اللہ تعالی کہاں ہے، اس بارے میں ائمہ کرام کے اقوال کا ترجمہ درکار ہے

عبداللہ بن صادق نے 'مَجلِسُ طُلابِ العِلمِ' میں ‏جون 12, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عبداللہ بن صادق

    عبداللہ بن صادق -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2010
    پیغامات:
    48
    میں اپنے ان بھائیوں سے یہ اقوال شیئرکرنا ہیں جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالی ہر جگہ بذات موجود ہے، مجھے تھوڑی بہت تو عربی آتی ہے مگر میں ترجمہ نہیں کرسکتا، اس لیے میں نے کچھ ائمہ کرام کے اقوال جمعہ کیے ہیں ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور ابن قیم رحمہ اللہ کے علاوہ، کیونکہ ہمارے بھائی ان کو قبول نہیں کریں گے۔
    اس لیے کوئی عربی دان ان کا ترجمہ کردے، مسلمانوں کے بڑے حصے کو ہدایت نصیب ہونے کی امید ہے:


    [ar]البيهقي في الأسماء والصفات عن مقاتل قال:
    بلغنا في قوله تعالى: هُوَ الْأَوَّلُ إلخ[الحدید ٣] هو الأول قبل كل شيء والآخر بعد كل شيء والظاهر فوق كل شيء والباطن أقرب من كل شيء، وإنما يعني القرب بعلمه وقدرته وهو فوق عرشه والذي يترجح عندي ما ذكر أولا.

    • قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: وَاللَّهُ تَعَالَى لَهُ حَدٌّ [ar]١[/ar] لَا يَعْلَمُهُ أَحَدٌ غَيره، وَلَا يجوز لأحد أَن يتَوَهَّم لحده فِي نَفْسِهِ، وَلَكِنْ يُؤْمِنُ بِالْحَدِّ ويكل علم ذَلِك إِلَى الله أَيْضًا حَدٌّ وَهُوَ عَلَى عَرْشِهِ فَوْقَ سَمَاوَاتِهِ فَهَذَانِ حَدَّانِ اثْنَانِ.
    وَسُئِلَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: "بِمَ نَعْرِفُ رَبَّنَا؟ قَالَ: بِأَنَّهُ عَلَى الْعَرْشِ، بَائِنٌ مِنْ خَلْقِهِ. قِيلَ: بِحَدٍّ؟ قَالَ: بِحَدّ" [ar]٢[/ar]

    [ar]١[/ar]لفظ الْحَد من جنس لفظ الْجِهَة والجسم والحيز وَنَحْوهَا لم ترد فِي الْكتاب وَالسّنة نفيا وَلَا إِثْبَاتًا بل هِيَ من الْأَلْفَاظ الاصطلاحية الْحَادِثَة، فَمن أطلق لفظ الْحَد نفيا أَو إِثْبَاتًا سُئِلَ عَمَّا أَرَادَ بِهِ فَإِن أُرِيد بالْقَوْل بِأَن لله حد أَنه مُنْفَصِل عَن الْخلق بَائِن مِنْهُم فَهَذَا حق كَمَا قَالَ ابْن الْمُبَارك لما قيل لَهُ: بِمَ نَعْرِفُ رَبَّنَا؟ قَالَ: بِأَنَّهُ عَلَى الْعَرْشِ بَائِنٌ مِنْ خَلْقِهِ، قيل: بِحَدّ أَي أَنه مُنْفَصِل عَن الْخلق بَائِن مِنْهُم.
    وَإِذا أُرِيد بِنَفْي أَن الْعباد لَا يعلمُونَ لله حدًّا وَلَا يحدون صِفَاته وَلَا يكيفونها فَهَذَا أَيْضا حق، وَالْخُلَاصَة أَن لفظ الْحَد لم يرد فِي الْكتاب وَالسّنة بِنَفْي، وَلَا إِثْبَات، فَمن أطلقهُ سُئِلَ عَمَّا أَرَادَ بِهِ، فَإِن قصد معنى حقًّا قبل، وَإِن قصد معنى بَاطِلا رد. انْظُر: مَجْمُوع الفتاوي لشيخ الْإِسْلَام ابْن تَيْمِية 3/ 41-43، 5/ 298-309، 6/ 38-40، وَشرح الطحاوية تَخْرِيج الألباني ص"238-240". (نقض الإمام أبي سعيد عثمان بن سعيد على المريسي الجهمي العنيد فيما افترى على الله عز وجل من التوحيد)
    [ar]٢[/ar] أخرجه عبد الله بن الإِمَام أَحْمد فِي السّنة ص"7، 35، 72" من طرق عَن ابْن شَقِيق. وَأخرجه الدَّارمِيّ أَيْضا فِي الرَّد على الْجَهْمِية، تَحْقِيق زُهَيْر الشاويش ص"50" من طَرِيق عَليّ بن الْحسن، عَن ابْن الْمُبَارك.
    وَأخرجه الْبَيْهَقِيّ فِي الْأَسْمَاء وَالصِّفَات ص"426-427" من طَرِيقين عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيق، عَن ابْن الْمُبَارك. وَصَححهُ شيخ الْإِسْلَام ابْن تَيْمِية فِي الْفَتْوَى الحموية، انْظُر: مَجْمُوع الفتاوي 5/ 51-52.
    وَصَححهُ أَيْضا ابْن الْقيم فِي اجْتِمَاع الجيوش الإسلامية ص"54".
    وَأوردهُ الذَّهَبِيّ فِي كِتَابه الْعُلُوّ وَصَححهُ، وَوَافَقَهُ الألباني، انْظُر، الْعُلُوّ للذهبي، تَصْحِيح ومراجعة عبد الرَّحْمَن مُحَمَّد عُثْمَان ص"110"، ومختصر الْعُلُوّ للألباني ص"152".
    [/ar]
     
  2. عبداللہ بن صادق

    عبداللہ بن صادق -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2010
    پیغامات:
    48
    ارے یہاں کو ئی نہیں جو میری مدد کریں!
     
  3. ابن عمر

    ابن عمر رحمہ اللہ بانی اردو مجلس فورم

    شمولیت:
    ‏نومبر 16, 2006
    پیغامات:
    13,365
  4. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,021
    یہ اقتباس علامہ الوسی رحمہ اللہ کی کتاب روح المعانی سے ماخوذ ہے ، میں نے جن حروف کو لال رنگ سے ملون ومخطوط کیا ہے وہ علامہ الوسی رحمہ اللہ ہی کے الفاظ ہیں نہ کہ امام بیھقی رحمہ اللہ کے۔

    امام بیھقی رحمہ اللہ کی اصل روایت ملاحظہ ہو:
    أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى الْكَعْبِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا أَبُو خَالِدٍ يَزِيدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا بُكَيْرُ بْنُ مَعْرُوفٍ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ، قَالَ: بَلَغَنَا، وَاللَّهُ أَعْلَمُ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {هُوَ الْأَوَّلُ} [الحديد: 3] قَبْلَ كُلِّ شَيْءٍ {وَالْآخِرُ} [الحديد: 3] بَعْدَ كُلِّ شَيْءٍ، {وَالظَّاهِرُ} [الحديد: 3] فَوْقَ كُلِّ شَيْءٍ، {وَالْبَاطِنُ} [الحديد: 3] أَقْرَبُ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ، وَإِنَّمَا يَعْنِي بِالَقُرْبِ بِعِلْمِهِ وَقُدْرَتِهِ، وَهُوَ فَوْقَ عَرْشِهِ [الأسماء والصفات للبيهقي 2/ 342]

    ترجمہ:
    امام مقاتل بن حیان رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہم تک یہ بات پہونچی ہے -واللہ اعلم- کہ اللہ تعالی کے قول {هُوَ الْأَوَّلُ} (وہی پہلے ہے) کا مطلب یہ ہے کہ ہرچیز سے پہلے وہ تھا ، اور {والآخر}(وہی پیچھے ہے) کا مطلب ہے کہ ہرچیز کے بعد وہ ہے (یعنی اللہ کے بعد کوئی نہیں ہے)، {والظاهر} (وہی ﻇاہر ہے) کا مطلب ہے وہی ہر چیز کے اوپر ہے، {والباطن}(وہی مخفی ہے) کامطلب ہے وہ ہرچیزسے قریب ہے ، اورقربت سے مراد علم اورقدرت کے اعتبارسے قربت ہے اوروہ خود عرش کے اوپرہے۔




    ِ
     
  5. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,021

    یہ اقتباس امام دارمی رحمہ اللہ کی کتاب ’’نقض الإمام أبي سعيد عثمان بن سعيد على المريسي الجهمي العنيد فيما افترى على الله عز وجل من التوحيد‘‘ سے ماخوذ ہے:

    اصل الفاظ اس طرح ہیں‌:
    قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: وَاللَّهُ تَعَالَى لَهُ حَدٌّ 1 لَا يَعْلَمُهُ أَحَدٌ غَيره، وَلَا يجوزلأحد أَن يتَوَهَّم لحده فِي نَفْسِهِ، وَلَكِنْ يُؤْمِنُ بِالْحَدِّ ويكل علم ذَلِك إِلَى الله أَيْضًا حَدٌّ وَهُوَ عَلَى عَرْشِهِ فَوْقَ سَمَاوَاتِهِ فَهَذَانِ حَدَّانِ اثْنَانِ. وَسُئِلَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: "بِمَ نَعْرِفُ رَبَّنَا؟ قَالَ: بِأَنَّهُ عَلَى الْعَرْشِ، بَائِنٌ مِنْ خَلْقِهِ. قِيلَ: بِحَدٍّ؟ قَالَ: بِحَدّ"2.
    [نقض الإمام أبي سعيد عثمان بن سعيد:1/ 224]۔

    ترجمہ:
    امام ابوسعید دارمی رحمہ اللہ نے کہا کہ اللہ تعالی کے لئے ایسی حد ہے جسے کوئی نہیں جانتا ، اورکسی کے لئے جائز نہیں کہ وہ اس بارے میں کوئی تصور قائم کرے کہ فی نفسہ اللہ تعالی کی حد کیسی ہے، بلکہ اس حد پر ایمان لائے اور اس کے علم کو اللہ پر چھوڑ دے ، اللہ تعالی کی ایک حد یہ بھی ہے کہ وہ اپنے عرش پر اپنے آسمانوں کے اوپر ہے ، پس یہ دوحدیں ہوگئیں۔
    امام عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ : ہم اپنے رب کو کیسا جانیں ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ اس طرح کہ وہ عرش پر ہے ، اوراپنے مخلوق سے الگ ہے ، پوچھا گیا کہ حد کے ساتھ ؟ عباللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے فرمایا:ہاں حد کے ساتھ ۔


    اب اس عبارت پر جوحواشی تھے آپ نے انہیں بھی نقل کیا ہے ان کا ترجمہ بھی ملاحظہ ہو:

    (1): ’’حد‘‘ کا لفظ جہت ، جسم اورحیز(جسم سے گھری ہوئی جگہ) وغیرہ کی طرح کتاب وسنت میں اثباتا یا نفیا وارد نہیں ہے ، بلکہ یہ جدید اصطلاحی الفاظ میں سے ہے ، پس جو شخص بھی لفظ حد کا استعمال نفیا یا اثباتا کرے گا اس سے اس کی مراد پوچھی جائے گی ، تو اگروہ اللہ کے لئے حد کے اثبات سے یہ مراد لے کہ وہ اپنی مخلوق سے الگ تھلگ ہے تو یہ بات حق ہے جیساکہ عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ سے جب پوچھاگیا کہ ہم اپنے رب کو کیسا جانیں ؟ تو انہوں نے فرمایا :اس طرح کہ وہ عرش پر اپنی مخلوق سے الگ تھلگ ہے ، پھر ان سے سوال ہوا کہ کیا حد کے ساتھ یعنی کیا ہمارا رب اپنی مخلوق سے الگ تھلگ ہے۔
    اوراگر حد کی نفی سے یہ مراد ہو کہ بندوں کو اللہ کی حد اور اس کی صفات کا علم نہیں ہے اوروہ اس کی کیفیت بیان نہ کریں تو یہ بھی حق ہے ۔
    خلاصہ یہ کہ لفظ ’’حد‘‘ کتاب وسنت میں نفیا یا اثباتا وارد نہیں ہے ، لہٰذا جواسے علی الاطلاق استعمال کرے اس سے اس کی مراد پوچھی جائے گی ، اگروہ حق معنی مراد لے گا تو مقبول ہوگا اور اگر باطل معنی مراد لے گا توایسا معنی مردود ہوگا۔
    دیکھئے: مَجْمُوع الفتاوي لشيخ الْإِسْلَام ابْن تَيْمِية 3/ 41-43، 5/ 298-309، 6/ 38-40، وَشرح الطحاوية تَخْرِيج الألباني ص"238-240".

    (2): اسے عبد الله بن احمد نے السنة ص"7، 35، 72" میں کئی طرق سے ابْن شَقِيق سے روایت کیا ہے۔
    اورامام دارمی نے بھی ’’الرَّد على الْجَهْمِية تَحْقِيق زُهَيْر الشاويش ص"50" ‘‘ میں عَليّ بن الْحسن کے طریق سے ابْن الْمُبَارك. سے روایت کیا ہے۔
    اورامام بیھقی رحمہ اللہ نے ’’ الْأَسْمَاء وَالصِّفَات ص"426-427" ‘‘ دو طریق سے علِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيق کے واسطے ابْن الْمُبَارك سے روایت کیا ہے اورشيخ الْإِسْلَام ابْن تَيْمِية نے الْفَتْوَى الحموية میں اسے صحیح قرار دیا ہے دیکھیں: : مَجْمُوع الفتاوي 5/ 51-52.
    اور امام ابن القیم رحمہ اللہ نے بھی اسے ’’اجْتِمَاع الجيوش الإسلامية ص"54".‘‘ میں صحیح قراردیا ہے ۔
    نیزامام ذہبی رحمہ اللہ نے اسے اپنی کتاب ’’علو‘‘ میں نقل کرکے صحیح کہا ہے اورعلامہ البانی نے بھی ان کی موافقت کی ہے دیکھئے : الْعُلُوّ للذهبي، تَصْحِيح ومراجعة عبد الرَّحْمَن مُحَمَّد عُثْمَان ص"110"، ومختصر الْعُلُوّ للألباني ص"152".


     
  6. عبداللہ بن صادق

    عبداللہ بن صادق -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2010
    پیغامات:
    48
    اللہ تعالی آپ کو اس کی بہترین جزاء عطاء فرمائے۔ اور آپ کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطاء فرمائے، اور آپ کو مزید ہدایت عطاء فرمائے۔ آپ کے اس کام سے مسلمانوں کو نفع عام عطاء کرے۔ آمین
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. عبداللہ بن صادق

    عبداللہ بن صادق -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2010
    پیغامات:
    48
    آس پر بھی کچہ نظر عنایت فرمادیں۔

    بعض حصے مجھے پورے سمجھ میں آرہے ہیں علاوہ خط کشیدہ الفاط کے، اِس لیے مخطوط حصے کا ترجمہ یا تفسیر درکارہے۔ یہ میں نے آپ کو زحمت سے بچانے کے لیے کیاہے


    هُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يَعْلَمُ مَا يَلِجُ فِي الْأَرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَمَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنْتُمْ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ- الحديد ۴

    المعية مجاز مرسل عن العلم بعلاقة السببية والقرينة السباق واللحاق مع استحالة الحقيقة، وقد أول السلف هذه الآية بذلك، أخرج البيهقي في الأسماء والصفات عن ابن عباس أنه قال فيها: عالم بكم أينما كنتم. وأخرج أيضا عن سفيان الثوري أنه سئل عنها فقال: علمه معكم، وفي البحر أنه اجتمعت الأمة على هذا التأويل فيها وأنها لا تحمل على ظاهرها من المعية بالذات وهي حجة على منع التأويل في غيرها مما يجري مجراها في استحالة الحمل على الظاهر، وقد تأول هذه الآية وتأول الحجر الأسود يمين الله في الأرض، ولو اتسع عقله لتأول غير ذلك مما هو في معناه انتهى.
    وأنت تعلم أن الأسلم ترك التأويل فإنه قول على الله تعالى من غير علم ولا نؤوّل إلا ما أوّله السلف ونتبعهم فيما كانوا عليه فإن أوّلوا أوّلنا وإن فوضوا فوضنا ولا نأخذ تأويلهم لشيء سلما لتأويل غيره، وقد رأيت بعض الزنادقة الخارجين من ربقة الإسلام يضحكون من هذه الآية مع قوله تعالى: ثُمَّ اسْتَوى عَلَى الْعَرْشِ ويسخرون من القرآن الكريم لذلك وهو جهل فظيع وكفر شنيع نسأل الله تعالى العصمة والتوفيق۔
    روح المعاني


    { إِلَّا هُوَ مَعَهُمْ }ولو كانوا في بطن الأرض فإن علمه تعالى بالأشياء ليس لقرب مكاني حتى يتفاوت باختلاف الأمكنة قربا وبعدا ،روح المعاني


    وأنه تعالى فوق سماواته على عرشه دون أرضه، وقد دل على ذلك بقوله: {أَأَمِنْتُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ أَنْ يَخْسِفَ بِكُمُ الأَرْضَ} رسالة إلى أهل الثغر بباب الأبواب
    مذکورہ بالا پر کسی بدعتی نے تعلیق لکھی تھی اُس کا رد علامہ الجزائری حفظہ اللہ نے کیا ہے، اس کا ترجمہ درکارہے (انڈرلائن)

    کتعليق: قال المصنف (130):« وأنه تعالى فوق سماواته على عرشه دون أرضه »، ثم ذكر أدلة ذلك دون بيان معنى الاستواء عنده في هذا الموضع ، إلا أن الذي لاشك فيه أن الظاهر من هذا الكلام باطل عنده ؛ فقد قال في موضع آخر (124): «كما لا يجب أن تكون نفس الباري عز وجل جسما أو جوهرا أو محدودا في مكان دون مكان ».
    أقول : إن المحقق علق على الموضع الثاني بقوله :« لعله أراد شيئا آخر »، وهو نص صريح في التعطيل ليس فيه احتمال ، والموضع الأول ربما أوهم الإثبات ، لكنا نقول النص مقدم على الظاهر والمبهم يرد إلى الواضح
    (اسلام پورط)


    {مَا يكون من نجوى ثَلَاثَة إِلَّا هُوَ رابعهم} والنجوى لَيْسَ من نوع مَا يُضَاف إِلَى الْمَكَان وَلَكِن يُضَاف إِلَى الْأَفْرَاد فَأخْبر بعلوه عَن الْأَمْكِنَة وتعاليه عَن أَن يخفى عَلَيْهِ شَيْء ثمَّ بقدرته التوحيد للماتريدي (ص: 71)


    أَأَمِنْتُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ أَنْ يَخْسِفَ بِكُمُ الْأَرْضَ فَإِذَا هِيَ تَمُورُ [الملك ۱۶]
    والسماء بمعنى العلو ، أو هي السموات المعروفة و ( في ) بمعني (على ) أي: على السماء، فتاوى الشبكة الإسلامية
    انڈرلائن لفظ سے کیا مراد ہے


    وأما الأشعرية فقالوا: إذا قلتم إنه على العرش أفضى إلى أنه يكون محدوداً أو أنه يفتقر إلى مكان وجهة تحيط به وتعالى الله عن ذلك.

    انڈرلائن کا ترجمہ
    والجواب: أنا وإن قلنا إنه على العرش كما أخبر بكتابه وأخبر به نبيه صلى الله عليه وسلم فلا نقول إنه محدود، ولا إنه يفتقر إلى مكان، ولا تحيط به جهة ولا مكان، بل كان ولا مكان ولا زمان ثم خلق المكان والزمان، واستوى على العرش (الانتصار في الرد على المعتزلة القدرية الأشرار-٢/٦٢١)
     
  8. ابن عمر

    ابن عمر رحمہ اللہ بانی اردو مجلس فورم

    شمولیت:
    ‏نومبر 16, 2006
    پیغامات:
    13,365
  9. عبداللہ بن صادق

    عبداللہ بن صادق -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2010
    پیغامات:
    48
    یہ اپ! کا کیا مطلب ہوتاہے؟
     
  10. ابو عبداللہ صغیر

    ابو عبداللہ صغیر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مئی 25, 2008
    پیغامات:
    1,980
    عبداللہ بھائی جیسا کہ آپ جانتے ہی‌ ہیں اپ کا لفظی مطلب تو اوپر ہوتا ہے۔

    جب آپ کسی ایسے تھریڈ میں کچھ پوسٹ کرتے ہیں جو نیچے چلا گیا ہو (مطلب کافی عرصہ سے اس پہ پوسٹ نہ ہوئی ہو اور اس فارم میں نئے تھریڈ بنتے رہیں ہوں) تو وہ دوبارہ اوپر آ جاتا ہے۔

    لفظ اپ لکھنے کا مقصود یہ ہوتا ہے کہ مممبران کو پتا چل جائے کہ صرف اس تھریڈ کو اوپر لانے کے لیے پوسٹ کی گئی ہے۔

    اس طرح جب ممبران اپنے جدید پیغامات چیک کرتے ہیں تو انہیں وہ تھریڈ نظر آ جاتا ہے۔
     
  11. عبداللہ بن صادق

    عبداللہ بن صادق -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2010
    پیغامات:
    48
    شکریہ،

    مجھے اِس پر کوئی اعتراض‌نہیں ہے کہ میری پوسٹ‌کہاں سے کہاں کردی ہے۔ وہ پیغام میں نے اِس لیئے بھیجا تھا، تاکہ آپ لوگ میر ی پوسٹ کی نئی لوکیشن پر مطلع ہوجائیں، اور ترجمہ میں میری مدد کریں۔
     
  12. محمدعاصم

    محمدعاصم ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 23, 2011
    پیغامات:
    58
    کچھ استفسارات

    أَأَمِنْتُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ أَنْ يَخْسِفَ بِكُمُ الْأَرْضَ فَإِذَا هِيَ تَمُورُ [الملك ۱۶]
    والسماء بمعنى العلو ، أو هي السموات المعروفة و ( في ) بمعني (على ) أي: على السماء، فتاوى الشبكة الإسلامية
    انڈرلائن لفظ سے کیا مراد ہے


    وأما الأشعرية فقالوا: إذا قلتم إنه على العرش أفضى إلى أنه يكون محدوداً أو أنه يفتقر إلى مكان وجهة تحيط به وتعالى الله عن ذلك.

    انڈرلائن کا ترجمہ
    والجواب: أنا وإن قلنا إنه على العرش كما أخبر بكتابه وأخبر به نبيه صلى الله عليه وسلم فلا نقول إنه محدود، ولا إنه يفتقر إلى مكان، ولا تحيط به جهة ولا مكان، بل كان ولا مكان ولا زمان ثم خلق المكان والزمان، واستوى على العرش (الانتصار في الرد على المعتزلة القدرية الأشرار-٢/٦٢١)
    [/size][/font][/quote]
     
  13. محمدعاصم

    محمدعاصم ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 23, 2011
    پیغامات:
    58
    اس مندرجہ بالا عبارات میں اشاعرہ کے کچھ اعتراضات ہیں
    1 یہ کہ "فی " بمعنی علی لینا تاویل نہیں کیونکہ "فی" کا اصلی معنی ظرف زمان یا مکان ہے؟
    2 یہ کہ اوپر پہلی تھریڈ میں بائن عن خلقہ کے بارے کہا گیا کہ یہ حد کے معنی میں ہیں تو یہاں ہمارا یہ کہنا "فلانقول انہ محدود " ٹھیک ہوگا؟ مطلب اوپر ہم اثبات پر تلے ہیں اور یہاں نفی کر رہے ہیں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
     
  14. عبداللہ بن صادق

    عبداللہ بن صادق -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2010
    پیغامات:
    48
    عاصم بھائی یہ تھریڈ میں کسی کو کچھ سمجھانے کے لیئے نہیں بنایا۔ بلکہ یہ اِس کا مقصد کچھ اور ہے، اِس لیئے اکثر عبارات تو میں آدھی تہائی اپنی ضرورت کی بقدر لکھیں ہیں۔ اس لیے میری اس آدھی تہاتی تھریڈ‌میں سے آپ کوئی شگوفے برآمد نہیں کریں۔ جب میں اِس بابت مکمل عوامی پوسٹ کروں گا تو آپ ضرور شوق فرمائے گا۔

    ویسے آپ غالباً دیوبندی ہیں، آپ کی پوسٹوں سے یہ مترشح ہوتا ہے، میں بھی فقہی طور سے دیوبند مسلک کا متبع ہو، اِس لئے اپنے ہم مسلک کی رگ رگ سے واقف ہوں۔ میں آپ کو بتاتاہوں کہ یہ جو میں نے منہج بیان کیا ہے یہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ ، امام عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ جو کہ اصحاب ابو حنیفہ میں سے تھے، اور امام ابوالحسن الاشعری رحمہ اللہ سے منقول ہے، بعض پہلو‌وں سے امام ماتریدی (اللہ تعالی اُن سے درگزر فرمائے، اور اُنہیں غریقِ رحمت کرے) سے بھی منقول ہے۔ اگر تقلید کرنے ہے تو اِن کی کریں، جنہیں گذرے ۱۰۰۰ سال سے زیادہ ہوگئے ہیں، نہ کہ بعد کے لوگو ں کی یا چودھویں صدی کے مولویوں کی، یہی طعنہ آپ اہل حدیث کو دیتے تھے آج آپ کیا کررہے ہیں۔ جبکہ نصوص بھی ان حضرات کا ساتھ دیتی ہیں۔

    جی نہیں ایک تو یہ تاویل نہیں ہے، دوسری بات یہ ہے کہ قرآن کی آیات کے باہم متعارض معانی نہیں کیئے جاسکتے۔

    اللہ تعالی فرماتے ہیں:

    ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ ~ [الاعراف ٥٤ ، يونس ٣، الرعد ٢، طه ٥ ، الفرقان ٥٩، السجدة ٤، الحديد ٤]

    پھر عرش پر مستوی ہوا

    ما رواه البخاري عن أنس أن زينب بنت جحش كانت تفخر على أزواج النبي صلى الله عليه وسلم تقول :" زوجكن أهاليكن ، وزوجني الله من فوق سبع سموات ".

    حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تمام بیویوں پر فخر کرتی تھیں اور کہتی تھیں کہ تمہارا نکاح تمہارے گھر والوں نے کیا اور میرا نکاح اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کے اوپر کیا (اللہ تعالی کو ساتوں آسمانوں کے اوپر بتلایاہے)

    کیا تو جانتا ہے کہ اللہ کا عرش اس کے آسمانوں پر اس طرح ہے اور آپ نے اپنی انگلیوں سے اشارہ کر کے فرمایا گنبد کی طرح اور بیشک وہ عرش الہی چرچراتا ہے جس طرح کہ کجاوہ سواری کے بیٹھنے سے چرچراتا ہے۔محمد ابن بشار نے اپنی روایت میں فرمایا کہ بیشک اللہ اپنے عرش کے اوپر ہے اور اس کا عرش آسمانوں کے اوپر ہے۔ (إسناده حسن في المتابعات والشواهد رجاله ثقات وصدوقيين عدا جبير بن محمد القرشي وهو مقبول) ابوداود

    لہذا مندرجہ بالا نصوص سے غیر متعارض معانی میں سے ایک معانی یہ ہے کہ آسمان کے معانی بلندی کے بھی ہیں، یہ تاویل نہیں یہ اِس لفظ کے معانی ہیں، تو یا تو یہ معانی مراد ہوسکتے ہیں، تو پھر کوئی مسئلہ ہی نہیں ہیں۔بات بالکل صاف ہے۔کہ اللہ تعالی جو بلندی میں ہے۔ جسے کہ

    يَخَافُونَ رَبَّهُمْ مِنْ فَوْقِهِمْ [النحل: 50]،
    إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ [فاطر:10]
    يُدَبِّرُ الْأَمْرَ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ إِلَيْهِ [السجدة: 5]"
    وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ [الأنعام:18]
    وغیر وغیرہ

    دوسرامعانی، یہ بھی قرآن ہی میں موجود ہیں۔ "فی" کو "علی" کے معانی میں لینا،1 مثلا

    قل سيروا في الأرض
    یعنی علی الارض زمین پر پھرو، ناکہ زمین کے اندر "فی الارض" پھرو۔

    اور

    ولأ صلبنكم في جذوع النخل (طہ 71) سولی دوں گا تم کو کھجور کے تنہ پر

    اب ہے "في جذوع النخل " مگر "علی" کے مطلب میں، یعنی درخت کے اندر سولی نہیں دی جاتی بلکہ درخت پر سولی دی جاتی ہے۔

    اس ہی طرح فَسِيحُوا فِي الْأَرْضِ [التوبة: 2]، أي على الأرض یعنی پھرلو زمین پر
    اور یہ تو چند مثالیں ہیں قرآن مجید اِس اِسلوب سے بھرا ہواہے۔

    أَأَمِنْتُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ أَنْ يَخْسِفَ بِكُمُ الْأَرْضَ فَإِذَا هِيَ تَمُورُ [الملک ۱۶]

    امام ابو الحسن اشعری رحمہ اللہ اِس آیت سے استدلال فرماتے تھے کہ اللہ تعالی زمین کے بجائے آسمانوں سے اوپر عرش پر ہے۔2

    اگر آپ یہ معانی نہیں کرتے تو آپ کہلیں اللہ تعالی اپنی مخلوق (آسمان) میں حلول فرماگئے ہیں۔ نعوذباللہ

    یہ تو جب ہے کہ اگر أَأَمِنْتُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ کی تفسیر اللہ تعالی سے کی جائے، اور اگر اِس سے مراد عذابِ اللہی ہو، جسے کہ ابن عباسؓ سے یہ بھی منقول ہے3 یا فرشتے وغیرہ4، تو پھر تو کوئی بحث ہی نہیں رہ جاتی

    ’’حد‘‘ کا لفظ جہت ، جسم اورحیز(جسم سے گھری ہوئی جگہ) وغیرہ کی طرح کتاب وسنت میں اثباتا یا نفیا وارد نہیں ہے ، بلکہ یہ جدید (یعنی قرآن وحدیث کے بعد اہل فن کا اختیار کردہ) اصطلاحی الفاظ میں سے ہے ، پس جو شخص بھی لفظ حد کا استعمال نفیا یا اثباتا کرے گا اس سے اس کی مراد پوچھی جائے گی۔ تو جیساکہ عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ سے جب پوچھاگیا کہ ہم اپنے رب کو کیسا جانیں ؟ الخ۔۔۔۔۔۔۔ تو یہ حد کا اثبات، اس طور پر تھا کہ اللہ تعالی اپنی مخلوق سے جدا ہے، نہ کہ متصل ہے، اور نہ ہر جگہ بذات موجود ہے۔ یہ ایک پہلو ہے حد کا۔ جس کا اثبات حق ہے۔ جسے کہ امام ابو الحسن اشعری رحمہ اللہ نے بھی فرمایا کہ اللہ تعالی زمین کے بجائے آسمانوں سے اوپر عرش پر ہے۔

    اورحد کی نفی بھی حق ہوسکتی ہے، جیسے کہ عقیدۃ الطحاویۃ میں منقول ہے۔ کہ اگر حد کی نفی سے یہ مراد ہو کہ بندوں کو اللہ کی حد اور اس کی صفات کا علم نہیں ہے اوروہ اس کی کیفیت بیان نہیں کرسکتا تو یہ بھی حق ہے ۔

    یہ تو صفات کے باب میں حد کہ نفی تھی، ذات باری تعالی کے بارے میں حد کی نفی بھی ہوسکتی ہے، جسے کہ آپ نے میری بات کو نقل کیاہے کہ "فلا نقول إنه محدود" اس سے مراد یہ ہے اللہ تعالی کو عرش نے گھیر کر محدود نہیں کردیاہے۔ عرش اللہ تعالی کی مخلوق ہے اور اللہ تعالی ذاتاً و صفاتاً اس چیز سے پاک ہیں کہ اِس کو کوئی بھی چیز احاطہ کرے۔ جیسے کہ اشاعرہ وغیرہ کو بے وجہ کے فلسفے سے خیال ہوتا تھا کہ اگر اللہ تعالی کو عرش پر مستوی مان لیں گے تو اللہ تعالی عرش سے گِھر جائے گا، اور عرشی مکان میں مقید ہو کر عرش کا محتاج ہوجائے گا۔

    إذا قلتم إنه على العرش أفضى إلى أنه يكون محدوداً أو أنه يفتقر إلى مكان وجهة تحيط به وتعالى الله عن ذلك.
    اس لئے انھوں نے بے وجہ کے خیال کردہ فلسفے سے اللہ تعالی کی تنزیہ بیان کرنے کے لئے استواء کا انکار کیا۔ اِس سیاق میں ہم کہتے ہیں کہ استواء کے اثبات سے ذات باری تعالی محدود نہیں ہو تی "فلا نقول إنه محدود" تو یہ ماقبل دعوی سے متعارض نہیں ہے۔ بلکہ اس کا سیاق وسباق سے فیصلہ ہوگیاہے۔

    اس لیے من وجہ حد کا اثبات بھی ہوسکتا ہے اور من وجہ نفی بھی۔

    خلاصہ یہ کہ لفظ ’’حد‘‘ کتاب وسنت میں نفیا یا اثباتا وارد نہیں ہے ، لہٰذا جواسے علی الاطلاق استعمال کرے اس سے اس کی مراد پوچھی جائے گی ، اگروہ حق معنی مراد لے گا تو مقبول ہوگا اور اگر باطل معنی مراد لے گا توایسا معنی مردود ہوگا۔

    اور میں نے اُن سیکڑوں ائمہ کرام کی لسٹ تو بیان ہی نہیں کری جو اِس مسئلے میں سب کے سب متفق ہیں، اور ان کا اِس پر اجماع منعقد ہوگیاہے، کیونکہ آپ فوراً کہ دیں گے کہ وہ حنفی نہیں ہیں۔


    1 الكشف والبيان عن تفسير القرآن للثعلبي (المتوفى: 427هـ)، تفسیر ابن عطیہ (ابن عطية 481 - 542 هـ )، البحر المحيط في التفسير (أبو حيّان الأندلسي المتوفى: 745هـ)

    2 رسالة إلى أهل الثغر بباب الأبواب اور مقالات الإسلاميين وإختلاف المصلين (۱/۱۶۸)
    3 تفسير البغوي للبغوی (المتوفى : 510هـ)، زاد المسير في علم التفسير (ابن الجوزي 508هـ - ھ597)، التفسير المظهري (المظهري 1143 هـ - 1225 هـ)
    اى

    4 نقل الماوردي هذا القول في تفسيره: 4/ 274 عن ابن بحر وذكره القرطبي في تفسيره:18/ 215، وأبو حيان في البحر المحيط: 8/ 302.
     
  15. محمدعاصم

    محمدعاصم ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 23, 2011
    پیغامات:
    58
    السلام علیکم ابن صادق صاحب : بھائی کیا کہنے آپ کے، سب سے پہلے تو آپ کے اطلاع کیلئے عرض ہے کہ میں کوئی دیوبندی نہیں ہوں شاید آپ یوبندیوں کے رگون سے نکل کر غلط آدمی کے ہتھے چڑھ گئے اور مجھے تو پتہ بھی نہیں تھا کہ جو شخصیت رگوں میں دوڑتا ہے اور وہ رگ رگ سے واقف ہے وہ بھی اردو مجلس میں تھریڈ لکھتا ہے ارباب اردو مجلس ہوشیار باش ۔:00039:
    بہرحال جب آپ دیوبندی فقہی مسلک سے وابستہ ہیں تو چودہ سو سال بعد تقلید بھی آپ دیوبندیون کی کر رہے ہیں میں نہیں ،اور اطلاعا آپ کیلئے عرض کروں کہ دیوبندی حضرات دیوبندیت کوئی مسلک نہیں گردانتے
    بندہ اپنے متعلق صرف یہ عرض کرتا ہے کہ الحمدللہ ایک بڑے مشیور اور مقبول اسلامی یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کررھا ہے اور مقالہ کا موضوع ہے 'الامام ابوحاتم الرازی ومصطلحآتہ الجارحہ ''
     
    Last edited by a moderator: ‏اگست 19, 2011
  16. محمدعاصم

    محمدعاصم ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 23, 2011
    پیغامات:
    58
    قرآن وحدیث اور اپنی تحقیق پر عمل پیرا ہوں حق جہاں نظر آتا ہے قبول کرلیتا ہوں ہاں دوسرے نظریے والوں کو بھی پورا موقع فراہم کرنے کے حق ہوں بجائے محض زبانی جمع خرچ کے صاف اور مضبوط دلیلوں مزین گفتگو کو پسند کرلیتا ہوں اور شاید یھی اس اصحاب حدیث کا بھی وطیرہ ہے جنہوں نے یہ ویب سائٹ بنائی ہے جنہوں نے وسعت صدر سے کام لیتے ہوئے آپ جیسے مقلد دیوبندی کو بھی قبول کیا ہے ،
     
  17. محمدعاصم

    محمدعاصم ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 23, 2011
    پیغامات:
    58
    ایک بات کی وضاحت کرتا چلوں کہ میں یہ تھریڈز اس چھوٹے سائز میں لکھ رہاہوں کہ پڑھنے میں بوریت محسوس نہ ہو اور آپ کو جواب دینے میں آسانی ہو،
    آخری ایک بات : کہ میں انبیاء کرام علیہم السلام کے علاوہ کسی کو معصوم نہیں سمجھتا چاہے وہ امام ابوحنیفۃ ہو یا امام بخآری یا حافظین ابن تیمیہ اور ابن قیم رحمہم اللہ
    ہاں مضبوط ‌دلیل میری مجبوری ہے
    باقی میرے تھریڈز سے آب کو دیوبندیت کی بو آئی ابن صادق صاحب خدا کا خوف کریں میں نے صحیح بخاری کے بارے جو لکھا ہے اس قسم کے استفسارات تو دیوبندیوں کے ہاں شاید کفر سے کم ہو
    اور عقائد کے میں جو بھی اشکالات ذھن میں آتے ہیں وہ دراصل ایک مسلسل بحث کا نتیجہ ہے جو میرے ایک دیوبندی دوست کے ساتھ روزانہ کے حساب سے چلتی رہتی ہے
    اور وہ دوست آپ اس ویڈیو میں ملاحظہ کریں
    http://www.youtube.com/watch?v=g2PYBqQ-Qao&feature=player_embedded
    اس کو ھمارے شیخ امین اللہ پشاوری خوب جانتے ہیں کیونکہ اس کا شیخ کے ساتھ کچھ مناظرے بھی ہوئے ہیں
     
  18. محمدعاصم

    محمدعاصم ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 23, 2011
    پیغامات:
    58
    باقی رہے آپ کے دلائل تو اس پر ایک ایک کرکے بات ہوگی تاکہ ہمارے اور بھائیوں کے سامنے بھی وہ اعتراضات آجائیں جو عموما مضبوط قسم کے ہوتے ہیں اور میں ارباب ویب سائٹ‌ سے کہ وہ ہمیں کھل کر اس بات کی اجازت مرحمت فرمائین تمام فرق کے اعتراضات کو جوں‌کے توں پیش کیاجائےتاکہ سب کو علمی فائدہ ہو ، شکریہ
    مجھے سب سے پہلے اجازت کی انتظار رہے گی ۔
     
  19. عبداللہ بن صادق

    عبداللہ بن صادق -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2010
    پیغامات:
    48
    اسلام علیکم،

    عاصم بھائی، یہ بہت مزے کی صورت حال ہے، میں کچھ نکات میں بیان کرتا ہوں۔

    ------اول تو آپ دیوبند نہ بھی ہوں مگر آپ نے جو اعتراض کئے ہیں اِس فورم پر وہ مشہور دیوبندی اعتراضات ہیں۔
    ------آپ نے میری معلومات میں اضافہ فرمادیا کہ آپ نے بخاری پر بھی اعتراض‌ کیا ہے، علمی طور سے بات کو سجھے کے لئے بخاری پر اشکال کرنا اور بات ہے، مگر جیسے کہ آپ نے فرمایا دیوبندیوں کے یہاں بخاری پر اعتراض کفر کی مانند ہے، یہ ایک ماضی کا قصہ ہے، اب تو جو جاہل پود آرہی ہے، وہ تو اصح الکتاب کے مرتبےسے بخاری کو گرانے میں لگے ہوئے ہیں۔ مثلا مناظر محمودعالم وغیرہ اور آپ بھی بظاہر اُن کی صف میں کھڑے ہیں۔ :)

    ------دیوبندی کو مسلک نہیں گردانتے، بات یہ ہے کہ جو بھی دیوبند آپ سے ایسی اچھی اچھی باتیں کرتا ہے، وہ اگر اُن پر عمل بھی کرتا تو آج اہل حدیث اور دیوبندی مدمقابل نہ ہوتے۔

    ------مجھے قبول کرنا یا نہ کرنا توبات یہ ہے کہ یہاں تو بدعتی اور مشرکین بھی آتے ہیں، فورم تو ڈبیٹ‌کے لئے اوپن ہوتاہے۔ رہی بات میرے دیوبندی ہونے کی تو آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ اصولی طور پر عقائد میں دیوبندی، اہل حدیث، سلفی سب ایک ہیں، ایمان کے کمی بیشی بحث بھی حقیقتاً لفظی نزاع ہے، عملاً بات ایک ہی ہوجاتی ہے۔ اور ماتریدیت وغیرہ کو دیوبندیوں کے یہاں اصولی پر قبول نہیں کیا جاتا۔ بلکہ علم الکلام سے تمسک کے وقت اُن کی پروی کی جاتی ہے، اور میں تو اِس کے بھی حق میں نہیں ہوں۔ گُھمّن گُھمَنیات آپ کو جو بھی کہانیاں سنائیں، وہ اُن کی فرقہ وارنہ دکان چلانے کے لئے ضروری ہے۔
    جو نزاع ہے وہ یا تو ہمارے حضرات کے تسامحجات ہیں یا پھر مناظروں کے دماغوں کا خلل، تو لوگوں کو چائیے کہ بزرگوں کی تفردات کو چھوڑکر قرآن و حدیث اورسلف صالحین کا اتباع کریں۔

    --------باقی جس لڑکے کو آپ نے دیکھایا ہے وہ تقریر کیا کرے گا، اُس نے تو امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے تارک دور کو اُن کا اصل دور بناکر پیش کردیا، امام صاحب کے زمانے میں تو علم الکلام انتہائی کم بختی کو پہچا ہوا تھا، امام صاحب نے اُس سے توبہ کرکے اہل سنت کے فقہ کے امام بنے،:00039: واہ سبحان اللہ! یہ گُھمّن گُھمَنیات کا کمال ہے۔عرض کیا ہے:

    جب درد حد سے گذرا تو درد ہی درما ٹھیرا
    اب جام زہر زیست کا نیا عنواں ٹھیرا


    امام صاحب رحمہ اللہ کے علم الکلام کے بارے میں توبہ کے بعد کے نظریات ملاحظہ ہو

    1 - قال الإمام أبو حنيفة: «أصحاب الأهواء في البصرة كثير، ودخلتها عشرين مرة ونيفًا وربما أقمت بها سنة أو أكثر أو أقل ظانًّا أن علم الكلام أجل العلوم» (1).
    2 - وقال: «كنت أنظر في الكلام حتى بلغت مبلغًا يشار إلي فيه بالأصابع، وكنا نجلس بالقرب من حلقة حماد بن أبي سليمان فجاءتني امرأة فقالت: رجل له امرأة أمة أراد أن يطلقها للسنة كم يطلقها؟.
    فلم أدر ما أقول فأمرتها أن تسأل حمادًا ثم ترجع فتخبرني فسألت حمادًا فقال: يطلقها وهي طاهر من الحيض والجماع تطليقة ثم يتركها حتى تحيض حيضتين فإذا اغتسلت فقد حلّت للأزواج، فرجعت فأخبرتني فقلت: لا حاجة لي في الكلام وأخذت نعلي فجلست إلى حماد» (2).
    3 - وقال: «لعن الله عمرو بن عبيد فإنه فتح للناس الطريق إلى الكلام فيما لا ينفعهم فيه الكلام» (3).
    وسأله رجل وقال: «ما تقول فيما أحدثه الناس في الكلام في الأعراض والأجسام، فقال: (مقالات الفلاسفة عليك بالأثر وطريق السلف، وإياك وكل محدثة فإنها بدعة)» (4).
    4 - قال حماد ابن أبي حنيفة: «دخل عليّ أبي - رحمه الله - يومًا وعندي جماعة من أصحاب الكلام ونحن نتناظر في باب، قد علت أصواتنا فلما سمعت حسَّه في الدار خرجت إليه فقال لي يا حماد من عندك؟ قلت؛ فلان وفلان وفلان، سميت من كان عندي، قال: وفيم أنتم؟. قلت: في باب كذا وكذا، فقال لي: يا حماد دع الكلام.
    قال: ولم أعهد أبي صاحب تخليط ولا ممن يأمر بالشيء ثم ينهي عنه. فقلت له: يا أبت ألست كنت تأمرني به، قال: بلى يا بني وأنا اليوم أنهاك عنه، قلت: ولم ذاك، فقال: يا بني إن هؤلاء المختلفين في أبواب من الكلام ممن ترى كانوا على قول واحد ودين واحد حتى نزغ الشيطان بينهم فألقى بينهم العداوة والاختلاف فتباينوا ... » (5).
    5 - وقال أبو حنيفة لأبي يوسف: «إياك أن تكلم العامة في أصول الدين من الكلام فإنهم قوم يقلدونك فيشتغلون بذلك» (6).
    هذه طائفة من أقواله - رحمه الله - وما يعتقده في مسائل أصول الدين وموقفه من الكلام والمتكلمين.
    _________
    (1) مناقب أبي حنيفة للكردي ص137.
    (2) تاريخ بغداد 13/ 333.
    (3) ذم الكلام للهروي ص28 - 31.
    (4) ذم الكلام للهروي (194/ب).
    (5) مناقب أبي حنيفة للمكي ص183 - 184.
    (6) مناقب أبي حنيفة للمكي ص373.


    ------ایک اور بات اب دیوبندیوں کا ترجمان مولانا گھمن کو سمجھاجاتاہے، مگر وہ حقیقتاً دیوبندیوں میں کوئی بڑی قدآور شخصیات نہیں ہیں۔ یہ جلسہ بھی اُنہی کاتھا، اور میں نہیں سمجھتا کہ کوئی بھی علمی شخص مولانا گھمن کے انڈرمیں کھڑاہوکرتقریر کے گا۔ مولانا نے علم دین جو واٹ‌لگائی ہے وہ شاہد ہی کسی دیوبندی نے لگائی ہو۔

    ------ اور میں نہیں سجھتا کہ کوئی بھی گُھمّنی شیخ امین اللہ پشاوری سے مناظرہ کرسکتا ہے، ہاں میری بات اور ہے مجھے اُن سے کچھ فقہی مسئلہ میں اختلاف ہے:00016:

    ------باقی میرے طرف سے آپ کو اجازت ہے کہ میری پوسٹ کردہ اقوال پر جرح کریں، اور ایک بات بتادوں کہ میں جس مسئلے پر بات کررہاہوں اُس پر اہل حدیث و سلفی مجھے سے ۱۰۰٪ متفق ہیں، تو میرا خیال ہے میں اور اہل حدیث و سلفی ہم سب یہاں ایک ہی ہیں۔

    ویسے یہاں وہ مثال صحیح بیٹھتی ہے کہ:
    مدعي سست و گواه چست

     
    Last edited by a moderator: ‏اگست 19, 2011
  20. عبداللہ بن صادق

    عبداللہ بن صادق -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2010
    پیغامات:
    48
    ایک اور بات فقہ الاکبر میں تو امام صاحب نے متکلمین کے مسلک کا رد کیاہے، اور یہ مناظر تو فقہ الاکبر سے ایسے بھاگتے ہیں جسے جسے بلی پانی سے:00005:
    اِس لڑکے کو تو بنیادی سمجھ بھی نہیں۔

    دیکھوں یہ لڑکا 18:58پر ویڈیوں میں کیا کہتا ہے، اور امام صاحب رحمہ اللہ ید کے بارے میں کیا کہتے ہیں:
    وقال: «وله يد ووجه ونفس، كما ذكره الله تعالى في القرآن، فما ذكره الله تعالى في القرآن من ذكر الوجه واليد والنفس، فهو له صفات بلا كيف ولا يقال إن يده قدرته أو نعمته، لأن فيه إبطال الصفة وهو قول أهل القدر والاعتزال الفقه الأكبر (ص: 27)

    خنجر نے میرے میرا جگر چاک کردیا
     
    Last edited by a moderator: ‏اگست 19, 2011
Loading...
Similar Threads
  1. فرهاد أحمد سالم
    جوابات:
    2
    مشاہدات:
    428
  2. فرهاد أحمد سالم
    جوابات:
    2
    مشاہدات:
    360
  3. فرهاد أحمد سالم
    جوابات:
    1
    مشاہدات:
    325
  4. طالب علم
    جوابات:
    1
    مشاہدات:
    217
  5. شفقت الرحمن
    جوابات:
    1
    مشاہدات:
    516

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں