا ـ یہ بھی کہ سکتے ہیں کہ یہ وہ قبہ تھا جس کاذکر عطا بن ابی رباح کی روایت میں ہے ـ یہ بھی کہ سکتے ہیں کہ آدم علیہ السلام نے اسے بنایا تھا ، پھر جب ان کی تعمیر منہدم ہو گئی تو اس کی بنیاد کو ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام نے اٹھایا ـ مگر قطعیت کے ساتھ کچھ بھی اسی وقت کہ سکتے ہیں جب اللہ تعالی کی طرف سے یا رسول اللہ کی طرف سے کوئی بات ثابت ہو ، اور یہاں پر کوئی بات ثابت نہیں ـ (تفسیر الطبری 430/1)

    اسی طرح امام ابن کثیر نے لکھا ہے کہ نبی ﷺ سے کسی صحیح حدیث یہ ثابت نہیں کہ بیت اللہ ابراہیم علیہ السلام سے پہلے بنایا گیا تھا ، جس روایت میں آدم علیہ السلام کے قبہ نصب کرنے اور جس میں ملائکہ کے بیت اللہ کا آدم سے پہلے طواف کرنے اور جس میں کشتی کے چالیس روز بیت اللہ کا طواف کرنے کا ذکر ہے ، یہ سب اسرائیلی روایات ہیں ، ہم ان کی تصدیق یا تکذیب نہیں کر سکتے ، نہ ان سے استدلال کر سکتے ہیں ، اور جب کوئی صحیح روایت مل جائے گی تو انہیں رد کردیں گئے ـ(البدایہ وا النہایہ 162/1)

    کعبہ کی تعمیر کے بیان میں مختلف تعمیرات کا ذکر کنے کے بعد مصنف نے 1040ھجری مطابق 1630 عیسوی میں وقوع پذیر سلطان مراد خان کی تعمیر کا ذکر گیارہ (11) صفحات میں کیا ہے ، اور وضاحت کی ہے کہ کعبہ کی یہی تعمیر اب تک باقی ہے ، البتہ اس میں مختلف اوقات میں مرمت ضرور ہوئی ہے ، سعودی عہد میں بھی 1377 ھجری سے 1403 ھجری تک مختلف نوعیت کی اصلاح و ترمیم ہوئی ـ مصنف نے کعبہ کی اجمالی و تفصیلی پیمائش کے بعد ایک خاکہ بھی ثبت کیا ہے جس سے دیواروں سمیت اندرونی و بیرونی مساحت کا علم ہوتا ہے ـ

    مصنف نے کعبہ کی تعمیر کاذکر کرنے کے بعد کعبہ کے دروازہ کی تفصیل بھی چار صفھات سے زائد میں ذکر کی ہے ، اور وضاحت کی ہے کہ اگر کعبہ کی تعمیر ابراہیم علیہ السلام سے پہلے تسلیم کر لی جائے تو کسی صحیح روایت سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس تعمیر میں کعبہ کا کوئی دروازہ تھا یا نہیں ؟ زبیر بن بکار نے ذکر کیا ہے کہ انوش بن شیث بن آدم علیہ السلام نے سب سے پہلے کعبہ کا دروازہ بنایا ، پھر ابراہیم علیہ السلام نے جب کعبہ کی تعمیر کی تو اس میں دروازہ رکھا ـ اس سے مختلف بعض دوسری روایات اور احتمالات بھی ہیں جنہیں مصنف نے ذکر کیا ہے ـ مصنف نے یہ بیان ان تفصیلات کو بھی محیط ہے جو باب کعبہ سے متعلق مختلف کتابوں میں مذکور ہیں ـ

    کعبہ سے متعلق اصحاب فیل (ہاتھی والوں ) کا واقعہ مشہور ہے ، مصنف نے لکھا ہے کہ اس کا ذکر قرآن میں ہے ، اس لیے اس میں کسی نوعیت کے شبہ کی گنجائش نہیں ، قبیلہ قریش پر یہ اللہ تعالی کا احسان ہے کہ کعبہ کو منہدم کرنے کی نیت سے آنے والوں کو اللہ تعالی نے ہلاک کر دیا ـ یہ اللہ کے علاوہ کسی اور کے لیے ممکن نہ تھا ـ قرآن کریم کے تیسیویں پارے میں '' الفیل '' نام کی ایک سورہ ہے ججس میں کعبہ کی حفاظت کا ذکر ہے ، سورہ کے اسلوب سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی عرب اور قریش کو یاد دلا رہا ہے کہ اگر انہوں نے نبی ﷺ کی لائی ہوئی دعوت توحید کی مخالفت کی تو ان کا انجام بھی ہاتھی والوں جیسا ہو گا ـ مصنف نے سورہ کے الفاظ کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ '' ابابیل '' جماعتوں اور جھنڈ کو کہتے ہیں '' اور '' سجیل '' سے سخت کنکر مراد ہیں ـ ہماری زبان میں ابابیل ایک مخصوص قسم کے چھوٹے پرندے کو کہا جاتا ہے جو تقریبا کنجشک کے برابر ہوتا ہے ، اس تسمیہ کی وجہ معلوم نہیں ، البتہ مصنف ابن کثیر کے حوالہ سے لکھا ہے کہ ابن جریر نے ابن عباس کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ان کے پرندوں جیسی چونچ اور کتوں جیسے پنجے تھے ـ عکرمہ کا قول ہے کہ وہ سمندر سے نکلے ہوئے ہرے رنگ کے پرندے تھے ، ان کے سر درندوں جیسے تھے (تفسیر ابن کثیر 551/4) - اصحاب الفیل کا واقعہ 570 یا 571 عیسوی میں پیش آیا ، تاریخ خلیفہ کے مطابق یہی نبی ﷺ کی پیدائش کا بھی سال ہے
    ( تاریخ خلیفہ ص 52 ، ابن سعد 101/1)


    مصنف نے لکھا ہے کہ اصحاب الفیل کے حمل کا اصل سبب اور اسی طرح اس واقعہ کی دیگر تفصیلات صحیح متصل اسناد سے مجھے نہیں مل سکیں ، صرف بعض باتیں اس طرح کی روایات سے ثابت ہیں ـ

    اصحاب الفیل کے واقعہ کی تفصیلات میں اکثر لوگوں کا اعتماد ابن اسحاق کی روایت پر ہے جو اسناد کے لحاظ سے منقطع ہے ، اس سلسلے میں مذکور ہے کہ ابوکرب سعد نامی شخص نے مدینہ پر چڑھائی کی تھی ، اور کعبہ پر غلاف ڈالا تھا ، یہ مدینہ کے دو یہودی عالموں کو اپنے ساتھ یمن لے گیا ، وہاں کے نصرانی لوگوں میں جس نے چاہا یہودیت قبول کر لی ـ جب ذونواس یمن کا بادشاہ بنا تو ان سے کہ اکہ یہودیت اور قتل میں سے کسی ایک اختیار کرو ،انہوں نے قتل کو ترجیح دی ، بادشادہ نے خندق کھدوا کر اس میں آگ جلائی ، اور لوگوں کو نذر آتش کر دیا ، کچھ کو تلوار سے قتل کیا ، کچھ کے اعضاء کاٹ دئیے ، اس طرح ایک دن میں بیس ہزار لوگ مارے دئیے گےئ ، صرف '' دوس ذوثعلبان '' نامی شخص بچ کر نکل گیا ، اس نے فارش جا کر مدد مانگی ، لیکن کامیابی نہ ہوئی ، پھر روم کے قیصر کے پاس گیا ، یہ نصرانی مذہب کے لوگ تھے ، جب دوس نے ان سے مدد کی درخواست کی تو رومی بادشاہ نے کہا کہ تمہارا دور ہے ، میں حبشہ کے بادشاہ کو جو نصرانی مذہب کا ہے ، اور تمہارے ملک سے قریب ہے ، لکھتا ہوں ، وہ تمہاری مدد کرے گا ـ چنانچہ اس نے حبشہ کے بادشاہ کو لکھا ، اور اس نے ستر ہزار ںصرانیوں کا لشکر یمن پر چڑھائی کے لیے بھیج دیا ، اس لشکر کی قیادت اریاط کہ ذمہ تھی ، اور ابراہہہ اس کا ایک فوجی تھا ، یا لشکر کی قیادت مشترکہ طور پر دونوں کے حوالہ تھی ، اریاط کی یمن کے حاکم ذونواس کے ساتھ جنگ ہوئی جس میں اریاط کو فتح حاصل ہوئی اور وہ یمن کا حاکم بن گیا ، پھر اریاط اور ابراہہہ کے مابین اختلاف واقع ہوا اور ابراہہہ نے اریاط کو قتل کر دیا ، جس سے حبشہ کا حاکم بیحد ناراض ہوا ، لیکن ابراہہہ نے اس خوش کرنے کے لیے صنعاء میں ایک عظیم کنیسہ بنانے کا وعدہ کی اجس کا لوگ کعبہ کی طرح حج کریں ، ابراہہ نے سب کے لئے ضروری قرار دیا کہ اس کنیسہ کا حج کریں ،لیکن تمام عربوں نے اس تجویز کو ٹھکرا دیا ، اور ابراہیم علیہ السلام کے بنائے ہوئے کعبے سے دستبردار نہ ویے ، انہیں اہل کتان کے مقابلہ میں اپنا دین زیادہ بہتر معلوم ہواـ اس صورت حال سے ناراض ہو کر ابراہہ نے کعبہ کو منہدم کرنے کا فیصلہ کیا ، اور اصحاب فیل کا واقعہ پیش آیا ـ ابراہہ جب مکہ سے قریب پہنچا تو اہل مکہ کو بتایا کہ اس کا مقصود مکہ کے باشندوں میں سے کسی کو قتل کرنا نہین ، بلکہ وہ صرف کعبہ کے منہدم کرنے کے لئے آیا ہے ، ابراہہ کے کچھ فوجیوں نے مکی والوں کے اونٹ پکڑ لیے تھے جن میں دو سو اونٹ عبد المطلب کے تھے، ابراہہ کا قاصد حناط حمیری مکہ آیا اور عبد المطلب کے سامنے ابراہہ کی چڑھائی کا مقصد واضح کیا ، عبد المطلب نے قاصد کے گفتگو کی ، پھر ابراہہ سے ملاقات کا فیصلہ ہوا ـ عبد المطلب وہاں گئے تو ابرایہ ان کی شخصیت و وجاہت سے متاثر ہوا ، عبد المطلب نے گفتگو میں بیت اللہ کی کوئی بات نہ کی ، صرف اپنے دو سو انٹوں کی واپسی کاسوال کیا ، ابراہہ نے حیرت سے کہا کہ تم دو سو اونٹوں کی بات کر کرہے ہو لیکن کعبہ کی کوئی بات نہیں کرتے جو تمہارا اور تمہارے آباو اجداد کا دین ہے اور جسے منہدم کرنے آیا ہوں ! عبد المطلب نے جواب دیا : اني أنا رب الابان و ان للبيت ربا سيعنه ـ یعنی میں اونٹون کا مالک ہوں ، اور جو بیت اللہ کا مالک ہے وہی اس کی حفاظت کرے گا ، پھر عبد المطلب قریش کے پاس واپس چلے گئے ، اور سب مل کر اللہ سے دعا کرنے لگے ـ عبد المطلب نے کعبہ کا دروازہ پکڑ کر تین شعر پڑھے ، پھر قریش کے ساتھ یہ لوگ پہاڑ پر چلے گئے ، اور انتظار کرنے لگے کہ کیا کچھ پیش آتا ہے ، روایت میں مذکور ہے سمندر کی طرف سے بدلی جیسے ایک چیز اٹھی ، اور پرندوں کے جھنڈ نے ان پر سایہ کر لیا ، اور انہیں سنگریزوں سے چھلنی کردیا ـ روایت میں تفصیل بھی ہے کہ ابراہہ کی فوج جب ہاتھیوں کو مکہ کے رخ پر ہنکاتی تو وہ بیٹھ جاتے اور جب کسی اور رخ پر لے جاتی تو تیزی سے چل پڑتے ـ

    پرندوں کے ذریعہ جو عذاب اللہ تعالی نے ہاتھی والوں پر نازل فرمایا تھا اس کے سلسلہ میں فتح الباری ( 27/12) میں مذکور ہے کہ جسم میں ایک طرح کی خارش ہو جاتی تھی ، پھر گوشت کے ٹکڑے ٹکڑے ہو کر گر جاتا تھا ، ابراہہ کے سلسلہ میں مذکور ہے کہ فوج والے اسے ساتھ لیکر نکلے ـ اس کی انگلیوں کی ایک ایک پور گر رہی تھی ، جب انگلی کا کوئی حصہ گرتا تو وہاں سے پیپ اور خون بہنے لگتا ، اسی حال میں اسے لیکر صنعاء پہنچے ، اس کی شکل چوزے جیسی ہو گئی تھی ، موت سے پہلے سینہ پھٹ گیا ، اور دل باہر آ گیا ـ اصحاب فیل پر عذاب کا نزول وادئ محسر میں ہوا تھا جو مزدلفہ اور منی کے مابین واقع ہے ـ یہ واقعہ معجزہ کے طور پر واقع ہوا تھا ـ لہذا کسی طرح کے تعجب یا تاویل کی کوشش نہیں کرنی چاہے ـ

    مصنف نے حادثہ فیل کے اختتام پر لکھا ہے کہ اس واقعہ میں ہمارے لیے یہ بشارت ہے کہ عالمی صلیبیت و صہیونیت مقدس اسلامی مقامت کے خلاف جو سازش کرتی رہتی ہیں اس سے اللہ تعالی ان مقامات کو اور مدینہ الرسول ﷺ کو محفوظ رکھے گا ــ ان شاء الہ ـ البتہ قیامت کے قریب اللہ کی تقدیر و قضاء سے کعبہ کو منہدم کر دیا جائے گا

    تیسرے باب کا اختتام مصنف نے حج و عمرہ کی فضیلت اوربعض شرعی مسائل و احکام کے بیان پر کیا ہے ، ان میں سے ایک مسئلہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے حوالہ سےیہ لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص کعبی کے علاوہ دوسرا قبلہ مانے گا تو یہ کتاب وسنت کے خلاف ہو گا ، ایسا شخص کا فر و مرتد ہے ، اگر توبہ نہ کرے تو اس قتل کر دیا جائے گا ـ

    ترمذی کی ایک روایت میں ذکر ہے کہ مشرق و مغرب کے مابین قبلہ ہے ـ مصنف نے اس حدیث پر بحث کے دوران المغنی (440/1) کے حوالہ سے لکھا ہے کہ مذکورہ حدیث کی تفریعات میں سے ایک مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کعبہ سے اونچے پہاڑ پر نماز پڑھے یا مثلا ہوائی جہاد پر نماز پڑھے تو اس کی نماز صحیح ہو گی ـ اسی طرح سمت کعبہ سے نیچے کسی جگہ نماز پڑھے تو نماز صحیح ہو گی کیونکہ قبلہ یا اس کی سمت کا استقبال ضروری ہے ـ

    مصنف کہتے ہیں کہ اس تفریع کے بعد ہم کہ سکتے ہی کہ مسجد الحرام کی عمارت میں اگر تیسری منزل کا اضافہ ہو جائے اور وہ سطح کعبہ سے اوپر ہو تو ان شاء اللہ اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا ـ حجاج کی دن بدن بڑھتی ہوئی تعداد اور توسیع کی ضرورت بلاد مقدسہ کے ذمہ داروں کو اس موضوع پر سوچنے پر آمادہ کر رہی ہےکیونکہ یہ لوگ حجاج کے آرام اور مسجد الحرام کی آبادی و تعمیر کے لئے ہمیشہ کوشاں رہتے ہیں ـ
    اسی باب میں مصنف نے قضاء حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنے سے ممانعت کے مسئلہ کی توضیح کی ہے ، اور ان حدیثوں پر بحث کی ہے جن میں سے بعض کے اندر مذکورہ ممانعت کے خلاف دوسری صورت مذکور ہے مصنف نے امام نووی رحمہ اللہ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ اس مسئلہ میں کل چار اقوال ہیں ، اول یہ کہ صحرا میں قضاء حاجت کے لئے قبلہ رح بیٹھنا حرام ہے ، لیکن آبادی میں حرام نہیں ـ یہ مذہب مالک اور شافعی ہے ـ دوسرا قول یہ ہے کہ صحرا اور آبادی کسی جگہ قبلہ رخ پیشاب یا پائخانہ کرنا جائز نہیں ـیہ ابو ایوب انصاری صحابی ، مجاہد اور ابراہیم النخعی وغیرہ کا مذہب ہے ـ تیسرا قول ہے کہ صحرا اور آبادی دونوں میں جگہ قبلہ رخ بیٹھنا صحیح نہیں ـ البتہ پیٹھ کر کے بیٹھ سکتے ہیں ـایک روایت کے مطابق یہ قول ابو حنیفہ و احمد کا ہے -
     
  5. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,372
    حجَرِ اسود
    یہ نام اس سیاہ پتھر کا ہے جو باہر کی طرف سے کعبہ شریف کے جنوب مشرق حصہ میں چاندی کے ایک فریم میں نصب ہے ، یہیں سے طواف کا آغاز ہوتا ہے، زمین سے ڈیڑھ میٹر کی اونچائی پر یہ پتھر کعبہ کی دیوار میں نصب ہے ، حدیث میں اس پتھر کی بہت فضیلت وارد ہے ، مصنف نے کتاب کے چوتھے باب میں حجر اسود پ جو بحث کی ہیے اس کے بعض ذیلی عناوین یہ ہیں : - اس پتھر کے جنت سے اتارے جانے کی بابت روایات ، قیامت کے دن اس پتھر کی گواہی اور اسے بوسہ دینے کا اجر ، حجر اسوف بذات خود کوئی نفع یا نقصان نہیں پہنچا سکتا ، لوگوں کی سہولت کے خیال سے پتھر کا بوسہ چھوڑ دینا ، قرامطہ کا فتنہ ، چوتھی ، پانچویں اور چودھویں صدی میں حجر اسود کو پیش آنے والے بعض حوادث کا ذکر ـ
    حجَر
    حجر اصل میں اس دیوار کا نام ہے جو کعبہ شریف کے شمال میں نصف دائرہ میں موجود ہے ، اسے حطیم کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ـیہ کعبہ کا حصہ ہے ، اسی لئے اس کے باہر سے طواف کیا جاتاہے ـ ابراہیم علیہ السلام و اسماعیل علیہ السلام نے کعبہ کو جس رقبہ میں تعمیر کیا تھا قریش اپنی تعمیر میں اس میں کچھ کمی کر دی تھی ، اسی لئے حدیث میں نبی ﷺ نے فرمایا کہ اگر قریش کا شرک کا زمانہ قریب نہ ہوتا تو میں قریش کے چھوڑے ہوئے حصہ کو کعبہ میں داخل کر کے اسے براہیمی بنیادوں پر تعمیر کردیتا ( صحیح مسلم 971/2) ، مصنف نے اس باب میں حجر میں نماز کی فضیلت ، حجر کی پیمائش اور حجر میں بعض قبروں کے وجود وغیرہ مسائل پر روشنی ڈالی ہے ، حجر یا مسجد الحرام اسماعیل علیہ السلام یا دیگر کی قبروں سے متعلق ان کا بیان پانچ صفحات پر پھیلا ہوا ہے، اس تفصیل کی وجہ سے مسئلہ کی اہمیت ہے ، مساجد میں قبروں کا وجود اسلامی عقیدہ کے خلاف ہے ـ اسلام نے قبروں پر سجدہ سے منع فرمایا ہے ، پھر مساجد میں قبروں کے وجود کا کیا سوال ؟ جن مصنفین نے اسی طرح کی روایتیں ذکر کی ہیں ، مصنف نے ان روایتوں پر بحث کر کے ثابت کیا ہے کہ وہ صحیح اور ناقابل استدلال ہیں ، تمام روایتیں از قبیل معصل آثار ہیں ، ان کی اسناد ضعیف یا موقوف ہے ـ قریش کی تعمیر کعبہ کے وقت کبار صحابہ موجود تھے ، اگر انہں قبر وغیرہ کے آثار نظر آئے ہوتے تو ضرور اس کا ذکر کرتے ـ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اسی لئے لکھا ہے ہمارے نبی ﷺ کے علاوہ دنیا میں کسی نبی کی قبر معلوم نہیں م اور نہ انبیاء کے قبروں کو جاننے میں کوئی شرعی فائدہ ہے ـ نبی ﷺ نے اپنی امت کو آخری وقت میں قبروں کو مسجد بنانے سے منع فرمایا تھا ، کیونکہ اس میں شرک کا خوف ہے ، پھر مسجد الحرام میں اسکی قباحت اور زیادہ ہے ـ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اگر حطیم یا مسجد الحرام میں کسی مقام پر قبر ہوتی تو اس پر چلنے اور بیٹھنے سے آپ نے منع فرمایا ہوتا ـ ابن فہد نے 415 ھجری کے واقعات میں لکھا ہے کہ حجر اور مقام ابراہیم کے درمیان ایک مرتبہ کھدائی ہوئی تو کھوپڑی اور ہڈیاں ملیں ـ یہاں قابل توجہ ہے اگر مسجد الحرام کے اسی مقام پر انبیاء کی قبریں ہوتیں تو کھوپڑی اور ہڈیاں ملنے کا سوال نہ ہوتا کیونکہ انبیاء کا جسم زمین میں سڑتا گلتا نہیں ہے ـ جو ہڈیاں اور کھوپڑیاں نظر آئی تھیں ممکن ہے ان لوگوں کی رہی ہوں جنہیں 317 ھجری میں قرمطی نے مسجد الحرام میں قتل کر دیا تھا
    رکن یمانی ـ
    چھٹے باب میں مصنف نے رکن یمانی پر روشنی ڈالی ہے اور لکھا ہے کہ یہ کعبہ کا مغربی جنوبی گوشہ ہے ، نبی ﷺ اسے اپنے دست مبارک سے چھوتے تھے ، رکن کے چھونے کے بعد حجر اسود کی طرف بڑھتے ہوئے [ar](ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الاخرة حسنة وقنا عذاب النار)[/ar] والی دعا پڑھتے تھے ـ
    ملتزم
    ساتواں باب ملتزم کے بیان میں ہے ، مصنف نے اس کی تعیین کرتے ہوئے لکھا ہے کہ حجر اسود اور کعبہ کے دروازے کے بیچ کی جگہ ملتزم کہلاتی ہے ، اس مقام ہر رخسار رکھنا ، ہاتھ پھیلانا اور چہرہ اور سینہ کو اس سے ملانا مسنون ہے ، اس مقام پر دعاء اور استعاذہ بھی ثابت ہے ، ایک روایت میں ذکر ہے کہ یہاں دعا قبول ہوتی ہے ، شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ ملتزم کے پاس آکر سینہ ، چہرہ ، بازو اور ہتھیلی کو اس سے چمٹانا اور دعاکرنا جائز ہے ، یہ کام طواف و وداع کے وقت اور اس سے پہلے کر سکتا ہے ـ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جب مکہ میں داخل ہوتے تھے تو ایسا کرتے تھے ـ

    طواف ـ
    حج و عمرہ میں کعبہ کا طواف مشروع ہے ، اس کا حکم قرآن و حدیث دونوں میں ہے اور اس کی بڑی فضیلت ہے ـ ترمذی کیایک روایت میں جو حسن ہے ،نبی ﷺ کا یہ ارشاد مذکور ہے کہ '' طواف میں بندہ جب قسم رکھتا ہے اور اٹھاتا ہے تو اللہ تعالی اس کا یک گناہ معاف فرماتا ہے اور ایک نیکی بڑھاتا ہے -مصنف نے آٹھویں باب میں کعبہ کے طواف پر جوبحث کی ہے اس میں شرعی احکام کا بیان اور ان کی حکمت کی جاب اشارہ ہے ، یہ بحث (46) صفحات پر پھیلی ہوئی ہے ، جس روایت کا ذکر کیا ہے اس کی صحت اور ضعیف پر بھی مفصل کلام کیا ہے ، اور یہ وصف کتاب کے ہر باب میں نمایاں ہے ـ مںصف وضاحت کی ہے کہ طواف کی کوئی متعین دعا وارد نہیں ، صرف رکن یمانی اور حجراسود کے درمیان [ar](ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الاخرة حسنة وقنا عذاب النار)[/ar] الخ ثابت ہے ، بندہ جو دعاء اور ذکر چاہے کرے ـ لیکن لوگوں کے ہر پھیرے کے لئے جو متعین دعائیں اختیار کر رکھی ہیں ، ان کی کوئی اصل نہیں ہے ـ صحابہ سے مروی آثار میں کچھ دعائیں وارد ہیں ، انہیں اس موضوع کی کتابوں میں دیکھا جا سکتا ہے ـ مردوں کے ساتھ عورتیں کے طواف کی سرخی کے ذیل میں مصنف نے لکھا ہے کہ عورتیں مردوں کے ساتھ طواف کریں تو اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ دونوں کے مابین فصل رہے اور اختلاط نہ ہو ، اختلاط سے شر و فساد کا اندیشہ ہے ـ

    بعض لوگ حج کے بعد تنعیم یا جعرانہ سے جاکر عمرہ باندھ کر آتے ہیں ، اس طرح سفر حج میں کئی کئی عمرے کر لتے ہیں ، مصنف نے شیخ عبد العزیز بن رحمہ اللہ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ نبی ﷺ یا صحابہ سے اس نوعیت کا عمرہ ثابت نہیں ہے ـ اس لئے حجاج اس سے پرہیز کرنا چاہیے ـ مصنف نے صحیح البخاری کے حوالہ سے لکھا ہے کہ رمضان میں عمرہ کا ثواب حج کے برابر ہے ـ

    طواف کے باب میں آخری سرخی ہے : اخیر زمانہ میں کعبہ کی تخریب واقع ہوگی ، مصنف نے لکھا ہے کہ قرب قیامت بہت سی علامتیں ہیں ، جن کی خبر نبی ﷺ نے دی ہے ، ان میں سے ایک بڑی علامت کعبہ شریف کا منہدم کرنا ہے ، ابوہریرہ رضی اللہ کی روایت میں ہے کہ حبشہ کا ذو اسویقتین کعبہ کو اجاڑ دےگا ـ ذو السو یقتین سے پتلی پنڈلیوں کی طرف اشارہ ہے ـ حبشہ والے عام طور پر پتلی ٹانگون والے ہوتے ہیں ۔

    غلاف کعبہ
    جاہلی دور والے کعبہ پر غلاف چڑھاتے تھے ، نبی ﷺ نے بعثت کے بعد اسے برقرار رکھاـ عائشہ رضی اللہ عنہ کی ایک روایت میں ہے کہ رمضان کریم ے روزوں کی فرضیت سے قبل لوگ عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے ، اور اسی دن کعبہ پرغلاف ڈالا جاتا تھا ـ

    مصنف نے لکھا ہے کہ اسلام سے قبل سب سے پہلے کعبہ پر غلاف کس نے ڈالا؟ اس سلسلے میں کوئی صحیح ، متصل اور قابل اعتبار روایت مجھے نہیں ملی ، البتہ بعض تابعین کے اقوال موجود ہیں جن کی نسبت صحابہ کی طرف صحیح نہیں ـ چنانچہ وھب بن منبہ کی روایت میں ہے کہ اسعد (یعنی تبع حمیری ) نے سب سے پہلے کعبہ پر یمنی چاردوں کا غلاف ڈالا تھا (فتح الباری 458/3) ـ

    کعبہ پر اس دور میں غلاف ڈالنے سے متعلق مصنف نے واضح کرتے ہیں کہ ماہ ذی الحجہ کے اوائل میں جب حجاج کی بھیڑ بڑھ جاتی ہے ، قدیم غلاف نصف اوپر اھا دیا جاتا ہے ، پھر سار ذالحجہ کو کھلے حصہ کو سفید کپڑے سے چھپا دیا جتا ہے ، جب 9 تاریخ ہوتی ہے اور مسجد بیرونی لوگوں سے خالی ہو جاتی ہے تو نیا غلاف کعبہ پر ڈال کر اسے نصف تک اٹھا دیا جاتا ہے ـ پھر جب بھیڑ ختم ہو جاتی ہے ، یعنی اوائل اواخر ذی الحجہ اور اوائل محرم تو پورا غلاف لٹکا دیا جاتا ہے ـ

    غلاف خلفاء راشدین کے عہد سے کب کیسا تھا اس پر مصنف نے تفصیل سے روشنی ڈالی ہے ، اور معروف مآخذ اور سفر ناموں کا حوالہ دیا ہے ، لکھا ہے کہ عباسی خلافت کی کمزوری کےبعد یمن اور مصر کے سلاطین بھی غلاف بھیجتے تھے ، عرب دنیا جب آل عثمان کے زیرنگین آئی تو غلاف کا انتظام بھی ان کی طرف سے ہونے لگا ، سلطان سلیم بن بایزید خان نے غلاف کا رنگ سیاہ متعین کردیا ـ 750 ہجری سے کعبہ کا غلاف اس وقف کی آمدنی سےتیار کیا جاتا تھا ججسے اسماعیل بن الملک الناصر بن قلادون نے وقف کیا تھا ـ سلطان سلیم نے اس وقف میں بعض گاؤں کا اضافہ کیا ، تیرہویں صدی ہجری کے اوائل میں مصری حاکم محمد علی باشا نے اس وقف کو ختم کر دیا ، اور مصری حکومت نے اپنے خزانہ سے اس کے خرچ کا اعلان کیا ، اور یہ سلسلہ چلتا رہا ـ پھر مختلف وجوہ سے مصر کی طرف سے غلاف آنا بند ہو گیا ، 1345 ہجری میں جب عین وقت پر معلوم ہوا کہ مصر سے غلاف نہیں آئے گا تو سعودی حکومت نے بعجلت تمام اپنے یہاں غلاف کی تیاری کا انتظام کی ، اور اب یہی سلسلہ جاری ہے ، سعودیہ میں غلاف کی سلسلہ میں اس وقت کے ہندوستانی لوگون نے اپنا کردار ادا کیا تھا جسے لوگ بھولے نہیں ہیں ـ
    غلاف کعبہ کی بناوٹ میں کلمہ اور بعض جملے لکھے ہوئے ہیں ،اور قرآنی آیات کو سنہرے حروف میں منقش کیاگیا ہے ـ مصنف نے بعض مآخذ کے حوالہ سے تمام آیات اور غلاف پر ان کی سمت کی تفصیل لکھی ہے ـ

    غلاف کعبہ کی تیاری کے لیے مکہ میں جو کارخانہ قائم کیا گیا ہے اس کے افتتاح کے موقع پر جو کتابچہ شائع کیا گیا تھا اس میں یہ وضاحت ہے کہ غلاف کی تیاری میں 670 کلوگرام خالص سفید ریشم لگتا ہے ، جسے سیاہ رنگ میں رنگنے کے لئے 720 کلو گرام رنگ اور اس کے لوازم استعمال کئے جاتے ہیں ـ

    غلاف کعبہ جب اتار لیاجائے تو اس کے مصرف پر بھی مصنف نے بحث کی ہے ، اس سلسلہ میں علماء نے مختلاف صورتیں پیش کی ہیں م اس اہل مکہ کو ، حجاج کو یا فقراء کو دیا جا سکتا ہے ، لیکن اس میں تبرک کا کوئی پہلو نہیں ہے ، لہذا تقسیم میں اس کا خیال ضروری ہے ـ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,372
    مقام ابراہیم::

    اس سے وہ اثری پتھر مراد ہےجس پر کھڑے ہو کر ابراہیم علیہ السلام کعبہ کی تعمیر کرتے تھے ، بخاری شریف (397:2)کی حدیث میں مذکورہے کہ اسماعیل علیہ السلام پتھر اٹھا کر لاتے تھے ، اور ابراہیم علیہ السلام تعمیر کرتے تھے ، جب عمارت اونچی ہو گئی تو ابراہیم علیہ السلام یہ پتھر لائے اور اس پر کھڑے ہو کر تعمیر کرنے لگے ، اسماعیل علیہ السلام پتھر دیتے تھے ، اور دونوں مل کر ( ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم ) پڑھتے تھے ـ سورہ البقرہ کی آیت 125 میں اسی مقام کو مصلی بنانے کا حکم ہے ـ قرآن کریام اور صحیح حدیث میں مام ابراہیم کی بہت زیادہ فضلیت وارد ہے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو جن تین باتوں میں اللہ تعالیٰ کی موافقت کا شرف حاصل ہے ان میں ایک بات مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھنے کی ہے ـ ہتھر ابراہیم علیہ السلام کی انگلیوں کے نشان کی بات دو جاہلیت و اسلام دونوں میں تسلیم کی جاتی تھی ـ ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے اسی مقام سے حج کے لئے لوگوں کو پکارا تھا اور جن نے جواب دیا اسے حج کی سعادت حاصل ہوئی ـ

    علماء کے اقوال اس سلسلہ میں مختلف ہیں کہ پتھر ابراہیم علیہ السلام کے عہد میں کہا تھا کہ مقام عہد نبوی اور عہد صدیقی تک بیت اللہ سے ملا ہوا تھا ـ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے اسے اس کے موجودہ مقام پر رکھا ـ مصنف نے وضاحت کی ہے کے طواف کرنے والوں کی سہولت کے پیش نظر مقام ابراہیم کو اس کی موجودہ جگہ سے قدرے پیچھے کر سکتے ہیں ،جس طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے کعبہ سے کچھ دور نصب کیا تھا ، ایسا سہولت کے پیش نظر کیا جائے گا ـ شریعت تنگی کو ختم کر کے لوگوں کے لئے آسانی پیدا کرنے کو اہمیت دی ہے ـ

    مصنف نے اس بات کی بھی وضاحت کی ہے کہ مقام چھونا اور اس سے برکت حاصل کرنا درست نہیں ، نبی ﷺ سے یہ ثابت نہیں ـ باب کے اختتام پر مصنف نے شیخ محمد ابراہیم رحمہ اللہ کے فتاوی و مکتوبات کے حوالہ سے لکھا ہے کہ جب مقام ابراہیم کو مزید پیچھے مشرق کی طرف لے جانے پر علماء کا اتفاق نہ ہو سکا تو یہ طے پایا کہ اس کا جو ہیکل بنایا گیا ہے اسے چھوٹا کر دیا جائے اور اسی پر عمل ہوا ـ الحمد للہ

    زمزم ::

    زمزم اس کنوان کا نام ہے جو مسجد الحرام میں مقام ابراہیم سے 18 میٹر دوری پر جنوب میں واقع ہے ، '' زمزمہ '' مطلق آواز کو یا پانی کی آواز کو کہتے ہیں ـ مصنف نے ابن بری کے حوالہ سے زمزم کے بارہ نام ذکر کئے ہیں ـ بخاری شریف میں ابن عباس کی روایت موجود ہے جس میں زمزم کے وجود میں آنے کی انوکھی صورت کا بیان ہے ـ
    مصنف نے ایک ذیلی عنوان کے تحت لکھا ہے کہ زمزم کا کنواں نبی ﷺ کے عہد میں عام کنوؤں کی طرف تھا ، اس پر نہ کوئی دیوار تھی نہ منڈیر ـ مصنف نے مختلف روایتوں کا ذکر کرنے کے بعد یہ یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ نبی ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عہد میں زمزم کے کنویں کے پاس دو حوض تھے ، ایک بیٹھ کر پانی پینے کے لیے اور دوسرا وضوء کے لئے ـ اسی طرح ایک سایہ دار چبوترہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہ کی ایک مجلس بھی تھی ـ مختلف ادوار میں زمزم کے کنویں پر تعمیر و تحسین کا سلسلہ جاری تھا ، کیونکہ حکام اور ان کے نائبین کی پوری توجہ اس بات پر ہوتی تھی کہ کعبہ اور مسجد الحرام ی ہر ممکن خدمت انجام دیں ـ
    مصنف نے ان روایتوں کا تذکرہ بھی کیا ہے کہ زمزم کو جس نیت سے پیا جائے اس میں مفید ہے ـ ابن القیم کے حوالہ سے مصنف نے لکھا ہے کہ ان کا اور دوسرے لوگوں کا بھی تجربہ ہے کہ زمزم کے پانی میں متعدد بیماریوں سے شفاء ہے ، اسی طرح اسمیں غذائیت بھی ہے کہ آدمی اس پر ایک ماہ سے زائد تک زندہ رہ سکتا ہے ، اس سلسلے میں مسلم نے عبد اللہ بن الصامت کی روایت ذکر کی ہے جس میں ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ کے ایک ماہ تک اسی پانی پر زندہ رہنے کا ذکر ہے ـ اور یہ وضاحت بھی ہے کہ جسم فربہ اور قوی تھا ـ مصنف نے زمزم سے متعلق باب میں ایک سرخی اس مضمون کی قائم کی ہے کہ روئے زمین پر سب سے بہتر کنواں زمزم کا ہے ـ زمزم کا پانی پینے کے آداب سے متعلق عنوان کے ذیل میں مصنف نے لکھا ہے کہ کسی امام کا یہ قول نہیں کہ کھڑے ہو کر زمزم پینے میں ثواب ہے ـ

    مصنف نے ایک عنوان یہ قائم کیا ہے کہ زمزم کا پانی ساتھ لانا اور مکہ سے باہر کسی دوسرے شہر میں لے جانا سنت ہے ـ مہمان کو زمزم کا تحفہ دینا بھی ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے ـ اس باب کی آخری سرخی ہے '' زمزم پلانے کی فضیلت '' یعنی زمزم کا پانی حجاج اور دوسرے لوگوں کو فراہم کرنا ـ یہ بڑی نیکی ہے ـ ابن عباس رضی اللہ کی ایک روایت ہے کہ نبی ﷺ نے '' سقایہ '' پہنچ کر عباس رضی اللہ عنہ سے زمزم طلب کیا تو انھوں نے اپنے بھائی فضل سے کہا جاؤ اپنی ماں کے پاس سے رسول ﷺ کے لیے زمزم لے آؤ کیونکہ اس پانی میں لوگ ہاتھ ڈالتے ہیں ، نبی ﷺ نے فرمایا کہ مجھ کو پلاؤ ، پھر آپ نے پانی پیا اور زمزم کے پاس آئے جہاں لوگ پانی پلانے کی خدمت انجام دے رہے تھے ، آپ نے فرمایا کہ تم اپنا کام کرو ، یہ نیک کام ہے ، اگر مجھے تمہاری مغلوبیت کا خوف نہ ہوتا تو رسی اپنے کندھے پر رکھ کر ( میں بھی زمزم کھینچتا) ـ ( صحیح ابن خزیمہ 306/4 )

    مصنف نے ایک سرخی اس مضمون کی قائم کی ہے کہ '' کیا زمزم کے پانی سے وضو اور غسل کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے ؟ اس باب کے ذیل میں موصف نے متعدد علماء کے اقوال ذکر کئے ہیں اور جواز و عدم دونوں کے قول ذکر کئے ہیں ـ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مسئلہ میں علماء کی آراء مختلف ہیں ـ ابوالطیب محمد بن احمد حسنی ( 775- 832 ھجری ) مکہ مکرمہ سے متعلق شفا الغرام اور العقد الشمین دو کتابوں کے مصنف ہیں ، ان کے حوالہ سے ڈاکٹر وصی اللہ لکھتے ہیں کہ '' ماء زمزم سے طہارے حاصل کرنا بااتفاق صحیح ہے جیسا کہ ماوردی نے اپنے فتاوی میں اور نووی نے شرح مہذب میں لکھا ـ محب طبری کا قول نقل کیا ہے کہ '' زمزم کے ذریعہ نجاست دور کرنا حرام ہے ـامام شافعی کا یہ مذیب ذکر کیا ہے کہ زمزم کے پانی سے غسل اور وضوء مستحب ہے ـ

    مصنف نے شفاء الغرام ( 285/1) کے حوالہ سے لکھا ہے کہ '' اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے لڑکے عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو زمزم کے پانی سے غسل دیا تھا ـ مصنف نے اپنا فیصلہ یوں دیتے ہیں کہ '' تحریم و کراہت شرعی تکلیف کے احکام میں سے ہے ، لہذا دونوں حکم بغیر دلیل ثابت نہ ہو سکیں گئے ، لیکن فاسی جا جن کا انہوں نے حوالہ دیا ہے انہوں نے کراہت یا تحریم کی کوئی دلیل ذکر نہیں کی ، لہذا قاعدہ کے مطابق زمزم کے پانی سے طہارے حاصل کرنا بغیر کراہت جائز ہو گا خصوصا جبکہ نبی ﷺ کا اس سےوضو کرنا ثابت ہو جیسا کہ مسند میں عبد اللہ بن احمد کی روایت سے ثابت ہے ، اس روایت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی ﷺ نے ایک ڈول پانی کا منگایا ، اسے پیا اور وضو کیا الخ ـ

    ڈاکٹر وصی اللہ نے بعض روایتیں اور اقوال ذکر کے لکھتے ہیں کہ : بعض آئمہ کے اقوال میں طہارے کے لیے آب زمزم کے استعمال کے مکروہ ہونے کی جو بات کہی گئی ہے وہ اختیار و استحسان ہے جسے شرعا تحریم یا کراہت کا درجہ نہیں دیا جا سکتاـ باجوری کے حاشیہ (28/1) سے ان کا یہ قول نقل کیا ہے کہ : زمزم کے پانی کا استعمال نجاست دور کرنے کے لیے بھی مکروہ نہیں ، ابتہ خلاف ادلی ہے ، جن لوگوں نے اس کی حرمت کو یقینی کہا ہے ان کا قول ضعیف بلکہ شاذ ہے ـ المنی لابن قدامہ ( 18/1) کے حوالہ سے لکھا ہے کہ : وضوء کے لئے جائز کہتے ہیں ، ان لا استدال عبدس بن عند المطلب کے اس قول سے ہے کہ '' لا احلہ لمغتسل ، ولکن لشارب حل وبال ـ'' یعنی میں اسے غسل کرنے کے لیے جائز نہیں سمجھتا ، البتہ پینے والے کے لئے حلال اور شفا ء ہے ( ص 439 )

    ختم شد
    بشکریہ ۔ محدث ۔ جامعہ سلفیہ بنارس
    کمپوزنگ اینڈ پروف ریڈنگ ۔ عُکاشہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    جزاكم اللہ خيرا وبارك فيكم ۔ بہت عمدہ انتخاب ۔
     
  8. محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض نوآموز.

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    3,702
    جزاک اللہ عکاشہ بھائی
    اللہ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے آمین
     
  9. طارق راحیل

    طارق راحیل -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 23, 2009
    پیغامات:
    351
    جزاک اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔شکریہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔Thanks
     
  10. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    اللہ اللہ ہم دن بدن قرب قیامت کی نشانیاں دیکھ رہے ہیں ۔
     
  11. توریالی

    توریالی -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏فروری 23, 2014
    پیغامات:
    434
    برادر عُكاشة مکہ مکرمہ اور مسجد الحرام کی تاریخ پر ایک معتبر تصنیف کے تعارف کا بہت شکریہ۔ کیا جناب کے مراسلہ کو خط نستعلیق اور پی ڈی ایف کرنے کی اجازت ہے؟ تاکہ مراسلہ میں دی گئی معلومات کو وسیع کیا جا سکے۔ شکریہ
     
  12. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,372
    وایاک ۔ جی اجازت ہے ۔ لیکن یاد رہے کہ میرے تمام مراسلے اردو مجلس فورم کے لیے تیار کیے جاتے ہیں اس لیے نقل کرتے ہوئے فورم کا حوالہ دینا ضروری ہے ۔
     
  13. توریالی

    توریالی -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏فروری 23, 2014
    پیغامات:
    434
    جواب و اجازت کا از حد شکریہ۔ اور یقینا فورم کے حوالہ کے ساتھ مصنف، مرتب کنندہ کا کے حوالے کا خیال رکھنا اخلاقی اور ادبی ذمہ داری بھی ہے جس کا خیال ضروری رکھا جائے گا۔ ان شا اللہ ۔ اور ایک دو روز میں اس پر کام بھی ہو جائے گا۔
     
  14. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    عکاشہ بھائی اس کتاب کا انگریزی ترجمہ ہوا ہے ؟
     
  15. عبد الرحمن یحیی

    عبد الرحمن یحیی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2011
    پیغامات:
    2,318
    عکاشہ بھائی السلام علیکم
    کیا ڈاکٹر وصی اللہ عباس حفظہ اللہ نے تاریخ مکہ مکرمہ پر کوئی کتاب لکھی ہے ؟
     
  16. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
  17. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,372
    وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ ۔ بھائی ، جس کتاب سے اقتباس لیے گے ہیں‌ ، وہ تاریخ مکہ پر ہی ہے ۔ پہلی پوسٹ میں تعارف موجود ہے ۔
     
  18. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,372
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ !
    جہاں تک میری معلومات ہیں اس کتاب کو دوبارہ اضافہ اور تحقیق کے شائع کیا جارہا ہے ۔ پہلے صفحات کی تعداد پانچ سو کچھ تھی اب مزید ایک سو صفحات بڑھا دیے گئے ہیں ۔ نظرثانی کا کام مکمل ہوتے ہی طباعت ہوگی
    کتاب کا اردو کا ترجمہ بھی مکمل ہو چکا ہے ۔ لیکن اس پربھی نظرثانی ہونا باقی ہے ۔ عربی کے بعد اردو کا مرحلہ آئے گا ، اس کے بعد ان شاء اللہ انگلش میں شائع ہو گی ۔
     
  19. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    جزاک اللہ خیرا وبارک فیک۔
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں