’’علم غیب‘‘ عطائی، حادث اور محدود ۔

کفایت اللہ نے 'مجلس علماء' میں ‏جون 8, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,018
    بعض حضرات کا خیال ہے کہ علم غیب نبوی سے متعلق امت میں موجود اختلافات کو ختم کیا جاسکتاہے بایں طور کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم غیب کو عطائی ، حادث اور محدود تسلیم کرلیا جائے اس طرح علم غیب نبوی اور علم غیب الہی میں فرق ہوجائے گا، اور یہ عقیدہ شرک نہیں قرار پائے گا ۔

    اس خیال کا اظہار ممبئی کے وائی ایم سی گراونڈ میں چند سال قبل ایک اسکالر نے کیا تھا

    اس مضمون میں ہم علم غیب نبوی سے متعلق اس عقیدے کی حقیقت بیان کریں گے۔
    ان شاء اللہ۔
     
    Last edited by a moderator: ‏جون 8, 2011
  2. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,018
    ’’علم غیب ‘‘ سے متعلق چند آیات ​


    {قَالَ يَا آدَمُ أَنْبِئْهُمْ بِأَسْمَائِهِمْ فَلَمَّا أَنْبَأَهُمْ بِأَسْمَائِهِمْ قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَكُمْ إِنِّي أَعْلَمُ غَيْبَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَأَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا كُنْتُمْ تَكْتُمُونَ } [البقرة: 33]
    اللہ تعالیٰ نے (حضرت) آدم ﴿علیہ السلام﴾ سے فرمایا تم ان کے نام بتا دو۔ جب انہوں نے بتا دیئے تو فرمایا کہ کیا میں نے تمہیں (پہلے ہی) نہ کہا تھا کہ زمین اور آسمانوں کا غیب میں ہی جانتا ہوں اور میرے علم میں ہے جو تم ﻇاہر کر رہے ہو اور جو تم چھپاتے تھے

    { وَعِنْدَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ } [الأنعام: 59]
    اور اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہیں غیب کی کنجیاں، (خزانے) ان کو کوئی نہیں جانتا بجز اللہ کے۔ اور وه تمام چیزوں کو جانتا ہے جو کچھ خشکی میں ہیں اور جو کچھ دریاؤں میں ہیں اور کوئی پتا نہیں گرتا مگر وه اس کو بھی جانتا ہے اور کوئی دانہ زمین کے تاریک حصوں میں نہیں پڑتا اور نہ کوئی تر اور نہ کوئی خشک چیز گرتی ہے مگر یہ سب کتاب مبین میں ہیں

    { وَلِلَّهِ غَيْبُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ } [هود: 123]
    زمینوں اور آسمانوں کا علم غیب اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، تمام معاملات کا رجوع بھی اسی کی جانب ہے، پس تجھے اسی کی عبادت کرنی چاہئے اور اسی پر بھروسہ رکھنا چاہئے اور تم جو کچھ کرتے ہو اس سے اللہ تعالیٰ بے خبر نہیں

    { وَلِلَّهِ غَيْبُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا أَمْرُ السَّاعَةِ إِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ أَوْ هُوَ أَقْرَبُ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ} [النحل: 77]
    آسمانوں اور زمین کا غیب صرف اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے۔ اور قیامت کا امر تو ایسا ہی ہے جیسے آنکھ کا جھپکنا، بلکہ اس سے بھی زیاده قریب۔ بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے

    { قُلْ لَا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ } [النمل: 65]
    کہہ دیجئے کہ آسمانوں والوں میں سے زمین والوں میں سے سوائے اللہ کے کوئی غیب نہیں جانتا، انہیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ کب اٹھا کھڑے کیے جائیں گے؟

    { وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَا تَأْتِينَا السَّاعَةُ قُلْ بَلَى وَرَبِّي لَتَأْتِيَنَّكُمْ عَالِمِ الْغَيْبِ لَا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ وَلَا أَصْغَرُ مِنْ ذَلِكَ وَلَا أَكْبَرُ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ } [سبأ: 3]
    کفار کہتے ہیں کہ ہم پر قیامت نہیں آئے گی۔ آپ کہہ دیجیئے! کہ مجھے میرے رب کی قسم! جو عالم الغیب ہے کہ وه یقیناً تم پر آئے گی اللہ تعالیٰ سے ایک ذرے کے برابر کی چیز بھی پوشیده نہیں نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں بلکہ اس سے بھی چھوٹی اور بڑی چیز کھلی کتاب میں موجود ہے

    { إِنَّ اللَّهَ عَالِمُ غَيْبِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ } [فاطر: 38]
    بے شک اللہ تعالیٰ جاننے واﻻ ہے آسمانوں اور زمین کی پوشیده چیزوں کا، بےشک وہی جاننے واﻻ ہے سینوں کی باتوں کا

    { إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ غَيْبَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ } [الحجرات: 18]
    یقین مانو کہ آسمانوں اور زمین کی پوشیده باتیں اللہ خوب جانتا ہے۔ اور جو کچھ تم کر رہے ہو اسے اللہ خوب دیکھ رہا ہے

    { اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ } [البقرة: 255]
    ''اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو زنده اور سب کا تھامنے واﻻ ہے، جسے نہ اونگھ آئے نہ نیند، اس کی ملکیت میں زمین اور آسمانوں کی تمام چیزیں ہیں۔ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کرسکے، وه جانتا ہے جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور وه اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے مگر جتنا وه چاہے، اس کی کرسی کی وسعت نے زمین و آسمان کو گھیر رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کی حفاﻇت سے نہ تھکتا اور نہ اکتاتا ہے، وه تو بہت بلند اور بہت بڑا ہے ''

    { يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِهِ عِلْمًا} [طه: 110]
    ''جو کچھ ان کے آگے پیچھے ہے اسے اللہ ہی جانتا ہے مخلوق کا علم اس پر حاوی نہیں ہو سکتا ''

    { يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يَشْفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ارْتَضَى وَهُمْ مِنْ خَشْيَتِهِ مُشْفِقُونَ } [الأنبياء: 28]
    '' وه ان کے آگے پیچھے تمام امور سے واقف ہے وه کسی کی بھی سفارش نہیں کرتے بجز ان کے جن سے اللہ خوش ہو وه تو خود ہیبت الٰہی سے لرزاں وترساں ہیں ''

    { يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ } [الحج: 76]
    '' وه بخوبی جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے، اور اللہ ہی کی طرف سب کام لوٹائے جاتے ہیں ''

    { وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ } [الأنعام: 28]
    ''بلکہ جس چیز کو اس کے قبل چھپایا کرتے تھے وه ان کے سامنے آگئی ہے اور اگر یہ لوگ پھر واپس بھیج دیئے جائیں تب بھی یہ وہی کام کریں گے جس سے ان کو منع کیا گیا تھا اور یقیناً یہ بالکل جھوٹے ہیں ''

    { قُلْ إِنْ تُخْفُوا مَا فِي صُدُورِكُمْ أَوْ تُبْدُوهُ يَعْلَمْهُ اللَّهُ وَيَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ } [آل عمران: 29]
    '' کہہ دیجئے! کہ خواه تم اپنے سینوں کی باتیں چھپاؤ خواه ﻇاہر کرو اللہ تعالیٰ (بہرحال) جانتا ہے، آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسے معلوم ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے''

    { أَلَا إِنَّهُمْ يَثْنُونَ صُدُورَهُمْ لِيَسْتَخْفُوا مِنْهُ أَلَا حِينَ يَسْتَغْشُونَ ثِيَابَهُمْ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ } [هود: 5]
    ''یاد رکھو وه لوگ اپنے سینوں کو دہرا کیے دیتے ہیں تاکہ اپنی باتیں (اللہ) سے چھپا سکیں۔ یاد رکھو کہ وه لوگ جس وقت اپنے کپڑے لپیٹتے ہیں وه اس وقت بھی سب جانتا ہے جو کچھ چھپاتے ہیں اور جو کچھ وه ﻇاہر کرتے ہیں۔ بالیقین وه دلوں کے اندر کی باتیں جانتا ہے''


    { وَإِنَّ رَبَّكَ لَيَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُورُهُمْ وَمَا يُعْلِنُونَ } [النمل: 74]
    '' یشک آپ کا رب ان چیزوں کو بھی جانتا ہے جنہیں ان کے سینے چھپا رہے ہیں اور جنہیں ﻇاہر کر رہے ہیں''

    { وَرَبُّكَ يَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُورُهُمْ وَمَا يُعْلِنُونَ } [القصص: 69]
    ''ان کے سینے جو کچھ چھپاتے اور جو کچھ ﻇاہر کرتے ہیں آپ کا رب سب کچھ جانتا ہے ''

    { وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ آمَنَّا بِاللَّهِ فَإِذَا أُوذِيَ فِي اللَّهِ جَعَلَ فِتْنَةَ النَّاسِ كَعَذَابِ اللَّهِ وَلَئِنْ جَاءَ نَصْرٌ مِنْ رَبِّكَ لَيَقُولُنَّ إِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ أَوَلَيْسَ اللَّهُ بِأَعْلَمَ بِمَا فِي صُدُورِ الْعَالَمِينَ} [العنكبوت: 10]
    اور بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو زبانی کہتے ہیں کہ ہم ایمان ﻻئے ہیں لیکن جب اللہ کی راه میں کوئی مشکل آن پڑتی ہے تو لوگوں کی ایذا دہی کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کی طرح بنا لیتے ہیں، ہاں اگر اللہ کی مدد آجائے تو پکار اٹھتے ہیں کہ ہم تو تمہارے ساتھی ہی ہیں کیا دنیا جہان کے سینوں میں جو کچھ ہے اس سے اللہ تعالیٰ دانا نہیں ہے؟

    { يَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُورُ} [غافر: 19]
    ''وه آنکھوں کی خیانت کو اور سینوں کی پوشیده باتوں کو (خوب) جانتا ہے ''

    { يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَيَعْلَمُ مَا تُسِرُّونَ وَمَا تُعْلِنُونَ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ } [التغابن: 4]
    '' وه آسمان وزمین کی ہر ہر چیز کا علم رکھتا ہے اور جو کچھ تم چھپاؤ اور جو ﻇاہر کرو وه (سب کو) جانتا ہے۔ اللہ تو سینوں کی باتوں تک کو جاننے واﻻ ہے ''

    {وَأَسِرُّوا قَوْلَكُمْ أَوِ اجْهَرُوا بِهِ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ } [الملك: 13]
    ''تم اپنی باتوں کو چھپاؤ یا ﻇاہر کرو وه تو سینوں کی پوشیدگی کو بھی بخوبی جانتا ہے ''
     
    Last edited by a moderator: ‏جون 8, 2011
  3. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,018
    ’’علم غیب‘‘ کا مفہوم​

    مذکورہ آیات کی روشنی میں ’’علم غیب ‘‘ کا مفہوم ملاحظہ ہو:
    ’’علم غیب‘‘ کا مطلب ہے کہ بیک وقت ہرجگہ اورہر زمانے کی خبر رکھنے کی قوت ، اب اس ’’علم غیب ‘‘ کو ایک مثال سے سمجھیں ۔

    میں اس وقت انڈیا میں ہوں میں نے کل کیا کیا تھا، آئندہ کیا کروں گا ، اس وقت کیا کررہا ہوں ، میرے آگے جانب تاحدنگاہ سے بھی دور کیا کیا ہورہا اسی طرح میرے پیچے کیا کیا ہورہا ہے ، میرا ذہن کیا سوچ رہا ہے، میرے دل میں کیا خیالات امڈ رہے ہیں ، میرے رگوں میں کیا ہورہا ہے، ہرآنے والے اگلے سیکنڈ میں میرے ساتھ کیا ہوگا، میں کب اورکہاں اورکس وقت اورکتنی دیر میں اورکس کیفیت میں مرنے والا ہوں ان تما م چیزوں کی جانکاری بیک وقت ہو نیز یہی جانکاری بیک وقت دنیا کی ہرمخلوق سے متعلق ہو خواہ وہ انسان ہو یا حیوان یا کوئی اورمخلوق اس کے علاوہ اوربھی نہ جانے کتنی جانکاریاں شامل ہیں۔

    علم وادراک کی یہی وہ قوت ہے جسے ’’علم غیب ‘‘ کہا جاتا ہے(جیساکہ اوپر پیش کی گئی آیات سے واضح ہے) اوریہ قوت خالص اللہ تبارک وتعالی کی خوبی ہے اس قوت اور خوبی کا ذرہ برابر حصہ بھی کسی مخلوق کو ایک پل کے لئے بھی نہیں ملا ہے یعنی علم غیب کسی مخلوق کے پاس نہیں نہ عطائی نہ حادث اورنہ ہی محدود۔



    رئیس المناظرین علامہ ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ کی توضیحات​


    علامہ فرماتے ہیں:
    قبل اس کے کہ دلائل بیان کریں موضوع مسئلے کا بنانا ضروری ہے ، قران مجیدمیں خداتعالی کے علم غیب کا ذکرجن لفظوں میں کیا گیا ہے ، اس کو سامنے رکھنا لازم ہے ،تاکہ موضوع مسئلہ سامنے آجائے، ارشادہے:
    { وَعِنْدَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ } [الأنعام: 59]

    { يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ } [البقرة: 255]

    اس آیت کی تفسیر بتانے کے لئے بطورمثال:

    ایک چیونٹی کا سامنے رکھ لو ، اس کے اعضاء کو دیکھو، اس کی ٹانگیں کتنی ہیں، آنکھیں کس مقدار میں ہیں ، دل جگر پھیپھڑا کس قدرہے، اس کے توالد وتناسل کا کیا انتظام ہے، اس کی نانی دادی کون تھی، ’’مَا خَلْفَهُمْ‘‘ کوسامنے رکھ کر پیچھے کوچلے جاؤ ، جملہ اس کے حسب ونسب ودیال و ننہیال کو سوچو، اس کے ’’مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ‘‘ کو سامنے رکھ کرسوچو اس کی بیٹی کون ہوگی، اس کی پوتی کون ہوگی، پھر کون ہوگی، تافنائے دنیا۔

    اسی طرح مزروعہ زمین میں سے ایک گزبھرزمین سامنے رکھ لو، اور سوچو کہ آج اس میں کتنی بالیں‌ ہیں‌ اس میں کتنے دانے ہیں ’’مَا خَلْفَهُمْ‘‘ کو سمانے رکھ کرپیچھے چلے جاؤ، سوچو کہ پچھلے موسم اتنی زمین میں کیا پیدیا ہواتھا اس سے پہلے کیا تھا ابتدائے آفرینش۔اسی طرح ’’مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ‘‘ کو سامنے رکھو ، اور سوچو کہ آندہ موسم میں اس میں کیا پیدا ہوگا ، اس کے بعد کیا ہوگا، پھر کیا ہوگا تا فنائے دنیا۔

    اسی طرح ہرجاندار سے برتاؤ کرو، آج سائنس کی تحقیق ہے کہ ایک انچ بھرمربع ہو،اورپانی میں دس دس کروڑ کیڑے چلتے پھرتے ہیں ، اس سب کا علم اوران کے پہلوں اورپچھلوں‌کا علم یہ سب خاصہ خداوندی ہے۔


    یہ چند مثالیں بطور تمثیل کے بیان کی ہیں ، ورنہ ہم اس کی تفصیل سے قاصر ہیں ، کلام اللہ ہمارے قصور کو خود ظا ہر کرتا ہے، چنانچہ ارشاد ہے:
    {وَمَا يَعْلَمُ جُنُودَ رَبِّكَ إِلَّا هُوَ } [المدثر: 31]

    ان سب کائنات گذشتہ اور آندہ کو جاننا علم غیب خداوندی کہلاتا ہے، یہ مسئلہ علم غیب موضوع ہے جس کا سمجھنا ضروری ہے ، اس تفصیل کے ساتھ ہماراعقیدہ یہ ہے کہ علم غیب خاصہ خداوندی ہے، کوئی نبی، کوئی ولی ، کوئی فرشتہ اس صفت سے موصوف نہیں ، جوشخص کسی نبی ، یا ولی کو علم غیب سے موصوف سمجھے قران وحدیث کی تصریحات کی روسے وہ شخص منکرقران ہے اورمنکرحدیث ہے اورحسب فتاوی فقہائے حنفیہ کافرہے۔(رسائل ثنائی: ص68،69).


    خلاصہ کلام یہ کہ بیک وقت کائنات کی ہر شے سے متعلق ماضی حال مستقبل کے تمام ظاہری وباطنی امور وغیرہ کو جاننا ’’علم غیب ‘‘ ہے ، یہ علم غیب کی مکمل تشریح نہیں ہے اس کی کامل تشریح کرنے سے مخلوق عاجز ہے۔
     
    Last edited by a moderator: ‏جون 9, 2011
  4. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,018
    ’’عطائی ، حادث اورمحدود‘‘ علم غیب کی مثال​


    یہ بات اچھی طرح سمجھ لی جائے کہ عطائی حادث اور محدود ’’علم غیب ‘‘ بھی کسی مخلوق پاس نہیں ہے ایک مثال ملاحظہ ہو۔
    مثال کے طورپر صحابی رسول ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں اب صرف ان صحابی سے متلعق ’’علم غیب نبوی ‘‘ (عطائی ، حادث اور محدود) کی مثال یہ ہے۔

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پوری زندگی میں ایک دن علم غیب کی ایسی قوت دی گئی کہ صحابی رسول ابوبکررضی اللہ عنہ مکہ میں اپنی زندگی میں گذرے ہوئے ہرکل میں کیا کچھ کیا اورانے والے کل میں کیا کچھ کرنے والے ہیں ان کے دل میں ہمیشہ کیا خیالات آتے ہیں ، ان کے آگے اورپیچے کیا کیا ہے ان کی حرکت قلب کی حالت کیا ہے انہیں ہرہرقدم پر کیا نفع اورکیا نقصان ہوگا یہ کب اور اورکہاں اور کیسے اورکن حالت میں فوت ہوں گے،ان ساری چیزوں کا بیک وقت علم یہ عطائی ، حادث اوربہت ہی محدود ’’علم غیب ‘‘ ہے ۔

    محدود کی تشریح:
    مذکورہ مثال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم غیب کو کئی لحاظ سے محدود بتلایا گیا ہے۔

    الف : فرد کے لحاظ سے:
    سے یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ علم غیب صرف اور صرف ایک صحابی ابوبکررضی اللہ عنہ کی ذات میں محدود ہے۔

    ب: ظرف مکان :
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ علم غیب صرف مکہ کے علاقوں میں محدود ہے یعنی مکہ اورمدینہ کے باہر ابوبکررضی اللہ کی کیاحالت ہوتی ہے اسے اس محدود علم غیب میں شامل نہیں مانا گیا ہے۔

    ج: ظرف زمان بمتعلق معلوم اشیاء:
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ علم غیب صرف ابوبکررضی اللہ عنہ کی مدت حیات کے ساتھ محدود ہے۔

    د: ظرف زمان بمتعلق صاحب علم غیب:
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ علم غیب صرف اورصرف ایک دن کے لئے دیاگیا۔

    ہ: صادر ہونے والے حالات:
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ علم غیب صرف ان امورسے متعلق ہے جن کا صدور ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ہو یعنی کوئی کام جو ابوبکررضی اللہ عنہ نہیں کریں گے لیکن اگروہ کربیٹھیں تو کیساکریں گے اس کا علم مذکورہ مثال میں شامل نہیں کیا گیا ہے واضح رہے کہ اللہ تعالی کو یہ بھی معلوم ہے کہ جوکام کبھی نہیں ہوگا اگروہ ہو تو کیسا ہوگا۔
    ارشاد ہے:
    وَلَوْ تَرَى إِذْ وُقِفُوا عَلَى النَّارِ فَقَالُوا يَا لَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِآيَاتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ (27) {بَلْ بَدَا لَهُمْ مَا كَانُوا يُخْفُونَ مِنْ قَبْلُ وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ (28)} [الأنعام:27 ،28]

    قارئین غورفرمائیں کہ مذکورہ مثال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ’’علم غیب ‘‘ کو ہر لحاظ سے انتہائی محدود مانا گیا ہے۔

    حادث کی تشریح:
    مذکورہ مثال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم غیب کو اس قدر حادث مانا گیا ہے کہ ابو بکررضی اللہ عنہ سے قبل کسی اورسے متعلق بلکہ متعینہ دن سے قبل بھی کسی اوردن یہ علم غیب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تسلیم نہیں کیا گیاہے، واضح رہے کے فرقہ بریلویہ کے نزدیک حادث کا مطلب یہ ہے کہ جب اللہ رب العامین نے تمام کائنات سے قبل نورنبی کو پیدا کیا تو اسی وقت آپ کو یہ کمالات دئے گئے جو اس سے قبل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ کمالات حاصل نہ تھے اس لئے حادث ہوئے۔
    لیکن ہم نے مذکورہ مثال میں علم غیب کی حداثت کو تو اور مؤخر کردیا ہے۔

    عطائی کی تشریح :
    مثال میں ہم نے کہا ہے ’’ایسی قوت دی گئی‘‘ اس کا مطلب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ علم غیب عطاکیا گیا ،محض ایک دن کے لئے۔

    محترم قارئین کرام !
    یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے عطائی ، حادث اورمحدود علم غیب کی اگر آپ کسی بھی بریلوی کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس محدود علم غیب کا عقیدہ پیش کریں گے تو وہ بلاتاخیر آپ کو گستاخ رسول اور توہین رسول کا مرتکب قرار دے گا،کیونکہ وہ اس سے زیادہ مقدارمیں‌ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئےعلم غیب مانتاہے۔

    جب کہ یہی عقیدہ آپ کسی مستند اہل حدیث سلفی مفتی کے سامنے پیش کریں گے تو وہ بلاتردد اس عقیدہ کے حامل شخص کو (بلاتعیین) مشرک قرار دے گا۔
     
    Last edited by a moderator: ‏جون 9, 2011
  5. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,018
    مخلوق کے لئے علم غیب عطائی ، حادث اور محدود کی نفی پر قران سے دلیل​

    قران مجید میں بہت سی آیات ہیں جن میں کسی بھی مخلوق کے لئے مطلقا علم غیب کی نفی کی گئی ہے ، ذیل میں ہم ایک آیت پیش کرتے ہیں جس سے علم غیب عطائی ، حادث اورمحدود کے فلسفہ کی بخوبی تردید ہوتی ہے:
    {قُلْ لَا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ } [الأعراف: 188]
    آپ فرما دیجئے کہ میں خود اپنی ذات خاص کے لئے کسی نفع کا اختیار نہیں رکھتا اور نہ کسی ضرر کا، مگر اتنا ہی کہ جتنا اللہ نے چاہا اور اگر میں غیب کی باتیں جانتا ہوتا تو میں بہت منافع حاصل کرلیتا اور کوئی نقصان مجھے نہ پہنچتا میں تو محض ڈرانے والا اور بشارت دینے والا ہوں ان لوگوں کو جو ایمان رکھتے ہیں۔


    ایک اہم نکتہ :
    اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئ بھی فرمان فی نفسہ حجت ودلیل ہے ، اس فرمان کی صداقت کے لئے کسی اوردلیل کی ضرورت نہیں ہے لیکن مذکورہ آیت میں‌ اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک قول کی اللہ اوراس کے رسول کی طرف سے دلیل بھی پیش کی گئی ہے ۔ قول یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو علم غیب نہیں اور دلیل یہ ہے کہ اگر علم غیب ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی تکلیف لاحق نہ ہوسکتی تھی۔
    اس سے اس دلیل کی اہمیت وقوت واضح ہوجاتی ہے۔

    تقریراستدلال:
    مذکورہ آیت سے علم غیب عطائی ، حادث اورمحدود کی زبردست تردید ہوتی ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطائی ، حادث اورمحدود علم غیب ہی ہوتا تو ایسی صورت میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود کو مشکلات سے بچاسکتے تھے ، لیکن ایسا نہیں ہوا۔

    اسی چیز کو چند مثا لوں سے سمجھتے ہیں :

    پہلی مثال :
    ایک غیر مسلح شخص کسی ایسے جنگل میں موجود ہے جس کے ایک علاقہ میں‌ بہت ہی خطرناک اورآدم خور جانور ہیں اوراسے بذات خود اس کا علم ہے تو وہ کبھی بھی جنگل کے اس علاقہ کی طرف رخ نہیں کرے گا ، بلکہ اپنے اس علم کی بدولت خود کو اس خطرہ سے بچالے گا۔
    لیکن اگرکسی شخص کو بذات خود اس کا علم نہ ہو لیکن باوثوق ذریعہ سے اسے یہ معلومات عطا کردی گئیں ہوں تو کیا ایسی صورت میں‌ وہ اپنے آپ کو اس خطرہ سے نہیں بچائے گا؟؟؟ ہرگز نہیں بلکہ گرچہ مؤخرالذکرصورت میں اسے معلومات کسی اورنے عطاء کی ہیں‌ لیکن وہ اس صورت میں‌ بھی اپنے آپ کو خطرے اورمشکلات سے بچالے گا۔

    دوسری مثال:
    ایک شخص اچھی بصارت کا مالک ہے اوروہ ایک راستہ طے کررہا ہے اچانک سامنے وہ کیا دیکھتا ہے کہ راستے میں جس سمت وہ جارہا ہے اسی سمت ایک بہت بڑے گٹر کا دہانہ کھلا ہواہے ، یہ شخص بذات خود یہ دیکھ کر اپنے آپ کو اس گٹر وگڈھے میں گرنے سے بچالے گا۔
    لیکن ایسا شخص جوبصارت سے محروم ہے جس کے پاس آنکھیں ہی نہیں ہیں وہ بھی اسی راستے پر اوراسی سمت جارہا ہے اورجیسے وہ گٹرکے دہانے کے قریب پہونچا اسی وقت اسے یہ معلومات عطا کردی گئی کہ سامنے گٹر کا دہانہ وگڈھا ہے تو کیا اس صورت میں یہ محروم البصارۃ شخص اپنے آپ کو اس خطرہ سے نہیں بچائے گا؟؟؟ ہرگز نہیں بلکہ گرچہ مؤخرالذکرصورت میں اسے معلومات کسی اورنے عطاء کی ہیں‌ لیکن وہ اس صورت میں‌ بھی اپنے آپ کو خطرے اورمشکلات سے بچالے گا۔

    ان دونوں مثالوں کے ذریعہ یہ بات واضح ہوگئی کہ جس طرح ذاتی علم کے سبب آدمی خود کو مشکلات سے بچا لیتا ہے اسی طرح عطائی علم سے بھی آدمی خود کومشکلات سے بچا لیتاہے اب پیش کردہ آیت میں غور کریں اس میں یہ کہا گیا ہے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس علم غیب ہوتا تو آپ مشکلات میں نہ پڑتے ، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر مشکلات آئیں ، لہذا یہ جس طرح‌ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کے پاس ذاتی علم غیب نہیں ہے ٹھیک اسی طرح اس بات کی بھی زبردست دلیل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عطائی ، حادث ، محدود علم غیب بھی نہیں ہے ، ورنہ اس کے ذریعہ بھی آپ اپنے آپ کو مشکلات سے بچالیتے۔
    لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پربہت سی مشکلات آئیں ، جسم مبارک میں زخم آیا ، دانت مبارک شہید ہوئے دشمن نے کھانے میں زہر ملایا جس کا اثر بھی ہوا۔
    بلکہ آپ پر کس قدر مشکلات آئی اس کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ملاحظہ ہو:
    «يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَيُّمَا أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ، أَوْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أُصِيبَ بِمُصِيبَةٍ، فَلْيَتَعَزَّ بِمُصِيبَتِهِ بِي عَنِ الْمُصِيبَةِ الَّتِي تُصِيبُهُ بِغَيْرِي، فَإِنَّ أَحَدًا مِنْ أُمَّتِي لَنْ يُصَابَ بِمُصِيبَةٍ بَعْدِي أَشَدَّ عَلَيْهِ مِنْ مُصِيبَتِي»
    [سنن ابن ماجه 1/ 510 صححہ الالبانی]
    اے لوگو! جس انسان یا مسلمان پر کوئی مصیبت آئے تو وہ میری مصیبت (کو یاد کر کے اس) سے تسلی حاصل کرے اس مصیبت کیلئے جو میرے علاوہ دوسروں پر آئی اسلئے کہ میری امت پر میرے بعد میری مصیبت سے زیادہ گراں مصیبت ہرگز نہ آئے گی ۔

    رئیس المناظرین علامہ ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ کی تصریحات ​

    علامہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    ہمارے مخاطب کہا کرتے ہیں کہ اس آیت میں‌ علم ذاتی کی نفی ہے ، نہ وہبی کی ، ہم تو علم وہبی کے قائل ہیں، نہ کہ ذاتی کے۔ منطقی اصطلاح جاننے والے خوب جانتے ہیں کہ یہ غذرغلط ہے ۔ کیونکہ جس حصہ (استکثار خیر اورعدم مس سوء) کو اس مقدم کی تالی خدا نے بنایا ہے وہ ذاتی علم سے مخصوص نہیں بلکہ وہبی ،عطائی اورکسی کوبھی شامل ہے، مثلاایک شخص خود اسٹیشن امرتسرپاجاکردیکھتے کہ وہاں شیرپھررہاہے تووہ دوبارہ اس راستے پر نہیں جائے گا،یہ اس کا علم ذاتی ہے، دوسراشخص کسی معتبرشخص سے یہ خبرسن لے تووہ بھی نہیں جائے گا، جس طرح شیرسے بچنا علم ذاتی اورسماعی دونوں‌ پر متفرع ہے ، اسی طرح استکثارخیر اورعدم مس سوء دونوں صورتوں‌ کو لازم ہے، قران مجید کی بلاغت اوراس کے دقائق پربھی نظرکی جائے ، تواعتراف کئے بغیرچارہ نہیں کہ یہ عذر مدعیان علم غیب کا خدائی علم میں عذر لنگ تھا ، اسی لئے اس کا جواب اس نے خود ہی دے دیا ، کیونکہ قران مجید میں ’’وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ‘‘‌ کے الفاظ ہیں‌، جودونوں قسم کے علم غیب کو شامل ہیں (رسائل ثنائی :ص 72)
     
    Last edited by a moderator: ‏جون 9, 2011
  6. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,018
    مخلوق کے لئے علم غیب عطائی ، حادث اور محدود کی نفی پر حدیث‌ سے دلیل​

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الهَدْيَ [صحيح البخاري 9/ 83]
    اگر، میں (رسول) پہلے (بوقت روانگی از مدینہ ) جانتا جوبعد میں مکہ شریف آکر مجھے معلوم ہوا ہے تو میں اپنے ساتھ قربانی نہ لاتا۔

    اس سے قبل قرانی سے آیت استدلال کے ضمن میں جوکچھ کہا ہے اسے سامنے رکھتے ہوئے اس حدیث پر غورکریں گے تو معلوم ہوگا کہ یہ حدیث‌ بھی علم غیب ، عطائی ، حادث اورمحدود کے رد میں زبردست دلیل ہے۔
    مختصر یہ کے کہ آگرآپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ذاتی طورپر معلوم ہوتا تو بھی مکہ آتے وقت اپنے ساتھ قربانی نہ لاتے ، اوراگرعطائی طورپر بھی معلوم ہوتا تب بھی آپ یہ کام نہیں کرتے ۔

    لطیفہ :
    مذکورہ واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے بالکل اخیر زمانے کا واقعہ ہے اس واقعہ کے تین ماہ بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پاگئے اس بات کو ذہن میں‌ رکھ کردرج ذیل امور پرغورکریں :

    عطائی علم غیب :
    لوگ کہتے ہیں‌ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو علم غیب عطا ہوا، سوال یہ ہے کہ کیسے عطاء ہوا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو اپنی زندگی کے اخیرتک علم غیب سے ناواقف رہے ۔

    حادث‌ علم غیب :
    کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالی نے تمام مخلوقات کی تخلیق سے قبل نور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا کیا اوراسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو علم غیب عطا کردیا ، سوال یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زندگی کے اخیرتک علم غیب سے لاعلمی کا اقرار کررہے ہیں پھر اس اس علم غیب کی حداثت کی تاریخ کیا ہے؟

    محدود علم غیب:

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا علم غیب کن چیزوں‌ میں‌ محدود تھا کہ ایک اہم موڑ پر بھی اس کا ظہور نہیں ہوا، پھر اس عطا کا فائدہ ہی کیا ہوا جب کٹھن سے کٹھن موڑ پر بھی یہ کام نہ آئے۔

    الغرض یہ کہ یہ حدیث بھی اس بات کی زبردست دلیل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس علم غیب نہ تھا نہ عطائی نہ حادث اورنہ ہی محدود۔
     
    Last edited by a moderator: ‏جون 9, 2011
  7. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,018
    مخلوق کے لئے علم غیب عطائی ، حادث اور محدود کی نفی پر
    ایک فیصلہ کن اوردندان شکن دلیل

    امام طبری فرماتے ہیں:
    حَدَّثَنَا ابْنُ وَكِيعٍ، قَالَ: ثنا أَبِي، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: « أُعْطِيَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (عِلْمَ) كُلِّ شَيْءٍ إِلَّا مَفَاتِحَ الْغَيْبِ»
    عبداللہ بن فرماتے ہیں ہیں کہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوہرطرح کا علم عطا کیا گیا مگر مفاتح الغیب کا علم عطا نہیں کیا گیا۔

    [تفسیرالطبری : ج9ص282 تحقیق الدکتورعبداللہ بن عبدالمحسن الترکی ،و الزیادۃ ثابتۃ فی بعض النسخ وکذانقل الحافظ کما سیاتی والحدیث صحیح عندی بالشواہد وتابع ابن وکیع الامام احمد فی مسندہ : 1/445 وقد أورده ابن كثير 6/356 بهذا الإسناد وقال: "وهذا إسناد حسن على شرط أصحاب السنن ولم يخرجوه". وأخرجه أحمد 1/386، 438 وأبو يعلى رقم5153 من طرق عن عمر بن مرة، به نحوه. وأورده السيوطي في الدر المنثور 6/532 وزاد نسبته إلى ابن المنذر وابن مردويه.وذكره الهيثمي في مجمع الزوائد 8/266 وقال: رواه أحمد وأبو يعلى، ورجالهما رجال الصحيح. كما صحح إسناده كل من الشيخ أحمد محمد شاكر والشيخ محمود شاكر انظر: مسند أحمد، رقم3659 شاكر، الحاشية وتفسير الطبري 11/402 الحاشية. انظر:الروايات التفسيرية في فتح الباري 1/ 448 ]

    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اسی حدیث کی اس طرح نقل کیا ہے:

    وَرَوَى الطَّبَرِيُّ مِنْ طَرِيق بن مَسْعُودٍ قَالَ أُعْطِيَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِلْمَ كُلِّ شَيْءٍ إِلَّا مَفَاتِحَ الْغَيْبِ
    امام طبری رحمہ اللہ نے ابن مسعود کے طریق سے روایت کیا ہےکہ انہوں نے فرمایا: تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوہرطرح کا علم عطا کیا گیا مگر مفاتح الغیب کا علم عطا نہیں کیا گیا۔
    [فتح الباري لابن حجر 8/ 291 ]


    فلسفہ عطائی کا بطلان:
    یہ حدیث‌ حکما مرفوع ہے اس میں لفظ ’’اعطی‘‘ کے ساتھ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے غیب کی نفی کی گئی ہے یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس علم غیب عطائی بھی نہیں تھا ۔

    فلسفہ محدود کا بطلان:
    جوحضرات اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے محدود علم غیب مانتے ہیں وہ اس محدود مقدار میں مفاتیح الغیب کو لازمی طورپر شامل مانتے ہیں تفصیل کے لئے جاء الحق دیکھ لیں، لیکن مذکورہ حدیث‌ میں مفاتیح الغیب کے عطاء کی صریح طور پر نفی کی گئی ہے۔

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے عقیدہ’’علم غیب ‘‘ کا بطلان۔
    پہلے ’’علم غیب ‘‘ کی تشریح کی جاچکی ہے اسے ذہن میں رکھ کر اس بات پر غور کریں کہ کل کی بات جاننا علم غیب کا لازمی جز ہے خواہ اسے کتنا ہی محدود کیوں نہ کردیا جائے اورپیش کردہ حدیث میں ’’علم غیب‘‘ کے اس لازمی جزء کے عطا کا بھی انکار ہے، کیونکہ مفاتیح الغیب میں‌ یہ بھی شامل ہے جیسا کہ بخاری کی درج ذیل حدیث‌ سے واضح ہے:

    عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَفَاتِحُ الغَيْبِ خَمْسٌ لاَ يَعْلَمُهَا إِلَّا اللَّهُ: لاَ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ إِلَّا اللَّهُ، وَلاَ يَعْلَمُ مَا تَغِيضُ الأَرْحَامُ إِلَّا اللَّهُ، وَلاَ يَعْلَمُ مَتَى يَأْتِي المَطَرُ أَحَدٌ إِلَّا اللَّهُ، وَلاَ تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ، وَلاَ يَعْلَمُ مَتَى تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا اللَّهُ "
    صحابی رسول ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ غیب کی پانچ باتیں یا کنجیاں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا ایک تو یہ کہ کل کیا ہونے والا ہے؟ دوسرے یہ کہ عورتوں جانوروں وغیرہ کے رحموں میں کیا ہے؟ یعنی نر ہے یا مادہ یا کچھ اور تیسرے یہ کہ بارش کب ہوگی؟ چوتھے آدمی کہاں مرے گا؟ پانچویں قیامت کب آئے گی؟ یہ باتیں صرف اللہ جانتا ہے۔
    [صحيح البخاري 6/ 79 رقم4697 ]

    اس سے ثابت ہوا کہ ’’علم غیب ‘‘ کسی بھی مقدار میں کسی کو عطاء نہیں ہوا۔

    فلسفہ حادث کا بطلان:
    جب یہ ثاب ہوگیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو علم غیب عطاء ہی نہیں کیا گیا توفلسفہ حادث کی دیوار خود بخود منہدم ہوگئی۔

    خلاصہ کلام یہ کہ پیش کردہ حدیث میں مخلوق کے لئے علم غیب ، عطائی حادث‌ اورمحدود کی صریح تردید ہے۔
     
    Last edited by a moderator: ‏جون 9, 2011
  8. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,018
    صرف ’’علم غیب ‘‘ ہی نہیں ، کچھ اورصفات بھی عطائی ، حادث‌ اورمحدود​

    جس فلسفہ کے تحت اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے صفت ’’علم غیب‘‘ کا اثبات کیا جارہا ہے بعینہ اسی فلسفہ کے تحت اللہ کی متعدد صفات ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تسلیم کرلی گئی ہیں مثلا شفاء دینا ، روزی دینا ، مدد کرنا ، اولاد دینا، نفع نقصان کے مالک ہونا وغیرہ وغیرہ۔ آپ کسی بھی بریلوی عالم کے سامنے یہ اشکال رکھ کردیکھیں کہ بھائی یہ صفات تو اللہ تعالی کی ہیں اس کے جواب میں وہ یہاں بھی مذکورہ فلسفہ ہی کو اپلائی کرے گا یعنی یہی کہے گا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ صفات عطائی ، حادث اورمحدود ہیں‌۔
    ایسی صورت میں درج ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں :

    ١: اگر کوئی یہ عقیدہ رکھتاہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اندر شفاء دینے کی صفت ہے مگر یہ صفت عطائی ، حادث اور محدود ہے وہ مشرک ہے یا نہیں ؟؟؟
    ٢: اگر کوئی یہ عقیدہ رکھتاہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اندر رزق دینے کی صفت ہے مگر یہ صفت عطائی ، حادث اور محدود ہے وہ مشرک ہے یا نہیں ؟؟؟
    ٣: اگر کوئی یہ عقیدہ رکھتاہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اندر مددکرنے کی صفت ہے مگر یہ صفت عطائی ، حادث اور محدود ہے وہ مشرک ہے یا نہیں ؟؟؟
    ٤: اگر کوئی یہ عقیدہ رکھتاہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اندر اولاد دینے کی صفت ہے مگر یہ صفت عطائی ، حادث اور محدود ہے وہ مشرک ہے یا نہیں ؟؟؟
    ٥: اگر کوئی یہ عقیدہ رکھتاہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اندر نفع ونقصان پہنچانے کی صفت ہے مگر یہ صفت عطائی ، حادث اور محدود ہے وہ مشرک ہے یا نہیں ؟؟؟


    یقینا اگر مذکورہ فلسفہ کو تسلیم کرلیا جائے تو اس امت میں شرک کا امکان ہی ختم ہوجائے گا۔
    تنبیہ :
    اگرکوئی کہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے علم غیب کے اثبات پرکچھ نصوص ہیں جب کہ مذکورہ صفات کے اثبات میں‌ نصوص مفقود ہیں‌ ۔
    توعرض ہے :

    اولا:
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کسی بھی طرح کے علم غیب کے اثبات کے لئے قران وحدیث میں ایک حرف بھی نہیں ہے بلکہ اس کے برعکس اس کے انکار پر نصوص موجود ہیں ۔

    ثانیا:
    فرقہ بریلویہ مؤخرالذکرصفات کے اثبات کے لئے بھی قران وحدیث سے نصوص پیش کرتا ہے۔

     
    Last edited by a moderator: ‏جون 9, 2011
  9. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,018
    بنیادی غلطی
    ’’علم غیب‘‘ اور ’’امورغیب پرآگاہی ‘‘ میں‌ عدم تفریق​

    دراصل قران وحدیث میں اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بعض امور غیب پر آگا ہ کیا گیا ہے لیکن کج اندیشی سے کچھ لوگوں نے ’’امور غیب پر آگاہی‘‘ کو ’’علم غیب‘‘ سمجھ لیا اور دونوں‌ کو خلط ملط کردیا اس لئے ان دونوں کا فرق واضح کرنا ضروی ہے ،آئیے اس فرق کو ہم ایک مثال سے واضح کرتے ہیں:

    ’’امورغیب پر آگاہی‘‘ کی ایک ناقص مثال:
    ایک چھوٹی سی مثال دوں گا علم غیب کی نہیں علم بصارت کی اس سے شاید آپ علم غیب کی بات سمجھ لیں ۔
    فرض کیجئے میں پیدائشی طور پر بصارت سے محروم ہوں یعنی میرے پاس ذاتی علم بصارت نہیں ہے اور میں ایک سجے ہوئے ہال میں بیٹھا ہوں ، اب آپ میرے پاس آئے اوریہ بتانے لگے کہ اس حال میں فلاں جگہ یہ چیز ہے اورفلاں جگہ یہ چیز ہے ، اس ہال میں اتنے پنکھے ہیں اور اتنے بلب ہیں وغیرہ وغیرہ ۔ اب یہ تمام امور جو پہلے میرے لئے غیب تھے اب ان پر آگاہ ہوگیا تو کیا اس سے میر ے پاس ’’علم بصارت‘‘ آگئی ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ کیا یہ کہاجاسکتا ہے کہ میرے پاس عطائی ، حادث محدود علم بصارت ہے؟؟؟؟؟ہرگز نہیں ۔

    یہی معاملہ ’’علم غیب ‘‘ کا بھی ہے ’’علم غیب ‘‘ علم وادراک کی ایسی قوت ہے جس کے ذریعہ بیک وقت ہرچیز کاعلم حاصل ہو،( مزید تشریح پہلے کی جاچکی ہے )جب کہ ’’امورغیب پر آگاہی ‘‘ کا مطلب صرف یہ ہے کہ چند غیبی چیزوں سے متعلق کسی کو باخبر کردیا گیا ، اب چند مغیبات سے باخبر اورآگاہ ہوجا نے سے علم وادراک کا وہ ملکہ کسی بھی مقدار اورکسی بھی شکل میں نہیں مل سکتا جسے ’’علم غیب ‘‘ کہتے ہیں جوکہ صرف اللہ عزوجل کی صفت ہے ۔
     
  10. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,018
    ’’امورغیب پر آگاہی‘‘ سے متعلق دلائل​


    اب آئے ہم ان دلائل پر نظر کرتے ہیں جنہیں زیربحث موضوع سے متعلق پیش کیا جاتا ہے اورمعلوم کرتے ہیں کہ ان میں‌ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ’’علم غیب ‘‘ کی بات کہی گئی ہے ’’یا امورغیب پر آگاہی ‘‘ کی بات:

    پہلی دلیل:
    { وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَجْتَبِي مِنْ رُسُلِهِ مَنْ يَشَاءُ [آل عمران: 179]

    اس آیت کا ترجمہ ملفوظآت اعلی حضرت حصہ اول ص25 یوں ہے:
    اے عام لوگوں! اللہ اس لئے نہیں تمہیں غیب پر مطلع کردے، ہاں اپنے رسولوں سے چن لیتا ہے جسے چاہے۔

    قارئیں غور فرمائیں اس آیت میں‌ یہ ہرگز نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ’’علم غیب ‘‘ عطا کیا گیا بلکہ صرف یہ ہے اللہ تعالی اپنے رسولوں کو امورغیب پرمطع (آگاہ) کردیتا ہے ، اس سے کسی کو اختلاف نہیں ہے۔ لیکن اس ’’امورغیب پر آگاہی ‘‘ کو ’’علم غیب ‘‘ سمجھنا کسی بھی صورت میں درست نہیں۔

    دوسری دلیل:
    { عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا (26) إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَسُولٍ } [الجن: 26 - 28]
    ڈاکٹرطاہرقادری صاحب اس آیت کا ترجمہ کرتے ہیں :
    (وہ) غیب کا جاننے والا ہے، پس وہ اپنے غیب پر کسی (عام شخص) کو مطلع نہیں فرماتا، (٢٦) سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے

    اس آیت میں‌ بھی یہی بات ہے یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو امورغیب پرمطلع (آگاہ) کیاگیا ۔یہاں بھی ’’علم غیب‘‘ عطا کرنے کی بات ہرگز نہیں‌ ہے۔

    یہی معاملہ دیگر آیات واحادیث کا بھی ہے سب میں صرف اورصرف یہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بعض امورغیب پر آگاہ کیا گیا مگر ’’علم غیب ‘‘ عطا کئے جانے سے متعلق نہ تو قران میں کوئی آیت ہے اورنہ ہی ذخیرہ احادیث میں کوئی حدیث ۔
     
    Last edited by a moderator: ‏جون 9, 2011
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں