لقب اهل الحديث و سلفى قرآن مجيد سے

salfi_8 نے 'مَجلِسُ طُلابِ العِلمِ' میں ‏اگست 26, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. salfi_8

    salfi_8 -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 9, 2009
    پیغامات:
    150
    السلام غليکم ورحمة الله و برکاته

    همارے مقلدين حضرات هم اهللحديث سے يه مطالبه کرتے پهرتے هيں که لقب اهللحديث اور سلفى تم هميں قرآن سے ثابت کرکے ديکهاؤ.کيونکه لفظ حديث کا اطلاق اتو بعد ميں هوا هے لهذا تم هميں قرآن سے ثابت کرو. حالانکه الحمدالله همارے علماء اهللحديث کئى بار ان کو دليل دے چکے هيں مگر مقلد کى تو مت مارى گئى هے ؟
    مقلدينوں کے مفلد يه سوال بار بار فيس بک کى دنيا پر کتے هيں تو ان اهللحديث بهائيوں کے لئے ميں يهاں دليل پيش کرها هو جسے وه بغير مشقت کے وهاں کاپى پيسٹ کرسکتے هيں.

    تو هم ان ان کى خدمت ميں جند دلائل قرآن سے پيش خدمت کرتے هيں .



    لفظ سلف قرآن مجيدسے

    الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ۚ ذَ‌ٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنّ...َمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا ۗ وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا ۚ فَمَن جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِّن رَّبِّهِ فَانتَهَىٰ فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ ۖ وَمَنْ عَادَ فَأُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ( سورة البقرة آيت 275)

    وَلَا تَنكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُم مِّنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ۚ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَمَقْتًا وَسَاءَ سَبِيلًا ( سورة النساء آيت 22)

    ) حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُم مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ وَرَبَائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُم مِّن نِّسَائِكُمُ اللَّاتِي دَخَلْتُم بِهِنَّ فَإِن لَّمْ تَكُونُوا دَخَلْتُم بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ وَأَن تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا ( سورة النساء آيه 23)

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنتُمْ حُرُمٌ ۚ وَمَن قَتَلَهُ مِنكُم مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ يَحْكُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنكُمْ هَدْيًا بَالِغَ الْكَعْبَةِ أَوْ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسَاكِينَ أَوْ عَدْلُ ذَ‌ٰلِكَ صِيَامًا لِّيَذُوقَ وَبَالَ أَمْرِهِ ۗ عَفَا اللَّهُ عَمَّا سَلَفَ ۚ وَمَنْ عَادَ فَيَنتَقِمُ اللَّهُ مِنْهُ ۗ وَاللَّهُ عَزِيزٌ ذُو انتِقَامٍ ( سورة الأنفال آيت 33)

    فَجَعَلْنَاهُمْ سَلَفًا وَمَثَلًا لِّلْآخِرِينَ ( سورة الزخرف 56)

    كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِي الْأَيَّامِ الْخَالِيَةِ ( سورة الحاقه آيت 24)

    لجئے لفظ حديث قرآن سے

    يَوْمَئِذٍ يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَعَصَوُا الرَّسُولَ لَوْ تُسَوَّىٰ بِهِمُ الْأَرْضُ وَلَا يَكْتُمُونَ اللَّهَ حَدِيثًا (سورة النساء آيت 42)

    أَيْنَمَا تَكُونُوا يُدْرِككُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنتُمْ فِي بُرُوجٍ مُّشَيَّدَةٍ ۗ وَإِن تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا هَـٰذِهِ مِنْ عِندِ اللَّهِ ۖ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَقُولُوا هَـٰذِهِ مِنْ عِندِكَ ۚ قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِندِ اللَّهِ ۖ فَمَالِ هَـٰؤُلَاءِ الْقَوْمِ لَا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ حَدِيثًا ( سورة النساء 78)

    اللَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۚ لَيَجْمَعَنَّكُمْ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا رَيْبَ فِيهِ ۗ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ حَدِيثًا ( سورة النساء 87)

    وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ آيَاتِ اللَّهِ يُكْفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّىٰ يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ ۚ إِنَّكُمْ إِذًا مِّثْلُهُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ جَامِعُ الْمُنَافِقِينَ وَالْكَافِرِينَ فِي جَهَنَّمَ جَمِيعًا ( النساء 140 )

    وَإِذَا رَأَيْتَ الَّذِينَ يَخُوضُونَ فِي آيَاتِنَا فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتَّىٰ يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ ۚ وَإِمَّا يُنسِيَنَّكَ الشَّيْطَانُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرَىٰ مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ( سورة الأنعام 68)

    أَوَلَمْ يَنظُرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا خَلَقَ اللَّهُ مِن شَيْءٍ وَأَنْ عَسَىٰ أَن يَكُونَ قَدِ اقْتَرَبَ أَجَلُهُمْ ۖ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ( سورة الأعراف 185)

    لَقَدْ كَانَ فِي قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ ۗ مَا كَانَ حَدِيثًا يُفْتَرَىٰ وَلَـٰكِن تَصْدِيقَ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ ( سورة يوسف 111)

    فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلَىٰ آثَارِهِمْ إِن لَّمْ يُؤْمِنُوا بِهَـٰذَا الْحَدِيثِ أَسَفًا ( سورة کهف 6)

    وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ مُوسَىٰ ( سوره طه 9 )

    وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًا ۚ أُولَـٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ ( سورة لقمان آيت 6 )
     
  2. محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض نوآموز.

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    3,702
    جزاک اللہ خیرا بھائی
    اللہ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے آمین
     
  3. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    کیا الفاظ کے استعمال سے لقب ثابت ہو جاتا ہے؟ اگر ایسا ہے تو ایک گروہ کی جانب سے کئے گئے درج ذیل دعوے کا جواب کیا ہوگا؟

     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  4. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,638
    جناب salfi_8 بھائی، یہ آپ نے قرآن کی آیات کا مفہوم پڑھا بھی ہے، یا بغیر پڑھے الفاظ کو ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟؟؟؟
    ان آیا ت کا مفہوم بالکل مختلف ہے،، اور جو بات آپ کر رہے ہیں ، وہ بالکل مختلف۔
    قرآن کی آیات سے الفاظ ایسے ثابت کرنے سے پہلے ان کا مفہوم اور ترجمہ پڑھ لیا کریں۔ یہ قرآن کا معاملہ ہے، کوئی عام کتاب نہیں ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. نعمان نیر کلاچوی

    نعمان نیر کلاچوی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 25, 2011
    پیغامات:
    552
    محترم سلفی بھائی جان۔۔۔۔آدابِ ادب ملحوظِ خاطر۔۔۔۔محترم بھائی مقلدین حضرات سے ہر معاملے میں مناقشہ کرنے کی ضرورت نہیں اس رویہ سے مبادا ہم متعصب نہ کہلائے جائیں۔۔۔آپ بھی جانتے ہیں کہ تقلید کیا ہے اور مقلد کون ہوتا ہے ہمارے شیخ امام ذہبی رحمہ اللہ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ ’’ تقلید کوئی علم نہیں اور نہ ہی مقلد اہلِ علم میں شمار ہوگا‘‘
    شیخ کے ان فیصلہ کن جوامع الکلم الفاظ نے مقلدین کا اصل چہرہ بے نقاب کردیا ہے بھلا ایسا شخص جو اول تا آخر دوسروں ہی کے عقل پر شیخیاں بکھیرے اس کو کیا حق حاصل ہے کہ وہ ہم سے دلائل مانگتا پھرے؟؟؟؟
    بہر حال یہ تو محترم بھائی ایک تنبیہ تھی اور امید ہے کہ آپ راقم کی تنقید برائے اصلاح کو تہہ دل سے قبول فرمائیں گے۔۔۔
    محترم بھائی اس طرح کے غیر ضروری بودے استدلال اگر ہم نے کتاب اللہ سے دینے شروع کردیئے جیسا کہ روافض کا وتیرہ خاص ہے تو مبادا ہم کسی کی بے جا تنقید اور عتاب کا موجب ٹھہریں گے۔۔۔۔لہٰذا اس سے صرفِ نظر ہی کرلیا کریں تو بہتر رہے گا
    اہلِ حدیث مسلک روز روشن کی طرح صریح اور روشن ہے الحمد للہ۔۔۔۔اسکی راتیں بھی دن کی طرح روشن ہیں۔۔۔اب کوئی مرضِ تقلید میں گرفتار شد بدھ علم کا حامل ہم سے دلیلیں مانگتا پھرے تو اس کی زبان بند کرنے کیلئے محض اتناکہہ دینا ہی کافی ہے کہ ’’بھائی خود تو اندھیرے میں پڑے ہو اور ہم سے کہتے ہو کہ تمہاری روشنی کہاں ہے‘‘

     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    پیارے بھائی سلفی
    مجھے مزید کہنے کی ضرورت نہیں یہاں‌پر نعمان بھائی ، جاسم بھائی اور رفی بھائی نے خوبصورت انداز میں سمجھایا ہے۔
    یہاں‌پر قرآن کی کچھ آیات جو آپ نے کوٹ کی ہیں ان میں حدیث کا مطلب وہ نہیں جو آپ سمجھ رہےہیں ۔
    قرآن میں تو ابراہیم علیہ السلام کیلئے حنیفا کا لفظ بھی استعمال کیا گیا ہے تو کیا یہ کہاجائے گا کہ ابراہیم علیہ السلام حنفی تھے۔ ظاہر ہے نہیں۔
    بہرحال قرآن کی صحیح تفسیر پیش کرنے کی ضرورت ہے کیوں‌کہ گمراہ فرقے جن میں‌روافض اور قادیانی سرفہرست ہیں ان لوگوں‌نے بھی قرآن کے معنی کو بگاڑنے کی کوشش کی ہے۔
    امید ہے آپ ناراض نہیں ہوں گے اور آئندہ احتیاط کریں گے۔
    یہاں پر یہ بات صرف آپ کیلئے نہیں بلکہ سب بھائیوں‌کیلئے ہے ۔
    بارک اللہ فیک
     
  7. ابو عبداللہ صغیر

    ابو عبداللہ صغیر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مئی 25, 2008
    پیغامات:
    1,980
    اے ایمان والو! اللہ کے لیے انصاف کی گواہی دینے کے لیے کھڑے ہو جایا کرو۔ اور لوگوں کی دشمنی تم کو اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ انصاف چھوڑ دو۔ انصاف کیا کرو کہ یہی پرہیزگاری کی بات ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ کچھ شک نہیں کہ اللہ تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے۔
    سورۃ المائدہ آیت نمبر8
     
  8. salfi_8

    salfi_8 -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 9, 2009
    پیغامات:
    150
    السلام و عليکم ورحمة الله و برکاته

    جناب محمد رفی صاحب

    لفظ شيعه ميں بذات خود فساد نهيں ، ليکن جب اس لفظ کا اطلاق کسی ايسی جماعت کی طرف منسوب هو جن کے عقائد دين اسلام سے خارج تو تو ان عقائد کے بنا پر هم اس کو باطل يه مزم کهے گے ..

    مسئال کے تو پھر شيعان علی اس جماعت کو کها گيا جنونے حضرت علی رضی الله تعالی عنه کا ساتھ ديا خوارج گے مقابله ميں اور جس ميں بڑے بڑے جليل القدر صحابه کرام رضی الله تعالی عنهم اجمعين بهی شامل تهے . يه بات الگ هے که آکے چل کر بعض منافقين پرور لوگوں نے اس ميں غلو سے کام ليا اور رافضی کهلائے .
    ( تاريخ تفسير و مفسرين ) ( اسلام ميں بدعت و ضلالت کے محرکات) ( تاريخ ابن کثير)
    يهاں پر آپ نے خود اس بات کی وضاحت کردی هے ،
     
    Last edited by a moderator: ‏اگست 27, 2011
  9. salfi_8

    salfi_8 -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 9, 2009
    پیغامات:
    150
    محترم دوست تو پهر اس کا مطلب يه هے که هميں تو لفظ حديث هی استعمال نهيں کرنا چاهئے !

    اور دوسری بات يه کے حديث بعمنی " کلام الله " " احکام الله " اللَّهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابًا مُّتَشَابِهًا " ميں بهی مستعمل هوئے هيں .

    محترم بهائيوں ميں نے لفظ حديث با معنی " کلام " کے دليل پر بيان کيا هے .

    همارے جاسم منير بهائی نے يه بات کوڈ کی که لفظ حديث بمعنی " وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ " ترجمه اور کچھ لوگ ايسے بهی هيں جو بيهودا باتيں خريدتے هيں
    تو کيا ميں اس سے يه سمجھو کے باتيں بهی فروخت کی جاتی هيں ؟ اب اس ميں تفصيل ميں نه جائيے گا . مجهے ظاهری مفهوم پر هی ره کرهی اس کی وضاحت کردے ..

    ميرے محترم ميں نے يه جو دليليں دی تهی صرف ظاهری مفهوم کے اعبتار سے نهين دی تهی .. اس ميں کچھ تفصيل طلب بهی هيں .. جو که قلت وقت کی وجه سے ميں نه کرسکا ... لهذا اکر هوسکے تو آپ هی کرديں .

    پهر انشاء الله ميں آپ کو اس پر ايک مدلل اور مفصل تحرير لکھ دونگا .

    يهاں ميں ايک ات کهنا چاهوں نگا

    قرآن مجيد ميں سوره النساء آيت 122، ميں الله رب العزت فرماتا هے .. لکن الله يشهد بما انزل اليک " ترجمه مگر الله اس چيز کی شهادت ديتا هے جو اس نے تيری طرف نازل کيا هے ..

    الله معاف کريں ، اب اس آيت کو بظاهر مان کر کيا هم يه عقيده اخذ کرے کے معاذ الله کوئی اور بهی ايسی طاقت هے يا جج هے جس کے سامنے الله شهادت دے رهے هيں ؟
     
    Last edited by a moderator: ‏اگست 27, 2011
  10. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,638
    سلفی بھائی، مقصد بحث برائے بحث نہیں ہے۔ ماشاءاللہ آپ سمجھدار ہیں ، اور نعمان بھائی نے ، رفی بھائی، اعجاز بھائی نے بہت ہی خوبصورت انداز سے بات سمجھا دی ہے۔
    بہرحال الفاط کو ثابت کرنے لیے قرآن کی آیات کو اگر ہم یوں استعمال کرنے میں لگ گئے تو قرآن و سنت کی اصل دعوت لوگوں تک نہیں پہنچے گی۔ یہی میرا نقطہ نظر ہے۔
    بھائی میرا جواب وہی ہے جو باقی بھائیوں نے دے دیا۔
    بھائی اس کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔ ہمارا فرض لوگوں تک قرآن و سنت کی صحیح دعوت پہنچانا ہے۔ سمجھنا نا سمجھنا ان کی مرضی پر ہے۔ الفاظ کو ثابت کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔
     
  11. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    محترم بھائی سلفی نمبر 8
    یہاں پر کوئی آپ کو یہ القاب استعمال کرنے سے روک نہیں رہا، بلکہ یہ کہہ رہے ہیں کہ آپ نے قرآنی آیات کا حوالہ دیا ہے ان میں سلف اور حدیث کے الفاظ آئے ہیں نہ کہ القاب، اور آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ لفظ کا اطلاق اچھے اور برے دونوں کے لئے ہے، تو بھائی اس بودی کوشش کو کیا کہیں ہم سوائے اس کے کہ قرآن میں تو نہ صرف سلف، حدیث، شیعہ اور حنیف بلکہ شراب، زنا اور شرک کے الفاظ بھی ہیں مگر ان پر عمل کرنا یا وہ نام رکھنا تو ثابت نہیں ہوتا۔

     
  12. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,638
    جزاک اللہ خیرا رفی بھائی۔
    آپ نے بالکل ٹھیک کہا۔
     
  13. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,021
    بھائیوں نے جو تعاقب کیا ہے وہ بالکل بجا ہے اور اس پر مزید کچھ اضافہ کی ضرورت نہیں ہے ۔

    البتہ ایک بنیادی بھول کی طرف توجہ دلانا مناسب ہے وہ یہ کہ بعض شاطر ذہن رکھنے والوں‌ نے یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ جو نام قران وحدیث میں نہیں ہے وہ غلط ہے اور ان کے اس فریب میں‌ آگر بہت سارے بھولے بھالے لوگ قران وحدیث میں بتکلف ان ناموں کی تلاش میں لگ جاتے ہیں ۔
    حالانکہ کسی نام کے صحیح‌ یا غلط ہونے کا یہ معیار ہی مردود ہے کہ اس نام کا بعینہ ذکر قران وحدیث میں‌ ہو۔
    بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح کسی بھی فرد کے نام کے صحیح‌ ہونے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ وہ قران وحدیث میں‌ انہیں حروف کے ساتھ موجود ہو بلکہ ضروری یہ ہے کہ وہ اسلام کی تعلیمات کے مخالف نہ ہو۔
    ٹھیک اسی طرح جماعتی ناموں کا بھی مسئلہ ہے کہ یعنی جماعتی ناموں کے صحیح‌ ہونے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ وہ قران وحدیث میں‌ انہیں حروف کے ساتھ موجود ہو بلکہ ضروری یہ ہے کہ وہ اسلام کی تعلیمات کے مخالف نہ ہو۔

    مزید تفصیل کے لئے درج ذیل مضمون کا مطالعہ مفید ہوگا۔

    جماعتی نام اہل حدیث ، قران وحدیث کی روشنی میں۔


    درج ذیل مضمون کا مطالعہ بھی مفید ہو گا ان شاء اللہ ۔

    اہل حدیث کا وجود کب سے ہے ؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  14. ابن قاسم

    ابن قاسم محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2011
    پیغامات:
    1,719
    کافی معلومات ہویں، آپ تمام کی گفتگو سے۔،
    جزاک اللہ خیرا شیخ۔ بہت اچھی لنک دی آپنے
     
  15. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    جزاكم اللہ خيرا وبارك فيكم ۔
     
  16. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,376
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ ۔
    جزاکم اللہ خیرا ۔کفایت اللہ بھائی و نعمان بھائی
    سلفی 8 بھائی ۔ مقلدین کی ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں‌ہوتا ۔ نہ ہی آپ اس کے پابند ہیں‌۔ اس لیے ایسے سوالوں کے جواب دینے کی بجائے اصولوں پر گفتگو کیا کریں‌۔ اس سے ان شاء اللہ فائدہ ہو گا ۔
     
  17. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    جزاک اللہ خیرا شیخ محترم!

     
  18. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,638
    جزاک اللہ خیرا کفایت بھائی۔
     
  19. حراسنبل

    حراسنبل -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏فروری 24, 2011
    پیغامات:
    534
  20. راہگیر

    راہگیر -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏اگست 5, 2011
    پیغامات:
    158
    جزاکم اللہ خیراً
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں