توحید کی تفسیر اور کلمہ لا الہ الا اللہ کی شہادت کا مفہوم

فاروق نے 'غاية المريد فی شرح کتاب التوحید' میں ‏جون 30, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    باب:5- توحید کی تفسیر اور کلمہ “لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّه”کی شہادت کا مفہوم(1
    اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
    (أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخَافُونَ عَذَابَهُ إِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُورًا (سورة الإسراء17: 57))
    “یہ لوگ، جنہیں وہ(مشرکین)پکارتے ہیں وہ تو خود اپنے رب کا تقرب حاصل کرنے کے لیے وسیلہ(ذریعہ)ڈھونڈتے ہیں کہ کون اس کے قریب تر ہے۔ اور وہ اس کی رحمت کے امیدوار اور اس کے عذاب سے خائف رہتے ہیں۔ بے شک تیرے رب کا عذاب ڈرنے کی چیز ہے۔”(2)

    نیز اللہ تعالی نے فرمایا:
    (وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ إِنَّنِي بَرَاءٌ مِمَّا تَعْبُدُونَ (26) إِلَّا الَّذِي فَطَرَنِي فَإِنَّهُ سَيَهْدِينِ (27) وَجَعَلَهَا كَلِمَةً بَاقِيَةً فِي عَقِبِهِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ (سورة الزخرف43: 28))
    “اور جب ابراہیم (علیہ السلام)نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے (صاف صاف)کہہ دیا تھا کہ تم اللہ تعالی کے سوا جن کی بندگی کرتے ہو میرا ان سے کوئی تعلق نہیں، میں ان سے بے زار ہوں۔ ہاں(میں صرف اسے مانتا ہوں)جس نے مجھے پیدا کیا ہے، وہی میری رہنمائی کرے گا۔ اور وہ یہی بات(دعوت)اپنی اولاد میں پیچھے چھوڑ گئے تاکہ وہ بھی اللہ ہی کی طرف رجوع کریں۔”(3)

    اللہ تعالی نے مزید فرمایا:
    (اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا إِلَهًا وَاحِدًا لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ (سورة التوبة9: 31))
    “ان(عیسائی)لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے علماء اور بزرگوں کو رب بنا لیا۔”(4)
    (وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَتَّخِذُ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَنْدَادًا يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللَّهِ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ (سورة البقرة2: 165))
    “کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو غیروں کو اللہ کے شریک ٹھہراتے ہیں اور ان سے اللہ کی سی محبت کرتے ہیں اور ایمان والے سب سے بڑھ کر اللہ سے محبت کرتے ہیں۔”(5)


    نبی ﷺنے فرمایا:
    (مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَكَفَرَ بِمَا يُعْبَدُ مَنْ دُونِ اللهِ، حَرُمَ مَالُهُ، وَدَمُهُ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللهِ عَزَّوَجَلَّ)(صحیح مسلم، الایمان الامر بقتال الناس حتی یقولوا “لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّه”.....،ح:23)
    جس شخص نے کلمہ “لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّه”کا اقرار کرلیا اور معبودان باطلہ کا انکار اور کفر کیا تو اس کا مال اور خون محفوظ ہوگیا۔ اب اس کا باقی معاملہ اللہ تعالی کے سپرد ہے۔”(6)


    آئندہ آنے والے ابواب اسی عنوان“لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّه”کی شہادت کا مطلب شرح اور وضاحت پیش کرتے ہیں۔(7)

    مسائل
    1) اس میں سب سے اہم مسئل توحید اور کلمہ “لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّه”کی گواہی دینے کی تفسیر ہے جسے متعدد آیات و احادیث سے واضح کیا گیا ہے۔
    2) ان میں سے ایک ، سورۂ الاسراء (بنی اسرائیل) کی آیت 57 ہے جس میں ان مشرکین کی تردید ہے جو صالحین اور بزرگان کو پکارتے ہیں، اس آیت میں صاف صاف بیان ہے کہ ہی شرک اکبر ہے۔
    3) اس باب میں دلائل توحید بیان کرتے ہوئے ایک دلیل سورۂ البراءۃ (التوبہ)کی آیت 31 بھی ہے جس میں اللہ تعالی نے واضح طور پر فرمایا ہے کہ اہل کتاب نے اللہ تعالی کے ساتھ ساتھ اپنے علماء اور بزرگوں کو بھی رب بنا رکھا تھا حالانکہ انہیں صرف اورصرف ایک “إِلَهَ”کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا۔ اس کے باوجود اس آیت کی وہ تفسیر جس میں کوئی اشکال یا ابہام نہیں، یہ ہے کہ اہل کتاب اپنے علماء اور بزرگوں کو مصیبت یا مشکل کے وقت پکارتے نہیں تھے بلکہ معصیت کے کاموں میں ان کی اطاعت کرتے تھے۔(اور اسی کو معبود اور رب بنانا کہاگیا ہے)
    (4) اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی اس بات کا بھی تذکرہ ہے جو انہوں نے کفار سے کہی تھی:
    (إِنَّنِي بَرَاءٌ مِمَّا تَعْبُدُونَ (26) إِلَّا الَّذِي فَطَرَنِ(سورة الزخرف43: 28))
    “میں تمہارے معبودوں سے بے زار اور لاتعلق ہوں۔ میرا تعلق صرف اس ذات سے ہے جس نے مجھے پیدا کیا۔”

    یوں ابراہیم علیہ السلام نے کفار کے معبودان باطلہ سے اپنے حقیقی رب کو مستثنی کیا۔ اللہ تعالی نے بیان فرمایا کہ کفار سے اس طرح کی براءت و بے زاری اور اللہ تعالی کی موالات و محبت کا اظہار ہی کلمہ “لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّه”کی گواہی دینا ہے ۔چنانچہ فرمایا:
    وَجَعَلَهَا كَلِمَةً بَاقِيَةً فِي عَقِبِهِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ (سورة الزخرف43: 28))
    “اور ابراہیم علیہ السلام یہی پیغام اپنے پیچھے اپنی اولاد اور قوم کو دے گئے تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔”

    5) نیز ایک دلیل، سورۂ بقرہ کی وہ آیت بھی ہے جس میں اللہ تعالی نے کافروں کے متعلق فرمایا:
    ](وَمَا هُمْ بِخَارِجِينَ مِنَ النَّارِ (سورة البقرة2: 167))
    “وہ جہنم کی آگ سے نکنے والے نہیں۔”

    اور ان کے متعلق فرمایا کہ وہ اپنے بنائے معبودوں ، اللہ کے شریکوں سے یوں محبت کرتے ہیں جیسی محبت اللہ تعالی کے ساتھ ہونی چاہئے۔ نیز واضح فرمایا کہ وہ اللہ تعالی سے بھی شدید محبت رکھتے ہیں لیکن ان کی یہ محبت انہیں اسلام میں داخل نہیں کرسکی۔ ذراغور کریں کہ جب اللہ تعالی اور اس کے ساتھ ساتھ غیر اللہ سے محبت کرنے والے مسلمان نہیں تو اللہ تعالی سے بڑھ کر شریکوں سے محبت کرنے والوں یا اللہ تعالی کو چھوڑ کر صرف غیر اللہ سے محبت کرنے والوں کا کیا حال ہو گا؟
    6) اور ایک دلیل رسول اللہ ﷺکا یہ فرمان ذی شان بھی ہے کہ “جس آدمی نے کلمہ “لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّه”کا اقرار اور معبودان باطلہ کا انکار کیا اس کا مال اور خون(جان)محفوظ ہوگیا اور اس کا حساب یعنی باقی معاملہ اللہ تعالی کے سپرد ہے۔” یہ فرمان مبارک ان عظیم دلائل میں سے ایک ہے جو کلمہ “لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّه”کے معنی و مفہوم کو صحیح طور پر واضح کرتے ہیں کہ محض اس کلمہ کو زبان سے ادا کرلینے اور اس کے معنی کی معرفت حاصل کرلینے، اقرار کرلینے اور اکیلے اللہ کو بغیر شریک ٹھہرائے پکار لینے سے مال و جان کو تحفظ نہیں مل جاتا بلکہ مال و جان کو تحفظ اسی وقت ہی مل سکتا ہے جب اس کے ساتھ ساتھ معبودان باطلہ کا انکار بھی کیا جائے۔ یاد رہے کہ اگر کسی نے ان باتوں میں سے کسی ایک میں بھی ذرا سا شک یا توقف کیا تو اس کی جان اور مال کو تحفظ و امان حاصل نہ ہوسکے گا۔ غور کریں یہ مسئلہ کس قدر اہم ، عظیم اور کس قدر واضح ہے اور مخالفین کے خلاف کتنی بڑی قاطع دلیل ہے۔
    نوٹ:-
    (1) کسی بات کی گواہی کا مفہوم یہ ہے کہ :
    (الف) انسان اپنی زبان سے جو کچھ کہے دلی طور پر اس کا اعتقاد بھی رکھتا ہو۔ اعتقاد اسی صورت میں اعتقاد ہوتا ہے جب کہ اس کا علم اور اس کی سچائی کا یقین ہو۔
    (ب) گواہی کو زبان سے ادا کرنا بھی ضروری ہے۔
    (ج) اس بات سے دوسروں کو مطلع کرنا بھی گواہی کا حصہ ہے اور زبان سے اس کا نطق (بولنا)بھی واجب ہے۔ گواہ بھی اس وقت تک گواہ نہیں ہوتا جب تک کہ وہ متعلقہ بات سے دوسروں کو مطلع نہ کرے۔ تو معلوم ہوا کہ ۔“اَشْهَدُ”(میں گواہی دیتا ہوں)کا معنی، “َاَعْتَقِدُ”](میں اعتقاد رکھتا ہوں)،“اَتَكَلَّمُ ”(میں زبان سے اس کا اقرار کرتا ہوں) اور “أُخْبِر”(میں اس سے دوسروں کو مطلع اور خبردار کرتا ہوں)ہوگا۔ اور ان تین معانی کا بیک وقت جمع ہونا لازمی اور حتمی ہے۔ “لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّه”]میں لانفی جنس کے لیے ہے۔
    اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی بھی شخص یا چیز الوہیت کا استحقاق نہیں رکھتی۔ نفی کےبعد “اِلا”(حرف استثناء)حصر کا فائدہ دیتا ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ حقیقی الہ اور معبود برحق صرف اللہ تعالی ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔
    “”معبود:بعض لوگ لانفی جنس کی خبر “مَوْجُودٌ”بتاتے ہیں۔ایسی صورت میں معنی یوں ہو گا کہ “اللہ تعالی کے سوا کوئی معبود موجود نہیں۔” مگر یہ معنی اور مفہوم صحیح نہیں اس لیے کہ اللہ تعالی کے علاوہ دوسرے معبودوں کی عبادت ہوتی ہے جو کہ موجود ہیں۔ لہذا لانفی جنس کی خبر ۔“مَوْجُوْدٌ”کی بجائے” “۔بِحَقٍّ۔”یا“۔حقٌ۔”ہونی چاہئے۔اس صورت میں معنی یوں ہوگا کہ: اللہ تعالی کے سوا کوئی معبود “بر حق”نہیں ہے۔ کیونکہ اس کے سوا جس کی بھی عبادت کی جائے وہ معبود ہی ہے اگرچہ اسے معبود سمجھنا یا بنانا باطل “ظلم”سرکشی اور ناجائز ہے۔ عربی زبان سے واقف آدمی کلمہ ““لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّه”لَّه”سنتے ہی یہی مفہوم اخذ کرےگا۔
    (2) اس آیت میں“يَدْعُوْنَ” کا معنی “يَعْبُدُوْنَ”ہے۔
    وسیلہ: قصد اور حاجت کو کہتے ہیں۔ مطلب یہ کہ: یہ لوگ اپنی حاجات اور ضروریات کو اللہ تعالی سے چاہتے ہیں۔ یہ مقصود اللہ تعالی ہی سے حاصل ہو سکتا ہے۔ لہذاوہ لوگ اللہ کے سوا کسی دوسرے کی طرف متوجہ نہیں ہوتے ان کی توجہ محض اللہ تعالی پر مرکوزہوتی ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالی نے موقع کی مناسبت سے“اِلى رَبِّهِمْ”کہہ کر ربوبیت کا ذکر کیا ہے کیونکہ دعا کو قبول کرنا اور اس کا صلہ دینا ربوبیت کا خاصہ ہے۔
    یوں اس آیت سے توحید کی تفسیر واضح ہوئی کہ تمام حاجات و ضروریات صرف اور صرف اللہ عزوجل سے پوری ہوتی ہیں۔(وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخَافُونَ عَذَابَهُ) “وہ اس کی رحمت کے امید وار اور اس کے عذاب سے خائف رہتے ہیں۔” یہ اللہ تعالی کے محبوب بندوں کا وصف ہے جو محبت، خوف اور امید کے ملے جلے جذبات کے ساتھ اللہ تعالی کی عبادت بجا لاتے ہیں۔ یہ بھی توحید ہی کی تفسیر ہے۔
    (3) اس آیت مبارکہ میں نفی اور اثبات دونوں موجود ہیں۔ ان دونوں سے توحید ثابت ہوتی ہے۔ پس “لاَ إِلَهَ”کی جگہ “إِنَّنِي بَرَاءٌ مِمَّا تَعْبُدُونَ”اور “ إِلَّا اللَّه”کی جگہ “إِلَّا الَّذِي فَطَرَنِي”ہے۔
    براءت:کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالی کے سوا جن کی عبادت کی جاتی ہے ان سے بغض و عداوت رکھتے ہوئے ان کا (انکار)کرنا۔ جب تک دل میں یہ چیز نہ ہواسلام راسخ اور پختہ نہیں ہو سکتا۔
    (4) ارباب :رب کی جمع ہے:یہاں ربوبیت، عبادت کے معنی میں ہے۔ آیت کا مفہوم یہ ہوا کہ ان(عیسائی) لوگوں نے اللہ تعالی کے ساتھ ساتھ اپنے علماء اور بزرگوں کو بھی اس حد تک اپنا معبود بنا لیا کہ وہ حرام کو حلال یا حلال کو حرام کہہ دیتے تو وہ لوگ اسی طرح مان لیتے۔ کسی کی بات کو تسلیم کرنا بھی توحید سے تعلق رکھتا ہے اور غیر اللہ کی غیر مشروط اطاعت، توحید کے منافی ہے۔
    (5) یعنی ان لوگوں نے معبودان باطلہ کی محبت کو اللہ تعالی کی محبت کے برابر کر دیا ۔ وہ لوگ اللہ تعالی سے بہت زیادہ محبت رکھتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے ان معبودوں کے ساتھ بھی اسی طرح کی شدید محبت رکھتے ہیں جن پر انہیں ناز ہے اور محبت میں یہ مساوات اوربرابری کرنا شرک ہے۔ ان لوگوں کی اسی محبت نے انہیں جنہم میں پہنچا دیا۔
    جیسا کہ اللہ تعالی نے سورۃ الشعراء میں جہنمیوں کا یہ قول بیان فرمایا ہے:
    (تَاللَّهِ إِنْ كُنَّا لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ (97) إِذْ نُسَوِّيكُمْ بِرَبِّ الْعَالَمِينَ (سورة الشعراء26: 98))
    “اللہ کی قسم! ہم تمہیں رب العالمین کے برابر قراردے کر صریح گمراہی میں تھے۔”

    محبت بھی عبادت کی اقسام میں سے ایک قسم ہے۔ جنہوں نے غیر اللہ کے ساتھ ، اللہ تعالی کی سی محبت روا (مباح)رکھی تو گویا انہوں نے اپنے محبوبین کو اللہ تعالی کا شریک بناڈالا۔ توحید اور کلمہ “لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّه”کی گواہی دینے کا یہی مفہوم ہے کہ جیسا تعلق اور محبت اللہ تعالی کے ساتھ ہو، ویسا مضبوط تعلق اور شدید محبت کسی دوسرے کے ساتھ قطعا نہ ہو۔
    (6) اس حدیث میں کلمۂ توحید “لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّه”کے اقرار کے علاوہ معبودان باطلہ کا کفر کرنے کی بات بھی بیان ہوئی ہے گویا کلمۂ توحید “لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّه”کے اقرار و اعتراف میں معبودان باطلہ کا کفر ، انکار اور ان سے اظہار براءت بھی شامل ہے۔
    “حَرُمَ مَالُهُ، وَدَمُهُ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللهِ عَزَّوَجَلَّ”کا معنی یہ ہے کہ جس نے کلمۂ توحید“لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّه”کا اقرار و اعتراف اور معبودان باطلہ کا انکار و کفر کیا وہ مسلمان ہو جاتا ہے جس کا مال اور خون صرف تین صورتوں (زنا، قتل اور ارتداد)ہی میں روا(جائز)ہے۔
    اس تفصیل سے یہ خوب عیاں ہو چکا کہ توحید کی تفسیر اور کلمہ توحید “لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّه”کی گواہی، آپ سے بہت زیادہ توجہ ، غور و فکر اور سوچ بچار کا تقاضا کرتی ہے تاکہ آپ اسے اچھی طرح سمجھ لیں۔
    (7) گویا ساری کتاب ، توحید اور کلمہ توحید“لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّه”کی تشریح و توضیح ہے اور ان امور کا تفصیلی بیان ہے جو اس کے متضاد اور توحید کی اصل اور کمال کے منافی ہیں۔
    نیز اس میں شرک اکبر ، شرک اصغر، شرک خفی اور شرکیہ الفاظ کی وضاحت کے ساتھ ساتھ توحید کے لوازمات یعنی توحید فی العبادت، اللہ تعالی کے اسماء و صفات کا اقرار اور توحید الوہیت میں توحید ربوبیت کا اقرار شامل ہونے کا مفصل بیان ہے۔
     
    • اعلی اعلی x 1
Loading...
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں