تعلیمی کیریئر کاانتخاب۔ ایک راہنما تحریر

اہل الحدیث نے 'مَجلِسُ طُلابِ العِلمِ' میں ‏مئی 17, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    4,974
    تعلیمی کیریئر کاانتخاب
    از گمنام

    کامیاب مگرنسبتاً سہل زندگی گزارناہرانسان کی بنیادی تمنا ہوتی ہے۔کامیابی اورترقی پانے کے کئی راستے ہوتے ہیںلیکن بنیادی اہمیت دوامور کوحاصل ہے۔ ایک ذاتی تجربہ اوردوسرا صحیح معلومات کابروقت حصول۔ ذاتی تجربوں سے ترقی اورکامیابی پانا بڑی کٹھنائیوں کاراستہ ہے۔ اس راستے سے کامیابی پانے کے لیے بہت کچھ کھونابھی پڑتاہے اورتجربے سے سیکھنے کے لیے بہت کچھ جھیلنابھی پڑتاہے۔اس میں وقت بھی صرف ہوتاہے اور محنت ضائع ہونے کاامکان بھی۔اس کے برعکس اگر ضروری معلومات جودوسروں کے تجربے اورمشاہدے کاحاصل ہوتی ہیں۔ضرورت کے وقت دستیاب ہوجائیں توراستے کی دشواریوں کو دور کرکے کامیابی کی منزل کوآسان بھی بنادیتی ہیں اورکافی حد تک یقینی بھی۔ترقی اور کامیابی کاسفر زندگی بھرکاسفر ہوتاہے۔ اس سفرمیں سست روی کے مرحلے تو آتے ہیں مگر یہ سفررکتاکبھی نہیں۔ طفولیت سے بچپن‘ بچپن سے لڑکپن‘لڑکپن سے جوانی اورجوانی سے ذمہ دارانہ زندگی…یہ سب زندگی کے مختلف مراحل ہیں۔ ان مرحلوں کو کامیابی سے اورسہولت سے طے کرناہی زندگی کی کامیابی ہے۔ اسی بنیادی خیال کے تحت‘زندگی کے مختلف مراحل سے گزرنے والے اورزندگی کے مختلف میدان ہائے عمل میں کارگزار قارئین کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع اورپیشہ ورانہ امورکے بارے میں معلومات کی فراہمی کااہتمام کیاگیا ہے۔
    ذیل میں ہم میٹرک کے بعدانٹرمیڈیٹ لیول کے مختلف کورسزکامختصرتعارف پیش کریں گے۔جوکہ درج ذیل ہیں۔
    -1 F.Sc -2 F.A
    -3 I.C.S -4 I Com/D Com
    -5 D.A.E -6 پیرامیڈیکل کورسز
    F.Sc -1
    F.Scمیں عموماً طلباء کادوبڑے شعبوں کی طرف رجحان پایاجاتاہے اوریہ بنیادی شعبے مندرجہ ذیل ہیں۔
    -1 پری میڈیکل
    -2 پری انجینئرنگ
    اس کے علاوہ F.Scجنرل سائنس گروپ میں بھی طلباء کارجحان بڑھ رہاہے۔
    F.Scمیں انگلش‘اردو‘اسلامیات اورمطالعہ پاکستان کے مضامین لازمی طورپرپڑھائے جاتے ہیں اورباقی مضامین کا مختلف گروپوں میں ہم خودسے انتخاب کرتے ہیں۔
    -1پری میڈیکل گروپ
    جیسے نام سے ظاہرہے کہ اس گروپ میں جانے والے میڈیکل کی طرف جاتے ہیں۔F.Sc پری میڈیکل میں لازمی مضامین میں انگلش‘اردو‘ اسلامیات اورمطالعہ پاکستان شامل ہیں۔اس کے علاوہ فزکس‘ کیمسٹری اوربیالوجی بھی پری میڈیکل کے لیے لازمی ہوتے ہیں۔ طلباء کومیٹرک میں ان تینوں مضامین کابنیادی تعارف کروا دیا جاتاہے اورF.Sc پری میڈیکل اچھے نمبروں سے پاس کرنے کے بعدان کے پاس MBBS کرنے کے چانسز ہوتے ہیں۔MBBS پانچ سالہ کورس ہے جس میں طلباء کو انسانی جسم کے بارے معلومات دی جاتی ہیں اورمختلف علوم سکھائے جاتے ہیںمثلاً طب وجراحت ‘وغیرہ۔
    F.Sc پری میڈیکل کے بعدMBBS کے علاوہ دو اور شعبے بھی ہیں جن کو BDS اورDVM کانام دیاجاتاہے۔
    BDS کے طالب علم دانتوں کے سپیشل ڈاکٹر بنتے ہیں اورDVM کے طالب علم جانوروں کے ڈاکٹربنتے ہیں۔ اس کے علاوہ پری میڈیکل کے بعد ایک اورچارسالہ کورس ہوتا ہے۔جسے B.S بائیوٹیکنالوجی یامالیکیولربیالوجی کانام دیاجاتا ہے۔ جس میں بیماریوں پرقابوپانے کے لیے نئی نئی اقسام کے پودوں پرتحقیق کی جاتی ہے۔ F.Sc پری میڈیکل کے بعد ایک اور چار سالہ کورس ہے جس کو (Hons)B.Scکانام دیاجاتاہے جس میں زراعت اور زرعی مضرعات کے حوالہ سے مختلف علوم سکھلائے جاتے ہیں۔
    F.Scکے بعدطلباء کے لیے D.Pharmکاایک اور چارسالہ کورس ہوتاہے۔اس کورس میں ادویات سے متعلق مضامین پڑھائے جاتے ہیں۔
    پری انجینئرنگ یانان میڈیکل گروپ
    ا س گروپ میں میتھ‘فزکس کیمسٹری کے مضامین کا انتخاب کیاجاتاہے۔F.Sc پری انجینئرنگ کے 2سال گزارنے کے بعد انجینئرنگ کے بے شمار شعبے طلباء کاانتظار کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ انجینئرنگ زندگی کے تمام شعبہ جات میں کہیں نہ کہیں موجودہوتی ہے۔ انجینئرنگ کے بے شمار شعبے ہوتے ہیں جن میں قابل ذکردرج ذیل ہیں۔
    الیکٹریکل انجینئرنگ‘ مکینیکل انجینئرنگ جوکہ بڑی بڑی مشینری کو چلانے ‘بنانے اور صحیح حالت میں رکھنے کاکام سنبھالے ہوئے ہے۔کیمیکل انجینئرنگ جوکہ انڈسٹری میں مختلف کیمیائی عوامل اور کیمیائی مواد کی تیاری اور استعمال کی ذمہ دارہے۔ اسی طرح تیل وگیس کے خزانے حاصل کرنے کے لیے پٹرولیم انجینئرنگ بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس کے علاوہ سول انجینئرنگ ‘ کمپویٹر انجینئرنگ ‘جیالوجیکل انجینئرنگ اورآرکیٹکچرل انجینئرنگ وغیرہ قابل ذکرہیں۔
    F.Sc جنرل سائنس گروپ
    F.Sc پری میڈیکل اورپری انجینئرنگ کے علاوہ جنرل سائنس گروپ میں بھی طلباء کی کثیرتعداد داخلہ لیتی ہے۔ ایسے طلباء جوجنرل سائنس گروپ میںF.Sc کرنے کے خواہش مند ہوں ‘وہ لازمی مضامین انگریزی‘ اردو‘ اسلامیات‘ مطالعہ پاکستان کے علاوہ مختلف اختیاری مضامین کا انتخاب کرتے ہیں‘جن میں میتھ ‘شماریات‘اکنامکس‘ جغرافیہ وغیرہ شامل ہیں۔یہ طلباء آگے چل کر مختلف ڈگری کورسزمیں داخلہ لیتے ہیں۔
    F.A -2
    F.Aکے طلباء لازمی مضامین کے علاوہ اسلامیات اختیاری‘نفسیات‘فزیکل ایجوکیشن‘ پنجابی‘فارسی‘عربی‘ اردو ادب‘ سوکس وغیرہ کے مضامین میں کوئی سے تین کاانتخاب کرتے ہیں۔
    کہتے ہیں کہF.Aکرنے کاکوئی فائدہ نہیں ہے‘یہ بات بالکل غلط ہے۔کیونکہ اگراس کاکوئی فائدہ نہ ہوتا توپورے پاکستان میں ہزاروں بلکہ لاکھوں کالجوں میں F.A کی تعلیم کیوں دی جاتی ہے…؟درحقیقت انسان جس شعبہ میں محنت کرتاہے ‘ اس میں اپنی ممتازحیثیت سے پہچان بناسکتاہے۔ بڑے اہم عہدوں پرفائز B.A, F.A کرنے والے لوگوں نے پاکستان میں CSS اور PMS کے مقابلہ جاتی امتحانات پاس کرکے یہ عہدے حاصل کیے اور کارحکومت میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
    F.Aکرنے کے بعدB.Aمیں داخلہ لینے والے طلباء صحافت ‘درس وتدریس اوردیگرشعبہ جات سے منسلک ہوتے ہیں۔
    I.C.S -3
    گلوبل ویلج کے تصورکی دنیامیں کمپیوٹر کی اہمیت مسلمہ ہے۔ کمپیوٹر ایجوکیشن میں ابتدائی لیول پرI.C.S کروایاجارہاہے جوکہ انٹرمیڈیٹ لیول کی تعلیم ہے۔ اس میں طلباء وطالبات لازمی مضامین کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر ‘ریاضی‘ فزکس کے مضامین کاانتخاب کرتے ہیں۔ I.C.S کرنے والے طلباء اس کے بعد BCS میں داخلہ لیتے ہیں۔
    I.Com -4
    کامرس یابزنس آج کے دور کااہم ترین ایشوہے۔بزنس کے مختلف رموز واوقاف اورداؤپیچ سکھلانے کے لئے انٹرمیڈیٹ لیول سے ہی I.Com کے کورس کاہتمام کیاگیا ہے۔I.Com کے طلباء مختلف مضامین پڑھتے ہیں‘جن میں لازمی مضامین انگریزی ‘ اردو‘ اسلامیات‘مطالعہ پاکستان کے علاوہ میتھ‘اکاؤنٹس‘اکنامکس‘جغرافیہ‘اوربینکنگ کے مضامین بھی شامل ہوتے ہیں۔I.Comکے طلباء 2سالہ I.Com کے بعد BIT,BBIT,BBA,B.Com وغیرہ کے کورسزمیں داخلہ لیتے ہیں۔
    -5ڈپلومہ آف ایسوسی ایٹ انجینئرنگ(D.A.E)
    میٹرک کے بعدطلباء کے لیے صحیح کورس کاانتخاب بہت بڑا مسئلہ ہے اورسمجھ میں نہیں آتا کہ کہاں پڑھا جائے اورکیا پڑھا جائے۔اس مسئلہ کاشکارطلباء کے لیے جوخاص طورپر انجینئرنگ کا رجحان رکھنے والے ہیں‘ان کے لیے انجینئرنگ میں ترقی کرنے اورآگے بڑھنے کاایک راستہ D.A.E بھی ہے۔
    ڈپلومہ آف ایسوسی ایٹ انجینئرنگ(D.A.E) جوکہ میٹرک کے بعدصرف سائنس سٹوڈنٹس کے لیے 3سال پر محیط ہے اوراس کومکمل کرنے کے بعد یہ ڈپلومہ F.Sc کے برابر ہوتاہے۔
    ڈپلومہ کرنے کاایک فائدہ یہ ہے کہ یہ ٹیکنیکل کورس ہوتا ہے اورسرکاری سیکٹر میں ڈپلومہ کرنے کے بعد 14 سکیل تک نوکری مل سکتی ہے۔
    D.A.E کرنے کے بعداگرمزیدپڑھائی کاارادہ ہو تو آپ اپنے متعلقہ شعبہ میںB.Sانجینئرنگ اورB.Sٹیکنالوجی کرسکتے ہیں۔
    D.A.E اردواورانگلش دونوں میڈیم میںہوتاہے۔ D.A.E گورنمنٹ اورپرائیویٹ دونوں قسم کے اداروں میں کروایا جاتا ہے۔ لیکن گورنمنٹ کالجز سے نکلنے والے ڈپلومہ ہولڈرز پرائیویٹ کی نسبت زیادہ قابل اور ان کی قدربھی انڈسٹری میں زیادہ ہوتی ہے۔
    D.A.Eکروانے والے چندبڑے اورمعیاری ادارے درج ذیل ہیں۔
    -1 گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی ساہیوال
    -2 گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی لاہور(ریلوے روڈ)
    -3 گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی لاہور(رائے ونڈ رود)
    -4 گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی بہاولپور
    -5 گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی ملتان
    -6 گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی فیصل آباد
    -7 گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی رسول پور‘ڈیرہ غازیخان
    -8 گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی بوریوالہ
    -9 گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی کمالیہ
    -10 مکینکل اینڈالیکٹریکل کالج راولپنڈی
    -11 G.C.Tرسول کالج منڈی بہاؤالدین
    -12 گورنمنٹ پولی ٹیکنیک انسٹیٹیوٹ سرگودھا
    یہ ادارے مندرجہ ذیل ٹیکنالوجیزمیں D.A.E کرواتے ہیں۔
    -1 مکینیکل انجینئرنگ
    -2 الیکٹریکل انجینئرنگ
    -3 الیکٹرونکس انجینئرنگ
    -4 سول انجینئرنگ
    -5 آٹواینڈ فارم انجینئرنگ
    -6 انفارمیشن ٹیکنالوجی
    -7 شوگرٹیکنالوجی
    -8 فوڈٹیکنالوجی
    -9 انسٹرومنٹ ٹیکنالوجی
    -10 پٹرول اینڈ ڈیزل ٹیکنالوجی
    -11 ریفریجریشن اینڈ ائیرکنڈیشنر
    -12 کیمیکل ٹیکنالوجی
    اوراس طرح کی بہت سی ٹیکنالوجیز میںD.A.E کروایا جارہاہے۔
    داخلہ کی شرائط
    D.A.Eکے لیے سائنس سٹوڈنٹ کاہونا لازمی ہے اور تمام سرکاری کالجز میں میرٹ کی بنیاد پر داخلہ کیاجاتاہے ۔کسی بھی ٹیکنالوجی میں داخلہ لینے کے لییدرج ذیل مضامین کے کم ازکم 65%نمبرزہوناضروری ہیں ۔
    -1 انگلش -2 ریاضی
    -3 فزکس -4 کیمسٹری
    لیکندرج ذیل ٹیکنالوجیز کے لیے کم ازکم 75%نمبرز ہونا لازمی ہیں۔ 1مکینیکل۔2الیکٹریکل۔3سول۔
    شوگر ٹیکنالوجی جوکہ خاص طورپر کمالیہ کالج میں شروع کی گئی ہے اور اس میں ترقی کے وسیع مواقع موجود ہیں۔مکینیکل اینڈ الیکٹریکل کالج راولپنڈی میں داخلہ کے لیے کم ازکم 80% نمبرہونالازمی ہیں۔
    ڈپلومہ بہت سے پرائیویٹ اداروں میں بھی کروائے جاتے ہیں لیکن ان میں سرکاری اداروں کی نسبت مشینری اور پریکٹیکل کے آلات بہت کم ہوتے ہیں اوریہی وجہ ہے کہ سرکاری کالجز کے سٹوڈنٹس کوزیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ جس میں لازمی مضامین کے طورپرمندرجہ ذیل مضامین پڑھائے جاتے ہیں۔
    ان میں کمپیوٹر…فزکس…ریاضی…اسلامیات… کیمسٹری…مطالعہ پاکستان…انجینئرنگ ڈرائنگ اور انتخاب کی گئی ٹیکنالوجی کے متعلقہ مضامین شامل ہوتے ہیں۔
    سرکاری کالجز کی سالانہ فیسیں10ہزار روپے سے کم ہوتی ہیں اوراس کی نسبت پرائیویٹ اداروں کی فیسیں بہت زیادہ ہوتی ہیں ۔
    ان تمام سرکاری اداروں کے داخلہ کے لیے اخبارخصوصاً جنگ‘نوائے وقت اورانگلش اخبار Dawn میں اشتہار دئیے جاتے ہیں اوران اداروں میں داخلہ میرٹ کی بنیادپرہوتاہے۔
    ڈپلومہ کروانے والاایک بورڈ ہرصوبے میں موجود ہے۔ جیسے پنجاب بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن ‘خیبرپختونخواہ بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن ‘بلوچستان بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن ۔
    اسی طرح تمام صوبوں میں بورڈزیہ کام سرانجام دے رہے ہیں اورتمام پرائیویٹ اداروں کاان سے الحاق ہونا ضروری ہے ورنہ ان کی طرف سے جاری کردہ ڈپلومہ کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ان سب اداروں کی دیکھ بھال کے لیے ایک ادارہ ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی(TEVTA) کاقیام عمل میں لایاگیاہے اور اب اس کے ساتھ ایک شراکتی ادارہ جس کو NAV-TAC کا نام دیاگیاہے ‘کام کررہاہے۔
    -6 میڈیکل کورسز
    پیرامیڈیکل کورسزسے مراد وہ کورسز ہیں جوکہ ڈاکٹرز کے ساتھ بطورِمعاون اورہاسپٹل کوچلانے کے لیے کروائے جاتے ہیں۔ ان میں دوطرح کے کورسز ہوتے ہیں۔ایک تواسسٹنٹ اور دوسرے ٹیکنیشنزہوتے ہیں۔ اسسٹنٹ جیساکہ ڈسپنسرز‘ آپریشن تھیٹر ٹیکنالوجی‘لیبارٹری اسسٹنٹ وغیرہ ‘ان کاسکیل 6 ہوتاہے۔ صوبہ سندھ میں اسسٹنٹ وغیرہ‘ ان کا سکیل 9ہوتا ہے۔صوبہ سندھ میں اسسٹنٹ کوسکیل 9اورٹیکنیشنزکوسکیل11دیاجاتاہے۔
    یہ کورسز عموماً میٹرک کے بعد جبکہ کچھ F.Sc کے بعدہوتے ہیں۔پیرامیڈیکل کورسزمیں اہلیت کے لیے میٹرک سائنس(بیالوجی)ہوناضروری ہے اورسائنس مضامین میں سے 50% نمبرز ہوناضروری ہیں۔
    ان کورسزکے لیے بہت سے سرکاری ادارے اور ہسپتال موجودہیں۔جبکہ بہت سے پرائیویٹ ادارے بھی رجسٹرڈ ہیں۔ سرکاری اداروں میں داخلہ فیس تقریباً نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے اورٹریننگ بھی اچھی دی جاتی ہے جبکہ پرائیویٹ اداروں میں طلباء کوبھاری فیسیں ادا کرنا پڑتی ہیں جوکہ 30ہزار سے 60ہزار تک ہوتی ہیں۔
    ویسے توبہت سے سرکاری ادارے اورہسپتال ہیں جن میں یہ کورسزکروائے جاتے ہیں لیکن پانچ ٹیکنیکل ادارے بالخصوص انہی کورسزکے لیے بنائے گئے ہیں۔ جوکہ مندرجہ ذیل ہیں۔
    -1 پیرامیڈیکل سکول آف فیصل آباد
    -2 پیرامیڈیکل سکول آف ساہیوال
    -3 پیرامیڈیکل سکول آف بہاولپور
    -4 پیرامیڈیکل سکول آف سیالکوٹ
    -5 پیرامیڈیکل سکول آف سرگودھا
    ان کے علاوہ مختلف سرکاری ہسپتالوں میں بھی یہ کورسز کروائے جاتے ہیں۔جن میں لاہورمیوہسپتال‘ گنگارام ہسپتال‘ سروسز ہسپتال‘ جنرل ہسپتال‘سوشل سکیورٹی ہسپتال‘شیخ زید ہسپتال‘ انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ شامل ہیں۔جوکورسز پیرامیڈیکل کے تحت کروائے جاتے ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں۔
    -1 ڈسپنسر
    -2 آپریشن تھیٹرٹیکنالوجی
    -3 لیب ٹیکنیشن
    -4 ریڈیوگرافر
    -5 ڈینٹل ٹیکنیشن
    -6 انستھیزیاٹیکنیشن
    -7 ڈائیلیسز ٹیکنیشن
    -8 انجیوگرافک ٹیکنیشن
    -9 میڈٹیکنیشن
    -10 اسسٹنٹ فارمسٹ
    ان کورسزمیں سے چندایک کوچھوڑکر باقی سب کورسز شیخ زیدہسپتال (لاہور) میں کروائے جاتے ہیں جبکہ باقی ہسپتالوں میں کچھ کورسزکروائے جاتے ہیں۔ ڈسپنسر کورس ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال لاہورمیں بھی کروایاجاتاہے۔جبکہ انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ میں B.Sc لیبارٹری اور میوہسپتال میں ڈینٹل ٹیکنالوجسٹ جوکہ B.Sc کے برابر ہوتاہے بھی کروایا جاتاہے۔ ان اداروں میں سے جومجموعی طورپر سب سے اچھی کارکردگی دکھارہے ہیں‘وہ پیرامیڈیکل سکول ساہیوال اوردوسرا شیخ زید ہسپتال لاہورہیں۔
    جوکورسز اوپرذکرہوئے ہیں‘ان میں سے ایک دوکے علاوہ باقی تمام کے پیپرز پنجاب میڈیکل فیکلٹی لیتی ہے۔
    داخلہ
    عموماً دیکھاگیاہے کہ ان کورسز میں داخلہ وہ طالب علم لیتے ہیں جوکہ میٹرک میں بہت کم نمبرلیتے ہیں یاپھروہ ایف ایس سی کے بعدڈاکٹر بننے تک کے ٹارگٹ کوحاصل کرنامشکل سمجھتے ہیں۔ اکثرطلباء ایسے ہوتے ہیں کہ وہ معاشی طورپراپنی تعلیم جاری نہیں رکھ سکتے۔ ایف ایس سی کے لیے بھاری بھرکم فیسوں کی ادائیگی کرناان کے لیے مشکل ہوتاہے اور وہ ان کورسز میں داخلہ لے کراپنے پاؤں پہ جلدی کھڑا ہونا چاہتے ہیں۔
    اس کے علاوہ بہت سے ایسے طلباء بھی دیکھنے میں ملتے ہیں جنہیں آپ لکیرکے فقیر کہیں تومضائقہ نہ ہوگا۔مختلف کورسز کے فوائد ونقصانات کوجانے بغیر‘تجزیہ کیے بغیر صرف دوسرے لوگوں کے کہنے پران کورسزمیں داخلہ لے لیتے ہیں جوکہ ان کے لیے پچھتاوے کاباعث بھی بن جاتاہے۔ان کورسزمیں سے جوکورس سب سے زیادہ کیاجاتا ہے‘ وہ ڈسپنسرکورس ہے۔آج سے8سال سے پہلے ڈسپنسر کے ڈپلومہ پر میڈیکل سٹور بنانے کالائسنس ایشو کیاجاتھا۔ جبکہD.Pharm ڈگری ہولڈرفارماسسٹ حضرات نے کورٹ میںرٹ دائر کی کہ ڈسپنسرز کوصرف ایک سالہ ڈپلومہ کرنے پرلائسنس جاری نہ کیاجائے۔ تاکہ ہمارا استحصال نہ ہو۔ اس کے بعد کورٹ نے ڈسپنسر کورس کے بعد اسسٹنٹ فارماسسٹ کاکورس کرنے پر میڈیکل سٹور کے لائسنس کی اجازت دی ہے۔اب میڈیکل سٹورکے لیے اسسٹنٹ فارما سسٹ جس کو B.Category بھی کہتے ہیں‘ کرنا ضروری ہے۔
    داخلہ کے لیے شیڈول ہرادارہ اپنے طورپر دیتا ہے اس کااختیار متعلقہ ادارہ یاہسپتال کے ایم ایس یاانچارج کے پاس ہوتاہے۔ اسی طرح مختلف اداروں میں امیدواروں کے لیے سیٹوں کی تعداد مختلف ہوتی ہے۔داخلہ کے لیے اشتہار آتاہے۔ پھرفارم جمع کروانے کے بعد انٹرویو لسٹ لگتی ہے۔انٹرویو کے بعدمیرٹ بنتاہے۔ یہ میرٹ سٹوڈنٹس کے نمبروں‘ جوکہ میٹرک یاایف ایس سی میں حاصل کیے ہوتے ہیں‘ کے لحاظ سے بنتاہے۔
    درج ذیل سطورمیں مختلف کورسز کاجامع تعارف دیاگیا ہے۔طلباء کوچاہیے کہ وہ متعلقہ کورسز کامکمل تعارف حاصل کرنے کے بعد ہی کسی کورس میں داخلہ لیں تاکہ زیادہ دلچسپی سے اپنی تعلیم کو جاری رکھ سکیں۔
     
  2. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    4,974
    میرے خیال میں یہ درج بالا ہونا چاہیے
     
  3. ابودجانہ

    ابودجانہ --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏دسمبر 9, 2010
    پیغامات:
    763
    آئی سی ایس کے لیے کیا میرٹ ہے اور اس کے اندر کورس کون سا شامل ہے اور کیا وہ اردو میڈیم ہے یا انگلش میڈیم
     
  4. نعمان نیر کلاچوی

    نعمان نیر کلاچوی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 25, 2011
    پیغامات:
    552
    زبردست۔۔۔مفید شیئرنگ ہے
    جزاک اللہ خیرا
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں