ماہ رجب ميں چاندى كى انگوٹھى پہننا

ابوعکاشہ نے 'ماہِ رجب المرجب' میں ‏جون 17, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ ایڈمن

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,105
    بسم الله الرحمن الرحيم

    ماہ رجب ميں چاندى كى انگوٹھى پہننا​

    همارے خاندان میں سب بہن بھائیوں کوچاندی کی انگوٹھیاں دی گئی ہیں انگوٹھی کی اندروالی طرف عربی کے نمبردرج ہیں اوریہ خاص کرصرف ماہ رجب میں تیارہوئی ہیں میں معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ آیا اس طرح کی انگوٹھیوں کا اسلام سے کوئی تعلق ہے یا نہیں؟


    الحمد للہ:
    جس طرح عورت كے ليے انگوٹھى مستحب ہےاسى طرح مرد كے ليے بھی چاندى كى انگوٹھى مستحب ہے.

    انس بن مالك رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ:
    " نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے خط لكھا يا لكھنا چاہا تو آپ سے عرض كيا گيا: وہ صرف اسى خط كو پڑھتے ہيں جس پر مہر ثبت كى گئى ہو، چنانچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے چاندى كى انگوٹھى بنوائى جس ميں محمد رسول اللہ نقش كيا گيا تھا، گويا كہ ميں آپ كے ہاتھ پر اس كى سفيدى ديكھ رہا ہوں "
    صحيح بخارى حديث نمبر ( 65 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 2092 ).

    امام نووى رحمہ اللہ كہتے ہيں:
    " خطابى كہتے ہيں: شادى شدہ وغيرہ عورت كے ليے چاندى كى انگوٹھى پہننا مباح ہے جس طرح اس كے ليے سونے كى انگوٹھى جائز ہے، اس ميں كوئى اختلاف نہيں، اور نہ ہى كوئى كراہت ہے، اور بغير كسى اختلاف كے عورت كے ليے چاندى كى انگوٹھى مكروہ ہے كيونكہ يہ مردوں كا شعار ہے.
    وہ كہتے ہيں: اگر وہ سونے كى انگوٹھى نہ پائے تو اسے زعفران وغيرہ سے زرد كر لے، ان كا يہ قول باطل ہے، اور صحيح يہى ہے كہ اس ميں كوئى كراہت نہيں.
    پھر كہتے ہيں: مرد كے ليے چاندى كى انگوٹھى پہننا جائز ہے چاہے وہ كوئى ذمہ داراور حكمران ہو يا كوئى دوسرا ,اس پر اتفاق ہے، اور شام كے علماء سے جو كراہت منقول ہے كہ حكمران كے علاوہ پہننا مكروہ ہے، ان كا يہ قول نصوص اور اجماع سلف كى بنا پر شاذ اور مردود ہے، اس ميں عبدرى وغيرہ نے اجماع نقل كيا ہے " انتہى
    ديكھيں: المجموع للنووى ( 4 / 340 ).

    اسى طرح انگوٹھى پر لكھنا اور نقش كرانا بھى مباح ہے، ليكن اسے ماہ رجب كے ساتھ خاص كرنے كى كوئى دليل نہيں، جو كوئى بھى ماہ رجب ميں اس اعتقاد كے ساتھ انگوٹھى پہنتا ہے كہ اس ميں اللہ كا قرب ہے، يا پھر وہ اس ماہ ميں انگوٹھى پہننے كى فضيلت سمجھتا ہے تو اس نے بدعت اور برا كام كيا.

    انگوٹھى پر ايسى اشياء لكھانے سے پرہيز كرنا چاہيے جس سے يہ گمان ہو كہ يہ كوئى فائدہ ديتا ہے، يا پھر نظر بد اور جن و غيرہ سے بچاتى ہے.

    حاصل يہ ہوا كہ اصل ميں انگوٹھى پہننے اور اس پر نقش كرانے ميں كوئى حرج نہيں، ليكن اس ميں ممانعت يہ ہے كہ اس سے اللہ كا قرب حاصل كرنا يا اسے كسى معين وقت ميں پہننا يا اس سے تبرك حاصل كرنا يا اسے تعويذ بنانا ممنوع ہے.
    واللہ اعلم.

    فتوٰی :: محمد صالح المنجد حفظہ اللہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 5
  2. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,720
    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  3. irum

    irum Web Master

    شمولیت:
    ‏جون 3, 2007
    پیغامات:
    31,582
    جزاک اللہ خیرا
     
  4. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,018
    ماشاء اللہ
    جزاکم اللہ خیرا عکاشہ بھائی۔
    ایک اور بہترین مضمون ۔
     
    Last edited by a moderator: ‏جون 17, 2011
  5. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,638
    جزاکم اللہ خیرا
    ماشاءاللہ بہت عمدہ شئرنگ ہے۔
     
  6. اسلم صیاد

    اسلم صیاد -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 7, 2011
    پیغامات:
    64
    ماشاء اللہ جزاک اللہ بھاءی
     
  7. محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل -: منتظر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2011
    پیغامات:
    3,849
    جزاکم اللہ خیرا و احسن الجزا
     
  8. رفی

    رفی منتظمِ اعلٰی

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,210
    جزاک اللہ
     
  9. بنت امجد

    بنت امجد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 6, 2013
    پیغامات:
    1,570
    جزاکم اللہ خیرا
     
  10. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,864
    جزاک اللہ خیرا
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں