ریاکاری ایک مذموم عمل ہے

فاروق نے 'غاية المريد فی شرح کتاب التوحید' میں ‏جولائی 8, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    باب:35-- ریاکاری ایک مذموم عمل ہے۔(1)
    اللہ تعالی کا فرمان ہے:
    [qh](قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَمَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا[/qh] (سورة الكهف18: 110))
    “(اے پیغمبر ﷺ!)لوگوں سے کہہ دیجئے کہ میں تو تم جیسا ایک انسان ہوں، البتہ میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا ایک ہی معبود ہے۔ پس جو کوئی اپنے رب کی ملاقات کا امید وار ہو، اسے چاہیے کہ وہ اچھے اعمال کرے اور اپنے رب کی بندگی میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائے۔”(2)


    ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے:[qh]( أَنَا أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ، مَنْ عَمِلَ عَمَلًا أَشْرَكَ فِيهِ مَعِي غَيْرِي، تَرَكْتُهُ وَشِرْكَهُ )[/qh][qh](صحيح مسلم, كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ, بَابُ مَنْ أَشْرَكَ فِي عَمَلِهِ غَيْرَ اللهِ, ح:2985)[/qh]
    میں تمام شرکاء سے بڑھ کر شرک سے مستغنی ہوں ۔ جو شخص اپنے عمل میں میرے ساتھ غیر کو شریک کرے تو میں اسے اس کے شرک کے ساتھ چھوڑ دیتا ہوں۔”(3)

    ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
    [qh](أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا هُوَ أَخْوَفُ عَلَيْكُمْ عِنْدِي مِنَ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ؟ قَالَوا: بَلَى،يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ الشِّرْكُ الْخَفِيُّ، يَقُومَ الرَّجُلُ فيُصَلِّي، فَيُزَيِّنُ صَلَاتَهُ، لِمَا يَرَى مِنْ نَظَرِ رَجُلٍ)[/qh](مسند احمد:3/30 و سنن ابن ماجۃ، الزھد، باب الریاء و السمعۃ، ح:4204)
    “کیا میں تمہیں وہ بات نہ بتاؤں جس کا خوف مجھے تم پر مسیح دجال سے بھی زیادہ ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! کیوں نہیں؟ (ضرور بتلائیے) آپ نے فرمایا: وہ ہے “شرک خفی” کہ کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہو اور وہ اپنی نماز کو محض اس لیے سنوار کر پڑھے کہ کوئی شخص اسے دیکھ رہا ہے۔”(4)


    مسائل
    1) اس باب سے سورۃ الکہف کی آیت 110 کی تفسیر معلوم ہوئی کہ جسے اللہ تعالی سے ملاقات کی امید ہے وہ نیک اعمال کے ساتھ ساتھ شرک (خفی یعنی ریاء)سے اجتناب ضرور کرے۔
    2) عمل صالح میں اگر غیر اللہ کا معمولی سا بھی دخل ہو جائے تو وہ سارا عمل مردود اور ضائع ہو جاتا ہے۔
    3) اور اس کا اساسی سبب یہ ہے کہ اللہ تعالی اس سے مکمل طورپر مستغنی ہے۔
    4) ریا والے عمل کے ضیاع کا ایک سبب یہ ہے کہ اللہ تعالی اپنے ساتھ شریک کیے جانے والے تمام شرکاء سے اعلی اور ا‌فضل ہے۔
    5) نبی ﷺکو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں بھی ریا کا اندیشہ لاحق رہتا تھا۔
    6) نبی ﷺنے ریا کی تفسیر کرتے ہوئے یوں فرمایا: کوئی آدمی نماز جیسا عمل کرتے ہوئے محض اس لیے اسے عمدہ طور پر ادا کرے کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے۔

    نوٹ:-
    (1) ریاکاری یعنی دکھلاوا ایک انتہائی مذموم عمل ہے۔ یہ گناہ اور اللہ تعالی کے ساتھ شرک ہے۔ لفظ ریا “رؤية” سے ماخوذ ہے۔ جس کا معنی آنکھوں سے دیکھنے کا ہے۔ اس کی صورت یوں ہوتی ہے کہ انسان نیکی کا کوئی عمل کرتے وقت یہ ارداہ کرے کہ لوگ مجھے یہ عمل کرتے ہوئے دیکھ لیں اور میری تعریف کریں۔
    ریا دو قسم کی ہے:
    ایک ریا منافقین کی ہے کہ وہ لوگوں کو دکھانے کے لیے ظاہری طور پر اسلام کا دعوی کرتے اور نام لیتے ہیں۔ مگر ان کے دلوں میں کفر پوشیدہ ہوتا ہے۔ یہ ریا اور طرز عمل ، توحید کے منافی اور اللہ تعالی کے ساتھ کفر ہے۔
    ریا کی دوسری صورت یہ ہے کہ کوئی مسلمان نیکی کا کوئی کام کرتے ہوئے دکھلاوے کی نیت کرے کہ لوگ اسے یہ عمل کرتے دیکھیں اور اس کی تعریف کریں ۔ یہ پوشیدہ شرک ہے اور توحید کے اعلی درجہ کے منافی ہے۔
    (2) اس آیت میں ہر قسم کے شرک کی ممانعت ہے۔ ریاکاری بھی شرک کی اقسام میں سے ایک قسم ہے۔ اسی لیے علماء نے اس آیت سے ریا کے مسائل پر استدلال کیا ہے۔
    (3) یہ حدیث دلیل ہے کہ ریا والا عمل اللہ تعالی کے ہاں مقبول نہیں بلکہ وہ عمل کرنے والے کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے۔ جب کسی عبادت میں ابتداء ریا شامل ہو(یعنی وہ عبادت محض ریا اور دکھلاوے کے لیے کی جائے)تو وہ ساری عبادت باطل ہو جاتی ہے اور وہ عمل کرنے والا دکھلاوے کی وجہ سے گناہ گار اور شرک خفی کا مرتکب ہوتا ہے۔ البتہ اگر اصل عمل (عبادت)محض اللہ تعالی کے لیے ہی ہو مگر عمل کرنے والا اس میں کسی قدر ریا کو شامل کر دے مثلا اللہ کے لیے نماز پڑھتے ہوئے لوگوں کے دکھلاوے کے لیے نماز کا رکوع طویل کردے اور تسبیحات کی تعداد زیادہ کر دے تو ایسا کرنے سے وہ آدمی گناہ گار ہوگا اور اس کی اتنی عبادت ضائع ہو جائے گی جتنی اس نے ریا کے لیےکی جبکہ مالی عبادت میں ریا شامل ہونے سے ساری عبادت اکارت جاتی ہے۔
    [qh]( أَشْرَكَ فِيهِ مَعِي غَيْرِي.....)[/qh] “جو شخص اپنے عمل میں میرے ساتھ غیر کو بھی شامل کرے.....” اس عبارت کا مفہوم یہ ہے کہ اگر کوئی بندہ اپنے کسی عمل صالح میں اللہ کی رضا کے ساتھ ساتھ غیر اللہ کی خوشنودی کا خواہش مند بھی ہو تو اللہ تعالی ایسے شرک سے مستغنی ہے۔ وہ صرف وہی عمل قبول کرتا ہے جو محض اسی کی رضا جوئی کے لیے کیا جائے۔
    (4) مسیح دجال کا معاملہ تو واضح ہے جسے نبی ﷺنے کھول کر بیان فرمادیا ہے(اور اس سے بچنا آسان ہے) لیکن ریا عام طورپر دل میں اس طرح پیدا ہوتی ہےکہ یہ انسان کو آہستہ آہستہ اللہ تعالی کی بجائے لوگوں کی طرف متوجہ کردیتی ہے (اور اس سے بچنا انتہائی مشکل ہے)۔اس لیے نبی ﷺنے اسے فتنۂ دجال سے زیادہ خوفناک اور شرک خفی قرار دیا ہے۔
     
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں