من افادات ابن القیم رحمہ اللہ

ابوعکاشہ نے 'امام ابن قيم الجوزيۃ' میں ‏اکتوبر، 25, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,373
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ !

    اس تھریڈ میں ان شاء اللہ ! ابن القیم رحمہ اللہ تعالٰی کی کتب سے مفید اقتباسات پیش کیے جائیں گئے ، تمام اراکین اردو مجلس کو شرکت کی دعوت ہے ، یاد رہے کہ اقتباس شیئر کرتے وقت حوالہ دینا ضروری ہے ۔

    اراکین سے گزارش ہے کہ وہ '' شکریہ '' پر اکتفاء کریں تاکہ تسلسل برقرار رہے ، جزاکم اللہ خیرا۔

    -----------------

    علامہ ابن القیم رحمة الله عليه لکھتے ہیں :
    " اھل کفر و فسق لوگوں کا غالب آ جانا بھی اولیاء اللہ کو درجات کمال تک پہنچانے کا باعث بنتا ہے اور یہ درجۂ کامل صرف اسی وقت حاصل ھوتا ہے جب وہ ان سے دلی عداوت ( براءت ) رکھیں ، ان کے کرتوتوں پر نکیر کریں گے اور ان سے جہاد کریں گے اور اللہ کے لیے ہی دلی محبت کرنا اور اسی کے لئے کسی سے دلی نفرت رکھنا ( ولاء و براء ) ، اپنی جانیں اور تمام قوتیں نثار و قربان کرنا سب اسی میں آ جاتا ہے " ۔ اور آگے چل کر رقمطراز ہیں :

    " اگر دونوں طرح کے ( مسلم و کافر ) لوگوں کی تخلیق نہ ھوتی اور اللہ کے دشمنوں کا غلبہ نہ ھوتا اور اس کے اولیاء کا امتحان نہ ھوتا تو اس کے بندوں میں سے خاص الخاص لوگوں کا امتیاز نہ ھوتا اور نہ ہی ان لوگوں کو اللہ کی رضاء کے لیے ولاء محبت اور اسی کی مرضی سے عداوت و نفرت کرنے کی عبودیت اور اسی کےلئے کسی کو کچھ دینے اور اسی کی رضا کے لئے کسی سے کچھ روک لینے کی بندگی کرنے کا درجہ ملتا " ۔ ( ازافادات ابن القیم)

    -----------------
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,373
    عالم کون!!
    فہم و فراست کی دو ہی قسمیں ہیں جن سے انسان مفتی اور حاکم بن کر حق فتوٰی اور سچا حکم دے سکتا ہے ۔ ایک تو نفس واقعہ کو صحیح طورپر سمجھ لینا ، حقیقت تک قرائن علامات اور نشانات سے پہنچ جانا اور پورا واقعہ ذہن نشین کر لینا ۔

    دوسرے اس واقعہ کا حکم کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سمجھ لینا پھر ایک کو دوسرے سے ملادینا ۔ پس جو شخص پوری کوشش سے دماغ پوشی کرے اور اپنی طاقت بھر محنت سے جدوجہد کرے تو یقننا اسے دو دو اجر ملتے ہیں ورنہ کم ازکم ایک سے تو خالی نہیں‌۔

    دراصل عالم وہی ہے جو واقعہ کی اصلیت کو پا لے پھر اللہ اوررسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو سمجھ کر اس پر فیصلہ جاری کرے ۔
    إعلام الموقعين عن رب العالمين
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  3. عبد الرحمن یحیی

    عبد الرحمن یحیی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2011
    پیغامات:
    2,318
    قال ابن القيم رحمه الله || لو نفع العلم بلا عمل لما ذم الله سبحانه أحبار أهل الكتاب ولو نفع العمل بلا اخلاص لما ذم المنافقين.
    [الفوائد]

    علامہ فرماتے ہیں:
    اگر علم بغیر عمل کے نفع دے سکتا تو اللہ اھل کتاب کے علماء کی کبھی مذمت نہ کرتے
    اور اگر عمل بغیر اخلاص کے نفع دے سکتا توکبھی منا فقین کی مذمت نہ کیجا تی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,373
    ابن القیم رحمہ اللہ محاسبہ کے ایک طریقے کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں‌:

    ''اور فائدہ مند طریقوں میں سے ایک یہ ہے کہ انسان جب سونے کا ارادہ کرے تو کچھ وقت کے لیے اپنے نفس کا محاسبہ کے لئے بیٹھے جس میں وہ محاسبہ کرے کہ دن بھر میں کتنا فائدہ کیا ہے اور کتنا نقصان اٹھایا ہے ، پھروہ اپنے اور اپنے اللہ کے درمیان توبتہ نصوح کی تجدید کرے اور اس توبہ کی حالت میں سو جائے اور یہ عزم مصمم کرے کہ جب وہ بیدار ہوگا تو وہ دوبارہ وہ گناہ نہیں‌کرے گا ، ایسا ہر رات کرے ، تاکہ اگراس رات اس کی موت ہو جائے تو توبہ پر اسکی موت ہو اور اگر بیدار ہو جائے تو وہ آئندہ عمل کا استقبال کرتے ہوئے اور اپنی موت میں تاخیر سے مسرور ہو کر بیدار ہوگا ، یہاں تک کہ وہ اپنے رب کریم سے ملے اور اپنے مافات کی تلافی کرے "
    (الروح لابن القیم)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  5. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,333
    وعلیکم السلام
    جزاک اللہ خیرا وبارک فیک
     
  6. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,373
    امر و نہی میں غلو کی ممانعت
    امر و نہی میں‌ تشدد و غلو کی مثال یوں سمجھئے کہ ایک وسواسی شخص وضو کرتے کرتے نماز کا وقت گزار دے یا باربار تکبیرتحریمہ کہتے کہتے اتنا وقت گزار دے کہ امام کے ساتھ سورہ فاتحہ نہ پڑھ سکے یا وہ رکعت ہی اسی سے فوت ہونے لگے یا اتنا صوفی و پرہیزگار بنا پھرے کہ عام مسلمانوں کا طعام کھانا ہی ترک کردے کہ مبادا اس کے اندر حرام و مشتبہ مال چلا جائے اور بعض علم سے کورے اور جاہل صوفیا و زہاد پر تو اس غلط درع و پرہیزگاری کا جنون اس قدر سوار ہوا کہ اسلامی شہروں کی ادنٰی سے ادنٰی چیز تک کو حلال و طیب جان کر ڈکار جاتے اور قصدا عیسائی شہروں سے کھانے کی چیزیں منگواتے تو دیکھئے ان جاہل صوفیوں کوجہل مفرط اور غالیانہ زہد نے ہی اہل اسلام سے بدظن کردیا اور عیسائیوں کے حق میں حسن ظن وخوش فہمی کا بیج بودیا ۔ نعوذ باللہ۔تو تعظیم امرونہی کی حقیقت یہ ہے کہ نہ وہ بے ضرورت کی رخصتوں سے ٹکرائیں اور نہ ہی ان میں تشدد و غلو ہو ،کیونکہ امرونہی سے اصل مقصود تو ہے صراط مستقیم جو اس پر چلنے والے کو اللہ تعالٰی تک پہنچا دے ۔(الوابل الصيب لابن القيم)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  7. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,373
    عقل اور معصیت
    آثارِ معاصی میں سے یہ بھی ہے کہ معاصی سے عقلمند کی عقل خراب ہوجاتی ہے ، عقل ایک ''نور'' ہے ۔ چنانچہ بعض سلف صالحین کا مقولہ ہے کہ '' جو آدمی اللہ تعالٰی کی نافرمانی کرتا ہے اس کی عقل غائب ہوجاتی ہے '' ۔ عقل کا غائب ہونا بلکل واضح ہے ۔ اگر عقل موجود ہوتی تو اسے معصیت سے کیوں باز نہ رکھتی ؟ ۔ وہ کیوں نہ سمجھتا کہ اس کی جان اللہ تعالٰی کے قبضہ قدرت میں ہے ؟ اور اس کے قہر و غلبہ کے ماتحت ہے اور اس کے کردار سے اللہ ہرطرح باخبر ہے ۔ اللہ ہی کے گھر میں اس کے فرش پربیٹھا ہے ۔ نیز اللہ تعالٰی کے فرشتے اس کے ساتھ گئے ہوئے ہیں‌جو کچھ کرتا ہے وہ دیکھ رہے ہیں ۔ قرآن مجید کا واعظ گناہوں سے احتراز کرنے کی اسے ہدایت کررہا ہے ۔ ایمان کا واعظ گناہ سے روکتا ہے ۔ موت کا واعظ اور جہنم کا واعظ اسے معصیت سے منع کر رہے ہیں‌۔ نیز یہ کہ معصیت سے اس کی دنیا و آخرت کی خیر و فلاح جو ضائع ہورہی ہے وہ اس کے اس عارضی سرور اور ناپائیدار اور وقتی لذت سے بدرجہا قیمتی ہے ۔ تو کیا کوئی صاحبِ عقل و بصیرت ان تمام امور کی ناقدری کرسکتا ہے ؟ اور کیا کوئی عقلِ سلیم اسے گوار کرسکتی ہے ؟(دوائے شافی )
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  8. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,373
    امام ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ''
    جب تو قرآن سے فائدہ اٹھانے کا ارادہ کرے تو اس کی تلاوت اور اسے سننے کے وقت دل سے باقی سب خیال نکال دے اور اپنے کان اسی طرف لگا اور اس کے حضور اس طرح حاضر ہو جیسے وہ تجھے خطاب کر رہا ہے اور دیکھ کہ یہ کلام کون کر رہا ہے اور کس سے کلام کر رہا ہے کیونکہ یہ خطاب اللہ تعالٰی کی طرف سے تیرے ہی لیے ہے جو اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پرادا ہوا ہے ''(بدائع الفوائد)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  9. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,373
    {اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُمْ مِنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمَاتِ}
    قرآن میں الظلمات جمع اور والنور مفرد کیوں آیا ہے ـ اس کی وجہ !! ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ'' یہ قرآن کا اعجاز ہے ـ مقصد یہ ہے کہ " حق کا صحیح راستہ ایک اور باطل کے بہت سے راستے ہیں، '' (بدائع الفوائد)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  10. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,373
    ﻗﺎﻝ ﺗﻌﺎﻟﻰ ﺫﺍﻛﺮﺍً ﻭﻋﻴﺪ ﺍﻟﺸﻴﻄﺎﻥ :
    ثُمَّ لَآتِيَنَّهُم مِّن بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ أَيْمَانِهِمْ وَعَن شَمَائِلِهِمْ ۖ وَلَا تَجِدُ أَكْثَرَ‌هُمْ شَاكِرِ‌ينَ ﴿١٧﴾
    ﺃﺗﺎﻙ ﺍﻟﺸﻴﻄﺎﻥ ﻳﺎ ﺍﺑﻦ ﺁﺩﻡ ﻣﻦ ﻛﻞ ﻭﺟﻪ ، ﻏﻴﺮ ﺃﻧﻪ ﻟﻢ ﻳﺄﺗﻚ ﻣﻦ ﻓﻮﻗﻚ ، ﻟﻢ ﻳﺴﺘﻄﻊ ﺃﻥ ﻳﺤﻮﻝ ﺑﻴﻨﻚ ﻭﺑﻴﻦ ﺭﺣﻤﺔ ﺍﻟﻠﻪ.
    ﺇﻏﺎﺛﺔ ﺍﻟﻠﻬﻔﺎﻥ ﻻﺑﻦ ﺍﻟﻘﻴﻢ.
    اللہ نے شیطان کی وعید کو ذکر کرتے ہوئے فرمایا
    ''پھر ان پر حملہ کروں گا ان کے آگے سے بھی اور ان کے پیچھے سے بھی اور ان کی داہنی جانب سے بھی اور ان کی بائیں جانب سے بھی اور آپ ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائیے گا''(جوناگڑھی)
    شیطان ابن آدم کے پاس ہرجانب سے آتا ہے ، مگر وہ اوپر سے نہیں آسکتا ، کیونکہ اس کے اندرآپ سے اللہ کی رحمت روکنے کی طاقت نہیں ''
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  11. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,373
    يقول ابن القيم رحمه الله:
    "من أعجب الأشياء أن تعرف الله ثم لا تحبه!، وأن تسمع داعيه (الاّذان) ثم تتأخر عن الإجابة، وأن تعرف قدر الربح في معاملته ثم تعامل غيره، وأن تعرف قدر غضبه ثم تتعرض له" [الفوائد]۔
    ''کتنی عجیب بات ہے کہ تم اللہ کی معرفت رکھو اور اس سے محبت نہ کرو، اس کے داعی مؤذن کی (اذان)آواز سنو پھر بھی تاخیر سے جواب دو ، اس کے ساتھ معاملہ کرنے کے فائدہ کو جانو پھر بھی غیرکے ساتھ معاملہ کرو،اس کے غضب کی قدرکو جانو پھر بھی اس کے غصے کو دعوت دو''
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  12. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,373
    حقیقی زندگی
    حقیقی زندگی قلب کی زندگی ہے اور انسان کی عمر اس کی اسی زندگی کے زمانے کا نام ہے ـ انسان کی عمر کے وہی اوقات زندگی ہیں جو اللہ تعالی کے ساتھ گزاریں اور یہی اوقات اس کی عمر کی حقیقی ساعتیں ہیں ـ ظاہر ہے کہ تقوی و پرہیزگاری ، اطاعت اور عبادت ان اوقات میں اضافہ اور خیرو برکت پیدا کرتی ہیں ـ یہ انسان کی حقیقی عمر ہے جس کے بغیر عمر کی کوئی حقیقت نہیں ـ(الجواب الکافی )
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  13. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,373
    قـال ابن القيــم رحمــه الله :
    مـن لـم يكــن وقتــه لله وبالله فالمـوت خيـرٌ لـه مـن الحيـاة ..!!
    [ الـداء والـدواء صـ١٨٦ ]

    ''اگر کسی کے پاس اللہ کے لیے اور اللہ کے ساتھ گزارنے کے لیے وقت نہیں تو اس کے لیے موت زندگی سے بہترہے''
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  14. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,373
    ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
    بلاواسطہ حصول علم کی سعادت صحابہ رسول ﷺ کو ملی جو عمل میں آگے بڑھ گئے ، بعد کے کسی شخص کو یہ سعادت حاصل کرنے کا موقع ہی نہ رہا ـ لیکن اب وہی شخص آگے ہو گا جو ان کے سیدھے راستے کی اتباع اور ان کے صحیح طریقہ عمل پر عمل کرے ـ پیچھے رہ جانے والا وہ ہو گا جو ان کے طریقہ اور طریقہ عمل سے دائیں بائیں ہٹے ـ وہی ہلاکت کے صحراء میں بھٹکنے والا ہے
    (اعلام الموقعین)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  15. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,373
    قال ابن القیم رحمہ اللہ :
    توفیق نہ ملنے کی اصل اللہ کی طرف سے بے رغبتی اور بے خوفی ہے ، اس (بے رغبتی )کی اصل یقین کی کمزوری ہے ،اس کی اصل ضعفِ بصیرت ہے اور ضعفِ بصیرت کی اصل انسان کے نفس کا گھٹیا اور ذلیل ہونا ہے کیونکہ عزت دار نفس کمزوریوں اور ذلتوں پر کبھی راضی نہیں ہوتے ـ جبکہ تمام بھلائیوں اور خیر کی بنیاد اللہ کی توفیق ، اسکی مشیت اور نفس کی شرافت ، بلندی اور بڑائی ہے اور شر کی بنیاد نفس کی کمینگی ، گھٹیا پن اور حقارت پر ہے
    (الفوائد)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  16. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,373
    "اللہ کی راہ پر چلنے والوں کا اتفاق ہے کہ دل اپنے مقصد تک اس وقت نہیں پہنچ سکتے جب تک اپنے مالک کیساتھ رابطہ استوار نہ کرلیں اوررب سے رابطہ اس وقت تک نہیں جڑ سکتا جب تک کہ دل صحیح سالم نہ ہوں اور دل اس وقت تک صحیح نہیں ہوسکتے جب تک کہ خواہشات کی مخالفت نہ کریں ـ خواہشات ہی دلوں کی بیماری ہیں اور انکا علاج انکی مخالفت ہے " (الجواب الکافی)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  17. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    جزاک اللہ خیرا وبارک فیک۔ بہت عمدہ انتخاب۔
     
  18. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,373
    علامہ ابن القیم رحمہ اللہ نے فرمایا :
    ( فيوم الجمعة يوم عبادة، وهو في الأيام كشهر رمضان في الشهور، وساعة الإجابة فيه كليلة القدر في رمضان )
    ''جمعہ کادن عبادت کا دن ہے ، دنوں میں اسکی اہمیت ایسے ہی ہے جیسے اور مہینوں میں رمضان کی ، اور اس دن دعا کی قبولیت کی ایک گھڑی ایسی ہی ہے جیسا کہ ماہ رمضان میں شب قدر"(زاد المعاد1/398)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  19. عبد الرحمن یحیی

    عبد الرحمن یحیی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2011
    پیغامات:
    2,318
    قال ابن القيم رحمه الله :

    “فلو بلغ العبدُ من الزهد والعبادة ما بلغَ؛ فمَعَه شيطانه ونفسه لا يفارقانه إلى الموت، والشيطان يَجري منه مجرى الدم، والعصمة إنما هي للرسل صلوات الله وسلامه عليهم”.
    إغاثة اللهفان ٢٣٧/٧

    ابن القیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:
    ''انسان زہد وتقوی اور عبادت میں کتنے ہی ازنچے مقام پر فائز کیوں نہ ہو جائے،اس کے ساتھ اس کانفس اور شیطان موجود ہیں جو موت تک اس کا پیچھا نہیں چھوڑتے ،عصمت انبیاء کرام علیھم السلام کا ساتھ خاص ہے ''
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  20. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,373
    امام ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں :
    "دعائیں اور تعوذات(ایسی دعائیں جن میں اللہ کی پناہ حاصل کی جائے )کی حیثیت اسلحہ کی طرح ہے ،اور اسلحہ کی کارکردگی اسلحہ چلانے والے پر منحصر ہوتی ہے ، صرف اسلحہ کی تیزی کارگر ثابت نہیں ہوتی،چنانچہ اسلحہ مکمل اور ہرقسم کے عیب سے پاک ہو اور اسلحہ چلانے والے بازو میں قوت ہو اور درمیان میں کوئی رکاوٹ بھی نہ ہو تو دشمن پرضرب کاری لگتی ہے ، اور تینوں اشیاء میں سے کوئی ایک ناپید ہو تو نشانہ متاثر ہوتا ہے "(الداء والدواء)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 8

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں