شرعی اصطلاحات کے ترجمے / غلط فہم سے پیدا ہونے والی غلطیاں، آپ بھی مثال پیش کریں

شفقت الرحمن نے 'مجلس علماء' میں ‏دسمبر 16, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,131
    سنن ترمذی میں ابوھریرۃ رضی اللہ عنہ کہ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا إِذَا قُبِرَ الْمَيِّتُ، أَوْ قَالَ: أَحَدُكُمْ، أَتَاهُ مَلَكَانِ أَسْوَدَانِ أَزْرَقَانِ، يُقَالُ لأَحَدِهِمَا: الْمُنْكَرُ، وَلِلآخَرِ: النَّكِيرُ."
    یہاں اسودان ازرقان کے ترجمے کے بارے میں ایک ابہام ہے۔ ظاہرا اس کا ترجمہ کالے نیلے ہو گا۔ لیکن صاحب تحفۃ الاحوذی نے لکھا ہے کہ ازرقان سے مراد ان کی آنکھوں کا رنگ ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. شفقت الرحمن

    شفقت الرحمن ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جون 27, 2008
    پیغامات:
    663
    اس میں اچنبھے کی تو کوئی بات نہیں ہے؛ کیونکہ ترجمہ اور شرح میں یہی تو فرق ہے، آپ نے لفظی ترجمہ کیا ہے اور صاحب کتاب نے اس کی مزید وضاحت کی ہے۔
    واللہ اعلم
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • متفق متفق x 1
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,131
    ایسے مواقع پر لفظی ترجمہ بہتر ہے یا تفسیری؟
     
  4. شفقت الرحمن

    شفقت الرحمن ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جون 27, 2008
    پیغامات:
    663
    یہ تو ظاہر ہے کہ تحفۃ الاحوذی شرح ہے اس میں ترجمہ ممکن نہیں، تو ایسے میں شرح ہی ہو سکتی ہے ترجمہ تو ممکن نہیں ہے، ویسے اس حدیث کے دیگر الفاظ دیکھنے سے بھی تسلی ہو سکتی ہے کہ یہاں ازرقان سے مراد کیا ہے؟

    مزید یہ کہ ترجمہ بھی ایک حد تک تفسیر ہی ہوتی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں