اجماع

salfi_8 نے 'مَجلِسُ طُلابِ العِلمِ' میں ‏اگست 23, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. salfi_8

    salfi_8 -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 9, 2009
    پیغامات:
    150
    اکثر همارے دوست احناف يه کهتے پھرتے هيں که اهلحديث حضرات اجماع کے منکر هيں . ميں يهاں امام شوکانی رحمة الله کی فقه کی معروف کتاب الدررالبھيه کی اردو مترجم کتاب فقه الحديث تحقيق و افادات علامه ناصر الدين البانی رحمه الله ترجمه حافظ عمران ايوب لاهوری سے نکل کرها هو تاکه همارے وه بھائی جو نبيٹ کی دنيا پر دعوت و تبليغ کا کام کررهے هيں بخصوص فيس بک پر ان کو کچھ مواد مهيا کر سکو .

    بات شروع کرنے سے قبل ميں يهاں چند باتوں کی وضاحت بيان کرنا ضروری سمجھتا هوں.


    همارے اهلحديث کے يهاں فقه کے مآخذ ٹوٹل 11 هيں ، جن کے اساسی

    ماخذ دو هيں (1) قرآن (2) سنت

    باقی ذيلی 9 ماخذ هيں

    (1) اجماع

    (2) اقوال صحابه

    (3) قياس شرعی

    (4) استحسان

    (5) استصحاب

    (6) مصالح مرسله

    (7) سد ذرائع

    (8) عرف

    (9) پهلی شريعت کے احکام

    اجماع

    قرآن و سنت کے بعد فقه کے ذيلی مآخذ سے پهلا ماخذ هم اهلحديثوں کے يهاں اجماع کا آتا هے . اور جمهور علماء کے نزديک يه ماخذ ديگر مآخذ سے قوت و حجيت ميں زياده قوی هے .

    اجماع کی تعريف "

    لغوی اعتبار سے تو اجماع "عزم " پخته اراده اور کسی بات پر متفق هونے کو کهتے هيں جيسا که حديث ميں هے " لا صيام لمن لم يجمع الصيام قبل الفجر " ترجمه . اس شخص کا روزه نهيں هوکا جو فجر سے پهلے هی روزه رکھنے کی نيت نه کرلے .

    اجماع کی دليل قرآن سے " (فاجمعو امرکم و شرکاء کم ) سوره يونس آيت 71. ترجم " تم اپنے معامله اپنے شرکاء سے مل کر پخته طور پر طے کرلو.

    اصطلاحی اعتبار سے اجماع کی تعريف يه کی جاتی هے ( هو اتفاق المجتهد ين فی عصر من العصور علی حکم شرعی بعد وفاة النبی ۖ بدليل)
    ترجم " اجماع سے مراد نبی ۖ کی وفات کے بعد کسی خاص دور ميں تمام مجتهدين کا کسی دليل کے ساته کسی شرعی حکم پر متفق هوجانا هے .

    اجماع کی شرائط

    (1) اجماع کی شرائط ميں مطلوبه مسلئه پر هونے والے افراد مجتهد هوں ناکه مقلد ورنه اجماع معتبر نه هوگا .

    (2) مجتهدين کے اتفاق سے مراد تمام مجتهدين کا اتفاق هے . ايسا نهيں هونا چاهئے که صرف ايک شهر والے يا ايک بستی کے علماء هی کسی مسئله پر جمع هوں کيونکه ايک کی مخالفت بهی اجماع کے منعقد هونے ميں رکاوٹ هے .

    (3) تمام مجتهد مسلمان هو

    (4) جب کسی مسئلے پر تمام مجتهد هوجائيں تو پهر ضروری هے که اتفاقی فيصله عمل ميں آجائے . اس کے علاوه ازيں يه شرط نهيں هے که تمام مجتهدين کی موت بهی اس لتفاق پر هی هو_

    (5) اجماع کے لئے ضروری هے که کسی شرعی حکم پر اتفاق هو .

    (6) صرف وهی اجماع قابل قبول هوگا جو نبی ۖ کے وفات کے بعد هوا هو.

    (7) اجماع کے لئے کسی شرعی دليل کا هونا بهی ضروری هے جس پر سب متفق هوئے هوں محض اپنی خواهشات پر کيا جانے والا اجماع معتبر نهيں هوگا ..

    جاری هے ان شاء الله

    اکر کسی بھائی کے پاس اس کے علاوه بهی کوئی مواد هو تو مهربانی کے اسے بھی يهی پوسٹ کردے جزاک الله
     
    Last edited by a moderator: ‏اگست 23, 2011
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. آزاد

    آزاد ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 21, 2007
    پیغامات:
    4,564
    جزاک اللہ
     
  3. آزاد

    آزاد ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 21, 2007
    پیغامات:
    4,564
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    شیخ زبیر علی زئی حفظہ اللہ نے اپنے اس فتویٰ میں اجماع کا دعویٰ کیا ہے۔ لیکن کوئی شرعی دلیل انہوں نے پیش نہیں کی۔ تو کیا یہ اجماع کا دعویٰ باطل ہے۔ کیونکہ اس میں شرط نمبر 7 نہیں پائی گئی۔
     

    منسلک فائلیں:

    • 0229.jpg
      0229.jpg
      فائل کا حجم:
      69.7 KB
      مشاہدات:
      2
    • 0230.jpg
      0230.jpg
      فائل کا حجم:
      60.2 KB
      مشاہدات:
      1
  4. رفیق طاھر

    رفیق طاھر ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,943
    اس پر دلیل کتاب اللہ کی آیت ہے :
    " وقوموا للہ قانتین "
    قانتین کا معنى ہے صامتین
    اس معنى پر دلیل اسی آیت کے شان نزول میں صحابہ کرام کا قول : فأمرنا بالسکوت ونہینا عن الکلام
    اور قہقہہ کلام ہے !
    کیونکہ یہ مسموع بھی ہے اور ما فی الضمیر یعنی خوشی کو ظاہر بھی کرتا ہے ۔ اور اسکے الفاظ بھی ہوتے ہیں ۔
    یاد رہے کہ شیخ زبیر حفظہ اللہ نے یہ اجماع ابن منذر کے نقل کرنے کی وجہ سے بیان کیا ہے ۔
    جبکہ حقیقتا اس بات پر اجماع نہیں ہے
    کیونکہ احناف کے نزدیک فساد اور بطلان میں فرق ہے
    جبکہ جمہور کے نزدیک فساد کا معنى بطلان ہی ہے
    احناف نے بھی قہقہہ کو مفسد صلاۃ کہا ہے
    اور باقیوں نے بھی
    یعنی باقیوں کے نزدیک قہقہہ سے نماز باطل ہوتی ہے لیکن احناف کے نزدیک نہیں !
    خوب سمجھ لیں ۔
     
  5. آزاد

    آزاد ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 21, 2007
    پیغامات:
    4,564
    یعنی اس کو اجماع کی مثال کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا!
    کیا میں‌ صحیح سمجھا ہوں؟؟؟
     
  6. رفیق طاھر

    رفیق طاھر ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,943
    ۱۔ نہیں
    ۲۔ جی ہاں
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں