اللہ تعالی کی عظمت اور رفعت شان کا بیان

فاروق نے 'غاية المريد فی شرح کتاب التوحید' میں ‏جولائی 10, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    باب:66-- اللہ تعالی کی عظمت اور رفعت شان کا بیان
    ارشاد الہی ہے:
    [qh](وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ(سورة الزمر39: 67))[/qh]
    “اور انہوں نے کماحقہ اللہ کی قدر نہیں کی ، قیامت کے دن ساری زمین اس کی مٹھی میں ہو گی اور سارے آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوں گے۔ اللہ ان لوگوں کے شرک سے پاک اور بلند ہے۔”


    حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ایک یہودی عالم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا: “اے محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)! ہماری کتاب میں لکھا ہوا ہے کہ اللہ تعالی قیامت کے دن آسمانوں کو ایک انگلی پر ، زمینوں کو ایک انگلی پر ، درختوں کو ایک انگلی پر ، پانی کو ایک انگلی پر ، نمناک مٹی کو ایک انگلی پر اور باقی تمام مخلوقات کو ایک انگلی پر رکھ کر فرمائے گا: میں ہی بادشاہ ہوں۔ آپ اس کی بات سن کر بطور تصدیق ہنس پڑے حتی کہ آپ کی ڈاڑھیں نمایاں ہوگئیں۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:
    [qh](وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ (سورة الزمر39: 67))[/qh]
    “اور انہوں نے کماحقہ اللہ کی قدر نہیں کی ، قیامت کے دن ساری زمین اس کی مٹھی میں ہو گی اور سارے آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوں گے۔ اللہ ان لوگوں کے شرک سے پاک اور بلند ہے۔”(1)

    اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے(قیامت کے روز اللہ تعالی)تمام پہاڑوں اور درختوں کو ایک انگلی پر (رکھے گا)، پھر(انگلیوں پر رکھی ہوئی) ان (تمام مخلوقات) کو ہلا ہلا کر کہے گا، “میں ہی بادشاہ ہوں اور میں ہی اللہ ہوں۔”(2)
    اور صحیح بخاری کی ایک دوسری روایت میں ہے اللہ تعالی قیامت کے دن آسمانوں کو ایک انگلی پر ، پانی اور نمناک مٹی کو ایک انگلی پر اور باقی ساری مخلوقات کو ایک انگلی پر رکھے گا۔”(3)
    اور صحیح مسلم میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    [qh](يَطْوِي اللهُ عَزَّ وَجَلَّ السَّمَاوَاتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ثُمَّ يَأْخُذُهُنَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ، أَيْنَ الْجَبَّارُونَ؟ أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ. ثُمَّ يَطْوِي الْأَرَضِينَ السَّبْعَ، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ أَيْنَ الْجَبَّارُونَ؟ أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ؟)[/qh](صحیح مسلم، صفات المنافقین و احکامھم، باب صفۃ القیامۃ و الجنۃ و النار، ح:2788)
    “اللہ قیامت کے دن آسمانوں کو لپیٹ کر اپنے داہنے ہاتھ میں پکڑے گا اور فرمائے گا:میں بادشاہ ہوں۔ کہاں ہیں جنہوں نے دنیا میں خود کو سرکش ارو متکبر سمجھا؟ پھر ساتوں زمینوں کو لپیٹ کر اپنے بائیں ہاتھ میں لے لے گا اور فرمائےگا: میں بادشاہ ہوں۔کہاں ہیں جنہوں نے دنیا میں خود کو سرکش اور متکبر سمجھا؟”


    ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں:
    [qh](مَا السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَالْأَرَضُونَ السَّبْعُ وَمَا فِيهِمَا فِي كَفِّ الَّرحْمنِ إِلَّا كَخَرْدَلَةٍ فِي يَدِ أَحَدِكُمْ)[/qh](تفسیر ابن جریر للطبری: 24/ 32)
    “قیامت کے دن ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں اللہ تعالی کی مٹھی میں ایسے ہوں گی جیسے تم میں سے کسی کے ہاتھ میں رائی کا دانہ۔”

    امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ باسند روایت کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    [qh](مَا السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ فِي الْكُرْسِيِّ إِلَّا كَدَرَاهِمَ سَبْعَةٍ أُلْقِيَتْ فِي تُرْسٍ قَالَ: وَقَالَ أَبُوذَرٍّ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:مَا الْكُرْسِيُّ فِي الْعَرْشِ إِلَّا كَحَلَقَةٍ مِنْ حَدِيدٍ أُلْقِيَتْ بَيْنَ ظَهْرَيْ فَلَاةٍ مِنَ الْأَرْضِ)[/qh](تفسیر ابن جریر للطبری، ح:4522 و الاسماء و الصفات للبیھقی، ح:510)
    “اللہ تعالی کی کرسی کے ساتھ سات آسمانوں کو یوں نسبت ہے جیسے سات درہم کسی ڈھال میں رکھے ہوں۔ اور ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالی کی کرسی اس کے عرش کے مقابلہ میں یوں ہے جیسے لوہے کا چھلا کسی وسیع و عریض میدان میں رکھا ہو۔”

    ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
    [qh](بَيْنَ السَّمَاءِ الدُّنْيَا وَالَّتِي تَلِيهَا خَمْسِمِائَةِ عَام، وَبَيْنَ كُلِّ سَمَاءٍ وَّسَمَآءٍ خَمْسِمِائَةِ عَامٍ، وَبَيْنَ السَّمَاءِ السَّابِعَةِ وَالْكُرْسِيِّ خَمْسِمِائَةُ عَامٍ، وَبَيْنَ الْكُرْسِيِّ وَالْمَاءِ خَمْسِمِائَةِ عَامٍ، وَّالْعَرْشُ فَوْقَ الْمَاءِ، وَاللَّهُ فَوْقَ الْعَرْشِ، لاَ يَخْفى عَلَيْهِ شَيْءٌ مِّنْ أَعْمَالِكُمْ)[/qh](اخرجھ الدارمی فی الرد علی الجھمیۃ، ح:26 و ابن خزیمۃ فی کتاب التوحید، ح:594، و الطبرانی فی المعجم الکبیر، ح:8987)
    “آسمان دنیا سے دوسرے آسمان تک پانچ سو سال کی مسافت ہے اور ہر دو آسمانوں کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے۔ اسی طرح ساتویں آسمان اور کرسی کے درمیان، کرسی اور پانی کے درمیان بھی پانچ پانچ سو سال کی مسافت ہے۔ پانی کے اوپر اللہ تعالی کا عرش ہے۔ اور اللہ تعالی عرش کے اوپر ہے۔ یاد رکھو! تمہارا کوئی بھی عمل اللہ تعالی سے پوشیدہ نہیں۔

    اس روایت کو ابن مہدی ، حمادبن سلمہ سے، وہ عاصم سے، وہ زر سے اور وہ عبد اللہ بن مسعود سے بیان کرتے ہیں۔ اور اسی طرح اسے مسعودی ، عاصم سے ، وہ ابووائل سے اور وہ عبد اللہ بن مسعود سے بیان کرتے ہیں۔
    عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    [qh](هَلْ تَدْرُونَ كَمْ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ؟ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: بَيْنَهُمَا مَسِيرَةُ خَمْسِمِائَةِ سَنَةٍ، وَمِنْ كُلِّ سَمَاءٍ إِلَى سَمَاءٍ مَسِيرَةُ خَمْسِمِائَةِ سَنَةٍ، وَكِثَفُ كُلِّ سَمَاءٍ مَسِيرَةُ خَمْسِمِائَةِ سَنَةٍ، وَكَثِفُ كُلِّ سَمَآءٍ مَسِيرَةُ خَمْسِمِائَةِ سَنَةٍ، وَّبَيْنَ السَّمَآءِ السَّابِعَةِ وَالْعَرْشُ بَحْرٌ بَيْنَ أَسْفَلِهِ وَأَعْلاهُ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَاللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَوْقَ ذَلِكَ وَلَيْسَ يَخْفَى عَلَيْهِ شَيْءٌ مِنْ أَعْمَالِ بَنِي آدَمَ)[/qh](سنن ابی داود، السنۃ، باب فی الجھمیۃ، ح:4723 و مسند احمد:1/ 206، 207)
    “کیا تم جانتے ہو کہ زمین اور آسمان کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: “ان کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے اور ہر آسمان سے دوسرے آسمان تک پانچ سو سال کی مسافت ہے اور ہر آسمان کی موٹائی پانچ سو سال کی مسافت کے برابر ہے۔ ساتویں آسمان اور عرش الہی کے درمیان ایک سمندر ہے۔ اس کے نیچے اور اوپر والے حصوں کے درمیان بھی اپنا ہی فاصلہ ہے جتنا زمین اور آسمان کے درمیان ہے (یعنی پانچ سو سال کی مسافت) اور اللہ تعالی اس کے اوپر ہے۔ بنی آدم کے اعمال میں سے کوئی عمل اس سے پوشیدہ اور مخفی نہیں۔”(4)


    مسائل
    1)اس باب سے آیت کریمہ:
    [qh](وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ) (سورة الزمر39: 67))[/qh]
    کی تفسیر خوب واضح ہوئی۔

    2) گزشتہ بحث سے ثابت ہوا کہ تو رات میں بہت سی صحیح باتیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تک موجود و محفوظ تھیں۔ یہود نے نہ تو ان کا انکار کیا اور نہ ان کی کوئی تاویل کی۔
    3) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب یہودی عالم نے ان باتوں کا ذکر کیا تو آپ نے اس کی تصدیق فرمائی اور قرآن مجید نے بھی اس کی تائید فرمائی۔
    4) آپ ک مسکرانا اس یہودی عالم کی ان عظیم عالمانہ باتوں کی بنا پر تھا۔
    5) اس باب میں مذکور حدیث میں اللہ تعالی کے لیے دو ہاتھوں کی تصریح ہے کہ قیامت کے دن تمام آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں اور زمینیں اس کے دوسرے ہاتھ میں ہوں گی۔
    6) بلکہ حدیث میں اللہ تعالی کے دوسرے ہاتھ کو بایاں کہنے کی صراحت بھی ہے۔
    7) اللہ اس وقت انتہائی جلال کے ساتھ بڑے بڑے سرکش اور متکبرین کو پکارےگا۔
    8) اور سارے آسمان اور زمینیں اللہ تعالی کے ہاتھ میں یوں ہوں گی جیسے کسی کے ہاتھ میں رائی کا دانہ۔
    9) اللہ تعالی کی کرسی آسمانوں کی نسبت بہت بڑی ہے۔
    10) اور کرسی کی نسبت اللہ تعالی کا عرش بہت ہی بڑا ہے۔
    11) نیز اللہ تعالی کا عرش، کرسی اور پانی سب علیحدہ علیحدہ چیزیں ہیں۔
    12) ہر دو آسمانوں کا درمیانی فاصلہ پانچ سو سال کی مسافت کا ہے۔
    13) ساتویں آسمان اور کرسی کے مابین بھی یہی مسافت ہے۔
    14) کرسی اور پانی کے درمیان بھی اسی قدر فاصلہ ہے۔
    15) اللہ تعالی کا عرش پانی پر ہے۔
    16) اللہ تعالی عرش کے اوپر ہے۔
    17) نیز زمین اور آسمان کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے۔
    18) اور ہر آسمان کی موٹائی بھی پانچ سو سال کی مسافت کے بابر ہے۔
    19)اور آسمانوں کے اوپر والے سمندر کی تہ اور سطح کے درمیان بھی پانچ سو سال کی مسافت ہے۔

    نوٹ:-
    (1) صحیح بخاری، التفسیر، باب قولہ تعالی وما قدرو اللہ حق قدرہ، حدیث:4811 و صحیح مسلم، صفات المنافقین و احکامھم، باب صفۃ القیامۃ و الجنۃ و النار۔ حدیث:2786
    (2) صحیح مسلم، حوالہ مذکور۔
    (3) صحیح بخاری، حوالہ مذکور۔
    (4) دعوت توحید و سنت کے امام، شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی اس عظیم کتاب کو اس اہم اور عظیم باب پر ختم اور مکمل کیا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جو شخص اللہ تعالی کے اوصاف حمیدہ کو صحیح معنوں میں سمجھ اور جان لیتا ہے وہ رب العزت کے ہاں انتہائی عجزو انکسار اور خضوع و تذلل کااظہار کرتا ہے۔ اس باب کے آغاز میں مذکورہ آیت مبارکہ میں اسی بات کو یوں بیان کیا گیا ہے:
    [qh](وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ [/qh](سورة الزمر39: 67))
    کہ لوگوں نے اللہ تعالی کی کماحقہ ، تعظیم نہیں کی۔ اگر کرتے تو کبھی اسے چھوڑ کر غیروں کی پرستش نہ کرتے ۔ آپ ذرا اللہ رب العزت کی صفات میں غور و تدبر تو کریں کہ وہ کس قدر غلبہ و قدرت رکھنے والا، حکیم و دانا، صفات جلال سے متصف اور عرش پر مستوی ہے۔ اس وسیع و عریض کائنات میں اس کی فرماں روائی ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے اپنی بے بہا نعمتوں اور خصوصی رحمت سے نوازتا ہے اور جس سے چاہتا ہے مصائب و آلام ٹال دیتا ہے۔ انعام وفضل کا مولی و والی وہی ہے.....آپ کو معلوم ہو جائےگا کہ آسمانوں میں بھی اسی کی قدرت کا ملہ کار فرما ہے وار فرشتے بھی اس کی بندگی میں مصروف اسی کی طرف جھکتے اور متوجہ ہوتے ہیں۔
    اے انسان! ذرا سوچ تو سہی کہ اس قدر جلیل اور عظیم الشان بادشاہ حقیقی تجھ حقیرو وضیع سے مخاطب ہو کر تجھے اپنی عبادت ک حکم دے رہا ہے، اگر تجھے کچھ شعور ہو تو تیرا شرف اسی میں ہے۔ وہ تجھے اپنی اطاعت و فرمان برداری کا حکم دے رہا ہے ۔ اگر تجھے کچھ سمجھ ہو تو اس میں تیری ہی عزت ہے۔ اگر تو اللہ تعالی کے حق کو پہچان لے اور تجھے اس کی صفات عالیہ کا علم ہو جائے اور اس کی ذات و صفات کے علو کی معرفت حاصل ہو جائے تو تو اس کے روبرو عاجزی اور انکسار کا اظہار کیے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ تو اس کی اطاعت و فرمانبرداری کے لیے بے قرار اور اس کی محبوب چیزوں کے ذریعے سے اس کے تقرب کے لیے بے چین ہو گا۔ تو اس کے کلام کی تلاوت کرے گا تو تجھے یوں محسوس ہوں گا جیسے تو اس سے مخاطب ہے۔ وہ تجھے حکم بھی کر رہا ہے اور کچھ چیزوں سے منع بھی کر رہا ہے، تب تیرے دل میں اس عالی قدر ذات کی توقیراور تعظیم کچھ اور ہی ہوگی۔ لہذا دل میں ایمان اور رب العزت کی تعظیم راسخ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان، ارض و سماء میں موجود اس کی قدرت کے عجائب میں غور و فکر کرے کیونکہ یہ اس کا حکم ہے۔
    الله سبحانه و تعالى اعلم و الحمد لله رب العالمين, و صلى الله على سيدنا
    محمد و علي آله و صحبه اجمعين
     
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں