شرعی اصطلاحات کے ترجمے / غلط فہم سے پیدا ہونے والی غلطیاں، آپ بھی مثال پیش کریں

شفقت الرحمن نے 'مجلس علماء' میں ‏دسمبر 16, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,121
    سنن ترمذی میں ابوھریرۃ رضی اللہ عنہ کہ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا إِذَا قُبِرَ الْمَيِّتُ، أَوْ قَالَ: أَحَدُكُمْ، أَتَاهُ مَلَكَانِ أَسْوَدَانِ أَزْرَقَانِ، يُقَالُ لأَحَدِهِمَا: الْمُنْكَرُ، وَلِلآخَرِ: النَّكِيرُ."
    یہاں اسودان ازرقان کے ترجمے کے بارے میں ایک ابہام ہے۔ ظاہرا اس کا ترجمہ کالے نیلے ہو گا۔ لیکن صاحب تحفۃ الاحوذی نے لکھا ہے کہ ازرقان سے مراد ان کی آنکھوں کا رنگ ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. شفقت الرحمن

    شفقت الرحمن ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جون 27, 2008
    پیغامات:
    718
    اس میں اچنبھے کی تو کوئی بات نہیں ہے؛ کیونکہ ترجمہ اور شرح میں یہی تو فرق ہے، آپ نے لفظی ترجمہ کیا ہے اور صاحب کتاب نے اس کی مزید وضاحت کی ہے۔
    واللہ اعلم
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • متفق متفق x 1
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,121
    ایسے مواقع پر لفظی ترجمہ بہتر ہے یا تفسیری؟
     
  4. شفقت الرحمن

    شفقت الرحمن ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جون 27, 2008
    پیغامات:
    718
    یہ تو ظاہر ہے کہ تحفۃ الاحوذی شرح ہے اس میں ترجمہ ممکن نہیں، تو ایسے میں شرح ہی ہو سکتی ہے ترجمہ تو ممکن نہیں ہے، ویسے اس حدیث کے دیگر الفاظ دیکھنے سے بھی تسلی ہو سکتی ہے کہ یہاں ازرقان سے مراد کیا ہے؟

    مزید یہ کہ ترجمہ بھی ایک حد تک تفسیر ہی ہوتی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • مفید مفید x 1
  5. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,121
    صبغۃ اللہ کا ترجمہ اللہ کا رنگ ( سورۃ البقرۃ 138) جب کہ یہاں اللہ کا دین مراد ہے۔
    اردو تراجم کی اکثریت میں یہی ترجمہ کیا گیا ہے اس لیے اہل اردو کو سمجھانا مشکل ہو جاتا ہے۔یہاں کی ثقافت کے زیراثر دریابادی نے انگریزی میں بھی ڈائے آف اللہ ترجمہ کیا ہے، اور جب وہ کہتے ہیں ہو از بیٹر ایٹ ڈائنگ دین اللہ تو صورت حال بالکل خراب ہو جاتی ہے۔ البتہ انگریزی تراجم میں ڈاکٹر ہلالی، محسن خان، اور صحیح انٹرنیشنل نے بالکل درست ترجمہ کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے مترجم کو تفسیر بالماثور کا علم ہونا کتنا ضروری ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  6. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,121
    جی، مجھے لگتا ہے کہ نصوص میں ترجمہ تفسیریہ ہی کرنا چاہیے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. شفقت الرحمن

    شفقت الرحمن ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جون 27, 2008
    پیغامات:
    718
    یہاں میرے خیال میں دو الگ الگ چیزیں ہیں اگر ان میں تفریق رکھی جائے تو بات سمجھنے میں آسانی ہو گی، وہ اس طرح کہ:
    ایک ہے کسی لفظ کا معنی
    اور دوسرا ہے اس لفظ سے مراد کیا ہے؟
    مثلا: سورت یاسین میں ہے کہ "وجاء من أقصى المدينة رجل يسعى" یہاں پر رجل اور مدینہ ان دونوں کا معنی بالترتیب آدمی اور شہر ہے، یہ اس کا معنی ہے، لیکن اس سے مراد کیا ہے؟ یعنی وہ کون آدمی ہے اور وہ کون سا شہر ہے؟ تو مسئلہ واضح ہو جائے گا۔
    بالکل یہی صورت حال "صبغۃ اللہ" کے متعلق ہے، اس کا معنی اللہ کا رنگ ہے، لیکن اللہ کے رنگ سے مراد کیا ہے؟ وہ اللہ کا دین ہے۔
    یہاں پھر مسئلہ کھڑا ہو گا کہ اس تعبیر کی خاص وجہ؟ تو اس کا حل اس آیت کا شان نزول واضح کر دے گا۔

    یہ ایک ادنی سے طالب علم کی جانب سے وضاحت ہے، کامل علم تو اللہ کے پاس ہے، دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اُس میں سے مزید عطا فرمائے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  8. شفقت الرحمن

    شفقت الرحمن ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جون 27, 2008
    پیغامات:
    718
    جیسے کہ میں نے عرض کیا تھا کہ ترجمہ بھی ایک حد تک تفسیر ہی ہوتا ہے، تو "ایک حد" کی قید لازمی ہے؛ کیونکہ متعدد صحیح مفاہیم رکھنے والے جملے کا ایک ہی پیرائے میں ترجمہ یا تفسیر بیان کرنا ممکن نہیں ہوتا، اگر آپ ہمیشہ تفسیری ترجمہ کریں گے یا مرادی معنی بیان کر دیں گے تو ممکن ہے کہ کہیں نہ کہیں جا کر کوئی سقم پیدا ہو جائے؛ اس کی وجہ یہی ہے کہ ہر لفظ کی کامل دلالت بیان کرنا ممکن نہیں ہوتا۔
    واللہ اعلم
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • مفید مفید x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں