تراویح کی فضیلت پر حدیث کی تحقیق

رفی نے 'آپ کے سوال / ہمارے جواب' میں ‏دسمبر 25, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    السلام علیکم محترم شیوخِ مجلس!

    مجھے ایک حدیث کی تخریج اور صحت کے بارے میں تفصیل چاہیئے:

    "تراویح کے ہر سجدے پر ڈیڑھ ہزار نیکی لکھی جاتی ہے، اور ہر سچدے پر جنت میں سرخ یاقوت کا ایک محل تیار کیا جاتا ہے جس کے ساٹھ ہزار سونے چاندی کے دروازے ہوتے ہیں اور تراویح کے ہر سجدے پر جنت میں ایک درخت لگایا جاتا ہے جس کے نیچے سو سال عربی گھوڑا دوڑ سکتا ہے"
     
  2. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,021
    رفی بھائی کیا آپ عربی الفاظ نقل کرسکتے ہیں‌ یاکم از کم یہ بتادیں کی اس حدیث‌ کو آپ نے کہاں سے لیا ہے کیا اس کے پیش کرنے والے نے اس کا کوئی حوالہ درج کیا ہے۔
     
  3. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    معذرت شیخ کہ عربی الفاظ مجھے معلوم نہیں ہیں، یہ حدیث طارق جمیل صاحب نے یہاں کوٹ کی ہے:

    http://www.youtube.com/watch?v=9NGvw1oIDyc

    7 منٹ دس سیکنڈ پر


    اور نیٹ سے سرچ کرنے پر ایک جگہ بیہقی کا حوالے سے ملی ہے
     
  4. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,021

    امام بيهقي رحمه الله (المتوفى458)نے کہا:
    أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْمِهْرَانِيُّ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، قَالُوا: أخبرنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْبَغَوِيُّ، بِبَغْدَادَ، حدثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيلٍ الْعَنْزِيُّ، حدثنا هِشَامُ بْنُ يُونُسَ اللُّؤْلُؤِيُّ، حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ السُّدِّيُّ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ الْعَبْدِيِّ، وعَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَانَ أَوَّلُ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ فُتِحَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ فَلَا يُغْلَقُ مِنْهَا بَابٌ حَتَّى يَكُونَ آخِرُ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ، وَلَيْسَ مِنْ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ يُصَلِّي فِي لَيْلَةٍ إِلَّا كَتَبَ اللهُ لَهُ أَلْفًا وَخَمْسَمِائَةِ حَسَنَةٍ بِكُلِّ سَجْدَةٍ، وَبَنَى لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ مِنْ يَاقُوتَةٍ حَمْرَاءَ لَهَا سِتُّونَ أَلْفَ بَابٍ لِكُلٍّ بَابٍ مِنْهَا قَصْرٌ مِنْ ذَهَبٍ مُوَشَّحٍ بِيَاقُوتَةٍ حَمْرَاءَ، فَإِذَا صَامَ أَوَّلَ يَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ غَفَرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ إِلَى مِثْلِ ذَلِكَ الْيَوْمِ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ، وَاسْتَغْفَرَ لَهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ إِلَى أَنْ تُوَارَى بِالْحِجَابِ، وَكَانَ لَهُ بِكُلِّ سَجْدَةٍ يَسْجُدُها فِي شَهْرِ رَمَضَانَ بِلَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ شَجَرَةٌ يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا خَمْسَ مِائَةَ عَامٍ " " قَدْ رَوَيْنَا فِي الْأَحَادِيثِ الْمَشْهُورَةِ مَا يَدُلُّ عَلَى هَذَا أَوْ بَعْضِ مَعْنَاهُ "[ اخرجہ البیھقی فی شعب الإيمان 3/ 314 وفی فضائل الأوقات ص: 154 واخرجہ ایضا قوام السنہ فی الترغيب والترهيب(2/ 357) من طریق ابی زکریا بہ]۔

    یہ روایت موضوع و من گھڑت ہے ۔
    سند مین ’’مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ السُّدِّيُّ‘‘ ہے ۔

    عبد الله بن نمير الهمدانى (المتوفى 199)نے کہا:
    مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ الْكَلْبِيُّ كَذَّابٌ[الضعفاء للعقيلي: 4/ 136 فی سندہ الحسن بن عليب لم اعرفہ لکن تابعہ ابن رشدین انظر:الضعفاء لابن ابن شاهين: ص: 168

    امام نسائي رحمه الله (المتوفى303)نے کہا:
    مُحَمَّد بن مَرْوَان الْكُوفِي يروي عَن الْكَلْبِيّ مَتْرُوك الحَدِيث[الضعفاء والمتروكون للنسائي: ص: 93]۔

    امام ابن حبان رحمه الله (المتوفى354)نے کہا:
    كان ممن يروي الموضوعات عن الأثبات لا يحل كتابة حديثه[المجروحين لابن حبان: 2/ 286]

    شيخ الاسلام ابن تيمية رحمه الله (المتوفى728)نے کہا:
    مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ السدي عَنْ الْأَعْمَشِ . وَهُوَ كَذَّابٌ [مجموع الفتاوى27/ 241]۔

    امام ذهبي رحمه الله (المتوفى:748)نے کہا:
    محمد بن مروان السدي -كذاب[تلخيص كتاب الموضوعات للذهبي ص: 90]۔

    حافظ ابن حجر رحمه الله (المتوفى852)نے کہا:
    محمد بن مروان بن عبد الله بن إسماعيل السدي بضم المهملة والتشديد وهو الأصغر كوفي متهم بالكذب[تقريب التهذيب لابن حجر: 1/ 419]۔








     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  5. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    جزاک اللہ خیراً شیخ، الحمد للہ میرا شک صحیح نکلا!

    شیخ یہ جو نیکیوں یا ثواب کا جمعہ بازار لگایا جاتا ہے جہاں ایک ایک عمل کی ہزاروں نیکیاں گنوائی جاتی ہیں کیا اس کے لئے صحیح احادیث سے کوئی پیمانہ مخصوص ہے یعنی کسی بھی امر کی زیادہ سے زیادہ نیکیاں کتنی ہو سکتی ہیں؟ مجھے اس حدیث کے بارے میں اسی چیز نے شک میں ڈالا تھا اسی فورم میں کہیں پر بحث کے دوران مجھے بتایا گیا تھا صحیح احادیث میں کسی نیک کام کا اجر زیادہ سے زیادہ دس گنا ہے اب صحیح سے یاد نہیں اور نہ ہی وہ تھریڈ مل رہا ہے۔
     
  6. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    460
  7. عدیل سلفی

    عدیل سلفی رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏نومبر 16, 2014
    پیغامات:
    30
    جزاک اللہ خیرا
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں