علم تین چیزوں کا نام ہے ـ

ابوعکاشہ نے 'امام ابن قيم الجوزيۃ' میں ‏دسمبر 12, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,436
    ابن القيم رحمه الله تعالى إعلام الموقعين عن رب العالمين میں لکھتے ہیں‌کہ :

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ''علم تین چیزوں کا نام ہے اس کے علاوہ سب فضول ہے ، محکم آیت ، قائم سنت اور عدل والا مسئلہ میراث ''ـ

    اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ مسجد میں تشریف لائے دیکھا کہ ایک شخص کے آس پاس لوگ بھیڑ لگائے کھڑے ہیں ، پوچھا یہ کون ہے ؟ لوگوں نے کہا بڑا علامہ شخص ہے ـ آپ نے فرمایا علامہ سے کیا مراد ہے ؟ لوگوں نے کہا عرب کے نسب کو ، عربیت کو ، شعروں کو ، اختلاف عرب کو ، سب سے زیادہ جاننے والا یہی ہے ـ آپ نے فرمایا یہ وہ علم ہے جو نفع نہیں دے گا ـاور یہ وہ جہالت ہے جو نقصان نہیں دیتی ـ

    آپ کا فرمان ہے کہ علم تین ہیں باقی سب فضولیات ہیں ، آیت محکمہ ، سنت قائمہ ، فریضہ عادلہ ـ عمر رضی اللہ عنہ نےاپنے رسالے میں یہ لکھا کہ جب تیرے سامنے کوئی قضیہ لایا جائے تو تو سمجھ بوجھ لے ، یعنی فہم کی صحت اور مقصد کی اچھائی بھی اللہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے بلکہ اسلام کے بعد اس سے افضل و اعلٰی اور کوئی نعمت نہیں ـ

    اسلام کے یہ دونوں قدم ہیں اسی پر اسلام کا قیام ہے ـ انہی سے انسان اللہ کے غضب والوں کے راستے سے بچتا ہے ـ جن کا مقصد اچھا نہ تھا اور گمراہوں کے راستے محفوظ رہتا ہے جن کی فہم اور سمجھ فاسد اور بگڑی ہوئی تھی ـ بلکہ وہ ان لوگوں میں سے ہو جاتا ہے جن پر اللہ کا انعام ہے ـ جن کے فہم و مقصد نیک ہیں جو صراط مستقیم والے ـ جس کے طلب کرنے کی ہمیں ہدایت ہوئی ہے کہ ہر نماز میں یہ دعا کرتے ہیں ـ

    صحت فہم ایک نور ہے جو اللہ تعالٰی اپنے بندوں کے دل میں ڈال دیتا ہے جس سے وہ صحیح و فاسد کو ، حق و باطل کو ، ہدایت و ضلالت کو ، برائی بھلائی کو تمیز کرلیتا ہے پھر اس کا بھلا مقصد اور تلاش حق اور ظاہرباطن میں اللہ کا ڈر اس کی اور بھی امداد کرتا ہے اور اتباع خواہش کو ترجیح دیتا اور مخلوق کی تعریف کی خواہش اور پرہیزگاری کا ترک بلکل ہی اس سے چھوٹ جاتا ہے ـ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  2. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,873
    جزاک اللہ خیرا
     
  3. irum

    irum -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 3, 2007
    پیغامات:
    31,582
    جزاک اللہ خیرا
     
  4. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,638
    جزاکم اللہ خیرا
     
  5. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,758
    جزاک اللہ خیرا
     
  6. سائرہ ساجد

    سائرہ ساجد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 3, 2011
    پیغامات:
    693
    جزاک اللہ خیرا
     
  7. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    جزاک اللہ خیرا بھائی

    اگر ہو سکے تو آیت محکمہ ، سنت قائمہ ، فریضہ عادلہ کی تعریف بھی کر دیجئے تاکہ اس حدیث مبارکہ کا مفہوم پوری طرح سمجھنے میں آسانی ہو
     
  8. ابن حسیم

    ابن حسیم ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 1, 2010
    پیغامات:
    891
    جزاکم اللہ خیرا۔ بہت عمدہ شئیرنگ ہے۔۔
     
  9. حجاب

    حجاب -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏جون 10, 2010
    پیغامات:
    666
    جزاک اللہ
     
  10. منصف

    منصف -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 10, 2008
    پیغامات:
    1,920
    براہ مہربانی مجھے انکے معنی اور مفہوم کی مذید وضاحت کردے میں صحیح طور سمجھ نہ پایا ۔۔۔
    عین نوازش ہوگی

    1-آیت محکمہ ،
    2-سنت قائمہ ،
    3- فریضہ عادلہ

    نیز اس حدیث کی سند بھی لکھ دے تو اچھا ہوجائے

    جزاک اللہ
     
  11. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,021
    روایت کی تحقیق یہاں ملاحظہ فرمائیں ۔

    اب روایت مذکورہ کا مفہوم :
    آيَةٌ مُحْكَمَةٌ۔
    اس سے مراد یہ ہے کہ آیت منسوخ نہ ہو اورنہ ہی متشابہ ہو۔

    سُنَّةٌ قَائِمَةٌ
    اس سے مراد یہ یہ کہ سنت صحیح سند سے ثابت ہو اور منسوخ نہ ہو۔

    فَرِيضَةٌ عَادِلَةٌ
    اس سے مراد مالی حقوق میں انصاف ہے مثلا میراث کو صحیح طور سے تقسیم کرنا ۔


     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں