اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب

irum نے 'ادبی مجلس' میں ‏نومبر 4, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. irum

    irum -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 3, 2007
    پیغامات:
    31,582
    اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب

    قرآن میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ذکر کو دلوں کے اطمینان کا ذریعہ بتا یا ہے(الرعد13:28)۔مگر ہمارے ہاں لوگ عام طور پر یہ شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ اللہ کا ذکر کرکے بھی دل بے چین و مضطرب رہتا ہے۔وہ صبح و شام تسبیحات پڑھتے ہیں، مگر پھر بھی زندگی حز ن و ملال اور بے چینی و انتشار میں گزرتی ہے۔

    اصل بات یہ ہے کہ اس آیت میں اطمینان سے مراد سکون کی وہ کیفیت نہیں ہے جو کسی نشے کو اختیار کرنے کے بعد انسان پر طاری ہوجاتی ہے۔اور جس کے بعد انسان دنیا و مافیہا کے ہر غم سے بے نیاز ہوجاتا ہے۔ بلکہ یہاں اطمینان سے مراد وہ ذہنی کیفیت ہے جس میں انسان کو یہ یقین ہوتا ہے کہ جس ہستی پر وہ ایمان لایا ہے، جس کو اس نے اپنا رب اور اپنا معبود ماناہے، و ہی در حقیقت خالق و مالک ہے۔ اسی کے ہاتھ میں کل کائنات کی بادشاہی ہے ۔اور جس نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دے دیا، اللہ تعالیٰ اسے کبھی رسوا اور محروم نہیں کرے گا۔

    تاہم یہ یقین اللہ کے جس ذکر سے پیدا ہوتا ہے وہ محض تسبیح پر انگلیاں پھیرنے کا عمل نہیں بلکہ اس کی یاد میں جینے کا نام ہے۔یہ محض کچھ اذکار کو زبان سے ادا کرنے کا عمل نہیں ،اس کے ذکر سے منہ میں شیرینی گھل جانے کا نام ہے۔یہ اس کے نام کی مالا جپنے کاعمل نہیں، ہمہ وقت اللہ تعالیٰ کو اپنے ساتھ سمجھنے کی کیفیت کا نام ہے۔یہ اللہ ھو کا ورد کرنے کا عمل نہیں، رب کی محبت اور اس کے ڈرمیں زندگی گزارنے کا نام ہے۔اس یاد کی بڑی خوبصورت تعبیر، اگر فیض کے الفاظ مستعار لیں تو کچھ یوں ہے۔

    رات یوں دل میں تری بھولی ہوئی یاد آئی

    جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آجائے

    جیسے صحراؤں میں ہولے سے چلے بادِ نسیم

    جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آ جائے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. irum

    irum -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 3, 2007
    پیغامات:
    31,582
    قرآن نے اس بات کوواضح کیا ہے کہ اطمینان قلب کی وہ کیفیت جس میں انسان کو نہ کوئی خوف ہوتا ہے اور نہ کوئی اندیشہ ،اللہ کے دوستوں کو عطا کی جاتی ہے۔فرمایا:

    سن لو کہ اللہ کے دوستوں کے لیے کوئی خوف ہے اور نہ کوئی اندیشہ۔یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور اللہ سے ڈرتے رہے۔ان کے لیے خوشخبری ہے ،دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی، اللہ کی باتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔(یونس 10:62-64)

    یہاں قرآن یہ بھی بیان کرتا ہے کہ اللہ کے یہ دوست کون ہوتے ہیں؟ یہ کوئی ’’بزرگ‘‘ قسم کے لوگ نہیں بلکہ وہ سچے اہل ایمان ہیں جو اپنے ایمان کا ثبوت تقوی سے دیتے ہیں۔یعنی رب کی یاد ان کا احاطہ اس طرح کر لیتی ہے کہ زندگی کے ہر کمزور لمحے میں وہ یہ سوچ کر گناہ سے بچتے ہیں کہ اللہ میرے ساتھ ہے اور مجھے دیکھ رہا ہے۔یہی لوگ اللہ کے ولی اور اس کے دوست ہیں ۔ اور جو اللہ کا دوست ہو وہ کیسے کسی خوف و حزن کا شکار ہوسکتا ہے۔

    اس بات کو ایک مثال سے سمجھیں۔ اگر کسی شخص کی ملک کے صدر سے براہِ راست دوستی ہوجائے تو پھر پاکستان میں کوئی سرکاری محکمہ اسے تنگ نہیں کرسکتا۔ کہیں اس کا کام پھنس نہیں سکتا ۔جب ایک فانی انسان کا یہ حال ہے تو جن لوگوں کوا للہ تعالیٰ اپنا دوست قرار دیدے،ان کے معاملات کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔وہ ایمان و تقویٰ کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں اور اللہ انہیں ہر خوف و حزن سے محفوظ رکھتا ہے۔ وہ اللہ کی یاد میں جیتے ہیں اور اللہ ان کے دلوں کو اطمینان سے بھردیتا ہے۔

    یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ کے نیک بندوں پر تکالیف بھی آتی ہیں، بلکہ اکثر انہی پر آیا کرتی ہیں توپھر یہ لوگ کس طرح خوف و حزن سے محفوظ ہوئے۔اس کا جواب یہ ہے کہ حزن و خوف دل کی ایک کیفیت کا نام ہے۔جو لوگ اللہ کی یاد میں جیتے ہیں، ان کے اردگرد وقتی طور پر پریشان کن حالات پیدا ہوسکتے ہیں، مگر ان کے قلب پر اطمینان کی وہ کیفیت طاری رہتی ہے جس سے انسان ہمیشہ پرسکون رہتا ہے۔
     
  3. irum

    irum -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 3, 2007
    پیغامات:
    31,582
    اس کا سب سے اچھا نمونہ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی سیرت ہے۔ آپ کو اپنی زندگی میں متعدد مسائل کا سامنا کرنا پڑا اور ہجرت کے موقع پر تو خون کے پیاسے لوگ آپ کو تلاش کرتے ہوئے غار ثور تک آپہنچے ۔ آپ کے ساتھ سوائے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے اور کوئی نہ تھا۔ مگرآپ اس موقع پر ذرہ برابر بھی خوفزدہ نہ ہوئے بلکہ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کی طرف سے فکرمند ہوئے تو آپ نے ان کو اس طرح تسلی دی کہ اے ابو بکر! ان دوکے متعلق تمہارا کیا خیال ہے جن کا تیسرا رفیق خود اللہ ہے، (بخاری، رقم 3453)۔

    ایک بندہ مومن پر جب زندگی کی مشکلات آتی ہیں تو اس کا ایمان اسے بتاتا ہے کہ اللہ چاہے تو باآسانی اسے ان مشکلات سے نکال سکتا ہے۔چنانچہ وہ اپنے رب ہی کو پکارتا اور اسی سے مدد چاہتا ہے۔ جس کے نتیجے کے طور پر اللہ تعالیٰ اسے اس مشکل سے نجات عطا کردیتے ہیں۔تاہم اسے یہ بھی یقین ہوتا ہے کہ یہ مشکلات ،اگر دور نہیں ہورہیں تب بھی ،جنت میں اس کے درجات بلند کرنے کا سبب بن رہی ہیں اور آخرت کے دکھوں سے اسے بچارہی ہیں۔چنانچہ مشکلات و تکالیف بھی اسے یہ اطمینان فراہم کرتی ہیں کہ اس کی تکلیف کا ہر اک لمحہ جنت میں اس کی راحتوں میں اضافہ کا سبب بنے گا۔جو شخص اطمینا ن کی اس کیفیت میں جیتا ہو، اس کے سکونِ قلب کے کیا کہنے۔

    یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے امتحان کی تیاری میں مصروف کوئی قابل طالب علم رات بھر جاگتا اور نیند کی راحت سے محروم رہتا ہے ۔ مگر اسے یہ تکلیف اس لیے گوارا ہوتی ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں اس کا بہترین نتیجہ دیکھے گا۔ یا کوئی کاروباری شخص اپنے کاروبار میں پیسے لگاتا ہے اور مشقت اٹھاتا ہے، اس امید پر کہ آنے والے دنوں میں اسے بھرپور منافع ملے گا۔

    یہ ایک حقیت ہے کہ اللہ کی یاد میں بڑا سکون ہے۔ مگر اس شخص کے لیے جو ایمان و تقوی کی کیفیات میں جیتا ہو۔ نہ کہ اس شخص کے لیے جسے عام حالات میں اللہ یاد رہے نہ آخرت بلکہ اس کی زندگی کا مقصود دنیا کی لذتیں ہوں۔ ہاں اسے کبھی تکلیف پہنچ جائے تو اس تکلیف سے نجات پانے کے لیے وہ وظیفے پڑھنا شروع کردے اور سمجھے کہ یہ اللہ کی یاد ہے جس سے اسے سکون مل جائے گا۔

    (مصنف: ریحان احمد یوسفی)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض نوآموز.

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    3,702
    جزاک اللہ خیرا
     
  5. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    بہت موثر انتخاب ، جزاك اللہ خيرا ، اللہ تعالى ہميں ان خوش نصيبوں ميں شامل كر لے جن كا دل اللہ كى ياد سے معمور اور مطمئن رہتا ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,638
    جزاک اللہ خیرا سسٹر۔ بہت عمدہ شئرنگ۔
    اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنے ذکر کے ذریعے دلوں کا اطمینان بخشے۔ آمین۔
    جیسا کہ خود اللہ نے قرآن میں فرمایا:
    اَلا بِــذِ كــرِ اللہِ تَــطــمَــئِــنُ الـقُــلُــوب
    یعنی دلوں کااطمینان تو صرف اللہ کے ذکر میں ہے، پر ہمارا ماڈرن زمانہ اور لوگ اطمینان اور سکون کو آج موسیقی، گانوں اور گیت میں ڈھونڈتے ہیں۔۔۔ اور بڑے ہی آرام سے ہمارے مسلمان لوگ بھی یہ کہہ دیتے ہیں کہ موسیقی روح کی غذا ہے۔ اللہ تعالٰی ہدایت دے۔ آمین
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. سائرہ ساجد

    سائرہ ساجد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 3, 2011
    پیغامات:
    693
    جزاک اللہ خیرا
     
  8. irum

    irum -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 3, 2007
    پیغامات:
    31,582
    آمین

    وایاکم

    آمین

    بلکل اصل سکون صرف اللہ کی یاد میں ہے موسیقی سے مجھے شروع سے الرجی ہے کبھی آواز سن لوں تو سر درد شروع۔۔۔۔، اللہ تعالٰی ہم سب کو ہدایت دے۔ آمین
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  9. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    بالكل درست ارم ، آمين ، مجھے بھی ميوزک كى آواز سے گھٹن اور اداسى كا احساس ہوتا ہے۔ روح كى سزا ہو سكتى ہے غذا كسى صورت نہيں ۔ اللہ تعالى كى حرام كردہ اشيا كسى مسلمان كى روح كى غذا كيسے ہو سكتى ہيں؟
     
  10. marhaba

    marhaba ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 5, 2010
    پیغامات:
    1,667
    ماشاءاللہ بہت عمدہ تحریریں ہیں ۔۔۔ اللہ صاحب تحریر کے ساتھ اسے شئیر کرنے والوں اور اسے پسند کرنے والوں کو سب کو سچی معرفت سے نوازے آمین
     
  11. irum

    irum -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 3, 2007
    پیغامات:
    31,582
    شکریہ بھائی
     
  12. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    ۔
    جزاک اللہ خیرا سسٹر ارم۔ بہت ہی عمدہ بات آپ نے شئر کی۔ یقینا یہ تو مؤمن کی خاصیت ہے کہ وہ راحت اور مصیبت دونوں صورتوں میں اپنے اللہ ہی کو پکارتا ہے۔ راحت کی صورت میں اس کا شکر ادا کر کے اور مصیبت کے وقت اس سے نجات کے لیۓ اللہ سے دعا کرکے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  13. irum

    irum -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 3, 2007
    پیغامات:
    31,582
    وایاکم
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں