من افادات ابن القیم رحمہ اللہ

ابوعکاشہ نے 'امام ابن قيم الجوزيۃ' میں ‏اکتوبر، 25, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عبد الرحمن یحیی

    عبد الرحمن یحیی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2011
    پیغامات:
    2,319

    للعبد ربٌ هو ملاقيه،
    بندے کا ایک رب ہے جس سے اس کی ملاقات ہونے والی ہے

    وبيت هو ساكنه،
    اور ایک گھر جس میں اس نے رہنا ہے

    فينبغي له أن يسترضي ربه قبل لقائه،
    لہٰذا بندے کو چاہیئے کہ ملاقات سے پہلے رب کو راضی کرلے

    ويعمر بيته قبل انتقاله إليه.
    اور نئے گھر میں ''شفٹ'' ہونے سے پہلے اسے تعمیر کر لے

    الفوائد لابن القيم (رحمه اللہ) - (1 / 34)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 6
  2. عبد الرحمن یحیی

    عبد الرحمن یحیی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2011
    پیغامات:
    2,319
    قال ابن القيم رحمه الله

    إذا ثقل الظهر بالأوزار ؛

    منع القلب من السير إلى الله

    والجوارح من النهوض في طاعته

    بدائع التفسير [٣/٣٣٢]


    جب کمر گناہوں کے بوجھ سے بھاری ہوجائے
    تو پھر
    دل اللہ کے راستے میں چلنے سے
    اور
    اعضاء مالک کائنات کے سامنے جھکنے سے عاجز آجاتے ہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
    • مفید مفید x 1
  3. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    جزاکم اللہ خیرا
    مجھے کوئی اس کتاب کا حوالہ دے اور اس کا ترجمہ بھی کیا جائے تو پھر جزاک اللہ خیرا
    يقول إبن القيم:ربما تنام وعشرات الدعوات تُرفع لك عند الله..من فقير أعَنْتَهُ..!أو جائع أطعمته..!أو حزين أسعدته..!أومكروب نفست عنه..!فلا تستهن بفعل الخير أبداً..!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  4. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,455
    مدارج السالكين (1/177)

    بشکریہ: google
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  5. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,455
    قال الإمام ابن القيم رحمه الله :
    فالعمل الصالح هو : الخالي من الرياء المقيد بالسنة .

    [ بدائع التفسير (١٦٨/٢) ]

    ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں ـ
    عمل صالح وہی ہے جو دکھاوے سے خالی اورسنت نبوی ﷺ کے عین مطابق ہو "
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 6
  6. عبد الرحمن یحیی

    عبد الرحمن یحیی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2011
    پیغامات:
    2,319

    ﻗﺎﻝ ﺍﺑﻦ ﺍﻟﻘﻴﻢ -ﺭﺣﻤﻪ ﺍﻟﻠﻪ :-
    " ﻣﻦ ﺃﻋﻈﻢ ﺍﻟﻔﻘﻪ ، ﺃﻥ ﻳﺨﺎﻑ ﺍﻟﺮﺟﻞ ﺃﻥ ﺗﺨﺬﻟﻪ
    ﺫﻧﻮﺑﻪ ﻋﻨﺪ ﺍﻟﻤﻮﺕ ﻓﺘﺤﻮﻝ ﺑﻴﻨﻪ ﻭﺑﻴﻦ ﺍﻟﺨﺎﺗﻤﺔ
    ﺍﻟﺤﺴﻨﻰ ."
    ( ﺍﻟﺠﻮﺍﺏ ﺍﻟﻜﺎﻓﻲ ٢١٠ٗ)

    ابن القیم رحمہ اللہ جواب الکافی میں لکھتے ہیں :
    سمجھدار آدمی وہ ہے جو گناہوں سے ڈرتا اور بچتا ہے کہ وہ موت کے وقت اس کے حسن خاتمہ کی راہ میں رکاوٹ نہ بن جائیں ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 6
  7. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,455
    ابن القيم رحمه الله ،الصبر على غض البصر ، أیسر من الصبر على ألم ما بعده
    الجواب الكافي 227

    "نظرکی حفاظت پرصبر بعد کی ملنی والی تکلیف پر صبر سے زیادہ آسان ہے"
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 6
  8. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,455
    ﻣﻦ ﻋُﺮﺽ ﻋﻠﻴﻪ ﺣﻖٌ ﻓﺮﺩﻩ ﻓﻠﻢ ﻳﻘﺒﻠﻪ، ﻋُﻮﻗﺐ ﺑﻔﺴﺎﺩ ﻗﻠﺒﻪ ﻭﻋﻘﻠﻪ
    ﻭﺭﺃﻳﻪ. ﺍﺑﻦ ﺍﻟﻘﻴﻢ - ﻣﻔﺘﺎﺡ ﺩﺍﺭ ﺍﻟﺴﻌﺎﺩﺓ

    جس شخص پر حق پیش ہوا لیکن یہ اُسے ٹھکرا آیا،اس کی سزا ٹھہری:فسادِ قلب، خرابیِ عقل اور انحرافِ فکر
    منقول۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 5
  9. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,455
    قال ابن القيم :
    ومن كانت شيمته : التوبة والاستغفار
    فقد هُدي لأعظم الشيّم
    [ إغاثة اللهفان ٢ / ٩٤٥ ]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  10. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,455
    322- قال ابن القيم رحمه الله :
    (( وهكذا أنت يا عبد الله " إما أن تصلي صلاة تليق بمعبودك وإما أن تتخذ معبوداً يليق بصلاتك . ))
    [ بدائع الفوائد : 3/754 ]

    ابن قیم فرماتے هیں :
    " اور اسی طرح تم الله كے بندے !
    یا تو ایسی نماز پڑھو جو تمھارے معبود كے لائق هو
    یا پھر ایسا معبود پكڑ لو جو تمھاری نماز كے لائق هو ___ !! "

     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 6
  11. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,455
    نیکی کی حفاظت

    ️قال الإمام ابن القيم :
    (( فليس الشأن الإتيان بالطاعة إنما الشأن في حفظها مما يبطلها . ))
    【 عدة الصابرين : ٦٦/١ 】

    " مسئلہ نیکی کرنا نہیں ، مسئلہ نیکی کو ضائع کر دینے والی چیزوں سے سنبھالنا هے،، "
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 5
  12. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,455
    قَال ابن القَيّم | رَحِمَه الله تَعَالى :
    فَإن المُؤمن يُعْطَى مَهاَبة وحَلاوَة بِحَسَب إيمَانِه ، فَمَنْ رَآه هَابَه ، ومَنْ خَالطَه أحبّه .
    [ رَوضة المُحبين | 221 ] .
    "بلاشبه مومن اپنے ایمان کے مطابق رعب اور
    حلاوت مٹھاس دیا جاتا ہے. جس نے اسکو دور سے دیکھا وہ اس سے مرعوب ہو گیا جو کوئی اس سے گھل مل گیا اس نے اس سے محبت کی"
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 5
  13. عبد الرحمن یحیی

    عبد الرحمن یحیی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2011
    پیغامات:
    2,319
    اذا أراد الله بعبد خيرا جعله معترفا بذنبه ممسكا عن ذنب غيره جوادا بما عنده زاهدا فيما عنده محتملا لأذى غيره

    جب اللہ مالک الملک بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اس کو اس طرح بنا دیتا ہے کہ
    اس کو اپنے گناہوں کا اعتراف اور فکر ہوتی ہے
    دوسروں کی عیب جوئی نہیں کرتا
    اور جو کچھ اس کے پاس ہے اس میں سے سخاوت بھی کرتا ہے
    اور اس پر قناعت بھی کرتا ہے
    اور دوسروں کو تکلیف دینے سے باز رہتا ہے ۔

    [ الفوائد - ابن قيم الجوزية ] (1/99)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 5
  14. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,920
    قال الإمام ابن القيم رحمه الله |
    "فإنّ مَن لم يرَ نعمة الله عليه إلا في مأكله و مشربه و عافية بدنه ؛ فليس له نصيبٌ مِن العقل البتة ، فنعمة الله بالإسلام و الإيمان ، و جذب عبده إلى الإقبال عليه ، و التلذذ بطاعته ؛ هي أعظم النعم ، و هذا إنما يُدرك : بنور العقل ، و هداية التوفيق "
    [ مدارج السالكين : (٢٧٧/١) ]

    ابن القیم رحمہ اللہ کہتے ہیں :
    جس کوصرف کھانے پینے اور صحت و عافیت میں اللہ کی نعمتیں نظرآتی ہیں ، اس آدمی کو عقل چھو کر بھی نہیں گزری
    ایمان اور اسلام
    اللہ کی طرف رجوع کی تڑپ
    اُس کی اطاعت میں لذت
    یہ سب سے بڑی نعمتیں ہیں
    اور ان نعمتوں کا ادراک
    اللہ کی توفیق اور نور بصیرت سے ہی ہوتا ہے
    (بشکریہ واٹس ایپ)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 5
  15. عبد الرحمن یحیی

    عبد الرحمن یحیی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2011
    پیغامات:
    2,319
    قال الإمام ابن القيِّم :

    " العلم طعام القلب وشرابه ودواؤه ،
    وحياته موقوفة على ذلكَ ،
    فإذا فَقَدَ القلب العلم فهو ميِّت ".

    حافظ ابن القیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
    علم ، دل کے لیے طعام و شراب اور دواء کی حیثیت رکھتا ہے
    اور اسی پر اس کی زندگی کا دارومدار ہے
    اور جب دل ، علم ''کھو '' دیتا ہے تو وہ مردہ ہوجاتا ہے
    (اور دل علم کیسے کھو دیتا ہے )


    ترك العمل بالعلم من أقوى الأسباب في ذهابه ونسيانه

    علم کے مطابق عمل نہ کرنا اس کے کھو جانے اور بھول جانے کے بڑے اسباب میں سے ہے-

    «مفتاح دار السعادة: ٣٤٤/١».
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 5
  16. عبد الرحمن یحیی

    عبد الرحمن یحیی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2011
    پیغامات:
    2,319
    ابن القيم رحمه اللہ |
    الشكر مبني على ثلاثة أركان : الاعتراف بالنعمة باطناً ، والتحدث بها ظاهراً ، وتصريفها في مرضات وليها ومسديها ومعطيها ، فإذا فعل ذلك فقد شكرها مع تقصيره في شكرها .


    شکر کے تین ارکان ہیں :
    باطنی طور پر نعمت کا اعتراف
    ظاہری طور پر اس کا اظہار
    اور اس ہستی کی رضا کے لیے ان نعمتوں کا استعمال جو ان نعمتوں کا مالک ، ان کا روکنے اور عطا کرنے والا ہے
    جس نے یہ سب کچھ کر لیا اس نے کچھ نہ کچھ شکر کا حق ادا کردیا ۔
    [الوابل الصيب من الكلم الطيّب]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  17. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,455
    اللہ کو کیسے پہچانیں؟

    علامہ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
    ‏« ﻭﻟﻴﺴﺖ ﺣﺎﺟﺔ ﺍﻷﺭﻭﺍﺡ ﻗﻂ ﺇﻟﻰ ﺷﻲﺀ ﺃﻋﻈﻢ ﻣﻨﻬﺎ ﺇﻟﻰ ﻣﻌﺮﻓﺔ ﺑﺎﺭﺋﻬﺎ ﻭﻓﺎﻃﺮﻫﺎ، ﻭﻣﺤﺒﺘﻪ ﻭﺫﻛﺮﻩ، ﻭﺍﻻﺑﺘﻬﺎﺝ ﺑﻪ، ﻭﻃﻠﺐ ﺍﻟﻮﺳﻴﻠﺔ ﺇﻟﻴﻪ، ﻭﺍﻟﺰﻟﻔﻰ ﻋﻨﺪﻩ، ﻭﻻ ﺳﺒﻴﻞ ﺇﻟﻰ ﻫﺬﺍ ﺇﻻ ﺑﻤﻌﺮﻓﺔ ﺃﻭﺻﺎﻓﻪ ﻭﺃﺳﻤﺎﺋﻪ، ﻓﻜﻠﻤﺎ ﻛﺎﻥ ﺍﻟﻌﺒﺪ ﺑﻬﺎ ﺃﻋﻠﻢ ﻛﺎﻥ ﺑﺎﻟﻠﻪ ﺃﻋﺮﻑ، ﻭﻟﻪ ﺃﻃﻠﺐ، ﻭﺇﻟﻴﻪ ﺃﻗﺮﺏ، ﻭﻛﻠﻤﺎ ﻛﺎﻥ ﻟﻬﺎ ﺃﻧﻜﺮ ﻛﺎﻥ ﺑﺎﻟﻠﻪ ﺃﺟﻬﻞ، ﻭﺇﻟﻴﻪ ﺃﻛﺮﻩ، ﻭﻣﻨﻪ ﺃﺑﻌﺪ . ﻭﺍﻟﻠﻪ ﻳُﻨْﺰِﻝُ ﺍﻟﻌﺒﺪ ﻣﻦ ﻧﻔﺴﻪ ﺣﻴﺚ ﻳُﻨْﺰِﻟُﻪ ﺍﻟﻌﺒﺪُ ﻣﻦ ﻧﻔﺴﻪ
    "روح کو سب سے زیادہ اس چیز کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے خالق ومالک کی معرفت سے بہرہ ور ہو، اس کی محبت سے سرشار ہو، اسی کے ذکر میں اسے سکون ملے اور اسی کی قربت کے ذرائع تلاش کرے اور یہ تمام چیزیں اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتیں جب تک کہ اللہ کے اسماء وصفات کو اچھی طرح سے جان نہ لیا جائے. جیسے جیسے بندہ اللہ کے اسماء وصفات کا علم حاصل کرتا جائے گا ویسے ویسے وہ اللہ کو پہچانتا جائے گا، اسی کے در پر دست طلب دراز کرے گا، اسی کے قرب کی راہیں تلاش کرے گا. اور جیسے جیسے بندہ اللہ کے اسماء وصفات کا انکار کرے گا اتنا ہی وہ مقام الہی سے ناواقف اور بارگاہ الہی سے دور ہوگا. اللہ اپنے بندے کو اسی اعتبار سے مقام و مرتبہ عطا کرتا ہے جس اعتبار سے بندہ اپنے رب کے مقام کی رعایت کرتا ہے."
    الکافیۃ الشافیۃ : صفحہ نمبر 3/ترجمہ، عبد الغفار
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  18. عبد الرحمن یحیی

    عبد الرحمن یحیی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2011
    پیغامات:
    2,319
    حافظ ابن القیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
    نماز میں یہ چھ چیزیں نفاق کی علامات میں سے ہیں :
    1 ۔ نماز پڑھتے ہوئے سستی اور کاہلی کا مظاہرہ کرنا
    2 ۔ دکھاوے یعنی ریاکاری کے لیے نماز پڑھنا
    3 ۔ تاخیر سے نماز پڑھنا (اپنے وقت پر نماز نہ پڑھنا)
    4 ۔ جلدی جلدی نماز پڑھنا
    5 ۔ نماز میں برائے نام اللہ تعالٰی کا ذکر کرنا
    6 ۔ باجماعت نماز سے پیچھے رہ جانا


    كتاب الصلاة وأحكام تاركها المؤلف ابن قيم الجوزية رحمه اللہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  19. عبد الرحمن یحیی

    عبد الرحمن یحیی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2011
    پیغامات:
    2,319
    قال ابن القيم رحمه الله
    من طلب العلم ليحيى به الإسلام فهو من الصديقين ودرجته بعد درجة النبوة


    '' جو اشاعت اسلام کی نیت سے علم سیکھتا ہے وہ صدیقین میں سے ہے
    اور انبیاء علیھم السلام کے بعد صدیقین کا درجہ ہے ۔''


    (مفتاح دار السعادة 1\ 185)

     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  20. عبد الرحمن یحیی

    عبد الرحمن یحیی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2011
    پیغامات:
    2,319
    محمد بن أبي بكر الزرعي المعروف (ابن قيم الجوزية) رحمہ اللہ اپنی مایہ ناز کتاب
    '' إعلام الموقعين عن رب العالمين ''
    میں جلد 1 صفحہ 41 پر سورۃ الحجرات کی آیت نمبر 2 نقل کر کے لکھتے ہیں :

    فإذا كان رفع أصواتهم فوق صوته سببا لحبوط أعمالهم فكيف تقديم آرائهم وعقولهم وأذواقهم وسياساتهم ومعارفهم على ما جاء به ورفعها عليه ؟ أليس هذا أولى أن يكون محبطا لأعمالهم .

    '' اگر نبی ﷺ کی آواز پر مجرد آوازیں بلند کرنے پر اعمال کے ضائع اور برباد ہوجانے کی وعید ہے تو اپنی آراء ، عقل ، سیاست اور تجربے کو نبی ﷺ کی لائی ہوئی شریعت پر کیسے ترجیح دی جاسکتی ہے ؟ کیا اس سے اعمال کا اکارت اور برباد ہو جانا یقینی نہیں ہے۔ ؟ ''

    http://library.islamweb.net/newlibr...&ID=1&idfrom=1&idto=1074&bookid=34&startno=21
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں