حالات امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ صحیح روایات کی روشنی میں ۔

کفایت اللہ نے 'حدیث - شریعت کا دوسرا اہم ستون' میں ‏جون 30, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,021
    اس مضمون میں ہم امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے حالات سے متعلق صحیح‌ روایات درج کریں‌ گے۔




    نوٹ: سند میں‌ موجود کسی بھی راوی کے حالات جاننے کے لئے سند کے اندر ہی راوی کے نام پر کلک کریں‌ ، اس کے بعد آپ ایسے لنک پر پہنچ جائیں گے جہاں مطلوبہ راوی کے حالات موجود ہوں‌ گے۔









    مراتب رواة کی علامات رنگوں کے ذریعہ


    ثقہ وثبت

    صدوق وحسن الحدیث

    کذاب و متہم

    ضعیف و مجہول







    فائدۃ : حالات امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے متعلق جھوٹی اورضعیف روایات
     
    Last edited by a moderator: ‏جولائی 1, 2011
    • مفید مفید x 1
  2. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,021
    امام أبو بكر بن أبي داود السجستانی

    امام خطیب بغدادی فرماتے ہیں:
    حَدَّثَنَا مُحَمَّد بن علي بن مخلد الوراق لفظا، قال: في كتابي عن أبي بكر مُحَمَّد بن عبد الله بن صالح الأبهري الفقيه المالكي، قال: سمعت أبا بكر بن أبي داود السجستاني، يوما وهو يقول لأصحابه: ما تقولون في مسألة اتفق عليها مالك وأصحابه، والشافعي وأصحابه، والأوزاعي وأصحابه، والحسن بن صالح وأصحابه، وسفيان الثوري وأصحابه، وأحمد بن حنبل وأصحابه؟ فقالوا له: يا أبا بكر، لا تكون مسألة أصح من هذه، فقال: هؤلاء كلهم اتفقوا على تضليل أبي حنيفة. [تاريخ بغداد ت بشار 15/ 527 واسنادہ حسن]
     
    Last edited by a moderator: ‏جولائی 2, 2011
    • مفید مفید x 1
  3. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,021
    امام مالک رحمہ اللہ


    امام ابونعیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ، - وَذُكِرَ أَبُو حَنِيفَةَ فَقَالَ: كَادَ الدِّينَ وَمَنْ كَادَ الدِّينَ فَلَيْسَ مِنْ أَهْلِهِ [حلية الأولياء وطبقات الأصفياء 6/ 325 واسنادہ صحیح]
    یعنی امام مالک رحمہ اللہ نے امام ابوحنیفہ کا ذکر کیا اورفرمایا کہ یہ شخص دین کے ساتھ دھوکہ کرتا تھا اور جودین کے ساتھ دھوکہ کرے وہ دیندار کبھی نہیں ہوسکتا۔


    حافظ ابن عبدالبرفرماتے ہیں:
    حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا قَاسِمُ بْنُ أَصْبَغَ، وَوَهْبُ بْنُ مَسَرَّةَ قَالَا: نا ابْنُ وَضَّاحٍ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ هَارُونُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْهَيْثَمِ الْأَيْلِيُّ قَالَ: أنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقُرَشِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكًا يَقُولُ: «مَا زَالَ هَذَا الْأَمْرُ مُعْتَدِلًا حَتَّى نَشَأَ أَبُو حَنِيفَةَ فَأَخَذَ فِيهِمْ بِالْقِيَاسِ فَمَا أَفْلَحَ وَلَا أَنْجَحَ»[جامع بيان العلم وفضله 2/ 1078 قال محقق الکتاب أبوالأشبال الزهيری:اسنادہ صحیح ورجالہ ثقات]

    امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا : یہ معاملہ ٹھیک ٹھاک تھا لیکن جب ابوحنیفہ آئے تو انہوں نے قیاس آرائی شروع کردی اور خائب وخاسر ہوئے ۔


    حافظ ابن عبدالبرفرماتے ہیں:
    (حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا قَاسِمُ بْنُ أَصْبَغَ، وَوَهْبُ بْنُ مَسَرَّةَ قَالَا: ) قَالَ نا ابْنُ وَضَّاحٍ، وَسَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ الْأَيْلِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ خَالِدَ بْنَ نِزَارٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ مَالِكًا يَقُولُ: «لَوْ خَرَجَ أَبُو حَنِيفَةَ عَلَى هَذِهِ الْأُمَّةِ بِالسَّيْفِ كَانَ أَيْسَرَ عَلَيْهِمْ مِمَّا أَظْهَرَ فِيهِمْ مِنَ الْقِيَاسِ وَالرَّأْيِ»[جامع بيان العلم وفضله 2/ 1079 قال محقق الکتاب أبوالأشبال الزهيری:اسنادہ حسن]

    امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا : اگرابوحنیفہ اس امت کے خلاف تلوار لے کر نکل جاتے تو اس سے مسلمانوں کو اتنا نقصان نہیں پہنچتا جتنا ان کے قیاس و رائے سے پہنچاہے۔

    امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    ثنا بن أبى داود ثنا الربيع بن سليمان الجيزي عن الحارث بن مسكين عن بن القاسم قال قال مالك الداء العضال الهلاك في الدين وابو حنيفة من الداء العضال [الكامل في الضعفاء 7/ 6 واسنادہ صحیح]

    امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا : دین میں ہلاکت بہت بڑی بیماری ہے اور ابوحنیفہ اسی بیماری کا نام ہے۔



     
    Last edited by a moderator: ‏جولائی 21, 2011
    • مفید مفید x 1
  4. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,021
    امام شافعی رحمہ اللہ


    امام ابن ابی حاتم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ يَقُولُ: قَالَ لِي مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ: أَيُّهُمَا أَعْلَمُ: صَاحِبُنَا أَوْ صَاحِبُكُمْ؟ ، يَعْنِي: مَالِكًا وَأَبَا حَنِيفَةَ.
    قُلْتُ: عَلَى الإِنْصَافِ؟
    قَالَ: نَعَمْ.
    قُلْتُ: فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ، مَنْ أَعْلَمُ بِالْقُرْآنِ: صَاحِبُنَا أَوْ صَاحِبُكُمْ؟ قَالَ: صَاحِبُكُمْ، يَعْنِي مَالِكًا.
    قُلْتُ: فَمَنْ أَعْلَمُ بِالسُّنَّةِ: صَاحِبُنَا أَوْ صَاحِبُكُمْ؟ قَالَ: اللَّهُمَّ صَاحِبُكُمْ.
    قُلْتُ: فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ، مَنْ أَعْلَمُ بِأَقَاوِيلِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُتَقَدِّمِينَ: صَاحِبُنَا أَوْ صَاحِبُكُمْ؟ قَالَ: صَاحِبُكُمْ.
    قَالَ الشَّافِعِيُّ: قُلْتُ: فَلَمْ يَبْقَ إِلا الْقِيَاسُ، وَالْقِيَاسُ لا يَكُونُ إِلا عَلَى هَذِهِ الأَشْيَاءِ، فَمَنْ لَمْ يَعْرِفِ الأُصُولَ عَلَى أَيِّ شَيْءٍ يِقِيسُ؟
    [آداب الشافعي ومناقبه ص: 120،الجرح والتعديل :1/ 4، واسنادہ صحیح

    امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے محمد بن الحسن نے کہا: کہ امام مالک اورامام ابوحنیفہ رحمہما اللہ میں سے زیادہ جانکار کون ہیں؟
    امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: کیا انصاف کے ساتھ بتلادوں؟
    محد بن حسن نے کہا: جی ہاں۔
    امام شافعی کہتے ہیں پھر میں نے کہا اللہ کے واسطے بتاؤ قران کے زیادہ جانکار کون تھے ، ہمارے امام مالک یا تمہارے امام ابوحنیفہ؟؟
    محمدبن حسن نے کہا: بے شک تمارے امام مالک رحمہ اللہ قران کے زیادہ جانکار تھے۔

    اس کے بعد امام شافعی رحمہ اللہ نے پوچھا : اچھا یہ بتاؤ حدیث کے زیادہ جانکار کون تھے ، ہمارے امام مالک یا تمہارے امام ابوحنیفہ؟؟
    محمدبن حسن نے کہا: بے شک تمارے امام مالک رحمہ اللہ حدیث کے زیادہ جانکار تھے۔

    اس کے بعد امام شافعی رحمہ اللہ نے کہا کہ اب باقی بچا قیاس تو قیاس انہیں قران وحدیث ہی پر ہوتا ہے پس جو شخص اصول یعنی قران و حدیث سے ناواقف ہو وہ قیاس کس پر کرے گا؟؟؟





    امام ابن ابی حاتم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْوَاسِطِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيَّ، يَقُولُ: «مَا أُشَبِّهُ رَأْيَ أَبِي حَنِيفَةَ إِلا بِخَيْطِ سَحَّارَةٍ، تَمُدُّهُ هَكَذَا فَيَجِيءُ أَصْفَرَ، وَتَمُدُّهُ هَكَذَا فَيَجِيءُ أَخْضَرَ» [آداب الشافعي ومناقبه ص: 130واسنادہ صحیح

    امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: میں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی رائے کو جادو گر کے دھاگے کی طرح سمجھتاہوں کہ جسے آپ ایک طرف کھینچیں تو پیلا ہوجائے اوردوسری طرف کھینچیں تو ہرا ہوجائے۔



    امام ابن ابی حاتم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ يَقُولُ: «أَبُو حَنِيفَةَ يَضَعُ أَوَّلَ الْمَسْأَلَةِ خَطَأً، ثُمَّ يَقِيسُ الْكِتَابَ كُلَّهُ عَلَيْهَا» [آداب الشافعي ومناقبه ص: 129واسنادہ صحیح

    امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ابوحنیفہ پہلے ایک غلط مسئلہ بناتے تھے پھر پوری کتاب کو اسی پر قیاس کرتے تھے۔



    ۔
     
    Last edited by a moderator: ‏جولائی 21, 2011
    • مفید مفید x 1
  5. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,021
    امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ

    امام عبداللہ بن احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
    سَأَلت ابي عَن الرجل يُرِيد ان يسْأَل عَن الشَّيْء من امْر دينه مِمَّا يبتلى بِهِ من الايمان فِي الطَّلَاق وَغَيره وَفِي مصر من اصحاب الرَّأْي وَمن اصحاب الحَدِيث لَا يحفظون وَلَا يعْرفُونَ الحَدِيث الضَّعِيف وَلَا الاسناد الْقوي فَلِمَنْ يسْأَل لاصحاب الرَّأْي اَوْ لهَؤُلَاء اعني اصحاب الحَدِيث على مَا قد كَانَ من قلَّة معرفتهم قَالَ يسْأَل اصحاب الحَدِيث لَا يسْأَل اصحاب الرَّأْي ضَعِيف الحَدِيث خير من رَأْي ابي حنيفَة [مسائل الإمام أحمد رواية ابنه عبد الله ص: 438 وسندہ صحیح عبداللہ ، ابن الامام احمد رحمہ اللہ یروی عن ابیہ]

    امام احمد کے بیٹے عبداللہ بن احمد کہتے ہیں‌ میں نے والد محترم امام احمدبن حنبل رحمہ اللہ سے پوچھاکہ کہ ایک آدمی دین کے سلسلے میں درپیش مسائل پوچھنا چاہتا ہے مثلا طلاق کی قسم وغیرہ کا مسئلہ اور شہرمیں اہل الرائے بھی ہیں اورایسے اہل الحدیث بھی ہیں جنہیں احادیث‌ صحیح‌ سے یاد نہیں‌ ہے انہیں ضعیف حدیث کا بھی علم نہیں ہے اورنہ ہی صحیح سند کا ۔
    دریں صورت سائل کس سے سوال کرے اہل الرائے سے؟ یا کم علم اہل حدیث سے ؟
    امام احمدبن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا: ایسی صورت میں سائل اہل حدیث ہی سے مسئلہ پوچھے اہل الرائے سے ہرگز نہ پوچھے، کیونکہ ضعیف حدیث‌ ابوحنیفہ کی رائے سے تو بہتر ہی ہے۔



    امام خطیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    أَخْبَرَنِي ابن رزق، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَد بن سلمان الفقيه المعروف بالنجاد، قَالَ: حَدَّثَنَا عبد الله بن أَحْمَد بن حنبل، قَال: حَدَّثَنَا مهنى بن يحيى، قال: سمعت أَحْمَد بن حنبل، يقول: ما قول أبي حنيفة والبعر عندي إلا سواء[تاريخ بغداد ت بشار 15/ 569 واسنادہ حسن

    امام احمدبن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا : میرے نزدیک جانوروں‌ کی گندگی اورابوحنیفہ کا قول یکساں ہے۔
     
    Last edited by a moderator: ‏جولائی 2, 2011
    • مفید مفید x 1
  6. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,021
    امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا اعتراف ۔

    امام ابن ابی حاتم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

    انا إبراهيم بن يعقوب الجوزجاني فيما كتب الى عن أبى عبد الرحمن المقرىء قال كان أبو حنيفة يحدثنا فإذا فرغ من الحديث قال هذا الذي سمعتم كله ريح وباطل[الجرح والتعديل : 8/ 449 وسندہ صحیح]۔

    یعنی امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ جب حدیث بیان کرکے فارغ ہوتے تو ارشاد فرماتے ہیں کہ یہ جوکچھ بھی تم نے سناہے سب باطل اور بے وزن ہے۔


    امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

    سمعت محمود بن غيلان ، يقول : سمعت المقري ، يقول : سمعت أبا حنيفة ، يقول : عامة ما أحدثكم خطأ [علل الترمذي الكبير 2/ 447، سندہ صحیح واخرجہ ایضا الخطیب وابن عدی من طرق عن ابن غیلان بہ کما سیاتی]۔

    یعنی امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میں جوباتیں بھی تمہیں بتاتاہوں وہ عام طور سے غلط ہی ہوتی ہیں۔


    امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

    ثنا عبد الله بن محمد بن عبد العزيز حدثني محمود بن غيلان ثنا المقري سمعت أبا حنيفة يقول ما رأيت أفضل من عطاء وعامة ما أحدثكم خطا [الكامل في الضعفاء 7/ 6 وسندہ صحیح]۔

    یعنی امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میں نے امام عطاء سے افٍضل کسی کو نہ دیکھا اور میں جوباتیں بھی تمہیں بتاتاہوں وہ عام طور سے غلط ہی ہوتی ہیں۔


    امام خطیب بغدادی رحمہ اللہ فراماتے ہیں:

    أخبرني الحسن بن أبي طالب حدثنا عبيد الله بن محمد بن حبابة حدثنا عبد الله بن محمد البغوي حدثنا بن المقرئ حدثنا أبي قال سمعت أبا حنيفة يقول ما رأيت أفضل من عطاء وعامة ما أحدثكم به خطأ [تاريخ بغداد 13/ 425 وسندہ صحیح]۔

    یعنی امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میں نے امام عطاء سے افٍضل کسی کو نہ دیکھا اور میں جوباتیں بھی تمہیں بتاتاہوں وہ عام طور سے غلط ہی ہوتی ہیں

    امام خطیب رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں:

    أخبرني بن الفضل أخبرنا دعلج بن احمد أخبرنا احمد بن علي الأبار حدثنا محمود بن غيلان حدثنا بن المقرئ قال سمعت أبا حنيفة يقول عامة ما أحدثكم به خطأ [تاريخ بغداد 13/ 425 وسندہ حسن]۔

    یعنی امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میں جوباتیں بھی تمہیں بتاتاہوں وہ عام طور سے غلط ہی ہوتی ہیں۔


    امام الحاكم الكبير أبو أحمد محمد بن محمد بن أحمد بن إسحاق فرماتے ہیں:

    أخبرنا أبو القاسم البغوي نا محمود يعني ابن غيلان نا المقرىء يعني عبد الله بن يزيد عن أبي حنيفة قال : ما رأيت أفضل من عطاء ما أحدثكم خطأ .[الأسامي والكنى لأبي أحمد الحاكم 4/ 56، واسنادہ صحیح]۔

    یعنی امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میں نے امام عطاء سے افٍضل کسی کو نہ دیکھا اور میں جوباتیں بھی تمہیں بتاتاہوں وہ عام طور سے غلط ہی ہوتی ہیں


    امام فسوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

    «حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ثنا أَبُو مُسْهِرٍ عَنْ مُزَاحِمِ بْنِ زُفَرَ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي حَنِيفَةَ: يَا أَبَا حَنِيفَةَ هَذَا الَّذِي [تُفْتِي وَالَّذِي وَضَعْتَ فِي كُتُبِكَ] هُوَ الْحَقُّ الَّذِي لَا شَكَّ فِيهِ؟ فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا أَدْرِي لَعَلَّهُ الْبَاطِلُ الَّذِي لَا شَكَّ فِيهِ» .[المعرفة والتاريخ 2/ 782: اسنادہ صحیح والزیادۃ عند الخطیب کما سیاتی]۔

    مزاحم بن زفرکہتے ہیں کہ میں نے ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے کہا کہ یہ جوکچھ آپ فتوے دیتے ہیں‌ اور اور جوکچھ اپنی کتابوں میں لکھتے ہیں کیا آپ کے نزدیک بلاشک و شبہہ یہی حق ہے ، اس پر امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے فرمایا ، اللہ کی قسم مجھے نہیں پتا کیا پتہ اس کے باطل ہونے میں کوئی شک وشبہ نہ ہو۔
     
    Last edited by a moderator: ‏جولائی 3, 2011
    • مفید مفید x 1
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں