کیا آپ تیار ہیں؟

irum نے 'ادبی مجلس' میں ‏نومبر 5, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. irum

    irum -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 3, 2007
    پیغامات:
    31,582
    ’’یہ گاڑی کتنی شاندار ہے‘‘۔’’ یہ لڑکی تو بہت خوبصورت ہے ‘‘۔’’ اُس کا بنگلہ تو زبردست ہے‘‘۔ ’’آج کل یہ فیشن اِن ہے‘‘۔ ’’میں تو گرمیو ں کی چھٹیاں ملک سے باہر ہی گزار تاہوں‘‘۔یہ اور ان جیسے جملوں کے درمیان آج کے انسان کی زندگی گزررہی ہے۔ یہ جملے بتاتے ہیں کہ آج کے انسان نے اپنے لیے جینے کی وہ سطح متعین کرلی ہے جو جانوروں کی سطح ہے۔

    جانور اپنی پوری زندگی خواہشات کے پیچھے گزارتے ہیں۔ مگر ان کے لیے یہ کوئی عیب کی بات نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں عقل کی نعمت نہیں دی ہے۔ وہ صرف بھوک اور جنس کی بنیادی جبلت کے تحت ہی اپنی زندگی گزارتے ہیں۔اس کا سبب یہ ہے کہ انہیں اس دنیا میں جینا ہے اور یہیں ختم ہوجانا ہے۔

    اس کے برعکس انسان ایک ہمیشہ رہنے والی مخلوق ہے۔اس کی تخلیق کا مقصد یہ ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ باقی ہیں، اس وقت تک وہ ان کے ساتھ رہے گا۔ وہ اللہ کی عبادت کرے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو ایسی نعمتیں عطا کریں گے جو اس کی آنکھیں ٹھنڈی کردیں گی۔اس جنت میں جانے سے قبل یہ ضروری ہے کہ انسان اس دنیا میں رہ کر خدا کی معرفت حاصل کرلے۔ اس دنیا میں خدا مادی آنکھوں سے نظر نہیں آتا۔ایسے میں انسان کا مشن پردہ غیب میں چھپے رب کو پانے اور اس کی عظمت کے سامنے جھک جانے کا نام ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. irum

    irum -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 3, 2007
    پیغامات:
    31,582
    اللہ تعالیٰ نے اس مقصد کے لیے انسان کو عقل دی ہے۔ غور و فکر کی صلاحیت دی ہے۔ دیکھنے والی آنکھیں اور سننے والے کان دیے ہیں۔یہ سب اس لیے دیے گئے ہیں کہ انسان چاند و سورج کی روشنی میں خدا کے نور کو دیکھے۔ سبزے کی ہریالی میں خدا کی ربوبیت کا اندازہ کرے۔ آسمان کی بلندی میں اس کی عظمت کو پہچانے۔ ستاروں کی چمک میں وہ اس کی قدرت کے جلوے دیکھے۔ساون کی برسات میں رب کی رحمت کو دیکھے۔ وہ کائنات میں پھیلی نشانیوں کو دیکھے اور رو رو کر اپنے رب کو پکارے۔ اس کی جنت کا طلبگار بنے اور اور اس کے عذاب سے پناہ مانگے۔
    مگر انسان کی بدقسمتی یہ ہے کہ وہ اپنی عقل اور بصیرت کو خواہش کے اندھے کنویں میں پھینک دیتا ہے۔ پیٹ، جنس اور انا کے بتوں کو معبود بناکر ساری زندگی ان کے پیچھے دوڑتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ موت آجاتی ہے۔ابدی زندگی شروع ہوجاتی ہے۔ مگر اب ا س کے پاس سوائے ندامت کے کچھ نہیں رہتا۔

    یہ وقت بہت لوگوں پر آچکا ہے ۔ آ پ پر آنے والا ہے۔ سو کیاآپ خود کو بدلنے کے لیے تیار ہیں؟ آپ اپنی عقل و بصیرت کو تسکینِ خواہش کے بجائے معرفتِ رب کا مشن دینے کے لیے تیار ہیں؟

    (مصنف: ریحان احمد یوسفی)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. marhaba

    marhaba ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 5, 2010
    پیغامات:
    1,667
    ماشاءاللہ بہن جی ۔۔۔۔ عید تو کل ہے مگر آپ کے دوتھریڈز نے آج ہی عید کی خوشیاں دے دیں ۔۔۔ اللہ آپ کو خوش و خرّم رکھے آمین۔۔ سلسلہ جاری رکھئے گا بہن جی ۔۔۔ نوازش ہوگی۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض نوآموز.

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    3,702
    کمال شیئرنگ سسٹر
    شکریہ فار شیئرنگ
    پواینٹس
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. marhaba

    marhaba ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 5, 2010
    پیغامات:
    1,667
    ان شاءاللہ جی بالکل تیار ہیں ۔۔۔ اللہ ہمیں معرفت رب کے خزانے دے دے آمین
     
  6. irum

    irum -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 3, 2007
    پیغامات:
    31,582
    آمین
    جی ضرور شکریہ بھائی
    اللہ آپ کو بھی خوش رکھے آمین
    شکریہ بھائی
    آمین
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں