جدید مزاحمتی شاعری

عائشہ نے 'ادبی مجلس' میں ‏مئی 27, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,207
    ہاتھ آنکھوں پہ رکھ لینے سے خطرہ نہیں جاتا - مظفر وارثى

    فوجى آمر كے عہد کى ايك غزل

    ہاتھ آنکھوں پہ رکھ لینے سے خطرہ نہیں جاتا
    ديوار سے بھونچال كو روكا نہیں جاتا

    داغوں كى ترازو ميں تو عظمت نہیں تلتى
    فيتے سے تو كردار كو ناپا نہیں جاتا

    فرمان سے پیڑوں پہ کبھی پھل نہیں لگتے
    تلوار سے موسم كوئى بدلا نہیں جاتا

    چور اپنے گھروں ميں تو نہیں نقب لگاتے
    اپنی ہى كمائى كو تو لوٹا نہیں جاتا

    اوروں کے خيالات كى ليتے ہیں تلاشى
    اور اپنے گریبان ميں جھانكا نہیں جاتا

    فولاد سے فولاد تو كٹ سكتا ہے ليكن
    قانون سے قانون كو بدلا نہیں جاتا

    ظلمت كو گھٹا کہنے سے بارش نہیں ہوتى
    شعلوں كو ہواؤں سے تو ڈھانپا نہیں جاتا

    طوفان ميں ہو ناؤ تو كچھ صبر كيا جائے
    ساحل پہ کھڑے ہو کے تو ڈوبا نہیں جاتا !

    دريا كے كنارے تو پہنچ جاتے ہیں پياسے
    پياسوں کے گھروں تك كوئى دريا نہیں جاتا !

    اللہ جسے چاہے اسے ملتى ہے مظفر
    عزت كو دكانوں سے خريدا نہیں جاتا !​

    شاعر: مظفر وراثی
    كلام شاعر بزبان شاعر : http://youtu.be/7T6-T_YFQIs
    ٹرانسكرپشن: ام نور العين ​
     
  2. irum

    irum Web Master

    شمولیت:
    ‏جون 3, 2007
    پیغامات:
    31,582
    بہت خوب
     
  3. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,720


    :00001::00001::00001:
     
  4. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,295
    جو پر شکستہ ہے فاختہ
    یہ جو زخم زخم گلاب ہے

    یہ ہے داستاں میرے عہد کی
    جہاں ظلمتوں کا نصاب ہے

    جہاں ترجمانی ہو جھوٹ کی
    جہاں حکمرانی ہو لوٹ کی

    جہاں بات کرنا محال ہو
    وہاں آگہی بھی عذاب ہے

    میری جان! ہونٹ تو کھول تو
    کبھی اپنے حق میں بھی بول تو

    یہ عجیب ہے تیری خامشی
    نہ سوال ہے نہ جواب ہے

    (شاعر: کوئی ڈھونڈ کر بتائے)​
     
  5. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,207
    شكريہ بھائى ، سعد اللہ شاہ كے اشعار كا ذكر كيے بغیر يہ موضوع نا مكمل رہتا ۔ ماضى قريب كى عدليہ تحريك اور عہد پرویزی ميں بہت خوب صورت لكھتے رہے ۔عافيہ صديقى كے متعلق بھی ان كا كلام موجود ہے۔
     
  6. ابن السید

    ابن السید -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 1, 2012
    پیغامات:
    274
    فتح یاب آخر اجالا ہی ہوگا ان شاء اللہ
    عداوت کوئی جرم ہو تو بتاؤ؟
    جہل سے عداوت رسولوں نے کی تھی
    شریعت پہ مبنی اصولوں پہ کی تھی
    اندھیرے کی باغی ہر اک صبح امکان
    اندھیرے سے اس کی عداوت رہے گی
    پڑے تلملاؤ!
    بغاوت کوئی جرم ہو تو بتاؤ؟

    محبت اجالوں سے جس کو بھی ہوگی
    وہ ظلمت کی چادر کو اوڑھے۔۔۔۔۔تو کیسے؟؟
    جو محشر کی امید رکھتا ہو دل میں
    سکوت شبی وہ نہ توڑے ۔۔۔۔۔۔تو کیسے؟
    بھلے کسمساؤ!
    نہیں ،بلکی بڑھ کر
    جہاں تک چلے بس تمھارا تو جاؤ
    ہر اک رازِپرواز چاہے کھرچ دو
    اکھڑو سبھی بال وپر جو بھی پاؤ
    سعادت کی راہوں کو مسدود کر دو
    سرے سے جو کونپل بھی پھوٹے،جلاؤ!
    جو سیکھے ہیں
    سارے ہنر آزماؤ
    مگر یاد رکھنا۔۔۔۔۔
    ہمیں حوصلہ خود قرآں نے دیا ہے!
    زمیں پر خلافت کا حقِ مسلّم
    ہمیں خالقِ دو جہان نے دیا ہے!
    اب اتنی خطا پر
    شہادت سے بڑھ کر بھی کوئی سزا ہو
    ہمیں وہ دلاؤ!
    رہے تم۔۔۔۔۔
    تمہاری تو اوقات کیا ہے
    تمھارے لیے تو یہی بس سزا ہے
    کہ اللہ کے ولیوں پہ گولی چلاؤ!
    جہنم کی گھاٹی میں کوچہ بناؤ!
    عزازیل کے دوستو،غم گسارو!
    تم اللہ کا نور پھونکوں سے اپنی
    بجھانا جو چاہو،بجھا نہ سکو گے
    کتابوں میں لکھا اٹل فیصلہ ہے
    پریشان ظلمت کا پالا ہی ہو گا
    فتح یاب آخر اجالا ہی ہو گا! ان شاءاللہ
    احسن عزیز رحمہ اللہ
     
  7. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,295

    جُھوٹ نوں سچ بنا دیندے نیں
    لارے لپّے لا دیندے نیں

    سارے لیڈر اِکّوئی ورگے
    جِت کے سب بُھلا دیندے نیں

    جس وِچ سارے ہیرو لگدے
    ایسی فلم وکھا دیندے نیں

    گَلاں باتاں دے وِچ یارو
    کِیہ دا کِیہ بنا دیندے نیں

    کُجھ تے ایسے جادُوگر نیں
    گُھمن گھیری پا دیندے نیں

    سُتّی قوم دی خاطر گوہرؔ
    روز اِک حشر اُٹھا دیندے نیں
    ♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
    امتیاز علی گوہرؔ
    ♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥​
     
  8. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,207
    آج کل ملک میں جبر کے نئے سلسلے ہیں تو مزاحمت کی نئی روایت بھی جاری ہے۔ حال ہی میں پاکستان آرٹس کونسل کراچی میں کیا کمال کلام پیش کیا گیا۔۔۔ فیس بک پر سن کر اردو مجلس کے لیے لکھا ہے۔ شاعر کے نام کی تلاش جاری ہے۔۔۔کسی کو معلوم ہو تو ضرور بتائیں۔ وڈیو ربط ابھی نہیں دے سکتی کہ فیس بک لائٹ میں یہ سہولت نہیں۔
    وہ تو کوکین پی کے سوتے ہیں
    قوم کو جاگنا ہی ہوتا ہے
    یہ بھگوڑے ہیں بھاگ جائیں گے
    اور انہیں بھاگنا ہی ہوتا ہے
    بولنے کا ہے عارضہ ان کو
    جھوٹ سچ داغنا ہی ہوتا ہے
    آپ کچھ کہیں مگر
    مانگنا مانگنا ہی ہوتا ہے
    جس کو یوٹرن آپ کہتے ہیں
    تھوک کے چاٹنا ہی ہوتا ہے
     
    • ظریفانہ ظریفانہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں