اولاد ملنے پر اللہ تعالی کے ساتھ شرک کرنا

فاروق نے 'غاية المريد فی شرح کتاب التوحید' میں ‏جولائی 10, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    باب:49-- اولاد ملنے پر اللہ تعالی کے ساتھ شرک کرنا
    اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
    [qh](فَلَمَّا آتَاهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهُ شُرَكَاءَ فِيمَا آتَاهُمَا فَتَعَالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ[/qh] (سورة الأعراف7: 190))
    “جب اللہ نے انہیں صحیح و تندرست بچہ دیا تو انہوں نے اس عنایت میں دوسروں کو اللہ کا شریک ٹھہرادیا۔ پس اللہ ان شرکیہ باتوں سے جو یہ کرتے ہیں، بلند تر ہے۔”

    ابن حزم رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جس نام میں غیر اللہ کی عبدیت کا اظہار ہو، وہ حرام ہے، مثلا عبد عمرو، اور عبد الکعبہ وغیرہ۔ البتہ “عبد المطلب” نام میں اختلاف ہے۔(1)
    مذکورہ بالا آیت کی تفسیر میں ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب آدم و حوا علیہما السلام آپس میں ملے اور حوا حاملہ ہوئی تو ابلیس ان کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں وہی ہوں جس نے تمہیں جنت سے نکلوایا تھا۔ تم میری ایک بات مان لو، تم اپنے بچے کا نام عبد الحارث رکھنا۔ ورنہ میں اس کے سر پر بارہ سنگے کے دو سینگ بنادوں گا جن کی وجہ سے یہ بچہ تمہارا پیٹ چیر کر نکلے گا۔میں یہ کردوں گا اور وہ کردوں گا۔ ایسی باتیں کرکے اس نے ان کو خوب ڈرایا دھمکایا مگر آدم و حوا علیہما السلام نے اس کی بات نہ مانی اور بچہ مردہ پیدا ہوا۔ حوا دوبارہ حاملہ ہوئیں تو شیطان نے آکر پھر وہی بات کہی مگر آدم و حواء علیہما السلام نے اس کی بات نہ مانی اور بچہ مردہ پیدا ہوا۔ پھر جب حوا تیسری مرتبہ حاملہ ہوئیں تو شیطان پر آیا اور وہی باتیں کرنے لگا۔ ان کے دل میں بچے کی محبت پیدا ہوئی اور انہوں نے بچہ پیدا ہونے پر اس کا نام عبد الحارث رکھا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں “”(انہوں نے اس عنایت میں دوسروں کو اللہ کا شریک ٹھہرادیا) کی یہی تفسیر ہے۔(2)
    ابن ابی حاتم ہی نے قتادہ رحمتہ اللہ علیہ سے صحیح سند کے ساتھ بیان کیا ہے، وہ اس آیت کے متعلق فرماتے ہیں، آدم و حوا علیہما السلام نے شیطان کا صرف کہا مانا تھا، اس کی عبادت نہیں کی تھی ، یعنی ان کا یہ شرک “شرک فی الطاعۃ”تھا نہ کہ “شرک فی العبادۃ”
    نیز ابن ابی حاتم ہی نے صحیح سند کے ساتھ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ سے[qh] “لَئِنْ آتَيْتَنَا صَالِحًا”[/qh]کی تفسیر میں بیان کیا ہے “آدم و حوا کو خدشہ تھا کہ مبادا ہمارا بچہ انسان نہ ہو۔” حسن بصری اور سعید رحتہ اللہ علیہما وغیرہ اہل علم سے اسی قسم کے اقوال مروی ہیں۔

    مسائل

    1) اس بحث سے ثابت ہوا کہ ہر وہ نام جس میں غیر اللہ کی طرف عبدیت کی نسبت ہو،حرام ہے۔
    2) سورۂ اعراف کی آیت 190 کی تفسیر بھی واضح ہوئی کہ شرکیہ نام رکھنا منع ہے۔
    3) مذکورہ واقعہ میں آدم و حوا علیہما السلام کے جس شرک کا ذکر ہے وہ صرف بچے کا نام رکھنے کی حد تک تھا۔ حقیقی شرک نہ تھا۔
    4) کسی کے ہاں صحیح و تندرست بیٹی کی ولادت بھی اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت ہے۔
    5) اسلاف امت شرک فی الطاعۃ اور شرک فی العبادۃ کے مابین فرق رکھتے تھے۔

    نوٹ:-
    (1) غیر اللہ کی طرف عبدیت کی نسبت تمام انبیاء کی شریعتوں میں حرام رہی ہے کیونکہ اس سے نعمتوں کی نسبت غیر اللہ کی طرف ہوجاتی ہے جبکہ نعمتوں کا انتساب صرف اللہ تعالی ہی کی طرف جائز ہے۔ ربوبیت و الوہیت کا حق غیر اللہ کو دینے میں حد درجہ سوء ادبی بھی ہے۔ نیز غیر اللہ کا بندہ کہلانا یا کسی کو غیر اللہ کا بندہ کہنامعنی کے لحاظ سے بھی غلط ہے۔
    عبد المطلب: بعض اہل علم کہتے ہیں کہ عبد المطلب نام رکھنا حرام نہیں صرف مکروہ (ناپسند) ہے جبکہ یہ قول درست نہیں ۔ ان کا استدلال نبی ﷺکے اس فرمان سے ہے جو آپ نے غزوۂ حنین کے موقع پر فرمایا تھا۔ [qh]“اَنَا النَّبِىُّ لَا كَذِبْ اَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ” “[/qh]اس میں کوئی شک نہیں کہ میں اللہ تعالی کا نبی ہوں اور میں عبد المطلب کا بیٹا (پوتا)ہوں۔” ان کا کہنا ہے کہ نبی ﷺنے اپنے دادا کا نام “عبد المطلب” بول کر اپنی نسبت ان کی طرف کی ہے، اس سے معلوم ہوا کہ عبد المطلب نام رکھنا درست ہے۔ مگر ان کا یہ استدلال غلط ہے کیونکہ آپ نے اپنے دادا کی نسبت غیر اللہ کی طرف کی ہے نہ ان کو غیر اللہ کا بندہ کہا ہے بلکہ آپ نے تو اپنے دادا کا نام “عبد المطلب”صرف اس لیے لیا ہے کہ لوگوں میں یہی نام مشہور و معروف تھا۔ باقی رہا بعض صحابہ کا یہ (عبد المطلب ) نام رکھنا تو اس بارے میں صحیح یہ ہے کہ ان کا نام عبد المطلب نہیں بلکہ صرف “مطلب” تھا۔ بعض راویوں کی غلطی سے وہ اصل نام(مطلب) کی بجائے “عبد المطلب” کے نام سے مشہور ہوگئے۔
    (2) (اس واقعہ کو حافظ ابن کثیر اور علامہ ناصر الدین البانی رحمتہ اللہ علیہمانے ضعیف کہا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیں تفسیر ابن کثیر:364/2 اور السلسلہ الضعیفہ:رقم:342
    آدم و حوا علیہما السلام کے بچے کی عطا میں اللہ تعالی کے ساتھ شریک ٹھہرانے کا مفہوم یہی ہے کہ انہوں نے اس کا نام “عبد الحارث” رکھا اور حارث ابلیس کا نام ہے۔ آدم و حوا علیہما السلام کی یہ پہلی غلطی نہ تھی بلکہ اس سے پہلے بھی ایک مرتبہ غلطی کر چکے تھے۔ ایک حدیث میں ہے ، رسول اللہ ﷺنے فرمایا: شیطان نے دومرتبہ آدم و حواء علیہما السلام کو دھوکہ دیا اور یہ سلف کے ہاں معروف ہے۔
    اس لیے اس آیت میں “شرکاء” سے “شرک فی العبادت” نہیں بلکہ “شرک فی الطاعۃ” مراد ہے۔ اور یہ بھی معلوم ہوا کہ ہر گناہ گار شیطان کی اطاعت کرتا ہے اور بندے سے جو بھی گناہ صادر ہوتاہے وہ شرک فی الطاعۃ کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس واقعہ سے ان کی شان اور مرتبہ میں کوئی کمی نہیں آتی اور نہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے اللہ تعالی کے ساتھ شرک کیا تھا۔ اہل علم کے ہاں یہ بات معروف ہے کہ انبیاء کرام سے صغیرہ گناہ ہوں کا صدور ممکن ہوتا ہے البتہ وہ اس پر مداومت نہیں کرتے۔ بلکہ وہ اس سے جلد ہی رجوع کرلیتے ہیں اور اللہ تعالی کی طرف توبہ کرتے ہیں۔ بلکہ ایسے واقعہ کے بعد ان کااللہ تعالی کے ساتھ تعلق پہلے کی بسبت زیادہ ہی ہوجاتا ہے۔ لہذا یہاں شرک سے “شرک فی الطاعۃ” مراد ہے نہ کہ “شرک فی العبادۃ”۔
     
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں