امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ ، امام ذہبی رحمہ اللہ کی نظرمیں۔

کفایت اللہ نے 'حدیث - شریعت کا دوسرا اہم ستون' میں ‏جولائی 3, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,021
    امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی بعض خوبیاں اپنی جگہ پر لیکن اس بات پر امت کا اجماع ہے کہ وہ روایت حدیث میں ضعیف تھے ، جیساکہ امام ابوبکر بن داؤد رحمہ اللہ نے پوری صراحت کے ساتھ یہ بات کہی ہے:
    چنانچہ امام ابن عدی رحمہ اللہ متوفي 365 ھ فرماتے ہیں:
    سمعت بن أبى داود يقول الوقيعة في أبى حنيفة جماعة من العلماء لان امام البصرة أيوب السختياني وقد تكلم فيه وإمام الكوفة الثوري وقد تكلم فيه وامام الحجاز مالك وقد تكلم فيه وامام مصر الليث بن سعد وقد تكلم فيه وامام الشام الأوزاعي وقد تكلم فيه وامام خراسان عبد الله بن المبارك وقد تكلم فيه فالوقيعة فيه إجماع من العلماء في جميع الأفاق أو كما قال [الكامل في الضعفاء 7/ 10]۔

    اس کے باوجود بھی بعض حضرات امام ذہبی رحمہ اللہ کے حوالے سے یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ جرح وتعدیل کے ماہر اس عظیم امام نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کو ثقہ قراردیاہے، حالانکہ اس طرح کی بات کرنا امام ذہبی اورامام ابوحنیفہ دونوں پر ظلم ہے ، رحمہمااللہ۔

    اس سلسلے میں غلط فہمی کے اسباب درج ذیل ہیں:

    • امام ذہبی رحمہ اللہ نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا ذکر ’’ تذکرۃ الحفاظ ‘‘ میں کیا ہے۔
    • امام ذہبی رحمہ اللہ نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا ذکر’’ المعین فی طبقات المحدثین ‘‘ میں کیا ہے۔
    • امام ذہبی رحمہ اللہ نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اورصاحبین کے فضائل پر مستقل کتاب لکھ رکھی ہے۔


    اب آئیے بالترتیب ان اسباب کا جائزہ لیتے ہیں:

    امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور’’تذكرة الحفاظ‘‘ للذھبی

    ’’تذكرة الحفاظ‘‘ میں امام ذہبی رحمہ اللہ نے ایسی کوئی شرط نہیں اپنائی ہے کہ اس میں وہ صرف ثقہ لوگوں کا ہی تذکرہ کریں گے بلکہ امام ذہبی رحمہ اللہ نے اس کتاب میں ثقہ لوگوں کے ساتھ ساتھ ایسے لوگوں کا بھی تذکرہ کیا ہے جن کو شہرت حاصل رہی ہے خواہ وہ ضعیف یا متروک حتی کہ کذاب ہی کیوں نہ ہوں۔

    چند مثالیں ملاحظہ ہوں:

    ١:أبو بشر أحمد بن محمد بن عمرو بن مصعب بن بشر بن فضالة المروزي:


    امام ذہبی نے اپنی اسی کتاب ’’تذکرۃ الحفاظ‘‘ میں أبو بشر أحمد بن محمد بن عمرو بن مصعب بن بشر بن فضالة المروزي کا تذکرہ کیا ہے جو کہ کذاب ہے ، امام ذہبی رحمہ اللہ نے اسی کتاب میں اس کا تذکرہ کرنے کے ساتھ ساتھ اسے کذاب بھی کہا ہے ، لکھتے ہیں:
    المصعبي الحافظ الأوحد أبو بشر أحمد بن محمد بن عمرو بن مصعب بن بشر بن فضالة المروزي الفقيه إلا أنه كذاب [تذكرة الحفاظ: 3/ 18]۔
    آگے اسی کتاب میں اسی کذاب کو وضاع حدیث بتلاتے ہوئے دیگر ناقدین کا قول نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
    قال الدارقطني: كان حافظًا عذب اللسان مجردًا في السنة والرد على المبتدعة لكنه يضع الحديث. وقال ابن حبان: وكان ممن يضع المتون ويقلب الأسانيد [تذكرة الحفاظ:/ 18]۔

    حافظ ابن حجررحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    أحمد بن محمد بن عمرو بن مصعب يكنى أبا بشر و كان من الحفاظ لكنه متهم بوضع الحديث [نتائج الافکار:1 / 264]۔


    فائدہ:
    امام دارقطنی حافظ ذہبی اورحافظ ابن حجررحمہااللہ کے کلام سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ کوئی راوی ’’حافظ ‘‘ ہونے کے باوجود ’’کذاب ومجروح‘‘ ہوسکتاہے ، کیونکہ تینوں اماموں نے مذکورۃ الصد راوی کو ’’کذاب‘‘ کہنے کے ساتھ ساتھ ’’حافظ‘‘ بھی کہاہے۔
    واضح رہے کہ امام ذہبی نے بہت سے کذاب اورمجروحین کو ان کے کذب اور ضعف کے باوجود بھی اس قابل سمجھا کہ انہیں ’’حافظ‘‘ سے متصف کیا لیکن امام صاحب کو کہیں ’’حافظ‘‘ کہا ہو یہ ہمیں تلاش بسیار کے باوجود بھی نہیں ملا۔ تاہم کہیں مل بھی جائے تو اس محض ’’حافظ‘‘ کی حقیقت واضح کی جاچکی ہے۔

    ٢: إبراهيم بن محمد بن أبي يحيى الفقيه المحدث أبو إسحاق الأسلمي المدني۔

    امام ذہبی اپنی اسی کتاب میں اس راوی کا تذکرہ کرتے ہوئے اہل فن سے ناقل ہیں:
    وقال يحيى القطان: سألت مالكا عنه أكان ثقة في الحديث قال: لا، ولا في دينه. وقال أحمد بن حنبل: قدري جهمي كلا بلاء فيه ترك الناس حديثه. وقال ابن معين وأبو داود: رافضي كذاب. وقال البخاري: قدري جهمي تركه ابن المبارك والناس.[تذكرة الحفاظ: 1/ 181]۔

    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اس راوی کے بارے میں فرماتے ہیں:
    إبراهيم بن محمد بن أبي يحيى الأسلمي أبو إسحاق المدني متروك [تقريب التهذيب:رقم 1/ 17]۔

    ٣:محمد بن عمر بن واقد الأسلمي۔

    امام ذہبی اپنی اسی کتاب میں اس کاتذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
    الواقدي هو محمد بن عمر بن واقد الأسلمي مولاهم أبو عبد الله المدني الحافظ البحر [تذكرة الحفاظ:1/ 254]۔
    یہ اس قدر ضعیف راوی ہے کہ امام ذہبی رحمہ اللہ نے اس کا مکمل ترجمہ بھی نقل نہیں کیا ہے۔

    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اس راوی کے بارے میں فرماتے ہیں:
    محمد بن عمر بن واقد الأسلمي الواقدي المدني القاضي نزيل بغداد متروك مع سعة علمه [تقريب التهذيب:رقم 1/ 412]۔

    ٤: أبو العباس محمد بن يونس بن موسى القرشي السامي البصري۔

    امام ذہبی رحمہ اللہ اپنی اس کتاب میں اس کا بھی تذکرہ کیا ہے اورساتھ ہی میں اس پرشدید جرح بھی کی ہے ، لکھتے ہیں:
    الكديمي الحافظ المكثر المعمر أبو العباس محمد بن يونس بن موسى القرشي السامي البصري محدث البصرة وهو واه [تذكرة الحفاظ:2/ 144]۔
    امام ذہبی آگے چل کراس کے بارے میں اہل علم کے اقوال نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
    قال ابن عدي: اتهم الكديمي بوضع الحديث وقال ابن حبان: لعله قد وضع أكثر من ألف حديث, وقال ابن عدي: ترك عامة مشايخنا الرواية عنه ورماه أبو داود بالكذب, وقال موسى بن هارون وهو متعلق بأستار الكعبة: اللهم إني أشهدك أن الكديمي كذاب يضع الحديث. وقال قاسم المطرز: أنا أجافي الكديمي كذاب يضع الحديث. وقال قاسم المطرز: أنا أجافي الكديمي بين يدي الله وأقول يكذب على نبيك وقال الدارقطني: يتهم بالوضع [تذكرة الحفاظ: 2/ 145]۔

    حافظ ابن حجررحمہ اللہ اس راوی کے بارے میں فرماتے ہیں:
    محمد بن يونس بن موسى بن سليمان الكديمي بالتصغير أبو العباس السامي بالمهملة البصري ضعيف ولم يثبت أن أبا داود روى عنه[تقريب التهذيب: رقم 1/ 429]۔

    ٥: أبو معشر نجيح بن عبد الرحمن السندي۔

    امام ذہبی رحمہ اللہ اپنی اسی کتاب میں ان کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
    أبو معشر السندي المدني الفقيه صاحب المغازي، هو نجيح بن عبد الرحمن [تذكرة الحفاظ:1/ 172]۔

    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    نجيح بن عبد الرحمن السندي بكسر المهملة وسكون النون المدني أبو معشر مولى بني هاشم مشهور بكنيته ضعيف [تقريب التهذيب موافق: 1/ 473]۔

    واضح رہے کہ ابومعشر کا تذکرہ امام ذہبی نے اسی طبقہ میں کیا ہے جس میں ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا تذکرہ ہے اسی طرح اسی ابوحنیفہ رحمہ اللہ والے طبقہ میں ابن لھیعہ رحمہ اللہ کا بھی تذکرہ ہے جن کے ضعیف ہونے کے بارے میں حدیث کا معمولی طالب علم بھی جانتاہے۔

    یہ صرف پانچ نام ہیں جو بطور مثال نقل کئے گئے ہیں ، ان کے علاوہ اسی کتاب میں کذابین وضاعین اور متروکین کی اچھی خاصی تعدا د موجود ہے ،ان مثالوں کو سامنے رکھتے ہوئے کیا ہم یہ جذباتی سوال کرسکتے ہیں کہ ان کذابین یا ضعفاء کو امام ذہبی رحمہ اللہ نے تذکرۃ الحفاظ میں کیوں ذکر کیا ؟؟؟
    میرے خیال سے اتنی وضاحت اہل نظر کے لئے کافی ہے۔

    اب آتے ہیں امام ذہبی کی دوسری کتاب کی طرف:


    امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور’’المعين فى طبقات المحدثين‘‘ للذھبی


    اس کتاب میں بھی امام ذہبی رحمہ اللہ نے ایسی کوئی شرط نہیں اپنائی ہے کہ اس میں وہ صرف ثقہ لوگوں کا ہی تذکرہ کریں گے بلکہ امام ذہبی رحمہ اللہ نے اس کتاب میں بھی ثقہ لوگوں کے ساتھ ساتھ ایسے لوگوں کا بھی تذکرہ کیا ہے جن کو شہرت حاصل رہی ہے خواہ وہ ضعیف یا متروک حتی کہ کذاب ہی کیوں نہ ہوں۔
    چند مثالیں ملاحظہ ہوں:

    ١: علي بن زيد ابن جدعان التيمي
    ان کا تذکرہ امام ذہبی رحمہ اللہ نے دوسرے طبقہ میں کیا ہے یعنی امام حنیفہ رحمہ اللہ والے طبقہ سے دو طبقہ قبل[المعين فى طبقات المحدثين ص: 11]۔

    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ میں ان کے بارے میں فرماتے ہیں:
    علي بن زيد بن عبد الله بن زهير بن عبد الله بن جدعان التيمي البصري أصله حجازي وهو المعروف بعلي بن زيد بن جدعان ينسب أبوه إلى جد جده ضعيف [تقريب التهذيب موافق رقم 1/ 317]۔

    ٢:الحسن بن عمارة القاضي۔

    یہ متروک راوی ہیں ،ان کا تذکرہ امام ذہبی رحمہ اللہ نے اعمش اور ابوحنیفہ رحمہما للہ کے طبقہ ہی میں کیا ہے[المعين فى طبقات المحدثين ص: 12]۔

    حافظ ابن حجررحمہ اللہ ان کے بارے میں فرماتے ہیں:
    الحسن بن عمارة البجلي مولاهم أبو محمد الكوفي قاضي بغداد متروك[تقريب التهذيب:رقم 1/ 83]۔

    ٣:طلحة بن عمرو المكي۔

    یہ متروک راوی ہیں ان کا تذکرہ بھی امام ذہبی رحمہ اللہ نے اعمش اور ابوحنیفہ رحمہما للہ کے طبقہ ہی میں کیا ہے[المعين فى طبقات المحدثين ص: 12]۔

    حافظ ابن حجررحمہ اللہ ان کے بارے میں فرماتے ہیں:
    طلحة بن عمرو بن عثمان الحضرمي المكي متروك [تقريب التهذيب : رقم 1/ 198]۔

    ٤: مقاتل بن سليمان۔

    یہ کذاب راوی ہے ، اس کا تذکرہ بھی امام ذہبی رحمہ اللہ نے اعمش اور ابوحنیفہ رحمہما للہ کے طبقہ ہی میں کیا ہے [المعين فى طبقات المحدثين ص: 13]۔

    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اس کذاب کے بارے میں فرماتے ہیں:
    مقاتل بن سليمان بن بسير الأزدي الخراساني أبو الحسن البلخي نزيل مرو ويقال له بن دوال دوز كذبوه وهجروه [تقريب التهذيب موافق رقم 1/ 458]۔

    ٥:يزيد بن أبي زياد الكوفي۔

    یہ ضعیف راوی ہے ، اس کا تذکرہ بھی امام ذہبی رحمہ اللہ نے اعمش اور ابوحنیفہ رحمہما للہ کے طبقہ ہی میں کیا ہے[المعين فى طبقات المحدثين ص: 13]۔

    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اس ضعیف کے بارے میں فرماتے ہیں:
    يزيد بن أبي زياد الهاشمي مولاهم الكوفي ضعيف كبر فتغير وصار يتلقن وكان شيعيا [تقريب التهذي: رقم 1/ 513]۔

    یہ صرف پانچ نام ہیں جو بطور مثال نقل کئے گئے ہیں ، ان کے علاوہ اسی کتاب میں اوربھی کذابین و متروکین اور ضعفاء کی تعدا د موجود ہے ،ان مثالوں کو سامنے رکھتے ہوئے کیا ہم یہ جذباتی سوال کرسکتے ہیں کہ ان کذابین یا ضعفاء کو امام ذہبی رحمہ اللہ نے’’المعين فى طبقات المحدثين ‘‘ میں کیوں ذکر کیا ؟؟؟
    میرے خیال سے اتنی وضاحت اہل نظر کے لئے کافی ہے۔


    اب چلتے ہیں امام ذہبی رحمہ اللہ کی تیسری کتاب کی طرف:

    امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور’’مناقب الإمام أبي حنيفة وصاحبيه‘‘ للذھبی



    کتاب کے نام سے ظاہر یہ ہوتا ہے کہ اس کتاب میں امام ذہبی رحمہ اللہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اوران کے صاحبین کے مناقب بیان کریں گے ، لیکن قارئین کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ اسی کتاب میں امام ذہبی رحمہ اللہ نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے مثالب سے متعلق بھی روایات کا اچھا خاصا حصہ نقل کردیا ہے اور اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے ، لیکن کتاب کے محقق زاہد کوثری نے اس قسم کی روایا ت کو حاشیہ میں موضوع و من گھڑت قرار دینے میں ذرا بھی دیر نہیں کی ہے۔
    اب قارئین اسی سے اندازہ لگالیں کہ اس کتاب میں منقول ہر چیز قابل قبول نہیں ہے ۔
    بہر حال ہمیں یہ بتلانا ہے کہ اس کتاب میں امام ذہبی رحمہ اللہ نے امام صاحب کی کیا پوزیش بیان کی ہے ، تو عرض ہے کہ امام ذہبی رحمہ اللہ نے بے شک اس کتاب میں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی بعض خوبیوں کا ذکر ہے ، لیکن جب روایت حدیث کی بات آئی تو امام ذہبی رحمہ اللہ نے اس کتاب میں بھی دو ٹوک فیصلہ کردیا ہے کہ امام صاحب راویت حدیث میں معتبر نہیں ہیں بلکہ یہاں تک صراحت کی ہے کہ یہ ان کافن ہی نہیں ہے ، اس میں وہ مشغول ہی نہیں ہوئے ۔
    ملاحظہ ہوں مناقب امام ابوحنیفہ للذھبی سے امام ذہبی کا فیصلہ :
    قلت: لم يصرف الإمام همته لضبط الألفاظ والإسناد، وإنما كانت همته القرآن والفقه، وكذلك حال كل من أقبل على فن، فإنه يقصر عن غيره , من ثم لينوا حديث جماعة من أئمة القراء كحفص، وقالون وحديث جماعة من الفقهاء كابن أبي ليلى، وعثمان البتي، وحديث جماعة من الزهاد كفرقد السنجي، وشقيق البلخي، وحديث جماعة من النحاة، وما ذاك لضعف في عدالة الرجل، بل لقلة إتقانه للحديث[مناقب الإمام أبي حنيفة وصاحبيه ص: 45]۔
    میں (حافظ ذہبی ) کہتاہوں کہ امام صاحب نے الفاظ حدیث اور اسناد حدیث ، کی طرف توجہ ہی نہیں کی بلکہ ان کی توجہ صرف قران اورفقہ پر رہی ، اور ہرصاحب فن کا حال یہی ہوتا ہے کہ وہ دوسرے فن کے جاننے سے قاصرہوتاہے، اسی لئے محدثین نے قراء کی ایک جماعت کی حدیث کو کمزورقرار دیا ہے، جیسے حفص،قالون، اسی طرح فقہاء کیا ایک جماعت کی حدیث کو کمزورقرار دیا ہے جیسے ابن ابی لیلی اورعثمان البتی، اسی طرح زہاد کی ایک جماعت کی حدیث کو کمزورقرار دیا ہے جیسے فرقد سنجی اورسقیق بلخی ، اسی طرح نحویوں کی ایک جماعت کی حدیث کو کمزورقرار دیا لیکن اس سے مقصود ان کی عدالت پر جرح کرنا نہیں بلکہ یہ بتلانا ہے کہ وہ حدیث میں بڑی کم جانکاری رکھتے ہیں۔




    امام ذہبی رحمہ اللہ کی ایک اورکتاب ہے


    تذکرۃ الحفاظ یا المعین میں امام ذہبی رحمہ اللہ نے ایسی کوئی شرط نہیں لگائی ہے کہ وہ اس میں صرف ثقہ لوگوں کو ذکرکریں گے اسے لئے ان دونوں کتابوں میں امام ذہبی رحمہ اللہ نے کذابین کا تذکرہ بھی کردیا ہے۔
    لیکن امام ذہبی رحمہ انے ایک کتاب ’’ديوان الضعفاء والمتروکين‘‘ کے نام سے لکھی ہے اب کتاب کے نام ہی سے واضح ہے کہ ان میں کن کا تذکرہ ہوگا۔

    بہرحال امام ذہبی کی کتاب ’’ديوان الضعفاء والمتروک‘‘ سے یہ الفاظ ملاحظہ ہوں:
    النعمان الامام رحمه الله. قال ابن عدي: عامة ما يرويه غلط وتصحيف وزيادات وله احاديث صالحة وقال النسائي: ليس بالقوي في الحديث کثير الغلط علي قلة روايته وقال ابن معين: لا يکتب حديثه [ديوان الضعفاء والمتروکين، ص:٤١١ ، ٤١٢]۔

    امام ذہبی رحمہ اللہ کی اس عبارت سے ان کا فیصلہ کھل کر سامنے آگیا کہ ان کے نزدیک بھی امام صاحب ضعیف ہیں۔


    ایک اورنکتہ


    امام ذہبی رحمہ اللہ نے ایک کتاب لکھی ہے’’معرفة الرواة المتكلم فيهم بما لا يوجب الرد‘‘ اس کتاب میں امام ذھبی رحمہ اللہ نے ایسے لوگوں کا تذکرہ کیا ہے جن پر بعض لوگوں نے جرح کی ہے لیکن اس کے باوجود بھی وہ راوی قابل قبول ہے اور اس پر کی گئی جرح امام ذہبی رحمہ اللہ کے نزدیک مردود ہے۔
    لیکن آپ اس کتاب کو پورا پڑھ جائے آپ کو اس میں امام ابوحنیفہ کا نام ونشان نہیں ملے گا، یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ امام صاحب پر اہل فن کی طرف سے جو جروح کی گئی ہیں وہ امام ذہبی رحمہ اللہ کے نزدیک مبنی پر انصاف ہیں۔
     
    Last edited by a moderator: ‏جولائی 3, 2011
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. نعمان نیر کلاچوی

    نعمان نیر کلاچوی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 25, 2011
    پیغامات:
    552
    جزاک اللہ خیرا محترم بھائی
    بہت ہی مفید پوسٹ ہے بلاشبہ آج ہمیں اس قسم کی نایاب تحقیق کی اشد ضرورت ہے۔
     
  3. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,021
  4. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,021
    اس اعتراف کے بعد اب حافظ ذہبی رحمہ اللہ کے حوالہ سے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی توثیق کے سلسلے میں اس کتاب کا حوالہ نہیں آناچاہئے۔

    ہم نے یہ کب دعوی کیا کہ اس کتاب میں دوسرے نامناسب امر کا بیان ہے ؟؟؟
    تذکرہ الحفاظ پر بحث اس لئے ہوئی کہ بعض احباب محض اس بات کو امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی توثیق سمجھتے ہیں کہ امام ذہبی رحمہ اللہ نے ان کا تذکرہ اپنی کتاب ’’تذکرۃالحفاظ‘‘ میں کیا ہے اور یہ ان کی توثیق کے لئے کافی نہیں ہے یہی بتانے کے لئے اوپرمثالیں دی گئی ہیں ، اوراس بات کا دعوی ہرگزنہیں کیا گیا ہے کہ اس کتاب میں امام ذہبی رحمہ اللہ نے ابوحنیفہ رحمہ اللہ کو ضعیف قرار دیا ہے پھربھی معلوم نہیں کیوں آپ دوربین لگانے کا مشورہ کیوں دے رہے۔


    صرف نظر کرلیتے ہیں یا تسلیم کرلیتے ہیں کہ واقعی اس کتاب میں کذاب اورضعیف راویوں کا بھی تذکرہ ہے؟؟؟
    تذکرۃ الحفاظ کے ساتھ ساتھ اگر آپ اس کتاب کے بارے میں بھی اس حقیقت کا اعتراف کرلیتے ہیں ، کہ اس میں بھی مجروحین کا ذکرموجود ہے تو آپ کا کیا بگڑ جاتا ؟؟؟

     
  5. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,021
    ’’المعين فى طبقات المحدثين‘‘ اور قلیل الحدیث رواۃ


    ۔
    امام صاحب حفاظ حدیث کی صف میں ہیں اس سے کس کو اختلاف ہے؟؟؟
    احادیث کی روایت میں انہوں نے بھی حصہ لیا ہے اور اس معنی میں وہ محدث بھی ہیں اور حفاظ کی صف میں شامل بھی ہیں ، لیکن اس صف میں ان کی پوزیشن کیا ہے یہ جانناضروری ہے، حفاظ کی صف میں شامل ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ موصوف بھی حافظ ہوگئے ، یہ تو بالکل وہی مثال ہوئی کی انگلی کٹا کے شہیدوں میں نام لکھانا !!!
    انگلی کٹا کر کوئی شہیدوں کی صف میں تو کھڑا ہوسکتا ہے مگر شہادت کے مقام کو نہیں پہنچ سکتا، صف میں کھڑے ہونے میں اورصف میں میں دوسروں کا مقام پانے میں بڑا فرق ہے ، بات امام ذہبی کی ہورہی ہے تو آپ امام ذہبی ہی کی کوئی ایسی صریح روایت پیش کردیں کہ جس میں امام ذہبی رحمہ اللہ نے ابوحنیفہ رحمہ اللہ کو ’’حافظ‘‘ کے لقب سے ملقب کیا ہو!!!

    بہرحال ہم نے پہلے مثالوں کے ذریعہ واضح کیا تھا کہ ’’المعين فى طبقات المحدثين‘‘ میں کذاب اورضعیف رواۃ بھی موجود ہیں ، اس کا فائدہ یہ ہوا کہ عام قارئین کو یہ بات معلوم ہوگئی اس کتاب میں بھی کسی کے ذکر سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ ثقہ ہے۔
    لیکن اب یہ مسئلہ اٹھایا گیا ہے کہ اس کتاب میں ذکرکئے جانے سے کم از کم اتنا تو ثابت ہوا کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ حفاظ حدیث میں شامل تھے یعنی قلیل الحدیث نہیں تھے جیسا کہ بعض لوگ کہتے ہیں۔

    تو آئے اب ہم مثالوں کے ذریعہ یہ بات بھی واضح کردیتے ہیں کہ اس کتاب ’’المعين فى طبقات المحدثين‘‘ میں کسی راوی کے ذکر ہونے سے یہ مطلب نکالنا بھی درست نہیںکہ وہ قلیل الحدیث کے بجائے کثیر الحدیث ہوگیا ۔
    ذیل میں ہم اسی کتاب ’’المعين فى طبقات المحدثين‘‘ سے بعض ایسے رواۃ کے نام پیش کرتے ہیں جنہیں خود امام ذہبی رحمہ اللہ ہی نے دوسرے مقام پر صریح طور پر قلیل الحدیث کہہ رکھا ہے:

    پہلی مثال:
    المعین میں پہلے طبقہ یعنی امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے طبقہ سے بھی قبل والے طبقہ میں ’’حمران مولى عثمان‘‘ ہیں[المعين فى طبقات المحدثين ص: 6]۔

    انہیں کے بارے میں امام ذہبی رحمہ اللہ خود دوسری کتاب میں فرماتے ہیں:
    حُمْرَانُ بنُ أَبَانٍ الفَارِسِيُّ (ع)الفَقِيْهُ، مَوْلَى أَمِيْرِ المُؤْمِنِيْنَ عُثْمَانَ.كَانَ مِنْ سَبْيِ عَيْنِ التَّمْرِ ، ابْتَاعَهُ عُثْمَانُ مِنَ المُسَيِّبِ بنِ نَجَبَةَ.حَدَّثَ عَنْ: عُثْمَانَ، وَمُعَاوِيَةَ.
    وَهُوَ قَلِيْلُ الحَدِيْثِ. رَوَى عَنْهُ: عَطَاءُ بنُ
    [سير أعلام النبلاء 4/ 182]۔

    دوسری مثال:
    المعین میں دوسرے طبقہ یعنی امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے طبقہ سے بھی قبل والے طبقہ میں ’’ لحارث بن سويد التميمي‘‘ ہیں،[المعين فى طبقات المحدثين ص: 6]۔

    انہیں کے بارے میں امام ذہبی رحمہ اللہ خود دوسری کتاب میں فرماتے ہیں:
    الحَارِثُ بنُ سُوَيْدٍ التَّيْمِيُّ الكُوْفِيُّ أَبُو عَائِشَةَ (ع) إِمَامٌ، ثِقَةٌ، رَفِيْعُ المَحَلِّ.حَدَّثَ عَنْ: عُمَرَ، وَابْنِ مَسْعُوْدٍ، وَعَلِيٍّ.يُكْنَى: أَبَا عَائِشَةَ.رَوَى عَنْهُ: إِبْرَاهِيْمُ التَّيْمِيُّ، وَأَشْعَثُ بنُ أَبِي الشَّعْثَاءِ، وَعُمَارَةُ بنُ عُمَيْرٍ، وَجَمَاعَةٌ.وَهُوَ قَلِيْلُ الحَدِيْثِ، قَدِيْمُ المَوْتِ، قَدْ ذَكَرَهُ أَحْمَدُ بنُ حَنْبَلٍ، فَعَظَّمَ شَأْنَهُ، وَرَفَعَ مِنْ قَدْرِهِ.[سير أعلام النبلاء 4/ 156]۔

    تیسری مثال:
    المعین میں دوسرے طبقہ یعنی امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے طبقہ سے بھی قبل والے طبقہ میں ’’شريح القاضي أبو أمية‘‘ ہیں [المعين فى طبقات المحدثين ص: 7]۔

    انہیں کے بارے میں امام ذہبی رحمہ اللہ خود دوسری کتاب میں فرماتے ہیں:
    (شريح بن الحارث) ابن قيس بن الجهم بن معاوية بن عامر القاضي: أبو أمية الكندي الكوفي قاضيها. ويقال: شريح بن شراحيل، ويقال: ابن شرحبيل، ويقال: إنه من أولاد الفرس الذي كانوا باليمن. وقد أدرك الجاهلية، ووفد من اليمن بعد النبي صلى الله عليه وسلم، وولي قضاء الكوفة لعمر. وروى عنه: وعن: علي، وعبد الرحمن بن أبي بكر. روى عنه: الشعبي، وإبراهيم النخعي، ومحمد بن سيرين، وقيس بن أبي حازم، ومرة الطيب، وتميم بن سلمة. وهو مع فضله وجلالته قليل الحديث [تاريخ الإسلام للذهبي 5/ 420]۔


    چوتھی مثال :
    المعین میں دوسرے طبقہ یعنی امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے طبقہ سے بھی قبل والے طبقہ میں ’’مالك بن أوس بن الحدثان‘‘ ہیں [المعين فى طبقات المحدثين ص: 7]۔

    انہیں کے بارے میں امام ذہبی رحمہ اللہ خود دوسری کتاب میں فرماتے ہیں:
    مَالِكُ بنُ أَوْسِ بنِ الحَدَثَانِ بنِ الحَارِثِ بنِ عَوْفٍ النَّصْرِيُّ (ع)الفَقِيْهُ، الإِمَامُ، الحُجَّةُ، أَبُو سَعْدٍ - وَيُقَالُ: أَبُو سَعِيْدٍ - النَّصْرِيُّ، الحِجَازِيُّ، المَدَنِيُّ.۔۔۔ ۔۔۔۔۔قُلْتُ: كَانَ مَذْكُوْراً بِالبَلاَغَةِ وَالفَصَاحَةِ، وَهُوَ قَلِيْلُ الحَدِيْثِ. [سير أعلام النبلاء 4/ 172]۔

    پانچویں مثال:
    المعین میں تیسرے طبقہ یعنی ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے طبقہ سے بھی قبل والے طبقہ میں ’’الحارث بن يزيد العكلي الفقيه‘‘ ہیں ،[المعين فى طبقات المحدثين ص: 10]۔

    انہیں کے بارے میں امام ذہبی رحمہ اللہ خود دوسری کتاب میں فرماتے ہیں:
    (الحارث بن يزيد العكلي خ م ن ق أبو علي التيمي الكوفي الفقيه تلميذ إبراهيم النخعي.) روى عنه مغيرة بن مقسم وخالد بن دينار النيلي وابن عجلان والقاسم ابن الوليد وجماعة. وهو قديم الموت قليل الحديث جداً. وثقه يحيى بن معين.[تاريخ الإسلام للذهبي 8/ 70]۔

    چھٹی مثال:
    المعین میں پہلے طبقہ یعنی امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے طبقہ سے بھی قبل والے طبقہ میں ’’عمرو بن عثمان بن عفان الأموي‘‘ ہیں ۔[ المعين فى طبقات المحدثين ص: 7]۔

    انہیں کے بارے میں امام ذہبی رحمہ اللہ خود دوسری کتاب میں فرماتے ہیں:
    (عمرو بن عثمان بن عفان بن أبي العاص) بن أمية القرشي الأموي. روى عن: أبيه، وأسامة بن زيد، وهو قليل الحديث. روى عنه: علي بن الحسين، وسعيد بن المسيب، وأبو الزناد. توفي في حدود الثمانين، وكان زوج رملة بنت معاوية. [تاريخ الإسلام للذهبي 5/ 496]۔


    ساتویں مثال:
    معین میں چھٹے طبقہ میں ’’محمد بن عبدالرحمن بن أبي ذئب الفقيه‘‘ ہیں،[المعين فى طبقات المحدثين ص: 14]۔

    انہیں کے بارے میں امام ذہبی رحمہ اللہ خود دوسری کتاب میں فرماتے ہیں:
    ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ مُحَمَّدُ بنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ العَامِرِيُّ (ع) ابْنِ المُغِيْرَةِ بنِ الحَارِثِ بنِ أَبِي ذِئْبٍ، وَاسْمُ أَبِي ذِئْبٍ: هِشَامُ بنُ شُعْبَةَ. الإِمَام، شَيْخُ الإِسْلاَمِ، أَبُو الحَارِثِ القُرَشِيُّ، العَامِرِيُّ، المَدَنِيُّ، الفَقِيْهُ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وَكَانَ قَلِيْلَ الحَدِيْثِ.[سير أعلام النبلاء 7/ 145]۔

    آٹھویں مثال:
    المعین میں طبقہ ابوحنیفہ رحمہ اللہ ہی کی لسٹ میں ’’عثمان البتي الفقيه‘‘ ہیں [المعين فى طبقات المحدثين ص: 12]۔

    انہیں کے بارے میں امام ذہبی رحمہ اللہ خود دوسری کتاب میں فرماتے ہیں:
    (عثمان البتي الفقيه أبو عمرو البصري بياع البتوت.) اسم أبيه مسلم ويقال أسلم ويقال سليمان، وأصله من الكوفة. روى عن أنس بن مالك وعبد الحميد بن سلمة والشعبي والحسن البصري. وعنه شعبة والثوري هشيم ويزيد بن زريع وابن علية وآخرون. وثقة أحمد والدار قطني وهو قليل الحديث لكنه من كبار الفقهاء.[تاريخ الإسلام للذهبي 8/ 485]۔

    نویں مثال:
    المعین میں طبقہ ابوحنیفہ رحمہ اللہ ہی کی لسٹ میں ’’عبدالله بن شبرمة الفقيه‘ ہیں [المعين فى طبقات المحدثين ص: 12]

    انہیں کے بارے میں امام ذہبی رحمہ اللہ خود دوسری کتاب میں فرماتے ہیں:
    (عبد الله بن شبرمة، م د ن ق، ابن الطفيل بن حسان أبو شبرمة الضبي الكوفي.) الفقيه عالم أهل الكوفة مع الإمام أبي حنيفة.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وهو قليل الحديث[تاريخ الإسلام للذهبي 9/ 194]۔

    دسویں مثال:
    المعین میں طبقہ ابوحنیفہ رحمہ اللہ ہی کی لسٹ میں ’’حميد بن قيس المكي‘‘ ہیں [المعين فى طبقات المحدثين ص: 12]۔

    انہیں کے بارے میں امام ذہبی رحمہ اللہ خود دوسری کتاب میں فرماتے ہیں:
    (حميد بن قيس ع أبو صفوان المكي الأعرج المقريء.) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حدث عنه مالك ومعمر وابن عيينة وطائفة. وثقة أبو داود وغيره وهو قليل الحديث [تاريخ الإسلام للذهبي 8/ 403]۔

    تلک عشرہ کاملہ ۔

    ان مثالوں کے بعد یہ بات بہت اچھی طرح سے واضح ہوجاتی ہے کہ ’’المعين فى طبقات المحدثين‘‘ میں کسی راوی کے ذکر ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ وہ حفاظ کے مقام پر پہنچ گیا۔

    ملاحظہ :
    یہ بات بھی نوٹ کریں کہ مذکورہ مثالوں میں جنہیں قلیل الحدیث بتلایا گیا ہے ان میں اچھی خاصی تعداد کو ’’فقیہ‘‘ بھی کہا گیاہے۔

     
  6. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,021
    امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کو قلیل الحدیث کہنے والے لوگ کون ہیں؟؟؟



    امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ قلیل الحدیث ہیں یا کثیر الحدیث یہ ہماری تحریر کا موضوع بالکل نہیں تھا اس کے باوجوبھی جمشید صاحب نے جواب میں اس پر بھی بات کرنا ضروری سمجھا اگر جمشید صاحب نے سادہ لفظوں یہ بات کہی ہوتی تو موضوع سے غیر متعلق اس بات کو نظر انداز کرکے ہم آگے بڑھ جاتے مگر آن جناب نے بڑے سخت قسم کے الفاظ میں یہ بات رکھی ہے، لکھتے ہیں:
    دیکھیں اس عبارت میں جن اہل علم نے امام صاحب کو قلیل الحدیث کہا ہے انہیں جہالت و سفاہت کا مرکب بتلایا گیا ہے، اس لئے یہ وضاحت ضروری ہے کہ اس طعن وتشنیع کی زد کن کن محدثین پر پڑتی ہے۔
    تو ملاحظہ فرمائیں ان محدثین عظام کے اسماء جنہوں نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کو قلیل الحدیث قرار دیا ہے:

    امام عبد الله بن المبارك بن المتوفى: 181ھ رحمہ اللہ۔



    آپ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی شاگردی میں بھی رہ چکے ہیں اورشاگر اپنے استاذ کی کیفیت بہترانداز میں بیان کرسکتا ہے تو آئیے دیکھتے ہیں کہ امام ابن عبدالمبارک رحمہ اللہ اپنے استاذ کی حدیث دانی کی بابت کیا گواہی دیتے ہیں:

    امام ابن ابی حاتم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    نا عبدان بن عثمان قال سمعت بن المبارك يقول كان أبو حنيفة مسكينا في الحديث [الجرح والتعديل موافق 8/ 449 وسندہ صحیح عبدان ھو الحافظ العالم أبو عبد الرحمن عبدالله بن عثمان بن جبلة بن أبي رواد]

    امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
    ثنا محمد بن يوسف الفربري ثنا على بن خشرم ثنا على بن إسحاق قال سمعت بن المبارك يقول كان أبو حنيفة في الحديث يتيم [الكامل في الضعفاء 7/ 6 وسندہ صحیح یوسف الفربری من رواۃ الصحیح للبخاری]

    امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    سمعت محمد بن محمود النسائي يقول : سمعت علي بن خشرم يقول : سمعت علي بن إسحاق السمرقندي يقول : سمعت ابن المبارك يقول : كان أبو حنيفة في الحديث يتيما [المجروحين لابن حبان 2/ 331 وسندہ حسن ]


    ابوعمر حفص بن غياث المتوفى:194 ھ رحمہ اللہ ۔



    امام عبداللہ بن احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    حدثني إبراهيم سمعت عمر بن حفص بن غياث يحدث عن أبيه قال كنت أجلس إلى أبي حنيفة فاسمعه يفتي في المسألة الواحدة بخمسة أقاويل في اليوم الواحد فلما رأيت ذلك تركته وأقبلت على الحديث[السنة لعبد الله بن أحمد 1/ 205 واسنادہ صحیح ]۔


    امام يحيى بن سعیدالقطان المتوفى: 198ھ ، رحمہ اللہ۔



    امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    حدثنا بن حماد حدثني صالح ثنا على قال سمعت يحيى بن سعيد يقول مر بي أبو حنيفة وأنا في سوق الكوفة فقال لي قيس القياس هذا أبو حنيفة فلم أسأله عن شيء قيل ليحيى كيف كان حديثه قال ليس بصاحب [الكامل في الضعفاء 7/ 7 واسنادہ صحیح]۔

    امام عقیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    حدثناه محمد بن عيسى قال حدثنا صالح قال حدثنا علي بن المديني قال سمعت يحيى بن سعيد يقول مر بي أبو حنيفة وأنا في سوق الكوفة فقال لي تيس القياس هذا أبو حنيفة فلم أسأله عن شيء قال يحيى وكان جاري بالكوفة فما قربته ولا سألته عن شيء قيل ليحيى كيف كان حديثه قال لم يكن بصاحب الحديث [ضعفاء العقيلي 4/ 283]۔

    خطیب بغدادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    أخبرنا البرقاني أخبرنا محمد بن العباس بن حيويه أخبرنا محمد بن مخلد حدثنا صالح بن احمد بن حنبل حدثنا علي يعني بن المديني قال سمعت يحيى هو بن سعيد القطان وذكر عنده أبو حنيفة قالوا كيف كان حديثه قال لم يكن بصاحب حديث[تاريخ بغداد 13/ 445 واسنادہ صحیح]۔


    أبو بكر عبد الله بن الزبير الحميدي المتوفى:219 ۔



    امام حمیدی رحمہ اللہ کے شاگردامام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    سمعت الحميدي يقول قال أبو حنيفة قدمت مكة فأخذت من الحجام ثلاث سنن لما قعدت بين يديه قال لي استقبل القبلة فبدأ بشق رأسي الأيمن وبلغ إلى العظمين، قال الحميدي فرجل ليس عنده سنن عن رسول الله صلى الله عليه و سلم ولا أصحابه في المناسك وغيرها كيف يقلد أحكام الله في المواريث والفرائض والزكاة والصلاة وأمور الإسلام [التاريخ الصغير 2/ 43]۔


    امام أبو عبد الرحمن أحمد بن شعيب النسائي المتوفى: 303ھ رحمہ اللہ۔



    آپ فرماتے ہیں:
    أبو حنيفة ليس بالقوي في الحديث وهو كثير الغلط والخطأ على قلة روايته [تسمية الضعفاء والمتروکين : 71]۔


    امام محمد بن حبان التميمي، البستي، متوفي354ھ رحمہ اللہ۔



    امام ابن حبان رحمہ اللہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں:
    وكان رجلا جدلا ظاهر الورع لم يكن الحديث صناعته، حدث بمائة وثلاثين حديثا مسانيد ماله حديث في الدنيا غيرها أخطأ منها في مائة وعشرين حديثا.إما أن يكون أقلب إسناده، أو غير متنه من حيث لا يعلم فلما غلب خطؤه على صوابه استحق ترك الاحتجاج به في الاخبار.[المجروحين لابن حبان: 2/ 321]۔


    امام يحيي بن معين، متوفي 359ھ رحمہ اللہ۔



    امام عبداللہ بن احمدبن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    حدثني أبو الفضل ثنا يحيى بن معين قال كان أبو حنيفة مرجئا وكان من الدعاة ولم يكن في الحديث بشيء [السنة لعبد الله بن أحمد: 1/ 226]۔


    امام عبدالله بن عدي الجرجاني، متوفي 365 ھ رحمہ اللہ۔



    آپ اپنی کتاب میں فرماتے ہیں:
    أبو حنيفة له أحاديث صالحة وعامة ما يرويه غلط وتصاحيف وزيادات في أسانيدها ومتونها وتصاحيف في الرجال وعامة ما يرويه كذلك ولم يصح له في جميع ما يوريه الا بضعة عشر حديثا وقد روى من الحديث لعله أرجح من ثلاثمائة حديث من مشاهير وغرائب وكله على هذه الصورة لأنه ليس هو من أهل الحديث ولا يحمل على من تكون هذه صورته في الحديث [الكامل في الضعفاء 7/ 12]۔


    امام أبو عبد الله الحاكم النيسابوري المتوفى: 405ھ رحمہ اللہ۔



    آپ اپنی کتاب میں فرماتے ہیں:
    النوع الحادي والخمسون : معرفة جماعة من الرواة لم يحتج بحديثهم ولم يسقطوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ هذا النوع من هذه العلوم معرفة جماعة من الرواة التابعين فمن بعدهم لم يحتج بحديثهم في الصحيح ولم يسقطوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ومثال ذلك في أتباع التابعين : موسى بن محمد بن إبراهيم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔أبو حنيفة النعمان بن ثابت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فجميع من ذكرناهم في هذا النوع بعد الصحابة والتابعين فمن بعدهم قوم قد اشتهروا بالرواية ولم يعدوا في الطبقة الأثبات المتقنين الحفاظ والله أعلم[معرفة علوم الحديث ص: 337]۔

    امام ذھبی شمس الدين محمد بن احمد الذهبي، متوفي748 ھ رحمہ اللہ۔



    آپ مناقب ابی حنیفہ میں لکھتے ہیں:
    قلت: لم يصرف الإمام همته لضبط الألفاظ والإسناد، وإنما كانت همته القرآن والفقه، وكذلك حال كل من أقبل على فن، فإنه يقصر عن غيره [مناقب الإمام أبي حنيفة وصاحبيه ص: 45]۔


    تلک عشرۃ کاملہ۔

    یہ کل دس محدثین کے حوالہ پیش خدمت یہ تمام کے تمام امام صاحب سے کثرت حدیث دانی کی نفی کررہے ہیں اس فہرست میں ام ابن معین بھی ہیں جو جمشید صاحب کے بقول حنفی ہیں انہوں نے بھی صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ ’’لم يكن في الحديث بشيء ‘‘ اب ایک حنفی محدث اور وہ بھی عظیم الشان محدث کو امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے کیا دشمنی تھی کہ انہوں نے صاف لفظوں میں امام صاحب سے حدیث دانی میں مہارت کی نفی کردی !!!

    جمشیدصاحب نے امام صاحب کو قلیل الحدیث کہنے والوں کےحق میں جو سخت زبان استعمال کی ہے کیا اس کی زد میں یہ اجلہ محدثین نہیں آتے ؟؟؟ پھر یہ بات بھی ناقابل فہم ہے کہ امام صاحب کوقلیل الحدیث مان لینے میں کیا ان کی توہیں ہے؟؟؟ اس سے قبل والے مراسلے میں قارئین دیکھ سکتے ہیں کہ امام ذہبی رحمہ اللہ نے بہت سارے محدثین کو قلیل الحدیث بھی کہا ہے مگر ان کی جلالت شان اور ان کی عظمت و منقبت کو تسلیم بھی کیا ہے ، لہٰذا امام صاحب کو قلیل الحدیث مان لینے سے امام صاحب کی شان میں کوئی گستاخی نہیں ہے۔

    ۔
    اگر آپ یہ کہیں امام صاحب ایک بڑے امام تھے ، فقیہ تھے ، نیک تھے ، بزرگ تھے ، دین کی خدمت میں ان کی نیت مخلصانہ تھی ، انہوں نے دین کی خدمت میں اپنی پوری زندگی صرف کردی وغیر وغیرہ تو یقینا مجھے ان باتوں سے اختلاف نہیں ہوگا۔

    لیکن میدان حدیث میں ان کا مقام کیا ہے ؟ اس سلسلے میں اسی میدان کے جلیل القدر محدثین نے جو گواہیاں دی ہیں ہم ان کے ساتھ ناانصافی نہیں کرسکتے ۔

     
  7. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,021
    ِآپ کی اس پوری تحریر کا خلاصہ یہ ہے کہ میں نے ملون بلون الاحمر سطور کو نقل نہ کرکے کوئی خیانت کی ہے !!!
    محترم سب سے پہلے یہ سمجھ لیں کہ نقل عبارت میں کسی حصہ کو چھوڑ دینے پر خیانت یا عیب کا الزام اس وقت درست ہوگا جب متروکہ عبارت کے نہ ہونے سے کلام کا مفہوم بدل جائے ۔
    لیکن یہاں ایسا کوئی معاملہ نہیں ہے ۔
    ہمارا مقصود یہ تھا کہ امام ذہی نے امام ابوحنیفہ کو ضیعف لین تسلیم کیا ہے اور جس عبارت میں امام ذہبی رحمہ اللہ نے یہ بات تسلیم کی ہے وہ ’’قلت ‘‘ کی صراحت کے ساتھ شروع ہوتی ہے ۔
    اس ’’قلت‘‘ کے بعد امام ذہبی رحمہ اللہ نے صاف اعلان کیا ہے امام صاحب ہی کی طرح اور بھی بہت سے اہل علم کو حدیث میں لین کہا گیا ہے ۔
    اتنی سی بات سے یہ واضح ہے کہ امام ذہبی رحمہ اللہ نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے لین اورضعیف کہنے جانے پرمعترض نہیں ہیں ورنہ وہ یہاں اس تلیین و تضعیف کی وجہ پیش کرنے کے بجائے اس کی تردید ضرور کرتے جیساکہ حاٍفظ موصوف دیگر مقامات پر ایسا کرتے ہیں ۔

    اب اگلے مراسلے میں ہم اپنے نقل کردہ اقتباس کے ماقبل اورمابعد کی عبارتوں کو سامنے رکھ کر وضاحت کرتے ہیں کہ ان کے ترک سے منقولہ عبارت کے مفہوم پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
     
  8. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,021
    امام ذہبی رحمہ اللہ کی پوری عبات ماقبل اور مابعد کے ساتھ ملاحظہ ہو:
    فصل في الاحتجاج بحديثه اختلفوا في حديثه على قولين، فمنهم من قبله ورآه حجة، ومنهم من لينه لكثرة غلطه في الحديث ليس إلا.
    قال علي بن المديني: قيل ليحيى بن سعيد القطان: كيف كان حديث أبي حنيفة؟ قال: " لم يكن بصاحب حديث۔
    قلت: لم يصرف الإمام همته لضبط الألفاظ والإسناد، وإنما كانت همته القرآن والفقه، وكذلك حال كل من أقبل على فن، فإنه يقصر عن غيره , من ثم لينوا حديث جماعة من أئمة القراء كحفص، وقالون وحديث جماعة من الفقهاء كابن أبي ليلى، وعثمان البتي، وحديث جماعة من الزهاد كفرقد السنجي، وشقيق البلخي، وحديث جماعة من النحاة، وما ذاك لضعف في عدالة الرجل، بل لقلة إتقانه للحديث، ثم هو أنبل من أن يكذب "۔
    وقال ابن معين فيما رواه عنه صالح بن محمد جزرة وغيره: أبو حنيفة ثقة،
    وقال أحمد بن محمد بن القاسم بن محرز، عن يحيى بن معين لا بأس به
    وقال أبو داود السجستاني: «رحم الله مالكا كان إماما، رحم الله أبا حنيفة كان إماما»

    [مناقب الإمام أبي حنيفة وصاحبيه ص: 46]

    ملون اورمخطوط حصہ کو ہم نے نقل کیا تھا اورعبارت کے اسی حصہ میں امام ذہبی رحمہ اللہ کا فیصلہ موجود ہے جس کی وضاحت میں پچھلے مراسلے میں کرچکا ہوں ۔
    اب اسے ماقبل کی عبارت یہ ہے:

    ماقبل کی عبارت


    فصل في الاحتجاج بحديثه اختلفوا في حديثه على قولين:
    فمنهم :
    من قبله ورآه حجة۔
    ومنهم :
    من لينه لكثرة غلطه في الحديث ليس إلا۔
    قال علي بن المديني: قيل ليحيى بن سعيد القطان: كيف كان حديث أبي حنيفة؟ قال: " لم يكن بصاحب حديث۔


    ام ابوابوحنیفہ رحمہ اللہ کی حدیث سے احتجاج کا بیان ، آپ کی حدیث سے احتجاج کے سلسلے میں محدثین کے دو قول ہیں:
    پہلا قول:
    ابوحنیفہ مقبول اور حجت ہیں۔
    دوسراقول:
    ابوحنیفہ لین الحدیث ہیں کیونکہ حدیث میں یہ بکثرت غلطی کرتے تھے صرف اسی وجہ سے۔
    امام علی بن مدینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : امام یحیی بن سعیدالقطان سے پوچھا گیا کہ ابوحنیفہ کی حدیث کسی ہے ؟ تو آپ نے جواب دیا :ابوحنیفہ حدیث والے نہ تھے ۔


    اس کے بعد امام ذہبی رحمہ اللہ نے اس دوسرے قول کی تردید بالکل نہیں کی ہے جب کہ امام ذہبی کا معمول ہے کہ ایسے مواقع پر غیر درست جروح کو رد کردیتے ہیں ،

    ایک مثال ملاحظہ ہو:
    إبراهيم بن خالد أبو ثور الكلبى.أحد الفقهاء الاعلام.وثقه النسائي والناس.
    وأما أبو حاتم فتعنت، وقال: يتكلم بالرأى فيخطئ ويصيب، ليس محله محل المسمعين في الحديث.
    فهذا غلو من أبى حاتم، سامحه الله.

    [ميزان الاعتدال موافق رقم 1/ 29]۔

    لیکن یہاں امام ذہبی رحمہ اللہ نے امام یحیی بن سعید رحمہ اللہ کے قول سے ہرگز اختلاف نہیں کیا ہے بلک اس کی تائید کرتے ہوئے اس کی وجہ بھی بتادی ہے کہ امام صاحب کی توجہ اس جانب تھی ہی نہیں جس کے سبب وہ حدیث میں مضبوطی لانے سے قاصر تھے پھر اس قسم کے اور لوگوں کی مثالیں دی ہیں جو حدیث کی طرف مکمل توجہ نہ دینے کے سبب لین الحدیث ہوگئے، اس سے صاف ظاہر ہے امام ذہبی رحمہ اللہ کے نزدیک امام ابوحنیفہ لین الحدیث و ضعیف الحدیث تھے۔

    تنبیہ اول :
    جمشید صاحب نے عربی میں پورا اقتباس تو نقل کردیا لیکن ترجمہ کرتے وقت معلوم نہیں کیوں امام یحیی بن سعید رحمہ اللہ کے اس قول کا ترجمہ نہیں کیا ہے جس میں امام یحیی بن سعد رحمہ اللہ نے امام ابوحنیفہ رحمہ پر جرح کی ہے ۔

    تنبیہ ثانی :
    امام ذہبی رحمہ اللہ نے امام یحیی بن سعید رحمہ اللہ کی جو جرح نقل کی ہے وہ بسندصحیح کئی طرق سے ثابت ہے جیساکہ گذشتہ سے پیوستہ مراسلے میں نقل کیا جاچکا ہے، زاہدکوثری نے اس کے صرف ایک طریق پر بے بنیاد جرح کرکے یہ مغالطہ دینے کی کوشش کی ہے کہ یہ جرح امام یحیی بن سعید رحمہ اللہ سے ثابت ہیں نہیں ، حالانکہ یہی جرح دیگرطرق سے بھی مروی ہے جس میں وہ راوی ہے ہی نہیں جس پر زاہدکوثری نے بے بنیاد جرح کی ہے۔


    مابعد کی عبارت


    ثم هو أنبل من أن يكذب۔
    وقال ابن معين فيما رواه عنه صالح بن محمد جزرة وغيره: أبو حنيفة ثقة،
    وقال أحمد بن محمد بن القاسم بن محرز، عن يحيى بن معين لا بأس به
    وقال أبو داود السجستاني: «رحم الله مالكا كان إماما، رحم الله أبا حنيفة كان إماما»


    اب ذرا غورکریں کہ ان اقوال کا حافظ ذھبی کے اپنے اس فیصلہ سے کیا تعلق ہے جسے وہ پہلے پیش کرچکے ہیں ، مابعد کی اس عبارت سے صرف یہ ثابت ہوا کہ امام ذہبی رحمہ اللہ نے ابن معین سے توثیق کا قول بھی نقل کیا ہے ، لیکن اس بات کا ثبوت کہاں ہے کہ امام ذھبی رحمہ اللہ اس سے متفق ہیں خصوصا جبکہ امام ذہبی اس سے قبل اپنافیصلہ سنا چکے ہیں !!!

    اورامام ذہبی رحمہ اللہ نے اپنا یہ کوئی اصول نہیں بتایا ہے کہ میں جس قول کو آخر میں پیش کروں وہی میرا موقف ہے ، بلکہ امام ذھبی رحمہ اللہ کی کتب کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ امام ذہبی رحمہ اللہ ایسی کسی ترتیب کے پابند نہیں ہیں ، مثلا:

    دیوان الضعفاء میں فرماتے ہیں:
    ابراہیم بن مھاجر البجلی الکوفی ، ثقة ، قال النسائی : لیس بالقوی ۔[دیوان الضعفاء:ص٢١]۔
    غورکریں یہاں امام ذہبی رحمہ اللہ نے پہلے خود فیصلہ کردیا کہ ابراہم ثقہ ہیں اس کے بعد امام نسائی کی تضعیف نقل کی ہے۔
    یادرہے امام ذہبی رحمہ اللہ نے اس راوی کو اپنی کتاب ’’من تكلم فيه وهو موثق‘‘ میں نقل کیا ہے دیکھیں:من تكلم فيه وهو موثق ص: 33۔

    ایک اور مثال ملاحظہ ہوں ۔
    امام ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
    إبراهيم بن عبدالله الهروي الحافظ شيخ الترمذي. عنده عن هشيم وبابته.قال أبو داود: ضعيف. قال غير واحد: صدوق.وقال إبراهيم الحربى: متقن تقى.
    وقال الدارقطني: ثقة ثبت حافظ قال النسائي: ليس بالقوى.
    [ميزان الاعتدال موافق رقم 1/ 39]۔

    غورکریں کہ امام ذہبی رحمہ اللہ نے صح کی علامت سے اشارہ دے دیا کہ یہ راوی ثقہ ہے لیکن پھر بھی اخیر میں امام نسائی کا یہ قول نقل کیا ہے کہ :قال النسائي: ليس بالقوى.
    اب کیا اس سے یہ سمجھا جائے کہ امام ذہبی رحمہ اللہ کے نزدیک ابراہیم بن عبداللہ لیس بالقوی ہیں ؟؟؟

    اگر ہاں تو پھر اسی راوی کے بارے میں امام ذہبی رحمہ اللہ نے اپنی دوسری کتاب میں اس طرح لکھا ہے:
    إبراهيم بن عبدالله بن حاتم الهروي ثم البغدادي الحافظ عن إسماعيل بن جعفر وهشيم وعنه الترمذي وابن ماجة والفريابي وأبو يعلى وخلق
    قال النسائي وغيره ليس بالقوي ووثقه طائفة
    [الكاشف في معرفة من له رواية في الكتب الستة 1/ 215]۔

    اب ذرا غور کریں کہ اسی راوی کے بارے میں اپنی ایک کتاب میں امام ذہبی رحمہ اللہ نے سب سے آخر میں امام نسائی کی جرح نقل کی تھی اور دوسری کتاب میں اسی راوی کا ترجمہ توثیق پر ختم کرتے ہیں !!

    اس کی وضاحت تو کی جاچکی ہے لیکن بطور لطیفہ عرض ہے کہ آخر میں امام ذہبی رحمہ نے کون سا قول نقل کیا ہے ذرا اسے پھر سے پڑھ لیں ، مذکورہ عبارت میں آخری قول آپ کے ترجمہ کے ساتھ پیش خدمت ہے:
    اب آپ کے اصول کے مطابق یہی آخری قول امام ذھبی رحمہ اللہ کا موقف ہونا چاہئے ، پھر یاد رہے کہ ہم نے کبھی بھی امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی امامت سے انکار نہیں کیا ہے ، بلکہ میری اکثر تحروں میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے ساتھ امام لفظ نظر آئے گا یعنی ہم بھی مانتے ہیں کہ دیگر ائمہ کی طرح یہ بھی ایک امام تھے ۔

    مابعدکی عبارت میں توثیق اصطلاحی نہیں ہے۔


    اب تک تو ہم نے یہ بتلایا کہ مابعد کی عبارت سے امام ذہبی رحمہ اللہ کے اتفاٖق کی صراحت نہیں ہے ، لیکن اب آئیے یہ واضح کرتے ہیں کہ مابعد کی عبارت میں میں ہے کیا ؟؟؟

    تو معلوم ہونا چاہئے کہ اہل فن کبھی کبھی کسی کوثقہ کہتے ہیں تو اس سے مراد اس راوی کو صرف دینداراورسچابتلانا مقصود ہوتاہے ، نہ کہ یہ مطلب ہوتا ہے کہ وہ اصطاحی معنی میں ثقہ ہیں یعنی عادل ہونے کےساتھ ساتھ ضابط بھی ہے، اوراس بات کافیصلہ ناقد کے تمام اقوال کو جمع کرنے کے بعد ہوتاہے ۔
    یہاں بھی یہی معاملہ ہے کہ مابعد کی عبارت میں امام یحیی بن معین رحمہ اللہ سے جو توثیق منقول ہے وہ قطع نظر اس کے کہ ثابت ہے یا نہیں، وہ دینداری اور سچائی کے اعتبار سے ہے نہ کہ ضبط اور حفظ کے اعتبار سے کیونکہ ضبط اورحفظ کے اعتبار سے تو امام ابن معین رحمہ اللہ نے صراحۃ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کو ضعیف کہہ رکھا ہے جس کی تفصل آگے آرہی ہے۔
    یہ واضح ہوجانے کے بعد بات صاف ہوگئی کی اس مابعدکی عبارت سے قبل امام ذہبی رحمہ اللہ نے امام صاحب کی جو تضعیف و تلیین کی ہے وہ اپنی جگہ پر اٹل ہے اور مابعد کی عبارت میں صرف ان کی دیانت داری والی توثیق نقل ہوئی ہے جو تضعیف و تلیین کے منافی ہے ہی نہیں ۔
    اس کی پوری تفصیل تو آگے آئے گی لیکن یہاں کا سیاق دیکھ لیں تو وہ بھی اسی بات پر دلالت کرتاہے چنانچہ امام ذہبی رحمہ اللہ نے ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی تضعیف کرنے کے بعد توثیق کی جوبات نقل کی ہے اس کی شروعات ان لفظوں سے ہوتی ہے :
    ثم هو أنبل من أن يكذب۔۔۔
    یعنی امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ جھوٹ بولنے سے پاک ہیں ۔
    پھر اس کے بعد فورا ابن معین سے توثیق نقل کی ہے اس سیاق سے صاف ظاہر ہے کہ مابعد کی عبارت میں امام صاحب کی جو توثیق منقول ہے وہ توثیق غیر اصطلاحی ہے، لہٰذا اس عبارت سے امام ذہبی رحمہ اللہ کی تضعیف سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
     
    Last edited by a moderator: ‏جولائی 21, 2011
  9. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,021
    مناسب معلوم ہوتا ہے کہ آگے بڑھنے سے قبل ان اقوال کی استنادی حیثیت بھی واضح کردی جائے جنہیں امام ذہبی رحمہ اللہ نے مذکورہ اقتباس میں پیش کیا ہے یا ان کی طرف اشارہ کیا ہے۔

    امام یحیی بن سعید رحمہ اللہ کی جرح ثابت ہے


    امام ذہبی رحمہ اللہ نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ پر یحیی بن سعید رحمہ اللہ کی جوجرح نقل کی ہے وہ ثابت ہے گذشتہ مراسلات میں اس کی صحیح سندیں پیش کی جاچکی ہیں۔
    رہی امام ابن معین رحمہ اللہ سے نقل کردہ توثیق تو:

    امام یحیی بن معین رحمہ اللہ سے جرح کا قول بھی منقول ہے


    امام ابن معین نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ پر جرح بھی کر رکھی ہے ، ثبوت ملاحظہ ہو:

    امام عقیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    حدثنا محمد بن عثمان قال سمعت يحيى بن معين وسئل عن أبي حنيفة قال كان يضعف في الحديث [ضعفاء العقيلي 4/ 284 واسنادہ صحیح]۔

    امام خطیب بغدادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    أخبرنا بن رزق أخبرنا هبة الله بن محمد بن حبش الفراء حدثنا محمد بن عثمان بن أبي شيبة قال سمعت يحيى بن معين وسئل عن أبي حنيفة فقال كان يضعف في الحديث [تاريخ بغداد 13/ 450 واسنادہ صحیح]۔

    امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    ثنا على بن احمد بن سليمان ثنا بن أبى مريم قال سألت يحيى بن معين عن أبى حنيفة قال لا يكتب حديثه،[الكامل في الضعفاء 7/ 6 واسنادہ صحیح]۔

    ایک ہی امام سے متعارض اقوال کی صورت میں امام ذہبی رحمہ اللہ کا موقف



    جمع وتطبیق


    امام ذہبی رحمہ اللہ رحمہ اللہ نے بعض مقامات پر یہ صراحت کررکھی ہے کہ ناقدین کبھی کھبی دیانت داری اور سچائی کے لئے لحاظ سے کسی کو ثقہ کہہ دیتے ہیں اس سے ناقدین کا مقصد اصطلاحی معنی میں ثقہ کہنا نہیں ہوتا ، ذیل میں امام ذہبی کی یہ صراحت ملاحظہ ہو:
    امام حاکم رحمہ اللہ نے ایک راوی ’’ خارجة بن مصعب الخراسانی‘‘ کی توثیق کی تو امام ذہبی رحمہ اللہ نے یہ وضاحت کیا کہ اس توثیق سے مراد یہ ہے کہ اس راوی سے جھوٹ بولنا ثابت نہیں ہے ، امام ذہبی رحمہ اللہ کے الفاظ ملاحظہ ہوں:
    وَقَالَ الحَاكِمُ: هُوَ فِي نَفْسِهِ ثِقَةٌ -يَعْنِي: مَا هُوَ بِمُتَّهَمٍ-.[سير أعلام النبلاء 7/ 327]۔

    معلوم ہوا کہ بعض ناقدین کبھی کھبی دیانت داری اور سچائی کے لئے لحاظ سے کسی کو ثقہ کہہ دیتے ہیں اس سے ناقدین کا مقصد اصطلاحی معنی میں ثقہ کہنا نہیں ہوتا اور امام ابن معین رحمہ اللہ کی توثیق ابی حنیفہ بشرط ثابت اسی معنی میں ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ خود امام ابن معین رحمہ اللہ نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کو ضعیف فی الحدیث قرار دے رکھا ہے جیساکے حوالے پیش کئے جاچکے ہیں۔


    تساقط قولین


    ہماری نظر میں امام ابن معین سے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی تضعیف ہی ثابت ہے جیساکہ اوپرتفصیل پیش کی گئی اس کے برخلاف توثیق ثابت نہیں ہے ، جس کی وضاحت آگے آرہی ہے لیکن جو حضرات توثیق کا قول ثابت مانیں انہیں امام ذہبی رحمہ اللہ ہی کے پیش کردہ درج ذیل اصول پر غور کرنا چاہئے۔

    عبدالرحمن بن ثابت بن الصامت.عن أبيه، عن جده، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قام يصلى في بنى عبد الاشهل، وعليه كساء ملتف به، يقيه برد الحصا. رواه عنه إبراهيم بن إسماعيل بن أبى حبيبة.قال البخاري: لم يصح حديثه.وقال ابن حبان: فحش خلافه للاثبات فاستحق الترك.وقال أبو حاتم الرازي: ليس عندي بمنكر الحديث، ليس بحديثه بأس.قلت: وروى عنه ابنه عبدالله، وذكره أيضا ابن حبان في الثقات فتساقط قولاه.[ميزان الاعتدال موافق رقم 2/ 552]۔

    امام ذہبی رحمہ اللہ کی اس عبارت سے امام ذہبی رحمہ اللہ کا اصول معلوم ہوا کہ ایک ہی راوی سے متعلق اگر کسی ایک ناقد کے دوطرح کے اقوال ہوں تو دونوں اقوال ساقط ہوجائیں گے ۔
    دریں صورت خود امام ذہبی رحمہ اللہ کی نظرمیں بھی امام ابن معین رحمہ اللہ کے دونوں قسم کے اقوال مردود ہوگئے۔




    امام یحیی بن معین رحمہ اللہ سے توثیق ابی حنیفہ ثابت نہیں


    اوپر متعددطرق سے یہ ثابت کیا جاچکا ہے کہ امام یحیی بن معین رحمہ اللہ نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ پر جرح کی ہے ، اس کے برخلاف امام یحیی بن معین سے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی جو توثیق نقل کی جاتی ہے وہ قطعا ثابت نہیں ، لہذا امام ذہبی رحمہ اللہ کا بھی یہ اصول ہے کہ بے سند جرح کا کوئی اعتبار نہیں ، لہٰذا جب یہ معلوم ہوگیا کہ امام یحیح بن معین رحمہ اللہ سے توثیق ثابت نہیں ہے تو امام ذھبی رحمہ اللہ کی کتاب میں اس کے نقل ہونے سے یہ بات قابل قبول نہیں ہوسکتی ، جیسا کہ خود مناقب ابی حنیفہ کے محقق نے بھی بلاتامل ان تمام روایا ت کو مردود قرار دیا ہے جو اس کے دعوی کے مطابق بسندصحیح ثابت نہیں ۔

    اب ذیل ان روایا ت کا جائز ہ پیش خدمت ہے:

    ابن صلت ، کذاب کی روایت


    امام خطیب بغدادی فرماتے ہیں:
    أخبرنا التنوخي حدثنا أبي حدثنا محمد بن حمدان بن الصباح حدثنا احمد بن الصلت الحماني قال سمعت يحيى بن معين وهو يسأل عن أبي حنيفة أثقة هو في الحديث قال نعم ثقة ثقة كان والله أورع من أن يكذب وهو أجل قدرا من ذلك [تاريخ بغداد 13/ 450 واسنادہ موضوع]۔

    امام یحیی بن معین سے اس قول کا ناقل ’’احمد بن الصلت بن المغلس أبو العباس الحماني وقيل احمد بن محمد بن الصلت ويقال احمد بن عطية‘‘ ہے۔
    یہ کذاب و وضاع راوی ہے مدح ابی حنیفہ میں یہ شخص جھوٹی روایات بنا بنا کر ائمہ کی طرف منسوب کی کیا کرتا تھا ، اس کے بارے میں ائمہ فن کی گواہیاں ملاحظہ ہوں:

    امام خطیب بغدادی جنہوں نے مدح ابی حنیفہ میں‌ اس کی روایات نقل کی ہیں‌ وہ خود اس کذاب ووضاح کی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
    حدث بأحاديث أكثرها باطلة هو وضعها.ويحكى أَيْضًا عَنْ بشر بْن الحارث، ويحيى بْن معين، وعلي ابن المديني، أخبارا جمعها بعد أن صنعها فِي مناقب أَبِي حنيفة.[تاريخ بغداد ت بشار 5/ 338]۔

    امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    وما رأيت في الكذابين أقل حياء منه وكان ينزل عند أصحاب الكتب يحمل من عندهم رزما فيحدث بما فيها وباسم من كتب الكتاب باسمه فيحدث عن الرجل الذي اسمه في الكتاب ولا بالي ذلك الرجل متى مات ولعله قد مات قبل ان يولد منهم من ذكرت ثابت الزاهد وعبد لصمد بن النعمان ونظراؤهما وكان تقديري في سنه لما رأيته سبعين سنة أو نحوه وأظن ثابت الزاهد قد مات قبل العشرين بيسير أو بعده بيسير وعبد الصمد قريب منه وكانوا قد ماتوا قبل ان يولد بدهر [الكامل في الضعفاء 1/ 199]۔

    امام دارقطنی فرماتے ہیں:
    فضائل أبى حنيفة ۔۔۔ موضوع كله كذب وضعه احمد بن المغلس الحماني [تاريخ بغداد 4/ 209 وسندہ صحیح]۔

    امام ابونعیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    أحمد بن محمد بن الصلت أبو العباس الحماني يروي عن بن أبي أويس والقعنبي وعن شيوخ لم يلقهم بالمشاهير والمناكير لا شيء [الضعفاء للأصبهاني ص: 65]۔

    امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    كَانَ يضع الْحَدِيث [المجروحين لابن حبان 1/ 153]۔


    امام أبو الفتح بن أبي الفوارس فرماتے ہیں:
    ابْن مغلس كَانَ يضع [تاريخ بغداد ت بشار 5/ 338 وسندہ صحیح]۔

    امام سبط ابن العجمی فرماتے ہیں:
    أحمد بن محمد بن الصلت بن المغلس الحماني كذاب وضاع[الكشف الحثيث ص: 53]۔

    امام أبو الحسن على بن محمد بن العراق الكناني فرماتے ہیں:
    أحمد بن محمد بن الصلت بن المغلس الحمانى وضاع[تنزيه الشريعة المرفوعة 1/ 33]۔


    امام ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    احمد بن الصلت بن المغلس الحماني قبيل الثلاثمائةمتهم وهو احمد بن محمد بن الصلت[المغني في الضعفاء للذهبي ص: 19]۔
    میزان میں فرماتے ہیں:
    هالك ،[ميزان الاعتدال 1/ 105]۔

    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    أحمد بن الصلت الحماني هو أحمد بن محمد بن الصلت هالك [لسان الميزان 1/ 188]۔


    ابن صلت کذاب کی دوسری روایت



    امام خطیب بغدادی فرماتے ہیں:

    أخبرنا الصيمري أخبرنا عمر بن إبراهيم المقرئ حدثنا مكرم بن احمد حدثنا احمد بن عطية قال سئل يحيى بن معين هل حدث سفيان عن أبي حنيفة قال نعم كان أبو حنيفة ثقة صدوقا في الحديث والفقه مأمونا على دين الله قلت احمد بن الصلت هو احمد بن عطية وكان غير ثقة [تاريخ بغداد 13/ 450 اسناہ موضوع]۔

    اس روایت میں بھی اصل ناقل ابن الصلت ہے جس کا تعارف اوپر پیش کیا جاچکاہے۔

    ابن سعد العوفی ، ضعیف کی روایت

    امام خطیب بغدادی فرماتے ہیں:
    أخبرنا بن رزق حدثنا احمد بن علي بن عمرو بن حبيش الرازي قال سمعت محمد بن احمد بن عصام يقول سمعت محمد بن سعد العوفي يقول سمعت يحيى بن معين يقول كان أبو حنيفة ثقة لا يحدث بالحديث إلا ما يحفظ ولا يحدث بما لا يحفظ [تاريخ بغداد 13/ 449 واسنادہ ضعیف]۔

    اس قول کا ناقل ’’محمد بن سعد بن محمد بن الحسن بن عطية بن سعد بن جنادة أبو جعفر العوفي‘‘ ہے۔
    امام خطیب بغدادی فرماتے ہیں:
    وكان لينا في الحديث [تاريخ بغداد 5/ 322]۔

    امام حاکم فرماتے ہیں:
    ومثال ذلك في الطبقة السادسة من المحدثين ۔۔۔ محمد بن سعد العوفي ۔۔۔۔۔۔فجميع من ذكرناهم في هذا النوع بعد الصحابة والتابعين فمن بعدهم قوم قد اشتهروا بالرواية ولم يعدوا في الطبقة الأثبات المتقنين الحفاظ والله أعلم [معرفة علوم الحديث ص: 337]۔

    امام ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    محمد بن سعد العوفي عن يزيد وروح لينه الخطيب [المغني في الضعفاء للذهبي ص: 20]۔

    اس روایت میں ایک دوسرا راوی ’’محمد بن احمد بن عصام‘‘ ہے۔
    اس کے حالات نامعلوم ہیں۔


    ابن محرز، مجہول کی روایت


    امام خطیب بغدادی فرماتے ہیں:
    قرأت على البرقاني عن محمد بن العباس الخزاز حدثنا احمد بن مسعدة الفزاري حدثنا جعفر بن درستويه حدثنا احمد بن محمد بن القاسم بن محرز قال سمعت يحيى بن معين يقول كان أبو حنيفة لا بأس به وكان لا يكذب وسمعت يحيى يقول مرة أخرى أبو حنيفة عندنا من أهل الصدق ولم يتهم بالكذب ولقد ضربه بن هبيرة على القضاء فأبى أن يكون قاضيا[تاريخ بغداد 13/ 449 واسنادۃ ضعیف]۔

    اس قول کا ناقل ’’ابو العباس احمد بن محمد بن القاسم بن محرز البغدادی‘‘ ہے۔
    اس کے حالات بھی نا معلوم ہیں۔


    عباس دوری رحمہ اللہ کی روایت


    امام خطیب بغدادی فرماتے ہیں:
    أخبرنا القاضي أبو الطيب طاهر بن عبد الله المطيري حدثنا علي بن إبراهيم البيضاوي أخبرنا احمد بن عبد الرحمن بن الجارود الرقي حدثنا عباس بن محمد الدوري قال سمعت يحيى بن معين يقول وقال له رجل أبو حنيفة كذاب قال كان أبو حنيفة أنبل من أن يكذب كان صدوقا إلا أن في حديثه ما في حديث الشيوخ [تاريخ بغداد 13/ 449 واسنادہ ضعیف]۔

    اس روایت میں ’’احمد بن عبد الرحمن بن الجارود الرقي‘‘ ہے۔
    امام خطیب بغدادی فرماتے ہیں:
    كل رجاله مشهورون معروفون بالصدق الا بن الجارود فإنه كذاب [تاريخ بغداد مؤافق 2/ 247]۔

    امام ذھبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    وقال أحمد بن عبد الرحمن بن الجارود، وهو كذاب[تاريخ الإسلام للذهبي 14/ 309 وانظر:المغني في الضعفاء:21]

    اورمیزان میں فرماتے ہیں:
    ومن بلاياه: حدثنا هلال بن العلاء، حدثنا محمد بن مصعب، حدثنا الأوزاعي، عن ابن لمنكدر، عن جابر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: جمال الرجل فصاحة لسانه.[ميزان الاعتدال 1/ 116]۔

    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی لسان المیران میں اس پر شدیر جروح نقل کی ہیں اور کوئی دفاع نہیں کیا ہے۔ [لسان الميزان 1/ 213]۔


    صالح بن محمد الاسدی رحمہ اللہ کی روایت


    امام مزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    وَقَال صالح بن محمد الأسدي الحافظ : سمعت يحيى بن مَعِين يقول : كان أبو حنيفة ثقة في الحديث [تهذيب الكمال مع حواشيه ليوسف المزي 29/ 424 ، لایعرف اسنادہ]۔

    یہ قول بے سند ہے لہٰذا بے سود ہے ۔
     
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں