ناخن تراشنے کا نبوی طریقہ کیا ہے؟

ابوبکرالسلفی نے 'آپ کے سوال / ہمارے جواب' میں ‏اپریل 28, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

    ناخن تراشنے کی ترتیب بیان کرنے والی حدیث‌کا حوالہ درکار ہے۔

    جزکم اللہ
     
  2. شفقت الرحمن

    شفقت الرحمن ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جون 27, 2008
    پیغامات:
    768
    حدیث کے متعلق کچھ زیادہ معلومات دے دیں تو تلاش کرنے میں آسانی ہوگی

    شکریہ
     
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    وعليكم السلام ورحمت اللہ وبركاتہ
    ناخن تراشنے كے متعلق عوام الناس ميں ايك مشہور حديث جو احياء علوم الدين ميں اسرار الطھارة ميں مذكور ہے۔ يوں ہے۔
    حديث البداءة في قلم الأظافر بمسبحة اليمنى والختم بإبهامها وفي اليسرى بالخنصر إلى الإبهام
    کہ" دائيں ہاتھ كے ناخن ، شہادت كى انگلی سے تراشنے شروع كر كے سب سے آخر ميں انگوٹھے کے تراشے جائيں اور بائيں ہاتھ کے خنصر سے شروع كر كے انگوٹھے تك۔"
    يہ بے اصل روايت ہے۔حافظ عراقي نے تخريج الإحياء ميں فرمايا ہے: لم أجد لہ أصلا۔
    "ولم أر في الكتب خبرا مرويا في ترتيب قلم الأظفار ولكن سمعت أنه صلى الله عليه وسلم بدأ بمسبحته اليمنى وختم بإبهامه اليمنى وابتدأ في اليسرى بالخنصر إلى الإبهام حديث البداءة في قلم الأظافر بمسبحة اليمنى والختم بإبهامها وفي اليسرى بالخنصر إلى الإبهام لم أجد له أصلا ۔"
    تخريج الإحياء : (1/273)
    آن لائن ربط : ???????? ??????? - ????? ???? ????? ???? ????? ?????? ???????



     
  4. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    مندرجہ بالا حدیث‌جو بہن نے درج کی ہے اس کے تحت احناف عمل کرتے ہیں‌ اور ان کی کتاب در المختار میں اسی کے تحت فتوی دیا گیا ہے ۔
    تو پھر کیا ناخن اپنی مرضی سے ترتیب کے ساتھ تراشے جا سکتے ہیں؟



    مجھے یاد نہیں‌ قریبا 3 سال قبل ایک عبارت پڑھی تھی جس کو حدیث‌کی طرف منثوب کیا تھا جس میں‌ دائیں‌ہاتھ کی چھوٹی انگلی(چھنگلی) سے شروع کرنے اور بائیں‌ہاتھ کی انگشت شہادت پر ختم کرنے کا ذکر ملتا تھا اور آخر میں دونوں‌انگوٹھوں‌ کے ناخن تراشتے ہوئے دائیں ہاتھ پر ہی اختتام کرنا تھا۔ اور میں‌ابھی تک ایسے ہی عمل کرتا ہوا آرہا تھا، اور مجھے یاد ہے کہ اس میں‌کسی مشہور حدیث‌کی کتاب کا حوالہ بھی تھا۔ غالبا میں‌نے کسی مجلے میں‌ پڑھا تھا۔
     
  5. رفیق طاھر

    رفیق طاھر ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,943
    روایت مسؤلہ کے بارہ میں تو محترمہ ام نور العین نے واضاحت کر دی ہے کہ یہ بے اصل روایت ہے ۔
    رہا یہ سوال کہ اب کیا کیا جائے ترتیب کیا ہوگی
    تو اسکا جواب رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث سے واضح ہے :
    عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ التَّيَمُّنَ مَا اسْتَطَاعَ فِي شَأْنِهِ كُلِّهِ
    سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم ہر کام میں حتى الوسع دائیں جانب سے آغاز کرنا پسند فرماتے تھے ۔
    صحیح بخاری کتاب الصلاۃ باب التیمن فی دخول المسجد وغیرہ ح ۴۲۶
    اس حدیث سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ دائیں ہاتھ کی خنصر (چھوٹی انگلی ) سے ناخن کاٹنے کا آغاز کیا جائے کیونکہ یہ انتہائی دائیں طرف ہے اور انگلیوں میں خلال کے دوران بھی یہی ترتیب رکھی جائے
     
  6. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    جزکم اللہ خیرا
     
  7. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    جی اس قسم کی روایت میں نے بھی دیکھی ہے ، شاید الادب المفرد میں ، لیکن تلاش پر نہیں مل سکی ۔
    بہر حال اتنا یاد ہے کہ اس میں کچھ ثابت نہیں ۔ درست بات وہی ہے جو رفیق بھائی نے ذکر فرما دی ۔ واللہ اعلم ۔
     
  8. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    سبحان اللہ!
    جہاں من گھڑت روایت ہو تو پھر ان کو عمل کی ایسی توفیق ملتی ہے جیسے یہی سنت ہے لیکن جب بات صحیح حدیث کی آجاتی ہے تو پھر ان کی حنفیت کو خطرہ لاحق ہوجاتا ہے۔
     
    • مفید مفید x 1
  9. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    در اصل ان کی عوام سنت پر عمل کرنے کے خواہش مند ہوتے ہیں، اس لئے یہ لوگ موضوع ہی صحیح اپنے موقف پر ایسی احادیث بطور استدلال پیش کر دیتے ہیں، تاکہ عام لوگوں‌کو دھوکہ دیا جاسکے۔
    اکثر لوگوں‌کو جب بتایا جاتا ہے کہ بھائی یہ عمل سنت نہیں ہے بلکہ ایک بدعت ہے، تو وہ کہتا ہے ہمارے عالم نے بھی اس مسئلہ پر حدیث پیش کی تھی۔ بس فرق یہ ہوتا ہے کہ وہ ان کو نہیں‌بتاتے کہ موضوع و ضعیف احادیث قابل عمل نہیں‌ ہوتیں۔
    ایسا ہی ایک تجربہ پچھلے جمعہ ہوا، ایک صاحب مسلکا بریلوی تھے میں انہیں اپنی اھل حدیث مسجد میں جمعہ کی نماز کے لئے لے گیا۔ پھر واپس لوٹتے ہوئے مسجد سے دفتر تک راستے بھر اسی موضوع پر بات رہی مگر وہ یہی کہتے رہے کہ ہمارے عالم صاحب بھی حدیث بیان کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں‌علم نافع اور عمل صالح کی توفیق سے نوازے۔ آمین

     
  10. مزمل حسین

    مزمل حسین نوآموز

    شمولیت:
    ‏جنوری 14, 2018
    پیغامات:
    22
    ناخن کاٹنے کی ترتیب اور مخصوص دن سے متعلق کوئی بھی روایت اصول محدثین کے تحت پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچتی۔ جس طرح آسانی ہو آپ ناخن تراش سکتے ہیں، لیکن بہتر یہی ہے کہ شیخ رفیق طاہر کی پیش کردہ روایت کے مطابق دائیں طرف سے ناخن کاٹنے شروع کئے جائیں ۔ اور ناخن چالیس دن کے اندر ہی کاٹنے چاہیں اس سے زیادہ پر دن گزرنے پرناخن نہ تراشنا گناہ ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں