والد مرحوم کی یاد میں

Rashid Ashraf نے 'نثری ادب' میں ‏ستمبر 28, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. Rashid Ashraf

    Rashid Ashraf -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏مئی 22, 2008
    پیغامات:
    89
    ۹ مارچ ۲۰۰۳ کی ایک صبح میرے سر سے میرے والد صاحب کا سایہ ہمیشہ کے لیے اٹھ گیا۔ کچھ عرصہ قبل وہ ڈاکٹر سلیمان ،جو میرے عزیز ترین دوست ہونے کے ساتھ ساتھ میرے پڑوسی بھی تھے، کے والد کے انتقال پر تعزیت کے لیے ان کے گھر گئے تھے ۔

    سلیمان اور ان کے بھائی سر جھکائے اداس بیٹھے تھے اور میرے والد ان کو تسلی
    دیتے ہوئے کہہ رہے تھے۔’’ جب میرے والد کا انتقال ہوا تو میں گھر سے دور تھا اور مجھے وہ خبر سنتے ہی ایسا محسوس ہوا کہ یک دم کوئی سایہ میرے سر کے اوپر سے ہٹ گیا ہے، وہ احساس اس قدر قوی تھا کہ بے اختیار میں نے سر اٹھا کر اوپر دیکھا کہ کیا واقعی ایسا ہے۔‘‘

    کون جانتا تھا کہ ایک دن مجھے بھی اسی کیفیت سے گزرنا پڑے گا۔

    ۹ مارچ ۲۰۰۳ کی صبح ان کو دل کا شدید دورہ پڑا ۔ وہ ایک عام سی صبح تھی۔ لوگ اکثر اپنے کسی قریبی عزیز کے انتقال کا احوال لکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ ایک منحوس دن تھا۔ اس میں ُاس دن کے منحوس ہونے کا کیا سوال ؟ شاید اسی روز ہمارے آس پاس کسی گھر میں شادیانے بج رہے ہوں اور وہ دن اہل خانہ کے لیے مسرت و شادمانی کا پیام لے کر آیا ہو۔ میرے والد کو نیشنلبینک سے ریٹائر ہوئے تھوڑا ہی عرصہ ہوا تھا جہاں وہ ایک سخت گیر اور انتہائی ایماندار آفیسر کی حیثیت سے بے داغ شہرت رکھتے تھے۔ وہ بالکل صحت مند تھے ، شوگر کا مریض ہونے کے باوجود وہ اپنا خیال رکھتے تھے۔وقت پر سونا اور سحر خیزی کی عادت ان کی روش تھی۔ پیدل چلنے کو ترجیح دیتے تھے۔ اس صبح شوگر کے مرض کی وجہ سے ان کو دل کے دورے کی جان لیوا تکلیف باکل حسوس نہ ہوئی اورانہوں نے ڈاکٹر کے پاس جانے میں دیر کردی۔

    سامنے رہائش پذیر میرا دوست ڈاکٹرسلیمان اس بات پردیر تک روتا رہا کہ کسی نے اس
    کو کیوں نہیں بتایا کہ میں تو ڈاکٹر ہوں، دیکھتے ہی سمجھ جاتا کہ کیا معاملہ ہے۔ لیکن صاحبو! ہونی کو کون ٹال سکتا ہے ۔

    میں اپنے والد کی اکلوتی اولاد ہوں ۔ دل ہی دل میں وہ اور میں، دونوں ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے لیکن ان کے اور میرے درمیان ہمیشہ ایک فاصلہ رہا۔ شاید لوگ اس کو ’جنریش گیپ‘ کہتے ہیں۔ ہم دونوں کے بیچ زیادہ تر مراسلت والدہ کے ذریعے ہوتی تھی۔ اکثر لوگ کہتے ہیں کہ ان کے اپنے والد کے ساتھ بے انتہا دوستانہ مراسم ہیں لیکن میں کبھی ایسا دعوی نہ کرسکا۔

    ۹ مارچ ۲۰۰۳ کی صبح وہ میری والدہ کے اصرار کے باوجود یہی کہتے رہے کہ ۱۱ بجے
    جب ڈاکٹر آئے گا تو اس کو دکھا لیں گے۔ ۱۱ بجے ڈاکٹر تو آیا لیکن اس وقت تک بہت دیر ہوچکی تھی۔ اسپتال میں جب ڈاکٹرز ان کی جان بچانے کی سر توڑ کوششیں کررہے تھے تو اس دوران وہ میری والدہ کو مختلف دوائیاں لانے کو کہتے جاتے تھے اور وہ بھاگ بھاگ کر میڈیکل اسٹور جاتی تھیں اور واپسی پر والد صاحب کے سرہانے کھڑی ہوجاتی تھیں اور پھر ڈاکٹر کسی اور دوائی کا مطالبہ کر دیتے تھے۔ میں ان دنوں بسلسلہ ملازمت مظفر گڑھ ، جنوبی پنجاب میں مقیم تھا۔ اس جانکاہ سانحے کی اطلاع ملنے پر کسی طرح رات بھر ٹرین کا سفر کرکے گھر پہنچا، کبھی نہ بھول پاؤں گا۔ یہ وہ سانحہ تھا کہ جس کے بعد میرے لیے مزید کسی اندوہناک سانحے کا تصور باقی نہیں رہ جاتا۔

    جیسا پہلے لکھ چکا ہوں کہ صحت کے اعتبار سے میرے والد باکل ٹھیک تھے اور کسی کے وہم و گمان میں نہ تھا کہ وہ یک دم یوں اس طرح سے چلے جائیں گے۔ آج مجھے یاد آتا ہے کہ میں ان کے انتقال سے ایک ماہ پیشتر چھٹی پر گھر آیاتھا ۔واپسی پر وہ مجھے ریلوے اسٹیشن چھوڑنے آئے تھے جو ایک خلاف توقع بات تھی اس لیے ہمیشہ مجھے میرا دوست ڈاکٹر سلیمان ہی چھوڑنے اور لینے آتا تھا۔اس دن ساری باتیں خلاف توقع ہی ہوئیں ۔ ٹرین کی روانگی میں کچھ تاخیر تھی ۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ گھر چلے ائیں کہ نہ جانے مزید کتنی دیر لگے۔ وہ مجھ سے رخصت ہو کر چلے گئے اور میں ٹرین کے ڈبے کے دروازے پر کھڑا ان کو جاتا دیکھتا رہا ۔ ہلکے سبز رنگ کے سفاری سوٹ میں ملبوس وہ سر ایک طرف جھکائے آہستگی کے ساتھ چلے جارہے تھے ۔ میں ان کو اس وقت دیکھتا رہا جب وہ ایک موڑ مڑ کر ریلوے اسٹیشن کے مرکزی دروازے سے باہر نہ نکل گئے۔

    پھر کبھی مجھے ان کو دوبارہ دیکھنا نصیب نہ ہوا ۔

    باوجود دوستانہ مراسم نہ ہونے کے، وہ مجھے قدم قدم پر یاد آتے ہیں۔اس بے رحم معاشرے میں جہاں انسانی قدریں بری طرح انحطاط پذیر ہیں، زندگی بسر کرنا کس قدر مشکل کام ہے اور سر پر والد کا سایہ نہ ہونا کتنا بڑا المیہ ہے، اس بات کا احساس مجھے ان کے جانے کے بعد ہوا۔ مجھے وہ بزرگ اور ان کی کہی ہوئی بات کبھی نہیں بھولے گی کہ والد کی حیثیت گھر کے ’’مین گیٹ ‘‘ کی طرح ہوتی ہے۔ مین گیٹ کو ہٹا دیجئے، پھر دیکھئے کہ کس طرح ہر بلا، ہر آفت، ہر مصیبت اندر در آتی ہے۔

    انہوں نے تمام عمر کبھی مجھے کوئی نصیحت نہیں کی۔ ہاں خاص موقعوں پر ان کی کہی ہوئی گراں قدر باتیں ہمیشہ میرے پیش نظر رہتیں ہیں۔ ایسے ہی ایک موقع پر جب ایک قریبی عزیز قرضے کے جال میں جکڑے، پریشان حال ان سے مشورے کے طلبگار ہوئے تو ان عزیز کے جانے کے بعد انہوں نے مجھ سے مخاطب ہوکر کہا تھا کہ یاد رکھو زندگی میں کبھی تین کام نہ کرنا ۔ کبھی کسی سے بالخصوص بینک سے قرضہ نہ لینا اور کریڈٹ کارڈ مت استعمال کرنا (کریڈٹ کارڈ ان دنوں نیا نیا متعارف ہوا تھا )، کسی کی ضمانت مت دینا اور کبھی کوئی کاغذ پڑھے بغیر دستخط مت کرنا۔ ۔۔۔ اور سچ تو یہ ہے کہ میں نے انہی تین باتوں کا خیال نہ رکھنے کی بنا پر احباب کو مصیبتوں میں اس بری طرح گرفتار ہوتے دیکھا ہے کہ گلو خلاصی کی کوئی صورت نظر نہیں آتی ۔

    مجھے یاد ہے جس دن بحیثیت انجینئر مجھے ایک اچھی جگہ سے ملازمت کی پیشکش کا خط آیا جس کا امکان کم کم ہی تھا کہ کوئی سفارش نہ تھی۔ وہ اس روز دفتر سے گھر آئے اور والدہ نے وہ خط ان کو دکھایا۔ وہ اسے دیکھ کر اور اس درج سہولتوں کو پڑھ کر اس قدر خوش ہوئے کہ بے اختیار انہوں نے مجھ سے ہاتھ ملایا۔۔۔۔ آج بھی مجھے ان کی وہ بے پایاں مسرت اور ان کا مصافحہ یاد ہے۔ان کی مسرت کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ وہ کسی بھی قسم کی سفارش کے سخت خلاف تھے اور مجھے وہ ملازمت بنا کسی سفارش کے ملی تھی۔ ایک مرتبہ کسی بڑے کاروباری شخص نے ان کو میری ملازمت کے سلسلے میں مدد کی پیشکش کی اور ساتھ میں اپنے کسی ایسے کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں ان کی مدد طلب کی جسے پورا کرنا ان جیسے ایماندار شخص کے لیے ناممکن تھا لہذا وہ ان دنوں کچھ مایوسی کا شکار ہوگئے تھے اور ایسے میں میری ملازمت کی خبر ان کے لیے بے پایاں مسرت کا باعث بنی تھی۔

    سن ۱۹۸۸ سے ۱۹۹۰ تک وہ سکھر میں تعینات رہے۔ اپنے تین سالہ قیام کے دوران ایک بار جب وہ گھر آئے تو ان کے ہمراہ کچھ تحائف دیکھ ہم سب حیران ہوئے کہ وہ اس چیز کے بالکل قائل نہ تھے بلکہ تحائف لانے والوں سے قدرے سختی سے پیش آیا کرتے تھے . . . . وہ ہمیں حیران دیکھ کر مسکرائے اور کہنے لگے کہ یہ تحفے ایک ایسے ہندو تاجر کی طرف سے دیے گئے ہیں جو اپنی ایمانداری کی وجہ سے مشہور تھا ۔ بینک سے قرضہ لے کر بالعموم وقت سے پہلے واپس کردینا اس کی وجہ شہرت تھی۔ ’’ یہی وجہ تھی کہ میں نے اس کی کھانے کی دعوت کو رد نہ کیا، اس کے گھر گیا اور یہ تحائف بھی قبول کیے ‘‘ ۔۔ اس سے قبل ہم ان کو گھر آئے ہوئے تحفے واپس کرتے بارہا دیکھ چکے تھے۔ کوئی تین برس پہلے میرے دفتر کے ساتھی سیلم اختر مرحوم (جن پر میں نے مضمون ’ایک مہربان کی یاد میں‘ تحریر کیا تھا ) نے مجھے بتایا کہ ان کے محلے میں ایک صاحب نیشنل بینک سکھر سے طویل ملازمت کے بعد ریٹائرمنٹ ہوکر قیام پذیر ہوئے ہیں ، ان سے میں نے آپ (راقم) کے والد کا ذکر کیا تو وہ ایک دم سے کھڑے ہوگئے اور کہا کہ آپ ان کو کیسے جانتے ہیں، وہ تو ہمارے صاحب تھے اور پھر دیر گئے وہ میرے والد کی تعریفیں کرتے رہے۔

    وہ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اور اپنی محنت کے بل بوتے پر ترقی کی اس مقام پر پہنچے تھے کہ جس کی خواہش کرتے کرتے ان کے بیشتر ساتھی ریٹائر ہوگئے تھے۔ ان کو ٹائی باندھنے کا بہت شوق تھا اور بلامبالغہ ان کے پاس سینکڑوں خوش رنگ ٹائیں تھیں۔ ایک بار وہ ہماری والدہ کو بتا رہے تھے کہ بچپن کے اس شوق کی
    تکمیل میں ایک بار وہ اپنی والدہ کا دوپٹہ گلے میں الٹا سیدھا باندھ کر آئینے کے سامنے دیر تک کھڑے رہے اور مختلف زاوئیوں سے خود کو دیکھ دیکھ کر خوش ہوتے رہے تھے۔ ان کی ریٹائر منٹ کے بعد جب ایک بار میں چھٹی پر گھر آیا تو آتے کے ساتھ ہی گھر میں پانی کا فلٹر لگوادیا۔ ان کے انتقال کے بعد مجھے والدہ نے بتایا کہ اس بات پر وہ بہت خوش تھے اور آنے جانے والوں کو اس بارے میں خوش ہوکر بتایا کرتے کہ یہ میرے بیٹے نے لگوایا ہے۔ آج میں یہ سوچ کر دل گرفتہ ہوجاتا ہوں کہ کاش میں اس طرح کی کئی خوشیاں ان کو دے پاتا۔

    آج مجھے نہ جانے کیوں تاجر اقبال یاد آرہے ہیں جو نوے کی دہائی میں روزنامہ جنگ میں کالم لکھا کرتے تھے ۔ اپنے ایک آخری آخری کالم میں انہوں نے لکھا:

    ’’ میرے والد ضعیف تھے، چند برس پیشتر ایک دن ایسا ہوا کہ انہوں نے مجھے (تاجر
    اقبال) کو کسی بات پر کوئی نصیحت کی اور میں نے درشتگی سے ان کو جواب دیا۔ اس
    بات کے فورا۔ ہی بعد میں ملک سے باہر چلا گیا جہاں ایک روز مجھے بیٹھے بیٹھے اپنے رویے پر ملال ہوا اور میں نے طے کیا کہ گھر واپس پہنچتے ہی میں اپنے والد سے معافی مانگوں گا۔ لیکن جب میں گھر پہنچا تو یہ روح فرسا خبر ملی کہ میری غیر موجودگی میں میرے والد اچانک انتقال کرگئے ۔‘‘ ۔۔۔

    مذکورہ کالم تحریر کرنے کے کچھ ہی عرصے بعد تاجر اقبال صاحب کو کسی نے قتل کرکے لاش پانی کے ٹینک میں ڈال دی اور آج تک اس قتل کا سراغ نہ مل سکا۔

    آج مجھے رہ رہ کر اپنے ایک کرم فرما کا سنایا ہوا واقعہ بھی یاد آرہا ہے کہ ایک بار وہ گھر کے آنگن میں تیز دھوپ میں گھاس اور دیگر پودے درست کررہے تھے اور ان کے ضعیف والد بار بار ان کو ایسا کرنے سے روک رہے تھے کہ ان کو ڈر تھا کہ ان کا بیٹا دھوپ تیز میں بیمار نہ پڑ جائے۔ ان کے والد کے چہرے پر کرب تھا اور بیٹے کے بقول مجھے اس وقت ان کے کرب کا احساس نہیں تھا۔ اس بات کے بہت برسوں بعد جب ان کے والد دنیا میں نہ رہے اور عجب اتفاق دیکھئے کہ ہمارے ان مربی کا اپنا بیٹا اسی گھر کے اسی آنگن میں تیز دھوپ میں اسی جیسا کوئی کام کرہا تھا تب باپ کی سمجھ میں اس کے اپنے باپ کا وہ کرب آیا جو اولاد کو تکلیف میں دیکھ کران کے چہرے پر نمایاں ہوچلا تھا:

    وقت جب مکمل کرتا ہے دائرہ اپنا
    وہ لمحہ جو پرانا ہے، نیا ہوتا ہے

    میں پڑھنے والوں سے التجا کروں گا کہ اگر خدانخواستہ آپ میں سے کسی کے والد
    آپ سے کسی چھوٹی سی بات سے بھی ناراض ہیں اور اگر آپ جانے انجانے میں ان کی دل آزاری کا سبب بن بیٹھے ہیں تو بلاتاخیر اس کا ازالہ کرلیجئے کہ گیا وقت ہاتھ نہیں آتا ور کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ تاخیر عمر بھر کا پچھتاوا بن جائے۔

    یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ ہمارے مذہب نے والدین اور بالخصوص والد کے رتبے کے بارے میں کیا تلقین کی ہے۔ ہمارے نبی کریم نے فرمایا کہ تین دعائیں ایسی ہیں جن کی قبولیت میں کوئی شک ہی نہیں: مظلوم کی بددعا، مسافر کی دعا اور والد کی دعا اولاد کے حق میں۔ اسی طرح ذرا دیکھے تو کہ ایک اور موقع پر نبی کریم نے ایک شخص کے ہمراہ اس کے ضعیف والد کو دیکھا تو کیا نصیحت فرمائی: ’’ان سے آگے نہ چلا کرو، ان سے پہلے نہ بیٹھا کرو، انہیں نام لے کر نہ بلایا کرو اور انہیں لعن طعن نہ کیا کرو۔‘‘ ۔۔۔

    میرے والد کا نام سلیم اشرف تھا اور وہ اپنی ریٹائرمنٹ کے وقت نیشنل بینک آف اکستان ،کراچی کے کلفٹن میں واقع ریجنل ہیڈکوارٹرز میں سینئر وائس پریذیڈنٹ کے عہدے پر تعینات تھے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    بھائ راشد اشرف یہی زندگی ہے۔ ہم میں سے تقریبا ہر ایک کو اس کیفیت سے گذرنا پڑتا ہے۔ یہی قانون قدرت ہے۔ اللہ تعالی آپ کے والد کی مغفرت کرے اور انہین جنت الفردوس میں مقام عطا کرے۔ آمین!
     
  3. Rashid Ashraf

    Rashid Ashraf -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏مئی 22, 2008
    پیغامات:
    89
    بابر تنویر صاحب
    آپ کے خلوص اور دعائوں کے لیے بیحد شکرگزار ہوں
    دیگر احباب کا شکریہ
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں