’’علم غیب‘‘ عطائی، حادث اور محدود ۔

کفایت اللہ نے 'مجلس علماء' میں ‏جون 8, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,018
    ہرانسان(مؤمن وکافر) امور غیب پر آگاہ ہے۔​


    مذکورہ آیات میں‌ خصوصی طور پر انبیاء و رسل کے لئے جن امورغیب پرآگاہی کی بات کہی گئی ہے اس سے مراد دینی امور ہیں جیسا کہ خود ان آیات کے سیاق وسباق سے پتہ چلتا ہے،

    چنانچہ پہلی آیت ہے
    {وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَجْتَبِي مِنْ رُسُلِهِ مَنْ يَشَاءُ فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَإِنْ تُؤْمِنُوا وَتَتَّقُوا فَلَكُمْ أَجْرٌ عَظِيمٌ } [آل عمران: 179]
    اور نہ اللہ تعالیٰ ایسا ہے کہ تمہیں غیب سے آگاه کردے، بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں میں سے جس کا چاہے انتخاب کر لیتا ہے، اس لئے تم اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھو، اگر تم ایمان ﻻؤ اور تقویٰ کرو تو تمہارے لئے بڑا بھاری اجر ہے

    اوردوسری آیت ہے :
    { عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا (26) إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَدًا (27) لِيَعْلَمَ أَنْ قَدْ أَبْلَغُوا رِسَالَاتِ رَبِّهِمْ } [الجن: 26 - 28]
    وه غیب کا جاننے واﻻ ہے اور اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا (٢٦) سوائے اس پیغمبر کے جسے وه پسند کرلے لیکن اس کے بھی آگے پیچھے پہرے دار مقرر کردیتا ہے (٢٧) تاکہ ان کے اپنے رب کے پیغام پہنچا دینے کا علم ہو جائے

    خط کشیدہ الفاظ پر غور کریں‌ دونوں آیات میں انبیاء کو امورغیب پر آگاہ کرنے کا مقصد یہ بتلایا گیا ہے تاکہ دین عام ہو، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہاں جس امورغیب پر اگاہی کو انبیاء کے لئے خاص کیا گیا ہے اس سے مراد دین سے متعلق امورغیب ہیں‌، نیز یہ کہ دوسرے مقام پر خود اللہ تعالی نے یہ ارشاد فرمادیا ہے کہ بعض امورغیب پر ہرانسان آگاہ کیا جاتاہے، دلیل ملاحظہ ہو:

    { وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ } [البقرة: 255]
    اور وه اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے مگر جتنا وه چاہے۔


    علامہ ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ کی تصریحات​

    علامہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں‌:
    قران مجید میں ماسوی اللہ سے علم کی نفی کرکے دوطرح کا استثنا ء آیا ہے، ملاحظہ ہو:
    نمبراول:{ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ } [البقرة: 255]
    نمبردوم:{ عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا (26) إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَدًا (27) لِيَعْلَمَ أَنْ قَدْ أَبْلَغُوا رِسَالَاتِ رَبِّهِمْ } [الجن: 26 - 28]

    پہلی آیت میں مستثنی مفعول ثانی یعنی علم ہے، دوسری میں مستثنی مفعول اول یعنی رسول ہے، اورغیب منوی ہے، دیکھنا یہ ہے کہ ان دونوں‌ آیتوں میں غیب(مستثنی) سے کیا مراد ہے، اس کی تحقیق ہوجانے سے آیت موصوفہ کے معنی صاف سمجھ میں آسکتے ہیں ،پس سنئے کہ پہلی آیت مؤمن ، کافر، بالغ اورنابالغ سب کو شامل ہے۔
    مضمون اس آیت کا یہ ہے کہ جس قدرعلوم دنیا کے لوگوں‌ کوحاصل ہوئےیاہورہے ہیں ،عام اس سے کہ عقلی ہوں ، یاصنعتی ، اس کے جاننے والے مؤمن ہوں‌ یا کافر وہ سب ’’إِلَّا بِمَا شَاءَ ‘‘کے ماتحت خدا کے بتائے ہوئے ہیں ، ان علوم کے جاننے والوں‌ کی تخصیص نبوت ورسالت بلکہ ایمان وکفرسے بھی نہیں ہے۔
    اس کو ملحوظ رکھ کردوسری آیت کی تفسیر سنئے دوسری آیت میں غیب سے مراد وحی الہی ہے جوانبیائے کرام پر اتراکرتی ہےمضمون آیت موصوفہ کا یہ ہے کہ علوم شرعیہ یعنی احکام متعلقہ عقائدوفرائض وغیرہ پر خدا اپنے نبیوں کو وحی کے ذریعہ مطلع کرتا ہےکسی اورکونہیں (رسائل ثنائی :ص74)

    مزید فرماتے ہیں :
    ناظرین متدبرین ! غوروتدبرسے کام لیں تو مسئلہ بالکل صاف ہے ہوجاتاہے ،صرف اتنی بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پہلی آیت میں‌ مستثنی ’’مطلعین علی العلم ‘‘ عام ہیں ،چاہے مؤمن ہوں یا کافر، خدا کے قائل ہوں یا منکر،دوسری آیت رسولوں سے مخصوص ہے۔(رسائل ثنائی :ص75)

    اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالی نے جن امورغیب پر آگاہی کو انبیاء و رسل کے لئے خاص کیا ہے ان امورغیب سے مراد وہ امور جن کا دین سے تعلق ہے ورنہ جن کا دین و شریعت سےتعلق نہیں ہے ان میں سے بعض امورغیب پرعام انسانوں کو بھی آگاہ کردیا جاتا ہے ۔

    نوٹ: واضح رہے کہ دینی امورغیب سے متعلق اللہ تعالی نے انبیاء کی جویہ خصوصیت بیان کی ہے کہ صرف انہیں ہی ان پرآگاہ کیا جاتا ہے تو اس کا مطلب بذریعہ وحی آگاہی ہے ورنہ پھر بذریعہ انبیاء، عام انسانوں کو بھی ان دینی امور پرآگاہ کردیا جاتاہے۔

    اب اگرامور غیب پر آگاہی ہی ’’علم غیب ‘‘ ہوگا تو ایسی صورت میں ہرانسان کے لئے یہ صفت ماننا ہوگا یعنی ہرانسان کے پاس ’’علم غیب‘‘ عطائی، حادث اورمحدودہے۔

    اگرنہیں تو پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بھی یہ عقیدہ نہیں رکھا جاسکتا ہے کہ آپ کے پاس ’’علم غیب ‘‘ عطائی ، حادث اورمحدود ہے۔
     
    Last edited by a moderator: ‏جون 10, 2011
  2. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,018
    جوشخص امورغیب پر آگاہ نہیں وہ مسلمان ہی نہیں ۔​

    قارئین امورغیب پرہرمسلمان آگاہ ہے اورجو انسان امورغیب پرآگاہ نہ وہ مسلمان ہی نہیں کیونکہ امورغیب پر آگاہی ہدایت کےساتھ مشروط ہے ، دلیل ملاحظہ ہو:
    {ذَلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ (2) الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ} [البقرة: 2، 3]
    اس کتاب (کے اللہ کی کتاب ہونے) میں کوئی شک نہیں پرہیزگاروں کو راه دکھانے والی ہے (٢) جو لوگ غیب پر ایمان ﻻتے ہیں۔
    قارئین اس آیت میں کہا گیا ہے کہ قران مجید ان لوگوں‌ کے لئے ہدایت ہے جو غیب پر ایمان لاتے ہیں اورغیب پر لانے کے لئے ان پر آگاہ ہونا لازم ہے ، معلوم ہوا ہر مؤمن امورغیب پر آگاہ ہوتا ہے ۔

    اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے بریلوی مفسر فرماتے ہیں:
    غیب کی دوسری قِسم وہ ہے جس پر دلیل ہو جیسے صانِعِ عالم اور اس کی صفات اور نبوّات اور ان کے متعلقات احکام و شرائع و روز آخر اور اس کے احوال ، بَعث ، نشر ، حساب ، جزا وغیرہ کا علم جس پر دلیلیں قائم ہیں اور جو تعلیمِ الٰہی سے حاصل ہوتا ہے یہاں یہی مراد ہے ، اس دوسرے قسم کے غیوب جو ایمان سے علاقہ رکھتے ہیں ان کا علم و یقین ہر مومن کو حاصل ہے اگر نہ ہو آدمی مومن نہ ہو سکے
    ( خزائن العرفان مع کنزالایمان ، تفسیرآیت مذکورہ)


    قارئین غورفرمائیں کہ بریلوی مفسر صاف طورسے اقرار کررہے ہیں کہ ایمان سے متعلق امورغیب پر آگاہی ہرمسلمان کو ہوتی ہے تو کیا ہر مسلمان کے پاس ’’علم غیب ‘‘ عطائی ، حادث اورمحدود ہے؟؟؟؟؟

    لطیفہ :
    بریلوی مفسرنے آاگے جو کچھ لکھا ہے اسے بھی ملا کرپھر سے پڑھیں :
    غیب کی دوسری قِسم وہ ہے جس پر دلیل ہو جیسے صانِعِ عالم اور اس کی صفات اور نبوّات اور ان کے متعلقات احکام و شرائع و روز آخر اور اس کے احوال ، بَعث ، نشر ، حساب ، جزا وغیرہ کا علم جس پر دلیلیں قائم ہیں اور جو تعلیمِ الٰہی سے حاصل ہوتا ہے یہاں یہی مراد ہے ، اس دوسرے قسم کے غیوب جو ایمان سے علاقہ رکھتے ہیں ان کا علم و یقین ہر مومن کو حاصل ہے اگر نہ ہو آدمی مومن نہ ہو سکے اور اللہ تعالیٰ اپنے مقرب بندوں انبیاء و اولیاء پر جو غیوب کے دروازے کھولتا ہے وہ اسی قسم کا غیب ہے
    ( خزائن العرفان مع کنزالایمان ، تفسیرآیت مذکورہ)

    لیجئے جناب بریلوی مفسر نے خود تصریح کردی کہ جس قسم کے امورغیب پر عام مسلمان کو آگاہی ہوتی ہے عین اسی قسم کے امور غیب پر انبیاء ورسل کو بھی آگاہی ہوتی ہے ، اب کیا خیال ہے ؟؟؟
    کیا اب بھی یہ تسلیم نہیں کریں‌ گے انبیاء کی طرح ہرمسلمان کے پاس بھی ’’علم غیب ‘‘ عطائی ، حادث اورمحدود ہے؟؟؟؟
     
    Last edited by a moderator: ‏جون 9, 2011
  3. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,018
    پوری امت مسلمہ امورغیب پر آگاہ​

    اگرامورغیب پر آگاہی ملنے سے علم غیب ، عطائی ، حادث اور محدود مل جاتا ہے تو اس فلسفہ کے تحت پوری امت مسلمہ کا علم غیب ، عطائی ، حادث ، اورمحدود سے متصف ہونا لازم ہے۔

    کیونکہ اوپر تفصیل سے یہ وضاحت کی جاچکی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو امورغیب پر آگا ہ ہی اسی لئے کیا گیا ہے تاکہ وہ ان امورغیب پر امت کو آگاہ کریں‌ ، اوراس فریضہ میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ذرا بھی کوتا ہی نہیں کی ہے جیساکہ قران وحدث‌ میں اس کے بھی دلائل موجود ہیں ۔

    قران سے دلائل:
    {وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِينٍ } [التكوير: 24]
    اور یہ نبی غیب بتانے میں بخیل نہیں، (ترجمہ مولانا احمد رضا)
    یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جن امورغیب پر آگاہ کیا گیا آپ نے اپنی امت کو ان سے آگاہ کرنے میں کوئی بخیلی نہیں کی ہے۔

    حدیث سے دلیل:
    صحیح مسلم کی ایک حدیث میں‌‌ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
    " إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ يَدُلَّ أُمَّتَهُ عَلَى خَيْرِ مَا يَعْلَمُهُ لَهُمْ، وَيُنْذِرَهُمْ شَرَّ مَا يَعْلَمُهُ لَهُمْ،
    مجھ سے پہلے جتنے بھی نبی گذرے ہیں‌ سب پر لازم تھا کہ اپنی امت کو ہر اس خیر اے آگاہ کردیں جن کا انہیں علم ہے اور ہراس برائی سے ڈرا دیں جس سے باخبرہیں ۔
    [صحيح مسلم 3/ 1472]
    نیز حجۃ الوداع کے موقع پرتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باقائدہ اقرار لیا کہ : أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟» ، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: اللَّهُمَّ اشْهَدْ ، یعنی اے صحابہ ! کیا میں نے پہنچا دیا لوگوں نے کہا کہ ہاں، آپ نے فرمایا اے اللہ گواہ رہنا [صحيح البخاري 2/ 176]

    اب اگر امور غیب پر آگاہ ہونا ’’علم غیب‘‘ عطائی ، حادث ، محدود کی صفت سے متصف ہونا ہے تو پوری امت مسلمہ اس سے متصف ہے !!!!!
     
    Last edited by a moderator: ‏جون 10, 2011
  4. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,018
    نبی‌ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسلام عطا ہوا نبی مسلم
    پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم تک اسلام پہنچایا ہم بھی مسلم


    جی ہاں جس طرح اللہ تبارک وتعالی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مذہب اسلام عطا کیا جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسلم ہوئے اورپھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی اسلام ہم تک پہنچایا اور پھرہم بھی مسلم ہوگئے ۔
    ٹھیک اسی طرح امورغیب پر آگاہی کا نتیجہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم اورامت دونوں کے لئے یکساں ہونا چاہئے۔
    یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم امورغیب پر آگاہ ہونے کے سبب ’’علم غیب‘‘ عطائی ، حادث اورمحدود سے متصف اسی طرح امت بھی امورغیب پر آگاہ ہونے کے سبب ’’علم غیب‘‘ عطائی ، حادث اورمحدود سے متصف۔


    جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

     
    Last edited by a moderator: ‏جون 10, 2011
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,112
    جزاک اللہ خیرا
     
Loading...
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں