منکرین تقدیر کا بیان

فاروق نے 'غاية المريد فی شرح کتاب التوحید' میں ‏جولائی 10, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    باب:59-- منکرین تقدیر کا بیان(1)
    عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ساتھ میں عبد اللہ بن عمر کی جان ہے! اگر کسی کے پاس احد پہاڑ کے برابر بھی سونا ہو اور وہ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر دے، تو اس کا یہ عمل اللہ کے ہاں اس وقت تک قبول نہ ہوگا جب تک کہ وہ تقدیر پر ایمان نہ لائے، پھر انہوں نے اپنی اس بات پر بطور دلیل ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد پیش کیا:
    [qh](الْإِيمَانِ،أَنْ تُؤْمِنَ بِاللهِ، وَمَلَائِكَتِهِ، وَكُتُبِهِ، وَرُسُلِهِ، وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ)(صحیح مسلم، الایمان، باب بیان الایمان و الاسلام و الاحسان، ح:8)[/qh]
    “ایمان یہ ہے کہ تو اللہ تعالی ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں، قیامت کے دن اور تقدیر کی بھلائی اور برائی پر ایمان لائے۔ (2)

    عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے سے فرمایا: بیٹا! تو اس وقت تک لذت ایمان سے لطف اندوز نہیں ہو سکتا جب تک یہ یقین نہ کرلے کہ جو (تکلیف) تجھے پہنچنے والی ہے وہ تجھ سے کبھی ٹل نہیں سکتی او ر جو نہیں پہنچی ، وہ کبھی تم تک پہنچ نہیں سکتی۔ (3) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:
    [qh](إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللَّهُ الْقَلَمَ، فَقَالَ لَهُ: اكْتُبْ فَقَالَ: رَبِّ وَمَاذَا أَكْتُبُ؟ قَالَ: اكْتُبْ مَقَادِيرَ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ)[/qh]
    “اللہ تعالی نے سب سے پہلے قلم کو پیدا فرمایا اور اسے لکھنے کا حکم دیا ۔ اس نے کہا : اے میرے رب ! کیا لکھوں؟ اللہ نے فرمایا: قیامت تک آنے والی ہر چیز کی تقدیر لکھ دے۔”

    بیٹا! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا:
    [qh](مَنْ مَاتَ عَلَى غَيْرِ هَذَا فَلَيْسَ مِنِّي)[/qh](سنن ابی داود، السنۃ، باب فی القدر، ح:4700)جو شخص اس عقیدے کے علاوہ کسی دوسرے عقیدے پر مرا، وہ میری امت سے نہیں”۔
    اور مسند احمد کی ایک روایت میں ہے:
    [qh]( إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللَّهُ تَعَالَى الْقَلَمُ، فَقَالَ لَهُ: اكْتُبْ فَجَرَى فِي تِلْكَ السَّاعَةِ مَا هُوَكَائِنٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ)(مسند احمد: 5/ 317)[/qh]
    “اللہ تعالی نے سب سے پہلے قلم کو پیدا فرمایا اور اسے لکھنے کا حکم دیا، چنانچہ اس نے اسی وقت قیامت تک ہونے والی ہر بات لکھ دی۔”

    اور ابن وہیب کی ایک روایت میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    [qh](فَمَنْ لَّمْ يُؤْمِنْ بِالْقَدْرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ أَحْرَقَهُ الله بِالنَّارِ)[/qh](اخرجہ ابن وھب فی “القدر” رقم (26) و ابن ابی عاصم فی “کتاب السنۃ”، ح:111 و الاجری فی “الشریعۃ”:186)
    “جو شخص تقدیر کی بھلائی اور برائی پر ایمان نہ رکھے ، اللہ اسے دوزخ میں جلائے گا۔”

    ابن الدیلمی سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے کہا: میرے دل میں تقدیر کے بارے میں کچھ شبہات ہیں، آپ کوئی حدیث بیان فرمائیں، تاکہ اللہ تعالی میرے دل سے ان شبہات کو ختم کردے۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
    [qh](لَوْ أَنْفَقْتَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا قَبِلَهُ اللَّهُ مِنْكَ حَتَّى تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ، وَتَعْلَمَ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ، وَمَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ، وَلَوْ مُتَّ عَلَى غَيْرِ هَذَا لَكُنْتَ مِنْ أَهْلِ النَّارَ)[/qh](سنن ابی داود، السنۃ، باب فی القدر، ح:4699 ومسند احمد: 5/ 182، 185، 189)
    “اگر تم احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کردو تو تمہارا یہ عمل اس وقت تک قبول نہ ہو گا جب تک کہ تم تقدیر پر ایمان نہ لاؤ اور ساتھ یہ یقین نہ رکھو کہ جو تکلیف تمہیں پہنچنے والی ہے ، وہ تم سے ٹل نہیں سکتی اور جو مصیبت آنے والی نہیں وہ کبھی تم تک پہنچ نہیں سکتی۔ اگر تمہارا عقیدہ اس کے خلاف ہوا اور تم اسی طرح مرگئے تو تم جہنمیوں میں سے ہو گے۔”

    ابن دیلمی کہتے ہیں: “میں اس کے بعد عبداللہ بن مسعود، حذیفہ بن یمان اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم کے پاس گیا (اور ان کو اپنے شبہات سے آگاہ کیا) تو انہوں نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی حدیث سنائی۔”

    مسائل

    1) اس تفصیل سے ثابت ہوا کہ تقدیر پر ایمان لانا فرض ہے۔
    2) تقدیر پر ایمان لانے کی صورت اور کیفیت بھی واضح ہوئی۔
    3) تقدیر پر ایمان نہ لانے والے کے تمام اعمال برباد ہوجاتے ہیں۔
    4) تقدیر پر ایمان لانے کے بغیر لذت ایمان سے لطف اندوز نہیں ہوا جاسکتا۔
    5) اللہ تعالی نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا۔
    6) تو قلم نے اللہ تعالی کے حکم سے اسی وقت قیامت تک ہونے والے تمام امور لکھ ڈالے۔
    7) تقدیر پر ایمان نہ لانے والوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بے زاری اور لا تعلقی کا اظہار فرمایا ہے۔
    8) نیز سلف صالحین شبہات پیدا ہونے کی صورت میں اہل علم کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی تشفی کیا کرتے تھے۔
    9) صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس (ابن الدیلمی) کے شبہات کے ازالہ کے لیے جواب دیا اور اپنے دلائل کو براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کیا۔

    نوٹ:-

    (1) تقدیر : تقدیر کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی کو ہر چیز کے متعلق پہلے سے مکمل علم ہے ، اس نے وہ سب کچھ اپنے ہاں “لوح محفوظ” میں لکھ رکھا ہے اور ہر امر میں اس کی مشیت ہی کار گرہوتی ہے ۔ وہی ہر چیز کا اور ہر چیز کے تمام اوصاف کا خالق ہے حتی کہ وہی اپنے بندوں کے افعال کا خالق بھی ہے۔
    جیسا کہ اس نے فرمایا:
    [qh](اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ(سورة الرعد:16))[/qh] “اللہ تعالی ہر شے کا خالق ہے۔” یعنی بندوں کا بھی اور ان کے افعال کا بھی ۔
    جب تک تقدیر پر ایمان کا زبان سے اقرار اور اسے دلی طور پر تسلیم نہ کیا جائے، اس وقت تک تقدیر پر ایمان مکمل نہیں ہو سکتا۔
    اللہ تعالی کے علم اور لوح محفوظ میں اس کی تحریر کا انکار کرنا کفر ہے ۔ تقدیر کی بعض صورتیں ایسی ہیں جن کا انکار کفر سے کم درجے کا ہے اور اشیاء کے متعلق اللہ تعالی کی مشیت اور اس کی تخلیق کا انکار بدعت اور توحید کے منافی ہے۔
    (2) ابن عمر رضی اللہ عنہم نے یہ بات اس لیے کہی، کہ اللہ تعالی صرف مسلمان شخص کے اعمال صالحہ کو قبول کرتا ہے اور جس شخص کا تقدیر پر ایمان نہ ہو بلکہ وہ تقدیر کا منکر ہو تو وہ مسلمان ہی نہیں، اس لیے اس کا کوئی بھی عمل درجہ قبولیت نہیں پاسکتا خواہ وہ احد پہاڑ کے برابر سونا ہی اللہ تعالی کی راہ میں خرچ کیوں نہ کردے۔
    یاد رہے! تقدیر کی بھلائی اور برائی کا تعلق انسان کے ساتھ ہے۔ ورنہ تقدیر تو اللہ تعالی کا فعل ہے اور اللہ تعالی کے تمام افعال خیر ہی پر مبنی ہوتے ہیں کیونکہ ان میں اس کی عظیم حکمت کا ر فرماہوتی ہے۔
    (3) اس لیے کہ تقدیر میں یہ سب کچھ لکھا جاچکا ہے۔ تقدیر پر ایمان کا مفہوم یہ ہے کہ انسان یہ عقیدہ رکھے کہ وہ اعمال کو سرانجام دینے میں مجبور محض نہیں بلکہ اللہ تعالی کی طرف سے اسے آزادی دی گئی ہے۔ وہ اپنی مرضی اور اختیار سے اچھا یا برا جو کرنا چاہے کرسکتاہے۔ اسی لیے تو اسے نیکی کرنے اور برائی سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اگر مجبور محض ہوتا تو حکم دینے کی ضرورت ہی نہ تھی۔
     
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں