فوت شدہ والدین کیلئے دوسروں کو حج کروانا کیسا؟

محمد زاہد بن فیض نے 'آپ کے سوال / ہمارے جواب' میں ‏اکتوبر، 29, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض نوآموز.

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    3,702
    السلام و علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاۃ
    شیخ صاحب اگر کسی کے والدین فوت ہو جایئں اور انھوں نے حج کا فریضہ ادا نہ کیا ہو۔ان کے مرنے کے بعد اگر ان کی اولاد کسی اور کو حج کروائے تو کیا یہ جائز ہے۔اس طرح والد کی طرف سے فرضیت ادا ہو جائے گی۔
    نیز
    کیا کوئی شخص خود تو پہلے حج کا فریضہ ادا کر چکا ہو۔اور دوبارہ فوت شدہ والدین کی طرف سے حج کرنا چاہے تو کیا اس کے مرحوم والدین کی طرف سے جو ان کے زمہ تھا حج کا فریضہ ادا ہو جائے گا۔؟​
     
  2. محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض نوآموز.

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    3,702
    یاد دہانی شیخ صاحب
     
  3. رفیق طاھر

    رفیق طاھر ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,943
    اگر ان فوت شدگان پر حج فرض تھا اور وہ اپنی زندگی میں حج نہیں کر سکے تو انکی طرف سے انکی اولاد خود حج کرے یا کسی سے کروائے دونوں طرح ہی درست ہے ۔
    أن امرأة قالت : يا رسول الله إن أمى نذرت أن تحج فلم تحج حتى ماتت . أفأحج عنها ? قال نعم , حجى عنها , أرأيت لو كان على أمك دين أكنت قاضيته ? اقضوا الله فالله أحق بالوفاء " رواه البخارى (‏ص 239 ) .
    أخرجه البخارى ( 1/464 , 4/431 ) و النسائى ( 2/4 ) و ابن الجارود ( 501 )و البيهقى ( 4/335 ) و الطيالسى ( 2621 ) و أحمد ( 1/239 ـ 240 , 345 ) و الطبرانى فى " الكبير " ( 3/164/1 ) عن سعيد بن جبير عنه .


     
  4. محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض نوآموز.

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    3,702
    اور اگر ان کی اولاد خود کرنے کی بجائے کسی ایسے آدمی کو کروائے کہ نہ تو اس نے ساری زندگی مسجد کا منہ دیکھاہو اور نہ ہی کبھی فرائض کی پابندی کی ہو بلکہ عقیدے میں بھی غالی مشرک ہو۔تو کیسا؟
     
  5. رفیق طاھر

    رفیق طاھر ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,943
    مشرک کا کوئی بھی عمل بارگاہ الہی میں مقبول نہیں ۔
    ایسے شخص کو حج کروانا بے سود ہے ۔
    یاد رہے کہ دوسرے کی طرف سے حج وہی کر سکتا ہے جس نے خود اپنا حج کیا ہو ۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں