دکھوں،غموں اور پریشانیوں کا علاج ( قرآن و سنت کی روشنی میں )

فاروق نے 'اردو یونیکوڈ کتب' میں ‏جون 13, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,134
    [qh]بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ[/qh]
    دکھوں،غموں اور پریشانیوں کا علاج
    ( قرآن و سنت کی روشنی میں )


    اس حقیقت سے کوئی انسان انکار نہیں کرسکتا کہ دنیا میں ہر امیر غریب،نیک و بد کو قانون قدرت کے تحت دکھوں،غموں اور پریشانیوں سے کسی نہ کسی شکل میں ضرور واسطہ پڑتا ہے،لیکن وہ انسان خوش قسمت ہے جو اس غم،دکھ اور پریشانی کو صبر اور حوصلہ کے ساتھ برداشت کرتا ہے۔

    آپ آئے دن اخباروں میں پڑہتے رہتے ہیں کہ فلاں شخص نے نوکری نہ ملنے کی وجہ سے خود کشی کرلی،فلاں دوشیزہ نے محبت کی ناکامی میں اپنی جان دے دی،فلاں آدمی بیماری سے تنگ آکر پھنکے سےلٹک گیاالغرض بے شمار قسم کے واقعات دیکھنے میں آتے ہیں اور بہت سے مسلمان کلمہ پڑھنے والے بعض اوقات تھوڑی سی پریشانی کی وجہ سے موت کو گلے لگا لیتے ہیں اور ہمیشہ کے لیے جہنم چلے جاتے ہیں۔ اور آپ جانتےکہ خودکشی حرام موت ہے یعنی دنیا و آخرت دونوں تباہ [qh](خَسِرُودُنَيا والاخيره)[/qh]

    میرے بھائیو اور قابل احترام بہنوں یہ دنیا مصیبتوں ،پریشانیوں اور غموں کا گھر ہے،بعض لوگ اولاد کی نافرمانی کی وجہ سے پریشان بعض خواتین اپنے خاوند کے بے راہ روی کے متعلق غمگیں رہتی ہیں، کچھ لوگ مال، اسباب کے ختم ہوجانے پر غم میں ڈوبے رہتے ہیں، بعض لوگوں کو اولاد نہ ہونے کا غم،شاید اس لیے اللہ تعالی نے قرآن کریم میں فرمایا [qh](لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْ كَبَدٍ)[/qh]یقیناً ہم نے انسان کو (بڑی) مشقت میں پیدا کیا ہے (سورۃ البلد:4)غم،دکھ اور پریشانی کا آجانا کوئی نئی بات نہیں یہ تو اس کا ئنات کے افضل ترین انسانوں یعنی انبیائے کرام کو بھی آئیں۔
    کائنات کے امام کو بھی ایک غم تھا جس کا ذکر قرآن نے ان الفاظ میں کہا([qh]فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِيْثِ اَسَفًا[/qh])پس اگر یہ لوگ اس بات (یعنی قرآن) پر ایمان نہ لائیں تو کیا آپ ان کے پیچھے اس غم میں اپنی جان ہلاک کر ڈالیں گے۔(سورۃ الکہف:6)

    کس قدر اپنی امت کا غم ہے،کہ میری پوری امت جنت میں چلی جائے ۔قرآن کی ایک آیت تلاوت کرتے کرتے پوری رات گزر جاتی ہے۔[qh]( اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَ ۚ وَاِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ)[/qh]اگر تو انکو سزا دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو معاف فرما دے تو تو ُ زبردست ہے حکمت والا ہے(المائدہ:118)

    آج ہمیں دنیا کی فکر ہے کسی طرح ہماری دنیا اچھی ہو جائے،آخرت کی کوئی فکر نہیں،قبر کی کوئی فکر نہیں جہاں ہزاروں سال رہنا ہے روز محشر کی کوئی فکر نہیں جس کا ایک دن پچاس ہزار سال کا ہوگا۔جہنم کی کوئی فکر نہیں جس کے بارے میں ہمارے نبیﷺنے فرمایا:آگ سے بچوخواہ ایک کھجور کا ٹکڑا ہی دے کر بچ سکتے ہو (بخاری)

    ہمارے کتنے بھائی اور بہنیں بے نمازی مر رہے ہیں کوئی فکر نہیں۔
    ہمارا پڑوسی شرک و بدعات میں مبتلا ہےکوئی فکر نہیں۔
    ہمارے اردگرد فحاشی اور عریانی پھیل رہی ہے کوئی فکر نہیں۔بس ہم اپنے خیال میں مگھن ہیں۔
    دعوت و تبلیغ جیسا عظیم فریضہ ہم نے چھوڑ دیا ،اس لیے تو ہماری دعائیں قبول نہیں ہوتیں ۔
    آج اللہ نہ کرے ہمیں کوئی دکھ ،پریشانی ،یا غم آجائے تو لوگ شراب پینا شروع کردیتے ہیں، کیا ہوا بھائی جی کیا کروں بیوی سے جھگڑا ہو گیا اس غم کو بھولا رہا ہوں۔ کوئی سگریٹ پر سگریٹ پی رہا ہے،کیا ہوا بھائی صاحب نوکری چلی گئی بڑی پریشانی ہے ۔اور کچھ لوگ تو اپنی جان کی بھی پروا نہیں کرتے اور خودکشی کر لیتے ہیں، اور یہ نہیں جانتے کہ خود کشی حرام موت ہے۔
    اس تھوڑی سی تمہید کے بعد ہم اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں کہ دکھوں،عموں اور پریشانیوں کا علاج کیا ہے؟
    اگرچہ غم اور پریشانیوں کا علاج تو آج سے چودہ سو 31سال پہلے قرآن و حدیث میں بڑے احسن انداز کے ساتھ بیان کردیا گیا۔
     
  2. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,134
    پہلا علاج (اصلاح عقیدہ)

    1 پہلا علاج (اصلاح عقیدہ)

    بے شمار دکھوں،غموں اور پریشانوں کی بنیادی وجہ عقیدہ کی خرابی ہے،کتنے ہی مسائل ایسے ہیں جو عقیدہ کی نعمت سے محرومی کی بنا پر ہمارے لئے مصیبت بنے ہوئے ہیں اور بہت سارے لوگوں کا اس طرف دھیان بھی نہیں ،صحیح عقیدہ دین اسلام کی بنیاد ہے اور ملت اسلامیہ کی اساس اسی پر قائم ہے اور انسان کے تمام اقوال و افعال اسی وقت صحیح اور بارگاہ الہی میں قبول ہونگے جب اس کا عقیدہ صحیح اور درست ہوگا

    [qh](وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ )[/qh]ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو)صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو۔ (سورۃ النحل:36)

    ہر قسم کی مالی،بدنی عبادت اللہ تعالی کے لیے خاص ہو۔جس طرح اللہ تعالی قرآن کریم کی (سورۃ الانعام:162)میں فرماتے ہیں [qh](قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ)[/qh]کہہ دو میری نماز،میری قربانی،میرا جینا، میرا مرنا اللہ تعالی کے لیے ہے۔

    اللہ تعالی کائنات کے امام کو مخاطب ہیں[qh](وَلَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ)[/qh]یقیناً تیری طرف بھی اور تجھ سے پہلے (کے تمام نبیوں) کی طرف بھی وحی کی گئی ہے کہ اگر تو نے شرک کیا تو بلاشبہ تیرا عمل ضائع ہو جائے گا اور بالیقین تو زیاں کاروں میں سے ہو جائے گا (سورۃ الزمر:65)

    تمام انبیاء کی دعوت اساس عقیدہ توحید تھی اور آج بہت سارے مسلمانوں میں عقیدے کا بگاڑ ہے۔ مشکل کشا ہمارا کوئی اور ہے حاجت روا اور ہے بگڑی بنانے والا دستگیر اور ہے۔ اس لیے ہر شخص اپنے عقیدے کی اصلاح کرے۔
    ارشاد باری تعالی ہے
    [qh](اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ ۚوَمَنْ يُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰٓى اِثْمًا عَظِيْمًا )[/qh]یقیناً اللہ تعالٰی اپنے ساتھ شریک کئے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سواء جسے چاہے بخش دیتا ہے اور جو اللہ تعالٰی کے ساتھ شریک مقرر کرے اس نے بہت بڑا گناہ اور بہتان باندھا۔(سورۃ النساء:48)

    [qh](اِنَّهٗ مَنْ يُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَاْوٰىهُ النَّارُ ۭوَمَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ ) [/qh]یقین مانو کہ جو شخص اللہ کے ساتھ شریک کرتا ہے اللہ تعالٰی نے اس پر جنت حرام کر دی ہے، اس کا ٹھکانا جہنم ہی ہے اور گنہگاروں کی مدد کرنے والا کوئی نہیں ہوگا(سورۃ المائدہ:72)
     
  3. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,134
    دوسرا علاج(تقوی)

    2 دوسرا علاج(تقوی)

    جس مسلمان کو تقوی کی دولت نصیب ہو جائے وہ غموں اور پریشانیوں سے آسانی سے چھٹکارا حاصل کر سکتا ہے اللہ تعالی اس کے لیے اتنی آسانیاں اور کشادگی پیدا کردیتے ہیں کہ وہ اندازہ بھی نہیں کر سکتا۔

    [ar]( وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰٓي اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ )[/ar]
    اور اگر ان بستیوں کے رہنے والے ایمان لے آتے اور پرہیزگاری اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے۔(سورۃ الاعراف:96)
    [ar]
    اللہ اکبر( وَمَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًا وَّيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ)[/ar]
    اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لئے چھٹکارے کی شکل نکال دیتا ہےاور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جس کا اسے گمان بھی نہ ہو
    (سورۃ الطلاق:2،3)

    تفسیر یعنی آزمائشوں ،مصیبتوں،غموں اور پریشانیوں سے نکلنے کا راستہ پیدا فرمادیتا ہے اور رزق بھی عطا فرماتا ہے۔

    سورۃ الطلاق کی ہی آیت نمبر 4

    [ar]( وَمَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ اَمْرِهٖ يُسْرًا)[/ar]
    اور جو شخص اللہ تعالٰی سے ڈرے گا اللہ تعالٰی اس کے (ہر) کام میں آسانی کر دے گا۔

    حدیث نبوی ابی ذر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ( جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی[ar]( وَمَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًا)[/ar]اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لئے چھٹکارے کی شکل نکال دیتا ہے۔ تو مجھے نبی کریمﷺنے فرمایا اگر تمام لوگ اس آیت پر عمل کرنے لگ جائیں تو یہ ہی ان کی کامیابی اور نجات کے لیے کافی ہے۔(ترمذی)
     
  4. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,134
    تیسرا علاج(کثرت سے استغفار و توبہ)

    3- تیسرا علاج -(کثرت سے استغفار و توبہ)

    اللہ تعالی کی رحمت اس کے عذاب پر حاوی ہے ، انسان جب کسی مصیبت پریشانی اور غم میں مبتلا ہو جائے تو اسے چائے کہ اللہ تعالی سے کثرت کے ساتھ استغفار و توبہ کرے،یعنی فورا اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہوئے پرور دگار سے مغفرت طلب کرے، اور اس کی طرف رجوع کرے، سچی توبہ کرتے ہوئے گناہوں کو چھوڑ نے کا عہد کرے، کیونکہ اکثر مصائب انسان کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہیں
    [ar](وَمَآ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِيْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَيْدِيْكُمْ وَيَعْفُوْا عَنْ كَثِيْرٍ )[/ar]
    تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے کرتوت کا بدلہ ہے، اور وہ تو بہت سی باتوں سے درگزر فرما دیتا ہے
    (سورۃ الشوری:30)

    اور یہ تو اللہ تعالی کا بڑا فضل ہے ورنہ اگر ہمارے گناہ پر پکڑ ہوتی ، جیسا کہ سورۃ فاطر آیت 45
    [ar](وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوْا مَا تَرَكَ عَلٰي ظَهْرِهَا مِنْ دَاۗبَّةٍ)[/ar]
    اور اگر اللہ تعالٰی لوگوں پر ان کے اعمال کے سبب دارو گیر فرمانے لگتا تو روئے زمین پر ایک جاندار کو نہ چھوڑتا۔

    انسان جب گناہ کرتا ہے تو اس کا نتیجہ پریشانی اور غم کی صورت میں سامنے آتا ہے کیونکہ گناہ کی لذت وقتی اور عارضی ہوتی ہے، اور گناہوں کی نحوست اس کے دن کا آرام اور راتوں کی نیند چھین لیتی ہے۔
    سورۃ ہود:3
    [ar] (وَّاَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْٓا اِلَيْهِ يُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى)[/ar]
    اور یہ کہ تم لوگ اپنے گناہ اپنے رب سے معاف کراؤ پھر اس کی طرف متوجہ رہو، وہ تم کو وقت مقرر تک اچھا سامان (زندگی) دے گا۔ نوح علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو یہ ہی درس دیا،

    جس کا ذکر اللہ تعالی نے سورۃ نوح آیت 10،11،12،13 میں کیا
    [ar](فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ۭ اِنَّهٗ كَانَ غَفَّارًا يُّرْسِلِ السَّمَاۗءَ عَلَيْكُمْ مِّدْرَارًاوَّيُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّبَنِيْنَ وَيَجْعَلْ لَّكُمْ جَنّٰتٍ وَّيَجْعَلْ لَّكُمْ اَنْهٰرًا مَا لَكُمْ لَا تَرْجُوْنَ لِلّٰهِ وَقَارًا)[/ar]
    اور میں نے کہا کہ اپنے رب سے اپنے گناہ بخشواؤ (اور معافی مانگو) وہ یقیناً بڑا بخشنے والا ہےوہ تم پر آسمان کو خوب برستا ہوا چھوڑ دے گااور تمہیں خوب پے درپے مال اور اولاد میں ترقی دے گا اور تمہیں باغات دے گا اور تمہارے لئے نہریں نکال دے گا۔تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی برتری کا عقیدہ نہیں رکھتے۔ اللہ اکبر۔

    رسول اللہ ﷺنے فرمایا جو پابندی سے استغفارکرتا ہے۔اللہ تعالی اس کے لیے ہر فکر سے کشادگی اور ہر تنگی سے راستہ بنا دیتا ہے،اور اس کو ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے جو اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں
    (ابوداود و ابن ماجہ)
     
  5. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,134
    چوتھا علاج(اللہ تعالی کا ذکر)

    4-- چوتھا علاج(اللہ تعالی کا ذکر)

    [ar](اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَتَطْمَىِٕنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِ ۭ اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَـطْمَىِٕنُّ الْقُلُوْبُ)[/ar]
    جو لوگ ایمان لائے ان کے دل اللہ کے ذکر سے اطمینان حاصل کرتے ہیں۔ یاد رکھو اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو تسلی حاصل ہوتی ہے۔
    (سورۃ الرعد:28)
    ذکر اللہ سے مراد اللہ تعالی کی توحید بھی ہے ذکر اللہ سے مراد دعا،تلاوت قرآن،نوافل بھی ہے۔حدیث نبوی: کائنات کے امام کا فرمان جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے،وہ درست ہو تا ہے تو سارا جسم صحیح ہوتا ہے، اور جب وہ خراب ہوتا ہے تو سارا جسم انسانی خراب ہوجاتا ہے اور وہ دل ہے (بخاری)

    [ar](فَاذْكُرُوْنِيْٓ اَذْكُرْكُمْ)[/ar]
    (سورۃ البقر ۃ:152)
    اس لئے تم میرا ذکر کرو میں بھی تمہیں یاد کروں گا۔
    حدیث قدسی :ابو ہریرہ -اللہ تعالی فرماتا ہے۔میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں جیسا وہ مجھ سے گمان رکھے جب وہ میرا ذکر کرتا ہے میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں اگر اپنے جی میں ذکر کرے تو میں بھی اسے اپنے جی میں یاد کرتا ہوں،اور اگر وہ کسی مجلس میں میرا ذکر کرے تو میں اس سے بہتر مجلس میں اس کا ذکر کرتا ہوں (بخاری و مسلم)

    ذکر اللہ کا فائدہ جس کے ساتھ اللہ تعالی ہو جائے پھر پریشانیاں ،دکھ اور غم اس کے قریب آیئں گے۔
    [ar]( وَالذّٰكِرِيْنَ اللّٰهَ كَثِيْرًا وَّالذّٰكِرٰتِ ۙ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّاَجْرًا عَظِيْمًا)[/ar]
    بکثرت اللہ کا ذکر کرنے والے اور ذکر کرنے والیاں (ان سب کے)لئے اللہ تعالٰی نے (وسیع مغفرت)اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے
    (سورۃ الاحزاب:35)

    انبیاء علیہ السلام کو بھی اللہ تعالی نے ذکر کرنے کا حکم دیا
    (سورۃ آل عمران:38)
    جب ذکریا علیہ السلام اللہ تعالی سے دعا کرتے ہیں
    [ar](ھُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهٗ ۚ قَالَ رَبِّ ھَبْ لِيْ مِنْ لَّدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً ۚ)[/ar]
    (اسی جگہ زکریا (علیہ السلام)نے اپنے رب سے دعا کی، کہا کہ اے میرے پروردگار مجھے اپنے پاس سے پاکیزہ اولاد عطا فرما)
    [ar]( اِنَّكَ سَمِيْعُ الدُّعَاۗءِ)، [/ar]بیشک تو دعا کا سننے والا ہے۔

    [ar](وَاذْكُرْ رَّبَّكَ كَثِيْرًا وَّسَبِّحْ بِالْعَشِيِّ وَالْاِبْكَارِ)[/ar]
    تو اپنے رب کا ذکر کثرت سے کر اور صبح شام اسی کی تسبیح بیان کرتا رہ ۔(سورۃ آل عمران:41)

    یونس علیہ السلام ایک بہت بڑے غم ،پریشانی اور دکھ و مصیبت میں مبتلا ہوتے ہیں ایک بہت بڑی مچلی اللہ کے حکم سے ان کو نگل کر سمندر کی تہہ میں جا بیٹھتی ہے،رات کا اندھیرا، مچھلی کے پیٹ کا اندھیرا،اور سمندر کی تہہ کا اندھیرا
    [ar](فَنَادٰي فِي الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ ڰ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ )[/ar]
    بالا آخر وہ اندھیروں کے اندر سے پکار اٹھا کہ الٰہی تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے بیشک میں ظالموں میں ہوگیا۔
    (سورۃ الانبیاء:87)

    [ar](فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ ۙ وَنَجَّيْنٰهُ مِنَ الْغَمِّ)[/ar]تو ہم نے اس کی پکار سن لی اور اسے غم سے نجات دے دی۔
    [ar](وَكَذٰلِكَ نُـــــْۨـجِي الْمُؤْمِنِيْنَ )[/ar]
    اور ہم ایمان والوں کو اسی طرح بچا لیا کرتے ہیں ۔
    (سورۃ الانبیاء:88)

    [ar](فَلَوْلَآ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِيْنَ)[/ar]
    پس اگر یہ پاکی بیان کرنے والوں میں سے نہ ہوتے۔
    (سورۃ الصافات:143)

    اور اس سے پہلے کہا۔
    [ar](لَـلَبِثَ فِيْ بَطْنِهٖٓ اِلٰى يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ)[/ar]
    تو لوگوں کے اٹھائے جانے کے دن تک اس کے پیٹ میں ہی رہتے۔

    ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپﷺنے فرمایا، دو کلمے ایسے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں لیکن قول میں وزنی ہیں اور اللہ کو محبوب ہیں
    [ar](سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ)متفق علیہ[/ar]

    ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا
    [ar]( سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَکْبَرُ) [/ar]
    کہنا میرے نزدیک ہر اس چیز سے محبوب ہے جس پر سورج طلوع ہوتا ہے۔(مسلم)
    اندازہ کریں سورج جب طلوع ہوتا ہے تو اس کی روشنی تمام چیزوں پر پڑتی ہے۔

    رسول اللہ ﷺنے فرمایا جو شخص[ar](سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ)[/ar]کہتا ہے اس کیلئے جنت میں کھجور کا ایک درخت لگا دیا جاتا ہے۔(ترمذی)

    ابوذربیان فرماتے ہیں کہ نبی ﷺنےارشاد فرمایا کیا میں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ تمہیں نہ بتاؤں ؟ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسولﷺ!ضرور بتایں۔ فرمایا کہو[ar]( لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ)[/ar](ابن ماجہ)

    جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی اکرمﷺسے سنا افضل ذکر
    [ar]( لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ)[/ar]اور افضل دعا[ar]( الْحَمْدُ لِلَّهِ)ہ[/ar]ے۔
    (ترمذی)
     
  6. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,134
    پانچواں علاج(نیک اعمال)

    5) پانچواں علاج(نیک اعمال)
    اللہ تعالی نے قرآن پاک میں جگہ جگہ نیک اعمال کرنے کا حکم اور ترغیب دی ہے، اور یہ وضاحت بھی فرمائی ہے کہ نیک اعمال ہی دنیا اور آخرت کی فلاح کا راستہ ہیں۔جہاں نیک اعمال کا اہتمام انسان کی کامیابی کی بنیاد ہے، وہاں غموں،پریشانیوں اور دکھوں سے بچنے کا ذریعہ بھی ہے۔ اللہ تعالی نے (سورۃ النمل:97)فرمایا(مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً ۚ وَلَـنَجْزِيَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ)جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت، لیکن با ایمان ہو تو ہم یقیناً نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے۔(حَيٰوةً طَيِّبَةً) بہترزندگی سے مراددنیا کی زندگی ہے،یعنی دنیا کی زندگی میں بھی وہ خوش اور اسے سکون ملے گا،دوسرا فائدہ اور آخرت میں بھی جو اس نے نیک اعمال کیے تھے اچھا بدلہ دیا جائے گا۔( اِنَّا لَا نُضِيْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًا )ہم کسی نیک عمل کرنے والے کا ثواب ضائع نہیں کرتے ۔(سورۃ الکہف:30)۔مسلم شریف کی روایت:انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کی کہ نبی کریمﷺنے فرمایا،اللہ تعالی مومن آدمی کی نیکی ضائع نہیں کرتا اسے دنیا میں بھی اس کا بدلہ مل جاتا ہے اور اخرت میں بھی اجر دیا جائے گا،جبکہ کافر کو دنیا میں ہی اس کا بدلہ مل جاتا ہے مگر آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں۔
    ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے ارشاد فرمایا دنیا مومن کے لئے قید خانہ ہے اور کافر کے لیے جنت ہے۔ (مسلم)
    ایک مومن خوب سمجھتا ہے کہ دنیا مصیبت ،دکھ اور پریشانیوں کا گھر ہےاسے تو حقیقت میں اس وقت آرام محسوس ہو گا جب وہ دنیا کے مصیبت خانہ سے نکل جائے گا۔
    حدیث نبوی:ابو قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ،ایک دفعہ نبی کریمﷺکے سامنے سے ایک جنازہ گذرا کائنات کے امام نے فرمایا آرام پانے والا یا آرام دینے والا،صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کو سمجھ نہیں آئی ،کائنات کے امام نے فرمایا ایماندار نیک عمل کرنے والا بندہ تو مر کر دنیا کی تکالیف،مصیبتوں اور غموں سے نجات پاکر اللہ تعالی کی رحمت میں آرام پاتا ہے، اور بے ایمان،فاسق و فاجرکے مرنے سے دوسرے لوگ،شجر،درخت اور چوپائے آرام پاتے ہیں۔(ابن ماجہ)اس لیے اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی زندگی خوشحال اورپر سکون ہو تو نیک اعمال میں جلدی کریں ۔جیسا کہ کائنات کے امام نے فرمایا(عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا أَوْ يُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا يَبِيعُ دِينَهُ بِعَرَضٍ مِنْ الدُّنْيَا)ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا کہ ان فتنوں کے ظاہر ہونے سے پہلے جلد جلد نیک اعمال کرلو جو اندھیری رات کی طرح چھا جائیں گے صبح آدمی ایمان والا ہوگا اور شام کو کافر یا شام کو ایمان والا ہوگا اور صبح کافر اور دنیوی نفع کی خاطر اپنا دین بیچ ڈالے گا۔
    دکھوں،غموں اور پریشانیوں سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیکیوں کی طرف جلدی کریں۔اعمال صالح نیک اعمال میں سے شمار ایسی نیکیاں ہیں جو ظاہر طور پر ہلکی پھلکی ہیں ،جہنیں ہم معمولی سمجھ کر ضائع کردیتے ہیں،حالانکہ قطرے قطرے سے سمندر بنتا ہے،کئی چھوٹی چھوٹی نیکیاں مل کر ایک بہت بڑےاجر و ثواب کا باعث بن سکتی ہیں پھر ہمیں یہ بات بھی یاد رکہنی چاہے کہ بعض اوقات اللہ تعالی کسی انسان کی معمولی سے نیکی کی وجہ سے اس کی مغفرت کر دیتا ہے جیسا کہ حدیث نبوی:ابوہریرہ سے روایت ہے، کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ ایک آدمی چل رہا تھا، اسی دوران میں اسے پیاس لگی وہ ایک کنویں میں اترا اور اس سے پانی پیا، کنویں سے باہر نکلا تو دیکھا کہ ایک کتا ہانپ رہا ہے اور پیاس کی وجہ سے کیچڑ چاٹ رہا ہے، اس نے کہا کہ اس کو بھی ویسی ہی پیاس لگی ہوگی جیسی مجھے لگی تھی،چنانچہ اس نے اپنا موزہ پانی سے بھرا پھر اس کو منہ سے پکڑا پھر اوپر چڑھا اور کتے کو پانی پلایا اللہ نے اس کی نیکی قبول کی، اور اس کو بخش دیا، لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ کیا چوپائے میں بھی ہمارے لئے اجر ہے، آپﷺنے فرمایا ہر تر جگر والے یعنی جاندار میں ثواب ہے۔(بخاری)
    جبکہ بعض اوقات ایک معمولی سا گناہ بھی کسی انسان کو رحمت الہی سے دور کردیتا ہے۔اسماء بنت ابی بکر سے روایت ہے، کہ نبیﷺنے کسوف کی نماز پڑھی، اور فرمایا کہ مجھ سے دوزخ قریب ہوگئی یہاں تک کہ میں نے کہا کہ اے پروردگار!کیا میں بھی ان دوزخیوں کے ساتھ ہوں گا!اتنے میں میری نظر ایک عورت پر پڑی، میں نے خیال کیا کہ اس کو ایک بلی نوچ رہی ہے، آپ نے پوچھا کہ یہ کیا بات ہے؟ تو فرشتوں نے کہا کہ اس عورت نے بلی کو روک رکھاتھا، یہاں تک کہ بھوک کے سبب سے مر گئی(بخاری)
    آج دنیا کی زندگی میں شاید ہمیں نیکیوں کی قدر قیمت کا احساس نہیں لیکن کل قیامت کے دن یہ ہی وہ چھوٹی چھوٹی نیکیاں ہونگی جو ہمارے نامہ اعمال کو بھر دیں گی اس لیے نیک اعمال کرکے اس دنیا کو بھی اچھا بنائیں اور اپنی آخرت کو بھی سنواریں تاکہ اللہ تعالی کی رضا مندی اور خوشنودی حاصل ہو۔آئیے چند ایک نیکیوں کی طرف نظر ڈالیں۔
    (1)اچھی نیت کرنا (2)کسی مسلمان کی مدد کرنا (3)کسی مسلمان کی عیب کی پردہ پوشی کرنا (4)نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا (5)سوموار اور جمعرات کا روزہ رکھنا (6)نماز جنازہ پڑھنا (7)دینی علم سیکھنا (8)پہلے سلام کرنا اور سلام کا جواب دینا (9)پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرنا (10)صلح کرادینا (11)جماعت میں صف کے خلا کو پر کردینا (12)صلہ رحمی کرنا (13)تلاوت قرآن کریم (14)زبان کو قابو میں رکھنا (15)فرض نماز کے بعد اذکار (16)جمعہ کے دن جلدی مسجد جانا (17)وضو کے بعد دعا پڑہنا (18)پہلی صف میں دائیں طرف نماز پڑہنا (19)اللہ سے دعا کرنا (20)ذکر اللہ کرتے رہنا (21)درود شریف پڑہنا
    ستر ہزار فرشتوں کی دعا اور شہادت کی موت ۔حدیث:معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرمﷺنے فرمایا جو شخص صبح کے وقت ( أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنْ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ) تین مرتبہ پڑھنے کے بعد سورة الحشر کی آخری تین آیتیں پڑھے۔ اللہ تعالی اس کے لئے ستر ہزار فرشتے مقرر کر دیتے ہیں۔ اور اگر وہ اس دن مر جائے تو اس کا شمار شہیدوں میں ہوتا ہے۔ نیز اگر کوئی شام کو پڑھے تو اسے بھی یہی مرتبہ عطاء کیا جائے گا۔(ترمذی)
     
  7. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,134
    چھٹا علاج(یہ شعور کہ غم گناہوں کی بخشش کا ذریعہ ہیں)

    6) چھٹا علاج(یہ شعور کہ غم گناہوں کی بخشش کا ذریعہ ہیں)
    ایک سچا مسلمان اس بات کو جانتا ہے کہ اسے دنیا میں جو بھی چھوٹا بڑا غم یا پریشانی لاحق ہوتی ہے اس کے بدلے اس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں جیسا کہ صادق ومصدوق جناب محمد رسول اللہﷺنے فرمایامسلمانوں کو جب کوئی رنج، دکھ فکر، حزن ایذاء اور غم پہنچتا ہے یہاں تک کہ کانٹا چبھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ اس کے گناہ دور کر دیتا ہے۔ (بخاری ومسلم)
    اس حدیث کی روشنی میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ایک مسلمان کو پہنچنے والا ہر غم اور پریشانی دکھ محض بیکار نہیں بلکہ اس کی نیکیوں اور اچھائیوں میں اضافے اور اس کے گناہوں میں کمی کا باعث ہے۔(شرط)یہ ہے کہ انسان کا عقیدہ درست ہو اور وہ صبر کرے۔علمائے سلف میں سے بعض نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ اگر غم نہ ہوتے تو ہم قیامت کے دن مفلس اور خالی ہوتے،ان میں سے بعض وہ بھی تھےجو غم پریشانی اور مصیبت پر ایسے ہی خوش ہوتے جیسے ہم کوئی نعمت ملنے پر خوش ہوتےہیں۔کسی کی غلطی کی سزا اللہ تعالی اسے دنیا میں ہی دے دے اور آخرت کا عذاب اس سے ختم کر دیا جائے تو اس سے بڑکر اور کیا بات ہوگی۔مسند احمد میں یہ روایت ہے کہ عبداللہ بن مغفل کہتے ہیں ۔ایک آدمی کی ملاقات ایسی عورت سے ہوئی جو زمانہ جاہلیت میں جسم فروشی کیا کرتی تھی،اس آدمی نے اس عورت سے چھیڑ خانی شروع کردی اس عورت نے کہا رک جاؤ اللہ تعالی نے زمانہ جاہلیت کا دور ختم کردیا ہے،اور ہمیں اسلام کی طرف ہدایت دی ہے، جب اس نے یہ الفاظ سنے تو گھبرا کر جلدی سے پیچھے ہٹ گیا، کہ اچانک اس کا چہرا دیوار سے رگڑ کھا کر زخمی ہوگیا، وہ آدمی کائنات کے امام کے پاس گیا،اور سارا ماجرا سنایا،کائنات کے امام نے فرمایا اے بندے اللہ تعالی نے تیرے ساتھ بھلائی کا ارادہ کیا ہے،کیونکہ جب اللہ تعالی کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے ،تو اس کو اس گناہ کی سزا بہت جلد دے دیتا ہے،اور جب کسی کے ساتھ برائی کا ارادہ ہو تو اس کی سزا قیامت تک کے لیے مؤخر کردیتا ہے ،تاکہ اس کو جہنم کی آگ میں پھنکے(ابن ماجہ)
    اس لیے اگر دنیا میں کوئی غم ، کوئی پریشانی یا تکلیف آئے تو صبر کریں۔
     
  8. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,134
    ساتواں علاج(موت کو یاد رکھنا)

    7) ساتواں علاج(موت کو یاد رکھنا)
    آنے جانے کا کھیل جاری ہے کوئی کیا جانے کس کی باری ہے
    سر پر منڈلا رہا ہے ملک الموت موت کا خوف دل پہ طاری ہے
    آخرکار سب جدا ہونگے چار دن کی یہ رشتہ داری ہے
    یوں تو میٹھا ہے جام حیات آخری گھونٹ بس اس کا کھاری ہے
    انسان جب اپنی موت کو ہر وقت یاد رکتا ہےتو بہت سارے غموں اور پریشانیوں سے اپنے آپ کو بچا لیتا ہے،جس طرح صحیح بخاری میں کائنات کے امام نے فرمایا لذات کو ختم کرنے والی یعنی موت کو زیادہ سے زیادہ یاد کیا کرو،جب انسان اس بات کو اپنے دل میں جگہ دے کہ موت کسی وقت بھی اس کے تمام پروگرام کو درہم برہم کر سکتی ہے، تو بہت سی پریشانیاں اور غم اپنے آپ ختم ہو جاتے ہیں۔قرآن کریم میں بھی اللہ تعالی نے کئی ایک مقامات پر اس حضرت انسان کو موت کی یاد دہانی کرائی ہے۔
    آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں
    جاؤ گے جب یہاں سے کچھ بھی پاس نہ ہوگا دوگزکفن کا ٹکڑا تیرا لباس ہوگا
     
  9. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,134
    آٹھواں علاج(اللہ تعالی سے دعا)

    8) آٹھواں علاج(اللہ تعالی سے دعا)
    غم ختم کرنے اور پریشانی دور کرنے کا ایک بہترین علاج دعا ہے ہر مسلمان کو چاہے کہ وہ ہر وقت دعا کرتا رہے کہ پرور دگار اسے ہر غم ،پریشانی اور مصیبت سے بچائے رکھے۔ نبی کریمﷺجیسی ہستی بھی کثرت سے پریشانیوں ،غموں اور مصیبتوں سے بچنے کے لیے دعا کیا کرتے تھے۔
    کائنات کے امام کے خادم انس رضی اللہ عنہ خبر دیتے ہیں کہ میں ایک دفعہ آپﷺکے ساتھ سفر میں تھا، جب کسی جگہ پر ٹھرتے تو میں نے آپﷺکو کثرت سے دعا کرتے ہوئے دیکھا، وہ دعا یہ تھی،( اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ)(رواہ البخاری) ترجمہ- اے اللہ میں فکر،عاجزی اورسستی،بخیلی اور نامردی،قرض داری کے بوجھ اور ظالموں کے غلبے سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔
    اللہ تعالی نے سورۃ النمل آیۃ 62 میں فرمایا(اَمَّنْ يُّجِيْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوْۗءَ)بے کس کی پکار کو جب کہ وہ پکارے، کون قبول کر کے سختی کو دور کر دیتا ہے۔اس لیے جب بھی انسان پر کوئی غم، دکھ،پریشانی نازل ہو تو وہ حقیقی خالق کے سامنے ہی اپنے ہاتھ پھلائے۔جس طرح (سورۃ البقرہ آیت 186)میں فرمایا(وَاِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيْ عَنِّىْ فَاِنِّىْ قَرِيْبٌ ۭ اُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ ۙفَلْيَسْتَجِيْبُوْا لِيْ وَلْيُؤْمِنُوْابِيْ لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُوْنَ)جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں تو آپ کہہ دیں کہ میں بہت ہی قریب ہوں ہر پکارنے والے کی پکار کو جب بھی وہ مجھے پکارے قبول کرتا ہوں اس لئے لوگوں کو بھی چاہیے وہ میری بات مان لیا کریں اور مجھ پر ایمان رکھیں یہی ان کی بھلائی کا باعث ہے۔ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔کہ کائنات کے امام جناب محمد رسول اللہﷺکو جب کوئی پریشانی ہوتی۔ تو آپ یہ الفاظ فرماتے۔(يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ) ترجمہ اے زندہ رہنے والے اے سب کو تھامنے والے میں تیری رحمت کے ساتھ مدد مانگتا ہوں۔(سنن ترمذی )آسماء بنت عمیس کہتی ہیں مجھے رسول اللہﷺنے فرمایا،کیا میں تجھے ایسے کلمات نہ بتاؤں ،جو تو مصیبت اور پریشانی کے وقت کہا کرے۔(أَللَّهُ أَللَّهُ رَبِّي لَا أُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا) اللہ اللہ میرا پروردگار ہے، میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔(رواہ ابو داود)نبی کریمﷺنے مصیبت زدہ کے لیے ایک اور دعا بتائی(اللَّهُمَّ رَحْمَتَكَ أَرْجُو فَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ أَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ) اے اللہ میں تیری رحمت ہی کی امید رکھتا ہوں،بس تو آنکھ چھپکنے کے برابر بھی مجھے میرے نفس کے سپرد نہ کر اور میرے لیے میرے تمام کام درست کردے، تیرے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں۔(رواہ احمد)اس لیے ہمیں چائے کہ مشکل ہو یا آسانی ہو،ہم ہر وقت اللہ تعالی سے دعا ئیں مانگتے رہیں۔آپ اندازہ لگائیں،انبیاء علیہ السلام پر بھی جب کوئی پریشانی یا غم یا تکلیف آئی تو انھوں نے بھی سب سے پہلے دعا کا سہارا لیا۔ہم سب کے باپ آدم علیہ سلام ایک نافرمانی سرزد ہو جانے کی وجہ سے پریشان ہوئے،تو اللہ تعالی نے انہیں یہ دعا سکھلائی(رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا ۫وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ)اے ہمارے رب! ہم نے اپنا بڑا نقصان کیا اور اگر تو ہماری مغفرت نہ کرے گا اور ہم پر رحم نہ کرے گا تو واقعی ہم نقصان پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔(اعراف:23)
    نوح علیہ السلام کی دعا: (اَنِّىْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ )میں (کافروں کے مقابلے میں )کمزور ہو تو میری مدد فرما(سورۃ القمر:10)
    زکریا علیہ السلام کی دعا: میری بیوی بانجھ ہے تو مجھے اپنے فضل خاص سے ایک وارث عطا کردے (رَبِّ لَا تَذَرْنِيْ فَرْدًا وَّاَنْتَ خَيْرُ الْوٰرِثِيْنَ)اے میرے پروردگار! مجھے تنہا نہ چھوڑ، تو سب سے بہتر وارث ہے۔(سورۃ انبیاء:89)
    ایوب علیہ السلام کی دعا:(وَاَيُّوْبَ اِذْ نَادٰي رَبَّهٗٓ اَنِّىْ مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ)ایوب (علیہ السلام) کی اس حالت کو یاد کرو جبکہ اس نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ مجھے یہ بیماری لگ گئی ہے اور تو رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔(سورۃ انبیاء:83)
    موسی علیہ السلام کی دعا: ( رَبِّ اِنِّىْ ظَلَمْتُ نَفْسِيْ فَاغْفِرْ لِيْ )اے میرے رب میں نے اپنے نفس پر ظلم کر ڈالا میری مغفرت فرما۔(سورۃ القصص:16)
    جیسا کہ پہلے بیان کیا کہ کائنات کے امام بھی اللہ تعالی سے دعا کررہے ہیں حالانکہ اگلے پچھلے گناہ سب معاف ہیں پھر بھی ان کی زندگی کا کوئی بھی لمحہ ایسا نہیں کہ وہ اٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے گھر میں داخل ہوتے نکلتے دعا کر رہے ہیں۔
    چند ایک دعائیں جو نبی کریمﷺسے ثابت ہیں۔(اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ) اے اللہ میں تجھ سے طلب کرتا ہوں بخشش اور سلامتی دنیا اور آخرت میں۔(سنن ابن ماجہ)یہ بہت جامع دعا ہے فرمایا ایمان کے بعد عافیت ، امن، سلامتی اور ہر بلا سے حفاظت اللہ تعالی کی سب سے بڑی نعمت ہے۔
    ایک اور دعا(اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا وَرِزْقًا طَيِّبًا وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا)اے اللہ میں تجھ سے طلب کرتا ہوں ایسا علم جو مفید ہے،پاک روزی اور ایسا عمل جو مقبول ہو۔(ابن ماجہ)
    ایک اور دعا(اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالتُّقَى وَالْعَفَافَ وَالْغِنَى)اے اللہ میں تجھ سے طلب کرتا ہوں ہدایت،تقوی،پاک دامنی اور استغفار(صحیح مسلم)
    ان چار الفاظ پر غور کریں جیسے ہدایت مل جائے،جسے اللہ کی طرف سے رہنمائی حاصل ہو جائے اور جو اس کام سے بچ جائے، جو اللہ کی ناخوشی کا ہو، اور پاک دامن بھی ہو۔استغفار سے مراد اللہ نے اسے اتنا دیا ہو کہ اس کے بعد اسے کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہ ہو،اللہ اکبر کتنی عظیم دعا ہے۔
    اگر ہم ان دعاؤں کو خود بھی یاد کریں اور گھر میں بیوی اور بچوں کو بھی یاد کرائیں تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہمارے گھروں سے بہت سارے غم ،پریشانیاں اور دکھ ختم ہو جائیں گے۔(عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ شَيْءٌ أَكْرَمَ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى مِنْ الدُّعَاءِ)ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہاکہ نبی کریمﷺنے ارشاد کیا اللہ کے ہاں دعا سے زیادہ عظمت والا کوئی عمل نہیں۔(سنن الترمذی)
     
  10. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,134
    نواں علاج(نبی کریمﷺپر درود کی کثرت)

    9) نواں علاج(نبی کریمﷺپر درود کی کثرت)
    دکھوں ،غموں اور پریشانیوں کا ایک بہتریں علاج نبی کریمﷺپر کثرت سے درود شریف کا اہتمام ہے۔
    ایک صحابی رسولﷺابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے کہ میں نے نبی کریمﷺسے عرض کیا میں آپ پر کثرت سے درود پڑھتا ہوں ،میں کتنا درود شریف پڑہوں تو جتنا چاہے تیرے لیے بہتر ہے۔پھر تیرے تمام غم دور اور گناہ معاف کردیے جائیں گے۔(صحیح البخاری)
    نبی کریمﷺپر درود و سلام بڑی اہم نیکی ، گناہوں کی معافی کا سبب، درجات کی بلندی، غم و پریشانی سے نجات ، دعا کی قبولیت کا وسیلہ،صحیح بخاری میں یہ روایت موجود ہے ،ایک صحابی رسول اللہﷺابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺسے عرض کرتے ہیں کہ میں آپ پر کثرت سے درود پڑھتا ہوں دعا میں آپ پرﷺپر کتنا درود پڑھوں آپﷺنے فرمایا تو جتنا چاہے تیرے لیے بہتر ہے پھر تیرا یہ مجھ پر درود پڑھنا تیرے تمام غم دور کردے گا، اور تیر گناہ معاف ہوجائیں گے۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں