اللہ تعالی کہاں ہے، اس بارے میں ائمہ کرام کے اقوال کا ترجمہ درکار ہے

عبداللہ بن صادق نے 'مَجلِسُ طُلابِ العِلمِ' میں ‏جون 12, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. محمدعاصم

    محمدعاصم ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 23, 2011
    پیغامات:
    58
    استواء کا حقیقی معنی بتانا پسند کرو گے ؟
     
  2. عبداللہ بن صادق

    عبداللہ بن صادق -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2010
    پیغامات:
    48
    ]

    أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْبَصْرِيُّ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ الْكُوفِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَشْرَسَ أَوْ كِنَانَةَ الْكُوفِيُّ، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ النَّضْرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحَنَفِيُّ الْكُوفِيُّ، ثنا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ الْبَصْرِيُّ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ فِي قَوْلِهِ عزوجل :( الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى) ، قَالَتْ : الِاسْتِوَاءُ غَيْرُ مَجْهُولٍ، وَالْكَيْفُ غَيْرُ مَعْقُولٍ، وَالْإِقْرَارُ بِهِ إِيمَانٌ، وَالْجُحُودُ بِهِ كُفْرٌ ، وَيُرْوَى هَذَا الْكَلَامُ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍّ ، أَنَّهُ سُئِلَ فَأَجَابَ بِمِثْلِ ذَلِكَ

    حضرت ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ استواء کا معنی معلوم ہیں، مگر اللہ تعالی کی بابت اِس کی کیفت ہماری عقل سے باہر ہے، اور اللہ تعالی کے عرش پر مستوی ہونے کا اقرار کرنا "ایمان" ہے، اور اِس کا انکار کفر ہے۔ اور اِس ہی طرح امام مالک سے بھی منقول ہے

    As Ibn-ul-Qayyim mentions in his Nooniyyah (Al-Kaafiyat-ush-Shaafiyah), the scholars of Ahl-us-Sunnah have four (4) words for istawaa:
    istaqarra, `alaa, irtafa`a and sa`ida.

    فلهم عليها عبارات أربع ... قد حصلت للفارس الطعان
    وهياستقروقدعلاوكذلكار ... تفعالذي ما فيه من نكران
    وكذاك قدصعدالذي هو أربع ... وأبو عبيدةصاحب الشيباني
    يختار هذا القول في تفسيره ... أدرى من الجهمي بالقرآن


    Therefore anyone ascribing to Ahl-us-Sunnah words like juloos (sitting) is either mistaken or deliberately lying!

    As for the first two words, `alaa and irtafa`a both of which mean the same thing (to rise, ascend or go higher), they are authenticallyreported from the Imaams of the Salaf, such as Abul-`Aaliyah and Mujaahid, and both are in Saheeh-ul-Bukhaaree in mu`allaq form and elsewhere with their complete isnaads.

    As for sa`ida its meaning is the same as the former two, and Ibn-ul-Qayyim, and before him al-Baghawee, attributed it to one of the Imaams of the Arabic ********, Aboo `Ubaidah Ma`mar ibn-ul-Muthannaa (d.209 AH) in his Tafseer. However, what we find in his tafseer Majaaz-ul-Qur'aan is the word `alaa not sa`ida, and this is also what Ibn Qutaibah and Ibn Taymeeyah attributed to him.

    As for istaqarra, which is usually translated as "to settle," it is the tafseer of Ibn Qutaibah (d.276 AH), another Imaam of the Arabic ********. He also attributed it to others without naming them, and later the Maalikee scholar Ibn `Abdil-Barr also used a similar phrase, al-istiqraar fil-`uluww, or to settle in highness. Therefore, the intended meaning of this phrase reverts to `uluww which is narrated from the Salaf.

    In conclusion, in the tafseer of istawaa, Ahl-us-Sunnah scholars use four (4) words only:
    (i), (ii) `alaa and irtafa`a, both of which are authentically reported from the Salaf;
    (iii) sa`ida, which is attributed to one of the Imaams of the Arabic ********, Aboo `Ubaidah.
    (iv) istaqarra, which is mentioned by another Imaam of the Arabic ********, Ibn Qutaibah.

    However, although the meanings of iii & iv might be correct, it is notproper to use them, because:
    a) they aren't authentically narrated from the Salaf
    b) the Imaams of Arabic whose poetry and statements can be considered evidence are those who came before 150 AH, and Ibn Qutaibah came well after that time.

    And Allah knows best.

    P.S.
    (1) Explaining meanings of words and Verses is called tafseer, and in the terminology of the Salaf it is also called ta'weel. However, when later scholars, especially the people of Kalaam and scholars of Usool-ul-Fiqh use this term, they mean something else entirely. In their usage, it means leaving the obvious and apparent meaning of a text for another meaning which is not apparent but because it is necessitated by evidence. Therefore, explaining a text with its obvious and apparent meaning, like explaining istawaa with `alaa and irtafa`a, cannot be called ta'weel according to the usage of later and contemporary scholars.

    (2) Sa`ida is also narrated from Ibn `Abbaas (radiyallaahu `anhu) but it's graded weak by al-Baihaqee and others since its isnaad contains al-Kalbee, who along with Muqaatil ibn Sulaimaan also used the word istaqarra, but both of them are unreliable and severely criticized. Also Ibn Taymeeyah attributed istaqarra to Ibn-ul-Mubaarak but without providing its isnaad or naming his source. Adh-Dhahabee, among others criticized the usage of this word."​
     
  3. محمدعاصم

    محمدعاصم ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 23, 2011
    پیغامات:
    58
    بھائی استواء کا معنی حقیقی؟؟؟؟؟؟؟؟؟
    اوپر والی روایت میں استواء کا معنی موجود نہیں بلکہ صرف معلوم بتایا گیا ہے :)
     
  4. عبداللہ بن صادق

    عبداللہ بن صادق -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2010
    پیغامات:
    48
    آپ نے مخطوط عبارت کا ترجمہ یہ کیا ہے "یادرہے کہ اس میں صراحت کے ساتھ تعطیل ہے جس میں کوئی احتمال نہیں"، مگر اِس سے تو بات نہیں سمجھ میں آرہی ہے۔ کیا اِس کا یہ ترجمہ صحیح نہیں ہے کہ "یہ نص صریح ہے اِس معاملے میں احتمال کو معطل کرنے میں"۔ اگر آپ کی ترجمے کو لے کرچلیں گے تو معلوم ہوتا ہے کہ شیخ الجزائری بھی امام ابو الحسن رحمہ اللہ کے قول کو ظاہر سے پھیرنا چاہتے ہیں۔ تو پھر تعلیق کی کس بات کی ہے۔

    یاد رہے کہ مکان کی نفی والی بات رسالے کے صفحہ نمبر ۱۲۴ پر ہے، اور استواء علی عرش ماسواء کے رسالے کے صفحہ نمبر ۱۳۰ پر بیان ہوا ہے۔ میرا مطلب یہاں موضع اول اور آخر کی وضاحت ہے۔
     
  5. عبداللہ بن صادق

    عبداللہ بن صادق -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2010
    پیغامات:
    48
    ہائے افسوس میں تو سمجھا تھا کہ جب آدمی ڈاکٹریٹ لیول تک پہنچتا ہے تو اُسے عربی کے اشعار، انگش کے اقتباس اور اردو سمجھ میں آنے لگتی ہے، بلخصوص جب کہ دعوی ہو ڈاکڑیٹ کا امام ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ پر اور اصطلاحات حدیث پر۔:00003:

    آپ ایک بات کا جواب تو دیتے نہیں نئے نئے سوالات کرتے رہتے ہیں:00038:

    آپ کو اِس قدر الجھن ہے اِس مسئلے میں تو آپ یہ بکس پڑھیں:
    إعتقاد الأئمة الأربعة أبي حنيفة ومالك والشافعي وأحمد'' المؤلف: محمد بن عبد الرحمن الخميس
    القواعد المثلی فی صفات اللہ وأسمائه الحسني للشیخ محمد بن صالح العثیمن رحمہ اللہ
     
  6. محمدعاصم

    محمدعاصم ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 23, 2011
    پیغامات:
    58
    اچھا چلو ابن صادق بھائی شروع کرتے ہیں آپ کی کونسی بات کا جواب دوں نمبروار ذکر کریں یہ استواء کا سوال آخر میں چھوڑیں۔
     
  7. عبداللہ بن صادق

    عبداللہ بن صادق -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2010
    پیغامات:
    48

    بھائی سائل تو آپ تھے، میں نہیں، آپ نے سوال پوچھا میں نے جواب دےدیا، آپ سے پوچھا گیا کہ جواب سے تشفی ہوئی کہ نہیں تو آپ فرمانےلگے "اجازت نہیں مل رہی ہے مجھے سے مزید درگت بنوانے کی" :):)

    خیر یہ تو مذاق تھا، آپ مجھے سمجھ میں نہیں آئے، آپ دعوی تو دلیل کے اتباع کا کرتے ہیں، اور دلیل سے ایسے کنی کترا کرنکل جاتے ہیں۔ میں تو آپ میں اِس لیے دلچسپی لے رہا تھا کہ چلو کوئی مضبوط الجھن کسی ساتھی کوہو تو اُس کا جواب بھی میں اپنے مضمون میں جمع کردوں۔ مگر آپ کو کوئی سمجھنے سمجھانے سے دلچسپی ہی نہیں ہے۔

    میں نے ایک مضمون لکھنا شروع کیا تھا کہ جو لوگ اِس مسئلے میں دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں میں اُن کے لئے اردو میں مواد جمع کردوں وہ بھی اُن ائمہ و علماء کرام کے حوالے سے جن پر وہ اعتماد کرتے ہیں مثلاً امام ابو حنیفہ ؒ، امام عبد اللہ بن مبارکؒ، امام ابو الحسن الاشعریؒ، اور ملاعلی القاریؒ ، عبد الحی لکھنویؒ وغیر ہ کے حوالے سے ۔ اُس مضمون میں مجھے عربی عبارات میں جن مقامات پر مجھے ترجمہ سمجھنے میں تردد ہوا تو اُن مقامات کو میں نے اردو مجلس کے علماء کے سامنے ظاہر کیا ہے تاکہ میں اِن لوگو ں کی مدد حاصل کر سکوں۔
     
  8. محمدعاصم

    محمدعاصم ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 23, 2011
    پیغامات:
    58
    اچھا جب میں نے سوال کیا تھا آپ نے جواب دیا تھا تو آپ کے جوابات میں مجھے جو محل نظر مواضع دکھائی دئیے اس کا تذکرہ بالترتیب مندرجہ ذیل ہے

    جی نہیں ایک تو یہ تاویل نہیں ہے، دوسری بات یہ ہے کہ قرآن کی آیات کے باہم متعارض معانی نہیں کیئے جاسکتے۔

    اللہ تعالی فرماتے ہیں:

    ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ ~ [الاعراف ٥٤ ، يونس ٣، الرعد ٢، طه ٥ ، الفرقان ٥٩، السجدة ٤، الحديد ٤]

    پھر عرش پر مستوی ہوا

    ما رواه البخاري عن أنس أن زينب بنت جحش كانت تفخر على أزواج النبي صلى الله عليه وسلم تقول :" زوجكن أهاليكن ، وزوجني الله من فوق سبع سموات ".

    حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تمام بیویوں پر فخر کرتی تھیں اور کہتی تھیں کہ تمہارا نکاح تمہارے گھر والوں نے کیا اور میرا نکاح اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کے اوپر کیا (اللہ تعالی کو ساتوں آسمانوں کے اوپر بتلایاہے)

    کیا تو جانتا ہے کہ اللہ کا عرش اس کے آسمانوں پر اس طرح ہے اور آپ نے اپنی انگلیوں سے اشارہ کر کے فرمایا گنبد کی طرح اور بیشک وہ عرش الہی چرچراتا ہے جس طرح کہ کجاوہ سواری کے بیٹھنے سے چرچراتا ہے۔محمد ابن بشار نے اپنی روایت میں فرمایا کہ بیشک اللہ اپنے عرش کے اوپر ہے اور اس کا عرش آسمانوں کے اوپر ہے۔ (إسناده حسن في المتابعات والشواهد رجاله ثقات وصدوقيين عدا جبير بن محمد القرشي وهو مقبول) ابوداود

    لہذا مندرجہ بالا نصوص سے غیر متعارض معانی میں سے ایک معانی یہ ہے کہ آسمان کے معانی بلندی کے بھی ہیں، یہ تاویل نہیں یہ اِس لفظ کے معانی ہیں، تو یا تو یہ معانی مراد ہوسکتے ہیں، تو پھر کوئی مسئلہ ہی نہیں ہیں۔بات بالکل صاف ہے۔کہ اللہ تعالی جو بلندی میں ہے۔

    اگر یہ تاویل نہیں تو کیا "فی " کا اصلی معنی "علی " ہے
    مستوی کا صرف ایک حقیقی معنی بتائیے حافظ ابن قیم کے اشعار میں کئی معانی بیاں کی گئی ہیں اور اسمیں ابو عبیدۃ الشیبانی کا صرف قول راجح پیش کیا گیا ہے آپ کے ہاں حقیقی معنی کیا ہے
    حجرت زینب رضی اللہ عنہا والے حدیث کی اسنادی حیثیت بیان کرکے آپ نے خود معاملہ حل کرلیا اسلئے کہ عقائد میں صرف صحیح احادیث مستدل ہوتے ہیں نہ کہ حسن اور ضعیف ۔
    عرش الہی کس وجی سے چرچراتا ھے ؟
    اس آیت اور روایت سے کس نے یہ اخذ کیا ہے کہ آسمان سے مراد بلندی ہیں اور کیسے ؟
    ایک ایک کاجواب اگر نمبروار دیدیں تو ذرہ نوازی ہوگی
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں