''لا إله إلا الله ''کی طرف دعوت دینا

فاروق نے 'غاية المريد فی شرح کتاب التوحید' میں ‏جون 30, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    باب:4- “لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّه”کی طرف دعوت دینا(1)
    اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
    (قُلْ هَذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللَّهِ عَلَى بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ (سورة يوسف12: 108))
    “(اے محمد ﷺ)آپ کہہ دیں کہ میرا اور میرے پیروکاروں کا داستہ تو یہ ہے کہ ہم سب پورے اعتماد اور یقین کے ساتھ اللہ کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ ہر عیب سے پاک ہے اور میرا مشرکین سے کچھ واسطہ نہیں”۔(2)

    عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہﷺنے معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف روانہ کرتے ہوئے فرمایا:

    (إِنَّكَ تَأْتِي قَوْمًا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ،فَلْيَكُنْ أَوَّلَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ شَهَادَةِ أَنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ -وَفِي رِوَايَةٍ: إِلى أَنْ يُّوَحِّدُوا اللهَ - فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ، فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ، فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ فَتُرَدُّ عَلى فُقَرَائِهِمْ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ، فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ، وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ، فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللهِ حِجَابٌ)(صحیح البخاری،الزکاۃ، باب لا توخذ کرائم اموال الناس فی الصدقۃ، ح: 1458، 1496، 2448، 4347، 7372 وصحیح مسلم، الایمان، باب الدعاء الی الشھادتین وشرائع الاسلام، ح:19)
    “تم اہل کتاب کی ایک قوم کے پاس جارہے ہو۔ تم انہیں سب سے پہلے اس بات کی گواہی کی طرف دعوت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود(برحق)نہیں۔ دوسری روایت میں ہے کہ تم انہیں سب سے پہلے اس بات کی دعوت دینا کہ وہ اللہ تعالی کی توحید کا اقرار کرلیں۔ اگر وہ تمہاری یہ بات مان لیں تو انہیں بتلانا کہ اللہ تعالی نے ان پر دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں ۔ پس اگر وہ تمہاری یہ بات بھی مان جائیں تو پھر انہیں بتلانا کہ اللہ تعالی نے ان پر زکوۃ فرض کی ہے جو اصحاب ثروت سے وصول کر کے فقراء اور غرباء میں تقسیم کی جائے گی۔ پس اگر وہ تمہاری یہ بات بھی مان جائیں تو ان کے عہدہ اور قیمتی اموال لینے سے احتیاط کرنا اور مظلوم کی بددعا سے بچنا کیونکہ اس کے اور اللہ تعالی کے درمیان کوئی حجاب نہیں۔”(3)

    سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خیبر کے دن رسول اللہﷺنے فرمایا:

    (لأعطين الراية غداً رجلاً يحب الله ورسوله، ويحبه الله ورسوله، يفتح الله على يديه. فبات الناس يدوكون ليلتهم أيهم يعطاها. فلما أصبحوا غدوا على رسول الله صلى الله عليه وسلم كلهم يرجو أن يعطاها. فقال: (أين علي بن أبي طالب؟) فقيل: هو يشتكي عينيه، فأرسلوا إليه، فأتى به فبصق في عينيه، ودعا له، فبرأ كأن لم يكن به وجع، فأعطاه الراية فقال: «انفذ على رسلك حتى تنزل بساحتهم، ثم ادعهم إلى الإسلام وأخبرهم بما يجب عليهم من حق الله تعالى فيه، فوالله لأن يهدي الله بك رجلاً واحداً، خير لك من حمر النعم)(صحیح بخاری، فضائل اصحاب النبی ﷺ، باب مناقب علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ، ج:3701 و صحیح مسلم، فضائل الصحابۃ، باب علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ح:2406)
    “کل میں یہ پرچم ایک ایسے شخص کو دوں گا جسے اللہ تعالی اور اس کے رسولﷺسے محبت ہے اور اللہ تعالی اور اس کا رسول ﷺبھی اس سے محبت رکھتے ہیں، اس کے ہاتھوں اللہ تعالی فتح و نصرت عطا فرمائے گا۔ چنانچہ صحابہ کرام رات بھر قیاس آرائیاں کرتے رہے کہ پرچم کس کو دیا جاسکتا ہے۔ صبح ہوئی تو تمام صحابہ رسول اللہ ﷺکی خدمت میں پہنچ گئے۔ ہر ایک کی یہی خواہش اور امید تھی کہ پرچم اسے ہی ملے گا۔ تب رسول اللہﷺنے دریافت فرمایا: علی بن ابی طالب کہاں ہیں؟ بتایاگیا کہ ان کی تو آنکھیں دکھتی ہیں۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلوا بھیجا تو رسول اللہﷺنے ان کی آنکھوں مین اپنا لعاب مبارک ڈالا اور دعا فرمائی۔
    چنانچہ علی رضی اللہ عنہ مکمل طور پر یوں شفایاب ہوگئے گویا انہیں کچھ بھی تکلیف نہ تھی۔ آپ نے پرچم حضرت علی رضی اللہ عنہ کو تھمادیا اور فرمایا تیاری کر کے ابھی روانہ ہو جاؤ اور سیدھے ان کے میدان میں جااترو۔ پھر سب سے پہلے انہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دینا اور اللہ تعالی کے جو حقوق ، اسلام میں ، ان پر عائد ہوتے ہیں، وہ انہیں بتلانا۔ اللہ کی قسم! اگر اللہ تعالی تمہاری بدولت ایک آدمی کو بھی ہدایت دے دے تو (یہ سعادت) تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے کہیں بہتر (انتہائی قیقی)ہے۔”(4)

    مسائل

    1) رسول اکرم ﷺکے متبعین کا انداز تبلیغ یہ ہے کہ وہ دوسروں کو بھی اللہ کے دین کی دعوت دیتے ہیں۔
    2) اخلاص نیت کی بھی ترغیب ہے کیونکہ اکثر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ “دعوت الی الحق” لے کر اٹھیں بھی تو اس میں مخلص نہیں ہوتے بلکہ وہ لوگوں کو بالعموم اپنی ذات کی طرف بلاتے ہیں۔
    3) دعوت کے کاموں میں بصیرت سے کام لینا ضروری ہے۔
    4) توحید کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ اللہ تعالی کو ہر عیب اور نقص سے پاک تسلیم کیا جائے۔
    5) شرک کی ایک قباحت یہ بھی ہے کہ یہ اللہ تعالی کے بارے میں گالی ہے۔
    6) اس باب کا ایک اہم ترین مسئلہ یہ بھی ہے کہ مسلمان کو مشرکین سے الگ تھلگ اور دور رہنا چاہئے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ شرک نہ کرنے کے باوجود ان کے ساتھ میل جول کی بنا پر ان کا ساتھی بن جائے۔
    7) واجبات دین میں توحید اولین واجب مسئلہ ہے۔
    8) نماز اور دیگر احکام دین سے پہلے توحید کی تبلیغ کی جائے۔
    9) رسول اللہ ﷺکے فرمان“اَنْ يُّوَحِّدُوا اللهَ” اور کلمہ “لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّه”کی شہادت دونوں کا ایک ہی معنی و مفہوم ہے۔

    10) کچھ لوگ اہل کتاب ہونے کے باوجود عقیدۂ توحید سے کما حقہ باخبر نہیں ہوتے یا جاننے کے باوجود اس پر عمل نہیں کرتے۔
    11) یہ آگاہی بھی ہوئی کہ دین کی تعلیم تدریجا دینی چاہئے۔
    12) مراحل تبلیغ میں اہمیت کے مطابق مسائل بیان کئے جائیں۔
    13) زکوۃ کے مصرف کا بھی بیان ہے۔
    14) معلم کا فرض ہے کہ وہ متعلم کے شبہات کو بھی دور کرے۔
    15) زکوۃ وصول کرتے وقت عمدہ اور قیمتی مال لینا منع ہے۔
    17) مظلوم کی آہ و بد دعا اور اللہ تعالی کے درمیان کوئی حجاب نہیں۔
    18) سید المرسلین محمد رسول اللہ ﷺ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اولیاء کرام پر مشقتوں، بھوک اور تکالیف کا گزرنا بھی توحید کی ایک بہت بڑی دلیل ہے۔
    19) رسول اکرمﷺکا یہ ارشاد کہ “میں کل یہ پرچم ایسے شخص کو دوں گا جسے اللہ تعالی اور اس کے رسول سے محبت ہے اور اللہ تعالی اور اس کا رسول بھی اس سے محبت کرتے ہیں۔” آپ کی علامات نبوت میں سے ہے۔
    20) نبی ﷺکا علی رضی اللہ عنہ کی آنکھ میں لعاب ڈالنا اور ان کا فورا صحت یاب ہو جانا بھی آپ کی علامات نبوت میں سے ہے۔
    21) علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت بھی ظاہر ہے۔
    22) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عظمت اور فضیلت بھی واضح ہے کہ وہ ساری رات یہ سوچتے رہے کہ صبح یہ پرچم کس خوش نصیب کو ملنے والا ہے ۔ اور اس سوچ میں وہ فتح کی بشارت بھول گئے۔ (گویا ان کے نزدیک اللہ تعالی اور اس کے رسولﷺکی خصوصی محبت کا اعزاز فتح کی بشارت سے زیادہ عزیز تھا۔)
    23) “ایمان بالقدر”بھی ثابت ہوتا ہے کہ پرچم ایسے آدمی کو ملا جس نے اس کے حصول کی خواہش یا کوشش نہیں کی بلکہ کوشش کرنے والے اور خواہش رکھنے والے اسے حاصل نہ کر سکے۔
    24) رسول اللہ ﷺکا علی رضی اللہ عنہ سے فرمانا “عَلى رِسْلِكَ”(کہ سیدھے جاؤ)اس میں آداب جنگ کی تعلیم ہے۔
    25) جنگ سے پیشتر کفار کو اسلام کی دعوت دینی چاہئے۔
    26) لوگوں سے اولین خطاب ہو یا قبل ازیں جنگ ہو چکی ہو یا دعوت دی جاچکی ہو، ہر صورت میں جنگ سے قبل اسلام کی دعوت دینا مشروع ہے۔
    27) رسول اللہﷺکا فرمان کہ ان پر اللہ تعالی کے جو حقوق عائد ہیں وہ انہیں بتلانا، اس سے معلوم ہوا کہ اسلام کی دعوت حکمت اور دانائی کے ساتھ پیش کرنی چاہئے۔
    28) ایک مسلمان کو اسلام میں مقرر کردہ اللہ تعالی کے حقوق سے روشناس ہونا چاہئے تاکہ وہ دوسروں کو بھی تعلیم دے سکے۔
    29) معلوم ہوا کہ جس کسی کے ہاتھوں ایک بھی آدمی ہدایت پاجائے اس کے لیے بڑا ثواب اور بڑی عظمت ہے۔
    30) فتوی پر قسم اٹھانا جائز ہے۔

    نوٹ:-

    (1) شیخ (محمد بن عبد الوہاب رحمتہ اللہ علیہ)نے یہ باب اس بات کو ثابت کرنے کے لیے قائم کیا ہے کہ توحید کی تکمیل اور شرک سے بچنے کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ دوسروں کو توحید کی دعوت دی جائے۔ اللہ کی توحید کی گواہی کا بھی یہی مطلب ہے۔ کیونکہ کسی بات کا دل میں اعتقاد رکھنا، زبان سے اس کا اقرار کرنا اور اس سے دوسروں کو مطلع کرنا یہ سب امور گواہی میں شامل ہوتے ہیں۔ توحید کی طرف دعوت دینے سے مقصود، اس کی تمام تفصیلات اور اقسام کی طرف بلانا، سمجھنا اور شرک کی توضیح کرکے اس کی تمام انواع سے باز رہنے کی دعوت دینا ہے اور یہ ایک انتہائی اہم کام ہے۔ امام محمد بن عبد الوہاب رحمتہ اللہ علیہ نے یہ سب باتیں اپنی اس کتاب میں بڑی وضاحت اور تفصیل سے بیان کی ہیں۔
    (2) اس آیت سے دوباتیں ہمارے علم میں آتی ہیں:
    (الف) توحید کی طرف لوگوں کو بلانا اور انہیں اس کی دعوت دینا۔
    (ب) اخلاص سے آگاہ کرنا اور اس کی تنبیہ کرنا،
    کیونکہ مشاہدہ ہے کہ بہت سے لوگ اگرچہ بظاہر حق کی دعوت دیتے ہیں مگر درحقیقت وہ لوگوں کو اپنی طرف بلارہے ہوتے ہیں۔ توحید کی طرف علی وجہ البصیرت دعوت دینے کا مفہوم یہ ہے کہ انسان دوسروں کو اللہ تعالی کی طرف بے علمی ، بے یقینی اور جہالت کی بنیاد پر نہیں بلکہ علم ، یقین اور مکمل معرفت کی بنیاد پر دعوت دے۔

    “أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي”کا مفہوم یہ ہے کہ میں لوگوں کو اللہ تعالی کی طرف علی وجہ البصیرت یعنی علم، یقین اور مکمل معرفت کی بنیاد پر دعوت دیتا ہوں۔ اسی طرح میری پیروی کرنے والے اور میری دعوت پر لبیک کہنے والے افراد بھی علم، یقین اور مکمل معرفت کی بنیاد پر لوگوں کو اللہ تعالی کی طرف بلاتے ہیں۔
    انبیاء کرام کے متبعین کا یہی طریقہ رہا ہے کہ وہ نہ صرف خود شرک سے ڈرتے ، توحید کی حقیقت کو جانتے اور توحید کے تقاضوں کو پورا کرتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ دوسروں کو بھی اس چیز کی طرف بلاتے اور اس کی دعوت دیتے ہیں اور یہ توحید کا ایک اہم تقاضا ہے۔
    (3) وجہ استدلال:اس حدیث میں وجہ استدلال یہ ہے کہ جب نبی ﷺنے معاذ رضی اللہ عنہ کو روانہ فرمایا تو آپ نے انہیں ہدایت فرمائی کہ وہ لوگوں کو سب سے پہلے اس بات کی گواہی کی طرف دعوت دیں کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی(حقیقی)معبود نہیں۔ اس کی مزید وضاحت صحیح بخاری “کتاب التوحید” کی ایک روایت میں یوں ہے، نبیﷺنے فرمایا “تو سب سے پہلے لوگوں کو دعوت دینا کہ وہ اللہ تعالی کی توحید کو تسلیم کریں۔”(صحیح بخاری، التوحید، باب ماجاء النبی.....، حدیث:7372)
    (4) وجہ استدلال:اس حدیث میں وجہ استدلال یہ جملہ ہے“ثم ادعهم إلى الإسلام”کہ اس کے بعد تم انہیں اسلام کی دعوت دینا۔
    اسلام کی دعوت سے توحید کی دعوت مراد ہے۔ کیونکہ اللہ تعالی کی توحید اور جناب محمد ﷺکی رسالت کا اقرار و اعتراف اسلام کا اہم اور عظیم ترین رکن ہے۔
    رسول اللہ ﷺنے وضاحت فرمائی کہ انہیں توحید کی دعوت دینے کے ساتھ ساتھ ان پر اللہ تعالی کےجو حقوق عائد ہوتے ہیں وہ بھی بتلانا، خواہ ان حقوق کا تعلق توحید کے ساتھ ہو یا فرائض و واجبات اور محرمات سے اجتناب کے ساتھ۔ لہذا جب کوئی شخص کسی دوسرے کو اسلام کی دعوت دے تو سب سے پہلے اسے توحید کی دعوت دے اور “لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّه”اور “مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ الله”کا معنی و مفہوم بیان کرے پھر اس کے بعد اسے محرمات اور فرائض و واجبات سے بھی آگاہ کرے کیونکہ اساسی چیز سب سے مقدم اور سب سے پہلے واجب ہوتی ہے۔


     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں