شرعی اصطلاحات کے ترجمے / غلط فہم سے پیدا ہونے والی غلطیاں، آپ بھی مثال پیش کریں

شفقت الرحمن نے 'مجلس علماء' میں ‏دسمبر 16, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. شفقت الرحمن

    شفقت الرحمن ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جون 27, 2008
    پیغامات:
    713
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

    ہماری پیاری شریعت کی اصطلاحات کا اگر ترجمہ کیا جائےیا انکے فہم میں کمی رہ جائے تو کچھ غلط اثرات مرتب ہوتے ہیں انکی 1یک ، ایک مثال میں دیتا ہوں ، مثلا

    منی میں موجود "جمرات" کا معنی "شیطان" کرنا

    عوام الناس کو راقم نے وہاں خود دیکھا ہے کہ وہ اپنے جوتے اتار کر مار رہے ہوتے ہیں اور ساتھ میں یہ بھی خیال کرتے ہیں کہ یہ "حقیقی شیطان" ہی ہے، اور تو اور اسکو وہاں برا بھلا کہتے ہوئے بھی بعض کو سنا گیا۔


    غلط فہمی کی مثال

    غیبت کے بارے میں یہ کہنا کہ میں یہ بات فلاں شخص کی پیٹھ پیچھے تو کیا اسکے منہ پر کرنے کو تیار ہوں اور اسکا مطلب یہ نکالنا کہ یہ غیبت نہیں ہوگی یقینا آپنے آپ کو دھوکا دینے کے مترادف ہے، کیونکہ غیبت برے وصف کو بیان کرنے کا نام ہے چاہے وہ مذکورہ بالا کسی بھی شکل میں ہو


    اب آپکی باری ہے۔۔۔۔۔۔
     
    Last edited by a moderator: ‏دسمبر 16, 2011
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  2. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران ركن مجلسِ شوریٰ

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,943
    ايك شرعي اصطلاح ہے " وسطیۃ" یا " میانہ روی "
    جسکا معنى ہے تشدد و تساہل کے درمیان والی راہ۔
    لیکن عموما یہ خیال پایا جاتا ہے کہ میانہ روی اسے کہتے ہیں جسے ہمارا معاشرہ مستحسن قرار دے اور جسکی بناء پر کسی کو تنقید کا نشانہ نہ بننا پڑے ۔
    اس غلط فہمی کی بناء پر بہت سے لوگ میانہ روی کو تشدد اور تساہل کو میانہ روی سمجھ بیٹھے ہیں
    مثلا :
    شریعت اسلامیہ میں ازار (شلوار , تہبند وغیرہ) کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانا حرام ہے
    اسی طرح گھٹنوں کو ننگا کرنا بھی ناپسندیدہ عمل ہے ۔
    جبکہ ازار کو نصف پنڈلی پر رکھنے کاحکم ہے۔
    اب شرعی اصطلاح کے مطابق شلوار وغیرہ کو نصف پنڈلی پر رکھنا میانہ روی ہے ۔
    نصف پنڈلی سے نیچے رکھنا تساہل اور اوپر رکھنا تشدد ہے ۔
    لیکن ہمارے ہاں عموما یہ خیال کیا جاتا ہے کہ شلوار وغیرہ کو نصف پنڈلی پر رکھنا یہ تشدد ہے اور ٹخنوں کے قریب قریب لیکن قدرے اوپر رکھنا یہ میانہ روی ہے ۔
    یعنی حرام اور ناجائز کام کو میانہ روی اور میانہ روی کو تشدد سمجھا جانے لگا ہے ۔
    یاد رہے کہ ٹخنوں سے اسقدر قریب شلوار کہ جسکا بار بار ٹخنوں سے نیچے چلے جانے کا اندیشہ ہو ناجائز ہے ۔
    لقولہ صلى اللہ علیہ وسلم ....الْحَلَالُ بَيِّنٌ وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ وَبَيْنَهُمَا مُشَبَّهَاتٌ لَا يَعْلَمُهَا كَثِيرٌ مِنْ النَّاسِ فَمَنْ اتَّقَى الْمُشَبَّهَاتِ اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ كَرَاعٍ يَرْعَى حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكُ أَنْ يُوَاقِعَهُ أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى أَلَا إِنَّ حِمَى اللَّهِ فِي أَرْضِهِ مَحَارِمُهُ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,094
    وعليكم السلام ورحمة اللہ وبركاتہ
    ماشاء اللہ بہت مفيد موضوع ہے۔اميد ہے تمام اركان مفيد مشاركت كريں گے۔
    ايك عام غلطى :
    نبي كريم صلى الله عليه وسلم كا ايك خوب صورت فرمان مبارك ہے۔
    [qh]بدأ الإسلام غريبا وسيعود كما بدأ غريبا فطوبى للغرباء(صحيح مسلم) [/qh]
    اسلام ابتدا ميں غريب تھا اور آخرى زمانے ميں ويسا ہی غريب ہو جائے گا جيسا ابتدا ميں تھا ، تو غرباء كے ليے خوش خبرى ہے۔
    اس حديث مبارك ميں غريب اور غربا كو بمعنى فقير وفقراء سمجھنے سے بہت غلط فہمی پيدا ہوئى اور بعض لوگ اس كو فقر وفاقہ كى فضيلت بيان كرنے والى حديث سمجھتے رہے۔۔۔ يہاں عربى لفظ غريب بمعنى "اجنبى" ہے۔ يعنى دين پر عمل كرنے والے جس طرح اس كى ابتدا ميں اجنبى اور انوكھے سمجھے جاتے تھے اسى طرح آخرى زمانے ميں ہو جائيں گے۔ اور ان انوكھے اور اجنبى لگنے والوں کے ليے بشارت ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران ركن مجلسِ شوریٰ

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,943
    اسی " غریب " کے حوالہ سے ایک اور مسئلہ بھی موجود ہے کہ ایک جماعت نے اپنا نام " غرباء " رکھا ہوا ہے اور وہ اس حدیث کا مصداق اپنے آپ کو سمجھتے ہیں ۔
     
  5. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران ركن مجلسِ شوریٰ

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,943
    یہی لفظ " غریب "
    علم مصطلح میں ایسی روایت کے لیے بولا جاتا ہے جسے روایت کرنے والا صرف ایک راوی ہو ۔
    لیکن عام طور پر لوگ " غریب حدیث" کو ضعیف سمجھتے ہیں ۔
    حالانکہ صحیح بخاری کی سب سے پہلی اور آخری حدیث غریب ہی ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران ركن مجلسِ شوریٰ

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,943
    ایک اہم وضاحت

    اس بارہ میں ایک وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ صحیح بخاری کی پہلی حدیث انما الاعمال بالنیات غریب نسبی ہے غریب مطلق نہیں !
    کیونکہ یہ روایت سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے علاوہ دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بھی مروی ہے ملاحظہ فرمائیں :
    أبو الحسن طیوری اپنی " طیوریات " میں فرماتے ہیں :
    أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْمَدَائِنِيُّ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ الْقَوْمَسِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ : " إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ "
    اسی طرح ابو الطاہر السلفی مشیخۃ بغدادیہ کے جزء ۳۵ میں فرماتے ہیں :
    حدثنا عمر بن محمد يعني الزيات، نا إبراهيم بن عبد الله بن أيوب المخرمي، نا نوح بن حبيب القومسي، نا عبد المجيد بن عبد العزيز بن أبي داود، نا مالك بن أنس، عن زيد بن أسلم، عن عطاء بن يسار، عن أبي سعيد الخدري، قال: قال رسول الله k: " إنما الأعمال بالنيات ولكل امرئ ما نوى فمن كانت هجرته إلى الله وإلى رسوله فهجرته إلى الله وإلى رسوله، ومن كانت هجرته إلى دنيا يصيبها أو امرأة ينكحها فهجرته إل ما هاجر إليه "
    اور یہ دونوں سندیں حسن ہیں ۔
    اسکے علاوہ عبد اللہ بن عباس اور انس بن مالک رضی اللہ عنہما سے بھی یہ روایت مروی ہے لیکن اسکی سند شدید ضعیف ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. شفقت الرحمن

    شفقت الرحمن ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جون 27, 2008
    پیغامات:
    713
    اضحیہ ، ہدی اور فدیہ میں جانور ذبح کرنے کو صرف لفظ " قربانی " سے تعبیر کرنا حالانکہ یہ تینوں علیحدہ علیحدہ ہیں اور انکے احکام بھی علیحدہ ہیں

    اضحیہ قربانی والے دن(غیر حاجی کی جانب سے) ذبح ہونے والے جانورپر بولا جاتا ہے اسی سے لفظ عید الاضحی ہے۔
    ہدی اس جانور کو کہا جاتا ہے جو آدمی اپنے گھر سے مکہ کی جانب بھیجے کہ اسے حدود حرم میں ذبح کیا جائے، یا جو جانور حاجی عمل ِحج کے طور پر ذبح کرے۔
    فدیہ اس جانور کہا جاتا ہے جو حاجی کسی غلطی کے ارتکاب کے کفارے کے طور پر ذبح کرتا ہے۔
     
    Last edited by a moderator: ‏جنوری 2, 2012
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  8. شفقت الرحمن

    شفقت الرحمن ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جون 27, 2008
    پیغامات:
    713
    لفظ "بہن" کا غلط فہم

    ہمارے معاشرے میں بے پردگی تو ویسے ہے ہی بہت زیادہ ہے اور اس پر افسوس اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب اس کام کے لئے شرعی اصطلاحات کو استعمال کیا جائے جیسے کہ ایک بار گاڑی میں سفر کرتے ہوئے ایک شخص کو جگہ نہیں ملی غور کرنے پر ایک خاتون کے ساتھ سیٹ خالی تھی پہلے تو وہ ہچکچایا اور پھر یہ کہہ کر خاتون کے ساتھ بیٹھ گیا "تسی تے میری بہناں رنگی او" یعنی آپ تو میری بہن کی طرح ہو اور میں اپنی بہن کا محرم ہوں تو آپکا بھی محرم ہوں جب میں اپنی بہن کے ساتھ بیٹھ سکتا ہوں تو آپ کے ساتھ بھی۔

    اب اس "بہن" کے لفظ کو غلط استعمال کر کے اس لفظ کے تقدس کو پامال کیا جاتا ہے اور لڑکی کے ماں باپ خود سے اس کا ارتکاب کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جسکی مثال ہمارے ہاں "کزن" کی شکل میں موجود ہے، کتنے ایسے گھرانے ہیں جن میں کزن کو "بہن" بنا کر ان سے بے پردگی کا ارتکاب کروایا جاتا ہے!!جبکہ اللہ تعالی نے (سورہ نساء : 23)واضح انداز میں ان رشتوں کا تذکرہ کردیا ہے جن سے پردہ نہیں ہے باقی سب سے ہےاسی طرح چند رشتوں کا اضافہ حدیث کی رو سے بھی ہوتا ہے۔

    اللہ تعالی ہمیں صحیح طور پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  9. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,094


    ايك حديث مبارك جس كے ترجمے كى وجہ سے بعض عجمى شيوخ اس كا مفہوم عام كر بيٹھے، اصل مفہوم برادر مكرم رفيق طاھر كى زبانى :
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  10. شفقت الرحمن

    شفقت الرحمن ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جون 27, 2008
    پیغامات:
    713
    مسجد اور مصلی میں فرق نہ کرنا

    "مسجد" کے خاص شرعی احکام ہیں وہ احکام کسی دوسری جگہ کے نہیں ہو سکتے اور کسی بھی جگہ کو مسجد قرار دینے کیلئے کچھ شرائط ہیں مثلا:

    روزانہ پانچ وقت باجماعت نماز کا اہتمام ہو جمعہ کی ادائیگی شرط نہیں ہے۔
    باقاعدہ امام مقرر ہو۔
    نمازوں کیلئے باقاعدہ آذان دی جائے۔

    اگر کسی جگہ یہ تمام شرائط بیک وقت موجود نہ ہوں تو اسے مسجد نہیں کہا جائے گا بلکہ "مصلی" جائے نماز کہا جائے گا اور اس کے احکام مسجد والے نہیں ہونگے، جیسے کہ مسافر خانوں میں اکثر "مصلی" ہی ہوتی ہیں جبکہ مسجدیں کم۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں