وا اسلاماہ !!!

عائشہ نے 'اسلام اور معاصر دنیا' میں ‏اپریل 11, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. مشتاق احمد مغل

    مشتاق احمد مغل -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 6, 2007
    پیغامات:
    1,216
    اسلام ان شاء اللہ ابھرتا رہے گا۔

    برادران اسلام
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    ہم اور آپ کیا کفار ومشرکین یعنی یہودونصاریٰ و ہنود سے یہ آس لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ ہماری اسلامی اقدار کو پنپنے دیں گے؟
    بالکل نہیں جناب۔۔۔!
    ان کا تو بس نہیں چل رہا کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کو (سوکالڈ مسلمانوں کو نہیں) کچا چبا جائیں۔اور اسلام کا نام ونشان مٹا دیں۔مگر ایسا وہ کرنہیں پارہے۔ باوجود اس کے کہ سوکالڈ مسلمانوں کا پورا کا پورا طبقہ ان کی پوری پوری مدد کررہا ہے۔
    مگر دوسری طرف نگاہ دوڑائیے۔
    چند خاک نشین بوریا نشین جن کو دنیا کی کوئی آسائش میسر نہیں وہ جی جان سے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے انہیں خاک چٹا رہے ہیں۔اور آج کفر کی تمام طاقتیں مل کر بھی ان کا کچھ بگاڑ نہیں پارہی ہیں۔
    اب یہ باؤلے ہوگئے ہیں اور اسی باؤلے پن اور جھلاہٹ میں اوچھی حرکتوں پر اترآئے ہیں۔ کبھی توہین رسالت کرکے ، کبھی قرآن نذرآتش کرکے تو کہیں اسلامی اقدار پر پابندیاں لگا کر اب یہ اپنی جھلاہٹ اور اوچھے پن کا ثبوت دے رہے ہیں۔
    اس سے ان کو حاصل حصول تو کیا ہونا ہے البتہ اسلام کو فائدہ ضرور ہورہا ہے۔کیونکہ اسلام کو دبانے کے لئے جتنی سختیاں یہ کررہے ہیں الحمدللہ ثم الحمد للہ اتنی ہی شدومد سے اسلام ابھر رہا ہے۔
    اور ان شاء اللہ اسلام اتنی ہی تیزی سے ابھرتا رہے گا۔
     
  2. حرب

    حرب -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2009
    پیغامات:
    1,082
    افسوس مجھے بھی ہے۔۔۔ اس خبر کو میں نے صبح پڑھ لیا تھا۔۔۔ بہت غور وفکر کے بعد میں نے اسے تھریڈ بنا کر لگانے کا ارادہ ملتوی کردیا۔۔۔ اُس کی وجہ یہ ہے عزت، غیرت، جرات، یہ سب اب صرف تاریخ میں اسلاف کی سوانح حیات میں باقی رہ گئی ہے۔۔۔ قرآن کی بے حرمتی ہورہی ہے عالم اسلام خاموش ہے۔۔۔ نبی پاک کے خاکے بنائے جارہے ہیں عالم اسلام خاموش ہے۔۔۔ عوام بیچاری کیا کرے۔۔۔ خاص کر ایشیائی ممالک میں وہ جہاں تک ہوتا ہے اس کے خلاف احتجاج کرتے ہیں لیکن اُس کے برعکس دوسرے اسلامی ممالک میں کیا ہورہا ہے؟؟؟۔۔۔ جو انٹرنیٹ ویب سائیٹ ڈیکسٹاپ اور لیپ ٹاپ پر بین ہیں وہ بلیک بیری پر بآسانی کھولی جاسکتی ہیں۔۔۔

    میسجنرز چوبیس گھنٹے کا آن لائن چل رہا ہے۔۔۔ کمیونیٹی گروپ میں مسلمان بہنیں اور بھائی کھلے عام شریعت کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔۔۔ شاپنگ مولز میں جاکر ذرا ڈریس دیکھ لیں ایک لمحے کو خود ہی نگاہیں جھک جاتی ہیں۔۔۔ جہاد جہاد کی باتیں کرنے والے یہ بتائیں کے خلافت کے خاتمے کے بعد جہاں جہاں جہاد ہوا ہے کیا اُن ممالک پر اسلامی پرچم لہرا رہے ہیں یا وہ ممالک ہاتھ سے ہی نکل گئے؟؟؟ کشمیر دیکھ لیں افغانستان کی مثال سامنے ہے۔۔۔ بوسنیا میں کیا ہوا۔۔۔ شیشان اور چیچنیا میں کیا ہورہا ہے۔۔۔ ایک عالم فرماتے ہیں کے جہاد کے لئے امیر لازمی ہے اور دوسرے مسجدوں میں بیٹھ کر مجاہدین کے نصرت وفتح کے لئے دعائیں کررہے ہیں۔۔۔ جہاں پر جہاد بغیر امیر کے لڑا جارہا ہے۔۔۔ ایک مسلک والوں نے حدیثیں پکڑ لی ہیں اور رکوع کے بعد ہاتھ باندھنے ہیں یا کھلے چھوڑنے پر بحث میں جُتے ہوئے ہیں۔۔۔ کے کسی طرح اپنا گڈا بلند ہو۔۔۔ سمجھ نہیں آتا ہے ہم پر مسلمان بننے زیادہ اچھو بننے کا شوق کیوں سوار ہے؟؟؟ِ۔۔۔
     
    Last edited by a moderator: ‏اپریل 12, 2011
  3. سلمان ملک

    سلمان ملک -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 8, 2009
    پیغامات:
    926
    حرب بن شداد بھائی ان سب باتوں کا اک ہی جواب ہے

    اک اچھا انسان بنیں اک اچھا مسلمان بنیں پھر اک اچھا مومن بننے کی کوشش کریں پھر دوسروں کو بنانے کی کوشش کریں
    طریقہ وہی ہے جو چودہ سو سال پہلے رحمت العالمین نے بتایا تھا

    پھر آپ دیکھیں سب کچھ کیسے ٹھیک ہوتا ،ان شاء اللہ
     
  4. حرب

    حرب -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2009
    پیغامات:
    1,082
    جس معاشرے سے ہمارا تعلق ہے اس میں بسنے والا ہر فرد یہ ہی چاہتا ہے کہ اُس کے افراد سب سے زیادہ اچھے ہو اور کوشش کرتا ہے کے وہ انسانی و اخلاقی اقدار سے دور نہ ہوجائے۔۔۔کیونکہ یہ ہی وہ اسباب ہیں جو معاشرے میں اخلاقی زوال اور اُسے منتشر کرنے کا ضامن ہوتے ہیں۔۔۔ہر معاشرے میں اچھائی اور برائی کی ابتداء ہوتی ہے اس میں پائے جانے افراد کے اخلاق سے لہذا تکمیل ِذات میں تکمیل ِ اخلاق کا دعویٰ اپنی تکمیل کے ساتھ موجود ہے ذات کامل ہو تو صفت مکمل ہو جاتی ہے کیونکہ ذات اور صفات کا رشتہ عجب ہے وہ اس لئے کے کبھی صفت ذات کی پہچان بن جاتی ہے اور کبھی ذات صفات کی۔۔۔

    سلمان بھائی افسوس اسی بات کا ہے کے سب کچھ معلوم ہے مگر سوال گھوم پھر کر ہمیں اُسی مقام پر لاکر کھڑا کردیتا ہے جہاں سے ہم چلے تھے۔۔۔ اچھا انسان بننے کے لئے ہمارے پاس کون سی ایسی تعلیم یا مثال ہے جو موجود نہیں ہے، جس پر عمل کر کے ہم اپنے اندر یا معاشرے میں موجود تمام برائیوں کا قلع قمع نہ کرسکیں؟؟؟۔۔۔بات ایک اصلاحی معاشرے کو ترتیب دینے کی ہے تو اس میں مسئلہ کہاں پر ہے؟؟؟۔۔۔ ذرا سوچیں اچھا مسلمان بننے کے لئے کون سا وہ عمل اور طریقے ہیں جو ہمارے پاس موجود نہیں ہیں؟؟؟۔۔۔ اچھا مومن بننے کے لئے ہمارے پاس کون سے ایسے چراغ یا جادوئی چھڑی کی ضرورت ہے جسے گھس کر یا ہوا میں ہلا کر ہم اچھا مومن بن جائیں گے۔۔۔ بھائی دیکھئے مسئلہ صرف فرق کو سمجھنے کا ہے۔۔۔ پہلے کے لوگ کسی عمل کے پابند ہونے پر آیت نزول کے بعد اُسے ترک کردیتے تھے۔۔۔ حکم نازل ہوا کے شراب چھوڑ دو ہاتھوں میں جام سے بھرے پیالے ہیں چھوڑ کر دور ہوگئے۔۔۔ کیا ایسا آج کے دور میں ممکن ہے حالانکہ وہی آیات اور حکم ہمارے درمیان موجود ہے۔۔۔ آیت نازل ہوتی ہے کے تجسس حرام ہے۔۔۔ اولین نے عمل کیا اپنے معاشرے کو اس برائی سے پاک کیا اور اسی معاشرے کو امن کا گہوارہ بنا کر دکھایا۔۔۔ کیایہ برائی آج کے دور ہمارے معاشرے میں موجود نہیں ہے؟؟؟۔۔۔ جھوٹ، دھوکہ، فریب، خیانت، سود، فحاشی، قتل وغارتگری، زنا۔۔۔ ایسی کون سی برائی پہلے کے معاشروں میں موجود نہ تھی؟؟؟۔۔۔ آیت نازل ہوئی اپنے گھر کے خواتین کو پردہ کراو۔۔۔ عمل ہوا یا نہیں؟؟؟۔۔۔ ہوا لیکن آج بھی وہی آیات ہمارے درمیان موجود ہیں کتنے ہی ایسے مسلمان گھرانے ہیں جو ان پر عمل درآمد کررہے ہیں۔۔۔ایک انسان محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تیئس سالا زندگی میں جزیرہ عرب کو امن کا گہوارہ بنا کر دکھایا کے نہیں۔۔۔ پھر اُن کے بعد وہ تربیت یافتہ اصحاب جو یہ جانتے تھے کے وحی کا سلسلہ منقطع ہوچکا ہے نے اپنے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل ہوئے اس امن کو برقرار رکھا کے نہیں؟؟؟۔۔۔

    کوشش ہمیشہ اُسی وقت سود مند ثابت ہوتی ہے جب وہ اجتماعی ہو۔۔۔جھاڑو کا ایک تنکہ آسانی سے بچہ بھی توڑ سکتا ہے مگر وہ تنکے جب مل کر ایک جھاڑو کی ساخت اختیار کرتے ہیں تو کوئی توڑ کر دکھائے۔۔۔ اور اسی جھاڑو سے ہم گند صاف کرتے ہیں یہ صرف سمجھنے اور عقل میں بیٹھانے والے باتیں ہیں۔۔۔ قرآن کہہ رہا ہے اُمت واحدہ۔۔۔ لیکن ہم سرحدوں میں بٹ ہوئے ہیں۔۔۔ ہمارے زوال کے اسباب کی سب سے بڑی وجہ ہمارا ملکوں، قوموں اور سرحدوں میں بٹنا ہے۔۔۔ ہمارے اسلام کو آمین زور سے کہنے یا نہ کہنے سے خطرہ نہیں۔۔۔ ہمارے اسلام کو رفع الیدین کرنے یا نہ کرنے سے خطرہ نہیں۔۔۔ہمارے اسلام کو ہاتھ سینے پر باندھنے یا چھوڑنے سے خطرہ نہیں۔۔۔ ہمارے اسلام کو صرف اس بات سے خطرہ ہے کے ہم بٹ کر رہ گئے ہیں۔۔۔دین اسلام نے اپنے ابتداء ہی سے اجتماعیت کی بات کی ہے۔۔۔ ہم دُعا کرتے ہیں اللہ اسلام کو عزت دے تو اس مراد کسی خاص خطے کا اسلام ہوتا ہے؟؟؟۔۔۔ ہم دُعا کرتے ہیں اللہ مجاہدین کو فتح سے ہمکنار فرما تو کیا مجاہدین کا تعلق بس کیا کسی ایک ہی ملک یا خطے سے ہوتا ہے۔۔۔ المہم سیدھی اور صاف بات ہے ہماری فلاح اور کامیابی صرف اور صرف ہماری اجتماعیت میں ہے۔۔۔ ہم خلافت کے بعد سے آج تک اپنی تاریخ کا مطالعہ کریں تو سوائے محرومیوں اور رسوائیوں ہمارے ہاتھ لگا کیا ہے؟؟؟۔۔۔ سب کو پتہ ہے لہذا ایسے کسی بھی عمل پر جو غیرمسلموں کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف انجام دیا جائے جیسا کے فرانس میں ہوا اس پر صرف ہم افسوس ہی کرسکتے ہیں۔۔۔ کیونکہ ہمارے حکمران بھی ہمارے اعمال کے سبب ہی اقتدار میں آئے ہیں۔۔۔ لہذا احتساب سب سے پہلے اپنا ہونا چاہئے۔۔۔ لیکن افسوس احتساب کو ہم دوسروں کی ذات کو نشانہ بنانے سے شروع کرتے ہیں۔۔۔

    ایک حدیث پر اپنی بات کو ختم کروں گا۔۔۔ ملاحظہ ہو۔۔۔
    حضرت ابو ذرغفاری رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ اپنے کسی غلام کو برا بھلا کہا۔حضور اکرم نے سن لیا۔فرمایا ”ابوذر ابھی تم میں جہالت باقی ہے‘غلام تمہارے بھائی ہیں‘ اللہ نے انہیںتمہارے ماتحت کیا ہے‘ جس کا بھائی ماتحت ہو‘ اسے چاہیے کہ بھائی کو ویسا کھانا کھلائے جیسا آپ کھائے‘ ویسا ہی پہنائے جیساآپ پہنے‘ بھائی سے ایسا کام نہ لے جو اس سے نہ ہوسکے‘ کوئی سخت کام ہو تو اس کی مدد کرے۔۔۔

    لقدکان لکم فی رسول اللّٰہ اُسوہ حسنہ۔۔۔
    اس آیت کا اطلاق بادشاہ پر بھی ہوتا ہے اور رعایا پر بھی۔۔۔ صدر پر بھی ہوتا اور عوام پر بھی۔۔۔
    وما علینا الالبلاغ۔۔۔
    اللہ تعالٰی ہم سب کو صحیح راستے پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائے۔۔۔ آمین یارب العالمین۔۔۔
     
  5. سلمان ملک

    سلمان ملک -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 8, 2009
    پیغامات:
    926
    آمین یارب العالمین۔۔۔
     
  6. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,151
    پیرس+ لاہور (اے ایف پی+ خصوصی نامہ نگار+ لیڈی رپورٹر) مسلمان خواتین کے برقعہ پہننے پر پابندی کے حکم پر عملدرآمد کے پہلے ہی روز مسلمانوں نے مظاہرہ کیا جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی احتجاج کا اعلان کر دیا۔
    ممکنہ جرمانوں کی ادائیگی کیلئے ایک فرانسیسی تاجر نے 20لاکھ یورو کی املاک نیلام کرنے کا اعلان کر دیا۔ پولیس نے 2خواتین سمیت متعدد افراد کو گرفتار کر لیا جبکہ جنوبی فرانس سے مسلمان خاتون برقعہ پہن کر پیرس پہنچ گئی۔
    لندن میں حجاب کی حمایت کرنیوالوں نے فرانسیسی سفارتخانہ کے باہر مظاہرہ کیا جس پر انگلش ڈیفنس لیگ کے ارکان نے ان پر دھاوا بول دیا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔تفصیلات کے مطابق جنوبی فرانس کے شہر ایوگنن کی 32 سالہ کنیزا دریدر نے اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اسے ایک ٹی وی پروگرام میں شرکت کرنی ہے۔ عوامی مقامات پر حجاب اور برقعہ پہن کر آنے پر پابندی کے پہلے دن میں مکمل حجاب کے ساتھ برقعہ پہن کر اس پابندی کو توڑوں گی۔ یہ قانون میرے بنیادی انسانی حقوق کے منافی اور میری مذہبی آزادی میں مداخلت ہے جبکہ دریدر کے شوہر ہلال کا کہنا ہے کہ نئے قانون سے وہ صرف گھر تک محدود ہو کر رہ جائیگی۔ ادھر فرانسیسی پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے لئے اس قانون پر عملدرآمد مشکل ہو گا کیونکہ انہیں کسی خاتون کا برقعہ زبردستی اتار دینے کا اختیار حاصل نہیں۔ربط
    [​IMG]

    پستی كا كوئى حد سے گزرنا ديکھے ۔۔۔
    اسلام كا گر كر نہ ابھرنا ديكھے !
    مانے نہ کبھی مد ہے ہر جزر كے بعد ۔۔۔
    دريا كا ہمارے جو اترنا ديكھے !
    حالى ​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. منصف

    منصف -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 10, 2008
    پیغامات:
    1,916
    فرانس پر حجاب پر پابندی ۔۔۔۔پر حیرت اور افسوس کس بات کا؟؟ ۔۔۔۔کفار سے کبھی مسلمانوں کے حق میں اچھائی کی توقع کی جاسکتی ہے؟انہیں ہی افسوس ہوگا جو اب بھی طاغوت سے امید لگائے بیٹھے ہیں۔۔۔۔
    بھئ اول تو یہ حجاب کا مسئلہ بعد میں آیا یا لایا گیا ۔۔۔پہلے تو "اسکارف" کی بات چل رہی تھی (جس میں صحیح طور چہرہ بھی نہیں ڈھکا ہوتا) اور اس "اسکارف" کو اسلام کی سند کس نے دی ۔۔۔۔یہ بھی پتا نہیں۔۔۔
    اور ویسے بھی فرانس کے مسلمانوں کے لیے یہ مسئلہ حجاب کا نہیں ۔۔۔بلکہ اس سوسائٹی میں اقلیت ہونے کے سبب "احساس کمتری" کا مسئلہ زیادہ ہے اور یہ کہ کہیں فرانسی حکومت ایسا کرتے کرتے انکے مزید حقوق غصب نہ کرلے ۔۔۔"اسلامی تشخص" کا مسئلہ ہرگز نہہں ۔۔۔اتنا اچھاآج کا مسلمان ہوتا نہیں کہ اسے اسلامی تشخص کی فکر ہو یہ آپ بھی جانتے ہیں ۔۔۔۔
    حجاب مسلم ممالک میں اتنا نہیں ۔۔۔وہ تو پھر غیر اسلامی ملک ہے ۔۔۔۔۔رونے دھونا کاہے کو لگایا ہؤا ہے ۔۔۔۔حجاب کا اتنا ہی مسئلہ ہے تو فرانس چھوڑ کیوں نہیں دیتے ۔۔۔کفار سے چمٹ کر بھی رہنا اور "مسلمان" بن کر "جنت" میں بھی جانا ہے ۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔مظاہرہ کون کررہا ہے ۔۔۔۔"کلین شیو" اور اگر کل کلاں کو "داڑھی" رکھنے پر پابندی ہوگئی
    تو یہ کلین شیو والے بھی چلایئنگے ۔۔۔۔رکھنا انہیں پھر بھی نہیں ۔۔

    یہ دوغلا پن اور منافقت سے باہر تو آئے۔۔۔کس نے کہا تھا کفار ملک میں سکونت اختیار کرو۔۔۔۔(ماسوائے انکے جو انکا اصلی وطن اور جنکی جائے پیدائش ہی وہی کی ہو)
     
  8. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    893
    Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

    فورمز پر کچھ راۓ دہنگان جو اس سوچ کا اظہار کر رہے ہيں کہ فرانس ميں نيا قانون امريکہ کی قيادت ميں مغرب کا اسلام پر نيا حملہ ہے، وہ يہ اہم نقطہ نظرانداز کر رہے ہيں کہ کوئ بھی مخصوص قانون يا کسی مغربی ملک کی حکومت کا کسی ايشو کے حوالے سے نقطہ نظر امريکی حکومت کی آمادگی سے مشروط نہيں ہے۔ بالکل اسی طرح جيسے سعودی عرب يا کسی اور اسلامی ملک ميں کسی مخصوص قانون کے اطلاق کا يہ مطلب ہرگز نہيں ہے کہ تمام اسلامی ممالک اس قانون کی پابندی کريں گے۔ اگر ايسا ہوتا تو تمام اسلامی ممالک ميں قوانين يکساں ہوتے۔ ہم جانتے ہيں کہ ايسا ہرگز نہيں ہے۔

    امريکہ میں رہنا والا کوئ بھی غير جانب دار شخص اس بات کی گواہی دے گا کہ امريکی عمومی طور پر گوناگو ثقافتی روايات کا احترام کرتے ہيں۔ امريکہ ميں ايسا کوئ بھی قانون جو مسلمانوں يا کسی بھی دوسری کميونٹی کی مذہبی ضرويات کی راہ ميں رکاوٹ بن سکتا ہے وہ اس روادری اور متنوع ماڈل کی نفی کرے گا جسے تقويت دينے کی کوشش امريکہ نے اپنے وجود کے آغاز سے کی ہے۔

    امريکی آئين واضح انداز ميں افراد کی مذہبی آزادی کو يقینی بناتا ہے۔ اور اس آزادی ميں مذہب کی بنياد پر اختيار کيا جانے والا طرزعمل اور مذہبی نظريات بھی شامل ہيں۔

    امريکی حکومت کی جانب سے دوسرے مذاہب اور ثقافت کے حوالے سے روادری اور احترام کا اندازہ اس بات سے لگايا جا سکتا ہے کہ افغانستان ميں متعين امريکی فوج کی خواتين کی حوصلہ افزائ کی جاتی ہے کہ وہ عام عوام سے ميل جول کے دوران حجاب کا استعمال کريں۔

    http://www.freeimagehosting.net/uploads/1a90e8c6cb.jpg

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    U.S. Department of State
    Incompatible Browser | Facebook
     
  9. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,151
    جى درست اسى ليے تو عرض كيا تھا کہ یہ ہم مسلمان خواتين كى نا اہلی ہے۔اور اسى ليے اس آزمائش كا نشانہ ہم ہیں۔
    آمین یا رب العرش العظيم ۔۔۔

    بالكل درست ! اس امت كو نشأة كے لیے صرف حبل اللہ كو تھامنا ہو گا ۔

    اپنے ديس ميں باحجاب خواتين كے مسائل پر یہاں بات ہوئی تھی۔
    احساس زياں کے جانے كا يہ عالم ہے کہ ايك كرکٹ میچ میں شكست كے اسباب پر گھنٹوں غور كرنے والے کہتے ہیں پابندى لگ گئی تو كيا ہوا اتنا رونا كس بات كا ہے؟
    سانحہ سقوط مشرقى پاكستان كا غم بھلانے کے ليے ايك مغنيہ مامور كى گئی تھی جو دن رات ٹی وی پر اپنے گواچے لونگ كى تلاش ميں صدائيں لگاتى تھی تب ايك شاعر نے کہا تھا :
    كس قدر احساس زياں ہے جو ہوا گُم
    كس قدر احساس ہے جو باقى بچا ہے ؟
    ملك آدھا گیا ہاتھ سے تو چپ سی لگی ہے
    ايك لونگ گواچا ہے تو كيا شور مچا ہے !

    اب تو ايسے ایسے "برساتى دانشور" ميدان میں آگئے ہیں جو بآواز بلند کورَس میں ٹرّا رہے ہیں كہ نقاب تو اسلام كا حكم ہی نہیں۔ يہ كون سا دين كا بنيادى مسئلہ ہے؟ خدا ايسے گلٹی كانشس دانشوروں اور ادھار كے ديّوث سكالرز سے محفوظ ركھے جن كومسئلہ ء نقاب پر کتھارسس كا موقع تازہ نصيب ہو گیا ہے۔ كم ازكم فرانس كى باحجاب خواتين تم سے زيادہ باغيرت اور جرات مند ہیں۔
    ميرى بہنو تم سے طويل مسافت كى دورى سہی مگر مجھے تم سے اللہ کے ليے محبت ہے اور ميرى دعائيں تمہارے ساتھ ہیں۔اللہ سبحانہ وتعالى تمہیں اس آزمائش ميں سرخرو ركھے۔ يا مقلب القوب ثبت قلوبنا على دينك ۔
    [/FONT]
     
  10. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,151
    پیرس کے نواح میں ایک مسجد میں جمعہ کا خطبہ جاری ہے۔ یہاں عورتوں کیلئے مختص حصہ کھچا کھچ بھرا ہوا ہے جس میں پاکستان سمیت مختلف اسلامی ممالک سے فرانس آکر بسنے والی عورتیں نماز کیلئے موجود ہیں۔ ان میں کئی عورتوں نے حجاب پہن رکھا ہے۔ یہ عورتیں آج بڑی غمزدہ ہیں، کئی عورتوں کی آنکھیں نم ہیں کیونکہ یہ ان کا آخری جمعہ ہے جب وہ حجاب پہن کر مسجد آئی ہیں۔
    ان کا کہنا ہے کہ حجاب اتارتے ہوئے ان کا دل ٹوٹ رہا ہے کیونکہ عورتوں کا حجاب پہننا مسلمان ہونے کی نشانی ہے۔ ان عورتوں کا کہنا تھا کہ حجاب پہننے سے وہ مردوں اور اجنبیوں کی نظروں سے خود کو محفوظ تصور کرتی ہیں۔
    یورپ میں مسلمانوں کی سب سے بڑی تعداد فرانس میں مقیم ہے، ایک اندازے کے مطابق فرانس میں تقریباً 65 لاکھ مسلمان آباد ہیں اور اسلام فرانس کا دوسرا بڑا مذہب ہے۔ فرانس میں گزشتہ دنوں عورتوں کے حجاب پہننے پر پابندی کا قانون نافذ العمل ہوگیا ہے جس کی رو سے مسلمان عورتوں کے پبلک مقامات پر حجاب پہننے کو جرم قرار دیا گیا ہے، اگر کوئی مسلمان خاتون اس قانون کی خلاف ورزی کرتی پائی گئی تو اس پر 150 یورو جرمانہ عائد کیا جائے گا اور اگر یہ ثابت ہوتا ہے کہ خاتون اپنے شوہر کے دباؤ پر حجاب پہن رہی ہے تو اس کے شوہر پر بھی 300 یورو جرمانہ عائد کیا جائے گا جبکہ کسی خاتون کو زبردستی حجاب پہننے پر مجبور کرنے والے شخص کو 30 ہزار یورو اور 2 سال قید کی سزا بھی سنائی جاسکتی ہے۔
    سرکوزی حکومت یہ تصور کررہی تھی کہ قانون نافذ ہونے کے بعد فرانس میں رہنے والی مسلمان عورتیں سزا کے ڈر سے حجاب پہننا چھوڑ دیں گی مگر حکومت کو اس وقت شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑا جب قانون کے نفاذ کے پہلے ہی روزکسی سزا کی پروا کئے بغیر کئی مسلمان عورتیں قانون کی خلاف ورزی کی نیت سے حجاب پہنے پبلک مقامات پر نکل آئیں۔ انہوں نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانون بنیادی انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کیخلاف ہے جسے وہ نہیں مانتیں اور اس کی خلاف ورزی کرتی رہیں گی۔ اس موقع پر وہاں موجود مرد پولیس اہلکار حجاب پہنی ان مسلمان عورتوں کو گھسیٹتے ہوئے پولیس موبائل میں ڈال کر لے گئے۔ فرانس کے کچھ اخبارات نے گرفتار ہونے والی ان مسلمان عورتوں کو ”حجاب چڑیل“ کا لقب دیتے ہوئے ان کی گرفتاری کو جائز قرار دیا جبکہ فرانس کے ایک کروڑ پتی مسلمان تاجر نے اپنی ویب سائٹ پر اعلان کیا ہے کہ مسلمان عورتیں حجاب کیخلاف بنائے گئے قانون کی خلاف ورزی کرتی رہیں، ان پر عائد ہونے والا جرمانہ وہ ادا کرتے رہیں گے تاکہ مسلمانوں کیخلاف فرانس کا اصلی چہرہ دنیا کو دکھایا جاسکے۔۔۔
    ۔۔۔مغرب نے مادی ترقی کی معراج کو پالیا ہے مگر یہ ترقی اسے مذہب، انسانیت اور تہذیب سے دور لے گئی ہے۔ مغربی ثقافت اخلاقی پستی کی طرف گامزن ہے، اسلام اور مسلمانوں کو برا کہنا اور ان کا مذاق اڑانا مغربی ممالک کا وتیرہ بن چکا ہے۔ مذہب سے دوری مغرب کو بے راہ روی کی طرف لے گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یورپ کے کچھ ساحلوں پر کپڑے پہن کر جانے کی اجازت نہیں، ان ساحلوں پر صرف برہنہ لوگ ہی جاسکتے ہیں،یہ بات بڑی مضحکہ خیز ہے کہ جسم ڈھانپنے کا عمل قانون شکنی کے زمرے میں آتا ہے مگر جسم برہنہ کرنے پر کوئی پابندی نہیں۔ افغانستان میں جب طالبان نے عورتوں پر حجاب کی پابندیاں لگائیں تو امریکہ اور یورپ نے اسے طالبان کی اسلامی شدت پسندی قرار دیاجبکہ افغانستان پر امریکی حملے کے اسباب میں اسے بھی ایک سبب بتایا۔ کیا آج ثقافت کے نام پر ریاستی طاقت کا استعمال کرکے خواتین کے حجاب اتروانے والے فرانسیسی ” لبرل طالبان“ نہیں؟

    بشکریہ فرانس کے ”لبرل طالبان“ ..آج کی دنیا…اشتیاق بیگ
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں