کسی کو “میرا بندہ” اور “میری بندی” کہنا منع ہے

فاروق نے 'غاية المريد فی شرح کتاب التوحید' میں ‏جولائی 10, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    باب:53-- کسی کو “میرا بندہ” اور “میری بندی” کہنا منع ہے(1)
    ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    [qh](لاَ يَقُلْ أَحَدُكُمْ: أَطْعِمْ رَبَّكَ وَضِّئْ رَبَّكَ وَلْيَقُلْ: سَيِّدِي مَوْلاَيَ، وَلاَ يَقُلْ أَحَدُكُمْ: عَبْدِي أَمَتِي، وَلْيَقُلْ: فَتَايَ وَفَتَاتِي وَغُلاَمِي)[/qh](صحیح البخاری، العتق، باب کراھیۃ التطاول علی الرقیق، ح:2552 وصحیح مسلم، الالفاظ من الادب و غیرھا، باب حکم اطلاق لفظۃ العبد و الامۃ و المولی و السید، ح:2249)
    “کوئی شخص یوں نہ کہے، اپنے رب کو کھنا کھلا، اپنے رب کو وضو کرا ، بلکہ یوں کہنا چاہیے میرا آقا اور میرا مولا۔ اور کوئی یوں نہ کہے، میرا بندہ اور میری بندی ، بلکہ یوں کہنا چاہیے میرا غلام، میرا خادم، میری خادمہ”(2)


    مسائل
    1) اس بحث سے ثابت ہوا کہ غلام اور لونڈی کو [qh]“عَبْدِى”[/qh]اور [qh]“اَمَتِى”[/qh](میرا بندہ اور میری بندی کہنا منع ہے۔
    2) اور کوئی غلام اپنے آقا کو “رَبِّىْ”(میرا رب) نہ کہے اور نہ کسی غلام سے یوں کہا جائے “اَطْعِمْ رَبَّكَ”(کہ اپنے رب کو کھانا کھلاؤ۔)
    3)نیز اس حدیث میں آقا اور مالک کو تعلیم دی گئی ہے کہ وہ اپنے غلام اور لونڈی کے لیے “عَبْدِى”اور [qh]“اَمَتِى”[/qh](میرا بندہ۔ میری بندی) کی بجائے [qh]“فَتَاىَ , فَتَاتِى”[/qh] اور [qh]“غُلاَمِى”[/qh]کے الفاظ کے استعمال کرے۔
    4) اور غلام کو تعلیم دی گئی ہے کہ وہ اپنے آقا کو [qh] “سَيِّدِى”[/qh] اور [qh]“مَولَاىَ”[/qh]کے الفاظ سے پکارے۔
    5) ان ہدایات سے اصل مقصود یہ ہے کہ انسان کا عقیدۂ توحید مکمل طور پر پختہ ہو یہاں تک کہ الفاظ کے استعمال میں بھی توحید کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے انتہائی حزم و احتیاط ملحوظ رکھی جائے۔

    نوٹ:-

    (1) چونکہ اللہ تعالی ہی بندوں کا رب اور ان پر تصرف کرنے والا ہے۔ لوگ اسے تسلیم کریں یا نہ کریں، درحقیقت سب اسی کے بندے ہیں۔ اس لیے غلام اور لونڈی کو اپنا بندہ یا اپنی بندی کہنے سے منع کیا گیا ہے کیونکہ اس طرح بندگی کی نسبت اپنی طرف ہو جاتی ہے جو کہ اللہ تعالی کے ادب اور تعظیم ربوبیت کے منافی ہے، اس لیے اکثر اہل علم کا قول ہے کہ میرا بندہ اور میری بندی وغیرہ الفاظ جائز نہیں۔ البتہ بعض اہل علم نے ایسے الفاظ کو محض مکروہ لکھا ہے۔
    (2) اس حدیث میں جو ممانعت بیان ہوئی ہے اس کے بارے میں اہل علم کا اختلاف ہے کہ آیا یہ مذکورہ کلمات کہنا حرام ہیں یا مکروہ؟ کیونکہ دراصل ان کا تعلق، ادب سے ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ کسی کو [qh]“عَبْدِى”[/qh](میرابندہ) [qh]“اَمَتِى”[/qh](میری بندی) یا [qh]“اَطْعِمْ رَبَّكَ”[/qh]اپنے رب کو کھانا کھلا)کہنا جائز نہیں۔ البتہ لفظ “[qh]رَب” [/qh]کی بسبت واضافت، بے جان چیز کی طرف کی جاسکتی ہے جیسے [qh]“رَبَّ الَّدارِ”[/qh](گھر کا مالک) ہے کیونکہ اس استعمال میں عبودیت کا تصور ہی نہیں ہے۔
    اس حدیث میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ آقا کو “سید” اور “مولی” کہنا چاہیے کیونکہ اضافت اور نسبت کے ساتھ لفظ “سید” کسی انسان کے لیے بولا جاسکتا ہے۔ لفظ [qh]“السید” [/qh]اللہ تعالی کا نام بھی ہے اور مخلوق کے لیے بھی بولا جاتا ہے لیکن دونوں کے مفہوم میں بہت زیادہ فرق ہے۔ اللہ تعالی کے لیے اس کا مفہوم وہی ہو گا جو اس کے شایان شان ہے اور مخلوق کے لیے وہ جو اس کی قدرت و طاقت کے مطابق ہے۔ اسی طرح لفظ “مولی” کے بھی کئی معانی ہیں۔ اور لفظ [qh]“السید” [/qh]کی طرح لفظ “مولی”بھی اللہ تعالی کا نام ہے اور یہ لفظ کسی انسان کے لیے بھی بولا جاسکتا ہے ۔ لیکن اللہ تعالی کے لیے بولے جانے میں اور مخلوق کے لیے بولاے جانے میں بہت فرق ہے۔ مخلوق کے لیے اس کا استعمال ، محدود اور اس کی قدرت اور مقام کے لحاظ سے ہو گا اور اللہ تعالی کے لیے اس کا مفہوم اس کی عظیم بادشاہت اور سلطنت کے مطابق ہو گا۔
     
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں