آخرت پر ایمان کے باوجود بے عملی کیوں ؟

ابوعکاشہ نے 'امام ابن قيم الجوزيۃ' میں ‏ستمبر 13, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,440
    آخرت پر ایمان کے باوجود بے عملی کیوں ؟
    آج اگر کسی انسان کو یقین ہو جائے کہ فلاں جگہ جانے سے کوئی دنیاوی منفعت حاصل ہو گی ، تو سب کچھ چھوڑ کر وہاں کے لیے نکل پڑے ، خواہ وہ جگہ کتنی ہی دور کیوں نہ ہو ، راستے کی پریشانیاں ، سفر کی صعوبات اور زندگی کے دوسرے مسائل اس کے ارادہ اور منزل مقصود کے درمیان کبھی حائل نہ ہوں ـ کیونکہ اس کا ایمان ہے کہ وہاں پہنچ کر اس کے مسائل حل ہو جائیں گئے اور یہ ایمان اس قدر پختہ ہے کہ رکاوٹوں کے کے طوفان اسے منتزلزل نہیں کرتے اور نہ مشکلات کی تیز و تند ہوائیں اس کا کچھ بگار سکتی ہے ـ
    نیر اگرکسی کو دہشت گردی کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی جائے اور وہ سزا آئندہ کل سے نافذ ہونے والی ہو ، پھر اسے ایک آرام دہ خوابگاہ میں داخل کردیا جائے تاکہ کم ازکم اس رات آرام کی نیند سو لے تو کیا وہ پوری چین وسکون سے گزار پائے گا ؟ ہر گز نہیں ، بلکہ خوف و دہشت کا وہ عالم ہو گا کہ زبان و بیان کا دامن جس کی وضاحت سے تنگ اور قلم اس کی کیفیت رقم کرنے سے عاجز ہے ـ
    قرآن و حدیث کے بیان کے مطابق جنت سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں ، اور جہنم سے بڑھ کر کوئی عذاب یاسزا نہیں ، ان دونوں میں سے کسی ایک کو پانے کے لیے کوئی وقت بھی درکار نہیں ـ جہاں اس دنیا سے آنکھیں بند ہوئیں جنت یا جہنم کے آثار وہیں سے دکھائی دینے لگتے ہیں ـ پھر بھی انسان غافل ہے ـ
    یہ بھی ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ انسان دنیاوی معاملات میں ایمان ویقین کے راڈار کے مطابق نقل و حرکت کرتا ہے ـ پھر بھی کیا وجہ ہے کہ ایک مسلمان آخرت پر ایمان ہونے کے باوجود اس کے لیے عمل نہیں کرتا ؟!!
    اس عظیم سوال کا جواب دیتے ہوئے علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے الداء والدواء میں لکھا ہے کہ اس کے کئی اسباب ہو سکتے ہیں :
    1 ـ علم کی کمی اور یقین کی کمزوری ـ انسان کا علم جتنا گہرا ہو گا ، اسی قدر اس کا دل خوب الہی سے سرشار ہو گا اور اس کا علم جتنا سطحی ہوگا اتنا ہی وہ غافل اور لاپرواہ ہو گا ـ اسی یقین میں پختگی لانے کے لیے ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے مردوں کو زندہ ہوتے ہوئے دیکھنے کی خواہش کی تھی ـ جب کہ وہ اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ اللہ مردوں کو زندہ کرنے پرقادر ہے ـ لیکن یہ معلومات غیبی تھی ـ آنکھوں سے دیکھ لینے کی بات ہی کچھ اور ہے ـ مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :'' خبر مشاہدہ کی طرح نہیں ہو سکتی '"
    2- ضعف علم کے ساتھ جب آخرت فراموشی مل جائے یا دنیاوی مشاغل اور معاصی کی وجہ سے دل سے آخرت کی یاد جاتی رہے تو بھی انسان بے عمل ہو بن جاتا ہے ـ اس کے ساتھ ساتھ ـ
    3- خواہشات نفسانی کا غلبہ ـ
    4- شیطان کا مکرو فریب
    5-لمبی تمنائیں رکھنا اورآخرت کا مکروفریب
    6- دنیا کی محبت ،
    7- غفلت و لاپروائی ـ
    8- تاویل پسندی بھی عمل کی راہ میں زبردست رکاوٹ ہے ـ
    یہ مذموم صفات جوں جوں ایک مسلمان کے اندر سرای کرتی جاتی ہیں ، توں توں وہ وایمان و عمل سے دور ہوتا چلا جاتا ہے ـ دنیا اسے ہر چہار جانب سے اس قدر گھیر لیتی ہے کہ آخرت کو یکسر فراموش کرجاتا ہے ـ وہ کس لیے دنیا میں آیا تھا ؟ اسے کیا کرنا چاہے اور کیا نہیں کرنا چاہے ، سب اس کی نگاہوں سے اوجھل ہو جاتا ہے ـ
    اسی ماحول کا شکوہ کرتے ہوئے ؎شیفتہ نے کہا تھا :-

    ؎ کس واسطے ہم آئے ہیں دنیا میں شیفتہ
    اس کا جو دیکھئے تو بہت کم خیال ہے ـ


    اللہ ہمیں زیادہ سے زیادہ نیکی کرنے کی توفیق عنایت فرمائے ـ آمین ـ

    افادات ابن قیم ـ از ابوصفی فیضی ـ

    طباعت ۔عُكاشه
     
  2. irum

    irum -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 3, 2007
    پیغامات:
    31,582
    جزاک اللہ خیرا
     
  3. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,758
    جزاک اللہ خیرا
     
  4. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,638
    جزاکم اللہ خیرا
    آمین
     
  5. ابو عبداللہ صغیر

    ابو عبداللہ صغیر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مئی 25, 2008
    پیغامات:
    1,980
    جزاک اللہ خیرا
     
  6. حرب

    حرب -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2009
    پیغامات:
    1,082
    اللہ تعالٰی سے دُعا ہے کو ہم سمجھنے کی توفیق عطاء‌ فرمائے۔۔۔ آمین یارب۔۔۔
    جزاک اللہ خیر چھوٹی مگر بہت جامع تحریر ہے۔۔۔
     
  7. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067

    بہت عمدہ اقتباس ہے۔
    جزاک اللہ خیرا۔

    بے عملی کے حوالے سے آج کل کی سوسائیٹی میں‌ مزید ایک نکتہ اجاگر کرنا چاہونگا کہ، دین کو بیچنا آج کل بہت ہی آسان سا ہوگیا ہے، ایک طرف تو بے عملی، یا غیر اسلامی طرز زندگی، طرز فکر اور دوسری طرف دین کا اسقدر آسانی کے ساتھ استحصال جسکو ہم دوسرے الفاظ کو دین کو بیچنا بھی کہ لیں‌بہت ہی آسان سا ہوگیا ہے۔
    کہیں دین کو شہر ت کی خاطر، کہیں‌دولت کی خاطر کہیں‌کسی اور کہ اور کہیں‌کسی اور کی خاطر بنا کی نتیجہ کی پروا کے بیچ دینا بہت ہی آسان سے لیکن بڑا ہی مہنگا سودا ہے، جو کہ بڑی ہی آسانی کے ساتھ ہورہا ہے۔ انفرادی اور اجتماعی طور پر ، سوسائیٹی ملوث ہے، اللہ تعالی ہمیں‌باعمل بننے کی توفیق بخشے کہ ہم روز آخرت سرخرو ہوسکیں۔ انشااللہ۔

    آمین
     
  8. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    بہت خوب ، بہت عمدہ ۔

    جزاک اللہ خیرا ۔
     
  9. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,692
    جزاک اللہ خیرا
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں