امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ امام یحیی بن معین رحمہ اللہ کی نظرمیں۔

کفایت اللہ نے 'مجلس علماء' میں ‏جولائی 15, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,021
    امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں اورحدیث میں حجت نہیں ہیں ،تقریبا سیکڑوں محدثین سے ان پر جرح ثابت ہے ، جس میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں ۔
    جن محدثین نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ پرجرح کی ہے انہیں میں سے امام ابن معین رحمہ اللہ بھی ہیں ۔
    کہاجاتاہے کہ امام ابن معین رحمہ اللہ حنفی تھے اگریہ بات درست ہے تو امام ابن معین رحمہ اللہ کی جرح بہت ہی منصفانہ ہے۔

    امام ابوحنیفہ پر امام ابن معین رحمہ اللہ کی جرح

    ذیل میں وہ امام ابن معین سے جرح کے وہ اقوال پیش کئے جاتے ہیں جو بسندصحیح منقول ہیں:


    امام عقیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    حدثنا محمد بن عثمان قال سمعت يحيى بن معين وسئل عن أبي حنيفة قال كان يضعف في الحديث [ضعفاء العقيلي 4/ 284 واسنادہ صحیح]۔

    امام خطیب بغدادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    أخبرنا بن رزق أخبرنا هبة الله بن محمد بن حبش الفراء حدثنا محمد بن عثمان بن أبي شيبة قال سمعت يحيى بن معين وسئل عن أبي حنيفة فقال كان يضعف في الحديث [تاريخ بغداد 13/ 450 واسنادہ صحیح]۔

    امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    ثنا على بن احمد بن سليمان ثنا بن أبى مريم قال سألت يحيى بن معين عن أبى حنيفة قال لا يكتب حديثه،[الكامل في الضعفاء 7/ 6 واسنادہ صحیح]۔
     
    • مفید مفید x 1
  2. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,021
    امام ابن معین رحمہ اللہ سے توثیق ابوحنیفہ ثابت نہیں ​


    کچھ لوگ انہیں امام ابن معین سے ابوحنیفہ کے لئے توثیق کی روایات نقل کرتے ہیں ، مگر توثیق والی تمام کی تمام روایات نامستند اورغیرثابت شدہ ہیں، تفصیل ملاحظہ ہو:

    ابن صلت ، کذاب کی روایت

    امام خطیب بغدادی فرماتے ہیں:
    أخبرنا التنوخي حدثنا أبي حدثنا محمد بن حمدان بن الصباح حدثنا احمد بن الصلت الحماني قال سمعت يحيى بن معين وهو يسأل عن أبي حنيفة أثقة هو في الحديث قال نعم ثقة ثقة كان والله أورع من أن يكذب وهو أجل قدرا من ذلك [تاريخ بغداد 13/ 450 واسنادہ موضوع]۔

    امام یحیی بن معین سے اس قول کا ناقل ’’احمد بن الصلت بن المغلس أبو العباس الحماني وقيل احمد بن محمد بن الصلت ويقال احمد بن عطية‘‘ ہے۔
    یہ کذاب و وضاع راوی ہے مدح ابی حنیفہ میں یہ شخص جھوٹی روایات بنا بنا کر ائمہ کی طرف منسوب کی کیا کرتا تھا ، اس کے بارے میں ائمہ فن کی گواہیاں ملاحظہ ہوں:

    امام خطیب بغدادی جنہوں نے مدح ابی حنیفہ میں‌ اس کی روایات نقل کی ہیں‌ وہ خود اس کذاب ووضاح کی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
    حدث بأحاديث أكثرها باطلة هو وضعها.ويحكى أَيْضًا عَنْ بشر بْن الحارث، ويحيى بْن معين، وعلي ابن المديني، أخبارا جمعها بعد أن صنعها فِي مناقب أَبِي حنيفة.[تاريخ بغداد ت بشار 5/ 338]۔

    امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    وما رأيت في الكذابين أقل حياء منه وكان ينزل عند أصحاب الكتب يحمل من عندهم رزما فيحدث بما فيها وباسم من كتب الكتاب باسمه فيحدث عن الرجل الذي اسمه في الكتاب ولا بالي ذلك الرجل متى مات ولعله قد مات قبل ان يولد منهم من ذكرت ثابت الزاهد وعبد لصمد بن النعمان ونظراؤهما وكان تقديري في سنه لما رأيته سبعين سنة أو نحوه وأظن ثابت الزاهد قد مات قبل العشرين بيسير أو بعده بيسير وعبد الصمد قريب منه وكانوا قد ماتوا قبل ان يولد بدهر [الكامل في الضعفاء 1/ 199]۔

    امام دارقطنی فرماتے ہیں:
    فضائل أبى حنيفة ۔۔۔ موضوع كله كذب وضعه احمد بن المغلس الحماني [تاريخ بغداد 4/ 209 وسندہ صحیح]۔

    امام ابونعیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    أحمد بن محمد بن الصلت أبو العباس الحماني يروي عن بن أبي أويس والقعنبي وعن شيوخ لم يلقهم بالمشاهير والمناكير لا شيء [الضعفاء للأصبهاني ص: 65]۔

    امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    كَانَ يضع الْحَدِيث [المجروحين لابن حبان 1/ 153]۔


    امام أبو الفتح بن أبي الفوارس فرماتے ہیں:
    ابْن مغلس كَانَ يضع [تاريخ بغداد ت بشار 5/ 338 وسندہ صحیح]۔

    امام سبط ابن العجمی فرماتے ہیں:
    أحمد بن محمد بن الصلت بن المغلس الحماني كذاب وضاع[الكشف الحثيث ص: 53]۔

    امام أبو الحسن على بن محمد بن العراق الكناني فرماتے ہیں:
    أحمد بن محمد بن الصلت بن المغلس الحمانى وضاع[تنزيه الشريعة المرفوعة 1/ 33]۔


    امام ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    احمد بن الصلت بن المغلس الحماني قبيل الثلاثمائةمتهم وهو احمد بن محمد بن الصلت[المغني في الضعفاء للذهبي ص: 19]۔
    میزان میں فرماتے ہیں:
    هالك ،[ميزان الاعتدال 1/ 105]۔

    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    أحمد بن الصلت الحماني هو أحمد بن محمد بن الصلت هالك [لسان الميزان 1/ 188]۔


    ابن صلت کذاب کی دوسری روایت


    امام خطیب بغدادی فرماتے ہیں:
    أخبرنا الصيمري أخبرنا عمر بن إبراهيم المقرئ حدثنا مكرم بن احمد حدثنا احمد بن عطية قال سئل يحيى بن معين هل حدث سفيان عن أبي حنيفة قال نعم كان أبو حنيفة ثقة صدوقا في الحديث والفقه مأمونا على دين الله قلت احمد بن الصلت هو احمد بن عطية وكان غير ثقة [تاريخ بغداد 13/ 450 اسناہ موضوع]۔

    اس روایت میں بھی اصل ناقل ابن الصلت ہے جس کا تعارف اوپر پیش کیا جاچکاہے۔

    ابن سعد العوفی ، ضعیف کی روایت

    امام خطیب بغدادی فرماتے ہیں:
    أخبرنا بن رزق حدثنا احمد بن علي بن عمرو بن حبيش الرازي قال سمعت محمد بن احمد بن عصام يقول سمعت محمد بن سعد العوفي يقول سمعت يحيى بن معين يقول كان أبو حنيفة ثقة لا يحدث بالحديث إلا ما يحفظ ولا يحدث بما لا يحفظ [تاريخ بغداد 13/ 449 واسنادہ ضعیف]۔

    اس قول کا ناقل ’’محمد بن سعد بن محمد بن الحسن بن عطية بن سعد بن جنادة أبو جعفر العوفي‘‘ ہے۔
    امام خطیب بغدادی فرماتے ہیں:
    وكان لينا في الحديث [تاريخ بغداد 5/ 322]۔

    امام حاکم فرماتے ہیں:
    ومثال ذلك في الطبقة السادسة من المحدثين ۔۔۔ محمد بن سعد العوفي ۔۔۔۔۔۔فجميع من ذكرناهم في هذا النوع بعد الصحابة والتابعين فمن بعدهم قوم قد اشتهروا بالرواية ولم يعدوا في الطبقة الأثبات المتقنين الحفاظ والله أعلم [معرفة علوم الحديث ص: 337]۔

    امام ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    محمد بن سعد العوفي عن يزيد وروح لينه الخطيب [المغني في الضعفاء للذهبي ص: 20]۔

    اس روایت میں ایک دوسرا راوی ’’محمد بن احمد بن عصام‘‘ ہے۔
    اس کے حالات نامعلوم ہیں۔


    ابن محرز، مجہول کی روایت

    امام خطیب بغدادی فرماتے ہیں:
    قرأت على البرقاني عن محمد بن العباس الخزاز حدثنا احمد بن مسعدة الفزاري حدثنا جعفر بن درستويه حدثنا احمد بن محمد بن القاسم بن محرز قال سمعت يحيى بن معين يقول كان أبو حنيفة لا بأس به وكان لا يكذب وسمعت يحيى يقول مرة أخرى أبو حنيفة عندنا من أهل الصدق ولم يتهم بالكذب ولقد ضربه بن هبيرة على القضاء فأبى أن يكون قاضيا[تاريخ بغداد 13/ 449 واسنادۃ ضعیف]۔

    اس قول کا ناقل ’’ابو العباس احمد بن محمد بن القاسم بن محرز البغدادی‘‘ ہے۔
    اس کے حالات بھی نا معلوم ہیں۔


    عباس دوری رحمہ اللہ کی روایت

    امام خطیب بغدادی فرماتے ہیں:
    أخبرنا القاضي أبو الطيب طاهر بن عبد الله المطيري حدثنا علي بن إبراهيم البيضاوي أخبرنا احمد بن عبد الرحمن بن الجارود الرقي حدثنا عباس بن محمد الدوري قال سمعت يحيى بن معين يقول وقال له رجل أبو حنيفة كذاب قال كان أبو حنيفة أنبل من أن يكذب كان صدوقا إلا أن في حديثه ما في حديث الشيوخ [تاريخ بغداد 13/ 449 واسنادہ ضعیف]۔

    اس روایت میں ’’احمد بن عبد الرحمن بن الجارود الرقي‘‘ ہے۔
    امام خطیب بغدادی فرماتے ہیں:
    كل رجاله مشهورون معروفون بالصدق الا بن الجارود فإنه كذاب [تاريخ بغداد مؤافق 2/ 247]۔

    امام ذھبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    وقال أحمد بن عبد الرحمن بن الجارود، وهو كذاب[تاريخ الإسلام للذهبي 14/ 309 وانظر:المغني في الضعفاء:21]

    اورمیزان میں فرماتے ہیں:
    ومن بلاياه: حدثنا هلال بن العلاء، حدثنا محمد بن مصعب، حدثنا الأوزاعي، عن ابن لمنكدر، عن جابر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: جمال الرجل فصاحة لسانه.[ميزان الاعتدال 1/ 116]۔

    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی لسان المیران میں اس پر شدیر جروح نقل کی ہیں اور کوئی دفاع نہیں کیا ہے۔ [لسان الميزان 1/ 213]۔


    صالح بن محمد الاسدی رحمہ اللہ کی روایت

    امام مزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    وَقَال صالح بن محمد الأسدي الحافظ : سمعت يحيى بن مَعِين يقول : كان أبو حنيفة ثقة في الحديث [تهذيب الكمال مع حواشيه ليوسف المزي 29/ 424 ، لایعرف اسنادہ]۔

    یہ قول بے سند ہے لہٰذا بے سود ہے ۔

    عبد الله بن أحمد الدورقي کی روایت

    علامہ ابن عبد البرفراماتے ہیں:
    (حدثنا حكم بن منذر قال نا أبو يعقوب) قال نا أحمد بن الحسن الحافظ قال نا عبد الله بن أحمد بن إبراهيم الدورقي قال سئل يحيى بن معين وأنا أسمع عن أبي حنيفة فقال ثقة ما سمعت أحدا ضعفه هذا شعبة بن الحجاج يكتب إليه أن يحدث ويأمره وشعبة شعبة [الانتقاء في فضائل الثلاثة الأئمة الفقهاء ص: 127واسنادہ ضعیف]۔



    علامہ ابن عبد البرکے شیخ حكم بن منذر یہ أبي العاص حكم بن منذر بن سعيد بن عبد الله بن عبد الرحمن بن القاسم بن عبد الله بن نجيح البَلُّوطي المتوفى: 420 هـ ہیں ۔
    ان کی توثیق ہمیں‌ کہیں‌ نہیں‌ مل سکی ،علام ابن بشکوال نے ان کا ترجمہ پیش کیا ہے مگرکوئی توثیق نہیں ذکر کی ہے۔ ملاحظہ ہو:[الصلة في تاريخ أئمة الأندلس لابن بشكوال ص: 146]۔

    أحمد بن الحسن الحافظ کا تعین بھی مشکل ہے ابویقوب کے اساتذہ اورعبداللہ بن احمد الدورقی کے شاگردوں میں ہمیں اس کا ذکر نہیں ملا۔

    لہٰذا یہ قول بھی ثابت نہیں‌۔


    احمدبن محمد البغدادی مجہول کی روایت
    کردری فرماتے ہیں:
    ذکر الامام النسفي باسناده عن أحمد بن محمد البغدادي، قال سألت يحيي بن معين عنه فقال: عدل ثقة ماظنک بمن عدله ابن المبارک و قيع.[مناقب کردري: ص 91]۔

    یہ روایت بھی ضیعف ہے۔
    احمدبن محمدالبغدادی معلوم نہیں کون ہے۔
    نسفی سے لیکر بغدادی سند ہی موجود نہیں۔
    نسفی کی توثیق کابھی کچھ پتہ نہیں ۔

    لہٰذا یہ روایت بھی مردود ہے۔


    احمد مجہول کی روایت

    موفق معتزلی نے کہا:
    انا الحسين بن محمد البلخي، انا الشيخ أبو منصور الشحي، انا أبوالقاسم التنوخي، حدثني أبي حدثنا أبوبکر أنبأ أحمد سمعت يحيي بن معين يقول وهو يسأل عن أبي حنيفة، أثقة هو في الحديث؟ نعم ثقة ثقة،کان والله أروع أن يکذب وهو أجل قدرا من ذلک. [مناقب موفق: ص 192]

    اس روایت کے سارے راوی ضعیف ہیں کسی ایک کی بھی توثیق ثابت نہیں ، لہٰذا یہ روایت بھی مردود ہے۔


     
    Last edited by a moderator: ‏جولائی 19, 2011
    • مفید مفید x 1
  3. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,021
    امام ابن معین رحمہ اللہ کی توثیق کا مفہوم
    اب آئیے ہم امام ابوحنیفہ سے متعلق امام ابن معین کی توثیق کی حقیقت واضح کرتے ہیں۔
    واضح رہے کہ امام ابن معین رحمہ اللہ سے توثیق ابی حنیفہ صحیح سند سے ثابت ہی نہیں ہے ، جیسا کہ اس سلسلے کی تمام سندوں کی حقیقت بیان کی جاچکی ہے اس کے برعکس صحیح سندوں سے یہ ثابت ہے کہ امام ابن معین رحمہ اللہ نے ابوحنیفہ کو صراحۃ ضعیف قرار دیا ہے اور اس کی تفصیل بھی پیش کی جاچکی ہے۔

    اور جن روایت میں ابن معین سے توثیق ابی حنیفہ منقول ہے اول تو وہ ثابت نہیں ثانیا بفرض ثبوت اس سے مراد دیانت اور سچائی والی توثیق ہے نہ کہ حفظ وٍضبط والی، اس کی دو دلیلیں ہیں
    پہلی دلیل:
    خود امام ابن معین رحمہ اللہ نے امام ابوحنیفہ کو صراحۃ ضعیف قراردیا ہے اس لئے ان کے توثیق والے قول میں لازمی طور پر غیراصطلاحی توثیق یعنی دیانت و سچائی مراد ہے۔
    دوسری دلیل:
    توثیق کے جو صیغے منقول ہیں ان کو اکٹھا کیا جائے تو اس سے بھی اسی طرف اشارہ ملتا ہے ، چنانچہ توثیق کے صیغے درج ذیل ہیں :

    1. قال له رجل أبو حنيفة كذاب قال كان أبو حنيفة أنبل من أن يكذب كان صدوقا إلا أن في حديثه ما في حديث الشيوخ(عباس دوری واسنادہ ضعیف)
    2. ثقة ثقة كان والله أورع من أن يكذب وهو أجل قدرا من ذلك(ابن صلت وہوکذاب)
    3. أبو حنيفة عندنا من أهل الصدق ولم يتهم بالكذب (ابن محرز وہو مجہول)
    4. كان أبو حنيفة لا بأس به وكان لا يكذب(ابن محرز وہو مجہول)
    5. كان أبو حنيفة ثقة صدوقا في الحديث والفقه مأمونا على دين الله(ابن صلت وہو کذاب)
    6. كان أبو حنيفة ثقة لا يحدث بالحديث إلا ما يحفظ ولا يحدث بما لا يحفظ (ابن سعد العوفی وہو ضعیف)
    7. كان أبو حنيفة ثقة في الحديث(صالح اسدی ولایعرف اسنادہ)
    8. ثقة ما سمعت أحدا ضعفه (عبد الله بن أحمد الدورقي واسنادہ ضعیف)


    پہلی روایت میں دیکھیں امام ابن معین سے یہ سوال ہوا کہ کیا وہ جھوٹے ہیں جوابا فرمایا نہیں وہ جھوٹ سے بری ہیں لیکن ان کی حدیث شیوخ کی احادیث جیسی نہیں ہے ، واضح رہے کہ ’’شیخ‘‘ سب سے کمتردرجہ ہے ، یہ سوال وجواب صاف بتلاتا ہے کہ امام ابن معین سے توثیق کا صدور اس وقت ہوا تھا جب ان سے امام صاحب سے جھوٹ بولنے کے بارے میں سوال ہوا تھا اس کا وضح مطلب یہی ہے کی ان کی توثیق سے دیانت اورسچائی والی توثیق ہے جیساکہ اسی جواب میں انہوں نے وضاحت کردی کہ ان کی بیان کردہ احادیث عام شیوخ کی احادیث جیسی نہیں ہیں ۔
    دوسری ، تیسری ، اورچوتھی روایت دیکھیں ان سب میں توثیق کے ساتھ کذب کی نفی ہے جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ان کی توثیق سے مراد کذب کی نفی اورصدق کا اثبات ہے بس ۔
    پانچویں روایت میں میں بھی ان کی توثیق صدق اور مامون علی دین اللہ کے ساتھ مقترن ہے یعنی اس میں بھی ان کی توثیق سے مراد دیانت داری کا بیان ہے ۔
    چھٹی روایت دیکھیں اس میں تو صاف اقرار ہے کہ وہ کچھ احادیث رکھتے تھے اورکچھ احادیث یاد نہیں رکھ سکتے تھے ۔
    پھر یہ بیان ہے کہ وہ صرف یاد کردہ احادیث ہی بیان کرتے تھے لیکن امام ابن معین کا یہ بیان لیکن ابن معین کا یہ بیان صرف چنداحادیث کو پرکھنے کی بناپر پر تھا کیونکہ دوسری روایات میں ابن کا صاف اعلان موجود ہےکہ ان کی احادیث ضعف حفظ کی زد میں آئی ہیں جیساکہ پہلی ہی روایت میں ہے کہ ان کی احادیث عام شیوخ کی احادیث جیسی نہیں ہیں ، نیز دوسری طرف تضعیف والی روایات بھی اس پرشاہد ہیں ۔
    ساتویں آٹھویں روایت میں مطلق توثیق کا ذکر ہے جس کی تفصیل دیگرروایات میں مل جاتی ہے، یعنی موصوف حدیث بیان کرنے میں سچے تھے۔


    یہ نتیجہ صرف توثیق والی روایات ضعیفہ کو یکجا کرنے سے نکلتا ہے اب اگر تضعیف والی روایات صحیحہ کو سامنے رکھ لیا جائے تو اس بات میں ذرہ برابر بھی شک وشبہ کی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی توثیق والی روایت سے محض دیانت داری اور صدق کابیان مقصود ہے۔

    علامہ معلمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    وقد اختلف كلام ابن معين في جماعة ، يوثق أحدهم تارة ويضعفه أخرى ، منهم إسماعيل بن زكريا الخُلقاني ، وأشعث بن سوار ، والجراح بن مليح الرواسي ، وزيد بن أبي العالية ، والحسن بن يحيى الخُشَني ، والزبير بن سعيد ، وزهير بن محمد التميمي ، وزيد بن حبان الرقي ، وسلم العلوي ، وعافية القاضي ، وعبد الله الحسين أبو حريز ، وعبد الله بن عقيل أبو عقيل ، وعبد الله بن عمر بن حفص العمري ، وعبد الله بن واقد أبو قتادة الحراني ، وعبد الواحد بن غياث ، وعبيد الله بن عبد الرحمن بن موهب ، وعتبة بن أبي حكيم ، وغيرهم . وجاء عنه توثيق جماعة ضعفهم الأكثر ون منهم تمام بن نجيح ، ودراج ابن سمعان ، والربيع بن حبيب الملاح وعباد بن كثير الرملي ، ومسلم بن خالد الزنجي ، ومسلمة بن علقمة ، وموسى بن يعقوب الزمعي ، ومؤمل بن إسماعيل ، ويحيى بن عبد الحميد الحماني .
    وهذا يشعر بأن ابن معين كان ربما يطلق كلمة .. ثقة )) لا يريد بها أكثر من أن الراوي لا يتعمد الكذب .
    [التنكيل بما في تأنيب الكوثري من الأباطيل 1/ 164]۔


    واضح رہے توثیق سے کبھی کبھی دیانت داری اورسچائی کی طرف اشارہ کرنا یہ صرف ابن معین ہی کا عمل نہیں ہے بلکہ دیگر محدثین بھی کبھی کبھی توثیق سے یہی مراد لیتے تھے،
    مثلا یہی امام ذہبی رحمہ اللہ ’’أبو جعفر محمد بن سابق‘‘ کے بارے میں ایک قول نقل کرتے ہیں:
    هو ثقة، وليس ممن يوصف بالضبط.[ميزان الاعتدال موافق رقم 3/ 555]

    صاحب مغانى الأخيار ایک قول نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں؛
    ثقة ضعيف، وهو من أهل الصدق سيئ الحفظ[مغانى الأخيار 5/ 326، ]۔

    امام مزی رحمہ اللہ ’’ربیع بن صبیح سعدی ‘‘ کے بارے میں ایک قول نقل کرتے ہیں:
    رجل صالح صدوق ثقة ، ضعيف جدا [تهذيب الكمال مع حواشيه ليوسف المزي 9/ 93]

    دکتور بشار اس قول پر حاشیہ لگاتے ہوئے فرماتے ہیں :
    يعني : صالح صدوق ثقة في دينه وسلوكه وأخلاقه ضعيف في الحديث لعدم معرفته به ، وهذا هو الصواب.[تهذيب الكمال مع حواشيه ليوسف المزي 9/ 93 حاشیہ ٧]۔

    وقد تقدم في القواعد أنهم ربما يتجوزون في كلمة (( ثقة )) فيطلقونها على من هو صالح في دينه وإن كان ضعيف الحديث أو نحو ذلك [التنكيل بما في تأنيب الكوثري من الأباطيل 2/ 56]

    علامہ معلمی رحمہ اللہ اس کی مزید مثالیں دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
    فأما استعمال كلمة (( ثقة )) على ما هو دون معناها المشهور فيدل عليه مع ما تقدم أن جماعة يجمعون بينها وبين التضعيف ،
    قال أبو زرعة لعمر بن عطاء بن وراز (( ثقة لين ))
    وقال الكعبي في القاسم أبي عبد الرحمن الشامي (( ثقة يكتب حديثه وليس بالقوي )).
    وقال ابن سعد في جعفر بن سليمان الضبعي (( ثقة وبه ضعف )) .
    وقال ابن معين في عبد الرحمن بن زياد بن أنْعُم (( ليس به بأس وهو ضعيف )) وقد ذكروا أن ابن معين يطلق كلمة (( ليس به بأس )) بمعنى (( ثقة ))
    وقال يعقوب بن شيبة في ابن أنعم هذا (( ضعيف الحديث وهو ثقة صدوق رجل صالح )) وفي الربيع بن صبيح : (( صالح صدوق ثقة ضعيف جداً ))
    وراجع تراجم إسحاق بن يحيى بن طلحة ، وإسرائيل بن يونس وسفيان بن حسين وعبد الله بن عمر بن جعفر بن عاصم وعبد الأعلى بن عامر الثعلبي وعبد السلام بن حرب وعلى بن زيد بن جدعان ومحمد بن مسلم بن تدرس ومؤمل بن إسماعيل ويحيى بن يمان .
    وقال يعقوب بن سفيان في أجلح (( ثقة حديثه لين ))
    وفي محمد ابن عبد الرحمن بن أبي ليلى (( ثقة عدل في حديثه بعض المقال لين الحديث عندهم )) .
    [التنكيل بما في تأنيب الكوثري من الأباطيل 1/ 165]

    معلوم ہوا کہ محدثین کبھی محض دیانت دار اور سچا بتلانے کے لئے کسی کو ثقہ کہ دیتے ہیں۔
     
    Last edited by a moderator: ‏جولائی 16, 2011
    • مفید مفید x 1
  4. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,021
    کسی راوی سے متعلق ایک ہی امام کے متضاد اقوال کی بابت اہل فن کا موقف



    جمع وتطبیق

    ناقدین کبھی کھبی دیانت داری اور سچائی کے لئے لحاظ سے کسی کو ثقہ کہہ دیتے ہیں اس سے ناقدین کا مقصد اصطلاحی معنی میں ثقہ کہنا نہیں ہوتا جیساکہ اوپر تفصیل پیش کی گئی ہے ،ذیل میں مزید امام ذہبی رحمہ اللہ کی یہ صراحت بھی ملاحظہ ہو:
    امام حاکم رحمہ اللہ نے ایک راوی ’’ خارجة بن مصعب الخراسانی‘‘ کی توثیق کی تو امام ذہبی رحمہ اللہ نے یہ وضاحت کیا کہ اس توثیق سے مراد یہ ہے کہ اس راوی سے جھوٹ بولنا ثابت نہیں ہے ، امام ذہبی رحمہ اللہ کے الفاظ ملاحظہ ہوں:
    وَقَالَ الحَاكِمُ: هُوَ فِي نَفْسِهِ ثِقَةٌ -يَعْنِي: مَا هُوَ بِمُتَّهَمٍ-.[سير أعلام النبلاء 7/ 327]۔

    معلوم ہوا کہ بعض ناقدین کبھی کھبی دیانت داری اور سچائی کے لئے لحاظ سے کسی کو ثقہ کہہ دیتے ہیں اس سے ناقدین کا مقصد اصطلاحی معنی میں ثقہ کہنا نہیں ہوتا اور امام ابن معین رحمہ اللہ کی توثیق ابی حنیفہ بشرط ثابت اسی معنی میں ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ خود امام ابن معین رحمہ اللہ نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کو ضعیف فی الحدیث قرار دے رکھا ہے جیساکے حوالے پیش کئے جاچکے ہیں۔
    ایسی صورت میں‌ ابن معین کے توثیق والے اقوال کو بالفرض اگر ثابت مان لیا جائے تو یہی تطبیق اپنانا لازم ہے۔


    تساقط قولین

    ہماری نظر میں امام ابن معین سے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی تضعیف ہی ثابت ہے جیساکہ اوپرتفصیل پیش کی گئی اس کے برخلاف توثیق ثابت نہیں ہے ، اوربفرض ثبوت توثیق اصطلاحی معنی میں نہیں ہے بلکہ دیانت اورسچائی کے معنی میں ہے جس کی وضاحت کی جاچکی ہے لیکن اگر کوئ بضد ہو کہ نہیں ابن معین کی توثیق اصطلاحی معنی میں ہی ہے تو امام ذہبی رحمہ اللہ کے پیش کردہ درج ذیل اصول پر غور کرنا چاہئے۔

    عبدالرحمن بن ثابت بن الصامت.عن أبيه، عن جده، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قام يصلى في بنى عبد الاشهل، وعليه كساء ملتف به، يقيه برد الحصا. رواه عنه إبراهيم بن إسماعيل بن أبى حبيبة.قال البخاري: لم يصح حديثه.وقال ابن حبان: فحش خلافه للاثبات فاستحق الترك.وقال أبو حاتم الرازي: ليس عندي بمنكر الحديث، ليس بحديثه بأس.قلت: وروى عنه ابنه عبدالله، وذكره أيضا ابن حبان في الثقات فتساقط قولاه.[ميزان الاعتدال موافق رقم 2/ 552]۔

    امام ذہبی رحمہ اللہ کی اس عبارت سے معلوم ہوا کہ ایک ہی راوی سے متعلق اگر کسی ایک ناقد کے دوطرح کے اقوال ہوں اورتطبیق ممکن نہ ہو تو دونوں اقوال ساقط ہوجائیں گے ۔
    دریں صورت اگر امام ابن معین کی توثیق کو اصطلاحی معنی میں لیا جائے تو یہ توثیق امام ابن معین ہی کی تضعیف سے ٹکرا کرساقط الاعتبار ہوجائے گی۔

     
    • مفید مفید x 1
  5. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,021
    امام ذہبی رحمہ اللہ کی نظر میں‌ ابن معین کی توثیق ابو حنیفہ کا مفہوم​


    امام ذہبی رحمہ اللہ نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے تذکرہ میں کئی کتب میں امام ابن معین سے توثیق نقل کی اس سے کھچ لوگوں کو غلط فہمی ہوئی اور یہ سمجھ بیٹھے کہ امام ذہبی رحمہ اللہ کے نزدیک ابوحنیفہ ثقہ ہیں‌ کیونکہ انہوں نے اپنی کتب میں امام ابوحنیفہ کے تذکرے میں امام ابن معین کی توثیق نقل کی ہے۔

    لیکن یہ محض غلط فہمی ہے ، اور حقیقت یہ ہے کہ امام ذہبی رحمہ اللہ نے امام ابوحنیفہ کے ترجمہ میں ابن معین کا قول محض ان کی دیانت اورسچائی بتلانے کے لئے پش کیا ہے کیونکہ امام ذہبی کی نظر میں بھی ابن معین کی توثیق اصطلاحی معنی میں نہیں ہے بلکہ دیانت اورسچائی کے معنی معنی میں ہے ۔

    اس کی دلیل یہ ہے کہ امام ذھبی رحمہ اللہ نے دیوان الضعفاء میں جہاں امام ابوحنیفہ کی تضعیف کی ہیں وہیں ان پرجرح نقل کرتے ہیں امام ابن معین کی تضعیف بھی نقل کی ہے ، چنانچہ دیوان الضعفاء میں فرماتے ہیں:
    النعمان الامام رحمه الله. قال ابن عدي: عامة ما يرويه غلط وتصحيف وزيادات وله احاديث صالحة وقال النسائي: ليس بالقوي في الحديث کثير الغلط علي قلة روايته وقال ابن معين: لا يکتب حديثه [ديوان الضعفاء والمتروکين، ص:٤١١ ، ٤١٢]۔

    قارئین غورکریں !
    اس ضعفاء والی کتاب میں امام ذہبی رحمہ اللہ نے انہیں امام ابن معین سے ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی تضعف نقل کی ہے اورکوئی دفاع نہیں کیا ہے ، حالانکہ اسی دیوان الضعاء میں ’’ابراہم بن مہاجر‘‘ کا ذکر کرکے ان کے بارے میں امام نسائی کا یہ قول نقل کیا ’’لیس بالقوی‘‘ تو ساتھ ہی میں صاف صراحت کردیا کہ ابراہم ثقہ ہیں ، دیکھئے دیوان الضعفاء :ص ٢١ترجمہ ٢٥٦۔

    اسی طرح مناقب ابوحنیفہ میں بھی امام ذہبی رحمہ نے ابن معین سے توثیق نقل کی ہے مگرساتھ ہی اس سے پہلے ان کے ضعف کا اعلان بھی کردیاہے، ملاحظہ ہوامام ذہبی فرماتے ہیں:
    قال علي بن المديني: قيل ليحيى بن سعيد القطان: كيف كان حديث أبي حنيفة؟ قال: " لم يكن بصاحب حديث۔
    قلت: لم يصرف الإمام همته لضبط الألفاظ والإسناد، وإنما كانت همته القرآن والفقه، وكذلك حال كل من أقبل على فن، فإنه يقصر عن غيره , من ثم لينوا حديث جماعة من أئمة القراء كحفص، وقالون وحديث جماعة من الفقهاء كابن أبي ليلى، وعثمان البتي، وحديث جماعة من الزهاد كفرقد السنجي، وشقيق البلخي، وحديث جماعة من النحاة، وما ذاك لضعف في عدالة الرجل، بل لقلة إتقانه للحديث، ثم هو أنبل من أن يكذب "۔
    وقال ابن معين فيما رواه عنه صالح بن محمد جزرة وغيره: أبو حنيفة ثقة،

    [مناقب الإمام أبي حنيفة وصاحبيه ص: 46]

    اس سے کھل کرامام ذہبی کا موقف ہمارے سامنے آجاتا ہے کہ امام ذہبی رحمہ اللہ نے دیگرکتب میں امام ابن معین کی جوتوثیق نقل کی ہے وہ ان کے نزدیک اصطلاحی معنی میں نہیں ہے بلکہ دیانت اورسچائی کے معنی میں ہے ۔



    (ختم شد)

     
    Last edited by a moderator: ‏جولائی 15, 2011
    • مفید مفید x 1
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں