کیا عورت اپنے فوت شدہ خاوند کی جانب سے حج بدل کر سکتی ہے؟

اہل الحدیث نے 'آپ کے سوال / ہمارے جواب' میں ‏جولائی 20, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    4,974
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ ابرکاتہ

    کیا عورت اپنے فوت شدہ خاوند کی جانب سے حج بدل کر سکتی ہے؟

    کتاب و سنت کی روشنی میں‌دلائل سے مزین جواب عنایت فرمائیں۔

    جزاکم اللہ خیرا
     
  2. رفیق طاھر

    رفیق طاھر ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,943
    جی ہاں عورت اپنے خاوند کی طرف سے حج بدل کر سکتی ہے
    کیونکہ حج بدل کے لیے اس طرح کی کوئی قید کتاب وسنت میں وارد نہیں ہوئی ہے
    اور جس فوت شدہ پر حج فرض ہو شریعت نے اسے قرض سے تعبیر کیا ہے
    اور خاوند کا قرض بیوی بھی اتار سکتی ہے
    حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ امْرَأَةً مِنْ جُهَيْنَةَ جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنَّ أُمِّي نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ فَلَمْ تَحُجَّ حَتَّى مَاتَتْ أَفَأَحُجُّ عَنْهَا قَالَ نَعَمْ حُجِّي عَنْهَا أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكِ دَيْنٌ أَكُنْتِ قَاضِيَةً اقْضُوا اللَّهَ فَاللَّهُ أَحَقُّ بِالْوَفَاءِ
    صحیح بخاری کتاب الحج باب النذور والحج عن المیت ح ۱۸۵۲
     
  3. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,440
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ ۔
    جزاکم اللہ خیرا
    -اور کیا کسی فوت شدہ شخص کے لیے عمرہ بدل بھی کر سکتے ہیں‌ یا یہ حکم صرف حج کے لئے ہے
    -کیا زندوں کے لیے حج یا عمرہ بدل کیا جا سکتا ہے ۔ ؟

    ایک محترم بھائی نے سوال پوچھا ہے کہ
     
  4. رفیق طاھر

    رفیق طاھر ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,943
    ۱۔ جس شریعت نے سلسلہ منقطع کرنے کا اعلان کیا ہے اسی شریعت نے کچھ چیزیں مستنى بھی کی ہیں !
    اور میت کی طرف سے حج بدل صرف اس صورت میں ہو سکتا ہے جب میت پر حج فرض ہو اور وہ اسے نہ کرسکی ہو , دونوں میں سے ایک شرط بھی پوری نہ ہو تو میت کی طرف سے حج نہیں ہوسکتا۔
    ۲۔ حدیث کے الفاظ عام ہیں خواہ منت مانی ہو یا ویسے ہی فرض ہو چکا ہو ہر دو صورت میں کیا جا سکتا ہے
    نہیں نمازوں کی قضائی نہیں دی جاسکتی کیونکہ اسکی کوئی دلیل نہیں , جبکہ حج کی قضائی دینے کی دلیل موجود ہے
    ۳۔ حج بدل وہ کرے جس نے پہلے حج کیا ہو , طریقہ کار اسکا وہی ہے جو عام حج کا ہے بس تلبیہ کہتے ہوئے اس شخص کانام لینا ہے جسکی طرف سے حج کیا جا رہا ہے مثلا لبیک عن شبرمۃ
    ۴۔ انکی تفصیل معلوم کیے بغیر کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے۔
     
  5. رفیق طاھر

    رفیق طاھر ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,943
    ۱۔ فوت شدہ کی طرف سے صرف حج کیا جاسکتا ہے عمرہ نہیں !
    ۲۔ البتہ زند کی طرف سے حج اور عمرہ بدل دنوں کیے جاسکتے ہیں
    حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بِمَعْنَاهُ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ عَنْ أَبِي رَزِينٍ قَالَ حَفْصٌ فِي حَدِيثِهِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَامِرٍ أَنْهِ قَال يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَسْتَطِيعُ الْحَجَّ وَلَا الْعُمْرَةَ وَلَا الظَّعْنَ قَالَ احْجُجْ عَنْ أَبِيكَ وَاعْتَمِرْ
    سنن أبی داود کتاب المناسک باب الرجل یحج عن غیرہ ح ۱۸۱۰
     
  6. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,440
    2- کیا ہر زندہ شخص کے لیے حج اور عمرہ کر سکتے ہیں‌ یا صرف ایسا شخص جو ضعیف ہو اور حج و عمرہ کی استطاعت نہ رکھتا ہو ؟
     
  7. رفیق طاھر

    رفیق طاھر ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,943
    حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بِمَعْنَاهُ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ عَنْ أَبِي رَزِينٍ قَالَ حَفْصٌ فِي حَدِيثِهِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَامِرٍ أَنْهِ قَال يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَسْتَطِيعُ الْحَجَّ وَلَا الْعُمْرَةَ وَلَا الظَّعْنَ قَالَ احْجُجْ عَنْ أَبِيكَ وَاعْتَمِرْ
    سنن أبی داود کتاب المناسک باب الرجل یحج عن غیرہ ح
    اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ معذور کی طرف سے حج یا عمرہ بدل کیا جا سکتا ہے
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں