رمضان المبارک کے چند احکام اور مسا‏‏ئل

فاروق نے 'مَجلِسُ طُلابِ العِلمِ' میں ‏جولائی 25, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    [qh]بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ[/qh]
    رمضان المبارک کے چند احکام اور مسا‏‏ئل
    1) روزہ ہر مسلمان مقیم مرد، عورت، بالغ پر فرض ہے۔ {اے ایمان والو! تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گے تھے، تاکہ تم تقوی اختیار کرو}(سورۃ البقرہ :183)اور اللہ کے رسولﷺ نے ارشاد فرمایا اسلام کی بنیاد پانچ ارکان پر ہے"اور روزہ اسلام کا چوتھا رکن ہے۔ (البخاری)
    2) روزے کی فضیلت: اللہ تعالی فرماتا ہے کہ ابن آدم کا ہرعمل اس کے لیے ہے لیکن روزہ میرے لیے ہےاور اس کی جزا میں ہی دوں گا۔ (البخاری)
    3) روزے کی اقسام 1.فرض روزے 2.نفلی روزے 3.نذرکےروزے 4.کفارے کے روزے 5.قضاء روزے
    4) رمضان المبارک کا چاند دیکھ کر روزے شروع کرنے چاہیں۔ اگر چاند نظر نہ آۓ تو شعبان کے تیس (30)دن پورے کرنے چاہیں۔ (مسلم)
    5) اللہ کے رسول ﷺنے شک کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ (مسلم) یعنی کچھ لوگ رمضان شروع ہونے پر یا ختم ہونے پر احتیاط کے طور پر روزہ رکھتے ہیں۔
    6) فرض روزے کی نیت فجر سے پہلے کرنا ضروری ہے۔ (ابوداود)
    7) نفلی روزے کی نیت دن میں زوال سے پہلے کسی بھی وقت کی جاسکتی ہے۔ (مسلم)
    8) نفلی روزہ کسی وقت کسی بھی وجہ سے توڑا جاسکتا ہے۔ (مسلم)
    9) سحری کھانے میں برکت ہے۔ (البخاری)
    10) سحری تاخیر سے کھانی چاہے۔ (مسلم)
    11) افطاری میں جلدی کرنی چاہے۔ (بخاری، مسلم)
    12) روزہ افطار کرنے کے لیے سورج کا غروب ہونا شرط ہے۔ (مسلم)
    13) تازہ کھجور یا خشک کھجور یا پانی سے روزہ افطار کرنا سنت ہے۔ (ابوداود)
    14) روزہ افطار کروانے والے ک ااجر روزہ افطارکرنےوالے کے برابر ہے ۔(ترمذی)
    15) نماز تراویح گزشتہ صغیرہ گناہوں کی بخشش کا ذریعہ ہے۔ (احمد)
    16) تراویح کی نماز سنت کے مطابق گیارہ (11)رکعتیں ہیں۔ (البخاری)
    17) سفر میں روزہ رکھنا اور چھوڑنا دونوں درست ہیں۔ (البخاری، مسلم)
    18) حیض اور نفاس والی عورت مذکورہ حالت میں نہ روزہ رکھے نہ نماز پڑھے، البتہ بعد میں روزے کی قضاء ادا کرنی ہوگی،نماز کی نہیں ۔(البخاری)
    19) دودھ پلانے والی اور حاملہ عورت کو روزہ نہ رکھنے کی رخصت ہے بعد میں صرف قضاء ہے۔ (النسائی)
    20) بڑھاپا یا ایسی بیماری جس کے ختم ہونے کی توقع نہ ہو،کی وجہ سے روزہ رکھنے کے بجائے فدیہ ادا کیا جاسکتاہے ایک روزہ کا فدیہ کسی مسکین کو کھانا کھلانا ہے ۔(حاکم)
    21) فرض روزے کی قضا آئندہ رمضان سے پہلے کسی وقت بھی ادا کی جاسکتی ہے۔
    22) فرض روزوں کی قضاء متفرق طور پر یا لگاتار دونوں طرح جائز ہے۔(الدار قطنی)
    23) مرنے والے کے قضاء روزے اس کے وارث کو رکھنے چاہیں۔ (البخاری)
    24) کسی شخص نے پورا سال قضاء روزے نہ رکھے اور دوسرا رمضان آگیا تو اسے موجودہ رمضان کے روزے رکھنے کے بعد گزشتہ رمضان کی ق‍ضاء کے ساتھ روزانہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا چاہے۔ (دارقطنی)
    25) اگر بادل کی وجہ سے روزہ افطار کرلیا پھر یقین ہو گیا کہ سورج غروب نہیں ہوا تھا تو اس پر قضاء نہیں ہو گئی۔
    26) بھول چوک سے کھا پی لینا روزے کو توڑتا ہے نہ مکروہ کرتا ہے۔ (البخاری)
    27) مسواک کرنے سے روزہ مکروہ نہیں ہوتا۔ (البخاری)
    28) گرمی کی شدت سے روزہ دار سر میں پانی بہا سکتا ہے۔ (ابوداود)
    29) روزے کی حالت میں مذی خارج ہو یا احتلام ہوجائے تو روزہ ٹوٹتا ہے نہ ہی مکروہ ہوتا ہے (البخاری)
    30) سر میں تیل لگانے کنگھی کرنے یا آنکھوں میں سرمہ لگانے اور خوشبو وغیرہ سے نہ ہی روزہ ٹوٹتا ہے نہ ہی مکروہ ہوتا ہے۔ (البخاری)
    31) تھوک نگلنا اور مکھی کے حلق میں جانے سے روزہ مکروہ نہیں ہوتا۔ (البخاری)
    32) روزے دار گرمی کی شدت میں کپڑا پانی میں تر کر کے بدن پر رکھ سکتا ہے(البخاری)
    33) روزے دار ناک، آنکھ، کان میں دوا ڈال سکتا ہے بشرطیہ کے حلق تک نہ جائے۔
    34) حلق کے بجائے گلے کی رگ سے خوراک پیٹ میں جانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
    35) وہ انجکشن جو طاقت والا ہو اس سے بھی روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
    36) اگر کسی پر غسل جنابت کرنا تھا، مگر وہ دیر سے اٹھا تو وہ پہلے نماز کی طرح وضو کرکے سحری کھائے اورپھر غسل جنابت کرلے۔ (مسلم)
    37) اگر اپنے اختیار کے بغیر ناک سے نکسیر یا دانت نکلوانے سےیا زخم سے خون نکلے تو روزہ نہیں ٹوٹتا۔
    38) روزہ دار روزے کی حالت میں بیوی کا بوسہ لے سکتا ہے بشرطیہ کہ جذبات پر قابو رکھ سکے۔ (احمد)
    39) گرمی کی شدت سے روزہ دار غسل یا کلی کر سکتا ہے۔ (ابوداود)
    40) روزے کی حالت میں غیبت، جھوٹ، گالی، لڑائی جھگڑا حرام ہے۔ (البخاری)
    41) روزے کی حالت میں کلی کرتے وقت ناک میں اس طرح پانی ڈالنا جائز نہیں کے حلق تک جانے کا خطرہ ہو۔ (ابوداود)
    42) روزہ کی حالت میں بہودہ فحش اور جہالت کے کام یا گفتگو کرنا منع ہے۔ (ابن خزیمہ)
    43) روزہ کی حالت میں جماع کرنے سے روزہ باطل ہو جاتا ہے اس پر کفارہ بھی ہے اور قضا بھی۔ (البخاری)
    44) روزہ کا کفارہ ایک غلام آزاد کرنا یا دو ماہ کے مسلسل روزے رکھنا یا(60)محتاجوں کو کھانا کھلانا ہے۔ (البخاری)
    45) قصدًا قے کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور قضاء اس پر واجب ہے۔ (حاکم)
    46) خودبخود قے آنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ (ابن حبان)
    47) حیض یا نفاس شروع ہونے سےعورت کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے روزہ کی قضاء ہے نماز کی نہیں۔ (البخاری)
    48)اعتکاف سنت نبوی ہے اور اس کی مدت دس یوم ہے(البخاری)
    49) ہر مسلمان کو کم سے کم ایک مرتبہ قرآن کریم رمضان میں ختم کرنا چاہے۔
    50) اعتکاف کے لیے فجر کی نماز کے بعد اعتکاف کی جگہ بیٹھنا سنت ہے۔ (ابن ماجہ)
    51) اعتکاف کرنے والا بستر اور چارپائی استعمال کرسکتا ہے۔ (ابن ماجہ)
    52) اعتکاف کرنے والے کی بیوی رات کو ملاقات کے لیے آسکتی ہے اور اعتکاف کرنے والا بیوی کو گھر چھوڑنے کے لیے مسجد سے باہر آسکتا ہے۔ (البخاری)
    53) حالت اعتکاف میں بیمارپرسی کے لیے جانا جنازے میں شریک ہونا بشری تقاضوں کے بغیر اعتکاف کی جگہ سے باہر جانا منع ہے۔(ابوداود)
    54) لیلۃ القدر کی میں عبادت گزشتہ گناہوں کی مغفرت کا باعث ہے۔(البخاری)
    55) لیلۃ القدر کی سعادت سے محروم رہنے والا بدنصیب ہے۔(ابن ماجہ)
    56) رمضان میں کثرت سے صدقہ اور قرآن کریم کی تلاوت کرنا چاہے۔(البخاری و مسلم)
    57) لیلۃ القدر کی دعاء[qh]"اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي"۔ [/qh] (ترمزی) ترجمہ"اے اللہ آپ معاف کرنے والے ہیں اور معاف کرنے کو پسند کرتے ہیں مجھے معاف کردیں"
    58) 27رمضان کو لیلۃ القدر تصور کر کے محفلیں منعقد کرنا بدعت ہے اور کچھ لوگ قرآن کریم کی بجائے قوالیاں بڑے شوق سے سنتے ہیں یہ بھی ایک بدعت ہے۔
    59) عیدالفطر اور عید الضحی کے دن کے روزے رکھنا منع ہے۔ (البخاری)
    60) جمعئہ کے دن ہی کو خاص کر کے روزہ رکھنا منع ہے۔ (مسلم)
    61) رمضان شروع ہونے سے پہلے استقبال کے طور پر روزہ رکھنا منع ہے۔(البخاری و مسلم)
    62) مسلسل نفلی روزے رکھنا منع ہے۔ (البخاری)
    63) ایام تشریق یعنی 11، 12، 13 ذئ الحجہ کے روزے رکھنا منع ہے۔ (البخاری)
    64) حاجی کو عرفات میں (یوم عرفہ) کا روزہ رکھنا منع ہے ۔(مسلم)
    65) عورت کا اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ رکھنا منع ہے۔ (البخاری)
    66) صدقہ فطر فرض ہے ہر مسلمان غلام ہو یا آزاد مرد ہو یا عورت چھوٹے بڑے روزہ دار یا غیر روزے دار۔ (البخاری)
    67) صدقہ فطر نماز عید سے قبل ادا کرنا چاہے ورنہ عام صدقات میں شمار ہو گا(ابن ماجہ)
    68) صدقہ فطر کی مقدار ایک صاع ہے جو کہ ڈھائی کلو گرام کے برابر ہے (البخاری)
    69) صدقہ فطر غلہ کی صورت میں دینا نبی علیہ اسلام کا طریقہ ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام اور تابعین کرام کا ۔
    70) صدقہ فطر ادا کرنے کا وقت آخری روزہ افطار کرنے کے بعد شروع ہوتا ہے ۔ لیکن عید سے ایک یا دو دن پہلے ادا کیا جاسکتا ہے۔ صدقہ فطر گھر کے سرپرست کو گھر کے تمام . افراد بیوی بچوں اور ملازموں کی طرف سے ادا کرنا چاہے ۔(البخاری)
    71) عید الفطر کی نماز کے لیے جانے سے پہلے کوئی مٹھی چیز کھانا سنت ہے مثلاً کھجور وغیرہ ۔(البخاری)
    72) نماز عید کے لیے پیدل جانا سنت ہے۔ (ترمذی)
    73) عید گا جانے اورآنے کا راستہ بدلنا سنت ہے۔ (البخاری)
    74) نمازعید کے لیے خواتین کو بھی عید گاہ میں جانا چاہے۔ (البخاری)
    75) عیدین کی نمازمیں بارہ تکبیریں سنت ہے، پہلی رکعت میں سات(7) اور دوسری رکعت میں پانچ(5)ہیں۔ (امام مالک)
    76) نماز عید سے پہلے یا بعد میں عید گاہ میں کوئی نفل نماز نہیں ہے۔ (مسلم)
    77) عید گاہ جاتےہوئے بکثرت تکبیریں پڑھنا سنت ہے ۔(شافعی)
    78) سنت یہ ہے کہ ہر آدمی انفرادی طور پر تکبیریں پکارے۔
    79) ہر سال شوال کے چھ روزے رکھنا کا ثواب عمر بھر روزے رکھنے کے برابر ہے بشرطیہ کہ رمضان کے روزے رکھیں ہوں۔ (مسلم)
    80) شوال کے روزے ایک ساتھ رکھے جایں یا منفرد طور پر دونوں طرح صحیح ہیں۔ اگر کسی کے اوپر رمضان کے روزوں کی قضاء باقی ہے تو وہ پہلے رمضان کے روزوں کی قضاء دے گا پھر شوال کے روزے رکھے گا۔
    81) کچھ لوگ روزہ رکھ کر نماز نہیں پڑھتے جو کہ کفر ہے کیونکہ بغیر شرعی عذر کے نماز چھوڑنا کفر ہے۔ (ترمذی)
    82) کچھ لوگ روزہ رکھ کر نماز جماعت کے ساتھ نہیں پڑھتے ۔ یہ لوگ بھی مجرم ہیں۔ (البخاری)
    83) اور کچھ لوگ بغیر شرعی عذر کے روزے نہیں رکھتے ، ایسے لوگوں کے لیے بھی جہنم کی وعید ہے۔ (ابن خزیمہ)
    84) رمضان المبارک میں عمرہ کرنا جیسے کسی نے رسول الله صلى الله علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا۔ (البخاری، مسلم)
    85) اور آخر میں، میں اپنے تمام مسلمان بھائیوں اور بہنوں سے گزارش کرتا ہوں "جس طرح ہم اللہ کے حکم سے روزے کی حالت میں حلال چیزیں ترک کر دیتے ہیں اسی طرح جن حرام چیزوں سے اللہ اور اس کے رسول صلى الله علىه و سلم نے منع کیا ہے انھیں بھی ترک کرنا ہم مسلمان پر فرض ہے۔ "اور آخری گزارش "کچھ لوگ روزے کی حالت میں گانا، فلمیں، ڈرامے، کرکٹ میچ وغیرہ میں اپنا وقت برباد کرتے ہیں حالانکہ قرآن کی تلاوت میں وقت گزارنا چاہے۔ اے مسلمانوں جس طرح ہمارے پیٹ کا روزہ ہوتا ہے اسی طرح آنکھ، زبان، کان وغیرہ کا بھی روزہ ہونا چاہے۔

    وصلي الله وسلم علي نبينا محمد وآله وصحبه​
    نوٹ:- پروف ریڈنیگ کی ضرورت ہے۔
    اگر اس میں کوئی غلطی ہو تو ضرور مطلع کریں تاکہ اس کو درست کر کے پرنٹ کیا جائے اور بانٹا جائے۔
    اور علماء مجلس سے درخواست ہے کہ اگر ان میں سے کچھ ضعیف یا غلط ہے تو بھی اصلاح فرماکر شکریہ کا موقع عطا فرمائیں
    و جزاک اللہ خیر
     
    Last edited by a moderator: ‏جولائی 26, 2011
  2. عاصم خان

    عاصم خان -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 3, 2010
    پیغامات:
    397
    بہت شکریہ بہت اچہی شیئرنگ ہے۔۔۔۔
     
  3. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,376
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ ۔
    مختصرلیکن جامع انداز میں رمضان کے احکام و مسائل کو جمع کردیا ۔ جزاکم اللہ خیرا وبارک فیکم ۔
     
  4. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,873
    جزاک اللہ خیرا فاروق بھائى
    اللہ ہمیں عمل کى توفیق دے - آمین
     
  5. نعمان نیر کلاچوی

    نعمان نیر کلاچوی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 25, 2011
    پیغامات:
    552
    جزاک اللہ خیرا ایک مفید پوسٹ ہے
    واضح رہے کہ اس میں رمضان المبارک کی کوئی تخصیص نہیں بلکہ ہر ماہ میں کم از کم ایک مرتبہ مکمل قرآن مجید کی تلاوت کرنا لازمی ہے رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے اسکا حکم صادر فرمایا ہے ۔
    [FONT="_PDMS_Saleem_QuranFont"]حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى بْنُ إِسْمَعِيلَ قَالَا أَخْبَرَنَا أَبَانُ عَنْ يَحْيَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ اقْرَأْ الْقُرْآنَ فِي شَهْرٍ قَالَ إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً قَالَ اقْرَأْ فِي عِشْرِينَ قَالَ إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً قَالَ اقْرَأْ فِي خَمْسَ عَشْرَةَ قَالَ إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً قَالَ اقْرَأْ فِي عَشْرٍ قَالَ إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً قَالَ اقْرَأْ فِي سَبْعٍ وَلَا تَزِيدَنَّ عَلَى ذَلِكَ قَالَ أَبُو دَاوُد وَحَدِيثُ مُسْلِمٍ أَتَمُّ
    سنن أبی داود کتاب الصلاۃ باب فی کم یقرأ القرآن ح [/FONT]۱۳۸۸
    حوالہ ملاحظہ فرمائیں
     
  6. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    آپ کا شکریہ کہ یہاں پر بھی آپ نے پوسٹ کر دی
    جزاک اللہ خیر
     
  7. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,638
    جزاکم اللہ خیرا
     
  8. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    روزہ افطار کرنے کی دعاء (ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ وَثَبَتَ الْأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ) ترجمہ “چلی گئی پیاس اور تر ہوگئیں رگیں اور ثابت ہو گیا اجر اگر چاہا اللہ نے(ابو داؤد)
    اس کو بھی اس میں ڈال دیا گیا ہے
     
  9. حراسنبل

    حراسنبل -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏فروری 24, 2011
    پیغامات:
    534

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں