اذیت ناک سفر

m aslam oad نے 'ادبی مجلس' میں ‏جنوری 17, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. m aslam oad

    m aslam oad نوآموز.

    شمولیت:
    ‏نومبر 14, 2008
    پیغامات:
    2,443
    آج کل کے جدید اور ترقی یافتہ دور میں بھی ہم پاکستانیوں کے سفر سیکڑوں سال پرانے گھوڑے ، خچر، اونٹ پر سفر کرنے والوں کی مانند ہے اُس دور میں اگر دور دراز کا سفر کیا جاتا تو سفر کرنے والا صیحح اندازہ نہ کرپاتا کہ میں کس وقت کس لمحے کتنے دن میں اپنی مطلوبہ جگہ پر پہنچ پاؤنگا کیونکہ سفر کے دوران موسم کی سختی سے سواری کا سست پڑ جانا راستے میں پانی نہ ہونے کی وجہ سے جانور کا نڈحال ہو جانا۔ اور بارش کی وجوہات وغیرہ-یہ سب قدرتی آفات ہوتی تھی جس پر ایک مسلمان اللہ کی طرف سے نازل کردہ آزمائیش سمجھ کر صبر کرتا اور اپنا سفر جاری رکھتا
    مگر آج کے ترقی یافتہ دور میں اللہ کے عطا کردہ ذہن اور اسکی زمین میں چھپے خزانوں سے انسان نے اپنے لئے اللہ کی رحمت سےاس آزمائش کو کافی حد تک کم کیا
    یہ تو دنیا کے حوالے سے میں نے ایک سرسری بات کی ہےاب ہم نظر ڈالتے ہیں اپنےوطن عزیز پاکستان میں سفر پر ،،آج کل دنیا میں سواری کے تین بڑے زریعے ہیں
    ہوائی جہاز
    ٹرین
    بس وغیرہ
    ہوائی جہاز کا سفر تو میں نے کیا نہیں یہ تو آپ پی آئی اے سے سفر کرنے والوں سے پوچھ سکتے ہو‎
    ‏۰
    والسلام....علی اوڈراجپوت
    ali oadrajput
     
  2. m aslam oad

    m aslam oad نوآموز.

    شمولیت:
    ‏نومبر 14, 2008
    پیغامات:
    2,443
    جناب عالی اب ہمارے سفر کی داستاں شروع ہوا چاہتی ہے
    اس بقرا عید کے کچھ دن بعد میرا پنجاب بھر کا سفر شروع ہوا جسمیں میں نے
    کراچی سے رحیمیارخان
    رحیم یار خان سے خان پور
    پھر واپس رحیم یار خان
    رحیم یار خان سے ملتان
    ملتان سے کوٹ ادّو
    کوٹ ادو سے عبدالحکیم
    عبدالحکیم سےچیچہ وطنی
    چیچہ وطنی سے لاہور
    لاہور سے واپس کراچی

     
  3. m aslam oad

    m aslam oad نوآموز.

    شمولیت:
    ‏نومبر 14, 2008
    پیغامات:
    2,443
    مجھے بچپن ہی سے ٹرین کے سفر کا شوق ہےاور اسی شوق کے ہاتھوں مجبور جب میں کراچی سے پنجاب کے سفر کے لئے نکلا تو وہ جمعہ کا مبارک دن اور تاریخ بھی دل چسپ تھی
    11-11-11
    دن ،مہینہ ۔ سال، کا ہندسہ بھی ایک اور سفر میں میں بھی اکیلا ایک
    گھر سے نکلتے ہوئے میرے ذہن میں یہ ہی خیال تھا کہ ریلوے اسٹیشن ویران پڑا ہوگا ریلوے کی خراب کارکردگی کی وجہ سے لوگوں نے ٹرین کا سفر کم کردیا ہوگا جیسا کہ میڈیا پر آئے دن ریلوے کے بارے میں خبریں سننے،پڑھنے کو ملا کرتی تھی ۔۔۔اسی خیال کے پیش نظر اسٹیشن پر جاتے ہی مجھے سیٹ اور برتھ کے حصول میں کوئی دشواری نہ ہو گی
    مگر جب میں ریلوے اسٹیشن گیا تو مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا اسٹیشن کا منظر دیکھ کر کیوں کہ یہاں پر ویرانی کی بجائے آدم ذات کا ایک جم غفیر تھا یہاں پر تو مجھ سے بھی بڑھ کر ٹرین کے سفر کے شیدائی موجود تھے ہر طرف سر ہی سر پلیٹ فارم پر تل دھرنے کو جگہ موجود نہیں تھی۔۔اسٹیشن پر سیٹ کا حصول تو دور کی بات صرف ایک ٹکٹ بڑی مشکل سے ملی دھکے کھا کھا کر
    شام کوٹرین اپنے مقررہ وقت 5:30 پر روانہ ہوئی میں بڑا خوش تھا ٹرین اپنے وقت پر روانہ ہوئی،، تو جناب جب میں رحیم یارخان پہنچا تو میری خوشی اور حیرت کی انتہا نہ تھی مجھے مقررہ وقت صبح 4:بجے پہنچادیا
    میرے تمام خدشات اوروسوسےدور ہو گئے جو میڈیا نے میرے ذہن میں بھر رکھے تھے ریلوے والوں کی عزت اور اہمیت میرے دل میں زیادہ ہو گئی
     
  4. m aslam oad

    m aslam oad نوآموز.

    شمولیت:
    ‏نومبر 14, 2008
    پیغامات:
    2,443
    تیل اور تیل کی دھار
    ،


    جب میں نے رحیم یار خان سے ملتان کا سفر کیا زکریہ ایکسپریس سے تو جیسے جیسے سفر اور وقت بیت رہا تھا ویسے ہی میڈیا کی سنی اور پڑھی ہوئی باتیں ایک ایک کرکے سچ ہو رہی تھی اور اور ریلوے والوں کا جو احترام دل میں جگہ بنا پایا تھا اسکی جگہ غصہ اور بدعا نے لے لی
    رحیم یار خان سے خانپور کا سفر محض 35سے 40 منٹ کا تھا جو کہ 1:15 گھنٹے میں طے کیا ملتان اسکا پہنچنے کا وقت دن 12 بجے کا تھا مگر یہ شام کو 5 بجے پہنچی ٹرین چلنے کی رفتاراتنی تھی کہ قریب میں چلتےہوئے موٹر سائیکل ٹرین کو کراس کر رہے تھے
    آج کل صرف ٹرین ہی نہیں بس والے بھی بے حس ہو چکے ہیں
    جب میں چیچہ وطنی سے لاہور روانہ ہوا تو ٹرین کی کھجل کھاری سے تنگ آکر بس میں سفر کیا جناب بس والے بھی اس وقت تک گاڑی نہ چلائیں جب تک کہ بس سواری سے فل نہ ہو جائے سائیوال میں پورا 1 گھنٹہ رکی رہی پھر اوکاڑہ میں بھی سواریوں کے احتجاج کرنے پر 45 منٹ کے بعد روانہ ہوئی
     
  5. m aslam oad

    m aslam oad نوآموز.

    شمولیت:
    ‏نومبر 14, 2008
    پیغامات:
    2,443
    اپنی زندگی کا سب سے طویل سفر


    دوستوں جب میں لاہور سے کراچی کے لئے روانہ ہوا تو خوائش تھی کہ بس کے زریعے سفر کیا جائے یہ تھوڑا کم خوار کریں گے لیکن جب میں بس اڈے پر گیا تو پتہ چلا کہ رائیونڈ اجتماع کی وجہ سے اکثر بسیں بک ہو چکی ہیں لہذہ انتظار کرو
    لیکن مجھ کو جلدی تھی چارو ناچار میں نے ریلوے اسٹیشن کا رکھ کیا اور دیکھا یہاں بھی رش ہے بڑی مشکل سے عوامی ایکپریس میں ایک سیٹ ملی جسکا وقت لاہور سے رات کو 7 بجے کا تھا میں 6 بجے اسٹیشن پہنچ گیا اور ٹرین 3 گھنٹے لیٹ رات 10 بجے لاہور سے روانہ ہوئی لیٹ ہونی کی وجہ یہ تھی کہ راولپنڈی سے لاہور کی طرف آتے ہوئے کوئٹہ ایکسپریس کا انجن فیل ہوگیا تو عوامی ایکسپریس کی ٹرین سے اسکو بھی جوڑ دیا اب ایک انجن 2 ٹرینوں عوامی اور کوئٹہ تقریبا 29 بوگیوں کو کھینچ کر لاہور لایا
    25-11-2011 رات 10 بجے ٹرین لاہور سے اللہ اللہ کر کے روانہ ہوئی خانیوال تک تقریبا صیحح سفر کیا اسکے بعد ہر جگہ جہاں پر اسکا اسٹاپ نہ تھا یہ رکتی گئی زیادہ سے زیادہ یہ 20 منٹ چلتی اور اسکے بعد 10 سے 30 منٹ کی بریک روڑی ،،سکھر ،،، اسکا وقت شام 5 بجے کا تھا مگر یہ رات کو 12 بجے پہنچی روڑی پر تقریبا پونے دو گھنٹے رکی یہاں پر اسکے رکنے کا وقت صرف 30 منٹ ہے اسکے بعد روانہ ہوئی اور ہر چھوٹے اسٹیشن پر رکتی گئی
    حیدرآباد پہنچ کر پھر رک گئی اور 45 منٹ ہو گئے مگر اسکو چلایا نہ جائے اب مسافروں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونا شروع ہو گیا تو مسافروں نے نعرے بازی اور ہلڑبازی شروع کری تب جا کر ٹرین کو کراچی کی طرف چلتا کیا اور27-11-2011 کو صبح 6بجے کراچی پہنچایا 25 گھنٹے کا سفر 35 گھنٹے میں طے ہوا
    جب میں کراچی ریلوے اسٹیشن پر اترا تو ایک عجیب ہی منظر تھا ریلوے پلیٹ فارم ایک مسافر خانے کا روپ دھارے ہوا تھا کیونکہ ،خیبر میل ایکسپریس جسکو رات 9:30 پر روانہ ہونا تھا وہ اگلی صبح 6 بجے روانہ ہوئی اسکے مسافر انتظار کرتے کرتے لمبی تان سو ئے ہوئے تھے
     
  6. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,758
    ہمم کمال کا سفر طے کیا آپ نے بھائی جان۔ ویسے ٹرین کا سفر واقعی بہت اذیت ناک اگر یہ جگہ جگہ رُکنا شروع کرے یا انجن نہ لگا ہو یا تیل ختم ہو جائے۔ میں‌آج کل ٹرین میں‌ روز صبح گوجرانوالہ آتا جاتا ہوں تو جو حالت بُری ہوئی ہوتی ہے کیا بتائوں۔ لیکن حکومت اور ریلوے والوں‌کو عوام کی اس مشکل کا ذرا بھی احساس نہ ہے کہ اُن کو کتنا انتظار کرنا پڑتا ہے یا اُن کا کتنا وقت ضائع ہو رہاہے۔ حکومت بس اپنے چکروں‌میں‌ پڑی ہوئی ہے کہ کہاں سے پیسہ لوٹا جا سکے۔
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں