اہل تصوف کی کارستانیاں

رحیق نے 'اردو یونیکوڈ کتب' میں ‏نومبر 24, 2007 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. رحیق

    رحیق -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    1,593
    نصوص قرآن وحدیث کے لئے
    باطنی تاویل کا دروازہ کھولنا





    صوفیانہ افکار کے عظیم ترین خطرات میں سے یہ بھی ہے کہ انہوں نے قرآن و سنت کے نصوص کے لئے باطنی تفسیر کا دروازہ کھول دیا۔ چنانچہ مشکل ہی سے کوئی ایسی آیت یا حدیث ملے گی جس کی بد دین اہل تصوف نے خبیث باطنی تاویلات نہ کی ہوں۔ علامہ ابن جوزی رحمہ اللہ اس کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

    "ابو عبدالرحمن سلمی نے تفسیر قرآن کے سلسلے میں ان (اہل تصوف) کا کلام جو زیادہ تر ناجائز ھذیان ہے تقریباً دو جلدوں میں جمع کیا ہے۔ اور اس کا نام "حقائق التفسیر" رکھا ہے۔ سورہ فاتحہ کے سلسلے میں اس نے ان سے نقل کیا ہے کہ اس کا نام فاتحۃ الکتاب اس لئے رکھا گیا ہے کہ یہ اول ترین چیز ہے جس سے ہم نے تمہارے ساتھ اپنے خطاب کا دروازہ کھولا ہے۔ اگر تم نے اس کے ادب کو اختیار کیا تو ٹھیک ، ورنہ اس کے مابعد کے لطائف سے تم کو محروم کردیا جائے گا"۔

    مصنف رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ بری بات ہے ۔ کیوں کہ مفسرین کا اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ سورۃ فاتحہ اول اول نازل نہیں ہوئی تھی۔

    اسی طرح سورہ فاتحہ کے خاتمے پر جو آمین کہی جاتی ہے اس کی تفسیر کی ہے کہ : ہم تیرا قصد کرتے ہیں".

    مصنف رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ بھی بری تفسیر ہے۔ اس لئے کہ یہ اُمّ سے نہیں ہے، جس کے معنی قصد کرنے کے آتے ہیں۔کیوں کہ اگر ایسا ہوتا تو آمین کی میم کو تشدید ہوتی۔

    اسی طرح اللہ تعالیٰ کے قول : وان یاتوکم اسٰرٰی کے سلسلے میں لکھا ہے کہ ابو عثمان نے کہا اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو گناہوں میں غرق ہوں۔ اور واسطی نے کہا کہ جو اپنے افعال کو دیکھنے میں غرق ہوں۔ اور جنید نے کہا کہ جو اسباب دنیا کے اندر قید ہوں۔ اور "تم ان کا فدیہ دیتے ہو" کا معنی یہ بیان کیا ہے کہ انہیں دنیا سے قطع تعلق کی طرف لے جاتے ہو۔

    میں کہتا ہوں کہ یہ آیت بطور انکار کے آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہود کے طرز عمل پر نکیر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ جب تم انہیں قید کرتے ہوتو فدیہ دیتے ہو اور جب ان سے جنگ کرتے ہو تو قتل کرتے ہو(حالانکہ یہ بات تم پر حرام کی گئی ہے) مگر ان اہل تصوف نے اس تفسیر انکار کے بجائے مدح کے طور پر کی ہے۔

    محمد بن علی نے یحب التوابین کا معنی بیان کیا ہے کہ اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اپنی توبہ سے توبہ کرتے ہیں (یعنی توبہ توڑ دیتے ہیں۔)

    اور نوری نے یقبض و یبسط (اللہ روزی تنگ کرتا اور کشادہ کرتا ہے) کی تفسیر یوں کی ہے کہ وہ اپنے ذریعہ قبض کرتا ہے اور اپنے لئے پھیلاتا ہے۔ اور من دخلہ کان آمنا کی تفسیر یہ کی ہے کہ حرم میں داخل ہونے والا اپنے نفس کے خیالات اور شیطان کے وسوسوں سے محفوظ ہوجاتا ہے۔ حالانکہ یہ نہایت گندی تفسیر ہے کیوں کہ آیت کا لفظ خبر کا لفظ ہے لیکن معنی امر کا ہے اور مفہوم یہ ہے کہ جو حرم میں داخل ہوجائے اسے امن دے دو۔ لیکن ان حضرات نے اس کی تفسیر خبر سے کی ہے۔ پھر جو تفسیر کی ہے وہ صحیح بھی نہیں۔ کیوں کہ کتنے ہی لوگ ہیں جو حرم میں داخل ہوتے ہیں۔ لیکن نفس کے خیالات اور شیطانی وسوسوں سے محفوظ نہیں رہتے۔

    ان تجتنبوا کبائر ما تنھون عنہ (یعنی اگر تم بڑے بڑےگناہوں سے پرہیز کرلوگے تو ہم معمولی گناہوں کو بخش دیں گے۔ الخ) اس کی تفسیر میں ابوتراب نے کہا کہ کبائر سے مراد فاسد دعوے ہیں۔

    والجار ذی القربیٰ (قرابت دار پڑوسی) کی تفسیر میں سہل نے کہا کہ اس سے مراد دل ہے اور الجار الجنب (پہلو کا ساتھی) نفس ہے۔ اور ابن السبیل (راستہ چلنے والا مسافر) اعضاء و جوارح ہیں۔

    وھم بھا (یوسف نے اس کا قصد کیا) اس کی تفسیر میں ابوبکر وراق نے کہا کہ دونوں قصد امراۃ العزیز کا تھا۔ یوسف علیہ السلام نے اس کا قصد نہیں کیا تھا میں کہتا ہوں یہ صریح قرآن کے خلاف ہے۔

    ما ھذا بشر (یہ بشر نہیں) کی تفسیر محمد بن علی نے یوں کی ہے کہ یہ اس لائق نہیں کہ اس کو مباشرت کے لئے بلایا جائے۔

    زنجانی نے کہا کہ رعد(کڑک) فرشتوں کی بیہوشیاں ہیں اور برق (بجلی) ان کے دلوں کی آہیں ہیں۔ اور بارش ان کا آنسو ہے۔

    وللہ المکر جمیعا کی تفسیر حسین نے یوں کی ہے کہ حق تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ جیسا مکر کرتا ہے اس سے زیادہ واضح مکر کوئی نہیں کرسکتا۔ کیوں کہ اللہ نے ان کے ساتھ یہ وفا کی ہے کہ ان کے لئے اللہ کی جانب ہر حال میں راستہ ہے۔ یا حادث کے لئے قدیم کے ساتھ اتصال ہے۔

    مصنف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو شخص اس کے معنی پر غور کرے گا اسے معلوم ہوجائے گا کہ یہ نرا کفر ہے۔ کیوں کہ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ کا مکر گویا ٹھٹا اور کھلواڑ ہے۔ مگر یاد رہے کہ یہ حسین وہی ہے جو حلاج کے نام سے مشہور ہے۔ اور وہ اسی لائق ہے۔

    لعمرک کی تفسیر میں لکھا ہے کہ تو اپنے راز کو ہمارے مشاہدے کے ذریعہ تعمیر کرتا ہے۔

    "میں کہتا ہوں پوری کتاب اسی ڈھنگ کی ہے۔ میں نے سوچا یہاں اس کا کافی حصہ درج کردوں۔ لیکن پھر یہ خیال آیا کہ اس طرح ایک ایسی بات کے لکھنے میں وقت ضائع ہوگا جو یا تو کفر ہے یا خطا یا ھذیان ہے۔ یہ تفسیر اسی ڈھنگ کی ہے جیسی ہم باطنیہ سے نقل کرچکے ہیں۔ لہٰذا جو شخص اس کتاب کے مشتملات کو جاننا چاہتا ہو، اسے معلوم ہونا چاہیے کہ یہی اس کا نمونہ ہے۔ اور جو شخص مزید جاننا چاہتا ہو، وہ اس کتاب کا مطالعہ کرلے"۔ (تلبیس ابلیس ص 332 و ص 333)

    اور یہ جو کچھ امام ابن جوزی نے ذکر کیا ہے یہ اس گروہ کے اوائل سے منقول صوفیانہ تاویلات کا محض نمونہ ہے۔ ورنہ اگر ہم اہل تصوف کے ہاتھوں قرآن و حدیث کی لکھی ہوئی خبیث باطنی تاویلات کا تتبع شروع کردیں تو دسیوں دفتر جمع ہوجائیں گے، جو سب کے سب اسی قسم کے ہذیان ، افتراء اور اللہ پر بلا علم گھڑی ہوئی باتوں سے پر ہوں گے۔ اور اوپر سے یہ زعم بھی ہوگا کہ یہی معنی قرآن کے حقیقی معانی ہیں۔

    افسوس ہے کہ قرآن وحدیث کے اس باطنی منہج پر اس گروہ کے پیروکار آج تک کاربند ہیں۔ بلکہ ان صوفیانہ خرافات کی تصدیق میں مبتلا ہونے والوں کے لئے یہ خصوصی نہج اور اسلوب بن چکا ہے۔ تم مصطفیٰ محمود کی کتاب "القرآن محاولۃ لتفسیر عصری" دیکھو یا وہ کتابیں دیکھو جنہیں نام نہاد جمہوری سودانی پارٹی کے لیڈر محمود محمد طہ سودانی نے تالیف کیا ہے تو تمہیں ان عجیب و غریب نمونوں کا علم ہوگا جو صوفیانہ افکار کے زیر اثر وجود میں آکر مسلمانوں کے سامنے قرآن وحدیث کی باطنی تاویلات کے لباس میں ظاہر ہوئے ہیں۔

    بعض نمونے پیش خدمت ہیں:

    المحاولہ العصریہ لتفسیر القرآن (قرآن کریم کی عصری تفسیر کی کوشش) جسے ڈاکٹر مصطفیٰ محمود نے مصری رسالہ صباح الخیر کے صفحات پر قلمبند کیا۔ پھر اسے "القرآن محاولۃ لفھم عصری للقرآن" کے نام سے کتابی شکل میں جمع کیا۔ یہ تفسیر قرآن کی نئی صوفیانہ کاوش ہے۔ اور یہ ڈاکٹر موصوف کے فکری استاذ محمود محمد طہ کے الفاظ میں صوفیانہ افکار کے دائرہ میں ایک وسیع کاوش ہے ۔ چنانچہ ڈاکٹر موصوف اس کی تعریف کرتے ہوئے اپنی کتاب میں لکھتے ہیں:

    "مجھے اسلامی مفکر محمود طہ کے "الصلاۃ" نامی رسالہ کی ایک نفیس تعبیر بہت ہی پسند آئی۔ موصوف نے لکھا ہے :

    اللہ نے آدم کو کیچڑ یا گارے سے دھیرے دھیرے وجود میں نکالا۔ ولقد خلقنا الانسان من سلالۃ من طین ہم نے انسان کو مٹی کے گارے سے پیدا کیا۔ یہ مٹی سے درجہ بدرجہ اور قدم بقدم انسان کے پھوٹنے اور وجود میں آنے کی بات ہے۔ یعنی ایلبا سے اسفنج، اس سے نرم حیوانات اور ان سے چھلکے والے حیوانات، اور ان سے ہڈی والے حیوانات، اور ان سے مچھلیاں، مچھلیوں سے زمین پر گھسٹنے والے جانور، اور ان سے چڑیاں اور چڑیوں سے چھاتی والے جانور بنتے چلے گئے۔ یہاں تک کہ اللہ کے فضل و ہدایت اور رہنمائی سے آدمیت کا اعلیٰ مرتبہ وجود میں آیا۔ (المحاولہ ص 52)

    ڈاکٹر مصطفیٰ محمود کا یہ اسلامی مفکر درحقیقت سودان کا ایک زرعی انجینئر ہے جس نے تصوف کا مطالعہ کیا۔ اور اس دعوے تک پہنچا کہ اس سے تمام شرعی احکام ساقط ہوگئے ہیں۔ (اور وہ مکلف نہیں رہ گیاہے) کیوں کہ وہ یقین کے مرحلے تک پہنچ گیا ہے ۔ اس کی کتاب تو وہی نماز کے متعلق ہے جس سے ڈاکٹر مصطفیٰ محمود نے مذکورہ عبارت نقل کی ہے۔ اس کے علاوہ اس کی کچھ اور کتابیں بھی ہیں۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کی ایک کتاب " تفسیر قرآن کی عصری کاوش" کے رد میں بھی ہے۔

    اور ڈاکٹر موصوف کو محمود محمد طہ کی کتاب الصلاۃ کی جو بات پسند آئی، اور جسے ہم ابھی نقل کرچکے ہیں، وہ درحقیقت آدم علیہ السلام کی پیدائش کے معاملے میں ڈارون کے نظریے کو گھسیڑنے کی عجیب و غریب کوشش ہے۔ حالانکہ اب اس نظریہ پر کسی کو یقین نہیں رہ گیا ہے سوائے ان لوگوں کے جو ہر قسم کے اوٹ پٹانگ خیال کو لے کر اس سے اللہ عزوجل کے کلام کی تفسیر کرنے بیٹھ جاتے ہیں۔ اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہیں یہ بات کشف اور مجاہدہ کے ذریعے معلوم ہوئی ہے۔ حالانکہ وہ محض کافروں اور ملحدوں کے افکار و خیالات کی نقل ہوتی ہے جس پر وہ قرآن کریم کی آیات کا لیبل لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔

    باقی رہی یہ بات کہ تفسیر و تعبیر قرآن کی عصری کاوش صوفیانہ افکار کے دائرہ سے اٹھی ہے تو اس کی دلیل قرآن کے متعلق ڈاکٹر مصطفیٰ محمود کی حسب ذیل عبارتیں ہیں:

    (الف) ڈاکٹر محمود مصطفیٰ نے "اسماء اللہ" کے عنوان سے پوری ایک فصل قلمبند کی ہے جس میں رب اور اِلٰہ کے معانی کی صحیح اور سالم معرفت وہی قرار دہی ہے جسے اہل تصوف نے دریافت کیا ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں:

    "اہل تصوف کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ حددرجہ ظاہر ہونے کے سبب ہم سے پوشیدہ ہے"۔ ص 99

    اس کے بعد موصوف صوفیانہ فکر کی مدح سرائی میں یوں روان دواں ہیں کہ:" صوفیا اللہ کا قرب محبت کی وجہ سے چاہتے ہیں جہنم کے خوف یا جنت کی طلب کی وجہ سے نہیں۔ اور وہ کہتے ہیں کہ ہم کائنات سے اس کے بنانے والے کی طرف مسلسل ہجرت میں میں ہیں۔ ص 100

    پھر لکھتے ہیں کہ : "اہل تصوف کے مختلف اطوار و حالات ہوتے ہیں ۔ اور وہ بڑی دلچسپ رائے کے حامل ہوتے ہیں جو اپنی خاص گہرائی اور معنی رکھتی ہیں۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ معصیت کبھی کبھی طاعت سے افضل ہوتی ہے۔ کیوں کہ بعض معصیتیں اللہ کے خوف اور ذل وانکسار کی طرف لے جاتی ہیں۔ جب کہ بعض طاقتیں تکبر اور فریب نفس میں مبتلا کر دیتی ہیں۔ اور اس طرح فرمانبردار کے مقابل میں نافرمان اللہ تعالیٰ کے کہیں زیادہ قریب اور باادب ہوجاتا ہے"۔ ص 101

    پھر لکھتے ہیں کہ : " صوفی اور جوگی اور راہب سب ایک ہی راہ کے راہی ہیں۔ اور زندگی کے بارے میں سب کی ایک ہی منطق اور ایک ہی اسلوب ہے جس کا نام ہے زھد"۔ ص 101

    پھر فرماتے ہیں: " جوگی اور راھب اور مسلمان صوفی سب ایک ہی اسلوب سے اللہ کا قرب اور اس کی بارگاہ تک رسائی چاہتے ہیں یعنی تسبیحات کے ذریعہ۔ چنانچہ اللہ کو یہ لوگ اس کے ناموں سے پکارتے ہیں ۔"وللہ الاسماء الحسنیٰ فادعوہ بھا" اور اللہ کے بہترین نام ہیں پس اس کو ان ہی ناموں سے پکارو"۔

    "اور تسبیحات (چاپ) کے ذریعہ ایک خاص قسم کا جوگ کیا جاتا ہے جسے منتر یا جوگ کہتے ہیں۔ یہ ھندی (سنسکرت) زبان کے لفظ منترام سے بنا ہے۔ جس کے معنی تسبیح یا چاپ کے ہیں۔ اور سنسکرت کی ایک خاص تسبیح (چاپ) یہ ہے کہ جوگی خشوع کے ساتھ ہزاروں بار "ہری رام" کے الفاظ تلاوت کرتا ہے۔ یہ الفاظ ہمارے ہیں "رحمن و رحیم" کے بالمقابل ہیں۔ اور سنسکرت زبان میں اللہ کا نام ہے۔ اور جوگی اپنی گردن میں ہزار دانے کی ایک لمبی تسبیح لٹکائے رہتا ہے۔

    اس کے بعد ڈاکٹر مصطفیٰ محمود تصوف کے طریقے اور اہل تصوف کے فہم اسلام کی تعریف کرتے ہوئے مزید آگے بڑھتے ہیں، اور لکھتے ہیں:

    "تصوف در حقیقت بلند مدارک کے ذریعہ ادراک کا نام ہے۔ اور صوفی عارف ہوتا ہے۔ ص 103

    پھر ڈاکٹر صاحب موصوف قرآنی آیات کو صوفیوں کی باطنی تفسیر کے سانچے میں ڈھالنے کے لئے ان کے پیچھے پیچھے دوڑتے ہیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں:

    "داؤد علیہ السلام کے بعض واقعات میں ہے کہ انہوں نے کہا: "اے میرے پروردگار میں تجھے کہاں پاؤں؟ اس نے کہ اپنے آپ کو چھوڑ ، اور آ۔۔۔۔۔۔اپنے آپ سے غائب ہوجا۔ مجھے پاجائے گا۔"

    اس سلسلے میں بعض اہل تصوف نے قرآن میں موسیٰ علیہ السلام سے اللہ کی گفتگو کی تفسیر یوں کی ہے کہ : فاخلع نعلیک انک بالواد المقدس طوی (تم اپنے جوتے اتاردو۔ تم وادی مقدس طوی میں ہو) میں نعلین (دونوں جوتوں) سے مراد نفس اور جسم ہے۔ یا نفس اور لذات جسم میں لہٰذا اللہ سے ملاقات نہیں ہوسکتی جب تک کہ انسان اپنے دونوں جوتے یعنی نفس اور جسم کو موت یا زھد کے ذریعہ اتار نہ دے"۔ ص 104

    پھر ڈاکٹر صاحب مزید آگے بڑھتے ہیں اور فرماتے ہیں:

    "صوفی سوال نہیں کرتا۔۔۔۔۔۔۔۔وہ بیمار ہوتا ہے تو اللہ سے شفا نہیں مانگتا۔ بلکہ ادب سے کہتا ہے: میں اللہ کے ارادہ کے بالمقابل اپنے لئے کوئی ارادہ کیوں کر بناسکتا ہوں کہ اس سے ایسی بات کا سوال کروں جسے اس نے نہیں کیا"۔ ص 105

    پھر اللہ تعالیٰ کے قول : وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون کی تفسیر یہ کی ہے کہ "میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ مجھے پہچانیں"

    پھر اس صوفیانہ فصل کے خاتمہ پر لکھتے ہیں:

    "یہی لوگ اہل اسرار، اصحاب قرب و شہود اور برحق اولیاء صالحین ہیں"۔ ص 109

    اب دیکھنا یہ ہے کہ اس صوفیاء منہج نے جو ڈاکٹر موصوف کا اپنا منتخب کردہ ہے ان پر کیا اثر ڈالتا ہے اور اس فکر کا نتیجہ ڈاکٹر موصوف کے یہاں کیا ہے؟

    ڈاکٹر مصطفیٰ محمود نے قرآن مجید کی تاویل و تفسیر کا بیڑہ اٹھایا تو لوگوں کے سامنے کیا چیز لے کر نمودار ہوئے؟ اور رب العالمین سبحانہ و تعالیٰ کی کتاب کا وہ کیا عصری فہم ہے جو انہوں نے پیش کیا؟ اس سلسلے میں ڈاکٹر صاحب موصوف کے فہم کی رسائی کے چند نمونے پیش خدمت ہیں:

    (الف) ڈاکٹر صاحب موصوف نے اپنے حسب ارشاد اس درخت کو پہچاننے کی کوشش کی جس سے کھا کر آدم علیہ السلام نے اللہ تبارک و تعالیٰ کی نافرمانی کی ۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر صاحب کا اجتہاد خود ان کے حسب ارشاد یہ ہے:

    "جنسی اختلاط ہی وہ ممنوعہ درخت تھا جس سے زندگی نے زندگی کو کھالیا اور وہ عدم کے گھڑے میں جاگری"۔۔۔۔۔۔۔"اور شیطان جانتا تھا کہ نسل کا درخت موت کے آغاز اور دائمی جنت سے نکالے جانے کا اعلان ہے۔ اس لئے اس کے ایک پیغام رساں نے آدم سے یہ جھوٹ کہا کہ بعینہ یہی درخت ہمیشگی کا درخت ہے۔ اور اسے ورغلایا کہ وہ اپنی بیوی سے جسمانی اختلاط کرے"۔ ص 64

    "پھر ڈاکٹر صاحب اسی پر اکتفا نہیں کرتے۔ بلکہ وہ یہ بھی یقین کرتے ہیں کہ حواء اسی جنسی اختلاط کے دوران حاملہ ہوگئیں۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:

    "پھر ہم دیکھتے ہیں کہ درخت چکھ لینے کے بعد قرآن مجید ان دونوں کو یوں خطاب کرتا ہے کہ وہ جمع ہیں۔ چنانچہ کہتا ہے "اھبطوا بعضکم لبعض عدو" (تم سب اتر جاؤ۔ تم میں کا بعض بعض کا دشمن ہوگا۔) حالانکہ اس غلطی سے قبل انہی آیات میں خطاب مثنیٰ (دو) کو ہوا کرتا تھا۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اس درخت سے کھانا تکاثر کا سبب بنا" ص 62

    پھر اس ساری ہذیان کے بعد موصوف فرماتے ہیں:

    "ان مسائل میں ہمارے لئے قطعی طور پر کچھ کہنا ممکن نہیں۔ بلکہ یہ کہنا ضروری ہے کہ وہ درخت اب بھی ایک چیستاں ہے۔ اور پیدائش کا معاملہ اب بھی ایک غیبی معاملہ ہے جس کے بارے میں ہم اجتہاد سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتے ۔ اللہ اپنی کتاب کو بہتر جانتا ہے۔ اور صرف وہی ہے جو اس کی تاویل سے آگاہ ہے"۔

    میں کہتا ہوں کہ جب معاملہ ایسا ہے تو پھر آپ نے یقین کےساتھ کوئی بات کیسے کہی، اور ابھی ابھی وہ تفسیر کیسے کردی جو آپ کو شیریں لگ رہی تھی۔ اور اللہ پر اور اس کی کتاب پر جو کچھ چاہا بغیر علم و ہدایت کے کیسے کہہ دیا۔ اور معانی قرآن کے سلسلے میں وہ سارے دعوے کیسے ہانک دیئے جو آپ کی خواہش اور رائے کے موافق تھے۔

    پھر یہ کتنی عجیب بات ہے کہ ان سب کے باوجود ڈاکٹر مصطفیٰ محمود خود ہی قرآن کی باطنی تفسیر کرنے والے بہائیوں پر زور شور سے حملہ آور ہوتے ہیں۔ چنانچہ ایک موقع پر لکھتے ہیں:

    "اور یہ بات حروف کے ظاہر اور کلمات و عبارات کے تقاضوں سے ہٹ کر قرآن کی باطنی تفسیر کرنے کی خطرناکی کو واضح کرتی ہے۔ اور بتلاتی ہے کہ اس قسم کی تفسیریں کس طرح دین کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے پر منتج ہوسکتی ہیں۔ یہ بعینہ وہی عمل ہے جسے خوارج ، اثناعشری اور بابی فرقے قرآن مجید کو اپنے اغراض کے سانچے میں ڈھالنے اور ایک دوسرے کا توڑ کرنے کے لئے اختیار کرنے پر مجبور ہوتے تھے"۔

    پھر ڈاکٹر صاحب موصوف مزید لکھتے ہیں:

    "اور یہ بات ہمیں تفسیر کے سلسلے میں ایک خاص موقف تک لے جاتی ہے جس کا التزام ضروری ہے۔ اور وہ ہے عبارت سے حرف بحرف جڑے رہنا، اور الفاظ کے ظاہر معنی سے چپکے رہنا۔ یعنی ہم کسی باطنی تفسیر کی طرف خود قرآنی الفاظ کے الہام و اشارہ کے بغیر منتقل نہ ہوں۔ اور ظاہراً او باطناً بہر صورت تفسیر، الفاظ کے ظاہری مفہوم سے نہ تو ٹکراتی ہو اور نہ اس کی نفی کرتی ہو"، (المحاولہ ص 122,123)

    یہ عجیب بات ہے کہ ڈاکٹر صاحب کے موصوف نے باطنی تفسیر کی خطرناکی کے متعلق جو کچھ فرمایا ہے ان سب کے باوجود خود اپنے لئے اس کا دروازہ کھول رکھا ہے، تاکہ اپنی آرزو کے مطابق جو کچھ کہنا چاہیں کہہ سکیں۔ چنانچہ موصوف نے جنت اور جہنم کو حقیقی اور محسوس شئے کے بجائے معنوی عذاب اور نعمت قرار دیا ہے۔ اور فرمایا کہ مجھے شہد ناپسند ہے۔ اور جب سے میں نے سنا ہے کہ جنت میں شہد کی نہریں ہوں گی، میری طبیعت کو انقباض ہوگیا ہے۔ اسی طرح موصوف نے باشندگان چین کو یاجوج ماجوج قرار دیا ہے۔ اور حدیث میں جس دجال کا ذکر ہے اس سے مراد موجودہ سائنس قرار دی ہے۔ کیوں کہ یہ سائنس ایک آنکھ سے صرف دنیا کی طرف دیکھتی ہے۔ اس طرح عورتوں کے لئے تیراکی کے لباس کو اللہ کے خلق میں تفکر کا تقاضا اور ضرورت کا لباس قرار دیا ہے۔ یہ ان کی تاویلات کامشتے نمونہ ازخروارے ہے۔

    باقی رہا ان کا استاد محمد محمود طہ سودانی، جس کی باتیں موصوف نے نقل کی ہیں تو یہ وہ شخص ہے جسے تاویلات نے اس مقام تک پہنچایا کہ اس نے اپنے اوپر سے شریعت ساقط کرلی ۔ چنانچہ وہ نماز نہیں پڑھتا۔ کیوں کہ وہ اللہ کے مرتبے کو پہنچ گیا ہے۔ اور اسے قرآن میں اشترکیت مل گئی ہے۔ کیوں کہ اللہ فرماتا ہے: "ویسئلونک ماذا ینفقون قل العفو" (لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں۔ آپ کہہ دیں کہ زائد مال) عفو کا مطلب اس شخص کے نزدیک یہ ہے کہ مال اکٹھا کرنا جائز نہیں۔ اور زائد کمائی ساری کی ساری خرچ کردینی ضروری ہے۔

    ان ساری خرافات اور لاف و گزاف کے باجود اس قسم کے خیالات کو رواج حاصل ہوا۔ میں نے سودان کی نام نہاد جمہوری پارٹی کے بہت سے افراد سے بحث و گفتگو کی ہے۔ اور قارئین کو تعجب ہوگا کہ اس قسم کے باطنی افکار کو یونیورسٹی کے اساتذہ ، وکلاء ۔ مدرسین اور طلبہ نے اختیار کر رکھا ہے۔ اور ان خیالات کی مدافعت میں عجیب جاں سوزی سے کرتے ہیں۔ پس اس سے بڑھ کر خطرے کی بات اور کیا ہوسکتی ہے؟
     
  2. منہج سلف

    منہج سلف --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2007
    پیغامات:
    5,050
    ماشااللہ طاہر بھائی آپ نے تو بہت اچھا سلسلہ شروع کیا ہے۔
    اللہ آپ کو اس کا اجر عظیم عطا فرمائے۔ آمین
    بیشک شرک و بدعت ایک ایسی چيز ہے جس کے ذویعے ایک مسلمان اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام سے دور ہوجاتا ہے۔
    اس وقت اتنی ہی ضرورت توحید کو پھیلانے کی ہے جتنی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں تھی یا یہ وقت تو اس سے بھی زیادہ برا ہے کہ اس وقت کافر ایسی چيزوں میں مشغول تھے مگر اب مسلمان اس چيز کو ثوب سمجھ کر کررہے ہیں، اور اس وقت ان چيزوں کو ختم کرنا فرض عین ہے ہر موحد مسلمان کے اوپر۔
    میرا تو مرنے تک یہ ہی مشن ہے کہ ہر مسلمان کو بدعت اور شرک سے دور کرنے کی کوشش کروں اور یہ کوشش جہاں تک ہوسکے گی کروں گا۔ انشااللہ
    میں اپنے مسلمانوں کو اللہ سے دور ہوتے نہیں دیکھ سکتا خاص کرکے اپنے پاکستانی مسلمانوں کو اور اپنے رشتیداروں اور گھروالوں کو۔
    بس صرف آپ سب موحد بھائیوں کی ضرورت ہے کہ آپ اس جہاد میں اپنے آپ کو ہم وقت مشغول رکھیں، مجھے امید ہے کہ اللہ اسی چيز کی بدولت ہم سب کے گناھ معاف فرمادے گا۔ انشااللہ
    وسلام علیکم
     
  3. کارتوس خان

    کارتوس خان محسن

    شمولیت:
    ‏جون 2, 2007
    پیغامات:
    934
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

    السلام علیکم ورحمۃ‌ اللہ وبرکاتہ۔۔۔وبعد!۔
    جزاک اللہ خیر۔۔۔
    وسلام۔۔۔
     
  4. رحیق

    رحیق -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    1,593
    اسلامی عقیدہ کی بربادی



    صوفیانہ افکار سب سے پہلے جس چیز کو تباہ کرتے ہیں اور بدلتے ہیں ، وہ ہے صاف ستھرا اسلامی عقیدہ، عقیدہ کتاب و سنت، کیوں کہ صوفیانہ افکار دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہر قسم کے جدید و قدیم فلسفوں، خرافات اور لاف و گزاف کا پورا پورا معجون مرکب ہے۔ دنیا کا کوئی بھی کفر ، زندقہ اور الحاد ایسا نہیں جو صوفیانہ افکار میں داخل ہوکر صوفی عقیدے کا ایک جزو نہ بن گیا ہو۔ چنانچہ ایک طرف وحدۃ الوجود کا قول ہے کہ جو کچھ موجود ہے وہ اللہ ہی ہے۔ تو دوسری طرف مخلوق میں اللہ کی ذات یا صفات کے حلول کا قول ہے۔ کہیں معصوم ہونے کا دعویٰ ہے تو کہیں غیب سے تلقی اور حصول کی ترنگ ہے۔ کہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو سارے عالم کا قبہ اور عرش پر مستوی قرار دیا جارہا ہے، تو کہیں کہا جاتا ہے کہ اولیاء کرام دنیا کا نظام چلاتے اور کائنات پر حکومت کرتے ہیں۔ غرض کہا جاسکتا ہے کہ روئے زمین پر کوئی بھی شرکیہ عقیدہ ایسا نہیں پایا جاتا جسے صوفیانہ افکار کی طرف منتقل نہ کرلیا گیا ہو، اور اس کو آیات واحادیث کا لباس نہ پہنا دیا گیا ہو۔ بلکہ کوئی بھی صوفی جو یہ جانتا ہو کہ تصوف کیا ہے میں اسے چیلنج کرتا ہوں کہ وہ اپنے عقیدے کے مطابق یہ ثابت کردے کہ ابلیس کافر اور جہنمی ہے۔ اور فرعون کافر اور جہنمی تھا۔۔ اور بنو اسرائیل کے جن لوگوں نے بچھڑے کی پوجا کی تھی انہوں نے غلطی کی تھی۔ اور آج کل جو گائے کی پوجا کرتے ہیں وہ کافر ہیں۔۔۔۔۔کوئی بھی صوفی جو جانتا ہو کہ تصوف کی حقیقت کیا ہے میں اسے چیلنج کرتا ہوں کہ وہ اپنی ان باتوں کو ثابت کر دے۔

    کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ یہ باتیں ثابت کیوں نہیں کی جاسکتیں جب کہ یہ قرآن اور حدیث سے ثابت ہیں۔ اور ہر مومن ان کی گواہی دیتا ہے۔ اور جو اس میں شک کرے وہ خود ہی کافر ہے۔

    جواب یہ ہے کہ اگر صوفی ان باتوں کو ثابت کردے تو وہ عقیدہ تصوف ہی کو مطعون کردےگا۔ اور اپنے اکابر اور بزرگوں کو مشکوک ٹھہرادے گا۔ بلکہ اپنے بڑے بڑے رہنماؤں اور اساطین کو کافر قرار دے دے گا۔ اور نتیجہ کے طور پر وہ خود تصوف کے دائرہ سے باہر ہوجائے گا۔ کیوں کہ صوفیوں کے شیخ اکبر بددین ابن عربی کا دعویٰ ہے کہ فرعون موسیٰ علیہ السلام سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کو جانتا تھا۔ اور جن لوگوں نے بچھڑے کی پوجا کی تھی انہوں نے اللہ ہی کو پوجا تھا۔ کیوں کہ بچھڑا بھی ۔ اس کے خبیث عقیدے کی رو سے اللہ تعالیٰ ہی کا ایک روپ تھا۔ (تعالیٰ اللہ عن ذٰلک علوًا کبیرا) بلکہ اس شخص کے نزدیک بتوں کے پجاری بھی اللہ تعالیٰ ہی کی پوجا کرتے ہیں۔ کیوں کہ اس شخص کے نزدیک یہ سارے جدا جدا روپ بھی اللہ ہی کے روپ ہیں۔ وہ ہی سورج اور چاند ہے۔ وہی جن و انس ہے۔ وہی فرشتہ اور شیطان ہے۔ بلکہ وہی جنت اور جہنم ہے۔ وہی حیوان اور پیڑ پودا ہے اور وہی مٹی اور اینٹ پتھر ہے۔ لہٰذا زمین پر جو کچھ بھی پوجاجائے وہ اللہ کے سوا کچھ نہیں۔ ابلیس بھی ابن عربی کے نزدیک اللہ تعالیٰ ہی کا ایک جزو ہے۔ (تعالیٰ اللہ عن ذلک علوًا کبیرا)

    دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ملعون عقیدہ کو ( جس سے بڑھ کر گندہ ، بیہودہ، بدبودار اور بدکردار عقیدہ نہ روئے زمین نے کبھی دیکھا ہوگا) صوفیاء حضرات سرّالاسرار (رازوں کا راز) غایتوں کی غایت، ارادتوں کا منتہا، پہنچے ہوئے کاملین کا مقام اور عارفین کی امیدوں کی آخری منزل قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ یہ بددینوں ، زندیقوں، برہمنوں، ہندوؤں اور یونان کے پرانے فلسفیوں کا عقیدہ ہے۔ اور اس کے بعد تصوف میں جو برائی بھی داخل ہوئی وہ یقیناً اسی ملعون عقیدے کی تاریکی میں چھپ کر داخل ہوئی ۔ اور یہ ایسی حقیقت ہے کہ آج روئے زمین پر تصوف کی حقیقت کو جاننے والا کوئی بھی صوفی اس کا انکار نہیں کرسکتا۔ اور نہ اسے برا کہہ سکتا ہے۔ بلکہ وہ زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتا ہے کہ ان لوگوں کا علم صرف اربابِ ذوق اور اہل معرفت ہی سمجھ سکتے ہیں۔ حالانکہ یہ بات واضح عربی زبان میں صاف صاف لکھی ہوئی ہے۔ ان حضرات نے اسے ضخیم ضخیم جلدوں میں لکھا ہے۔ اور نثر اور شعرا اور قصیدوں اور امثال سے اس کی شرح کی ہے۔

    البتہ بعض اہل تصوف اس سلسلے میں یہ معذرت کرتے ہیں کہ یہ بات وجد کے غلبے اور شطحیات کے طور پر کہی گئی ہے۔مگر معلوم ہے کہ شطح درحقیقت مدہوشی، پاگل پن اور جنون کو کہتے ہیں۔ اور اہل تصوف کا دعویٰ ہے کہ ان کے یہ احوال کامل ترین احوال ہیں۔ اس لیئے سوال یہ ہے کہ جنون اور پاگل پن کمال کیونکر ہوسکتا ہے۔ پھر جو بات دسیوں جلدوں میں لکھی اور مدون کی گئی ہے، اور جسے اہل تصوف کی غایۃ الغایات اور امیدوں کی آخری منزل قرار دے کر لوگوں کو اس دعوت دی جارہی ہے وہ بات شطحیات (پاگل پن کی بات) کیسے ہوسکتی ہے؟

    کبھی کبھی یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ باتیں گھڑ کر ان کی طرف منسوب کردی گئی ہیں۔۔۔۔ مگر یہ بھی حقیقت صوفیوں کے جھوٹ اور فریب کاری کا ایک حصہ ہے۔ میں ہر صوفی کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ کسی معین عبارت کو ذکر کرکے بتائے کہ یہ غلط طور ان کی طرف منسوب کی گئی ہے۔ یا کسی خاص اور معین عقیدے کو ذکر کرکے بتائے کہ فلاں لکھنے والے کی طرف اسے غلط منسوب کیا گیا ہے۔ بھلا ایسا کیسے ہوسکتا ہے، جب کہ اس سلسلہ میں پوری پوری کتاب لکھ ماری گئی ہیں۔ آراستہ وپیراستہ عقیدے تصنیف کرڈالے گئے ہیں۔ اور موزوں و خوش آہنگ قصیدے کہہ ڈالے گئے ہیں ۔ میں کسی بھی صوفی کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ بتائے کہ یہ قصیدہ غلط طور پر منسوب ہے۔ یا فلاں معین قول غلط طور پر منسوب ہے۔ کیوں کہ اگر وہ ایسا کہے گا تو پھر سارا کا سارا تصوف جھوٹا اور غلط انتساب کا مجموعہ بن جائےگا۔ اور یہ بات برحق بھی ہے۔ کیوں کہ تصوف کے یہ بڑے بڑے جفادری یعنی حلاج، بسطامی، جیلی، ابن سبعین، ابن عربی، نابلسی ، تیجانی وغیرہ وغیرہ یہ سب کے سب درحقیقت اس امت میں غلط طور گھسائے گئے اور اس امت کی طرف غلط طور پر منسوب کئے گئے ہیں ۔ انہوں نے اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ گھڑا ہے۔ اللہ کے دین میں باطل بات کہی ہے۔ ان میں سے ہر ایک کا زعم ہے کہ وہ خود اللہ ہے جو کائنات میں تصرف کرتا ہے ۔ اور ہر ایک کا دعویٰ ہے کہ اللہ نے اس کائنات کا ایک حصہ اس کو سونپا ہے۔ ان میں سے ہر کوئی سمجھتا ہے کہ وہ ولی کامل ہے جس کے پاس صبح و شام وحی آتی ہے۔ بلکہ وہ غیب سے واقف ہے اور لوح محفوظ کو پڑھتا ہے۔ اللہ نے اس کو خاتم الانبیاء بنایا ہے۔ اور اسے دنیا کا قبلہ اور ساری مخلوق کے لئے معجزہ اور مینار قرار دیا ہے۔ نبی کے بعد براہ راست اسی کا درجہ و مقام ہے۔ نبی ان کے نزدیک عرش رحمانی پر مستولی و مستوی ہے۔ یعنی عرش پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے سوا کچھ نہیں ۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان کے نزدیک تمام ذات میں سب سے پہلا وجود ہیں۔ اور تمام تعینات میں سب سے پہلا تعین ہیں۔ وہی اللہ کے عرش پر مستوی ہیں۔ وہ سارے انبیاء کی طرف وحی بھیجتے ہیں۔ اور سارے اولیاء کو الہام کرتے ہیں۔ بلکہ انہوں نے خود اپنی طرف سے اپنے پاس وحی بھیجی ۔ یعنی انہوں نے وحی کو آسمان پر جبریل کے حوالے کیا ۔ اور زمین پر ان سے وصول کیا۔

    "مسلمانو! کبھی آپ لوگوں نے کوئی ایسا عقیدہ سنا ہے جو اس درجہ بے حیائی ، خست ، گراوٹ، کفر اور بے دینی لئے ہوئے ہو؟۔۔۔۔۔۔۔یہ ہے صوفیوں کا عقیدہ، اور یہ ہے ان کی میراث، اور یہ ہے ان کا دین۔۔۔۔۔بحمداللہ ہم نے یہ ساری باتیں تفصیل کے ساتھ اپنی کتاب "الفکرالصوفی فی ضوء الکتاب والسنۃ" کے دوسرے ایڈیشن میں بیان کردی ہیں۔ اور ہر بات کے ثبوت میں ان زندیقوں کی کتابوں سے لمبی لمبی عبارتیں نقل کردی ہیں۔ یہ زندیق آج بھی دنیا کے سامنے یوں ظاہر ہوتے ہیں گویا وہ اللہ کے ولی اور محبوب ہیں، دلوں کی کنجیوں کے مالک ہیں۔ اور ان کے پاس مسلمانوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لانے کے لئے تربیت کا بہترین اور افضل ترین طریقہ ہے۔ حالانکہ یہ ہے ان کا عقیدہ اور یہ ہے ان کا طریقہ، جو مسلمانوں کا دین بگاڑنے اور لوگوں کو رب العالمین کے پیغام سے ہٹانے اور بہکانے کا کام کرتا ہے۔




    --------------------------------------------------------------------------------

     
  5. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,436
    السلام علیکم .
    جزاک اللہ خیر
     
  6. رحیق

    رحیق -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    1,593
    فسق اور فجور اور اباحیّت کی دعوت

    فسق اور فجور اور اباحیّت کی دعوت​
    جولوگ یہ سمجھتے ہیں کہ تصوف کی بنیاد پہلے پہل تقویٰ پر تھی وہ غلطی پر ہیں۔ ان کے متعلق ابن جوزی رحمہ اللہ کی زبانی حسب ذیل حکایت سنیے ۔ وہ ابوالقاسم بن علی بن محسن تنوخی عن ابیہ کی سند سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ :
    مجھے اہل علم کی ایک جماعت نے بتایا کہ شیراز میں ایک شخص تھا جو ابن خفیف بغدادی کے نام سے معروف تھا۔ اور وہاں صوفیوں کا شیخ (پیر) تھا۔ صوفیاء اس کے پاس جمع ہوتے۔ اور وہ دل میں گزرنے والے خیالات اور وسوسوں کے متعلق باتیں کیا کرتا۔ اس کے حلقہ میں ہزاروں آدمی جمع ہوتے۔ وہ بڑا خوشحال ، چالاک اور ماہر تھا۔ اس نے کمزور لوگوں کو اس مذہب میں پھنسا رکھا تھا۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ اس کے شاگردوں میں سے ایک آدمی مرگیا، اور اپنی صوفی بیوی کو چھوڑ گیا۔ اس کے پاس بڑی تعداد میں صوفی عورتیں جمع ہوئیں۔ اس ماتم میں ان کے سوا کوئی اور عورت شامل نہ تھی۔ جب لوگ اس آدمی کو دفن کے کرکے فارغ ہوئے تو ابن خفیف اور اس کے خواص شاگرد جو خاصی بڑی تعداد میں اس کے گھر آئے ۔ اور عورت کو صوفیوں کی باتوں کے ذریعہ تسلی دینے لگے۔ یہاں تک کہ اس نے کہا کہ مجھے تسلی ہوگئی۔ تب ابن خفیف نے اس عورت سے کہا : یہاں غیر بھی ہیں؟ اس نے کہا نہیں غیر نہیں ہیں ۔ اس نے کہا :پھر نفس پر غم و الم کی آفتوں کو لازم کرنے اور اسے رنج و غم کے عذاب میں مبتلا رکھنے سے کیا فائدہ؟ آخر ہم کس بناء پر امتزاج (آپس میں خلط ملط ہونے) کو چھوڑ دیں ، کیوں کہ اس سے انوار ایک دوسرے سے ملیں گے ، روحیں صاف ہوں گی، آمد ورفت ہوگی اور برکتیں نازل ہوں گی۔ اس کے جواب میں عورتوں نے کہا: اگر آپ چاہیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مردوں اور عورتوں کی جماعتیں ایک دوسرے سے رات بھر بھڑی اور خلط ملط رہیں اور جب صبح ہوئی تو نکل بھاگیں۔
    اس واقعہ کے راوی محسن کہتے ہیں: ابن خفیف نے جو یہ کہا کہ کیا یہاں غیر ہیں؟ تو اس کا مطلب یہ تھا کیا یہاں کوئی ایسا بھی ہے جو ہمارے مذہب کے موافق نہیں۔اور عورت کے جواب کا مطلب یہ تھا کہ ہمارا کوئی مخالف موجود نہیں۔ ابن خفیف نے جو یہ کہا تھا کہ ہم امتزاج کو کیوں چھوڑدیں، تو اس کا مطلب یہ تھا کہ وطی میں اختلاط ہونا چاہیے۔ (یعنی ایک ایک مرد کئی کئی عورتوں سے، اور ایک ایک عورت کئی کئی مردوں سے وطی کریں اور کرائیں۔) اور جو یہ کہا کہ اس سے انوار ایک دوسرے سے ملیں گے تو ان کا عقیدہ یہ ہے کہ ہر جسم میں ایک خدائی نور ہے (پس بدکاری کے نتیجہ میں مرد اور عورت کے اندر موجود خدائی نور ایک دوسرے سے مل جائے گا۔ العیاذ باللہ) اور یہ جو کہا کہ آمد ورفت ہوگی، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم میں سے جس کا شوہر مرگیا، یا سفر میں چلا گیا، اس کی جگہ دوسرا شخص آجائے گا۔
    محسن کہتے ہیں کہ یہ میرے نزدیک ایک عظیم واقعہ ہے۔ اگر مجھے اس کی اطلاع ایک ایسی جماعت نے نہ دی ہوتی جو جھوٹ سے دور و نفور ہے تو میرے نزدیک اتنا عظیم واقعہ ہے، اور دارالاسلام میں ایسی بات کا پیش آنا اس قدر مستعبد ہے کہ میں اسے بیان ہی نہ کرتا۔
    وہ کہتے ہیں کہ : مجھے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ اور اس جیسی باتیں پھیل کر عضدالدولہ تک جاپہنچیں،۔ اور جب اس نے ان کے ایک گروہ کو گرفتار کرکے کوڑوں سے پٹائی کی، اور ان کے مجمع کو پراگندہ کیا، تب وہ اس سے باز آئے۔ (تلبیس ابلیس ص 374)
    غرض تمہیں یقین کرنا چاہئے کہ یہ گروہ اپنے ہر دور میں محض بددینوں ، جھوٹے مدعیوں اور زندیقوں کا مجموعہ رہا ہے۔ جو بظاہر تو شریعت کے پاک و صاف ظاہر کی پابندی کرتا تھا۔ مگر نگاہوں سے پس پردہ کفر و فسق اور زندقہ چھپائے رکھتا تھا۔ اسی لئے ابن عقیل حتمی طور پر کہتے تھے ۔ جیسا کہ ابن جوزی نے ان سے نقل کیا ہے کہ یہ لوگ زندیق ، ملحد اور دین کے جھوٹے دعویدار ہیں۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں:" ان فارغ اور اثبات سے خالی لوگوں کی طرف کان لگانے سے خدا کے لئے بچو۔ یہ نرے بددین لوگ ہیں جو ایک طرف مزدوروں کا لباس یعنی گدڑی اور اون پہنتے ہیں اور دوسری طرف بدکردار بدینوں والے اعمال کرتے ہیں ، یعنی کھاتے اور پیتے ہیں، ناچتے اور تھرکتے ہیں ، عورتوں اور لونڈوں سے گانے سنتے ہیں۔ اور شریعت کے احکام چھوڑتے ہیں۔ زندیقوں کو بھی جراءت نہیں ہوتی تھی کہ شریعت کے احکام چھوڑ دیں۔ یہاں تک کہ اہل تصوف کا ظہور ہوا تو وہ بدکاروں کی روش ساتھ لائے"۔
    یاد رہے کہ ابن عقیل رحمہ اللہ نے یہ بلیغ عبارت اپے زمانہ کے صوفیوں کے احوال درج کرنے کے بعد لکھی ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
     
  7. رحیق

    رحیق -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    1,593
    ابن عقیل صوفیوں کی سیاہ کاریاں بیان کرتے ہیں

    " میں کئی وجہوں سے صوفیوں کی مذمت کرتا ہوں جن کے فعل کی مذمت کو شریعت نے ضروری قرار دیا ہے۔ ایک وجہ یہ ہے کہ : "انہوں نے بیکاری کے اڈے یا احدی خانے قائم کررکھے ہیں۔ اس سے مراد ان کی خانقاہیں ہیں۔ جہاں وہ مساجد کی جماعتوں سے کٹ کر پڑے رہتے ہیں۔ یہ خانقاہیں نہ تو مسجد میں نہ مکانات نہ دکانیں۔ وہ ان خانقاہوں میں اعمال معاش سے کٹ کر محض بے کار پڑے رہتے ہیں ۔ اور کھانے پینے اور ناچنے گانے کے لیے جانوروں کی طرح اپنے بدن کو موٹا کرتے ہیں۔ اپنی چمک دمک دکھانے اور نگاہوں کو خیرہ کرنے کے لئے گدڑی اور پیوند پر اعتماد کرتے ہیں۔ اور عوام اور عورتوں پر اثر انداز ہونے والے مختلف رنگ کے شعبدے دکھلاتے ہیں۔ جیسے ریشم کے مختلف رنگ کے شعبدے دکھلاتے ہیں۔ جیسے ریشم کے مختلف رنگوں سے سقلاطون کی چمک دکھلائی جاتی ہے۔ یہ مختلف صورتیں بناکر اور لباس پہن کر عورتوں اور بے داڑھی مونچھ کے نوخیز لڑکوں کو اپنی طرف مائل کرتے ہیں۔ اور جس گھر میں داخل ہوتے ہیں اگر وہاں عورتیں ہوں تو یہ ان عورتوں کا دل ان کے شوہروں سے بگاڑ کر ہی نکلتے ہیں۔ پھر یہ لوگ ظالموں ، فاجروں اور لٹیروں مثلاً نمبرداروں ، فوجیوں اور ناجائز ٹیکس لینے والوں سے کھانے اور غلے اور روپے پیسے قبول کرتے ہیں بے داڑھی مونچھ کے نوخیز لڑکوں کو سماع کی مجلسوں میں اپنے ساتھ لے جاتے ہیں اور شمع کی روشنی میں مجمعوں کے اندر انہیں کھینچتے ہیں۔ اجنبی عورتوں سے ملتے جلتے ہیں۔ اور اس کے لئے یہ دلیل دیتے ہیں کہ انہیں خرقہ پہنانا ہوتا ہے۔ اور حلال بلکہ ضروری سمجھتے ہیں کہ مستی میں جس شخص کے کپڑے گرجائیں اس کے کپڑوں کو آپس میں بانٹ لیں۔ یہ لوگ اس مستی کو وجد کہتے ہیں ، اور دعوت کو وقت کہتے ہیں، اور لوگوں کو کپڑے بانٹنے کو حکم کہتے ہیں۔ اور جس گھر میں ان کی دعوت کی گئی ہو وہاں سے اسی وقت نکلتے ہیں جب کہ ایک دوسری دعوت کو لازم کرلیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ دعوت واجب ہوگئی۔ حالانکہ ان باتوں کا عقیدہ رکھنا کفر ، اور انہیں کرنا فسق ہے۔
    ان کا یہ عقیدہ ہے کہ سارنگی بجاکر گاناگانا عبادت ہے۔ ہم نے ان سے سنا ہے حدی خوانی اور محمل کی آمد کے وقت دعا قبول ہوتی ہے۔ کیوں کہ ان کا عقیدہ ہے کہ یہ بھی عبادت ہے۔ حالانکہ یہ بھی کفر ہے۔ کیوں کہ جو شخص مکروہ اور حرام کام کو عبادت سمجھے وہ اپنے اس عقیدے کی وجہ سے کافر ہوگیا۔ جب کہ باقی لوگوں کے لئے وہ کام صرف حرام یا مکروہ ہی رہا۔
    اور اہل تصوف اپنے آپ کو اپنے شیخ (پیر) کے حوالہ کرتے ہیں۔ پس اگر ان کے شیخ کے درجہ و مقام کی بات آتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ شیخ پر اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔ پھر اس شیخ کی رسی کھلنے اور شطحیات نامی کفر و ضلالت والے اقوال کے دھاگے میں منسلک ہونے اور فسق و فجور کے معلوم و معروف کاموں میں ملوث ہونے کا حال نہ پوچھو۔ اگر وہ شیخ کسی خوبرو لونڈے کو بوسہ لیتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ رحمت ہے۔ اگر کسی اجنبی عورت کے تنہائی میں اکٹھا ہوتا ہے تو کہا جاتا ہے وہ اس کی بیٹی ہے، اور اس نے خرقہ پہن رکھا ہے۔ اور وہ کوئی اور کپڑا اس کے مالک کی رضامندی کے بغیر دوسروں پر تقسیم کرتا ہے تو کہا جاتا ہے خرقہ کا فیصلہ ہے۔ ابن عقیل کہتے ہیں کہ : حالانکہ مسلمانوں کا کوئی شیخ ایسا نہیں جس کو اس کے حال پر چھوڑا جاسکے اور اس کے احوال تسلیم کئے جاسکیں۔ کیوں کہ یہاں کوئی شیخ ایسا نہیں جو دائرہ تکلیف میں نہ ہو۔ پھر پاگلوں اور بچوں کے ہاتھ پر مارا جاتا ہے۔ اور یہی سلوک چوپایوں کے ساتھ بھی ہوتا ہے کہ خطاب کے بدلے مار پڑتی ہے۔(پس صوفیوں کے مشائخ کو ان کے حال پر کیوں کر چھوڑا جاسکتا ہے) ہاں اگر کوئی شیخ ایسا ہوتا جسے اس کے حال پر چھوڑا جاسکتا تو وہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہوتے۔ مگر ان کا بھی ارشاد ہے کہ : "اگر میں ٹیڑھا ہوجاؤں تو مجھے سیدھا کردو" یہ نہیں فرمایا کہ مجھے میرے حال پر چھوڑ دو۔ پھر خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھو کہ کس طرح آپ پر بھی صحابہ نے اعتراض کیا چنانچہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھو کہ انہوں نے آپ سے کہا کہ ہم نماز قصر کیوں کریں جب کہ حالت امن میں ہیں۔ اسی طرح ایک دوسرے صحابی نے کہا کہ آپ ہمیں وصال سے (یعنی بغیر پے درپے روزہ رکھنے سے) کیوں منع کرتے ہیں۔ جب کہ آپ خود وصال کرتے ہیں؟ اور ایک صحابی نے کہا کہ آپ ہمیں حج کے احرام کو عمرہ میں تبدیل کرنے کا حکم دے رہے ہیں ، اور خود ایسا نہیں کررہے ہیں؟
    پھر اور آگے بڑھو۔ دیکھو اللہ تعالیٰ پر اعتراض ہوتا ہے۔ یعنی تخلیق آدم کے موقع پر اس سے فرشتے کہتے ہیں :"اتجعل فیھا" الخ (اے اللہ کیا زمین میں ایسی مخلوق کو بنائے گا جو فساد مچائے گی۔ الخ) اسی طرح اللہ تعالیٰ سے موسیٰ علیہ السلام نے کہا تھا:"اتھلکنا بما فعل السفھآء منا" (کیا تو ہمارے بیوقوفوں کی کرنی پر ہمیں ہلاک کرے گا۔)
    واضح رہے کہ صوفیوں نے یہ بات (کہ شیخ پر اعتراض نہیں کیا جاسکتا) اپنے اگلوں کو خوش کرنے ، اور تابعداروں اور مریدوں پر اس کے سلوک کا سکہ بٹھانے کے لئے ایجاد کی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:"فاستخف قومہ فاطاعوہ" (فرعون نے اپنی قوم کو حقیر جانا تو انہوں نے اس کی بات مان لی) اور غالباً یہ بات انہی لوگوں نے ایجاد کی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ بندہ جب اپنے آپ کو پہچان لے تو جو بھی کرے اسے کوئی ضرر نہیں پہنچتا۔ حالانکہ یہ غایت درجہ بددینی اور گمراہی ہے۔ کیوں کہ فقہاء کا اس بات پر اجماع ہے کہ عارف جس حال تک پہنچتا جاتا ہے اس پر تکلیف کا دائرہ اسی قدر تنگ ہوجاتا ہے۔ جیسے انبیاء کے حالات ہیں کہ انہیں صغائر کے سلسلہ میں بھی تنگی کے اندر رکھا جاتا ہے۔ پس ان فارغ اور اثبات سے خالی لوگوں کی طرف کان لگانے سے خدا کے لئے بچو، خدا کے لئے بچو، یہ لوگ محض زندیق ہیں جنہوں نے ایک طرف مزدوروں کا لباس یعنی گدڑی اور اون پہن رکھا ہے۔ اور دوسری طرف بے حیا اور بدکردار ملحدوں کا عمل اپنائے رکھا ہے۔ یعنی کھاتے پیتے ہیں ناچتے تھرکتے ہیں۔ عورتوں اور لونڈوں سے گانے سنتے ہیں۔ اور شریعت کے احکام چھوڑتے ہیں۔ زندیقوں نے بھی شریعت کو چھوڑنے کی جراءت نہیں کی تھی۔ یہاں تک کہ اھل تصوف آئے تو بدکاروں کی روش بھی ساتھ لائے"۔
     
  8. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    استغفراللہ العظیم!

    صوفیت کا لبادہ اوڑھے ان شیاطین کا کارستانیاں آج بھی جوں کی توں ہیں۔ اور ہر گلی کوچے میں ان کی بے حیائی کی داستانیں بکھری پڑی ہیں۔
     
  9. السعدی

    السعدی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    465
    سلام !
    حقیقت ھے صوفیت نے جتنا نقصان پہنچایا ھے اسلام کو کسی اورچیزنے اتنا نقصان نہیں پہنچایا-
    اللہ آپ کو اجر دے
     
  10. رحیق

    رحیق -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    1,593
    صوفیاء اور گانے کی حلت


    پھر ابن عقیل رحمہ اللہ ان کے زندقہ اور کفر کا حال بیان کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ کس طرح انہوں نے اپنے خیال میں شریعت اور حقیقت کے درمیان تفریق کی ۔ اور نشہ آور حشیش (گانجا اور بھنگ وغیرہ) کو حلال ٹھہرایا۔ بلکہ یہی وہ گروہ ہے جس نے پہلے پہل اس (گانجے) کا انکشاف کیا۔ اور مسلمانوں کے درمیان اس کو رواج دیا۔ اسی طرح انہوں نے گانے اور مرد و عورت کے درمیان اس کو رواج دیا۔ اسی طرح انہوں گانے اور مرد و عورت کے اختلاط کو حلال ٹھہرایا۔ اور یہ کہہ کر کفر و زندقہ کے اظہار کو بھی حلال ٹھہرایا کہ یہ احوال شطحیات ہیں۔ اور ضروری ہے کہ ان پر نکیر نہ کی جائے ۔ کیونکہ یہ مجذوب لوگ ہیں۔ یا (ان کے خیال میں) بارگاہ پروردگار کے مشاہدہ میں مشغول لوگ ہیں۔
    ابن عقیل کہتے ہیں کہ سب سے پہلے تو انہوں نے نام گھڑ ے۔ اور حقیقت و شریعت کا بکھیڑا کھڑا کیا۔ حالانکہ یہ بری بات ہے۔ کیوں کہ شریعت کو حق تعالیٰ نے مخلوق کی ضروریات کے لئے وضع کیا ہے تو اب اس کے بعد حقیقت نفس کے اندر شیطان کے القاء کیے ہوئے وسوسوں کے سوا اور کیا چیز ہوسکتی ہے۔ جو شخص بھی شریعت سے الگ ہوکر کسی حقیقت کا متلاشی ہو وہ بیوقوف اور فریب خوردہ ہے۔
    پھر ان صوفیاء کے سامنے کوئی حدیث روایت کرتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ مسکین لوگ ہیں ۔ اپنی حدیث مردے سے روایت کرتے ہیں، جو کسی اور مردے سے روایت کرتا ہے جب کہ ہم نے اپنا علم اس زندہ و پائندہ ہستی سے لیا ہے جسے کبھی موت نہیں آئے گی۔ لہٰذا اگر کوئی شخص حدثنی ابی عن جدی کہتا ہے (یعنی میرے باپ نے میرے دادا سے حدیث روایت کی) تو میں حدثنی قلبی عن ربی کہتا ہوں۔ (یعنی میرے دل نے میرے پروردگار سے روایت کیا ہے) غرض ان خرافات کے ذریعہ خود بھی برباد ہوئے اور کم عقلوں کے دلوں کو بھی برباد کیا۔ اور عبرت کی بات یہ ہے کہ اسی کے لیے ان پر مال خرچ کیا جاتا ہے۔ کیوں کہ فقہاء تو مثل اطباء کے ہیں۔ اور دواء کی قیمت پر خرچ کرنا مشکل ہوتا ہے۔ مگر ان لوگوں پر خرچ کرنا ایسا سہل ہے جیسا ناچنے اور گانے والیوں پر خرچ کرنا۔
    اور فقہاء سے ان کا بغض ایک بڑا زندقہ (بددینی )ہے۔ کیوں کہ فقہاء اپنے فتاویٰ کے ذریعہ ان کی گمراہی اور فسق سے روکتے ہیں۔ اور حق گراں گزرتا ہے جیسے زکاۃ گراں گزرتی ہے۔ لیکن گانے والی عورتوں پر مال نچھاور کرنا اور شعراء کو ان کی مدحیہ قصیدوں پر عطیہ دینا کس قدر آسان معلوم ہوتا ہے۔ یہی حال اہل الحدیث سے ان کے بغض کا ہے۔
    پھر انہوں نے عقل کو زائل کرنے کے لئے شراب کے بدلے ایک دوسری چیز اختیار کی جس کا نام حشیش اور معجون رکھا ہے۔ یعنی گانجا، افیون اور بھنگ، اور حرام گانے بجانے کا نام سماع اور وجد رکھا ہے۔ حالانکہ جو وجد عقل کو زائل کردے اس سے تعرض حرام ہے۔
    اللہ شریعت کو اس طائفہ کے شر سے محفوظ رکھے جو لباس کی نفاست، زندگی کی بہار اور شیریں الفاظ کی فریب کاری کا جامع ہے۔ اور جس کے پیچھے احکام الٰہی کو ختم کرنے اور شریعت کو چھوڑنے کے سوا کچھ نہیں۔ اسی لئے یہ دلوں پر ہلکے ہوگئے ہیں اور ان کے باطل پر ہونے کی اس سے زیادہ واضح دلیل اور کیا ہوسکتی ہے کہ دنیا پرست ان سے ایسی ہی محبت کرتے ہیں۔ جیسی محبت کھیل کود والوں سے اور ناچنے گانے والیوں سے کرتے ہیں۔
    اس کے بعد ابن عقیل کہتے ہیں:
    اگر کوئی کہنے والا یہ کہے یہ لوگ تو صاف ستھرے، اچھے طور طریقے والے اور بااخلاق لوگ ہیں، تو میں ان سے کہوں گا کہ اگر یہ لوگ کوئی ایسا طریقہ نہ اپنائیں جس سے اپنے جیسے لوگوں کا دل کھینچ سکیں تو ان کی عیش و عشرت ہمیشہ رہ ہی نہ سکے گی۔ اور ان کا جو حال تم ذکر کررہے ہو وہ تو عیسائیوں کی رہبانیت ہے۔ اور اگر تم دعوتوں کے اندر طفیلی بننے والوں اور بغداد کے زنخوں کی صفائی ستھرائی دیکھو، اور ناچنے والیوں کی نرم اخلاقی کا مشاہدہ کرو تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ ان کا طریقہ ظرافت اور فریب کاری کا طریقہ ہے۔ آخر ان لوگوں کو طور طریقے یا زبان ہی سے تو دھوکہ دیا جاسکتا ہے۔ اگر ان لوگوں کے پاس علم کی گہرائی بھی نہ ہو اور کوئی طور طریقہ بھی نہ ہو تو آخر یہ کس مالداروں کا دل کھینچیں گے۔ تمہیں یہ معلوم ہونا چاہیئے کہ احکام الٰہی کی تعمیل مشکل کام ہے۔ اور بدکاروں کے لئے اس سے زیادہ کوئی بات آسان نہیں کہ معاشرے سے الگ تھلگ رہیں۔ اور اس سے زیادہ کوئی مشکل بات نہیں کہ شریعت کے اوامرونواہی کی روشنی میں صادر ہونے والی رکاوٹ کی پابندی کریں۔ درحقیقت شریعت کے لئے متکلمین اور اہل تصوف سے بڑھ کر کوئی قوم نقصان دہ نہیں۔ کیوں کہ یہ لوگ (متکلمین) لوگوں کے عقائد کو عقلی شبہات کا وہم لاکر فاسد کرتے ہیں۔ اور وہ لوگ (اہل تصوف) لوگوں کے اعمال خراب کرتے، دین کے قوانین کوڈھاتے، بیکاری کو پسند کرتے اور گانے وغیرہ سننے سے دلچسپی رکھتے ہیں۔ حالانکہ سلف ایسے نہیں تھے۔ بلکہ عقائد کے باب میں بندہ تسلیم ورضا تھے۔ اور دوسرے ابواب میں حقیقت پسند و جفاکش۔
    وہ کہتے ہیں : اپنے بھائیوں کو میری نصیحت یہ ہے کہ ان کے دلوں کے افکار میں متکلمین کی بات نہیں پڑنی چاہیئے، اور ان کا کان صوفیوں کی خرافات کی طرف نہیں لگنا چاہیئے۔ بلکہ معاش کے کام میں مشغول ہونا صوفیوں کی بیکاری سے بہتر ہے۔ اور ظواہر پر ٹھہرے رہنا نام نہاد دین پسندوں کی وقت پسندی سے افضل ہے میں نے دونوں گروہوں کے طریقے آزمالئے ہیں، ان لوگوں کا منتہاء کمال شک ہے، اور ان لوگوں کا منتہاء کمال شطح ہے۔ (تلبیس ابلیس ص 375-374)
    پھر یہ برا اور رسوا کن حال جس کو ابن عقیل نے بیان کیا ہے اور ابن جوزی نے نقل کیا ہے یہ برابر قائم رہا بلکہ اس کے بعد جو صدیاں آئیں وہ مزید جہل وتاریکی کی صدیاں تھیں۔ کیوں کہ ان صدیوں میں اہل تصوف نے اسلامی سرزمین میں خوب خوب بگاڑ اور خرابی مچائی، اور اسے دین اور اسلام کے نام پر فسق و فجور سے بھردیا۔ اور صرف عقل اور عقیدے ہی کو بگاڑنے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ اخلاق و آداب کو بھی تباہ وبرباد کیا۔
    چنانچہ یہ عبدالوہاب شعرانی ہے جس نے اپنی کتاب "الطبقات الکبریٰ" میں صوفیوں کی ساری بدکاریوں، خرافات اور دہریت کو جمع کیا ہے۔ اور سارے پاگلوں ، مجذوبوں، لونڈے بازوں اور ہم جنسی کے خوگروں، بلکہ سرِ راہ کھلم کھلا جانوروں کے ساتھ بدفعلی کرنے والوں کو اولیاء اللہ قرار دیا ہے۔ اور انہیں عارفین اور اہل کرامت کی لڑی میں پرودیا ہے۔ اور ان کی طرف فضائل اور مقامات سلوک کی نسبت کی ہے۔ اور اسے ذرا شرم نہ آئی کہ وہ ان کی ابتداء ابوبکر صدیق پھر خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم اجمعین سے کرتا ہے۔ پھر اسی لڑی میں ایسے شخص کو بھی پروتا ہے جو دن دھاڑے کھلم کھلا لوگوں کے روبرو گدھی کے ساتھ بدفعلی کرتا تھا۔ اور ایسے شخص کو بھی پروتا ہے جو زندگی بھر غسل نہیں کرتا تھا تھا، یا زندگی بھر کپڑے سے ننگا رہتا تھا۔ اور ننگا ہی رہتے ہوئے جمعہ کا خطبہ دیتا تھا ۔ اور ۔۔۔اور ۔۔۔۔ہرایسا پاگل، جھوٹا، کذاب جس سے زیادہ خسیس طبیعت ٹیڑھے مسلک، برے اخلاق اور گندے عمل کا آدمی انسانیت نے کبھی نہ دیکھا ہوگا، ان سب کو یہ شخص خلفائے راشدین، صحابہ کرام اور اہل بیت نبوی اطہار جیسے اشرف واکرم انسانوں کے ساتھ ایک ہی دھاگے میں پروتا ہے۔ اور اس طرح یہ شخص طہارت کو نجاست کے ساتھ، شرک کو توحید کے ساتھ، ہدایت کو گمراہی کے ساتھ اور ایمان کو زندقہ کے ساتھ مخلوط کرتا ہے۔ لوگوں پر ان کا دین ملتبس کرتا ہے۔ اور ان کے عقیدے کی شکل و صورت مسخ کرتا ہے۔ آؤ! اور اس گناہ گار شخص نے اپنے نامزد کیے ہوئے اولیاء عارفین کے جو حالات لکھے ہیں ان میں سے تھوڑا سا پڑھ لو۔ یہ شخص سید علی وحیش نامی ایک شخص کے حالات میں لکھتا ہے کہ:
    "وہ (علی وحیش) جب کسی شہر کی شیخ وغیرہ کو دیکھتا تو ان کو ان کی گدھی سے اتار دیتا ۔ اور کہتا کہ اس کا سر پکڑے رہو، تاکہ میں اس کے ساتھ بدفعلی کروں۔ اب اگر وہ شیخ انکار کردیتے تو زمین میں کیل کی طرح گڑجاتے۔ اور ایک قدم بھی نہ چل سکتے۔ اور اگر بات مان لیتے تو بڑی شرمندگی اٹھانی پڑتی (کہ وہ سر عام بدفعلی کرتا، اور یہ سر پکڑے رہتے) اور لوگ یہ سارا منظر دیکھتے ہوئے) وہاں سے گزرتے رہتے۔" (الطبقات الکبریٰ ج2 ص 135)
    دیکھو کہ کس طرح اس کا سید علی وحیش لوگوں کے روبرو ایسی حرکت کرتا تھا کیا اس کے بعد بھی کوئی سوجھ بوجھ رکھنے والا آدمی یہ سوچ سکتا ہے کہ یہ ناپاک تصوف مسلمانوں کے دین کا حصہ ہے۔ اور یہ بھی وہی چیز ہے کہ جس کے ساتھ پروردگار عالم کے پیغمبر ہادی و امین محمد صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث فرمائے گئے تھے۔ اور کیا علی وحیش اور اس قماش کے لوگوں کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کی لائن میں رکھنے والا، اور ان سب کو ایک ہی راستے کا راہرد قرار دینے والا والا زندیق وافاک کے سوا کچھ اور ہوسکتا ہے جس نے دین اسلام کو ڈھانے اور مسلمانوں کے عقائد کو برباد کرنے کا بیڑہ اٹھا رکھا ہو۔
    اور شعرانی نے اس مقصد کے لئے کہ عقلیں اپنی نیند سے بیدار نہ ہوں لوگوں کو یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ اولیاء اللہ کے لئے ان کی خاص شریعت ہوتی ہے جس کے مطابق وہ اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور اس کا قرب حاصل کرتے ہیں۔ چاہے اس کا ایک حصہ گدھیوں کے ساتھ بد فعلی ہی کیوں نہ ہو۔ اسی لیے جب بھی کوئی شخص کوشش کرتا ہے کہ جاگے اور غور کرکے ہدایت اور گمراہی اور پاکی و ناپاکی کے فرق کو سمجھے تو یہ لوگ اس پر تلبیس و تزویر کا پھندہ ڈال دیتے ہیں۔ چنانچہ اسی شعرانی کو لے لیجئے۔ اس نے ایک ایسے آدمی کا ذکر کیا ہے جس نے سید بدوی کے عرس میں ہونے والے فسق و فجور پر نکیر کی تھی۔ جہاں آج بھی شہر طنطا(مصر) کے اندر لاکھوں انسان جمع ہوتے ہیں۔ اور مردوں اور عورتوں کے درمیان بہت ہی بڑا اختلاط ہوتا ہے۔ بلکہ مسجدوں اور راستوں میں حرام کاریاں ہوتی ہیں۔ رنڈی خانے کھولے جاتے ہیں اور صوفی مرد اور صوفی عورتیں بیچ مسجد میں ایک ساتھ ناچتے ہیں۔اور ہر حرام کو حلال کیا جاتا ہے۔ اسی کے متعلق شعرانی نے اپنی کتاب "الطبقات الکبریٰ " میں یہ بیان کیا ہے کہ ایک آدمی نے اس فسق و فجور پر نکیر کی تو اللہ تعالیٰ نے اس کا ایمان چھین لیا۔ اور کس طرح چھین لیا۔ شعرانی لکھتا ہے کہ: "پھر اس شخص کا ایک بال بھی ایسا باقی نہ بچا جس میں دین اسلام کی طرف جھکاؤہو۔ آخر اس نے سیدی احمد رضی اللہ عنہ سے فریاد کی ۔ انہوں نے فرمایا شرط یہ ہے کہ تم دوبارہ ایسی بات نہ کہنا۔ اس نے کہا جی ہاں۔ تب انہوں نے اس کے ایمان کا لباس اسے واپس کیا۔ پھر اس سے پوچھا تم کو ہماری کیا چیز بری معلوم ہوتی ہے؟ اس نے کہا مردوں اور عورتوں کا میل جول۔ جواب میں سیدی احمد رضی اللہ عنہ نے کہا یہ بات تو طواف میں بھی ہوتی ہے۔ لیکن اس کی یہ حرمت (احترام) کے خلاف نہیں۔ پھر فرمایا میرے رب کی عزت کی قسم! میرے عرس میں جو کوئی بھی گناہ کرتا ہے وہ ضرور توبہ کرتا ہے اور اچھی توبہ کرتا ہے۔ اور جب میں جنگل کے جانوروں اور سمندروں کی مچھلیوں کی دیکھ بھال کرتا ہوں، ان میں سے بعض کو بعض سےمحفوظ رکھتا ہوں تو کیا اللہ تعالیٰ میرے عرس میں آنے والے کی حفاظت سے مجھے عاجز اور بے بس رکھے گا۔ (طبقات الکبریٰ ج 1 ص162)
    اور شعرانی نے اپنی کتاب میں ان سب زندقے اور کفر اور جہالت اور گمراہی کو جو روایت کررکھا ہے تو یہ کچھ تعجب کی بات نہیں۔ کیوں کہ اس شخص نے خود اپنے متعلق یہ جھوٹ اڑایا ہے کہ سید بدوی جو اس سے چار سو برس پہلے انتقال کرچکا ہے اس سے سلام کرنے کے لیے قبر سے اپنا ہاتھ نکالتا تھا۔ اور یہ کہ اس مرے ہوئے سید بدوی نے اپنی مسجد کے زاویوں میں سے ایک زاویے کو شعرانی کے لئے شب عروسی کے کمرے کے طور پر تیار کیا تاکہ شعرانی اس کمرے میں اپنی بیوی کے ساتھ یکجا ہو۔ اور جب شعرانی سید بدوی کے عرس میں پہنچنے میں دیر کرتا تو سید بدوی اپنی قبر سے نکل کر قبر کے اوپر رکھا ہوا پردہ ہٹاتا تھا اور کہتا تھا ۔ عبدالوہاب نے دیر کردی آیا نہیں۔ آئیے خود شعرانی کی عبارت پڑھئیے ۔ وہ لکھتا ہے:
    "احمد بدوی کے عرس میں ہر سال میرے حاضر ہونے کی وجہ یہ ہے کہ میرے شیخ عارف باللہ محمد شناوی رضی اللہ عنہ جو ان کے گھر اعیان میں سے ایک ہیں انہوں نے قبر کے اندر سیدی احمد رضی اللہ عنہ کی طرف رخ کرکے مجھ سے عہد لیا۔ اور اپنے ہاتھ سے مجھے ان کے حوالے کیا۔ چنانچہ ان کا ہاتھ شریف قبر سے نکلا۔ اور میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ اور شناوی نے کہا حضور! آپ کی توجہ ان پر ہونی چاہیے۔ اور آپ انہیں اپنے زیر نظر رکھیں۔
    اور اس کے ساتھ ہی میں نے قبر سے سیدی احمد کا یہ فرمان سنا کہ ہاں! "
    پھر شعرانی مزید آگے بڑھتا ہے اور کہتا ہے کہ :
    "جب میں نے اپنی بیوی فاطمہ ام عبدالرحمٰن کو جو کنواری تھی رخصت کرایا تو پانچ مہینے تک رکا رہا اور اس کے قریب نہیں گیا۔ اس کے بعد سیدی احمد تشریف لائے، اور مجھے ساتھ لیا۔ اور بیوی ساتھ میں تھی۔ اور قبر کا جو گوشہ داخل ہونے والے بائیں واقع ہے اس کے اوپر بستر بچھایا۔ اور میرے لئے حلوہ پکایا۔ اور زندوں اور مردوں کو اس کی دعوت دی اور فرمایا کہ یہاں اس کی بکارت زائل کرو۔ چنانچہ اس رات وہ کام ہوا،"
    پھر لکھا ہےکہ:" میں 948ھ میں عرس کے اندر وقت مقررہ پر حاضر نہ ہوسکا۔ اور وہاں بعض اولیاء موجود تھے تو انہوں نے مجھے بتایا کہ سیدی احمد رضی اللہ عنہ اس روز قبر کا پردہ ہتاتے تھے اور کہتے تھے کہ عبدالوہاب نے دیر کردی ۔ آیانہیں"۔ (تلبیس ابلیس ج 1ص161-162)
    غرض یہ ہیں برے نمونے جن کے متعلق چاہا جاتا ہے کہ مسلمانوں کے بچے انہیں کے نقش قدم پر چلیں۔ اور یہ ہے تصوف کا حقیقی چہرہ۔ اور یہ ہیں اس کے رموز اور رجال کی صورتیں۔ اور اگر ہم ان صورتوں کو گننا شروع کردیں تو اس مختصر رسالہ میں میانہ روی سے باہر نکل جائیں گے۔ البتہ بحمد للہ ، اللہ کی توفیق سے اس کو اپنی کتاب "الفکر الصوفی فی ضوء الکتاب والسنۃ" میں پورے بسط سے لکھ دیا ہے۔ لہٰذا اس کے لئے اسی کا مطالعہ کرنا چاہیے۔
    اور توفیق اللہ ہی طرف سے ہے اور اسی پر بھروسہ ہے۔ اور اسی سے یہ بات مطلوب ہے کہ وہ اسلامی معاشرہ کو اس خبیث سرطان سے پاک کردے جس نے مسلمانوں کے عقیدے ، عمل اور سماج کو فاسد کررکھا ہے۔
    اور اخیر میں اللہ عزیز و حمید کے راستے کے داعی و طاہر پر درود وسلام ہو۔​
     
  11. رحیق

    رحیق -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    1,593
    اہل تصوف سے کس طرح بحث کی جائے؟

    پچھلے باب میں ہم صوفیانہ افکار کی خطرناکیوں کا ذکر کرچکے ہیں۔ اب جو شخص بھی ان باتوں سے واقف ہوجائے اس پر ضروری ہے کہ اسلامی سماج سے اس خبیث درخت کی جڑ اکھاڑنے کی کوشش کرے۔ لیکن یہ کام نہیں ہوسکتا جب تک اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف دعوتِ برحق نہ دی جائے۔ اور ہدایت و پاکیزگی کے پردے میں ہر قسم کے کفر وزندقہ کو چھپانے والے اس قابل نفرت تصوف کو سرعام رسوا نہ کیا جائے۔ اس لئے ضروری ہے کہ جس شخص کو حق معلوم ہوجائے وہ اسے پھیلانے اور عام کرنے کی کوشش کرے۔ اور اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ جس شخص کو اس شر کا علم ہوجائے وہ اس کے درخت کو جڑ سے اکھاڑنے کی کوشش کرے۔
    اور چونکہ بیشتر طالب علم تصوف کی حقیقت کو نہیں جانتے، اور اس کی کفریات، اکاذیب، اباطیل اور لاف و گزاف سے واقفیت نہیں رکھتے اس لئے صوفیوں سے بحث کرتے ہوئے بہترین جواب نہیں دے پاتے ۔ اور نہ انہیں حق پر قانع کرپاتے ہیں۔ کیوں کہ صوفی جب ایسے آدمی کو دیکھتا ہے جو کتاب و سنت اور دلیل کی عظمت کا قائل ہو تو جھٹ کہتا ہے کہ جنید نے جو کہ شیخ الطائفہ تھے فرمایا ہے کہ ہمارا طریقہ کتاب وسنت کا پابند ہے۔ اور جو کتاب و سنت کو نہ سمجھے وہ اس گروہ کے طریقے کو بھی نہیں سمجھ سکتا۔ اور فلاں نے یہ کہا ہے ۔ اور فلاں نے وہ کہا ہے ۔ اور یہ بھی فرمایا ہے کہ میرے دل میں اس گروہ کا کوئی نکتہ جاگزیں ہوتا تو میں اسے بیان نہیں کرتا جب تک کہ میں اس کے لئے کتاب و سنت سے دو شاہد نہ پاجاؤں۔
    اور یہ باتیں سن کر صوفیوں کی راہیں نہ جاننے والا طالب علم سمجھتا ہے کہ یہ لوگ دین کے ماہر ہیں۔ اور ورع و اخلاص کے ایسے مقام پر فائز ہیں کہ کوئی بات اس وقت تک نہیں بولتے جب تک کہ وہ کتاب و سنت کے موافق نہ ہو۔ وہ سمجھتا ہے کہ یہ لوگ اپنے اقوال وافعال میں کتاب و سنت کے پیروکار ہیں۔ اس لئے بیچارہ نادم اور عموماً لا جواب ہوجاتا ہے۔البتہ کبھی کبھی یہ پوچھ بیٹھتا ہے کہ پھر یہ لوگ اپنے عرسوں اور اپنی محفلوں میں ناچتے کیوں ہیں؟ اور یہ مجذوب کیا ہیں جو اوٹ پٹانگ حرکتیں کرتے ہیں، اور چیختے چلاتے ہیں۔ مگر اس کے جواب میں وہ کٹھ حجت صوفی کہتا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔۔۔یہ تو غفلت کے مارے ہوئے عوام ہیں۔ حقیقی صوفی نہیں ہیں۔ صوفیت تو کچھ اور ہی ہے۔ حالانکہ یہ بات فطری طور پر جھوٹ ہوتی ہے۔ لیکن اس قسم کا جواب طالب علم پر چل جاتا ہے، اور وہ چپ ہو رہتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ تصوف اس امت کے جسم میں اپنا کام کرتا رہتا ہے، اور پتہ بھی نہیں چلتا۔
    اور چونکہ بہت سے طالب علموں کو اتنا وقت نہیں ملتا کہ تصوف کی کتابیں دیکھ سکیں۔ اور ان میں جو کچھ ہے اس کی حقیقت معلوم کرسکیں۔ اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب بعض کتابیں دیکھتے ہیں تو حق پوشیدہ رہ جاتا ہے اور باطل سے ممیز نہیں ہوپاتا۔ کیوں کہ اس میں ایسی تلبیس اور ملاوٹ ہوتی ہے کہ پڑھنے والا ایک مریض کے قول کے پہلو بہ پہلو ایک صحیح قول دیکھتا ہے۔ اور چھپے ہوئے لفظوں میں کفر والے ایک قول سے گزرتا ہے تو ایک چوتھا قول ایسا دیکھتا ہے جس سے حکمت پھوٹتی محسوس ہوتی ہے اس لئے وہ گڑ بڑا جاتا ہے، اور حقیقت نہیں دیکھ پاتا۔ اور یہ نہیں سمجھ پاتا کہ وہ کون سے راستے سے گزررہا ہے۔
    اس لئے ہم تصوف کے بنیادی اور کلی قضیوں کو بتلانے اور اساطین تصوف کے ساتھ مباحثہ کا ڈھنگ سکھانے کے لئیے یہ مختصرسا خلاصہ لکھ رہے ہیں۔ اس کی روشنی میں بحث کرنے والا اگر ایک مبتدی طالب علم بھی ہوا تو وہ بھی ان کو مغلوب اور خاموش کرلے گا۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انہیں صراط مستقیم کی ہدایت بھی دے دے۔
    قواعد یہ ہیں:
    سب سے پہلے یہ جاننا چاہیے کہ تصوف گندگیوں کا ایک سمندر ہے۔ کیوں کہ اہل تصوف نے ہندوستان ، ایران اور یونان کے فلسفوں میں پائے جانے والے ہر طرح کے کفر و زندقہ کو، اور قرامطہ اور باطنی فرقوں کے تمام مکروفن کو، خرافیوں کی ساری خرافات کو، دجالوں کے سارے دجل کو اور شیطانوں کی ساری "وحی" کو اکٹھا کرلیا ہے۔ اور ان سب کو تصوف کے دائرے، اور اس کے علوم و اصول اور کشف کے سانچے میں ڈھال لیا ہے۔ مخلوق کی طرف خدائی کی نسبت سے لے کر ہر موجود کو عین خدا قرار دینے تک تمہاری عقل روئے زمین پر جس کفریہ عقیدہ کا تصور کرسکتی ہے وہ تمہیں تصوف میں ضرور مل جائے گا۔ (تعالی اللہ عن ذلک علوا کبیرا)
    اسلامی بھائیو! اس مقصد کے لیے آپ کے ذہن میں تصوف کا واضح نقشہ آجائے، ہم آپ کے سامنے صوفیوں کے عقائد کا، اور دین تصوف اور دین اسلام کے بنیادی فرق کا ایک بہت ہی مختصر سا خلاصہ پیش کرتے ہیں۔
     
  12. رحیق

    رحیق -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    1,593
    اول: اسلام اور تصوف کے درمیان بنیادی فرق:
    اسلام کا منہج اور راستہ تصوف کے راستے اور منہج سے ایک انتہائی بنیادی چیز میں علیحدہ ہے۔ اور وہ ہے "تلقی" یعنی عقائد اور احکام کے سلسلے میں دینی معرفت کے ماخذ۔ اسلام عقائد کے ماخذ کو صرف نبیوں اور پیغمبروں کی وحی میں محصور قرار دیتا ہے۔ اور اس مقصد کے لئے ہمارے پاس صرف کتاب و سنت ہے۔
    اس کے برخلاف دین تصوف میں عقائد کا ماخذ وہ خیالی وحی ہے جو اولیاء کے پاس آتی ہے۔ یا وہ مزعومہ کشف ہے جو انہیں حاصل ہوتا ہے۔ یا خواب ہیں یا پچھلے وقتوں کے مرے ہوئے لوگوں اور خضرعلیہ السلام سے ملاقات وغیرہ ہے۔ بلکہ لوح محفوظ میں دیکھنا اور جنوں سے جنہیں یہ لوگ روحانی کہتے ہیں کچھ حاصل کرنا بھی اس فہرست میں شامل ہے۔
    اسی طرح اہل اسلام کے نزدیک شرعی احکام کا ماخذ کتاب و سنت اور اجماع و قیاس ہے، لیکن صوفیوں کی شریعت خوابوں،خضر اور جنوں اور مردوں اور پیروں وغیرہ پر قائم ہے۔ یہ سارے لوگ ہی شارع ہیں۔ اسی لیئے تصوف کے طریقے اور شریعتیں مختلف اور متعدد ہیں۔ بلکہ وہ کہتے ہیں کہ مخلوق کی سانس کی تعداد کے مطابق راستے ہیں اور سب کے سب اللہ کی طرف جاتے ہیں۔ اس لیئے ہر شیخ کا اپنا ایک طریقہ اور تربیت کا اپنا ایک اصول ہے۔ اس کا اپنا مخصوص ذکر واذکار ہے، مخصوص شعائر ہیں اور مخصوص عبادتیں ہیں۔ اسی لئے تصوف کے ہزاروں بلکہ لاکھوں، بلکہ بے شمار دین اور عقیدے اور شریعتیں ہیں۔ اور سب کو تصوف کا نام شامل ہے۔
    یہ ہے اسلام اور تصوف کا بنیادی فرق۔ اسلام ایک ایسا دین ہے جس کے عقائد متعین ہیں۔ عبادات متعین ہیں۔ اور احکام متعین ہیں۔ اس کے برخلاف تصوف ایک ایسا دین ہے جس میں نہ عقائد کی تعیین ہے نہ شرائع اور احکام کی۔ یہ اسلام اور تصوف کے درمیان عظیم ترین فرق ہے۔

    دوم: صوفی عقیدے کے تفصیلی خطوط


    ا۔ اللہ کے بارے میں
    اللہ کے بارے میں اہل تصوف کے مختلف عقیدے ہیں ۔ ایک عقیدہ حلول کا ہے۔ یعنی اللہ اپنی کسی مخلوق میں اترآتا ہے۔ یہ حلاج کا عقیدہ تھا۔ ایک عقیدہ وحدۃ الوجود کا ہے۔ یعنی خالق مخلوق جدا نہیں۔ یہ عقیدہ تیسری صدی سے لے کر موجودہ زمانہ تک رائج رہا۔ اور اخیر میں اسی پر تمام اہل تصوف کا اتفاق ہو گیا ہے۔ اس عقیدے کے چوٹی کے حضرات میں ابن عربی، ابن سبعین، تلمسانی، عبدالکریم جیلی، عبدالغنی نابلسی ہیں۔ اور جد ید طرق تصوف کے عام افراد بھی اسی پر کاربند ہیں۔
    ب۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں:
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بھی صوفیوں کے مختلف عقیدے ہیں۔ بعض کا خیال ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان کے مرتبہ و مقام کو نہیں پہنچ سکے تھے۔ اور آپ اہل تصوف کے علوم سے ناواقف تھے۔ جیسا کہ بایزید بسطامی نے کہا ہے کہ: "خضنا بحراوقف الانبیاء بساحلہ" (ہم ایک ایسے سمندر کی تہ میں پہنچ گئے جس کے ساحل پر انبیاء کھڑے ہیں) اس کے برخلاف بعض دوسرے صوفیوں کا عقیدہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کا ئنات کا قبہ ہیں، اور آپ ہی وہ اللہ ہیں جو عرش پر مستوی ہے۔ اور آسمان و زمین اور عرش و کرسی اور ساری کائنات آپ کے نور سے پیدا کی گئی ہے۔ آپ پہلا موجود ہیں۔ اور آپ ہی اللہ کے عرش پر مستوی ہیں۔ یہ ابن عربی اور اس کے بعد آنے والے صوفیوں کا عقیدہ ہے۔
    ج: اولیاء کے بارے میں
    اولیاء کے بارے میں بھی صوفیوں کے مختلف عقیدے ہیں۔ بعض صوفیاء ولی کو نبی سے افضل کہتے ہیں۔ اور عام صوفیاء ولی کو تمام صفات میں اللہ کے برابر مانتے ہیں۔ چنانچہ ان کے خیال میں ولی ہی پیدا کرتا ہے، روزی دیتا ہے، زندہ کرتا، اور مارتا ہے۔ اور کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ صوفیاء کے نزدیک ولایت کے بٹوارے بھی ہیں چنانچہ ایک غوث ہوتا ہے جو کائنات کی ہر چیز پر حکم چلاتا ہے۔ چار قطب ہوتے ہیں جو غوث کے حکم کے مطابق کائنات کے چاروں کونے تھامے ہوئے ہیں۔ سات ابدال ہوتے ہیں جن میں سے ہر ایک غوث کے حسب الحکم سات براعظموں میں سے کسی ایک براعظم پر حکومت کرتا ہے۔ کچھ نجباء ہوتے ہیں جو صرف شہر پر حکومت کرتے ہیں۔ ہر نجیب ایک شہر کا حاکم ہوتا ہے۔ اس طرح اولیاء کا یہ بین الاقوامی نظام مخلوق پر حکومت کرتا ہے۔ پھر ان کا ایک ایوان ہے جس میں وہ ہر رات غار حراء کے اندر جمع ہوتے ہیں ۔ اور تقدیر پر نظر ڈالتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔مختصر یہ کہ اولیاء کی دنیا مکمل خرافات کی دنیا ہے۔
    اور یہ طبعی طور پر اسلامی ولایت کے خلاف ہے جس کی بنیاد دینداری، تقوٰی، عمل صالح، اللہ کی پوری پوری بندگی اور اسی کا فقیر و محتاج بننے پر ہے۔ یہاں ولی خود اپنے کسی معاملے کا مالک نہیں ہوتا، چہ جائیکہ وہ دوسروں کے معاملات کا مالک ہو۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے:"قل انی الا املک ضرا ولا رشدا" (تم کہہ دو کہ میں نہ تمہارے کسی نقصان کا مالک ہوں۔ نہ ہدایت کا)
    د: جنت اور جہنم کے بارے میں
    جہاں تک جنت کا تعلق ہے تو تمام صوفیاء کا عقیدہ ہے کہ جنت کو طلب کرنا بہت بڑا نقص اور عیب ہے ۔ ولی کے لیے جائز نہیں کہ وہ جنت کے لیئے کوشاں ہو، اور اسے طلب کرے۔ جو جنت طلب کرتا ہے وہ ناقص ہے۔ ان کے یہاں طلب اور رغبت صرف اس کی ہے کہ وہ اللہ میں فنا ہوجائیں، غیب سے واقف ہوجائیں اور کائنات میں تصرف کریں ۔۔۔۔۔ یہی صوفیوں کی خیالی جنت ہے۔
    اور جہاں تک جہنم کا تعلق ہے تو صوفیوں کا عقیدہ ہے کہ اس سے بھاگنا صوفی کامل کے شایان شان نہیں۔ کیوں کہ اس سے ڈرنا آزادوں کی نہیں غلاموں کی طبیعت ہے۔ اور بعض صوفیوں نے تو غرور و فخر میں آکر یہاں تک کہہ ڈالا کہ اگر وہ جہنم پر تھوک دے تو جہنم بجھ جائے گی۔ جیسا کہ ابویزید بسطامی نے کہا ہے۔ پھر صوفیاء وحدۃ الوجود کا عقیدہ رکھتے ہیں ان کا عقیدہ ہے کہ جو لوگ جہنم میں داخل ہوں گے ان کے لئے جہنم ایسی شیریں اور ایسی نعمت بھری ہوگی کہ جنت کی نعمت سے کسی طرح کم نہ ہوگی، بلکہ کچھ زیادہ ہی ہوگی۔ یہ ابن عربی کا مذہب اور عقیدہ ہے۔
    ح: ابلیس اور فرعون
    جہاں تک ابلیس کا معاملہ ہے تو عام صوفیوں کا عقیدہ ہے کہ وہ کامل ترین بندہ تھا۔ اور توحید میں ساری مخلوق سے افضل تھا۔ کیوں کہ اس نے۔ ان کے بقول۔ اللہ کے سوا کسی اور کو سجدہ نہیں کیا۔ اس لیئے اللہ نے اس کے سارے گناہ بخش دیئے۔ اور اسے جنت میں داخل کردیا۔ اسی طرح فرعون بھی ان کے نزدیک افضل ترین موحد تھا۔ کیونکہ : " انا ربکم الاعلیٰ " (میں تمہارا سب سے اعلیٰ پروردگار ہوں) اس نےحقیقت پہچان لی تھی۔ کیوں کہ جو کچھ موجود ہے وہ اللہ ہی ہے پھر وہ ان کے خیال میں ایمان لے آیا۔ اور جنت میں داخل ہوا۔
     
  13. رحیق

    رحیق -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    1,593
    صوفی شریعت​

    عبادات:
    صوفیوں کا عقیدہ ہے کہ نماز، روزہ، حج زکوٰۃ یہ سب عوام کی عبادتیں ہیں۔ صوفی حضرات اپنے آپ کو خواص یا خاص الخاص کہتے ہیں۔ اسی لئیے ان کی ساری عبادتیں بھی خاص قسم کی ہیں۔
    پھر ان کے ہر گروہ نے اپنی ایک مخصوص شریعت بنائی ہے۔ مثلاً مخصوص ہیئت کے ساتھ مخصوص ذکر، خلوت، مخصوص کھانے اور مخصوص لباس اور محفلیں۔
    پھر اسلامی عبادات کا مقصد نفس کا تزکیہ اور معاشرے کی پاکیزگی ہے۔ مگر تصوف میں عبادات کا مقصد یہ ہے کہ دل کو اللہ کے ساتھ باندھ دیا جائے تاکہ اللہ سے براہ راست فیض حاصل ہو۔ اور ا س میں فنا ہوجائیں۔ اور رسول سے غیب کے راستے مدد حاصل ہو۔ اور اللہ کے ساتھ متصف ہوجائیں۔ یہاں تک کہ صوفی کسی چیز کو کہے کن (ہوجا) تو وہ ہوجائے۔ نیز وہ مخلوق کے اسرار پر مطلع ہو۔ اور سارے ملکوت کو دیکھے۔
    اور تصوف میں اس کی کوئی اہمیت نہیں کہ صوفیوں کی شریعت ، محمدی اور اسلامی شریعت کے کھلم کھلا خلاف ہو۔ چنانچہ حشیش یعنی گانجا اور شراب پینا اور عرسوں اور ذکر کے حلقوں میں مردوں عورتوں کا خلط ملط ہونا کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ کیوں کہ ہر ولی کی اپنی شریعت ہے جسے وہ براہ راست اللہ تعالیٰ سے حاصل کرتا ہے۔ اس لیئے اس کی کوئی اہمیت نہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت کے موافق ہے یا نہیں۔ کیوں کہ ہر ایک کی اپنی شریعت ہے۔ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت عوام کے لیئے ہے۔ اور پیر اور صوفی کی شریعت خواص کے لیئے ہے۔
    حلال و حرام
    یہی حال حلال و حرام کا بھی ہے۔ چنانچہ صوفیوں میں جو لوگ وحدۃ الوجود کے قائل ہیں ان کے نزدیک کوئی حرام نہیں۔ کیوں کہ ہر موجود ایک ہی ہے۔ اسی لئے ان کے اندر ایسے ایسے ہوئے جو زندیق یا لوطی تھے یا گدھیوں کے ساتھ کھل کھلا دن دھاڑے بدفعلی کرتے تھے۔ پھر ان ہی میں وہ بھی تھے جویہ عقیدہ رکھتے تھے کہ اللہ نے اس سے سارے احکام ساقط کردیئے ہیں۔ اور ان کے لیئے وہ چیز حلال کردی ہے جو دوسروں پر حرام تھی۔
    حکومت و سلطنت اور سیاست
    جہاں تک حکومت و سلطنت اور سیاست کا تعلق ہے تو صوفیوں کا طریقہ یہ رہا ہے کہ برائی کا مقابلہ کرنا اور بادشاہوں کو مغلوب کرنے کی کوشش کرنا جائز نہیں۔ کیونکہ ان کے خیال میں اللہ نے جس حال کو چاہا بندوں کو اسی حال میں قائم کیا ہے۔
    تربیت
    غالباً صوفی شریعت میں جو چیز سب سے خطرناک ہے وہ ہے ان کا طریقہ تربیت۔ کیوں کہ وہ لوگوں کی عقل پر پوری طرح مسلط ہوجاتے ہیں اور اسے بیکار بناڈالتے ہیں۔ اور اس کے لیئے وہ قدم بہ قدم کام کرنے کا طریقہ اپناتے ہیں۔ چنانچہ پہلے وہ آدمی کو مانوس کرتے ہیں۔ پھر اس کے دل و دماغ پر تصوف اور صوفیوں کی عظمت، اور ہولناکی کا سکہ جماتے ہیں۔ اس کے بعد آدمی کو تلبیس اور فریب میں ڈالتے ہیں۔ پھر اس پر علوم تصوف میں سے تھوڑا تھوڑا چھڑکتے جاتے ہیں۔ اس کے بعد اسے صوفی طریق کے ساتھ باند دیتے ہیں۔ اور نکلنے کے سارے راستے بند کردیتے ہیں۔ ​
     
  14. رحیق

    رحیق -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    1,593
    سوم: صوفی سے بحث کا نقطہ آغاز بہت سے غیرت مند مسلمان بھائی جنہیں دین سے محبت ہے اور تصوف اور اس کی لغویات سے نفرت ہے وہ صوفیوں سے غلط طور پر بحث شروع کردیتے ہیں کیونکہ وہ فروعی اور ادھر ادھر کی باتوں پر بحث کرنے لگتے ہیں۔ جیسے ذکر و اذکار میں ان کی بدعتیں' صوفی نام رکھنا' عرس منانا محفل میلاد قائم کرنا' تسبیحیں لٹکانا' گڈری پہننا' یا اسی طرح کے دوسرے الگ تھلگ مظاہراور روپ جن میں وہ ظاہر ہوتے ہیں۔
    لیکن واضح رہے کہ ان باتوں سے بحث کا آغاز کرنا پورے طور پر غلط ہے۔ اور باوجودیکہ یہ ساری باتیں بدعت اور خلاف شریعت ہیں' اور انہیں دین میں گھڑ کر داخل کیا گیا ہے' لیکن تصوف کی جو باتیں پس پردہ ہیں وہ ان سے کہیں زیادہ کڑوی اور خطرناک ہیں۔ میرا مقصد یہ ہے کہ یہ باتیں فروع کی حیثیت رکھتی ہیں' لہٰذا اصول کو چھوڑ کر ان باتوں سے بحث کا آغاز کرنا درست نہیں۔ یہ صحیح ہے کہ یہ بھی جرائم ہیں اور خلاف شریعت ہیں' لیکن تصوف کے اندر جو ہولناک باتیں' جو گھڑنت' جو بدترین کفریات اور جو گندے مقاصد پائے جاتے ہیں ان کے مقابل میں مذکورہ بالا باتیں بہت معمولی اور ہیچ ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ جو شخص صوفی سے بحث کرے وہ فروعی اور شکلی باتوں کے بجائے اصولی اور بنیادی باتوں سے ابتداء کرے۔
    اور غالباً اسلام اور تصوف کا اصل جوہری اختلاف پڑھ لینے کے بعد تمہیں سمجھ میں آگیا ہوگا کہ بحث کی ابتداء کہاں سے کرنی چاہیے۔ یعنی سب سے پہلا سوال ماخذ دین کے متعلق ہونا چاہیے کہ دین کہاں سے لیا جائے اور عقیدہ و عبادت کس چیز سے ثابت کی جائے۔ یعنی دین اور عقیدہ و عبادت کے حاصل کرنے کا ماخذ کیا ہو؟ اسلام اس ماخذ کو صرف کتاب و سنت میں محصور کرتا ہے کسی بھی عقیدے کا اثبات قرآن کی نص یا رسول کے ارشاد کے بغیر جائز نہیں اور کسی بھی شریعت کا اثبات کتاب و سنت یا اس کے موافق اجتہاد کے بغیر جائز نہیں اور اجتہاد صحیح بھی ہوتا ہے اور غلط بھی اور کتاب اللہ اور سنت رسول کے علاوہ کوئی معصوم نہیں۔
    مگر مشائخ تصوف کا خیال ہے کہ وہ دین کو بغیر کسی واسطہ کے براہ راست اللہ تعالیٰ سے حاصل کرتے ہیں اور براہ راست رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کرتے ہیں۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ آپ ہمیشہ ان کی مجلسوں اور ان کے ذکر کے مقامات میں تشریف لاتے ہیں ۔ اسی طرح وہ اپنا دین فرشتوں سے حاصل کرتے ہیں۔ اور جنوں سے حاصل کرتے ہیں جنہیں روحانی کہتے ہیں اور کشف حاصل کرتے ہیں جس کے متعلق ان کا خیال ہے کہ ولی کے دل پر غیب کی باتیں کھل جاتی ہیں اور وہ زمین و آسمان کی ساری چیزوں کو اور گذشتہ اور آئندہ کے سارے واقعات کو دیکھتا ہے۔ پس ولی کے علم سے ۔۔۔۔۔۔۔ان کے بقول۔۔۔۔۔۔آسمانوں اور زمین کا ایک ذرہ بھی باہر نہیں۔
    اس لیے صوفی سے پہلا سوال یہ کرنا چاہیے کہ آپ لوگ دین کا ثبوت کہاں سے لاتے ہیں؟ یعنی اپنا عقیدہ کہاں سے حاصل کرتے ہیں؟ اگر وہ کہے کہ کتاب و سنت سے حاصل کرتے ہیں تو اس سے کہو کہ کتاب و سنت کی گواہی تو یہ ہے کہ ابلیس کافر ہے اور وہ اور اس کے پیروکار جہنمی ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
    وَقَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُضِيَ الأَمْرُ إِنَّ اللّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدتُّكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُم مِّن سُلْطَانٍ إِلاَّ أَن دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي فَلاَ تَلُومُونِي وَلُومُواْ أَنفُسَكُم مَّا أَنَاْ بِمُصْرِخِكُمْ وَمَا أَنتُمْ بِمُصْرِخِيَّ إِنِّي كَفَرْتُ بِمَا أَشْرَكْتُمُونِ مِن قَبْلُ إِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ (إبراهيم : 22 )
    اور جب معاملات کا فیصلہ کردیا جائے گا تو شیطان کہے گا کہ اللہ نے تم سے برحق وعدہ کیا تھا اور میں نے تم سے وعدہ کیا تو وعدہ خلافی کی اور مجھے تم پر کوئی اختیار تو تھا نہیں البتہ میں نے تم کو بلایا اور تم نے میری بات مان لی لہٰذا مجھے ملامت نہ کرو بلکہ اپنے آپ کو ملامت کرو۔ نہ میں تمہاری فریاد کرسکتا ہوں۔ اور نہ تم میری فریاد کرسکتے ہو۔ تم نے پہلے مجھے شریک ٹھہرایا میں اس کے ساتھ کفر کرتا ہوں۔ یقیناً ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے۔
    تمام مفسرین سلف کا اجماع ہے کہ یہاں شیطان سے مراد ابلیس ہے۔ اور "تم میری فریاد نہیں کرسکتے" کا مطلب تم مجھے چھڑا اور بچا نہیں سکتے۔ اور اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ جہنم میں ہے۔
    تو اب اے صوفیو! سوال یہ ہے کہ کیا ابلیس کے بارے میں آپ لوگوں کا بھی یہی عقیدہ ہے؟
    اگر اس کے جواب میں صوفی یہ کہے کہ ہاں! ہمارا بھی یہی عقیدہ ہے کہ ابلیس اور اس کے ماننے ولے جہنمی ہیں تو یاد رکھو کہ وہ تم سے جھوٹ بول رہا ہے اور اگر یہ جواب دے کر ہم ابلیس کو جہنمی نہیں مانتے' بلکہ ہمارا عقیدہ ہے کہ اس نے جو کچھ کیا تھا اس سے توبہ کرلیا اور مومن و موحد ہوگیا۔۔۔۔۔۔جیسا کہ ان کے استاد حلاج کا کہنا ہے۔ تو اس سے کہو کہ اب تم کافر ہوگئے۔ کیونکہ تم نے کتاب اللہ' احادیث رسول اور اجماع امت کی مخالفت کی ۔ اس لیے کہ ان سب ذریعوں سے ثابت ہے کہ ابلیس کافر اور جہنمی ہے۔
    صوفی سے یہ بھی کہو کہ تمہارے شیخ اکبر ابن عربی کا فیصلہ ہے کہ ابلیس جنتی ہے اور فرعون جنتی ہے (جیسا کہ "فصوص الحکم" میں لکھا ہے) اور تمہارے استاد اعظم حلاج کا کہنا ہے کہ ابلیس اس کا پیشوا اور فرعون اس کا پیر ہے( جیسا کہ "طواسین" ص 52میں لکھا ہے) اب بتاؤ کہ اس بارے میں تم کیا کہتے ہو؟ جواب میں اگر وہ ان باتوں کو ماننے سے انکار کردے تو سمجھ لو کہ وہ کٹ حجت اور حقیقت کا منکر ہے یا جاہل اور ناواقف ہے اور اگر وہ بھی کافر ہوا۔ اور ابلیس اور فرعون کا بھائی ٹھہرا۔ لہٰذا جہنم میں ان سبھوں کا ساتھ اس کے لیے کافی ہے۔
    اور اگر وہ تلبیس سے کام لے اور کہے کہ ان کی بات شطحیات میں سے ہے۔ انہوں نے اسے حال اور سکر کے غلبے کے وقت کہا تھا تو اس سے کہو تم جھوٹ بولتے ہو۔ یہ بات تو لکھی ہوئی کتابوں میں موجود ہے اور ابن عربی نے اپنی کتاب "فصوص" کو یوں شروع کیا ہے:
    انی رایت رسول اللہ فی مبشرۃ فی محروسۃ دمشق واعطانی ھذا الکتاب وقال لی اخرج بہ علی الناس۔
    "میں نے محروسہ دمشق کے اندر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خواب میں دیکھا اور آپ نے مجھے یہ کتاب دی ۔ اور فرمایا اسے لوگوں کے سامنے برپا کرو"۔
    اور اسی کتاب میں ابن عربی نے بیان کیا ہے کہ ابلیس اور فرعون اللہ کی معرفت رکھتے تھے۔ اور نجات پائیں گے۔ اور فرعون کو موسیٰ علیہ السلام سے زیادہ اللہ کا علم حاصل تھا۔ اور جس نے کسی بھی چیز کی پوجا کی اس اللہ ہی کی پوجا کی ۔ اسی طرح حلاج نے بھی اپنی ساری کفریات کو کتاب کے اندر لکھ رکھا ہے۔ یہ شطح یا حال کا غلبہ نہیں تھا جیسا کہ لوگ کہا کرتے ہیں۔
    اس کے جواب میں اگرصوفی یہ کہے کہ ان لوگوں نے ایک ایسی زبان میں بات کی ہے جسے ہم نہیں جانتے تو اس کو کہو کہ ان لوگوں نے اپنی بات عربی زبان میں لکھی ہے اور ان کے شاگردوں نے ان کی شرح کی ہے اور مذکورہ باتوں کو دوٹوک لفظوں میں بیان کیا ہے۔
    اگر اس کے جواب میں صوفی یہ کہے کہ ایسی زبان ہے جو اہل تصوف کے ساتھ خاص ہے اور اسے دوسرے لوگ نہیں جانتے۔ تو اس سے یہ کہو کہ ان کی یہ زبان عربی ہی زبان تو ہے جس کو انہوں نے لوگوں کے درمیان عام کیا ہے اور اپنے ساتھ خاص نہیں کیا ہے اور اسی بنیاد پر علماء اسلام نے حلاج کواس کی باتوں کے سبب کافر قرار دیا اور اسے 309ھ میں بغداد کے پل پر پھانسی دی گئی۔ اسی طرح علماء اسلام نے ابن عربی کے بھی کافر زندیق ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔
    اگر صوفی کہے کہ میں علماء شریعت کے فیصلے کو تسلیم نہیں کرتا کیونکہ وہ علماء ظاہر ہیں حقیقت نہیں جانتے۔ تو اس سے کہو کہ یہ "ظاہر" تو کتاب و سنت ہے۔ اور جو "حقیقت" اس "ظاہر" کے خلاف ہو وہ باطل ہے۔ پھر اس سے یہ بھی پوچھو کہ وہ صوفیانہ حقیقت کیا ہے جس کا تم لوگ دعویٰ کرتے ہو؟ اگر وہ کہے کہ یہ ایک راز ہے جس کو ہم نہیں بتلاتے تو اس سے کہو کہ جی نہیں تم لوگوں نے اس راز کو آشکارا کردیا اور پھیلا دیا ہے۔ اور وہ راز یہ ہے کہ تمہارے خیال میں ہر موجود اللہ ہے۔ جنت و جہنم ایک ہی چیز ہے۔ ابلیس اور محمد ایک ہی ہیں۔ اللہ ہی مخلوق ہے اور مخلوق ہی اللہ ہے۔ جیسا کہ تمہارے امام شیخ اکبر نے کہا ہے؟


    العبد رب والرب عبد یالیت شعری من المکلف
    ان قلت عبد فذاک رب وان قلت اب انی یکلف
    "بندہ رب ہے اور رب بندہ ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ پھر مکلف کون ہے؟ اگر کہا جائے کہ بندہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو وہی رب ہے۔ اور اگر کہا جائے کہ رب۔ تو پھر مکلف کیسے ہو سکتا ہے"۔
    اب اگر صوفی اس کا اقرار کرلے' اس کے باوجود ان زندیقوں کی پیروی کرے تو انہیں جیسا کافر وہ بھی ہوا۔ اور کہے کہ میں نہیں جانتا کہ یہ کیا بات ہے۔ مجھے اس کا علم نہیں۔ البتہ میں اس کے کہنے والوں کی ایمان اور پاکی اور ولایت کا یقین رکھتا ہوں تو اس سے کہو کہ یہ واضح عربی کلام ہے۔ اس میں کوئی خفا نہیں اور یہ ایک معروف عقیدے یعنی وحدۃ الوجود کا پتہ دیتا ہے۔ اور یہ ہندوؤں اور زندیقوں کا عقیدہ ہے جسے تم لوگوں نے اسلام کی طرف منتقل کرلیا ہے۔ اور اسے قرآنی آیات اور نبوی احادیث کا جامہ پہنادیا ہے۔
    اس کے بعد اگر صوفی یہ کہے کہ اولیاء کی شان میں گستاخی نہ کرو ورنہ وہ تم کو برباد کردیں گے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جو کوئی میرے ولی سے دشمنی کرے میں اس کے خلاف جنگ کا اعلان کرتا ہوں۔ تو اس کے جواب میں تم کہو کہ یہ لوگ اولیاء نہیں ہیں بلکہ زندیق و بددین ہیں جنہوں نے اوپر سے اسلام کا پردہ ڈال رکھا ہے اور میں تمہارے ساتھ اور تمہارے خداؤں کے ساتھ کفر کررہا ہوں۔
    فَكِيدُونِي جَمِيعاً ثُمَّ لاَ تُنظِرُونِ (55) إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّهِ رَبِّي وَرَبِّكُم مَّا مِن دَآبَّةٍ إِلاَّ هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ (هود :55-56 )
    "لہٰذا تم سب مل کر میرے خلاف داؤں چلاؤ پھر مجھے مہلت نہ دو۔ میں نے اللہ پر بھروسہ کررکھا ہے جو میرا اور تمہارا پروردگار ہے۔ روئے زمین پر جو بھی چلنے والا ہے اللہ نے اس کی چوٹی پکڑ رکھی ہے۔ بے شک میرا پروردگار صراط مستقیم پر ہے"۔
    پھر اگر صوفی یہ کہے کہ ضروری ہے کہ ہم صوفیوں کے حق میں ان کے حالات کو تسلیم کرلیں کیونکہ انہوں نے حقائق کو دیکھا ہے اور دین کے باطن کو پہنچانا ہے۔ تو اس سے کہو کہ تم جھوٹ بولتے ہو۔ اگر کوئی شخص اپنی بات کے ذریعہ کتاب و سنت کی مخالفت کرے ۔ اور مسلمانوں کے درمیان کفر و زندقہ پھیلائے تو اس پر چپ رہنا جائز نہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
    إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى مِن بَعْدِ مَا بَيَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتَابِ أُولَـئِكَ يَلعَنُهُمُ اللّهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ ( 159) إِلاَّ الَّذِينَ تَابُواْ وَأَصْلَحُواْ وَبَيَّنُواْ فَأُوْلَـئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ (البقرة :159-160)
    "یقیناً جو لوگ ہمارءی نازل کی ہوئی دلیلوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں اس کے بعد کہ ہم اسے لوگوں کے لیے کتاب میں بیان کرچکے ہیں تو ایسے لوگوں اللہ لعنت کرتا ہے اور لعنت کرنے والے لعنت کرتے ہیں۔ سوائے ان لوگوں کے جو توبہ کریں اور اصلاح کریں اور بیان کریں تو میں ایسے لوگوں کی توبہ قبول کرتا ہوں اور میں توبہ قبول کرنے والا مہربان ہوں"۔
    اس لیے تمہارے باطل اور لغویات اور زندقہ پر چپ رہنا جائز نہیں۔ کیونکہ تم لوگوں نے عالمِ اسلام کو پچھلے دور میں بھی اور موجودہ زمانے میں بھی خراب کررکھا ہے۔ آج تک تم لوگوں کا یہی وطیرہ چلا آرہا ہے کہ لوگوں کو اللہ کی عبادت سے نکال کر مشائخ کی عبادت کی طرف لے جاتے ہو۔ توحید سے نکال کر شرک اور قبر پرستی کی طرف لے جاتے ہو۔ سنت سے نکال کر بدعت کی طرف لے جاتے ہو۔ اور کتاب و سنت کے علم سے نکال کر اللہ' فرشتے' رسول اور جنوں کو دیکھنے کا دعویٰ کرنے والوں سے بدعات و خرافات اور جھوٹ فریب حاصل کرنے کی طرف لے جاتے ہو۔ تم زندگی بھر باطنی فرقوں کے مددگار اور سامراج کے خادم رہے۔ اس لیے قطعاً جائز نہیں کہ تم لوگوں نے جو گمراہی اور شرک پھیلا رکھا ہے' اور لوگوں کو قرآن کریم اور حدیث سے بہکا کر اپنے بدعتیانہ اذکار اور مشرکوں جیسی سیٹی اور تالی والی عبادت کی طرف لے جاتے ہو اس پر خاموشی اختیار کی جائے۔
    اس مرحلہ پر صوفی لازماً خاموش ہوجائے گا۔ وہ سمجھ جائے گا کہ اس کا پالا ایک ایسے شخص سے پڑا ہے جس کو اس کے باطل کا پورا پورا علم ہے اس کے بعد یا تو اللہ تعالیٰ اس کو صحیح اسلام کی ہدایت دے گا یا وہ اپنے عقیدے اور معاملہ کو چھپائے رکھے گا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسے کسی دن رسوا کردے' یا کفر و زندقے اور بدعت و مخالفتِ حق پر اس کی موت آجائے۔
    ہم نے یہ ساری باتیں ان کی کتابوں اور اقوال سے تفصیل کے ساتھ بیان کردی ہیں آپ ہماری کتاب "الفکر الصوفی فی ضوء الکتاب والسنۃ" کا مطالعہ کروگے تو اللہ کی حمد و توفیق سے آپ کو یہ سب تفصیل کے ساتھ مل جائے گا۔
    اور اول و آخر ساری حمد اللہ کے لیے ہے۔ اور ساری عزت کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہے' اور ان کی پیروی کرنے والے' اور صراط مستقیم پر چلنے والے مومنین کے لیئے ہے۔ والحمد للہ رب العالمین۔
     
  15. رفیق طاھر

    رفیق طاھر ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,943
    جزاکم اللہ خیرا وبارک فیکم
    آپ نے مولانا عبد الرحمن عبد الخالق کا سارا مضمون اردو میں نقل فرمادیا بہت زبر دست مضمون ہے
    لیکن آپ نے حوالہ نہیں دیا
    لہذا میرا خیال ہے کہ میں انکا وہ عربی مضمون یہاں پیسٹ کر دوں
    ــــــــــــــــــــــ
    مقــدمة
    الحمد لله الذي بعث محمداً صلى الله عليه وسلم بالحق بين يدي الساعة مفرقاً بين الهدى والضلال، وبين التوحيد والشرك، وبين الجاهلية والإسلام. والصلاة والسلام على النبي الهادي الذي أتم رسالة ربه غاية الإتمام، وترك أمته على المحجة الواضحة البينة التي لا يزيغ عنها إلا من صرف الله قلبه عن الإيمان والإسلام.
    وبعد.
    فإني رأيت بعد طول دراسة وتدبر أن الفكر الصوفي هو أشد الأخطار جميعاً على أمة الإسلام وأنه الذي حوّل عز هذه الأمة ذلاً ومهانة، ولا يزال هذا دأبه على الدوام وأنه السوس الذي ظل ينخر ويهدم في جسم شجرتنا الباسقة حتى أناخها مع الأيام، وأنه لا خلاص للأمة إلا بالتخلص من هذا السوس أولاً قبل أي خطر آخر، وقد كتبت بحمد الله في هذا كتاب الفكر الصوفي. ولما كان هذا الكتاب ذا حجم كبير قد لا يسعف القارئ المشغول أن يلم بأطرافه أفردت هذه الرسالة الصغيرة لتشرح أهم المخاطر التي تهدد العالم الإسلامي من وراء الفكر الصوفي، لعل في هذه الرسالة باعثاً ومنبهاً لقادة الأمة الإسلامية وموجهيها أن يحذروا من هذه الآفة الخفية الماحقة ويعملوا على استئصالها من جسم الأمة الإسلامية. ثم أتبعت بيان المخاطر بنموذج مختصر لكيفية الجدال مع الصوفي وذلك حتى يتدرب طلاب العلم على كيفية النقاش معهم ويتعلموا كيف يستطيعون إقامة الحجة عليهم أو لإقامتهم على الطريق المستقيم والله أسأل أن ينفع بهذه الرسالة أمة الإسلام وطلاب العلم الشرعي وأحمد الله وأصلي على عبده ورسوله في البدء والختام.
    كتبه
    عبد الرحمن عبد الخالق
    الكويت السبت 14 من ذي القعدة سنة 1404 هـ
    الموافق 11 من أغسطس سنة 1984 م


    الباب الأول: مخاطر الفكر الصوفي

    هذه هي أهم مخاطر الفكر الصوفي:
    1- صرف الناس عن القرآن والحديث:
    عمد المتصوفة قديماً وحديثاُ إلى صرف الناس عن القرآن والحديث بأسباب شتى وطرق ملتوية جداً ومن هذه الطرق ما يلي:
    أ- الزعم أن التدبر في القرآن يصرف النظر عن الله فقد جعلوا الفناء في الله في زعمهم هو غاية الصوفي وزعموا أيضاً أن تدبر القرآن يصرف عن هذه الغاية وفاتهم أن تدبر القرآن هو ذكر الله عز وجل لأن القرآن إما مدح الله بأسمائه وصفاته، أو ذكر لما فعله سبحانه بأوليائه وبأعدائه، وكل ذلك مدح له وعلم بصفاته أو تدبر لحكمه وشرعه، وفي هذا التدبر تظهر حكمته ورحمته بخلقه عز وجل ولكن لأن الصوفية يريد كل منهم أن يكون إلهاً ويتصف- في زعمه بصفات الله- فإنهم كرهوا تدبر القرآن لذلك. وهاهو الشعراني يقول في كتابه الكبريت الأحمر: يقول الله عز وجل في بعض الهواتف الإلهية "يا عبادي الليل لي لا للقرآن يتلى إن لك في النهار سبحاً طويلا فاجعل الليل كله لي وما طلبتك إذا تلوت القرآن بالليل لتقف على معانيه فإن معانيه تفرقك عن المشاهدة فآية تذهب بك إلى جنتي وما أعددت فيها لأوليائي فأين أنا إذا كنت في جنتك مع الحور متكئا على فرش بطائنها من إستبرق وآية تذهب بك إلى جهنم فتعاين ما فيها من أنواع العذاب فأين أنا إذا كنت مشغولاً بما فيها وآية تذهب بك إلى قصة آدم أو نوح أو هود أو صالح أو موسى أو عيسى عليهم الصلاة والسلام وهكذا وما أمرتك بالتدبر إلا لتجتمع بقلبك علي وأما إستنباط الأحكام فلها وقت آخر وثم مقام رفيع وأرفع" أهـ (الكبريت الأحمر على هامش اليواقيت والجواهر ص21).
    وهذه زندقة عظيمة، إذ أين قال الله هذا الذي يفتريه الشعراني، ثم كيف يقول الله ما يخالف القرآن الحق المنزل على عبده ورسوله محمد صلى الله عليه وسلم حيث يقول تعالى (كتاب أنزلناه إليك مباركٌ ليدبروا آياته). وقال تعالى (أفلا يتدبرون القرآن أم على قلوب أقفالها). وقال تعالى (فذكر بالقرآن من يخاف وعيد).
    وكان النبي صلى الله عليه وسلم يقوم الليل بالقرآن كلما مر على آية فيها ذكر للجنة وقف عندها ودعا الله عز وجل وكلما مر على آية أخرى فيها تهديد ووعيد وقف عندها ودعا الله سبحانه واستعاذ من النار كما صح ذلك من حديث عبد الله بن مسعود رضي الله عنه ، وهؤلاء زعموا أن قراءة القرآن بالليل والقيام به مشغلة وانصراف عن الله!! والحال أن القيام بالليل هو أعظم فريضة فرضها الله على رسوله ليبلغ بذلك المنزلة العظمى يوم القيامة، قال تعالى (ومن الليل فتهجد به نافلة لك عسى أن يبعثك ربك مقاماً محموداً) ومعنى (تهجد به) أي بالقرآن، فجعل الله المقام المحمود للرسول ثمرة لقيام الليل بالقرآن وهذا أيضا أول أمر أُمر به الرسول صلى الله عليه وسلم كما قال تعالى:
    (يأيها المزمل قم الليل إلا قليلا نصفه أو انقص من قليلاً أو زد عليه ورتل القرآن ترتيلا) الآيات.
    والمهم هنا أن هؤلاء الكذابين صرفوا الناس عن القرآن بزعمهم أنه مشغلة عن عبادة الله فأي تلبيس أكبر من هذا.
    ب- الزعم بأن أجر أذكارهم المبتدعة أفضل من القرآن:
    كما قال أحمد التيجاني وغيره إن صلاة الفاتح تعدل كل ذكر تلي في الأرض ستة آلاف مرة..
    إقرأ الفصل الخاص (بالطريقة التيجانية في الفكر الصوفي). وهذا في المحصلة يؤدي بالناس إلى هجر القرآن إلى الأذكار المبتدعة.
    ج- زعمهم أن من قرأ القرآن وفسره عاقبه الله لأن للقرآن أسرار ورموزاً، وظهراً وبطناً ولا يفهمها إلا الشيوخ الكبار ولو تعرض شيء من تفسيره أو فهمه عاقبه الله عز وجل .
    د- جعل القرآن والحديث هو الشريعة والعلم الظاهر وأما العلوم اللدنية الأخرى في زعمهم فهي أكمل وأعلى من القرآن كما قال أبو يزيد البسطامي خضنا بحراً وقف الأنبياء بساحله.. وقال ابن سبعين: (لقد حجر ابن آمنة واسعاً إذ قال لا نبي بعدي) وهذا القول من هذا الزنديق في غاية الشناعة والباطل وإتهام الرسول!! فلعنة الله على من قال ذلك أو صدقه.. وتابعه في هذا القول.
    وبإختصار فللمتصوفة أعنى الزنادقة منهم أساليب عظيمة في الكيد والمكر بالإسلام ومن أعظم ذلك صرف الناس عن القرآن بهذه الأكاذيب والافتراءات.
    2- فتح باب التأويل الباطني لنصوص القرآن والحديث:
    ومن أعظم مخاطر الفكر الصوفي كذلك فتحهم باب للتفسير الباطني لنصوص القرآن والسنة، والحق أنه لا يكاد يوجد آية أو حديث إلا وللمتصوفة الزنادقة تأويلات باطنية خبيثة لها. ويقول ابن الجوزي في وصف ذلك:
    وقد جمع أبو عبد الرحمن السلمي في تفسير القرآن من كلامهم الذي أكثره هذيان لا يحل نحو مجلدين سماها حقائق التفسير قال في فاتحة الكتاب عنهم أنهم قالوا إنما سميت فاتحة الكتاب لأنها أوائل ما فاتحناك به من خطابنا فإن تأدبت بذلك وإلا حرمت لطائف ما بعد(!!)
    قال المصنف رحمه الله: وهذا قبيح لأنه لا يختلف المفسرون أن الفاتحة ليست من أول ما نزل، وقال في قول الإنسان (آمين) أي قاصدون نحوك.
    قال المصنف رحمه الله: وهذا قبيح لأنه ليس من أم لأنه لو كان كذلك لكانت الميم مشددة. وفي قوله: (وان يأتوكم أسارى) قال: قال أبو عثمان: غرقى في الذنوب. وقال الواسطي: غرقى في رؤية أفعالهم. وقال الجنيد: أسارى في أسباب الدنيا تفدوهم إلى قطع العلائق.
    قلت: وإنما الآية على وجه الإنكار ومعناها إذا أسرتموهم فديتموهم وإذا حاربتموهم قتلتموهم وهؤلاء قد فسروها على ما يوجب المدح. وقال محمد بن علي: (يحب التوابين) من توبتهم. وقال النوري: (يقبض ويبسط) أي يقبض بإياه ويبسط لإياه وقال في قولــه: (ومن دخله كان آمناً) أي من هواجس نفسه ومن وساوس الشيطان. وهذا غاية في القبح لأن لفظ الآية لفظ الخبر ومعناه الأمر وتقديرها من دخل الحرم فأمنوه. وهؤلاء فسروها على الخبر ثم لا يصح لهم لأنه كم من داخل إلى الحرم ما أمن من الهواجس ولا الوساوس، وذكر في قوله: (إن تجتنبوا كبائر ما تنهون عنه) قال أبو تراب: هي الدعاوي الفاسدة. (والجار ذي القربى) قال سهل: هو القلب، (والجار الجنب) النفس، (وابن السبيل) الجوارح. وقال في قوله (وهم بها)، قال أبو بكر الوراق: الهمان لها ويوسف ما هم بها. قلت هذا خلاف لصريح القرآن. وقوله (ما هذا بشراً)، قال محمد بن علي ما هذا بأهل أن يدعى المباشرة. وقال الزنجاني: الرعد صعقات الملائكة والبرق زفرات أفئدتهم والمطر بكاؤهم. وقال في قوله (ولله المكر جميعاً)، قال الحسين: لا مكر أبين فيه من مكر الحق بعباده حيث أوفاهم أن لهم سبيلاً إليه بحال، أو للحدث اقتران مع القدم.
    قال المصنف رحمه الله: ومن تأمل معنى هذا علم أنه كفر محض لأنه يشير إلى أنه كالهزء واللعب. ولكن الحسين هذا هو الحلاج وهذا يليق بذاك. وقال في قوله (لعمرك) أي بعمارتك سرك بمشاهدتنا. قلت: وجميع الكتاب من هذا الجنس ولقد هممت أن أثبت منه هاهنا كثيراً فرأيت أن الزمان يضيع بين الكفر والخطأ والهذيان. وهو من جنس ما حكينا عن الباطنية، فمن أراد أن يعرف جنس ما في الكتاب فهذا أنموذجه. ومن أراد الزيادة فلينظر في الكتاب. (تلبيس إبليس ص332،333)
    وهذا الذي ذكره الإمام ابن الجوزي إنما هو نموذج فقط للتأويل الصوفي لرواده الأوائل ولو رحنا نتتبع ما سطرته أيدي المتصوفة من التأويل الباطني الخبيث للقرآن والحديث لجمعنا عشرات المجلات كلها من أمثال هذا الهذيان والافتراء، والتقول على الله بلا علم والزعم أن هذه هي معاني القرآن الحقيقية..
    وللأسف فإن المنهج الباطني لتأويل القرآن والحديث قد درج عليه من سار على هديهم لليوم. ولقد أصبح منهاجاً وأسلوباً لمن أبتلي بالتصديق بهذه الخرافات الصوفية، وإطلاعك مثلاً على كتاب (القرآن محاولة لتفسير عصري. لمؤلفه مصطفى محمود) أو الكتب التي ألفها محمود محمد طه السوداني صاحب ما يسمى بالحزب الجمهوري السوداني يطلعك على هذه النماذج العجيبة التي تأثرت بالفكر الصوفي وخرجت على المسلمين بتأويلات باطنية للقرآن والحديث… واليك بعض النماذج في ذلك:
    * المحاولة العصرية لتفسير القرآن التي كتبها الدكتور مصطفى محمود على صفحات صباح الخير المصرية، ثم جمعها في رسالة لعنوان "القرآن محاولة لفهم عصري للقرآن" كانت محاولة صوفية حديثة لتفسير القرآن وهي محاولة فجة في إطار الفكر الصوفي كما سماها بذلك محمود محمد طه الأستاذ الذي نقل عنه الدكتور في كتابه فقد قال مادحا له ناقلاً عنه: "وأعجبني في كتاب للمفكر الإسلامي محمود طه بعنوان "رسالة الصلاة" تعبير جميل يقول فيه: إن الله استل آدم استلالاً من الماء والطين. "ولقد خلقنا الإنسان من سلالة من طين" إنه الانبثاق من الطينة درجة درجة، وخطوة خطوة، من الاميبا إلى الإسفنج إلى الحيوانات الرخوية إلى الحيوانات القشرية إلى الفقريات إلى الأسماك إلى الزواحف إلى الطيور إلى الثدييات إلى أعلى رتبة آدمية بفضل الله وهديه وإرشاده" (ص53 المحاولة).
    وهذا المفكر الإسلامي على حد تعبير الدكتور مصطفى محمود مهندس زراعي سوداني درس التصوف ووصل إلي القول بسقوط التكاليف عنه لأنه وصل إلى مرحلة اليقين وله كتاب الصلاة الذي نقل عنه الدكتور مصطفى محمود وكتب أخرى، وله كتاب في الرد على المحاولة العصرية بتفسير القرآن.
    ومما أعجب الدكتور في كتاب الصلاة لمحمود محمد طه ما نقلناه بنصه آنفاً، وهو إقحام عجيب لخلق آدم عليه السلام في نظرية دارون التي انحسر الإيمان بها إلا من عقول أولئك الذي يجمعون من كل فكر غث يفسرون به كلام الله عز وجل زاعمين انهم وصلوا إلى هذا بالكشف والمجاهدة، وما هو إلا نقل لثقافات الكفرة والملحدين ثم حمل آيات الكتاب الكريم عليها.
    وأما الدليل على أن المحاولة العصرية لتفسير القرآن وتأويله ينطلق من إطار الفكر الصوفي فهي هذه النقول من كتاب الدكتور مصطفى محمود عن القرآن:
    أ- كتب الدكتور مصطفى محمود فصلاً كاملاً بعنوان "أسماء الله" جعل المعرفة الصحيحة السليمة لمعاني الرب والإله هي التي توصل إليها المتصوفة قال: "والمتصوفة يقولون انه يبعد عن إدراكنا لفرط قربه ويخفى علينا لفرط ظهوره" ص99.
    ثم يسترسل في مدح الفكر الصوفي: "وهم يطلبون القرب من الله حباً، وليس خوفاً من النار، أو طلباً لجنة، ويقولون إنه في هجرة دائمة إلى الله من الأكوان إلى المكون" ص101.
    ثم يقول: "والمتصوفة أهل أطوار وأحوال ولهم آراء طريفة لها عمقها، ودلالتها، فهم يقولون إن المعصية تكون افضل أحيانا من الطاعة، فرب معصية تؤدي إلى الرهبة من الله والى الذل والانكسار، وطاعة تؤدي إلى الخيلاء والاغترار وهكذا يصبح العاصي أكثر قرباً وأدباً مع الله من المطيع" ص101.
    ثم يقول: "والمتصوف واليوجي والراهب كلهم على درب واحد، وأصحاب منطق واحد وأسلوب واحد في الحياة هو الزهد" ص101.
    ثم يقول أيضاً: "واليوجي والراهب والصوفي المسلم يطلبون القرب والوصل بنفس الأسلوب بالتسابيح فيدعون الله بأسمائه "ولله الأسماء الحسنى يدعوه بها" وهناك يوجا خاصة بالتسابيح اسمها "المانترايوجا" من كلمة "منترام" الهندية أي تسبيحة، ومن التسابيح السنكريتية أن يتلو اليوجي في خشوع كلمة "رهيم، رهام" آلاف المرات وهي كلمات تقابل رحيم.. رحمن عندنا وهي من اسماء الله بالسنسكريتية ويضع اليوجي في عنقه مسابح طويلة من ألف حبة"!!
    ثم يسترسل الدكتور مصطفى محمود في الإشادة بمنهج التصوف وفهم المتصوفة للإسلام فيقول: "والتصوف إدراك عن طريق المدارك العالية، والمتصوف عارف" ص103.
    ثم يجري خلف المتصوفة في تطويع الآيات القرآنية إلى تفسيرهم الباطني فيقول: "وفي بعض أخبار داود أنه قال: "يا رب أين أجدك؟ فقال: "اترك نفسك وتعال.. غب عني تجدني". وفي هذا يفسر بعض المتصوفة كلام الله لموسى في القرآن": (فاخلع نعليك انك بالوادي المقدس طوى ) أن المقصود بالنعلين هي النفس والجسد، أو النفس وملذات الجسد، فلا لقاء بالله إلا بعد أن يخلع الإنسان النعلين: نفسه وجسده بالموت أو بالزهد" ص104.
    ثم يسترسل الدكتور فيقول:" والمتصوف لا يسأل.. وهو يمرض فلا يسأل الله الشفاء ويقول في أدب.. كيف أجعل لنفسي إرادة إلى جانب إرادة الله فأسأله ما لم يفعل" ص105.
    ثم يفسر قوله تعالى: (وما خلقت الجن والإنس إلا ليعبدون) إن معناها ما خلقت الجن والإنس إلا ليعرفون.
    ثم يقول في ختام هذا الفصل الصوفي: "هؤلاء هم أهل السر القرب والشهود الأولياء الصالحون حقاً" ص109.
    فما أثر هذا المنهج الصوفي الذي اختطه الدكتور لنفسه، وكيف كان نتاج هذا الفكر عند الدكتور؟
    لقد تصدى الدكتور مصطفى محمود لتأويل القرآن وتفسيره فبماذا طلع على الناس، وما الفهم العصري لكتاب رب العالمين عز وجل ؟ هناك نماذج مما وصل إليه فهم الدكتور المفسر:
    أ- اجتهد الدكتور على حد تعبيره في معرفة الشجرة التي أكل منها آدم فعصى الله تبارك وتعالى وأوصله (اجتهاده) إلى ما يأتي بالنص:
    "كان التلاقح الجنسي والشجرة المحرمة التي أكلت منها الحياة فهوت إلى العدم " … "وكان الشيطان يعلم أن شجرة النسل هي إيذان ببدء الموت والطرد من جنة الخالدين فكذب على آدم فسول له أنها شجرة الخلود بعينها، وأغراه بأن يخالط زوجه بالجسد" ص62.
    ثم لا يكتفي الدكتور بذلك بل يجزم أن حواء أيضاً حملت في أثناء هذا اللقاء حيث يقول:
    "ثم نرى القرآن يخاطبها بعد تذوق الشجرة على أنهما جمع فيقول ( اهبطوا بعضكم لبعض عدو) بينما كان الخطاب في نفس الآيات قبل الخطيئة إلى مثنى، ومعنى هذا أن الأكل من الشجرة أدى إلى التكاثر" ص62.
    ثم يقول الدكتور بعد كل هذا الهذيان "ولا يمكننا القطع في هذه المسائل، ويجب أن نقول أن الشجرة ما زالت لغزاً، وأن قصة الخلق ما زالت من أمر الغيب لا نستطيع أن نقول فيها أكثر من الاجتهاد، والله أعلم بكتابه وهو وحده الذي يعلم تأويل ما فيه".
    قلت: كيف وقد قطعت وفسرت بما يحلو لك آنفاً وتقولت على الله وعلى كتابه بغير علم ولا هدى.. وزعمت كل الذي زعمت في معاني القرآن بما يوافق هواك ورأيك..
    والعجيب حقاً أن مصطفى محمود نفسه يهاجم البهائية الذين يعمدون إلى التأويل الباطني للقرآن فيقول: "وهو أمر يكشف خطورة التفسير الباطني للقرآن، وخطورة إغفال ظاهر الحروف، ومقتضى الكلمات والعبارات، وكيف يمكن أن يؤدي أمثال هذه التفاسير إلى اقتلاع الدين من أساسه، وهو ما كانت تلجأ إليه بالفعل فرق الخوارج والأثنا عشرية والباطنية والبابية لتطويع القرآن لأغراضها في هدم بعضها البعض".
    ثم يستطرد قائلاً: "وهذا ينتهي بنا إلى موقف في التفسير لا بد من التزامه، وهو الارتباط بحرفية العبارة، ومدلول الكلمات الظاهر، لا تنتقل إلى تأويل باطني إلا بإشارة وإلهام من الكلمات القرآنية ذاتها فنفسر القرآن بالقرآن ظاهراً وباطناً على أن لا يتعارض تفسيرنا الباطن مع مدلول الظاهر أو يكون نافياً له" أهـ (محاولة تفسير عصري ص122-123)
    والعجيب حقاً أن مصطفى محمود بالرغم من كل ما قاله عن خطورة التأويل الباطني قد فتح لنفسه هو المجال ليقول حسب هواه، فقد جعل الجنة والنار كليهما عذاباً ونعيماً معنوياً وليس شيئاً حقيقياً حسياً وقال أنا أكره العسل، ومنذ سمعت أن في الجنة أنهار عسل تقززت نفسي!!. وجعل يأجوج ومأجوج هم شعب الصين، وجعل الدجال المذكور في الحديث هو العلم العصري لأنه ينظر بعين واحدة إلى الدنيا فقط.. وجعل لباس البحر للنساء لباساً أوجدته الضرورة والتفكر في خلق الله… وهذه فقط بعض تأويلاته… وأما أستاذه الذي نقل عنه وهو محمد محمود طه السوداني فهذا الذي وصلت به التأويلات الى إسقاط الشريعة عن نفسه فهو لا يصلي لأنه وصل منزلة الله!! وقد وجـد بتأويلاته أن الاشتراكيـة في القــرآن بأن الله
    يقول (ويسألونك ماذا ينفقون قل العفو) والعفو هي الزيادة في زعمه عن الحاجة الضرورية وهذا يعني عنده أنه لا يجوز الإدخار ويجب إنفاق كل الكسب الزائد… وبالرغم من كل هذه الخزعبلات والخرافات فقد وجد مثل هذا الفكر رواجاً وقد ناقشت بنفسي أعداداً كبيرة من هذا الذي يسمونه بالحزب الجمهوري في السودان… ويعجب القارئ إذا علم أن مثل هذا الفكر الباطني قد انتحله أساتذة جامعات ومحامون ومدرسون وطلاب… وأنهم يدافعون عن هذا الفكر باستماتة عجيبة. فأي خطورة أعظم من مثل هذا؟!
    3- إتلاف العقيدة الإسلامية:
    أول ما يستهدف الفكر الصوفي إتلافه وتبديله هو العقيدة الإسلامية النقية عقيدة الكتاب والسنة، وذلك أن: الفكر الصوفي خليط كامل لكل الفلسفات والخزعبلات والخرافات التي انتشرت في العالم قديماً وحديثاً. فليس هناك من كفر وزندقة وإلحاد إلا دخل الى الفكر الصوفي وتلبس بالعقيدة الصوفية. فمن القول بوحدة الوجود وأن كل موجود هو الله، إلى القول بحلول ذات الله أو صفاته في المخلوقين، إلى القول بالعصمة، إلى الزعم بالتلقي من الغيب، إلى القول بأن محمداً صلى الله عليه وسلم هو قبة العالم وهو المستوي على عرش الله، إلى القول بأن الأولياء يديرون العالم ويتحكمون في الكون، وأستطيع أن أقول أنه لا توجد عقيدة شركية في الأرض إلا وقد نقلت إلى الفكر الصوفي، وأُلبست الآيات والأحاديث. بل أنني أتحدى أي صوفي يعلم ما هو التصوف أن يثبت لي حسب عقيدته، أن إبليس كافر وأنه من أهل النار، وأن فرعون كافر وأنه من أهل النار!! وأن الذين عبدوا العجل من بني إسرائيل أخطئوا، وأن الذين يعبدون البقر الآن كفار… أتحدى أي صوفي يعلم حقيقة التصوف أن يثبت ذلك… وقد يقول قائل… وكيف لا يثبت ذلك وهو ثابت في القرآن والسنة وكل مؤمن يشهد بذلك ومن شك في ذلك فهو كافر أصلاً؟
    والجواب: إنه إن أثبت ذلك طعن في عقيدة التصوف، وشكك في أعلامه ورجاله، بل وكفر قادته وأساطينه وبالتالي خرج عن التصوف، فشيخ الصوفية الأكبر هو ابن عربي الزنديق الذي زعم أن فرعون أعلم بالله من موسى، وأن من عبدوا العجل ما عبدوا إلا الله لأن العجل -في عقيدته الخبيثة- مظهر من مظاهر الإله!! تعالى الله عما يقولون علواً كبيراً، بل وعبدة الأصنام عنده ما عبدوا إلا الله لأن الله عنده هو كل هذه المظاهر المتفرقة فهو الشمس والقمر والإنس والجن، والملائكة والشياطين، بل والجنة والنار، والحيوان والنبات والجماد، فما عبد في الأرض إلا الله، وما إبليس عند ابن عربي إلا جزء من الإله تعالى عن ذلك علواً كبيراً، وقد جعل الصوفية هذه العقيدةاللعينة التي لم تشاهد الأرض أقبح منها ولا أفظع ولا أنتن ولا أفجر جعلوها سر الأسرار، وغاية الغايات، ومنتهى الإرادات، ودرجة الواصلين الكاملين، ومنتهى أمل العارفين، وهي عقيدة الزنادقة الملحدين من البراهمة والهنادك وفلاسفة اليونان الأقدمين،… ولا شك أن كل شر دخل التصوف بعد ذلك كان تحت ظلام هذه العقيدة اللعينة وهذا شيء لا يستطيع أي متصوف في الأرض اليوم يعلم ما هو التصوف أن ينكره بل ولا يستقبحه، وغاية ما يقول: هؤلاء لا يفهم علمهم إلا أصحاب الأذواق، وأهل العرفان. والحال أن هذا الكلام مشروح بلسان عربي واضح وقد كتبوه في مجلدات ضخمة وشرحوه نثراً وشعراً، وقصصاً، وأمثالاً، وربما اعتذر بعض المتصوفة عن هذا أنه من الشطح وغلبة الوجد، ولا شك أيضاً أن الشطح خبل وجنون وهم يقولون إن أحوالهم هذه أكمل الأحوال فكيف يكون الجنون والخبال كمالاً ثم كيف يكون شطحاً ما يكتب ويدون في عشرات المجلدات، ويدعى إليه على أنه غاية التصوف ونهاية الآمال…
    وربما قالوا بل هو مدسوس عليهم… وهذه أيضاً من جملة كذبهم وتدليسهم وأتحدى أي صوفي أن يذكر عبارة بعينها ويقول إنها مدسوسة أو عقيدة خاصة يعنيها ويقول إنها… قد دست على الكاتب الفلاني، كيف وهي كتب كاملة، وعقائد مصنفة منمقة، وقصائد مدبجة موزونة… أتحدى أي صوفي أن يقول هذه القصيدة مدسوسة، أو هذا القول المعين مدسوس. لأنه لو قال ذلك لأصبح التصوف كله مدسوساً مكذوباً وهذا حق. فهؤلاء زعماء التصوف كالحلاج البسطامي والجيلي، وابن سبعين، وابن عربي، والنابلسي والتيجاني وغيرهم مدسوسون على هذه الأمة، كاذبون على الله ورسوله، قائلون في دين الله بالباطل، كل منهم زعم أنه الله المتصرف في الكون، وكل منهم زعم أن الله قد وكله بجزء من هذا العالم، وكل منهم زعم أنه الولي الكامل الذي يأتيه الوحي صبحاً ومساءً بل المطلع على الغيب، القارئ في اللوح المحفوظ، الذي ختم الله به الأولياء، والذي جعله قبلة للعالمين ومعجزة ومناراً للخلق أجمعين، وأنه بعد النبي رأساً، والنبي عندهم هو المستولي والمستوي على عرش الله الرحماني، فليس على العرش غير ذات محمد، ومحمد عندهم هو أول الذوات وجوداً، وهو أول التعينات وهو الذي استوى على عرش الله، وهو الذي يوحي الوحي إلى كل الأنبياء وينزل الإلهام إلى كل الأولياء بل هو الذي أوحى لنفسه من نفسه فهو الذي سلم إلى جبريل الوحي في السماء، وتلقاه منه في الأرض… هل سمعتم يا مسلمون عقيدة تحمل كل هذه الوقاحة والخسة والنذالة والكفر والمروق… هذه هي عقيدة الصوفية، وهذا هو تراثها ودينها. ولقد شرحنا هذا بالتفصيل بحمد الله في كتابنا (الفكر الصوفي في ضوء الكتاب والسنة)، وذلك في طبعته الثانية ونقلنا النقول المستفيضة لكل ذلك من كتب هؤلاء الزنادقة، الذين ما فتئوا يخرجون على العالم أنهم أولياء الله وأحبابه وأنهم يملكون مفاتيح القلوب، ومنهاج التربية الأمثل لإخراج المسلمين من الظلمات إلى النور والحال أن هذه هي عقيدتهم وهذا هو منهجهم في إفساد دين المسلمين، وصرف الناس عن رسالة رب العالمين.
    4. الدعوة إلى الفسق والفجور والإباحية.
    ويخطئ من يظن أن الصوفية في أول أمرها كانت مؤسسة على التقوى فهذا ابن الجوزي رحمه الله يروي عنهم هذه الحكاية فيقول: وبإسناد عن أبي القاسم بن علي بن المحسن التنوخي عن أبيه. قال: "أخبرني جماعة من أهل العلم أن بشيراز رجل يعرف بإبن خفيف البغدادي شيخ الصوفية هنا يجتمعون إليه ويتكلم عن الخطرات والوساوس ويحضر حلقته ألوف من الناس وأنه فارهٌ فهمٌ حاذق. فاستغوى الضعفاء من الناس إلى هذا المذهب، قال: فمات رجل منهم من أصحابه وخلف زوجة صوفية فاجتمع النساء الصوفيات وهن خلق كثير ولم يختلط بمأتمهن غيرهن. فلما فرغوا من دفنه دخل ابن خفيف وخواص أصحابه وهم عدد كبير الى الدار. وأخذ يعزي المرأة بكلام الصوفية إلى أن قال: قد تعزيت… فقال لها: ههنا غير!! فقالت: لا غير. قال: فما معنى إلزام النفس آفات الهموم، وتعذيبها بعذاب الهموم، ولأي معنى نترك الإمتزاج لتلتقي الأنوار، وتصفو الأرواح ويقع الاختلافات وتنز البركات!! قال: فقلن النساء أن شئت. قال: فاختلط جماعة الرجال بجماعة النساء طول ليلتهم فلما كان سحر خرجوا. قال المحسن قوله (ههنا غير) أي هنا غير موافق المذهب. فقالت (لا غير) أي لا يوجد مخالف، وقوله: نترك الإمتزاج كناية عن الممازجة في الوطء. وقال لتلتقي الأنواء، عندهم أن في كل جسم نوراً إلهياً. وقوله الاختلافات أي يكون لكن خلف ممن مات أو غاب من أزواجكن. قال المحسن: وهذا عندي عظيم ولولا أن جماعة يخبروني يبعدون عن الكذب ما حكيته لعظمته عندي واستبعاد مثله أن يجري في دار الإسلام، قال: وبلغني أن هذا ومثله شاع حتى بلغ عضد الدولة فقبض على جماعة منهم وضربهم بالسياط وشرد جموعهم فكفوا" أهـ منه بلفظه (تلبيس إبليس ص370،371)
    وهكذا تتيقن أن هذه الطائفة لم تكن في كل عصورها إلا مجموعات من الزنادقة الملحدين المنحلين تظاهروا بظاهر الشريعة النظيف وأخفوا عن الأعين كفرهم وفسقهم وزندقتهم. ولذلك جزم ابن عقيل كما نقل عنه ابن الجوزي أنهم زنادقة ملحدون منحلون حيث يقول: فالله الله في الإصغاء إلى هؤلاء الفرَّع الخالين من الإثبات. وإنما هم زنادقة جمعوا بين مدارع العمال مرقعات وصوف، وبين أعمال الخلعاء الملحدة أكل وشرب ورقص وسماع وإهمال لأحكام الشرع. ولم تتجاسر الزنادقة أن ترفض الشريعة حتى جاءت المتصوفة فجاؤا بوضع أهل الخلاعة. أهـ (تلبيس إبليس ص374)
    وقد وردت هذه العبارة البليغة من ابن عقيل رحمه الله بعد وصف أحوال الصوفية في زمانه حيث يقول:
    ابن عقيل يصف فضائح الصوفية:
    وأنا أذم الصوفية لوجوه يوجب الشرع ذم فعلها منها: أنهم اتخذوا مناخ البطالة وهي الأربطة فانقطعوا إليها عن الجماعات في المساجد فلا هي مساجد ولا بيوت ولا خانات وصمدوا فيها للبطالة عن أعمال المعاش وبدنوا أنفسهم بدن البهائم للأكل والشرب والرقص والغناء، وعولوا على الترقيع المعتمد به التحسين تلميعاً والمشاوذ بألوان مخصوصة أوقع في نفوس العوام والنسوة من تلميع السقلاطون بألوان الحرير، واستمالوا النسوة والمردان (الأمرد الشاب الذي لم ينبت شعر وجهه) بتصنع الصور واللباس فما دخلوا بيتاً فيه نسوة فخرجوا إلا عن فساد قلوب النسوة على أزواجهن ثم يقبلون الطعام والنفقات من الظلمة والفجار وغاصبي الأموال كالعداد والأجناد وأرباب المكوس، ويستصحبون المردان في السماعات يجلبونهم في الجموع مع ضوء الشموع، ويخالطون النسوة الأجانب ينصبون لذلك حجة إلباسهن الخرقة، ويستحلون بل يوجبون اقتسام ثياب من طرب فسقط ثوبه، ويسمون الطرب وجداً، والدعوة وقتاً، واقتسام ثياب الناس حكماً، ولا يخرجون من بيت دعوا إليه إلا إلزام دعوة أخرى يقولون أنها وجبت واعتقاد ذلك كفر وفعله فسوق.
    ويعتقدون أن الغناء بالقضبان قربة وقد سمعنا عنهم أن الدعاء عند حدو الحادي وعند حضور المخذة مجاب اعتقاداً منهم أنه قربة وهذا كفر أيضا لأن من اعتقد المكروه والحرام قربة كان بهذا الاعتقاد كافراً والناس بين تحريمه وكراهيته. ويسلمون أنفسهم إلى شيوخهم فان عولوا إلى مرتبة شيخه قيل الشيخ لا يعترض عليه، فحد من حل رسن ذلك الشيخ وانحطاطه في سلك الأقوال المتضمنة للكفر والضلال المسمى شطحاً وفي الأفعال المعلومة كونها في الشريعة فسقاً. فإن قبل أمردا قيل رحمة، وإن خلا بأجنبية قيل بنته وقد لبست الخرقة، وإن قسم ثوباً على غير أربابه من غير رضا ماله قيل حكم الخرقة، قال ابن عقيل: وليس لنا شيخ نسلم إليه حاله إذ ليس لنا شيخ غير داخل في التكليف وأن المجانين والصبيان يضرب على أيديهم وكذلك البهائم، والضرب بدل من الخطاب، ولو كان لنا شيخ يسلم إليه حاله لكان ذلك الشيخ أبا بكر الصديق رضي الله عنه . وقد قال إن اعوججت فقوموني ولم يقل فسلموا إلي. ثم أنظر إلى الرسول صلوات الله عليه كيف اعترضوا عليه. فهذا عمر يقول: ما بالنا نقصر وقد أمنا. وآخر يقول: تنهانا عن الوصال وتواصل؟ وآخر يقول: أمرتنا بالفسخ ولم تفسخ! ثم إن الله تعالى تقول له الملائكة: (أتجعل فيها). ويقول موسى: (أتهلكنا بما فعل السفهاء منا)، وإنما هذه الكلمة (يعني: قول الصوفية: الشيخ لا يعترض عليه) جعلها الصوفية ترفيها لقلوب المتقدمين، وسلطنة سلوكها على الإتباع والمريدين كما قال تعالى: (فاستخف قومه فأطاعوه) ولعل هذه الكلمة من القائلين منهم بأن العبد إذا عرف لم يضره ما فعل. وهذه نهاية الزندقة لأن الفقهاء أجمعوا على أنه لا حالة ينتهي إليها العارف إلا ويضيق عليه التكليف كأحوال الأنبياء يضايقون في الصغائر. فالله الله في الإصغاء إلى هؤلاء الفراغ الخالين من الإثبات. وإنما هم زنادقة جمعوا بين مرقعات وصوف، وبين أعمال الخلعاء الملحدة أكل وشرب ورقص وسماع وإهمال لأحكام الشرع. ولم تتجاسر الزنادقة أن ترفض الشريعة حتى جاءت المتصوفة فجاؤا بوضع أهل الخلاعة. أهـ (تلبيس إبليس ص373-374)
    الصوفية واستحلال الحشيش:
    ثم يستطرد ابن العقيل رحمه الله واصفاً زندقتهم وكفرهم وكيف أنه فرقوا في زعمهم بين
    الشريعة والحقيقة واستحلوا الحشيش المخدر بل هم أول من اكتشفه وروجه في أوساط المسلمين، واستحلوا الغناء والاختلاط واستحلوا التظاهر بالكفر والزندقة زاعمين أنها أحوال وشطح وأنه يجب عدم الإنكار عليهم لأنهم مجاذيب أو مشاهدين لحضرة الرب -في زعمهم-
    يقول ابن العقيل: فأول ما وضعوا اسماء وقالوا حقيقة وشريعة. وهذا قبيح لان الشريعة ما وضعه الحق لمصالح الخلق. فما الحقيقة بعدها سوى ما وقع في النفوس من إلقاء الشياطين. وكل من رام الحقيقة في غير الشريعة فمغرور مخدوع. وإن سمعوا أحدا يروي حديثاً قالوا مساكين أخذوا حديثهم ميت عن ميت. وأخذنا علمنا عن الحي الذي لا يموت. فمن قال حدثني أبى عن جدي قلت: حدثني قلبي عن ربي، فهلكوا واهلكوا بهذه الخرافات قلوب الأغمار وأنفقت عليهم لأجلها الأموال. لأن الفقهاء كالأطباء والنفقة في ثمن الدواء صعبة والنفقة على هؤلاء كالنفقة على المغنيات. وبغضهم الفقهاء أكبر الزندقة لأن الفقهاء يحظرونهم بفتاويهم عن ضلالهم وفسقهم. والحق يثقل كما تثقل الزكاة. وما أخف البذل على المغنيات وإعطاء الشعراء على المدائح. وكذلك بغضهم لأصحاب الحديث وقد أبدلوا إزالة العقل بالخمر "بشيء سموه الحشيش والمعجون والغناء المحرم" سموه السماع والوجد والتعرض بالوجد المزيل للعقل كفى الله الشريعة شر هذه الطائفة الجامعة بين دهمثة (الليونة والسهولة يعني يلبسون فاخر الثياب ولينها) في اللبس وطيبة في العيش وخداع بألفاظ معسولة ليس تحتها سوى إهمال التكاليف وهجران الشرع ولذلك خفوا على القلوب ولا دلالة على أنهم أرباب باطل أوضح من محبة طباع الدنيا لهم كمحبتهم أرباب اللهو والمغنيات.
    ثم استطرد ابن عقيل قائلاً: فان قال قائل هم أهل نظافة وحسن سمت وأخلاق قال فقلت لهم لو لم يصنعوا طريقة يجتذبون بها قلوب أمثالهم لم يدم لهم عيش والذي وصفتهم به رهبانية النصرانية. ولو رأيت نظافة أهل التطفيل على الموائد ومخانيث بغداد ودماثة المغنيات لعلمت أن طريقتهم طريقة الفكاهة والخداع وهل يخدع الناس إلا بطريقة أو لسان فإذا لم يكن للقوم قدم في العلم ولا طريقة فبماذا يجتذبون به قلوب أرباب الأموال، وأعلم أن حمل التكاليف صعب ولا أسهل على أهل الخلاعة من مفارقة الجماعة ولا أصعب عليهم من حجر ومنع صدر عن أوامر الشرع ونواهيه وما على الشريعة أضر من المتكلمين والمتصوفين فهؤلاء يفسدون عقائد الناس بتوهيمات شبهات العقول وهؤلاء يفسدون الأعمال ويهدمون قوانين الأديان يحبون البطالات وسماع الأصوات وما كان السلف كذلك بل كانوا من باب العقائد عبيد تسليم وفي الباب الآخر أرباب جد. قال: ونصيحتي إلى إخواني أن لا يقرع أفكار قلوبهم كلام المتكلمين ولا تصغي مسامعهم إلى خرافات المتصوفين بل الشغل بالمعاش أولى من بطالة الصوفية والوقوف على الظواهر أحسن من توغل المنتحلة وقد خبرت طريقة الفريقين فغاية هؤلاء الشك وغاية هؤلاء الشطح. أهـ من بلفظه (تلبيس إبليس ص374،375).
    * ولقد استمر هذا الحال السيئ المزري الذي حكاه ابن عقيل ونقله عنه ابن الجوزي رحمه الله بل لقد كانت القرون التي تلت ذلك قرون ظلام وجهل حيث عاث المتصوفة في الأرض الإسلامية فساداً وملئوها فسقاً وفجوراً باسم الدين والإسلام ولم يكتفوا فقط بإفساد العقول والعقائد ولكنهم أفسدوا أيضاً الأخلاق والآداب.
    فهذا هو عبد الوهاب الشعراني يجمع في كتابه الطبقات الكبرى كل فسق الصوفية وخرافاتها وزندقتها فيجعل كل المجانين والمجاذيب واللوطية والشاذين جنسياً، والذين يأتون البهائم عياناً وجهاراً في الطرقات، يجعل كل أولئك أولياء وينظمهم في سلك العارفين وأرباب الكرامات وينسب إليهم الفضل والمقامات. ولا يستحي أن يبدأهم بأبي بكر الصديق ثم الخلفاء الراشدين ثم ينظم في سلك هؤلاء من كان (يأتي الحمارة) جهاراً نهاراً أمام الناس ومن كان لا يغتسل طيلة عمره، ومن كان يعيش طيلة عمره عرياناً من الثياب ويخطب الجمعة وهو عريان، ومن ومن… من كل مجنون وأفاك وكذاب ممن لم تشهد البشرية كلها أخس منهم طوية، ولا أشد منهم مسلكاً ولا أقبح منهم أخلاقاً، ولا أقذر منهم عملاً ينظم كل أولئك في سلك واحد مع أشرف الناس وأكرمهم من أمثال الخلفاء الراشدين والصحابة الأكرمين وآل بيت النبي الطاهرين فيخلط بذلك الطهر مع النجاسة والشرك بالتوحيد، والهدى بالضلال، والإيمان بالزندقة، ويلبس على الناس دينهم، ويشوه عقيدتهم.
    وأقرأ الآن بعض ما سطره هذا الأثيم عمن سماهم بالأولياء العارفين: قال في ترجمة من سماه بسيده علي وحيش:
    "وكان إذا رأى شيخ بلد، أو غيره ينزله من على الحمار ويقول: امسك رأسها حتى أفعل فيها. فإن أبى شيخ البلد تسمر في الأرض ولا يستطيع أن يمشي خطوة. وإن سمع حصل له خجل عظيم والناس يمرون عليه"!! (الطبقات الكبرى ج2ص135)
    فانظر كيف كان سيده علي وحيش يفعل هذا أمام الناس!! فهل يتصور عاقل بعد هذا أن هذا التصوف النجس من دين المسلمين ومما بعث به رسول رب العالمين، محمد صلى الله عليه وسلم الهادي الأمين. وهل ينظم أمثال علي وحيش ومن على شاكلته في سلك أصحاب الرسول ويجعل هؤلاء جميعا أصحاب صراط واحد إلا زنديق أفاك أراد هدم دين الإسلام وتخريب عقائد المسلمين.
    وحتى لا تستفيق العقول من رقادها، فإن الشعراني هذا زعم لهم أن الأولياء لهم شريعتهم الخاصة التي يعبدون الله بها ويتقربون إلى الله بها وإن كان منها إتيان الحمير!! وكلما حاولت نفس أن تستيقظ، وتفكر لتفرق بين الهدى والضلال، والطهر والنجاسة، ألقى هؤلاء عليها التلبيس والتزوير. وهذا هو الشعراني يذكر أن رجلاً أنكر الفسق والفجور الذي يكون في مولد (السيد) البدوي حيث وما زال يجتمع الناس بمئات الآلاف في مدينة طنطا ويكون هناك الاختلاط المشين بين الرجال والنساء بل تصنع الفاحشة في المساجد والطرقات، وحيث كانت تفتح دور البغاء وحيث يمارس الصوفيون والصوفيات الرقص الجماعي في قلب المسجد وحيث يستحل كل الحرمات أقول يروي الشعراني في كتابه الطبقات أن رجلاً أنكر ذلك فسلبه الله الإيمان!! -أنظر- ثم يقول: (فلم يكن شعرة فيه تحن الى دين الإسلام فاستغاث بسيدي أحمد رضي الله عنه . فقال: بشرط إن لا تعود فقال: نعم فرد عليه ثوب إيمانه. ثم قال له: وماذا تنكر علينا؟ قال: اختلاط الرجال بالنساء. فقال له سيدي أحمد رضي الله عنه : ذلك واقع في الطواف ولم يمنع حرمته ثم قال: وعزة ربي ما عصى أحد في مولدي إلا وتاب.. وحسنت توبته وإذا كنت أرعى الوحوش والسمك في البحار واحميهم بعضهم بعضا. أفيعجزني الله عز وجل من حماية من حضر مولدي!!) (الطبقات الكبرى ج1 ص162)
    ولا عجب أن يروي الشعراني كل ما يروي في كتابه من الزندقة والكفر والجهالة والضلالة فهذا هو يفتري عن نفسه أن السيد البدوي الذي هلك قبله بنحو من أربعة قرون كان يخرج له من يده من القبر ليسلم عليه، وأنه أعد له زاوية من زوايا مسجده غرفة ليدخل فيها على زوجته!! وأنه كان إذا تأخر عن مولد السيد البدوي كان البدوي هذا يخرج من قبره ويزيح الستر الموضوع فوق القبر ويقول أبطأ عبد الوهاب ما جاء!! وهذه نصوص عبارته في ذلك، يقول: "إن سبب حضوري مولد أحمد البدوي كل سنة أن شيخي العارف بالله تعالى محمد الشناوي رضي الله عنه أحد أعيان بيته رحمه الله قد كان أخذ علي العهد في القبة تجاه وجه سيدي أحمد رضي الله عنه ، وسلمني إليه بيده، فخرجت اليد الشريفة من الضريح، وقبضت على يدي وقال يا سيدي يكون خاطرك عليه، واجعله تحت نظرك!!
    فسمعت سيدي أحمد من القبر يقول: نعم، ثم يسترسل عبد الوهاب الشعراني قائلا: لما دخلت بزوجتي أم عبد الرحمن وهي بكر مكثت خمسة شهور لم أقرب منها، فجاءني وأخذني وهي معي وفرش لي فراشا فوق ركن القبة التي على اليسار الداخل وطبخ لي الحلوى، ودعا الأحياء والأموات إليه وقال: أزل بكارتها هنا، فكان الأمر تلك الليلة.
    ثم يقول: وتخلفت عن ميعاد حضوري للمولد سنة 948 ثمان وأربعين وتسعمائة وكان هناك بعض الأولياء فأخبرني أن سيدي أحمد رضي الله عنه كان ذلك اليوم يكشف الستر من الضريح ويقول: أبطأ عبد الوهاب ما جاء" (الطبقات الكبرى ج1 ص161،162)
    وبعد،
    فهذه هي النماذج السيئة التي يراد لأبناء المسلمين أن يحتذوها وهذا هو الوجه الحقيقي للتصوف، وهذه هي صور من رموزه ورجالاته، ولو ذهبنا نعدد هذه الصور لخرجنا عن القصد في هذه الرسالة الموجزة وقد بسطنا هذا بحمد الله وتوفيقه في كتابنا الفكر الصوفي في ضوء الكتاب والسنة فليرجع إليه. وهذا وبالله التوفيق وعليه التكلان وهو المستعان سبحانه أن يطهر مجتمع الإسلام من هذا السرطان الخبيث الذي أفسد عقائد المسلمين وأعمالهم ومجتمعهم. والصلاة والسلام في الختام على النبي الكامل الطاهر الداعي الى صراط الله العزيز الحميد.

    الباب الثاني: كيف تجادل صوفيا؟
    بعد إن ذكرنا في الباب السابق مخاطر الفكر الصوفي كان لزاماً على كل من علم ذلك أن يعمل لإجتثاث هذه الشجرة الخبيثة من المجتمع الإسلامي ولن يأتي ذلك إلا بالدعوة الحقة الى الله عز وجل ، وفضح هذا التصوف البغيض المتستر بالهدى والطهر والمضمر لكل أنواع الكفر والزندقة. ولذلك فإنه يجب على كل من علم الحق أن يعمل على نشره وإذاعته، وكذلك يجب على كل من علم هذا الشر أن يعمل على إجتثاث شجرته.
    * ولما كان جمهور عظيم من طلاب العلم لا يعلمون حقيقة التصوف، ولا يحيطون علماً بكفرياته وأكاذيبه وترهاته وخزعبلاته فإنهم عند مناقشتهم للصوفيين لا يحسنون الرد عليهم، ولا إقناعهم بالحق، ولا إقامة الحجة عليهم لأن الصوفي إذا رأى من يعظم الكتاب والسنة والدليل سرعان ما يقول له: إن الجنيد -وهو شيخ الطائفة- قال: طريقتنا هذه مقيدة بالكتاب والسنة!! ومن لم يتفقه في الكتاب والسنة لم يعرف طريق القوم،وفلان قال، وفلان قال أيضاً: تمكث النكتة في قلبي من نكت القوم فلا أذيعها إلا إذا وجدت لها شاهدين من الكتاب والسنة.
    فيظن طالب العلم الذي لا يعرف دروب التصوف أن هؤلاء من الحذق في الدين، والورع والإخلاص حيث لا يتكلمون بأمر إلا إذا وافق الكتاب والسنة، وأنهم متبعون لهما في أقوالهما وأفعالهما.. فيسقط في يده ولا يستطيع أن يجد جواباً وقد يقول إذن ما بال هؤلاء الذين يرقصون في موالدهم وحفلاتهم، وما بال هؤلاء المجاذيب الذين نشاهدهم يفعلون كذا وكذا من الحركات والصرخات، فيقول له الصوفي المجادل: لا.. هؤلاء عوام مغفلون وليسوا من الصوفية الحقيقية، والصوفية غير ذلك!! وهذا كذب بالطبع ولكن مثل هذا الجواب قد ينطلي على طالب العلم فيسكت وبالتالي يظل التصوف يعمل عمله في جسم الأمة ولا يتفطن له.
    * ولما كان كثير من طلاب العلم لا يجدون الوقت للنظر في كتب التصوف ومعرفة ما فيها وقد يكون إذا نظر في بعضها خفي عليه الحق من الباطل وذلك للتلبيس والخلط الذي يكون فيهما حيث يرى قولاً صحيحاً بجوار قول مريض، وقول يتضمن كفراً بعبارة غامضة، وقولاً رابعاً قد تلوح منه حكمة فتغبش، وتعمى أمامه الرؤيا ولا يعرف في أي الدروب يسير!!
    * من أجل ذلك نكتب هذه الخلاصة الموجزة للتعريف بالقضايا الكلية الأساسية في التصوف ولكيفية المجادلة مع أساطين التصوف ولو كان من يجادلهم أو يناقشهم طالب علم مبتدئ فإنه يحجه ويسكته وقد يرشده إلى الطريق المستقيم. وإليك هذه القواعد:
    التصوف بحر من القاذورات
    اعلم أولاً أن التصوف بحر من القاذورات فقد جمع المتصوفة كل أنواع الكفر والزندقة التي توجد في فلسفات الهند وإيران واليونان، وكل مكر القرامطة والفرق الباطنية، وكل خرافات المخرفين، وكل دجل المدجلين وكل وحي الشياطين ووضعوا كل ذلك في إطار التصوف وعلومه ومبادئه وكشوفه. فلا يتصور عقلك عقيدة كفرية في الأرض إلا تجدها في التصوف بدءاً بنسبة الألوهية الى المخلوقات وانتهاء بجعل كل موجود هو عين الله تعالى الله عما يقولون علواً كبيراً.
    وحتى تتضح صورة التصوف في ذهنك نضع أمامك، أخي المسلم، خلاصة موجزة جداً لمعتقدهم والفوارق الأساسية بين دينهم الصوفي وبين دين الإسلام.
    أولاً: الفارق الأساسي بين الإسلام والتصوف:
    يفترق منهج الإسلام وصراطه عن منهج التصوف في شيء أساسي جداً وهو (التلقي) أي مصادر المعرفة الدينية في العقائد والتشريع. فبينما يحصر الإسلام مصدر التلقي في العقائد في وحي الأنبياء والرسل فقط والذي هو لنا الكتاب والسنة فقط فإن الدين الصوفي يجعل مصدره هو الوحي المزعوم للأولياء والكشف المزعوم لهم، والمنامات واللقاء بالأموات السابقين وبالخضر عليه السلام، وبل وبالنظر في اللوح المحفوظ، والأخذ عن الجن الذين يسمونهم بالروحانيين.
    وأما مصدر التلقي في التشريع عند أهل الإسلام فهو الكتاب والسنة والإجماع والقياس. وأما عند المتصوفة فان تشريعاتهم تقوم على المنامات والخضر والجن والأموات والشيوخ كل هؤلاء مشرعون، ولذلك تعددت طرق التصوف وتشريعاته بل قالوا: الطرق الى الله بعدد أنفاس الخلائق فلكل شيخ طريقة ومنهج للتربية وذكر مخصوص وشعائر مخصوصة وعبارات مخصوصة ولذلك فالتصوف آلاف الأديان والعقائد والشرائع بل مئات الآلاف وما لا يحصى وكلها تحت مسمى التصوف وهذا هو الفارق الأساسي بين الإسلام والتصوف فالإسلام دين محدد العقائد، محدد العبارات، محدد الشرائع والتصوف دين لا حدود ولا تعاريف له في عقائد أو شرائع. وهذا هو أعظم فارق بين الإسلام والتصوف.
    ثانياً: الخطوط العريضة للعقيدة الصوفية:
    1) في الله:
    يعتقد المتصوفة في الله عقائد شتى منها الحلول كما هو مذهب الحلاج ومنها وحدة الوجود حيث لا انفصال بين الخالق والمخلوق وهذه هي العقيدة الأخيرة التي انتشرت منذ القرن الثالث والى يومنا هذا أطبق عليها أخيراً كل رجال التصوف وأعلام هذه العقيدة هم ابن عربي وابن سبعين، والتلمساني وعبد الكريم الجيلي، وعبد الغني النابلسي وعامة رجال الطرق الصوفية المحدثين.
    2) في الرسول صلى الله عليه وسلم :
    يعتقد الصوفية في الرسول أيضاً عقائد شتى فمنهم من يزعم أن الرسول صلى الله عليه وسلم لم يصل الى مرتبتهم وحالهم، وأنه جاهلاً بعلوم رجال التصوف كما قال البسطامي: خضنا بحراً وقف الأنبياء بساحله ومنهم من يعتقد أن الرسول محمد هو قبة الكون وهو الله المستوي على العرش وأن السموات والأرض والعرش والكرسي وكل الكائنات خلقت من نوره وأنه أول موجود وهو المستوي على عرش الله وهذه عقيدة ابن عربي ومن جاء بعده.
    3) في الأولياء:
    يعتقد الصوفية في الأولياء أيضاً عقائد شتى فمنهم من يفضل الولي على النبي وعامتهم يجعل الولي مساوياً لله في كل صفاته فهو يخلق ويرزق ويحي ويميت ويتصرف في الكون ولهم تقسيمات للولاية فهناك الغوث المتحكم في كل شيء في العالم والأقطاب والأربعة الذين يمسكون الأركان الأربعة في العالم بأمر الغوث، والأبدال السبعة الذين يتحكم كل واحد منهم في قارة من القارات السبع بأمر والغوث ومنهم النجباء وهم المتحكمون في المدن كل نجيب في مدينة!! وهكذا فشبكة الأولياء العالمية هذه تتحكم في الخلق ولهم ديوان يجتمعون في غار حراء كل ليلة ينظرون في المقادير، وباختصار عالم الأولياء عالم خرافي كامل.
    وهذا بالطبع خلاف الولاية في الإسلام التي تقوم على الدين والتقوى وعمل الصالحات والعبودية الكاملة لله والفقر إليه وان الولي لا يملك من أمر نفسه شيئاً فضلاً أنه يملك لغيره، قال تعالى لرسوله صلى الله عليه وسلم (قل إني لا أملك لكم ضراً ولا رشداً).
    4) في الجنة والنار:
    وأما الجنة فإن الصوفية جميعاً يعتقدون أن طلبها منقصة عظيمة وأنه لا يجوز للولي أن يسعى إليها ولا أن يطلبها ومن طلبها فهو ناقص، وإنما الطلب عندهم والرغبة في الفناء المزعوم في الله، والإطلاع على الغيب والتصرف في الكون.. هذه جنة الصوفي المزعومة.
    وأما النار فإن الصوفية يعتقدون أيضاً أن الفرار منها لا يليق بالصوفي الكامل لأن الخوف منها طبع العبيد وليس الأحرار ومنهم من تبجح أنه لو بصق على النار لأطفأها كما قال أبو يزيد البسطامي ومن يعتقد بوحدة الوجود منهم يعتقد أن النار بالنسبة لمن يدخلها تكون عذوبة ونعيماً لا يقل عن نعيم الجنة بل يزيد وهذا هو مذهب ابن عربي وعقيدته.
    5) إبليس وفرعون:
    وأما إبليس فيعتقد عامة الصوفية انه أكمل العباد وأفضل الخلق توحيداً لأنه لم يسجد إلا لله بزعمهم وأن الله قد غفر له ذنوبه وأدخله الجنة، وكذلك فرعون عندهم أفضل الموحدين لأنه قال (أنا ربكم الأعلى) فعرف الحقيقة لأن كل موجود هو الله، ثم هو قد آمن في زعمهم ودخل الجنة.
    الشريعة الصوفية:
    6) العبادات:
    يعتقد الصوفية أن الصلاة والصوم والحج والزكاة هي عبادات العوام وأما هم فيسمون أنفسهم الخاصة، أو خاصة الخاصة ولذلك فلهم عبادات مخصوصة.
    وقد شرع كل قوم منهم شرائع خاصة بهم كالذكر المخصوص بهيئات مخصوصة، والخلوة والأطعمة المخصوصة، والملابس المخصوصة والحفلات.
    وإذا كانت العبادات في الإسلام لتزكية النفس وتطهير المجتمع فان العبادات في التصوف هدفها ربط القلب بالله للتلقي عنه مباشرة، والفناء فيه واستمداد الغيب من الرسول والتخلق بأخلاق الله حتى يقول الصوفي للشيء كن فيكون ويطلع على أسرار الخلق، وينظر في كل الملكوت.
    ولا يهم في التصوف أن يخالف الشريعة الصوفية ظاهر الشريعة المحمدية الإسلامية فالحشيش والخمر واختلاط النساء بالرجال في الموالد وحلقات الذكر ذلك لا يهم لأن للولي شريعته التي تلقاها من الله مباشرة فلا يهم أن يوافق ما شرعه الرسول محمد صلى الله عليه وسلم لأن لكل واحد شريعته، وشريعة محمد صلى الله عليه وسلم للعوام وشريعة الشيخ الصوفي للخواص.
    7) الحلال والحرام:
    وكذلك الشأن في الحلال والحرام فأهل وحدة الوجود في الصوفية لا شيء يحرم عندها لأن عين واحدة.. ولذلك كان منهم الزنادقة واللوطية، ومن يأتون الحمير جهاراً نهاراً. ومنهم من اعتقد أن الله قد اسقط عنه التكاليف وأحل له كل ما حرم على غيره.
    8) الحكم والسلطان والسياسة:
    وأما في الحكم والسلطان والسياسة فان المنهج الصوفي هو عدم جواز مقاومة الشر ومغالبة السلاطين لأن الله في زعمهم أقام العباد فيما أراد.
    9) التربيـــــة:
    ولعل أخطر ما في الشريعة الصوفية هو منهجهم في التربية حيث يستحوذون على عقول الناس، ويلغونها وذلك بإدخالهم في طريق متدرج يبدأ بالتأنيس، ثم بالتهويل والتعظيم لشأن التصوف ورجاله ثم بالتلبيس على الشخص ثم بالرزق لعلوم التصوف شيئا فشيئا ثم بالربط بالطريقة وسد جميع الطرق بعد ذلك للخروج.
    ثالثاً: نقطة البدء في جدال الصوفي:
    كثير من الأخوة المسلمين الغيورين على الدين والكارهين للتصوف وترهاته يبدءون في جدال الصوفي بداية خاطئة وذلك في الأمور الهامشية الفرعية كبدعهم في الأذكار، وتسميتهم بالصوفية، وإقامتهم للحفلات والموالد، أو حملهم للمسابح، أو لبسهم للمرقعات أو نحو ذلك من المظاهر الشاذة التي يظهرون بها، والبدء بالنقاش حول هذه الأمور بداية خاطئة تماماً وبالرغم من أن هذه الأمور جميعها هي بدع تخالف الشريعة، ومفتريات في الدين إلا أنها تخفي ما هو أمر وأعظم، أعني أن هذه فرعيات لا يجوز البدء بنقاشها وترك الأصوليات، حقاً أنها جرائم ومخالفات ولكنها قليلة جداً إذا قيست بالعظائم والمفتريات والكفريات الشنيعة، والأهداف الخسيسة التي سار فيها الفكر الصوفي، ولذلك يجب على من يجادل الصوفي أن يبدأ بالأصول والأمهات لا بالفرعيات والشكليات.
    ولعلك بقراءتك أصل الخلاف الجوهري بين الإسلام والتصوف قد عرفت ما ينبغي عليك أن تبدأ به في النقاش إنه منهج التلقي واثبات الدين. أعني ما يتضمنه الإجابة على هذا السؤال: كيف نتلقى الدين؟ وتثبت العقيدة والعبادة، وما هي مصادرنا لهذا التلقي؟ الإسلام يحصر مصدر التلقي في الكتاب والسنة فقط ولا يجوز إثبات عقيدة إلا بنص من القرآن وقول الرسول ولا إثبات شريعة إلا بكتاب وسنة واجتهاد موافق لهما والاجتهاد يصيب ويخطئ ولا معصوم إلا كتاب الله وسنة رسوله فقط، وأما في التصوف فإن الدين عندهم بزعم شيوخهم أنه يتلقونه عن الله رأساً، وبلا واسطة، وعن الرسول الذي يزعمون أنه يحضر مجالسهم دائماً، وأماكن ذكرهم وعن الملائكة، وعن الجن الذين يسمونهم بالروحانيين وبالكشف الذي يزعمون أن قلب الولي ينكشف له الغيوب فيرى ما في السموات والأرض. وما سبق وما يأتي من الحوادث فالولي عندهم لا يعزب عن علمه ذرة في السموات ولا في الأرض.
    ولذلك فليكن أول ما تسأل الصوفي عنه: كيف تثبتون الدين؟ ومن أين تتلقون عقيدتكم؟ فإذا قال لك الصوفي: من الكتاب والسنة. فقل له: الكتاب والسنة يشهدان أن إبليس كافر وأنه وأتباعه في النار كما قال تعالى: (وقال الشيطان لما قضي الأمر إن الله وعدكم وعد الحق ووعدتكم فأخلفتكم وما كان لي عليكم من سلطان إلا دعوتكم فاستجبتم لي فلا تلوموني ولوموا أنفسكم ما أنا بمصرخكم وما أنتم بمصرخي إني كفرت بما أشركتمون من قبل ان الظالمين لهم عذاب اليم).
    والشيطان هنا هو إبليس بإجماع المفسرين من السلف، ومعنى (وما أنتم بمصرخي) ما أنتم بمستطيعين تخليصي وانجائي. ومعنى ذلك أنه معهم في النار. فهل تعتقدون أنتم أيها الصوفية ذلك؟
    فإن قال لك الصوفي نعم نعتقد أن إبليس وأتباعه في النار. فقد كذب عليك، وإن قال لك لا نعتقد أنه في النار ونعتقد أنه تائب مما كان منه، أو أنه موحد مؤمن كما قال أستاذهم الحلاج. فقل له قد كفرتم لأنكم خالفتكم كتاب الله وأحاديث الرسول وإجماع الأمة أن إبليس كافر من أهل النار. وقل له: قد حكم شيخكم الأكبر وابن عربي أن إبليس في الجنة وفرعون في الجنة (كما في الفصوص) وقد حكم أستاذكم الأعظم الحلاج أن إبليس هو قدوته وشيخه هو فرعون كما جاء في الطواسين (ص52) فما قولك في ذلك؟ فإن أنكره فهو مكابر جاحد. أو جاهل لا يدري. وإن أقر بذلك وتابع الحلاج وابن عربي فقد كفر كما كفروا وكان من إخوان إبليس وفرعون فحسبه بذلك صحبة في النار. وإن أراد التلبيس عليك وقال: إن كلامهم هذا شطح قالوه في غلبة حال وسكر، فقل له: كذبت فهذا الكلام في كتب مؤلفة وقد صدر ابن عربي كتابه الفصوص بقوله: (إني رأيت رسول الله في مبشرة (رؤيا) في محروسة دمشق وأعطاني هذا الكتاب وقال لي أخرج به على الناس).
    وهذا الكتاب هو الذي ذكر فيه أن إبليس وفرعون هم من العارفين الناجين، وأن فرعون كان أعلم من موسى بالله. وأن كل من عبد شيئاً فما عبد إلا الله، والحلاج كذلك كتب كل كفرياته في كتاب ولم يكن شطحاً أو غلبة حال كما يقولون، فإن قال لك الصوفي: لقد تكلم هؤلاء بلغة لا نعلمها فقل له: لقد كتبوا كلامهم بالعربية وشرحه تلاميذهم وقد نصوا على ذلك. فإن قال: إن هذه لغة خاصة بأهل التصوف لا يعرفها غيرهم، فقل له: إن لغتهم هذه هي العربية وهم قد نشروها في الناس ولم يجعلوها خاصة بهم وقد حكم علماء المسلمين على الحلاج بكفره وصلب على جسر بغداد عام 309 بسبب مقالاته وكذلك حكم علماء المسلمين بكفر ابن عربي وزندقته، فإن قال لك الصوفي: لا أعترف بحكم علماء الشريعة لأنهم علماء ظاهر لا يعرفون الحقيقة. فقل له: هذا الظاهر هو الكتاب والسنة وكل حقيقة تخالف هذا الظاهر فهي باطلة وما الحقيقة الصوفية التي تدعونها؟ فإن قال لك هي شيء من الأسرار لا ننشره ولا نذيعه. فقل: فقد نشرتموه وأذعتموه وهو أن كل موجود في زعمكم هو الله وأن الجنة والنار شيء واحد وأن إبليس ومحمد شيء واحد وأن الله هو المخلوق والمخلوق هو الله كما قال إمامكم وشيخكم الأكبر:
    العبد رب ورب عبـد يا ليت شعري من المكلف؟
    إن قلت عبد فذاك رب وإن قلـت رب أن يكلـف؟
    فإن أقر بذلك وتابع هؤلاء الزنادقة فهو كافر مثلهم وإن قال: لا أدري ما هذا الكلام ولا أعلمه ولكني أعتقد إيمان قائليه ونزاهتهم وولايتهم. فقل له: إن هذا كلام عربي واضح لا غموض فيه. وهو ينبئ عن عقيدة معروفة هي وحدة الوجود وهي عقيدة الهنادك والزنادقة نقلتموها إلى الإسلام وألبستموها بالآيات القرآنية والأحاديث النبوية.
    فإن قال لك: لا تتعرض للأولياء حتى لا يؤذوك فان الرسول يقول: قال الله تعالى (من عادى لي ولياً فقد اذنته بالمحاربة) قلت له: ليسوا هؤلاء بأولياء وإنما هم زنادقة مستترين بالإسلام. وانا كافر بكم وبآلهتكم فكيدوني جميعاً ثم لا تنظرون إني توكلت على الله ربي وربكم ما من دابة إلا هو آخذ بناصيتها إن ربي على صراط مستقيم.
    فإن قال لك: يجب علينا أن نسلم للصوفية حالهم. فإنهم عاينوا الحقائق وعرفوا باطن الدين!! فقل له: كذبت، لا يجوز أن نسكت لأحد عن قول يخالف فيه الكتاب والسنة. وينشر الكفر والزندقة بين المسلمين لأن الله يقول (إن الذين يكتمون ما أنزلنا من البينات والهدى من بعد ما بيناه للناس في الكتاب أولئك يلعنهم الله ويلعنهم اللاعنون إلا الذين تابوا وأصلحوا وبينوا فاولئك أتوب عليهم وأنا التواب الرحيم) فلذلك لا يجوز السكوت على باطلكم وترهاتكم وزندقتكم لأنكم أفسدتم العالم الإسلامي قديماً وحديثاً وما زال هذا شأنكم إلى اليوم تخرجون الناس من عبادة الله الى عبادة المشايخ ومن التوحيد الى الشرك وعبادة القبور ومن السنة الى البدعة. ومن العلم بالكتاب والسنة الى تلقي البدع والخرافات ممن يدعون رؤية الله والملائكة والرسول والجنة. لقد كنتم طيلة عمركم عوناً للفرق الباطنية، وخدماً للاستعمار ولذلك فلا يجوز بتاتاً السكوت عن ضلالكم وشرككم، وصرفكم للناس عن القرآن الكريم والحديث إلى أذكاركم المبتدعة وعبادتكم التي لا يعدو كونها مكاءً وتصدية كعبادة المشركين.
    فعند ذلك لا بد وأن يسقط في يده، ويعلم أنه أمام من أحاط علماً بباطله فإما أن يهديه الله للإسلام الصحيح وأما أن يخفي أمره ويستر عقيدته حتى يفضحه الله أو يموت على زندقته وكفره أو بدعته ومخالفته للحق. هذا وقد فصلنا كل ذلك تفصيلاً من كتبهم وأقوالهم فارجع إلى كتاب الفكر الصوفي في ضوء الكتاب والسنة تجد ذلك مفصلاً بحمد الله وتوفيقه والحمد لله أولاً وأخيراً والعزة لكتاب الله وسنة رسوله، ومن اتبعهما وتمسك بصراط الله المستقيم وكان من المؤمنين والحمد لله رب العالمين
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  16. الطائر

    الطائر رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 27, 2012
    پیغامات:
    273
    برادرانِ نہایت عزیز ع محترم جناب رحیق و رفیق طاہر صاحبان
    السلام و علیکم

    اہلِ تصوف کی کارستانیاں میں کافی عرصہ قبل پی ڈی ایف میں کہیں پڑھ چکا ہوں اور اس مضمون سے کافی استفادہ ہوا۔ لیکن یہ مضمون یونیکوڈ میں ایک منفرد فائدہ رکھتا ہے۔ اس کی پیشکش کے لئے میں آپ کا بے حد شکر گزار ہوں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کی محنت و سعی کو قبول فرمائے اور حسنات سے نوازے آمین۔

    برادرم عزیز رفیق طاہر صاحب کا احسان بھی واجب شکر گزاری ہے کہ انھوں نے مضمون کے مصنف مولانا عبدالرحمٰن عبدالخالق صاحب کی تفصیلات اور ان کے عربی مضمون کا متن فراہم کر کے حوالہ کو مکمل کیا۔ جو میرے علم میں مزید اضافے کا باعث بنا۔

    بارِ مکرر، میں دونوں عزیزان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے دعا گو رہوں گا اور اس افادہ جاریہ کو آگے پھیلاؤں گا۔ انشاءاللہ
    والسلام و علیکم
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں