رویت اورجدیدٹیکنالوجی

زبیراحمد نے 'مَجلِسُ طُلابِ العِلمِ' میں ‏اگست 2, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    ایڈجبٹ نے کے مطابق جدیدٹیکنالوجی کے ذریعے سے رمضان کے چاندکامسئلہ حل کرناممکن ہے۔انہوں نے صراحت کی کہ ٹیکنالوجی کے استعمال سے یہ مطلب نہیں کہ چاندکوروایتی اندازسے دیکھنے کومفقودکردیاجائے گابلکہ دونوں راستوں کوان مقاصدکے لیے بیک وقت استعمال کرناممکن ہے۔یہ ہمارے لیے ایک مددہوگی جس سے ہمارے لیے آسان ہوگاچاندکودیکھنااوراگرعلم اس سلسلے میں ہمیں سہولت دے رہاہے توہمیں قباحت محسوس نہیں کرنی چاہیے۔
    انہوں نے مزیدکہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ ملک کے طول و عرض اس کارجدیدمیں حصہ ڈالیں،جناب نے ملک کی انتظامیہ جوکہ چانددیکھنے کی ذمہ دارہے کے متعلق بھی اعتماداوراحترام کااظہارکیاساتھ میں انکے فیصلے پربھی پورے یقین کااظہارکیا۔مزیدبرآں کہ اگرملک کے کسی حصے میں چاندنظرآتاہے تواسکی جدت کے ذریعے سے تصدیق کرکے تاریخ کااعلان کردیاجائے گا۔
    پروفیسرتاج الدین گباداموسی کےمطابق جدیدٹیکنالوجی اس مسئلے پرامہ کومتحدکرسکتی ہے۔گباداموسی نے اس موضوع کے ایک ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ٹیکنالوجی سے ہم امہ کودرپیش عیدین کے چاندپربھی اختلافات کوختم کرسکتے ہیں۔
    لے گوس کے گورنرباباٹنڈافشولاDirector Monitoring Ministry of Local Governmentکی مذکورہ تقریب میں موجودتھے جنہوں نے اس طریقے کوسراہااوراسلام کی خدمت سے تعبیرکیا۔جسکی تائیدتقریب میں موجوددوسرے مندوبین نے بھی کی جیسے کہ استادسموال جبرائیل،شیخ عبدالرزاق اشولا،شیخ مجولیگبی منصور،الحاج سائومحی الدین،پرنس انی کوئی کے ٹی اورالحج ایم اے۔
    (نائیجیریا)
    واشنگٹن پوسٹ کے اتوارکے ایڈیشن میں بھی مصرکی حکومت سے بھی ایسے ہی اقدام کی خبرنشرہوئی کہ وہ بھی 1400 سال سے چلے آرہے اس تہوارکے رویت کے مسئلے کوجدیدٹیکنالوجی سے حل کریں گے۔عبدالمنیم البیری کے مطابق کہ اس مہینے کوجوبرکتوں اوررحمتوں کا ہے کوہم رویت کے مسئلے کوختم کرسکتے ہیں خودجناب فلکیات دان ہیں۔اس ٹیکنالوجی کی مددسے چاندکوٹھیک ٹھیک دیکھاجاسکتاہے بناکسی شک وشبہ کے۔57 اقوامی کانفرنس نے تجویزدی ہے کہ ایک ایساسیٹیلائٹ خلامیں چھوڑاجائے جورمضان کے چاندکے لیے ہو۔
    اس ضمن میں ایران نے بھی پہلے سے اعلان کررکھاہے کہ وہ رویت کامسئلہ جدیدٹیکنالوجی کے
    ذریعے سے حل کریگا۔اس ٹیکنالوجی میں مہارت کے حوالے سے بھی وہ کام کررہاہے ہرملک علاقائی سطح پراس ضمن میں ایک دوسرے کی مددکرسکتے ہیں ضرورت صحیح نیت کی ہے۔
    اگرٹیکنالوجی کے ذریعے اس مسئلے کاحل نکل سکتاہے توعلماکرام کواسپراجماع کرناچاہیے۔ٹیکنالوجی کے ذریعے سے انسانیت اورمذہب کی خدمت توخداکے قرب کاذریعہ ہے جیسے ذوالقرنین کاقرآن میں ذکرہے اسکی ٹیکنالوجی کے ذریعے عوامی خدمت کا۔بہرحال سیٹیلائٹ
    ٹیکنالوجی کے ذریعے اس دیرینہ مسئلہ کے حل کاراستہ نظرآرہاہے بس مخالفت برائے مخالفت کی سبیل چھوڑنی ہوگی۔
     
  2. مون لائیٹ آفریدی

    مون لائیٹ آفریدی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 22, 2007
    پیغامات:
    4,808
    پھر اس میں ایک سوال پیداہوتا ہے کہ اگر کوئی سیٹلائیٹ میں جاکر چاند پر پہلے سے بیٹھ جائے تو وہ کس دن روزہ رکھے گا ۔۔۔۔۔ ؟
     
  3. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    ایک عالم سے کسی نے سوال پوچھاکہ حضرت یہ بتائیں کہ جب انسان چاندپرگھربنالیگاتووہ قبلہ کی سمت کاتعین کس طرح کریگاتوجواب دیاگیاکہ جب وہ مرحلہ آئے گاتوانشااللہ اسے بھی حل کردیاجائے گا۔اسی قسم کاایک سوال کہ جی اگرکبھی سورج نکلے ہی نہ توظہرکی نمازکیسے اداکی جائے گی وغیرہ وغیرہ خیرسوال کاتعلق موضوع سے نہیں لیکن پھربھی آپ یہ دیکھیں کہ اگرنیت درست ہوتوہرمسئلے کاحل ممکن ہے۔لوگ مختلف ممالک میں جاتے ہیں جہاں کاوقت الگ ہوتاہے تووہ روزے کے سلسلے میں اس سے کس طرح نمٹتے ہیں جبکہ وقت کافرق ہے توجس طرح اسکاحل نکالاگیاویسے انشااللہ اسکاحل بھی نکل آئے گا۔پریشانی کی بات نہیں ہے،قرآن میں ہے کہ اللہ کادست جماعت کے سرپرہے تواسپربھی انشااللہ اجماع ہوگاہرمسئلے کاحل ہے اورامت نے توجمہورکی طرف ہی رجوع کرناہے۔
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں