گمراہ فرقوں کا مختصر تعارف - شیخ صالح الفوزان

ابوبکرالسلفی نے 'متفرقات' میں ‏ستمبر 8, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    [FONT="Al_Mushaf"]لمحة عن الفرق الضالة

    گمراہ فرقوں کا مختصر تعارف


    فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

    ترجمہ
    طارق علی بروہی

    فرقوں اور ان کے مذہب کے بارے میں بات کرنے کی غرض وغایت
    [FONT="Al_Mushaf"]الحمدللہ رب العالمین، وصلی اللہ وسلم علی نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ اجمعین۔
    [/FONT]اما بعد: فرقوں کے بارے میں بیان کرنا محض تاریخ نویسی نہیں کہ جس کا مقصد فرقوں کے بارے میں صرف معلومات حاصل کرنا ہو۔جیسا کہ تاریخی واقعات کے بارے میں پڑھا جاتا ہے۔ بلکہ فرقوں کے بارےمیں جاننا اس سے بڑھ کر اہمیت اور اس سے اعلی مقصد کا حامل ہےاور وہ یہ کہ ان فرقوں کے شر اور ان کی بدعات سے بچا جائے اور فرقہ اہل سنت والجماعت کو لازم پکڑنے پر ابھارا جائے۔
    مخالف وگمران فرقوں کو بدعات وگمراہیوں کو ترک کرنا محض ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنے سے حاصل نہیں ہوسکتا بلکہ یہ تو ان کے بارے میں جاننے اور فرقۂناجیہ (نجات پانے والے فرقے) کے بارے میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد ہی ممکن ہے۔
    یہ جانا جائے کہ اہل سنت والجماعت کہ جن کے ساتھ ہونا ہر مسلمان پر واجب ہے کون ہیں ان کے کیا اوصاف ہیں؟ اور ان کے مخالف فرقے کونسے ہیں؟
    ان کے کیا مذاہب اور کیا شبہات ہیں ؟ تاکہ ان سے خبردار رہ کر بچا جاسکے۔
    کیونکہ "من لا یعرف الشر یوشک ان یقع فیہ" (جو شر کو نہیں جانتا قریب ہے کہ وہ اس میں مبتلا ہوجائے)۔ جیسا کہ سیدنا حذیفہ بن یمان t فرماتے ہیں: ‘‘ [FONT="Al_Mushaf"]كَانَ النَّاسُ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ عَنِ الْخَيْرِ، وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ مَخَافَةَ أَنْ يُدْرِكَنِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا فِي جَاهِلِيَّةٍ، وَشَرٍّ فَجَاءَنَا اللَّهُ بِهَذَا الْخَيْرِ فَهَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ؟، قَالَ: نَعَمْ، فَقُلْتُ: هَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الشَّرِّ مِنْ خَيْرٍ؟، قَالَ: نَعَمْ وَفِيهِ دَخَنٌ، قُلْتُ: وَمَا دَخَنُهُ؟، قَالَ: قَوْمٌ يَسْتَنُّونَ بِغَيْرِ سُنَّتِي، وَيَهْدُونَ بِغَيْرِ هَدْيِي تَعْرِفُ مِنْهُمْ وَتُنْكِرُ، فَقُلْتُ: هَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ؟، قَالَ: نَعَمْ دُعَاةٌ عَلَى أَبْوَابِ جَهَنَّمَ مَنْ أَجَابَهُمْ إِلَيْهَا قَذَفُوهُ فِيهَا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، صِفْهُمْ لَنَا، قَالَ: نَعَمْ، قَوْمٌ مِنْ جِلْدَتِنَا وَيَتَكَلَّمُونَ بِأَلْسِنَتِنَا، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا تَرَى إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ؟، قَالَ: تَلْزَمُ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَإِمَامَهُمْ، فَقُلْتُ: فَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهُمْ جَمَاعَةٌ وَلَا إِمَامٌ؟، قَالَ: فَاعْتَزِلْ تِلْكَ الْفِرَقَ كُلَّهَا، وَلَوْ أَنْ تَعَضَّ عَلَى أَصْلِ شَجَرَةٍ حَتَّى يُدْرِكَكَ الْمَوْتُ وَأَنْتَ عَلَى ذَلِكَ[/FONT]’’[1](لوگ رسول اللہ ﷺ سے خیر کے متعلق پوچھا کرتے تھے جبکہ میں آپ ﷺ سے شر کے متعلق پوچھا کرتا تھا اس خوف سے کہ کہیں میں ان میں مبتلا نہ ہوجاؤ۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ہم جاہلیت اور شر میں زندگی بسر کررہے تھے تو اللہ تعالی اس خیر (اسلام) کو لے لیا، پس کیا اس خیر کے بعد بھی شر ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں۔ میں نے پھر عرض کی: کیا پھر اس شر کے بعد دوبارہ سے خیر ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، اور اس میں دخن (دھواں) ہوگا (جس میں چیزیں واضح نظر نہیں آتیں)۔ میں نے کہا: اس کا دخن کیا ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: میری سنت کے خلاف سنت اپنائیں گے اور میرے طریقے کے خلاف طریقے اپنائیں گے، کچھ باتوں کو تم معروف پاؤ گے اور کچھ کو منکر۔میں نے پھر دریافت کیا کہ: کیا اس خیر کے بعد پھر شر ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، جہنم کے دروازوں کے طرف بلانے والے داعیان ہوں گے، جو بھی ان کی دعوت پر لبیک کہے گا وہ اسے جہنم رسید کروادیں گے۔ میں نے کہا: یارسول اللہ ﷺ ہمارے لیے ان کے اوصاف بیان کریں۔ فرمایا: ہاں، وہ ہماری ہی نسل سے، ہماری ہی بولی بولنے والے لوگ ہوں گے۔ میں نے کہا: یارسول اللہ ﷺ اگر میں انہیں پالوں تو مجھے آپ ﷺ کیا کرنے کا حکم دیتے ہیں؟ فرمایا: مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کو لازم پکڑنا۔ میں نے کہا: اگر ان کی نہ جماعت ہواور نہ ہی کوئی امام؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: تو پھر ان تمام فرقوں کو چھوڑ دینا اگرچہ تجھے درختوں کی جڑیں چبا کر ہی گزارا کیوں نہ کرنا پڑے یہاں تک کہ تجھے موت آجائے اور تو اسی منہج پر ہو)
    لہذا فرقوں کے مذاہب اور ان کے شبہات اور ساتھ ہی فرقۂ ناجیہ اہل سنت والجماعت اوران کے منہج کی معرفت حاصل کرنے میں ایک مسلمان کے لیے خیر ِکثیر موجود ہے۔ کیونکہ ان گمران فرقوں کے پاس شبہات اور دھوکے میں ڈالنے والی گمراہیاں ہوتی ہیں، جن دعوتوں کے دام فریب میں جاہل لوگ آکر فریب خوردہ ہوجاتےہیں، اور ان گمراہ دعوتوں (جماعتوں) کی طرف انتساب کرنے لگتے ہیں۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے حدیثِ حذیفہ ؓ میں فرمایا: (کیا اس خیر کے بعد پھر شر ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، جہنم کے دروازوں کے طرف بلانے والے داعیان ہوں گے، جو بھی ان کی دعوت پر لبیک کہے گا وہ اسے جہنم رسید کروادیں گے۔ میں نے کہا: یارسول اللہ ﷺ ہمارے لیے ان کے اوصاف بیان کریں۔ فرمایا: ہاں، وہ ہماری ہی نسل سے، ہماری ہی بولی بولنے والے لوگ ہوں گے)
    پس (جب ہم ہی میں سے ہوں گے تو پہچان کے اعتبار سے) شدید خطرہ ہے۔ چناچہ آپ ﷺ نے اپنے صحابہ کو ایک دن وعظ فرمایا جیساکہ سیدنا عرباض بن ساریہ ؓ کی حدیث میں ہے کہ: ‘‘[FONT="Al_Mushaf"]فَوَعَظَنَا مَوْعِظَةً بَلِيغَةً وَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ، وَذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَأَنَّهَا مَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ، فَأَوْصِنَا۔ قَالَ: أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ وَإِنْ تَأَمَّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ، وَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ فَسَيَرَى اخْتِلافًا كَثِيرًا، فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ مِنْ بَعْدِي ، تَمَسَّكُوا بِهَا وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ، وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ[/FONT]’’[2] (آپ ﷺ نے ہمیں ایک بلیغ وعظ فرمایا جس سے دل دھل گئے اور آنکھیں اشکبار ہوگئیں۔ ہم نے عرض کی: یا رسول اللہﷺگویا کہ یہ کسی الوداع کہنے والے کا وعظ لگ رہاہے پس آپ ﷺ ہمیں کوئی وصیت کیجئے۔ فرمایا: میں تمہیں اللہ تعالی کا تقوی اختیار کرنے کی اور (اپنے حکمرانوں کی) سننے اور اطاعت کرنے کی وصیت کرتا ہوں اگرچہ تم پر کسی غلام ہی کو حاکم کیوں نہ بنادیا جائے۔ کیونکہ تم میں سے جو زیادہ عرصہ زندہ رہا تو وہ عنقریب بہت اختلاف دیکھے گا، پس تم میری اور میرے بعد خلفاء راشدین کی سنت کو لازم پکڑنا، اس سے تمسک اختیار کرنا، اور اسے اپنے جبڑوں سے مضبوطی سے جکڑے رہنا۔ اور دین میں نئے نئے کاموں سے بچنا، کیونکہ دین میں ہر نیا کام بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے)
    پس آپﷺ نے خبردی کہ عنقریب اختلاف وتفرقہ ہوگا جس میں مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کو لازم پکڑنے کی وصیت فرمائی اور ساتھ ہی سنت رسول ﷺ سے تمسک کرنے اور اس کے مخالف جو بھی اقوال،افکار وگمراہ مذاہب ہوں انہیں ترک کرنے کی وصیت فرمائی۔ اللہ تعالی نے بھی اجتماع(اتحاد) واپنی کتاب سے اعتصام (مضبوطی سے پکڑنے) کا حکم فرمایا ہے اور تفرقہ بازی سے منع فرمای ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
    [FONT="Al_Mushaf"]وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنْتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِنْهَا كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ[/FONT]
    (آل عمران: 103)
    (تم سب مل کر اللہ تعالی کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہو اور تفرقہ نہ کرو، اللہ تعالی کی اس نعمت کو یاد کرو جو اس نے تم پر اس وقت کی کہ جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے پس اس نے تمہارے دلوں میں باہم الفت ڈال دی، اور تم اس کی نعمت سے بھائی بھائی بن گئے، اور تم تو جہنم کے گھڑے کے کنارے پر پہنچ چکے تھے لیکن اللہ تعالی نے تمہیں اس سے بچا لیا، اسی طرح سے اللہ تعالی تمہیں اپنی آیات کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم ہدایت پاؤ)
    اس آیت سے لے کر یہاں تک کہ:
    وَ[FONT="Al_Mushaf"]لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ وَأُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ (105) يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ[/FONT]
    (آل عمران: 105-106)
    (اورکہیں ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے اختلاف کیا اور تفرقہ بازی کی حالانکہ ان کے پاس واضح آیات ونشانیاں آچکی تھیں، ایسوں کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔ جس دن بعض چہرے منور ہوں گے تو بعض روسیاہ)
    سیدنا ابن عباس ؓ فرماتے ہیں: ‘‘[FONT="Al_Mushaf"]تبیض وجوہ اھل السنۃ والجماعۃ، وتسود وجوہ اھل البدعۃ والفرقۃ[/FONT]’’[2] (اہل سنت والجماعت کے چہرے منور ہوں گے اور اہل بدعت وفرقہ پرستوں کے چہرے سیاہ ہوں گے)
    اللہ تعالی کا فرمان ہے:
    إِ[FONT="Al_Mushaf"]نَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ إِنَّمَا أَمْرُهُمْ إِلَى اللَّهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ[/FONT]
    (الانعام: 159)
    (بے شک جنہوں نے اپنے دین میں تفرقہ کیا اور مختلف جماعتیں بن گئے تمہیں ان سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے، ان کا معاملہ تو اللہ تعالی کے پاس ہے پھر وہ انہیں جتا دے گا جو حرکتیں وہ کیا کرتے تھے)
    پس دین تو ایک ہے اور وہ وہی ہے جو کہ محمد رسول اللہ ﷺ لے کر آئے تھے۔ اس میں کسی قسم کی مختلف دینی ومذہبی تقسیم کی گنجائش نہیں۔ بلکہ دین تو واحد ایک ہے اور وہ اللہ تعالی کا وہ دین برحق ہےجس پر اس کے رسول ﷺ اپنی امت کو چھوڑ گئے تھے۔ کیونکہ (حدیث کے مطابق) آپ ﷺ تو اپنی امت کو ایسی روشن شاہراہ پر چھوڑ گئے تھے کہ جس کی راتیں بھی اس کے دن کی طرح روشن ہیں کہ جس سے منحرف نہیں ہوتا مگر وہی جو ہلاکت میں پڑنے والا ہو۔
    آپ ﷺ نے فرمایا: ‘‘تَ[FONT="Al_Mushaf"]رَكْتُ فِيكُمْ مَا إِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِهِ لَنْ تَضِلُّوا بَعْدِي أَبَدًا ، كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّتِي[/FONT]’’[4] (میں تمہارے درمیان دو ایسی چیزیں چھوڑے جارہا ہوں کہ اگر تم ان سے تمسک اختیار کروگے تو کبھی بھی گمراہ نہ ہوگے: کتاب اللہ اور میری سنت)
    جاری ہے۔ ۔ ۔
    [FONT="Al_Mushaf"](المحاضرات فی العقیدۃ والدعوۃ، المحاضرہ رقم 47 جلد دوم)
    [/FONT]

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    حواشی
    [1] [FONT="Al_Mushaf"]البخاری المناقب (3411)، مسلم الامارۃ (1847)، ابو داود الفتن والملاحم (4244)، ابن ماجہ الفتن (3979)، احمد (5/406)۔ رواہ البخاری (فتح الباری) برقم (3606، 3607، 7084)، ومسم فی (صحیحہ) ایضا برقم (1847، واحمد مطولا بلفظ مخالف (5/386، 403)، ومختصرا بلفظ مختلف (5/44)، وابوداود السجستانی (4244)، ولفظ مختلف: برقم (4246)، والنسائی فی (الکبری) (5/17، 18)، وابن ماجہ برقم (4027، 4029)، وابوداود الطیالسی فی (مسندہ) برقم (442)، وبلفظ مختلف: (443، ص 59)، وابوعوانۃ فی (الصحیح المسند) (4/474 و475)، وعبدالرزاق فی (مصنفہ) برقم (20711)، (11/341)، وابن ابی شیبۃ فی (کتاب الفتن)برقم (2449 و8960) (18969 و18980)، والحاکم فی (مستدرکہ (4/432) وصحح اسنادہ، ووافقہ الذھبی)۔[/FONT]
    [2] [FONT="Al_Mushaf"]الترمذی العلم (2676)، ابو داود السنۃ (4607)، وابن ماجہ المقدمۃ (42)، احمد (4/126)، الدارمی المقدمۃ (95)۔[/FONT]
    [3][FONT="Al_Mushaf"] ذکرہ البغوی فی (تفسیرہ) (2/87)، وابن کثیر (2/87)، طبعۃ الاندلس۔[/FONT]
    [4][FONT="Al_Mushaf"]رواہ مالک فی (الموطا) ص 648، رقم الحدیث (1619)، والحاکم فی (المستدرک) (1/93) موصلا عن ابی ھریرۃ۔ ورواہ مطولا دون لفظۃ وسنتي: مسلم برقم (1218)، وابوداود برقم (1909)، وابن ماجۃ برقم (3110)، من حدیث جابر بن عبداللہ وفیہ صفۃ حجۃ النبي وخطبتہ بھم۔[/FONT]
    [/FONT]


    جاری ہے۔۔۔۔
     
  2. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    پہلا فرقہ: القدریۃ

    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    [FONT="Al_Mushaf"]لمحۃ عن الفرق الضالۃ

    گمراہ فرقوں کا تعارف
    فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان (حفظہ اللہ)

    ترجمہ
    طارق علی بروہی



    پہلا فرقہ: القدریۃ
    اس فرقہ کی ابتداء صحابہ کرام y کے آخری دور میں ہی ہوچکی تھی۔
    القدریۃ: یعنی جو قدر (تقدیر) کاانکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جو کچھ اس کائنات میں ہورہا ہے وہ اللہ تعالی کی قضاء وقدر سے نہیں ہورہا بلکہ وہ تو ایک ایسا امر محدث (نیا رونما ہونے والا کام) ہے جسے بندے نے کیا ہے، ناکہ وہ پہلے سے اللہ تعالی کی تقدیر میں لکھا ہوا تھا۔
    پس انہوں نے ارکان ایمان میں سے چھٹے رکن کا انکار کردیا۔
    کیونکہ ارکان ایمان چھ ہیں: 1- اللہ تعالی پر ایمان، 2- اس کے فرشتوں پر، 3- اس کی کتابوں پر، 4- اس کے رسولوں پر، 5- یوم آخرت پر اور 6- اچھی وبری تقدیر پر کہ یہ سب اللہ تعالی کی طرف سے ہے۔ انہیں قدریہ بھی کہا جاتا ہے اور اس امت کے مجوسی بھی کہا جاتا ہے، کیوں؟ کیونکہ وہ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ہر انسان اپنے اعمال کا خود خالق ہے، انسان کے اعمال اللہ تعالی کی تقدیر سے نہیں ہیں۔ اس طور پر انہوں نے کائنات میں اللہ تعالی کے ساتھ ایک اور خالق کا وجود ثابت کیا جیسا کہ مجوس کا عقیدہ ہے دو خالقوں کا کہ ایک نور کا خدا ہے اور ایک اندھیرے کا خدا۔ نور کا خدا خیر پیدا کرتا ہے اور اندھیرے کا خدا شر پیدا کرتا ہے۔
    قدریہ تو مجوس سے بھی دو ہاتھ آگے بڑھ گئے ہیں کہ انہوں نے متعدد خالقوں کو ثابت کیا کیونکہ ان کے نزدیک تو ہر انسان اپنے افعال کا خود خالق ہے، لہذا اس وجہ سے وہ اس امت کے مجوس کہلاتے ہیں۔
    ان کے مدمقابل اور بالکل برعکس فرقہ الجبریۃ ہے جو یہ کہتے ہیں کہ: بندہ اپنے عمل پر مجبورِ محض ہے، اس کا اپنا کوئی فعل یا اختیار ہے ہی نہیں، وہ تو محض ایک پر کی طرح ہے کہ جسے ہوا اڑا لے جاتی ہے اس کا اپنا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔
    انہیں جبریہ کہا جاتا ہے جو درحقیقت غالی قدریہ ہیں کہ جنہوں نے تقدیر کے اثبات میں غلو کیا اور بندے سے اختیار کو مکمل طور پر سلب کرلیا۔
    پس پہلا فرقہ اس کے بالکل برعکس انسان کے اختیار میں غلو کرگیا یہاں تک کہ یہ کہہ دیا کہ بندہ خود مستقل طور پر اللہ تعالی سے ہٹ کر اپنے افعال کا خود خالق ہے ۔ تعالی اللہ عما یقولون۔
    انہیں القدریۃ النفاۃ (تقدیر کی نفی میں غلو کرنے والے) بھی کہا جاتا ہے ۔ انہی میں سے معتزلہ بھی ہیں اور جو ان کے منہج کی پیروی کرتے ہیں۔
    تو یہ دو اقسام بنتی ہیں اس قدریہ فرقے کی:
    1- تقدیر کی نفی میں غلو کرنے والے (قدریہ)۔
    2- تقدیر کے اثبات میں غلو کرنے والے (جبریہ)
    ۔
    اور یہ قدریہ خود نجانے کئی فرقوں میں بٹ گئے کہ جنہیں اللہ تعالی کے سوا کوئی نہیں جانتا۔کیونکہ جب انسان حق کو چھوڑتا ہے تو وہ گمراہی میں دھنستا چلا جاتا ہے ۔ اس فرقے سے نکلنے والا ہر چھوٹا گروہ اپنا الگ مذہب بنالیتا ہے اور پرانے فرقے سے الگ ہوجاتا ہے۔ یہی گمراہ لوگوں کا وطیرہ ہوتا ہے کہ وہ ہمیشہ گروہ درگروہ تقسیم ہوتے ہی چلے جاتے ہیں اور ہمیشہ ان کے نئے نئے اختلافی افکار وتصورات منظر عام پر آتے رہتے ہیں جو ایک دوسرے سے متضاد ہوتے ہیں۔
    دوسری طرف اہل سنت والجماعت میں کسی قسم کا اضطراب واختلاف نہیں ہوتا کیونکہ وہ اس منہج حق سے تمسک اختیار کیے رہتے ہیں جو اللہ تعالی کی طرف سے آیا ہے۔ پس وہ کتاب اللہ وسنت رسول اللہ ﷺ کو مضبوطی سے تھامے رہتے ہیں نتیجتاً ان میں افتراق واختلاف واقع نہیں ہوتا ، کیونکہ وہ سب ایک ہی منہج کے پیروی کررہے ہوتےہیں۔
    [FONT="Al_Mushaf"](المحاضرات فی العقیدۃ والدعوۃ، جلد دوم، محاضرۃ رقم 47)[/FONT]​
    [/FONT]
     
  3. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    دوسرا فرقہ: الخوارج

    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    [font="al_mushaf"]لمحۃ عن الفرق الضالۃ

    گمراہ فرقوں کا مختصر تعارف


    فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان (حفظہ اللہ)

    ترجمہ
    طارق علی بروہی


    دوسرا فرقہ: الخوارج
    یہ وہ لوگ ہیں کہ جو حکمران وقت کے خلاف خروج کرتے ہیں، جو سیدنا عثمان بن عفان ؓ کے آخری دور میں ظاہر ہوئے،اور جن کے خروج کے نتیجے میں سیدنا عثمان ؓ شہید ہوئے۔
    پھر ان لوگوں کا شر وفسادسیدناعلی ؓ کی خلافت میں مزید بڑھ گیا اور انہوں نے ان کے خلاف بغاوت کی، ان کی اور دیگر صحابہ کرام ؓ کی تکفیر کی، کیونکہ انہوں نے ان کے باطل مذہب میں ان کی موافقت نہیں کی۔ اور وہ ہر اس شخص کو جو ان کے مذہب کی موافقت نہ کرے کافر کہتے ہیں، لہذا انہوں نے انسانوں میں سب سے افضل صحابہ کرام ؓ کی تکفیر کی، کیوں؟ کیونکہ انہوں نے ان کے کفر وگمراہی میں ان کی موافقت نہ کی۔
    ان کا مذہب کیا ہے: یہ لوگ سنت وجماعت سے کوئی التزام نہیں کرتے، اور نہ ہی حکمران وقت کی اطاعت کرتے ہیں۔ بلکہ اس کے خلاف خروج کو اپنی دین داری تصور کرتے ہیں۔ اور یہ کہ حکومت کے خلاف بغاوت کرنا تختہ الٹنا ہی اقامت دین ہے۔ رسول کریم ﷺ کی تعلیمات کے بالکل برعکس کے آپ ﷺ نے حکمرانوں کی اطاعت کی وصیت فرمائی ہے۔ اور اللہ تعالی کے اس فرمان کے بھی برعکس:
    ﴿[font="al_mushaf"]يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ[/font]﴾
    (النساء: 59)
    (اے ایمان والو! اطاعت کرو اللہ تعالی کی اور اطاعت کرو رسول اللہ ﷺ کی، اور جو تمہارے حکمران ہیں ان کی بھی)​
    اللہ تعالی نے حکمرانوں کی اطاعت کو دین میں سے قرار دیا ہے اسی طرح سے نبی کریم ﷺ نے حکمرانوں کی اطاعت کو دین میں سے قرار دیا ہے، فرمایا: ‘‘[font="al_mushaf"]أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ وَإِنْ تَأَمَّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ، وَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ فَسَيَرَى اخْتِلافًا كَثِيرًا[/font]’’[1] (میں تمہیں اللہ تعالی کا تقوی اختیار کرنے اور حکمرانوں کی سننے اور اطاعت کرنے کی کی وصیت کرتا ہوں، اگرچہ تم پر کسی غلام ہی کو حاکم کیوں نہ بنادیا جائے، کیونکہ تم میں سے جو میرے بعد زیادہ عرصہ زندہ رہا تو وہ بہت اختلاف دیکھے گا)
    پس حکمرانوں کی اطاعت دین میں سے ہے۔۔۔ اور خوارج کہتے ہیں کہ: نہیں جی، ہم تو آزاد ہیں۔ یہی طریقہ ہے آجکل ہونے والے حکومت مخالف انقلابات کا۔
    الغرض خوارج اپنی ان حرکتوں سے مسلمانوں میں تفریق، حکومت کے خلاف بغاوت، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی چاہتے ہیں۔ اور یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ کبیرہ گناہ کا ارتکاب کرنے والا کافر ہے۔
    کبیرہ گناہ کا مرتکب جیسے زانی، چور، شرابی وغیرہ ان کے نزدیک کافر ہیں۔ جبکہ اہل سنت والجماعت کا اعتدال پر مبنی عقیدہ ہے کہ کہ ایسا شخص "مسلم ناقص الایمان" (ناقص یا کمزور ایمان والا مسلمان)[2] ہے۔یا اسے "الفاسق الملی" (ملت اسلامیہ میں باقی رہنے والا فاسق شخص) یا پھر "مؤمن بایمانہ فاسق بکبیرتہ" (وہ اپنے ایمان کی وجہ سے مومن ہے اور اپنے کبیرہ گناہ کی وجہ سے فاسق ہے) کہتے ہیں۔ کیونکہ دائرہ اسلام سے صرف شرک یا معروف ومشہور نواقض اسلام میں سے کسی کے ارتکاب کے ذریعہ سے ہی نکلا جاسکتا ہے۔ لیکن شرک کے علاوہ دیگر معاصی وگناہ انسان کو اصل ایمان سے خارج نہیں کرتے اگرچہ کبیرہ گناہ ہی کیوں نہ ہوں، اللہ تعالی کا فرمان ہے:
    ﴿[font="al_mushaf"]إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ[/font]﴾
    (النساء: 48)
    (بے شک اللہ تعالی اس کے ساتھ شرک کیے جانے کو ہرگز بھی معاف نہیں فرماتے، اس کے علاوہ جو گناہ جس کے لیے چاہیں معاف فرمادیتے ہیں)​
    خوارج کہتے ہیں کبیرہ گناہ کا مرتکب کافر ہے، اللہ تعالی اسے ہرگز بھی معاف نہیں فرمائیں گے اور وہ ہمیشہ ہمیش جہنم میں رہے گا۔ اور یہ جو کچھ کتاب اللہ میں آیا ہے اس کے خلاف ہے، سبب یہی ہے کہ ان کے پاس فقہ (دینی سمجھ بوجھ وعلم) نہیں ۔ اس بات پر ذرا غور کریں کہ ان کا اتنی بڑی گمراہی میں مبتلا ہونے کا سبب یہی ہے کہ ان کے پاس فقہ نہیں۔ حالانکہ وہ ایسی جماعت ہیں کہ جو عبادت، نماز، روزہ اور تلاوت قرآن پاک وغیرہ میں انتہائی شدت ومحنت کرتے ہیں، اور ان کے یہاں شدید غیرت بھی پائی جاتی ہے لیکن دینی فقہ وصحیح سمجھ نہیں، اور واقعی یہ بہت بڑی آفت ہے۔
    کیونکہ لازم ہے کہ عبادت، زہد ، تقوی وورع میں اجتہاد وکوشش فقہ فی الدین وعلم کے ساتھ ہو۔
    یہی وجہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان کے اوصاف اپنے صحابہ کے سامنے بیان فرمائے کہ تم اپنی نمازوں کو ان کی نمازوں کے سامنے حقیر سمجھو گے اور ان کی عبادت کے سامنے اپنی عبادت کو ہیچ تصور کرو گے، پھر فرمایا: ‘‘[font="al_mushaf"]يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ[/font] ’’[3] (وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیرکمان سے نکل جاتا ہے) اپنی عبادتوں کے باوجود، اپنی خیر وصلاح کے باوجود، اپنے قیام اللیل وتہجد کے باوجود۔ چونکہ ان کا عبادات میں محنت واجتہاد کرنا صحیح بنیادوں اور صحیح علم پر استوار نہیں تو وہ خود ان کے لیے اور امت کے لیے گمراہی، وبال وشر کا سبب بن گیا۔
    کبھی بھی خوارج کے بارے میں یہ نہیں سنا گیا کہ وہ کافروں سے جہاد وقتال کررہے ہیں بلکہ ان کا تو کام ہی مسلمانوں کے خلاف جہاد وقتال کرنا ہے، جیسا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ‘‘[font="al_mushaf"]يَقْتُلُونَ أَهْلَ الْإِسْلَامِ وَيَدَعُونَ أَهْلَ الْأَوْثَانِ[/font]’’[4](اہل اسلام کو قتل کرتے ہیں اور اہل اوثان (بت پرستوں/کافروں) کو چھوڑ دیتے ہیں)
    ہم خوارج کی پوری تاریخ میں نہیں جانتے کہ انہوں نے کبھی کفار ومشرکین کے خلاف قتال کیا ہو، بلکہ یہ تو ہمیشہ مسلمانوں ہی سے قتال کرتے ہیں: سیدنا عثمان، علی بن ابی طالب، زبیر بن عوام اور جلیل القدر صحابہ کرام ؓ کو قتل کیا، اور آج تک مسلمانوں ہی کو قتل کرتے چلے آرہے ہیں۔
    اس کا سبب یہی ہے کہ اپنی تقوی وورع، عبادت ودین میں محنت کے باوجود دین سے جہالت اور ان تمام عبادات ومحنتوں کا علمِ صحیح کی اساس پر نہ ہونا، خود ان پر وبال بن گیا۔ اسی لیے علامہ ابن القیمؒنے ان کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا:
    [font="al_mushaf"]
    ولھم نصوص قصروا فی فھمھا
    فاتو من التقصیر فی العرفان​
    [/font][5]
    (ان کے پاس کچھ نصوص (دلائل) ہیں جن کے صحیح فہم سے وہ قاصر ہیں
    پس وہ حقیقی علم وعرفان کو پانے میں تقصیر کا شکار ہیں)​
    وہ نصوص ودلائل سے استدلال تو کرتے ہیں لیکن انہیں اس کا صحیح فہم حاصل نہیں ہوتا۔ وہ کتاب وسنت میں گناہوں پر وعید وسزا کے دلائل سے استدلال کرتے ہیں مگر اس کا صحیح معنی نہیں سمجھتے۔ وہ دوسرے دلائل کی طرف رجوع نہیں کرتےکہ جن میں گناہ ہونے کے باوجود مغفرت کا وعدہ ہے اور شرک کے علاوہ گناہوں کی توبہ کا ذکر ہے۔پس انہوں نے ایک طرف لے کر دوسری طرف کو بالکل چھوڑ دیا۔ یہی ان کی جہالت ہے۔
    صرف دینی غیرت اور جذبہ کافی نہیں بلکہ لازم ہے کہ یہ صحیح علم اور فقہ فی الدین پر قائم ہوں۔ ضروری ہے کہ یہ غیرت وجذبہ علم ِصحیح کے نتیجے میں صادر ہوا ہو اور صحیح موقع محل پر ہواہو۔
    دین کے بارے میں غیرت کرنا اور گرمجوشی دکھانا اچھی بات ہے لیکن لازم ہے کہ اسے اتباع کتاب وسنت کے ذریعہ کنٹرول وقابو کیا جائے۔
    تم دین کی غیرت میں اور مسلمانوں کی خیرخواہی چاہنے میں صحابہ کرام ؓسے بڑھ کر تو نہیں ہوسکتے مگر اس کے باوجود انہوں نے خوارج کو قتل کیا ان کے عظیم خطرے اورشر کے باعث۔
    ان سے سیدنا علی بن ابی طالب ؓ نے واقعۂ نہروان میں بہت ہی زبردست قتال فرمایا ۔ اور وہ رسول اللہ ﷺ کی اس بشارت کے مصداق بنے کہ نبی کریم ﷺ نے ان خوارج کو قتل کرنے والوں کو خیر اور جنت کی بشارت سنائی تھی۔ پس سیدنا علی بن ابی طالب ؓ نے انہیں قتل کیا اور اس نبوی بشارت کے مستحق قرار پائے[6]۔
    سیدنا علی ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ: ‘‘[font="al_mushaf"]سَيَخْرُجُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ أَحْدَاثُ الْأَسْنَانِ، سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ، يَقُولُونَ مِنْ خَيْرِ قَوْلِ الْبَرِيَّةِ، َا يُجَاوِزُ إِيمَانُهُمْ حَنَاجِرَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ، فَإِنَّ فِي قَتْلِهِمْ أَجْرًا لِمَنْ قَتَلَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ[/font]’’[7] (آخری زمانے میں ایسی قوم نکلے گی جو کم سن وکم عقل ہوگی، بظاہر تو سب سے اچھی بات کریں گے [8]، لیکن ان کا ایمان ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا[9]، دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے، تم جہاں کہیں بھی ان کو پاؤ قتل کردو، کیونکہ جو بھی انہیں قتل کرے گا بروزقیامت اسے اس قتل کرنے پر اجر ملے گا)
    ابو سعید الخدری ؓ خوارج اور ان کی علامات[10]سے متعلق حدیث روایت کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ‘‘[font="al_mushaf"]قتلھم لیدفع شرھم عن المسلمین[/font]’’ (مسلمانوں سے ان کے شر کو دور کرنے کے لیے قتل کیا گیا یا قتل کیاجائے)۔
    ہر دور کے مسلمانوں پر یہ واجب ہے کہ اگر اس خبیث وگندے مذہب کا وجود موجود ہو تو اس کا سب سے پہلے دعوت کے ذریعہ علاج کیا جائے اور لوگوں کو اس سے متعلق علم وآگاہی دی جائے۔ لیکن اگر وہ پھر بھی نا مانیں تو ان کے شرکو دور کرنے کے لیے ان سے قتال کیا جائے۔
    سیدنا علی بن ابی طالب ؓ نے اپنے چچا زاد بھائی سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ جو حبر الامۃ(امت کے بڑے عالم) وترجمان القرآن ہیں کو ان خوارج کے پاس بھیجا۔پس انہوں نے ان سے مناظرہ فرمایا جس کے نتیجے میں ان میں سے چھ ہزار تائب ہوکر واپس آگئے لیکن ایک بڑی تعداد نے ان میں سے رجوع نہیں کیا۔ پھر اس اتمام حجت کے بعد امیر المومنین علی بن ابی طالب ؓ نے صحابہ کرام ؓ کے ساتھ مل کر ان کے خلاف قتال فرمایا۔تاکہ ان کے شر وایذارسانی کو مسلمانوں سے دور کیا جائے۔
    یہ تھا فرقۂ خوارج اور ان کا مذہب۔
    [font="al_mushaf"](المحاضرات فی العقیدۃ والدعوۃ، محاضرۃ رقم 47)[/font]​
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    حواشی
    [1] حدیث کی تخریج گزر چکی ہے۔
    [2] اگرچہ وہ اس کبیرہ گناہ کو ہلکا جانتا ہوا کرے تو بھی کافر نہیں ہوگا جب تک وہ اسے حلال نہیں سمجھتا، برخلاف ان کے جو آجکل یہ کہتے ہیں کہ کبیرہ گناہ کا مرتکب اگر اسے ہلکا جانتے ہوئے کرے تو وہ کفر اکبر کا مرتکب ہوکر ملت اسلامیہ سے خارج ہوگیا۔ یہ بھی عین خوارج کا ہی قول ہے، جیسا کہ شیخ عبدالعزیز بن باز ؒ نے طائف میں سن 1415ھ میں اس سوال کے جواب میں یہی فرمایا۔
    [3][font="al_mushaf"] البخاری المناقب (3414)، مسلم الزکاۃ (1064)، النسائی الزکاۃ (2578)، ابو داود السنۃ (4764)، احمد (3/5)، جزء من حدیث طویل اخرجہ احمد (3/73)، والبخاری (4/108، 178، 179)، و(5/110، 111، 205) و(6/115) و(7/111) و(8/52، 53، 178)، ومسلم برقم (1064)، والنسائی برقم (2577، 4112)، وابوداود برقم (7464)، والطیالسی برقم (2234)، من حدیث ابی سعید۔۔ومن حدیث علی بن ابی طالب، البخاری (4/179) و(6/144، 115) و (8/51، 52) ومسلم برقم (1066)، وابوداود برقم (4767) والطیالسی برقم (168)، والنسائی برقم (4113)، واحمد (1/81، 113) ومن حدیث جابرعند احمد، ومسلم، والنسائی، وابن ماجہ، ومن حدیث سھل بن حنیف، عند: الشیخین، والنسائی۔ ومن حدیث ابن مسعود عند: احمد، والترمذی، وابن ماجہ، ومن حدیث برزۃ الاسلمی عند: احمد، والطیالسی، والنسائی، والحاکم۔ ومن حدیث ابی سعید وانس عند: احمد وابی داود، والحاکم فی (مستدرکہ)۔ ومن حدیث ابی بکرۃ عند: احمد، والطبرانی۔ ومن حدیث عامر بن وائلۃ عند: الطبرانی۔[/font]
    [4] [font="al_mushaf"]جزء من حدیث طویل، اخرجہ احمد (3/68، 73)، ومختصرا (3/72)، والبخاری (4/108) و(8/178)، مختصرا، ومسلم برقم (1064)، والنسائی برقم (2577، 4112)، وابوداود برقم (7464)، والطیالسی برقم (2234)۔[/font]
    [5][font="al_mushaf"] نونیۃ ابن القیم المساۃ الکافیۃ الشافیۃ فی الانتصار للفرقۃ الناجیۃ ص 97۔[/font]
    [6][font="al_mushaf"] روی البخاری فی (صحیحہ) (8/51-52)، ومسلم فی (صحیحہ)، رقم الحدیث (1066)، واحمد فی (مسندہ (1/113)، وابن ابی عاصم فی (السنۃ) برقم (914)، وعبداللہ ابن الامام احمد فی (السنۃ) برقم (1487)۔
    [7] البخاری استتابۃ المرتدین والمعاندین وقتالھم (6531)، مسلم الزکاۃ (1066)، والنسائی تحریم الدم (4102)، ابوداود السنۃ (4767)، احمد (1/131)[/font]
    [8] حافظ ابن حجرؒ فتح الباری میں فرماتے ہیں کہ یعنی قرآن کریم میں سے بات کیا کریں گے جیسا کہ اس سے پہلے والی ابو سعید ؓ کی روایت میں ہے، اور جیسا کہ ان کا سب سے پہلا خروج "[font="al_mushaf"]لاحکم الا اللہ[/font]" (اللہ تعالی کے سوا کوئی حاکم اعلی نہیں) کے ذریعہ تھا جو کہ قرآن کریم ہی سے اخذ کیا گیا تھا مگر ان کے دین میں عدم فقہ کی وجہ سے اس کے غیرمحل پر اسے محمول کیا گیا تھا۔ (ط ع)
    [9] علی ؓ کی ایک دوسری روایت جیسا کہ بخاری 1066 وغیرہ میں ہے کہ "[font="al_mushaf"]يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ[/font]" (وہ قرآن مجید پڑھیں گے جو ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا) شیخ ابن عثیمین ؒ فرماتے ہیں اس کے دو معنی ہیں اور دونوں صحیح ہیں ایک تو وہ قرآن مجید کے محض الفاظ پڑھتے ہوں گے اس کا صحیح معنی ومفہوم نہیں سمجھتے ہوں گے، دوسرا وہ اس کثرت سے عبادت وتلاوت قرآن کرتے ہوں گے گویا کہ وہ ان کے حلق سے نیچے ہی نہیں اترے گا یعنی اس تسلسل سے عمل کرتے ہوں گے۔ (ط ع)
    [10] [font="al_mushaf"]رواہ احمد فی (المسند) (3/33)، وابنہ فی (السنۃ) (1512)، قال : فحدثنی عشرون او بضع وعشرون من اصحاب رسول اللہ ﷺ ان علیا ولی قتلھم۔[/font]
    [/font]
     
  4. محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض نوآموز.

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    3,702
    جزاک اللہ خیرا ابو بکر سلفی بھائی
    اللہ ہمیں گمراہ فرقوں کے شیطانی شر اور مکروہ عزائم سے بچائے۔آمین
    اللہ ہمیں حق کی پہچان کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اور سیدھے راستے کی طرف گامزن کرے۔اور اس پر استقامت عطا فرمائے۔اور ہمارا خاتمہ ایمان و اسلام پر فرمائے۔آمین
     
  5. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    تیسرا فرقہ: الشیعۃ

    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    [FONT="Al_Mushaf"]لمحۃ عن الفرق الضالۃ​

    گمراہ فرقوں کا مختصر تعارف

    فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان (حفظہ اللہ)


    ترجمہ
    طارق علی بروہی

    تیسرا فرقہ:[FONT="Al_Mushaf"] الشیعۃ[/FONT]
    [FONT="Al_Mushaf"]الشیعۃ[/FONT]: وہ ہیں جو اہل بیت کے لیے تشیع اختیار کرتے ہیں۔
    اور التشیع کا اصل معنی ہے : اتباع ومناصرت (پیروی کرنا نصرت وحمایت کرنا)
    ﴿[FONT="Al_Mushaf"]وَإِنَّ مِنْ شِيعَتِهِ لَإِبْرَاهِيمَ[/FONT]﴾
    (الصآفات: 83)
    (اور ان کے گروہ میں سے ابراہیم علیہ السلام بھی تھے)​
    یعنی ان کے متبعین اور ان کے طریقے کے حمایتیوں میں سے ابراہیم علیہ السلام بھی تھے ۔ کیونکہ جب اللہ تعالی نے نوح علیہ السلام کا قصہ بیان فرمایا تو پھر اس کے بعد فرمایا کہ:
    ﴿[FONT="Al_Mushaf"]وَإِنَّ مِنْ شِيعَتِهِ لَإِبْرَاهِيمَ[/FONT]﴾
    (الصآفات: 83)
    (اور ان کے گروہ میں سے ابراہیم علیہ السلام بھی تھے)​
    پس التشیع کا اصل معنی اتباع ومناصرت ہے۔ پھر بعد میں اس کا اطلاق اس (رافضی)[1] فرقے پر ہونے لگا جو اپنے گمان میں اہل بیت کی اتباع کرتے ہیں۔ اہل بیت سے مراد ان کے یہاں سیدنا علی بن ابی طالب ؓ اور آپ کی اولاد ہیں۔
    اور یہ سمجھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد خلافت کی وصیت سیدنا علی t کے لیے کی گئی تھی۔ اور سیدنا ابوبکر، عمروعثمان اور صحابہ کرامؓ نے علی ؓ پر ظلم کیا اور ان کا حق خلافت غصب کیا۔ وہ اس طرح سے کہتے ہیں۔
    حالانکہ وہ اپنے اس قول میں جھوٹے ہیں۔ کیونکہ تمام صحابہ کرام ؓ نےسیدنا ابوبکر صدیق ؓکی بیعت پر اجماع فرمایا تھا جن میں سے خود سیدنا علی بن ابی طالب ؓ بھی تھے کہ جنہوں نے خود سیدنا ابوبکر، عمر اور عثمان ؓ کی بیعت کی۔
    اس کا معنی تو یہ ہے کہ یہ شیعہ خود سیدنا علی t کو نعوذباللہ خائن قرار دینا چاہتے ہیں!۔
    اس کے علاوہ وہ سوائے چند ایک کے تمام صحابہ کی تکفیر کرتے ہیں۔ اور سیدنا ابوبکر وعمر ؓ پر تو خصوصاً لعن طعن کرتے ہیں اور انہیں "صنمی قریش" (قریش کے دو بت) تک کا لقب دیتے ہیں۔
    ان کے مذہب میں سے یہ بھی ہے کہ وہ آئمہ اہل بیت کے تعلق سے غلو کرتے ہیں اور انہیں شریعت سازی اور احکام کو منسوخ کرنے تک کا حق تفویض کرتے ہیں۔
    اور قرآن کریم کے متعلق گمان کرتے ہیں کہ اس میں تحریف ونقص ہے۔ یہاں تک کہ انہوں نے اپنے آئمہ کو اللہ کے سوا اپنا رب تک بنالیا ہے اور ان کے قبروں پر مزار وقبے تعمیر کیے اور ان ہی کا طواف شروع کردیا اور انہی کے نام کی نذرونیاز شروع کردی۔
    اور یہ شیعہ بھی کئی ایک فرقوں میں مزید بٹتے گئے۔ بعض ان میں سے بعض سے گمراہی میں ہلکے ہیں۔ اور بعض بعض سے گمراہی میں بڑھ کر ہیں۔ ان میں سے زیدیہ ہیں اور رافضہ اثنی عشریہ بھی ہیں، اسی طرح سے الاسماعیلیہ، الفاطمیہ اور انہی میں سے القرامطہ اور بہت سے فرقے ہیں۔
    یہی ہوتا ہے کہ جو بھی حق کو چھوڑتا ہے وہ مزید تفرقہ درتفرقہ کا شکار ہوتا رہتا ہے اللہ تعالی کا فرمان ہے:
    ﴿[FONT="Al_Mushaf"]فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنْتُمْ بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوْا وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا هُمْ فِي شِقَاقٍ فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ[/FONT]﴾
    (البقرۃ: 137)
    (اگر یہ لوگ بھی اے صحابہ تم جیسا ایمان لے کر آئیں تو یہ ہدایت پاجائیں، اور اگر یہ منہ پھیریں تو یہ اختلاف در اختلاف میں پڑے رہیں گے، پس تمہیں تو ان کے مقابلے میں اللہ تعالی ہی کافی ہے، اور وہ سننے والا جاننے والا ہے)
    جو حق کوچھوڑتے ہیں تو وہ باطل، کجروی اورتفرقہ میں مبتلاہوجاتے ہیں اور وہ کسی نتیجے پرنہیں پہنچ پاتے بلکہ خسارہ ہی پاتے ہیں،العیاذ باللہ۔
    اسی لیے شیعہ بہت سی ٹولیوں اور فرقوں میں تقسیم ہوگئے۔
    اسی طرح سے قدریہ بھی۔۔
    اور خوارج بھی کئی فرقوں جیسے الازارقہ، الحروریہ، النجدات، الصفریہ، الاباضیہ[2] ان میں سے کچھ بہت غالی ہیں اور کچھ ان سے کم ہیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    حواشی
    [1] شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ " فرماتے ہیں کہ: رافضہ نام کی حقیقت یہ ہے کہ زید بن علی "کے دور خروج میں شیعہ زیدیہ اور رافضہ میں تقسیم ہوگئے۔ وہ اس طرح کے جب شیعہ نے زید سے سیدنا ابوبکر وعمر ؓ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے ان کے بارے میں رحمدلانہ بات کی، جس پر ایک گروہ نے "رفض" (انکار) کیا تو زید نے کہا "[FONT="Al_Mushaf"]رفضتمو ني[/FONT]" (تم نے مجھے رفض یعنی انکار کیا) لہذا ان کے ابوبکروعمر ؓ کے بارے میں اچھے خیالات کا انکار کرنے والے رافضی کہلائے اور جنہوں نے انکار نہیں کیا وہ زیدی کہلائے۔ (ص 35 ج (1). [FONT="Al_Mushaf"]منهاج السنة النبوية لابن تيمية[/FONT]) (ط ع)
    [2] شیخ البانی " فرماتے ہیں: الاباضیہ اب بھی عمان میں پائے جاتے ہیں بلکہ یہی ان کا سرکاری مذہب ہے، اور یہ کہتے تو ہیں کہ ہم خوارج نہیں مگران کے عقائد وہی خوارج والے ہیں۔ دیکھیں ہماری ترجمہ شدہ کتاب "فتنۂ تکفیر" ویب سائٹ منہج السلف ڈاٹ کام پر۔ (ط ع)[/FONT]
     
  6. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    چوتھا فرقہ: الجہمیۃ

    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    [FONT="Al_Mushaf"]لمحۃ عن الفرق الضالۃ

    گمراہ فرقوں کا مختصر تعارف

    فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان (حفظہ اللہ)


    ترجمہ
    طارق علی بروہی


    چوتھا فرقہ:[FONT="Al_Mushaf"] الجہمیۃ[/FONT]
    الجہمیہ : اور تمہیں کیا معلوم کہ جہمیہ کون ہیں؟!!
    الجہمیہ: نسبت ہے جہم بن صفوان کی طرف جس نے جعد بن درہم سے تعلیم حاصل کی اور اس جعد بن درہم نے طالوت کی شاگردگی اختیار کی اور اس طالوت نے لبید بن اعصم وہ یہودی جس نے رسول اللہ e پر جادو کیا تھا سے تعلیم حاصل کی۔ پس یہ یہودیوں کے شاگرد ہیں اور جہمیہ کا مذہب آخر ہے کیا؟
    جہمیہ کا مذہب: یہ لوگ اللہ تعالی کے لیے نہ کوئی اسم مانتے ہیں اور نہ ہی صفت ۔بلکہ ان کا گمان ہے کہ اللہ تعالی اسماء وصفات سے عاری بس ایک ذات ہے۔ کیونکہ ان کے گمان کے مطابق اسماء وصفات کو ماننے سے شرک لازم آتا ہے اور ایک سے زیادہ سے معبودات لازم آتے ہیں۔ یہ ان کا عجیب لعنتی شبہہ ہے۔
    پھر ہم نہیں جانتے کہ آخر یہ اپنے بارے میں کیا کہتے ہوں گے؟ کیونکہ یہ خود ایک انسان ذات ہوتے ہوئے اپنے آپ کو تو عالم بھی کہتے ہیں، مالدار بھی، صانع اور تاجر بھی، یعنی ایک ہی شخصیت کی اتنی صفات خود اپنے لیے تو مانتے ہیں۔ تو کیا اس سے ایک سے زیادہ شخصیات لازم آتی ہیں؟
    اس بات کا اگر عام عقل بھی انکار کرے تو تکبر کہلائے گا(چہ جائیکہ دینی علم رکھنے والے ایسی بات کریں!) کہ ایک سے زیادہ اسماء وصفات ہونا کبھی بھی ایک سے زیادہ معبودات ہونے کو لازم نہیں۔ اسی لیے توان سے پہلے مشرکین عرب نے بھی جب رسول اللہ ﷺ کو سنا کہ کبھی یا رحمن تو کبھی یا رحیم پکار رہے ہیں تو کہا کہ: یہ نبی سمجھتا ہے کہ وہ صرف ایک معبود کی عبادت کرتا ہے حالانکہ وہ تو مختلف معبودات کو پکار رہا ہے کبھی رحمن تو کبھی رحیم۔ اس پر اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی:
    ﴿[FONT="Al_Mushaf"]قُلِ ادْعُوا اللَّهَ أَوِ ادْعُوا الرَّحْمَنَ أَيًّا مَا تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى[/FONT]﴾
    (الاسراء: 110)
    (آپ کہیں کہ چاہے اللہ پکارو یا رحمن پکارو، جس نام سے چاہے پکارو توسارے اسماء حسنی اسی ہیں)([1])​
    پس اسماء تو بہت ہیں جو اللہ سبحانہ وتعالی کے کمال وعظمت پر دلالت کرتے ہیں ناکہ متعدد معبودات پر جیسا کہ ان کا خیال ہے، بلکہ یہ تو اللہ تعالی کی عظمت اور اس کے کمال پر دلالت کناں ہیں۔
    البتہ کسی ذات کا صفات سے عاری وجود ہونا محال ہے یہ تو عدم ہوا۔ یہ بالکل محال ہے کہ کوئی ذات ہو اور اس کی صفات نہ ہو کیونکہ کم سے کم وجود کی صفت تو ہوگی اس کی! ان کے شبہات میں سے ہے کہ اللہ تعالی کی صفات ماننے سے مخلوقات کے ساتھ تشبیہ لازم آتی ہے، کیونکہ ایسی ہی صفات تو مخلوقات میں بھی پائی جاتی ہیں۔
    اور یہ ایک باطل قول ہے کیونکہ خالق کی صفات اس کی شایان شان ہیں اور مخلوق کی صفات ان کے لائق ہیں، ان میں کوئی مشابہت نہیں پائی جاتی۔
    جہمیہ نے اپنی اسماء وصفات میں پائی جانے والی ان گمراہیوں کے ساتھ تقدیر کے معاملے میں جبر کی گمراہی بھی اپنالی۔ کیونکہ جہمیہ کہتے ہیں: بندے کی کوئی مشیئت وارادہ نہیں، اس کا کچھ اختیار نہیں، بلکہ وہ اپنے افعال کرنے پر مجبور ہے۔
    اس کا معنی یہ ہوا کہ اگر اس کو گناہ کرنے پر سزا دی گئی تو وہ مظلوم ہوگا، کیونکہ وہ اس کا آزاد فعل نہیں تھا بلکہ اسے اللہ تعالی نے اس پر مجبور کیا تھا۔ تعالی اللہ عن ذلک (اللہ اس ظلم سے پاک اور بلند ہے)۔
    لہذا انہوں نے جبر اور قدر دونوں کو اسماء وصفات میں تجہم کے ساتھ جمع کردیا اور اس پر مزید ارجاء کے قول کا بھی اضافہ کردیا، اور یہی بس نہیں اس پر خلق قرآن (یعنی قرآن کریم اللہ کی صفت کلام نہیں بلکہ مخلوق ہے) کا قول بھی شامل کردیا گویا ایک کے اوپر ایک ظلمت واندھیرا۔
    امام ابن القیم " فرماتے ہیں:
    [FONT="Al_Mushaf"]
    جیم وجیم ثم جیم معھما مقرونۃ مع احرف بوزان
    جبر وارجاء وجیم تجھم متامل الجموع فی المیزان
    فاحکم بطالعھا لمن حصلت لہ بخلاصہ من ربقۃ الایمان([2])​
    [/FONT]
    (جیم اور جیم پھر ان کے ساتھ تیسرا جیم جووزن میں یکساں حروف ہیں
    جبر اور ارجاء اور تجہم پس اس مجموعہ کو میزان میں تولو اور غور کرو
    اس کے ذریعہ ان پر وہ حکم لگا دو جو ایمان کا پٹہ گلے سے اتار پھینکنے کے نتیجے میں لگتا ہے)​
    یعنی انہوں نے جبر اور تجہم اور ارجاء کے تین جیموں کو جمع کردیا اور چوتھا جیم ان کا نتیجہ جہنم ہے۔
    حاصل کلام یہ ہے کہ یہ جہمیہ کا مذہب ہےجو کہ اسماء وصفات کے انکار کرنے کے سبب سے مشہور ہے۔ پھر اس سے دیگر فرقے جیسے معتزلہ، اشاعرہ اور ماتریدیہ پیدا ہوئے۔
    [FONT="Al_Mushaf"]المعتزلۃ[/FONT]
    معتزلہ کا مذہب یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کے اسماء کو مانتے ہیں لیکن صفات کے منکر ہیں، بس وہ مجرد یعنی صفت سے عاری اسم مانتے ہیں۔ اسماء الہی مجرد الفاظ ہيں کہ جن کا نہ کوئی معنی ہے اور نہ صفت ۔
    انہیں معتزلہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ ان کے امام واصل بن عطاء مشہور جلیل القدر تابعی امام حسن بصری " کے شاگرد ہوا کرتے تھے۔ جب اس نے امام حسن بصری " سے کبیرہ گناہ کے مرتکب کے حکم کے بارے میں پوچھا؟ تو آپ نے اہل سنت والجماعت کا جو قول ہے وہی فرمایا: "انہ مؤمن ناقص الایمان، مؤمن بایمانہ فاسق بکبیرتہ" (وہ ناقص الایمان مومن ہے، اپنے ایمان کی وجہ سے مومن ہے اور کبیرہ گناہ کی وجہ سے فاسق ہے)۔
    مگر واصل بن عطاء اپنے شیخ کے اس جواب سے راضی نہ ہوا تو اس نے اعتزال (کنارہ کشی) اختیار کرلی اور کہا: نہیں، میں ایسے کبیرہ گناہ کے مرتکب کو نہ مومن سمجھتاہوں اور نہ کافر بلکہ وہ تو منزل بین المنزلتین (دو منزلوں کے درمیان ایک منزل) پر ہے۔
    پس اس نے اپنے شیخ حسن " کا حلقہ چھوڑ کر مسجد کے ایک کونے میں جگہ اختیار کرلی اور آہستہ آہستہ اوباش قسم کے لوگ اس کے گرد جمع ہوگئے اور اس کے قول کے قائل ہوگئے۔ یہی حال ہوتا ہے گمراہی کے داعیان کا ہر دور میں کہ لازمی طور پر بہت سے لوگ ان کی طرف لپکے جاتے ہیں، اس میں بھی اللہ تعالی کی عظیم حکمتیں پنہاں ہیں۔
    انہوں نے حسن جو کہ اہل سنت کے امام اور شیخ تھے کی مجلس جو کہ خیر وعلم کی مجلس تھی کو چھوڑ کر اس گمراہ اور گمراہ گر معتزلی واصل بن عطاء کی مجلس اختیار کی۔
    اس کے مشابہ بہت سے لوگ ہمارے اس زمانےمیں بھی پائے جاتے ہیں جو علماء اہل سنت والجماعت کی مجلس چھوڑ کر منحرف فکر کے مفکرین کی مجالس کو اختیار کرلیتے ہیں۔ پس آپ انہیں پائی گے کہ انہی کی کیسٹوں اور کتابوں کی شدید حرص کرتے ہیں اور انہی پر قناعت کرکے بیٹھ جاتے ہیں ۔ اگر آپ ان سے کہیں کہ اس میں ایسی باتیں ہیں جو عقیدۂ اہل سنت والجماعت اور سلف صالحین کے خلاف ہے جیسے خلق قرآن ، یا تاویل صفات باری تعالی، یا پھر حکمرانوں کے خلاف لوگوں کو ابھارنا وغیرہ۔ تو وہ کہتے ہیں کہ: یہ تو معمولی سے غلطیاں ہیں جو اس کتاب کی قرأت اور اس کی تقاریر سننے میں کوئی مانع نہیں، حالانکہ ہمارے سلف وخلف علماء کی کتب میں وہ کچھ ہے جو ان کی کتابیں پڑھنے سے ہمیں مستغنی کردیتا ہے۔ تو جو کوئی ان کی بات سنتاہے اسے وہ اس طرح سے گمراہ کرتے ہیں۔۔۔
    ﴿[FONT="Al_Mushaf"]لِيَحْمِلُوا أَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمِنْ أَوْزَارِ الَّذِينَ يُضِلُّونَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ أَلَا سَاءَ مَا يَزِرُونَ[/FONT]﴾
    (النحل: 25)
    (تاکہ یہ لوگ اپنے کامل بوجھ بھی بروزقیامت اٹھائیں اور ان کے بھی جنہیں بغیر علم کے انہوں نے گمراہ کیا، کتنا ہی برا بوجھ ہے جو وہ اپنے سر لے رہے ہیں)​
    کیا یہ لوگ جانتے نہیں کہ ہمارے سلف صالحین تو اس سے بھی بائیکاٹ کرجایا کرتے تھے جو صرف ایک بدعت میں مبتلا ہوتا یا پھر صرف ایک صفت الہی کی تاویل کرتا؟
    دیکھیں یہ امام عبدالوہاب بن عبدالحکم الوراق " ہیں جو اصحاب امام احمد " میں سے ہیں ان سے ابو ثور کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: (میں اس کے بارے میں وہی مؤقف رکھتا ہوں جو امام احمد " کا ہے کہ ابو ثور اور جو اس کے قول کا قائل ہو ان سب سے بائیکاٹ کیا جائے)۔
    یہ صرف اس لیے کہ اس نے صورت الہی سے متعلق جو حدیث ہے اس کی ایسی تاویل کی جو سلف کے قول کے خلاف تھی۔
    جب اس کا یہ حال ہے تو اس شخص کا کیا حال ہوگا کہ جس کی غلطیوں کو بیان کرنے کے لیے کتابیں در کتابیں بھر دی جاتی ہیں؟؟!
    اس کے باوجود آپ ان میں سے بعض کو یہ کہتا ہوا پائیں گے کہ: یہ تو معمولی سے غلطیاں ہیں جو اس کی کتب پڑھنے میں مانع نہیں!!۔ فلاحول ولاقوۃ الا باللہ۔
    پس یہ لوگ اس وقت سے معتزلہ کے نام سے پہچانے جانے لگے کیونکہ انہوں نے اہل سنت والجماعت سے اعتزال (دوری) اختیار کی۔ انہوں نے اللہ تعالی کی صفات کا انکار کیا اور اسماء کو صفات سے عاری محض بے صفت کا نام ثابت کیا۔ اور مرتکب کبیرہ گناہ کے بارے میں آخرت کے تعلق سے وہی خوارج کے قول کے قائل ہوگئے کہ وہ ہمیشہ ہمیش کے لیے جہنم میں رہے گالیکن دنیا کے معاملے میں خوارج سے تھوڑا اختلاف کیا اور کہا کہ وہ دو منزلوں کے مابین ایک منزل میں ہے یعنی نہ مومن ہے نہ کافر۔ جبکہ خوارج اسے سیدھا کافر کہتے ہیں۔
    سبحان اللہ! کیا کوئی یہ عقیدہ رکھ سکتا ہے کہ انسان نہ مومن ہو اور نہ ہی کافر؟!۔
    اللہ تعالی تو فرماتے ہیں:
    ﴿[FONT="Al_Mushaf"]هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَمِنْكُمْ مُؤْمِنٌ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ[/FONT]﴾
    (التغابن: 2)
    (اسی اللہ تعالی نے تمہیں پیدا کیا پس تم میں سے کوئی کافر ہے تو کوئی مومن)​
    یہ نہیں فرمایا کہ تم میں سے کوئی المنزلۃ بین المنزلتین (دو منزلوں کے مابین کسی منزل) پر ہے، لیکن کیا یہ لوگ کچھ فقہ وفہم رکھتے بھی ہیں؟؟۔
    پھر اس معتزلہ مذہب سے اشاعرہ مذہب پیدا ہوا۔

    [FONT="Al_Mushaf"]الاشاعرۃ[/FONT]
    اور اشاعرہ کی نسبت امام ابو الحسن الاشعری " کی طرف ہے۔
    امام ابو الحسن الاشعری پہلے معتزلی تھے پھر اللہ تعالی نے ان پر کرم فرمایا اور انہیں معتزلی مذہب کا باطل ہونا معلوم ہوگیا۔ پس وہ جمعہ کے دن مسجد میں کھڑے ہوئے اور معتزلی مذہب سے اپنی برات کا اعلان فرمایا اور اپنے پہنا ہوا کپڑا اتار دیا اور کہا: (میں نے معتزلی مذہب کو اسی طرح سے اپنے سے اتار پھینکا ہے جیسے یہ کپڑا اتار دیا ہے)([3])۔ لیکن اسے چھوڑ کر انہوں نے کلابیہ کے مذہب کو اپنا لیا جوعبداللہ بن سعید بن کلاب کے متبعین ہیں۔
    اور یہ عبداللہ بن سعید بن کلاب محض سات صفات الہی کو مانتا تھا اور ان کے علاوہ تمام کی نفی کرتا تھا اور کہتا تھا: (کیونکہ عقل ان سات صفات کےعلاوہ کسی کو تسلیم نہیں کرتی، اور وہ یہ ہیں: 1- العلم(علم)، 2- القدرۃ(قدرت)، 3- الارادۃ(ارادہ)، 4- الحیاۃ(زندگی)، 5- السمع(سننا)، 6- البصر(دیکھنا)، 7- الکلام(کلام کرنا)) اور کہا کہ: (یہ وہ صفات ہیں جنہیں ہماری عقل مانتی ہے اور ان پر دلالت کرتی ہے، اس کے علاوہ جن صفات پر ہماری عقل دلالت نہیں کرتی تو وہ ہمارے نزدیک ثابت نہیں)
    پھر مزید اللہ تعالی نے امام ابو الحسن الاشعری " پر کرم فرمایا اور انہوں نے کلابیہ کا مذہب بھی چھوڑ دیا اور امام احمد بن حنبل " کے مذہب کی جانب رجوع کیا اور فرمایا: (میں وہی کہتا ہوں جو امام اہل سنت والجماعت احمد بن حنبل " کہتے ہیں کہ اللہ تعالی اپنے عرش پر مستوی (بلند) ہے، اور اس کا ہاتھ ہے اور اس کا چہرہ ہے(جیسا کہ اس کی شایان شان ہے)) یہ بات انہوں نے اپنی کتاب "[FONT="Al_Mushaf"]الابانۃ عن اصول الدیانۃ[/FONT]" میں ذکر فرمائی۔ اور اپنی دوسری کتاب "[FONT="Al_Mushaf"]مقالات الاسلامیین واختلاف المصلین[/FONT]"([4]) میں فرمایا: (میں امام احمد بن حنبل " کے مذہب پر ہوں)۔ اگرچہ کچھ مخالفات پھر بھی ان کے یہاں باقی رہ گئی تھیں۔
    لیکن ان کے متبعین کلابیہ کے مذہب پر باقی رہے اور آج بھی غالب اکثریت جو ان کی طرف نسبت کرکےاشعری کہلاتے ہیں وہ ان کے قدیم مذہب کلابیہ پر عمل پیرا ہیں۔
    چونکہ امام ابو الحسن مذہب اہل سنت والجماعت کی جناب رجوع فرماچکے تھے لہذا ان کی جانب اب یہ نسبت کیے رکھنا ان پر ظلم ہے۔ بلکہ صواب قول یہ ہے کہ یہ کہا جائے: ہم اشعری نہیں بلکہ کلابیہ کے مذہب پر ہیں کیونکہ امام ابوالحسن " تو ان باتوں سے رجوع فرماچکے تھے۔ اور اس بارے میں اپنی کتاب "الابانۃ عن اصول الدیانۃ" تک لکھی جس میں صراحتاً اپنے رجوع کا اور اہل سنت والجماعت سے اور خصوصاً امام احمد بن حنبل " سے تمسک کا اعلان فرمایا۔ اگرچہ پھر بھی کچھ مخالفات ان کے یہاں باقی رہ گئی تھیں جیسے کلام اللہ کے بارے میں کہتے ہیں: (وہ معنی نفسی ہےجو ذات کے ساتھ قائم ہے جبکہ قرآن کریم تو کلام اللہ سے محض حکایت یا عبارت ہے نہ کہ وہ خود کلام اللہ ہے)([5])۔
    یہ تھا مذہب اشاعرہ([6]) جو مذہب معتزلہ سے نکلا تھا۔
    اور مذہب معتزلہ مذہب جہمیہ سے نکلا تھا۔
    اس کے بعد اس کی اور بھی فروعات نکلتی گئیں جن سب کی اصل جڑ یہی مذہب جہمیہ ہے۔
    چناچہ تقریباً یہی تمام فرقوں کے اصول یا جڑ ہیں جو بالترتیب مندرجہ ذیل ہيں:
    1- القدریہ
    2- الشیعہ
    3- الخوارج
    4- الجہمیہ۔

    یہ ہیں تمام پیدا ہونے والے فرقوں کی اصل جڑیں۔
    اس کے بعد یہ مزید فرقہ در فرقہ تقسیم ہوتے گئے اور اتنے فرقے بن گئے کہ جنہیں اللہ تعالی کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور فرقوں کے بارے میں باقاعدہ کتب تصنیف کی گئیں جیسے:
    [FONT="Al_Mushaf"]کتاب: "الفرق بین الفِرَق" للبغدادی۔
    کتاب: "الملل والنحل" لعبدالکریم الشھرستانی۔
    کتاب: "الفصل فی الملل والنحل" لابن حزم۔
    کتاب: "مقالات الاسلامیین واختلاف المصلین" لابی الحسن الاشعری۔[/FONT]
    یہ تمام کتابیں فرقوں کے بیان ان کی شاخیں، تعداد، اختلاف وترقی کے مراحل وغیرہ کے بیان کے بارے میں ہیں۔
    اور آج تک ہمارے زمانے میں بھی یہ فرقے مزید فرقے در فرقے بنتے جارہے ہیں اور بڑھتے جارہے ہیں، جن سے مزید مذاہب پھوٹتے جارہے ہیں، اور نئے نئے جدید افکار وخیالات اسی اصل فرقے سے پیدا ہوتی جارہے ہیں۔ اورحق پر تاقیام قیامت ہر زمان ومکان میں سوائے اہل سنت والجماعت کے اور کوئی باقی نہیں رہے گا، جیسا کہ رسول اکرم e کا فرمان ہے: ‘‘[FONT="Al_Mushaf"]لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ لا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ وَلا مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ عَلَى ذَلِكَ[/FONT]’’([7]) (میری امت کا ایک چھوٹا سا گروہ حق پر قائم رہے گا، ان کا ساتھ چھوڑنے والا یا ان کی مخالفت کرنے والا انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالی کا حکم (قیامت) آجائے اور یہ گروہ اسی حق پر قائم ہوگا)
    [FONT="Al_Mushaf"](المحاضرات فی العقیدۃ والدعوۃ، محاضرۃ رقم 47)
    [/FONT]

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    حواشی

    [1] تفسیر ابن کثیر 3-69 تفسیر آیت 110 الاسراء۔
    [2] [FONT="Al_Mushaf"]نونیۃ ابن القیم[/FONT] ص 115۔
    [3] شیخ ربیع المدخلیؒ فرماتے ہیں کہ آجکل بہت سے لوگ فلاں فلاں عالم یا داعیان کے لیے دعوی کرتے ہیں اور ان کا دفاع کرتے ہیں کہ انہوں نے فلاں باطل قول، منہج یا عقیدے سے رجوع کرلیا ہے لیکن وہ اپنے پرانے عقیدے کے باطل ہونے اور اپنی توبہ وصحیح عقیدے کا علی الاعلان اقرار نہیں کرتے کہ لوگوں پر بھی ان کا رجوع وتوبہ ظاہر ہو تاکہ کوئی گمراہی میں نہ رہے اور حجت تمام ہو۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا بھی فرمان ہے: "[FONT="Al_Mushaf"]إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا وَأَصْلَحُوا وَبَيَّنُوا فَأُولَئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ[/FONT]" (البقرۃ: 160) (سوائے ان کے جو توبہ کریں اور اپنی اصلاح کرلیں اور حق بات سب کو بیان کردیں، تو ایسوں کی میں توبہ قبول کرتا ہوں، اور میں بہت توبہ قبول کرنے والا اور رحیم ہوں) جس کی مثالوں میں سے امام ابو الحسن اشعری " کا یہ واقعہ بھی ہے۔ (ط ع)
    [4] بعض اشعری مذہب والوں کا ان کتابوں کی نسبت امام اشعری کی جانب ہونے کا انکار کرنا محض تکبر ہے۔ (ط ع)
    [5] شیخ ابن عثیمین " [FONT="Al_Mushaf"]شرح لمعۃ الاعتقاد[/FONT] میں فرماتے ہیں کہ: (اللہ تعالی کے لیے صفت "الکلام" کے ثابت ہونے پر سلف صالحین کا اجماع ہے، لہذا اللہ تعالی کے لیے صفت کلام کو بلاتحریف، بلاتعطیل(انکار)، بلاتکییف(کیفیت بیان کیے) اور بلاتمثیل(مثال بیان کیے) ثابت کرنا ضروری ہے، اور وہ حقیقی کلام ہے، بالکل ویسا جیسا اس کی ذات کے لائق ہے اور اس کاکلام فرمانا اس کی مشیئت (ارادے)کے تابع ہے اور وہ حروف اور سنی جانے والی آوازوں کے ساتھ کلام فرماتا ہے۔۔۔) پھر شیخ جہمیہ جو صفت کلام کے انکاری ہے کا رد فرماتے ہیں۔۔ اس کے بعد اہل سنت والجماعت کے صفات کلام کے تعلق سے دوسرے مخالف اشاعرہ کا عقیدہ بیان کرکے اس کا رد فرماتے ہیں کہ: (اشعریہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالی کا کلام فرمانا اس کی ایک صفت ہے جو اس کی ذات کے ساتھ قائم ہے لیکن اس کی مشیئت سے متعلق نہیں ہے، اور یہ سنے جانے والے حروف واصوات (آوازیں) اللہ تعالی کی مخلوق ہیں جو اس نے اپنی صفت کلام جو اس کی ذات کے ساتھ قائم ہے کی محض تعبیر کے لیے پیدا فرمائے ہیں۔ ہم ان کے اس نظریہ کی درج ذیل وجوہ سے تردید کرتے ہیں۔
    1- یہ نظریہ اجماع سلف کے خلاف ہے۔
    2- یہ نظریہ مذکورہ دلائل کے برخلاف ہے، جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالی کا کلام سنائی دینے والی چیز ہے۔ اور یہ بات مسلم ہے کہ سنائی آواز ہی دیتی ہے نہ کہ وہ معنی جو قائم بذاتہ ہے۔
    3- یہ نظریہ عرف عام کے بھی خلاف ہے ، کیونکہ عرف عام میں کلام اس چیز کو کہا جاتاہے جو متکلم بولتا ہے نہ کہ اس چیز کو جو وہ اپنے دل میں چھپاتا ہے۔
    کلام اللہ کے حروف ہونے کی دلیل اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے: "[FONT="Al_Mushaf"]يَا مُوسَى، إِنِّي أَنَا رَبُّكَ[/FONT]" (طہ: 11-12) (اے موسی بے شک میں ہی تیرا رب ہوں) اس آیت میں " [FONT="Al_Mushaf"]إِنِّي أَنَا رَبُّكَ[/FONT]" حروف کا مرکب ہے اور یہی اللہ تعالی کا کلام ہے۔
    کلام اللہ کے صوت (آواز) ہونے کی دلیل اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے: "[FONT="Al_Mushaf"]وَنَادَيْنَاهُ مِنْ جَانِبِ الطُّورِ الْأَيْمَنِ وَقَرَّبْنَاهُ نَجِيًّا[/FONT]" (مریم: 52) (ہم نے اسے طور کی دائیں جانب سے آواز دی اور رازگوئی کرتے ہوئے اسے قریب کرلیا) نداء (آواز دینا) اور مناجات (سرگوشی کرنا) بغیر آواز کے ممکن نہیں۔ نیز عبداللہ بن انیس t سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: "[FONT="Al_Mushaf"]يَحْشُرُ اللَّهُ الْعِبَادَ فَيُنَادِيهِمْ بِصَوْتٍ يَسْمَعُهُ مَنْ بَعُدَ كَمَا يَسْمَعُهُ مَنْ قَرُبَ أَنَا الْمَلِكُ أَنَا الدَّيَّانُ[/FONT]" (امام بخاری نے صحیح بخاری میں دو مقامات پر اسے تعلیقاً ذکر فرمایا ہے اور شیخ البانی نے تخریج السنۃ (514) میں اسے صحیح فرمایا ہے) (اللہ تعالی قیامت کے دن تمام مخلوق کو جمع فرمائے گا پھر ان سب کو آواز سے پکارے گا، جسے دور وقریب والے یکساں طور پر سنیں گے: میں بادشاہ ہوں، میں ہی بدلہ دینے والا ہوں) اس کے بعد شیخ " نے کلام الہی سے متعلق اور بھی سلفی قواعد بیان فرمائے ہیں دیکھیں ص 89کے بعد سے [FONT="Al_Mushaf"]شرح لمعۃ الاعتقاد[/FONT] اردو ترجمہ بعنوان عقائد سلف صالحین۔ (ط ع)
    [6] الماتریدیہ جو کہ امام ابوالحسن ماتریدی کے پیروکار ہیں ان کے بھی تقریبا ًوہی عقائد ہیں جو اشاعرہ کے ہیں سوائے کچھ معمولی فرق کے۔ دکتور الشمس السلفی الافغانی "[FONT="Al_Mushaf"] اپنی مایہ نازکتاب "الماتردیۃ[/FONT]" جو کہ مدینہ یونیورسٹی میں آپ کا ماسٹرز کا رسالہ تھا اور جو تین بڑی مجلدات پر مبنی ہے میں پورا ایک باب اشعریہ وماتریدیہ میں فرق کے بارے میں مختص فرمایا ہے، اس کی ابتداء میں فرماتے ہیں کہ: آئمہ اسلام کی شہادتوں سے ہم اس بات پر پہنچتے ہیں کہ اشعری وماتریدی دراصل اہل قبلہ میں سے ایک ہی فرقہ ہیں جو اہل سنت والجماعت سے خارج ہیں، ان کے درمیان بہت معمولی سا فرق ہے اس میں سے بھی غالب اختلاف تو محض لفظی ہے ناکہ حقیقی۔ جیسے فقہی مذہب کے اعتبار سے اشاعرہ شافعی ہوتے ہیں اور ماتریدیہ حنفی۔ جغرافیائی اعتبار سے حنیفہ کی جہاں جہاں حکومت ہوئی وہاں ان کا مذہب عام ہے جیسے ہندوستان اور اس کے قرب وجوار کے ممالک جیسے چین، بنگلہ دیش، پاکستان وافغانستان، اسی طرح سے ترکی، روم، فارس اور ماوراء النہر مراکش وغیرہ میں۔ جبکہ اشاعرہ عراق، شام، مصر، مغرب میں۔ اس کے بعد شیخ " نے ان کے نظریاتی اختلاف کا ذکر کیا ہے جن کی تعداد مختلف علماء نے مختلف بتائی ہے آپ نے تیرہ کی تعداد کا ذکر فرمایا ہے جن میں سے چھ معنوی ہیں اور سات لفظی۔ تفصیل کے لیے دیکھیں (الماتریدیہ ج 1 ص 448) (ط ع)
    [7] اس کی تخریج گزر چکی ہے۔

    [/FONT]
     
  7. محمد عرفان

    محمد عرفان -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 16, 2010
    پیغامات:
    764
    جزاک اللہ خیرا بھائی
     
  8. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    اہل سنت والجماعت

    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    [font="al_mushaf"]لمحۃ عن الفرق الضالۃ

    گمراہ فرقوں کا مختصر تعارف

    فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان (حفظہ اللہ)


    ترجمہ
    طارق علی بروہی


    اہل سنت والجماعت
    الحمدللہ اہل سنت والجماعت القدریة النفاۃ کی مخالفت کرتے ہیں پس وہ تقدیر پر ایمان لاتے ہیں۔ بلکہ یہ ایمان کے چھ ارکان میں سے ایک ہے۔ اور اس کائنات میں اللہ تعالی کی قضاء وقدر کے بغیر کوئی چیز نہیں ہوتی، کیونکہ وہی الخّلاق، الرب، المالک، المتصرف ہے:
    ﴿[font="al_mushaf"]اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ (62) لَهُ مَقَالِيدُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ[/font]﴾
    (الزمر: 62-63)
    (اللہ تعالی ہی ہر چیز کاخالق ہے اور وہی ہر چیز کارساز ہے، اسی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی کنجیاں)​
    اس کائنات میں کوئی اللہ تعالی کی مشیئت، ارادے، قدرت اور تقدیر کے بغیر تصرف نہیں کرسکتا۔
    اللہ تعالی کا علم کہ جو ہوا اور جو ہوگا ازل سے ہے پھر اسے لوح محفوظ میں لکھا گیا، پھر اس سبحانہ وتعالی نے چاہا اور ایجاد کیا اور تخلیق فرمایا۔
    مگر ہاں بندے کی بھی مشئیت، کسب واختیار ہے۔ ایسا نہیں کہ اس کے تمام ارادے واختیار ہی سلب کرلیے گئے ہیں اور وہ اپنے افعال کرنے پر مجبور ہے جیسا کہ الجبریۃ الغلاۃ کہتے ہیں، لہذا اہل سنت ان کی بھی اس بات میں مخالفت کرتے ہیں۔
    اسی طرح سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارےمیں ان کا مذہب ہے کہ وہ تمام صحابہ سے محبت کرتے ہیں خواہ اہل بیت میں سے ہوں یا ان کے علاوہ، وہ تمام صحابہ کرام سے محبت کرتے ہیں چاہے مہاجرین ہوں یا انصار اور جنہوں نے بطور احسن ان کی اتباع کی، اور اس بارے میں اللہ تعالی کے اس قول کی تابعداری کرتے ہیں کہ:
    ﴿[font="al_mushaf"]وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا[/font]﴾
    (الحشر: 10)
    (اور جو لوگ ان کے بعد آئے وہ کہتے ہیں: اے ہمارے رب !ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی بخش دے جو ایمان کی حالت میں ہم سے پہلے گزر چکے ہیں، اور ایمان والوں کے بارے میں ہمارے دل میں کسی بھی قسم کا کینہ نہ باقی رکھ)
    لہذا اس طور پر وہ شیعہ کی مخالفت کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ صحابہ کرام میں تفریق کرتے ہیں کہ بعض سےتو محبت کرتے ہیں اور بعض سے دشمنی۔ لیکن اہل سنت والجماعت تمام کے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے دوستی رکھتے ہیں ان سے محبت کرتے ہیں۔ البتہ صحابہ میں بعض کوبعض پر فضلیت حاصل ہے جیسا کہ ان میں سے سب سے افضل خلفاء راشدین ہیں پھر باقی عشرہ مبشرہ میں سے پھر مہاجرین انصار سے افضل ہیں، اسی طرح سے بدری صحابہ اور بیعت رضوان والوں کو خصوصی فضلیت حاصل ہے۔ اور ان سب کے مختلف فضائل ہیں ۔
    اسی طرح سے اہل سنت والجماعت حکمرانوں کی بات سننے اور اطاعت کرنے کا عقیدہ رکھتے ہیں خوارج کے برخلاف وہ اپنے والیان امر (حاکم، امیر، وزیر، خلیفہ، سلطان، بادشاہ) کی سماعت واطاعت کا عقیدہ رکھتے ہیں اور ان کے خلاف خروج کو جائز نہیں سمجھتے، اگرچہ اس سے کوئی غلطی ہی کیوں نہ سرزد ہوتی ہو جب تک وہ کفر وشرک سے کم تر ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے حکمرانوں کے خلاف محض معاصی وگناہوں کے بنیاد پر خروج کرنے سے منع فرمایا ہے: ‘‘[font="al_mushaf"]إِلا أَنْ تَرَوْا كُفْرًا بَوَاحًا عِنْدَكُمْ فِيهِ مِنَ اللَّهِ بُرْهَانٌ[/font]’’[۱] (الا یہ کہ تم کوئی کھلم کھلا کفر دیکھو، جس کے بارے میں تمہارے پاس اللہ تعالی کی طرف سے واضح دلیل ہو)
    اسی طرح سے وہ جہمیہ اور ان سے نکلنے والے دیگر اسماء وصفات الہیہ کے باب میں گمراہ فرقوں کی مخالفت کرتے ہیں۔ پس وہ ہر اس صفت پر ایمان لاتے ہیں جس سے خود اللہ تعالی نے اپنے آپ کو یا اس کے نبیﷺ نے اسے موصوف فرمایا ہے، اور اس بارے میں کتاب وسنت کی بلا تشبیہ، بلاتمثیل، بلاتحریف وتعطیل پیروی کرتے ہیں، اللہ تعالی کے اس فرمان کے بموجب:
    ﴿[font="al_mushaf"]لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ[/font]﴾
    (الشوری: 11)
    (اس (اللہ) جیسی کوئی چیز نہیں، اور وہ سنتا اور دیکھتا ہے)​
    چناچہ اہل سنت والجماعت تمام ابواب اور تمام مسائل میں پورے کے پورے حق کو جمع کرنے والے ہیں۔ اور ہر اس گمراہی کے مخالف ہیں جن پر گمراہ فرقے اور باطل گروہ گامزن ہیں۔
    اب جو کوئی اپنی نجات کا واقعی خواستگار ہے تو اس کے سامنے یہ جماعت برحق اہل سنت والجماعت موجود ہے۔
    اور عبادت کے باب میں بھی اہل سنت والجماعت اللہ تعالی کی عبادت اس کی بتائی ہوئی شریعت کے مطابق کرتے ہیں برخلاف صوفیوں، بدعتیوں اور خرافیوں کے جو اپنی عبادتوں وریاضتوں میں کتاب وسنت کے پابند نہیں، بلکہ اس بارے میں وہ اسی رسم الخط کی اندھی پیروی کرتے ہیں جو ان کے طرق وسلاسل کے مشائخ وپیر حضرات اور گمراہ کن آئمہ ضلالت ان کے لیے مقرر کردیتے ہیں۔
    اللہ تعالی سے دعاء ہے کہ وہ اپنے کرم وفضل سےمجھے اور آپ کو بھی اہل سنت والجماعت میں شامل فرمادے۔ اور ہمارے لیے حق کو بطورحق ظاہر کرکے اس کی اتباع کی توفیق دے اور باطل کو بطور باطل ظاہر کرکے اس سے اجتناب کی توفیق دے۔ بے شک وہ سننے والا اور دعائوں کو قبول کرنے والا ہے۔
    میری یہی کچھ گزارشات تھیں۔۔۔[font="al_mushaf"]وصلی اللہ وسلم علی نبینا محمد وآلہ وصحبہ۔[/font]

    درس کے آخر میں ہونے والے سوال وجواب
    دین میں غلو کرنا ہی فرقوں کے انحراف کا اہم سبب ہے
    سوال 1: یقیناً اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ نے دین میں غلو کرنے سے منع فرمایا ہے، تو کیا ان فرقوں کے اہل سنت والجماعت کے طریقے سے ہٹ کر گمراہ ہونے کا سبب دین میں غلو کرنا ہے؟ اور اس کی مثالیں ان فرقوں میں سے دیجئے؟
    جواب: خوارج کو دیکھ لیجئے ان کا انحراف کا سبب دین میں غلو کرنا ہی تھا۔ کیونکہ انہوں نے عبادت میں بلاہدایت وبصیرت کے شدت اختیار کی۔ اور لوگوں پر بلابصیرت کفر کا فتوی لگایامحض اس لیے کیونکہ انہوں نے ان کے مذہب کی پیروی نہیں کی۔
    بلاشبہ دین میں غلو کرنا ہی اس مصیبت وبلاء کی اساس ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے:
    ﴿[font="al_mushaf"]قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لَا تَغْلُوا فِي دِينِكُمْ[/font]﴾
    (المائدۃ: 77)
    (کہو اے اہل کتاب تم اپنے دین میں ناحق غلو نہ کرو)​
    اور آپ ﷺ نے فرمایا: ‘‘[font="al_mushaf"]إِيَّاكُمْ وَالْغُلُوَّ ، فَإِنَّمَا أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ الْغُلُوُّ[/font]’’[2] (تم غلو سے بچو، کیونکہ تم سے پہلوں کو اس غلو نے ہی ہلاک وبرباد کیا تھا) اور کسی بھی چیز میں غلو کا مطلب ہے مطلوبہ حد سے تجاوز کرجانا: "وکل شيء تجاوز حدہ انقلب الی ضدہ" (اور کوئی بھی چیز جب اپنی حد پھلانگ جاتی ہے تو وہ اپنی ضد کی طرف پلٹ جاتی ہے)
    ہم پاتے ہیں کہ اللہ تعالی کی صفات کو معطل قرار دینے والے معطلہ کے انحراف کا سبب اللہ تعالی کی تنزیہ (پاک قرار دینے) میں غلو تھا (کہ اللہ تعالی کو اس کی شایان شان صفات سے بھی محض مخلوق سے تشبیہ کے خودساختہ گمان کی وجہ سے پاک قرار دیتے ہوئے تمام صفات کا انکار کردیا)۔ اور ممثلہ ومشبہہ (جو اللہ تعالی کی مخلوق سے تشبیہ کرتے ہیں) کے انحراف کا سبب صفات الہیہ کے اثبات میں غلو تھا (کہ معطلہ کے برعکس انکار کے بجائے صفات کو ثابت کرنے میں غلو کرتے ہوئے اسے مخلوق کے مشابہ قرار دیا)۔
    پس غلو کسی بھی معاملے میں مصیبت ووبال ہے اور وسط (میانہ روی) واعتدال تمام امور میں خیر ہے۔
    بلاشبہ غلو کا اپنی شدت یا کمی کے اعتبار سے مختلف فرقوں کی حق سے گمراہی میں بڑا کردار ہے۔

    حدیث: میری یہ امت بھی تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی سےمتعلق سوال
    سوال 2: فضیلۃ الشیخ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ‘‘[font="al_mushaf"]سَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً[/font]’’[3] (میری یہ امت بھی تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی) کیا یہ عدد محصور ہیں یا نہیں؟
    جواب: یہ حصر کے لیے نہیں ہے، کیونکہ فرقے تو بہت زیادہ ہیں، اگر آپ فرقوں سے متعلق کتب کا مطالعہ کریں گے تو اس سے کئی زیادہ فرقے پائیں گے۔ لیکن واللہ اعلم یہ تہتر فرقے دیگر فرقوں کی اصل اور بنیادیں ہیں پھران اصل فرقوں میں سے کافی سارے ذیلی فرقے پھوٹے ہیں۔
    موجودہ دور میں اہل سنت والجماعت کی مخالف جو مختلف دینی جماعتیں ہیں وہ بھی تو انہیں اصل فرقوں کی فروعات اور شاخیں ہی ہیں۔

    فرقۂ ناجیہ (نجات پانے والا فرقہ) اور طائفہ منصورہ (اللہ تعالی کا مددیافتہ گروہ) میں فرق
    سوال 3: کیا فرقۂ ناجیہ اور طائفہ منصورہ میں فرق ہے؟
    جواب: کبھی نہیں، فرقۂ ناجیہ ہی منصورہ (اللہ تعالی کا مدد یافتہ )ہے۔ ناجیہ ہو نہیں سکتا جب تک منصورہ نہ ہو اور منصورہ ہو نہیں سکتا جب تک ناجیہ نہ ہو(فرقہ ناجیہ اور منصورہ ایک ہی جماعت ہے)۔یہ ان کے اوصاف ہیں "اہل سنت والجماعت"، "فرقۂ ناجیہ" اور "طائفہ منصورہ"۔
    جو شخص ان صفات میں فرق کرنا چاہتا ہے کہ بعض کو اس صفت سے موصوف کرتا ہے اور بعض کو دوسری سے، ایسا شخص دراصل اہل سنت والجماعت میں تفرقہ پیدا کرنا چاہتا ہے، اس طور پر کہ بعض کو وہ فرقۂ ناجیہ میں شمار کرتا ہے اور بعض کو طائفہ منصورہ میں۔
    اور یہ واضح غلطی ہے کیونکہ یہ تو جماعت واحدہ (ایک جماعت) ہے جس میں تمام صفات کمال ومدح جمع ہوجاتی ہیں اور یہ اہل سنت والجماعت ہیں، یہی فرقہ ناجیہ اور طائفہ منصورہ ہیں۔ اور یہی "[font="al_mushaf"]الباقون علی الحق الی قیام الساعۃ[/font]" (تاقیام قیامت حق پر قائم رہنے والے) ہیں، اور یہی "[font="al_mushaf"]الغرباء فی آخر الزمان[/font]" (آخری دور میں غرباء واجنبی ) ہیں۔

    ([font="al_mushaf"]المحاضرات فی العقیدۃ والدعوۃ، المحاضرہ رقم 47 جلد دوم[/font])
    (کتاب کا اختتام ہوا)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    حواشی

    [1] [font="al_mushaf"]البخاری الفتن 6647، مسلم الامارۃ 1709، جزء من حدیث عبادۃ بن الصامت ولفظہ[/font]: "[font="al_mushaf"]دعانا رسول اللہ ﷺ فبایعناہ، فقال فیما اخذ علینا، ان بایعنا علی السمع۔۔۔[/font] " (ہمیں رسول اللہ ﷺ نے بلایا پس ہم نے آپ ﷺ کی بیعت کی۔ جو بیعت آپ ﷺ نے ہم سے لی وہ یہ تھی کہ ہم (حکمرانوں کی) سنیں اور اطاعت کریں خواہ چستی کی حالت میں ہوں یا دل نہ چاہنے کی، اور چاہے ہم مشکل حالات میں ہوں یا آسانی میں، (بلکہ) اگرچہ ہم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے (پھر بھی ہم سمع واطاعت کریں گے اور) حکومت والوں سے ان کے منصب کے بارے میں نہیں جھگڑیں گے الا یہ کہ تم کوئی کھلم کھلا کفر ان کی طرف سے خود دیکھو جس کے بارے میں تمہارے پاس اللہ تعالی کی طرف سے واضح دلیل بھی ہو) ۔ ([font="al_mushaf"]رواہ البخاری[/font] (8/87، 88)، [font="al_mushaf"]وسلم[/font] (3/1470) [font="al_mushaf"]برقم[/font] (42)۔
    [2] [font="al_mushaf"]النسائی مناسک الحج (3057)، اخرجہ الامام احمد (1/215، 347)، والنسائی برقم (5/268، 269)، وابن ماجہ برقم (3029)، وابن ابی عاصم (98)، وابن خزیمۃ (4/247)، وابن الجارود فی (المنتقی) برقم (473)، وابن حبان (1011)، والطبرانی فی (الکبیر) برقم (12747)، والحاکم (1/466)، والبیھقی (5/127)، وابو یعلی الموصلی (4/316، 357) من حدیث ابن عباس۔[/font]
    [3] حدیث کی تخریج گزر چکی ہے۔[/font]
     
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں