خواتین کا دعوتی سرگرمیوں میں غلو کرنا - شیخ البانی رحمہ اللہ

ابوبکرالسلفی نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏جنوری 19, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    بسم اللہ الرحمن الرحیم


    خواتین کا دعوتی سرگرمیوں میں غلو کرنا

    الشیخ العلامہ محمد ناصر الدین البانیؒ

    ترجمہ
    طارق علی بروہی
    آخر میں یہ سوال ہوا کہ کیا عورت کے لئے جائز ہےکہ وہ مخصوص ومعین اسلامی دعوتی سرگرمیوں میں ملوث ومتحرک ہو۔ میں ایک ناصح اور خیرخواہ کی حیثیت سے کہتا ہوں کہ عالم اسلامی کی مصیبت وبدقسمتی میں سے ایک یہ بھی ہے کہ عورتیں یہاں تک کہ مسلمان عورتیں بلکہ پردہ دار خواتین بھی اور اس سے بڑھ کر بعض سلفی (بہنیں) بھی نکل پڑتی ہیں اس چیز کی طرف جو ان کے وظائف میں سے نہیں۔ حالانکہ عورتوں کے لئے اسلامی (دعوتی) سرگرمی کا کوئی وجود نہیں؟ اس کی سرگرمیاں اس کے گھرمیں، گھر کی دہلیز کے اندر اندر ہیں۔ عورت کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ مردوں کی مشابہت اختیار کرے، اور اسی طرح مسلمان عورت کے لئے بھی یہ جائز نہیں کہ وہ مسلمان مرد کی مشابہت اختیار کرے۔

    مسلمان عورتیں اگر اسلام کی کماحقہ خدمت کرنا چاہتی ہیں تو وہ اپنے گھر میں کریں۔ عورت کے لئے جائز نہیں کہ وہ نکلے، اور ساتھ ساتھ یہ بھی جائز نہیں کہ وہ اپنے شوہر پر یہ شرط عائد کرے کہ وہ (بیوی) شادی کے بعد بھی لازماً اسلامی دعوتی سرگرمیوں میں حصہ لیتی رہے گی([1])۔ اس کی سابقہ دعوتی سرگرمیاں اگر بالفرض مطلقاً جائز بھی ہوتیں تو پھر بھی وہ کنواری باکرہ لڑکیوں کی حالت سے مناسبت رکھتی ہیں کہ جن پر کوئی مسئولیت وذمہ داریاں نہیں ہوتیں۔ اب جبکہ وہ گھر والی ہوگئی ہے جس پر اپنے شوہر کی جانب سے واجبات ہیں اور جو اس کی اولاد ہوں گی ان کی طرف سے بھی، لہذا یہ بالکل ایک بدیہی امر ہے کہ اس کی زندگی میں (ذمہ داریوں کا) اضافہ ہوگیا ہے۔ اور یہ سب بھی اس وقت جب ہم یہ مفروضہ بنائیں کہ سابقہ شرط جائز تھی حالانکہ درحقیقت ہم اس کے مطلق جواز کے قائل ہی نہیں۔

    صحابی عورتیں (رضی اللہ عنہن) جو علمی اورثقافتی وغیرہ اعتبار سے ایک نمونہ تھیں۔ لیکن ہم نہیں جانتے کہ ان میں سے کسی عورت نے اسلامی (دعوتی) سرگرمی وغیرہ کی قیادت مردوں کے مابین شروع کردی ہو۔ لیکن جب آپ یہ سنتے ہیں کہ ام المومنین سیدہ عائشہ ؓ گھر سے باہر نکلی تھیں (اس کی کیا توجیہ ہے)۔ (جواب یہ ہے کہ) سیدہ عائشہ ؓ ایسے مسئلے اور فتنہ میں باہر نکلی تھی جو وقوع پزیر ہوا کہ جس میں نکلنا ان کے خیال میں مسلمانوں کے لئے خیر کا باعث تھا، مگر درحقیقت ایسا نہ تھا۔ اور بلاشبہ علماء اسلام کی رائے کے مطابق آپ ؓ کا یہ خروج غلطی پر مبنی تھا۔ اور ان کا واقعۂ جمل وغیرہ میں خطبہ خطاء پر مبنی تھا، لیکن یہ خطاء ان کی دیگر حسنات کی وجہ سے مغفور (معاف) تھیں۔ البتہ کسی عورت کے لئے جائز نہیں کہ وہ آپ ؓ کی اس غلطی میں پیروی کرے جبکہ آپ ؓ نے خود اس سے توبہ کرلی تھی، اور مزید یہ کہ ہم ان کی باقی حیات میں (دوبارہ) ایسا نکلنا اور ایسا کوئی خروج بالکل نہیں جانتے۔ چناچہ وہ خاص ماحول تھا جس میں ان کی جانب سے خاص اجتہاد تھا لیکن اس کے باوجود یہ اجتہادی غلطی ہی تھی۔

    البتہ آپ دیکھتے ہیں عورت کو کہ کسی (دعوتی طور پر) سرگرم مرد کی مانند آنا جانا لگایا ہوا ہے اوربسااوقات تو بعض ان میں سے اکیلے سفر تک کرجاتی ہیں جو کہ اسلام میں حرام سفر ہے([2])۔ ‘‘[font="al_mushaf"]لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ أَنْ أَنْ تُسَافِرَ سَفَرًا إِلَّا وَمَعَهَا زَوْجُهَا أَوْ ذُو مَحْرَمٍ لَهَا’’([3]) (عورت کے لئے سفر جائز نہیں الا یہ کہ اس کے ساتھ اس کا شوہر یا کوئی محرم ہو)۔ تو آپ ان عورتوں کو پائیں گے کہ دعوت الی اللہ کے نام پر گھر سے باہر اکیلے سفر کررہی ہیں۔ لیکن فی الواقع اس کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ مرد اس چیز کو ادا نہیں کررہے جو ان پر واجب ہے۔ اسی لئےیہ جگہ خالی رہ گئی تو بعض عورتوں پر یہ خیال گزرا کہ ہم پر یہ ضروری ہے کہ اس خلا کو پر کریں۔

    پس ہم مردوں کو چاہیے کہ فریضۂ دعوت کو فہماً، عملاً، تطبیقاً اوردعوتاً ادا کریں اور عورتوں کو ان کے گھروں میں ٹکنے کا مکلف بنائیں، اور وہ اس واجب کو ادا کریں جو ان کے رشتہ داروں، اولاد، بھائیوں اور بہنوں کی تربیت کے تعلق سے ان پر ہے۔

    البتہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ ان عورتیں میں سے کچھ پڑوسنیں ایسی جگہ پر جو عورتوں کے لئے خاص ہو جمع ہوں اور ایسی مناسب ودھیمی آواز سے جو اس مکان کے مناسب حال ہو جہاں وہ بیٹھیں ہوئی ہیں تعلیم وغیرہ دیں([4])۔ جبکہ جو کچھ ہم آجکل مشاہدہ کررہے ہیں تو میرا اعتقاد ہے کہ اس کا اسلام سے کوئی واسطہ نہیں، اگرچہ بعض اسلامی جماعتیں خواتین کی ایسی تحریکوں (سرگرمیوں، جماعتوں، تنظیموں، مراکزوغیرہ) کا انتظام اسلام کے نام پر کریں۔ میرا یہ اعتقاد ہے کہ یہ دین میں نئے کاموں (بدعات) میں سے ہے۔ اور آپ لوگوں کو رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان یاد ہوگا اور میں زور دوں گا کہ آپ اسے حفظ کرلیں: ‘‘[font="al_mushaf"]وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الأُمُورِ، فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلالَةٌ وَكُلَّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ[/font]’’([5]) (اور دین میں میں نئے نئے کام ایجاد کرنے سے بچو، کیونکہ دین میں ہر نیا کام بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے، اور ہر گمراہی آگ میں ہے)
    اور ہم اتنی ہی بات پر کفایت کرتے ہیں۔

    [font="al_mushaf"]سبحانك اللهم وبحمدك، أشهد أن لا إله إلا أنت، أستغفرك وأتوب إليك.[/font]

    مصدر: کیسٹ "[font="al_mushaf"]الزواج في الإسلام[/font]"
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    حاشیہ:

    [1] جیسا کہ اخوان المسلمین کی مشہور لیڈر زینب نے اپنے شوہر پر یہ شرط عائد کی تھی۔[font="al_mushaf"] (الأخوانية ودعوۃ السلفیۃ)[/font] (ط ع)

    [2] ایک دینی سرگرم خاتون کے بارے میں یہ بات معلوم ہے کہ ان کے شوہر مسجد الحرام میں معتکف تھے جبکہ وہ جدہ وغیرہ درس کے لیے بلامحرم تشریف لے جاتی تھیں۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ اگرچہ حدیث میں بلامحرم سفر منع ہے مگر ہم اپنی تنظیمی دعوت کی حکمت کے تحت اسے جائز سمجھتے ہیں اور فلاں فلاں عالم عورتوں کا مل کر گروپ کی صورت میں بلامحرم سفر جائز کہتے ہیں وغیرہ۔ حالانکہ دعوی ان کا قرآن وسنت کی تعلیم کا ہےاوردوسری طرف واضح حدیث کے ہوتے محض اپنی تنظیمی وجماعتی مجبوری کےتحت جوازکا فتوی صادر کرتے ہیں جوکہ علماء کا بلادلیل اپنی پسند کا کلام لینا اور اہوا پرستی ہے۔ (ط ع)۔

    [3] یہ حدیث مختلف الفاظوں کے ساتھ صحیح بخاری 1087، صحیح مسلم 1339اور دیگر کتب احادیث میں مروی ہے، جن میں سے بعض میں تین دن، بعض میں دو اور بعض میں مطلقا ًسفر کا ذکر ہے۔ (ط ع)
    [4] یعنی مردوں تک ان کی آواز کیسٹ، ریڈیو، سی ڈیز، ویڈیوز، ویب سائٹ، دروس، پیل ٹاک وغیرہ کے ذریعہ نا پہنچے۔ جس کی عمدہ مثال موجودہ دور میں محدث دیار یمن علامہ مقبل بن ہادی الوادعی ؒ کی صاحبزادی جو خود بھی ایک بہترین عالمہ سلفیہ ہیں اور ان کے دروس بھی ہوتے ہیں اور وہ کتابیں بھی تصنیف کرتی ہیں مگر کسی مرد نے ٹیپ، ریڈیو، پیل ٹاک، سی ڈیز، انٹرنیٹ وغیرہ پر آج تک ان کی آواز نہیں سنی۔ اور ہم اپنے معاشرے میں ایسے حضرات کو بھی جانتے ہیں جو دینی درس کے نام پر عورت کی نازک آواز سے محظوظ ہورہے ہوتے ہیں حالانکہ اسی موضوع پر اس سے بڑھ کر علمی درس کسی مرد عالم کا موجود ہوتا ہے بایں صورت یہ فتنہ ثابت ہوسکتا ہے۔ (ط ع)

    [5] صحیح ترمذی 2676 ، صحیح ابی داود 4607 وغیرہ۔

    [/font]
     
    • ناپسندیدہ ناپسندیدہ x 1
  2. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,758
    جزاک اللہ خیرا بھائی
     
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    جزاك الله خيرا جناب ، فتوى تو واضح ہے اور انتہائى معتدل اور متوازن... ليكن بصد معذرت " محشّى " نے اس پر جو قلعى چڑھائى ہے اس نے اس كا اصلى حسن گہنا ديا ہے۔ بعض حاشیہ نویس اور مترجمين اصل بات پر اپنے خيالات كا تڑكا اس خوبى سے لگاتے ہي كہ قارى كو احساس بھی نہيں ہوتا اس كو علامہ البانى كا نام لے كر كيا گھول كر پلايا جا رہا ہے۔
    حاشيہ نمبر چار ميں محشّی فرماتے ہيں:
    ميرا مودبانہ استفسار ہے اس مائنڈ سيٹ کے لوگوں سے :
    كيا عورت كى آواز پردہ ہے؟
    ان تمام علماء كرام كا كيا حكم ہے جو آڈيو بنواتے ہيں، خواتين كى درس وتدريس كرتے ہيں ؟ كيا عورتيں مرد كى آواز سے فتنے كا شكار نہيں ہوتيں؟ آخر آڈيو بنوانا ان كے ليے حرام كيوں نہيں؟
    خاتون طالبات جب قراءت على الشيخ كرتى ہيں اس آواز كا كيا حكم ہے؟ وہ مشايخ كيا مامون عن الفتنہ ہيں يا معصومين ؟
    معاف كيجيے گا وہ مرد نہيں مريض ہوں گے جو دينى احكامات كا باوقار بيان كرنے والى خاتون كا احترام نہ كر سكيں اور مريض ہميشہ استثنائى صورت (Exceptional Case) ہوتے ہيں ۔ اس لي ان كا حكم بھی مختلف ہو گا ۔
    عورت كى آواز سے لطف اٹھانے والوں کے ليے گانے بجانے والى عورتوں كا كوئى قحط نہيں پڑا ہے كہ وہ سورة النور كى تشريح كرنے والى داعيات كا بيان سنتے پھريں ۔ برے مرد اور برى عورتيں برائى كے تمام وسائل ركھتے ہيں اور بلاخوف "شئير" كرتے پھرتے ہيں ۔ ان كے ليے ايسى قدامت پسند تفريح ميں كوئى اٹريكشن نہيں ۔ خدارا ان بودے حيلے بہانوں سے داعيات دين كا مذاق اڑانا بند كريں ۔

    اس حاشیے كو اس فتوے سے الگ چيز ہی سمجھا جانا چاہیے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
    • ناپسندیدہ ناپسندیدہ x 1
  4. ام فارز

    ام فارز -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 18, 2011
    پیغامات:
    140
    اللہ آپکو جزائے خیر دے سسٹر۔ آپ نے بات واضح کردی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • متفق متفق x 1
  5. رفیق طاھر

    رفیق طاھر ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,943
    اسے کہتے ہیں توجیہ القول بما لایرضى بہ قائلہ......
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • متفق متفق x 1
  6. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672



    عورت کی آواز مطلق پردہ نہیں یعنی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الاحزاب میں فرمایا: [FONT="Al_Mushaf"]إِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ
    کے تحت نرمی سے بات کرنا تو منع ہی ہے۔

    اور غالبا صاحب حاشیہ کا اسی طرف اشارہ ہے، کیونکہ خواتین کی آواز فطرتی طور پر نرم ہی ہوتی ہے۔ - جیسا کہ صاحب احسن البیان اس آیت کے‌ضمن میں فرماتے ہیں:" اللہ تعالیٰ نے جس طرح عورت کے وجود کے اندر مرد کے لیے جنسی کشش رکھی ہے (جس کی حفاظت کے لیے بھی خصوصی ہدایت دی گئی ہیں تاکہ عورت مرد کےلیے فتنے کا باعث نہ بنے) اسی طرح اللہ تعالیٰ نے عورتوں کی آواز میں بھی فطری طور پر دلکشی ، نرمی اور نزاکت رکھی ہے جو مرد کو اپنی طرف کھینچتی ہے بنا بریں اس آواز کے لیے بھی یہ ہدایت دی گئی کہ مردوں سےگفتگو کرتے وقت قصداً ایسا لب و لہجا اختیار کرو کہ نرمی اور لطافت کی جگہ قدرے سختی اور روکھاپن ہو۔ تاکہ کوئٰد باطن لہجے کی نرمی سے تمہاری طرف مائل نہ ہو اور س کے دل میں برا خیال پیدا نہ ہو۔"

    یہاں‌سے یہ تو معلوم ہو ہی جاتا ہے کہ غیر مردوں سے عورتیں ان عام حالت میں بات نہیں‌کر سکتی جس طرح وہ ایک دوسرے سے کرتی ہیں، بلکہ غیر محرم کے لئے آواز میں‌سختی ہونا لازمی ہے اور وہ بھی ضرورت کےتحت ہی ہو۔

    جبکہ ریڈیو، ٹی وی، پال ٹاک وغیرہ پر خواتین کے دروس در اصل خواتین کے لئے ہی ہوتے ہیں‌مگر مرد حضرات انکو سنتے ہیں، کیونکہ وہ ایک آپن فورم پر نشر ہو رہے ہیں، تو جو خاتون درس دے رہی ہیں وہ، ایک خاص لہجا نہیں اپنائینگی جو کہ اللہ تعالیٰ نے غیر محرم سے گفتِ گو میں شرط کے طور پربیان کیا ہے۔


    یہ تو اللہ کا فیصلہ ہے، جس نے مردوں کی آواز عورتوں کے لئے پردہ نہیں رکھی۔

    جس طرح آپ مردوں کی آڈیوپر تنقید کر رہی ہیں ایسے ہی مردوں کے پردہ نہ کرنے پر بھی کر سکتی ہیں کیوئنکہ عورتیں پردہ کرتی ہیں تاکہ مردوں کی نگاہوں سے بچیں مگر مرد پردہ نہیں کرتے اور برھنہ چہرہ لے کر گھومتے ہیں کیا خواتین اس سے فتنہ کا شکار نہیں ہوں گی؟

    پھر تو آواز سے زیادہ چہرہ پر خطر ہے۔

    جبکہ یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ عورتیں بدنظری کا شکار نہیں ہوتی کیونکہ قرآن میں یوسف علیہ السلام کے قصہ میں ایک عورت نے ہی ان پرنظربد ڈالی تھی مگر پھر بھی پردہ خواتین کو ہی کرنا ہے مرد حضرات کو نہیں۔ انہیں تو آنکھیں ہی نیچی کرنی ہیں۔
    جبکہ عورتوں کا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علیحدہ دن باقاعدہ مقرر فرماتے تھے جس میں انکو درس وغیرہ دیاکرتے تھے، اسی طرح جمعہ کا خطبہ عید کا خطبہ وغیرہ۔ مگر ہمیں نہیں معلوم کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کبھی خطبہ دیا ہو جس کا دیا تھا اس پر شیخ البانی نے نقطہ چینی کی ہےجیسا کہ فتویٰ میں موجود ہے۔


    اس کا حکم ہی تو اللہ نےبیان فرمایا ہے کہ:"[FONT="Al_Mushaf"]إِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ۔۔۔[/FONT]" اور عام حالت میں‌جب خواتین درس دیتی ہیں تو وہ اس طرز گفتِ گو سے پرہیز کرتی ہیں کیونکہ وہ مرد حضرات سے مخاطب نہیں‌بلکہ خواتین سے ہی ہوتی ہیں‌مگر ٹی وی، ریڈیو اور دوسرے وسائل جن تک مرد حضرات بھی پہنچ سکتے ہیں تو اسی بات کو صاحب حاشیہ نے واضح کیا ہے۔ اور شیخ‌البانی رحمہ اللہ کے کلام سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے۔


    یہ بھی ایک بڑی عجیب و غریب بات ہے کہ داعیات کا سلسلہ چل پڑا شاید داعیان اسلام مردحضرات کو کسی سونامی نے آلیا ہے جن کی وجہ سے اب یہ بھاری ذمہ داری خواتین کے نازک کاندھو پر آپڑی ہے جو کہ ان کی‌ذمہ داری نہ تھی۔
    اور ہمیں تو نہیں‌معلوم کہ قرون اول و اس کے بعد کے زمانوں‌میں‌ خواتین کی بھی کوئی جماعت یا ادارہ ہوا کرتا تھا جو دعوت دین کا کام انجام دیا کرتا تھا۔

    ایک داعیہ کےبارے میں شیخ عبداللہ ناصررحمانی حفظہ اللہ سے سوال ہوا تھا انہوں نے فرمایا تھا کہ: "کبھی ایسا ہوسکتا ہے ام المومنین عائشہ صدیقہ (رضی اللہ عنہا) مدینہ سے بصرہ گئی ہوں بصرہ سے شام گئی ہوں اور شام سے عراق گئی ہوں دعوت کے لئے۔ بالکل نہیں وہ گھر پر بیٹھتی تھیں، "۔۔۔۔۔۔[FONT="Al_Mushaf"]وقرن فی بیوتکن[/FONT] " اللہ تعالی نے فرمایاکہ اپنے گھروں میں بیٹھیں رہو، ایک عورت داعی تھوڑی ہوتی ہے، داعی تو مرد ہیں، مردوں کا کام ہے باہر جاکر دعوت دینا، اور کبھی اس علاقے میں اور کبھی اس علاقے میں، عورتوں کا تو یہ کام ہی نہیں ہے۔ شیخ البانی نے اس پر بہت اچھی گفتگو فرمائی ہے ایک کیسٹ میں میں نے سنی تھی، فرماتے ہیں ایک عورت داعی نہیں ہوسکتی۔۔۔۔۔۔۔(اور آخر تک وہی فتویٰ جو اوپر گزرا ہے)۔"

    اور اسی طرح کی بات صاحب احسن البیان نے سورہ الاحزاب کی آیت "[FONT="Al_Mushaf"]وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ[/FONT]" کے ضمن میں‌ لکھا ہے کہ "یعنی ٹِک کر رہو اور بغیر ضروری حاجت کے گھر سے باہر نہ نکلو۔ اس میں وضاحت کردی گئی کہ عورت کا دائرہّ عمل امورِ سیاست و جہانبانی نہیں، معاشی جھمیلے بھی نہیںِ بلکہ گھر کی چار دیواری کے اندر رہ کر امورِ خانہ داری سرانجام دینا ہے۔"


    [/font]
     
  7. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    شكريہ كہ آپ نے حاشيہ نويس كى جانب سے وضاحت كى ذمہ دارى كا بار از خود اٹھا ليا ۔
    ان سارى سطور كى بنياد "خضوع القول " يا "نرم لہجے" كى خود ساختہ تشريح پر ہے ۔ كسى سيانے كو خضوع القول كا پتہ نہ ہو تو دو تين اچھی تفاسير سے رجوع كر ليا جائے۔

    [qh]يا نِساءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِنَ النِّساءِ إِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلاً مَعْرُوفاً (32)[/qh]

    اس آيت كى تفسير سے یہ قطعى ثابت نہيں ہوتا جو كرنے كى كوشش كى جا رہی ہے۔مردوں كى موجودگى ميں قول معروف كى اجازت قرآن مجيد نے اسى آيت ميں دى ہے ۔ اور يہ اجازت خالق كى اجازت ہے۔ دينى درس قول معروف ميں نہيں آتا تو ہميں نہيں معلوم اور كيا قول معروف ہے؟
    كسى نے مزيد موازنہ كرنا ہے تو مشہور پاكستانى مراثن ملكہء ترنم اور كسى باحجاب داعيہ كو بيك وقت سن لے سراپا شر اور سراپا خير كا فرق معلوم ہو جائے گا ۔
    ليكن اس كو لائف ٹائم اچيومنٹ ايوارڈملتا ہے اور ان كو اپنوں كے حاشيے !
    يہی ہمارى ترقى كا راز ہے !
    گويا داعيات نئے دور كى بدعت ہيں ! بہت خوب ۔ ميرے نزديك ہر وہ عورت، بچی، بوڑھی، داعيہ ہے جو گھر كے لوگوں كو، ملنے جلنے والے جاننے والوں كو امربالمعروف نہى عن المنكر كرتى ہے ۔ اگر كوئى سفر درپيش ہے اور وہ اس كے دوران اس علاقے ميں درس وتدريس اور دينى تعليم كى سرگرمى كا اہتمام كرتى ہے تو اس سے نيك بخت اور كون ہے؟ اللہ تعالى ان كو جزائے خير دے۔
    دعوت اسلامى كے نام پر فيس بك اور فورمز پر بيكار بے عمل جہلاء مرد حضرات كا جو سونامى آيا ہوا ہے اس كے مقابلے ميں داعيات كريمات باران رحمت كى مانند ہيں۔ اللھم زد فزد ۔
    حضرت عائشہ صديقہ رضي اللہ عنہا كبھی مدارس و جامعات بھی نہيں گئی تھيں ہوسٹلز اور بورڈنگز ميں بھی نہيں رہی تھيں ۔ آج سے فيس بك اور فورمز پر خواتين كے سب تعليمى ادارے، ہوسٹلز، بورڈنگز بند كرنے كى دينى تحريك چلائيے جو بڑے بڑے مشايخ چلا رہے ہيں : ) اللہ آپ كى كامن سينس كا حامى و ناصر ہو ۔
    داعيہ كا سفر اگر شرعى حدود اور ولى كى رضامندی كے مطابق ہے تو جو چاہے اعتراض كرے اس كا اعتراض باطل ہے۔ جس كا سفر شرعى حدود كى نافرمانى ميں ہو تو مذموم اس كى وہ نافرمانى والى حركت ہے نہ كہ خود دعوت دين ، ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ والا يہی استدلال نام نہاد روشن خيال كرتے ہيں كہ داڑھی والے نے يہ كيا تو ہر داڑھی مذموم ۔ اگر وہ درست ہے تو يہ درست ، وہ باطل ہے تو يہ مہا باطل !
    شيخ رحمانى حفظہ اللہ ورعاہ كى بات نجانے كس كونٹيکسٹ ميں تھی اور اس سے استدلال كہاں كيا جا رہا ہے نہيں معلوم ، ابھی قرآنى آيات اور علامہ البانى رحمہ اللہ كے فتاوى سے جو سلوك ہوا وہ سب نے ديكھا ۔
    بالكل درست فرمايا ، مجھے مرد حضرات كى "بےپردگی" اور "بے حجابى" پر شديد اعتراض ہے۔ وہ سارے دين دار مرد حضرات جو عورتوں كى طرح بناؤ سنگھار كر كے كڑھائى والى شيروانياں، كھسے زيب تن كر کے " دينى ٹی وى " پر درس ، تلاوت اور حمد ونعت پيش كرتے پھرتے ہيں ان كى بے پردگی بہت بڑا فتنہ ہے ۔
    ان كى نسبت داعيات خواتين مكمل حجاب ميں درس ديتى ہيں ان كى صرف آواز سے اتنا بڑا فتنہ پھيل سكتا ہے تو لال ٹوپيوں، عماموں اور كڑھائى والى شيروانيوں ميں جھوم جھوم كر نعت كى وڈيو بنوانے والوں سے كوئى فتنہ نہيں پھيلتا ؟ عجیب زبردستى ہے؟
    حضرات كے بےشمار فتنوں ميں سے چند كا ذكر نام ليے بغير كر دوں:
    ايك مشہورعلامہ صاحب كی مقبوليت كے زمانے ميں ان سے شادى كى خواہش مند خواتين كے قصے سب جانتے ہيں۔ ان کی صرف آڈیو کسٹس سن کر۔ قصور وار كون ؟ علامہ صاحب يا نفوس مریضہ؟
    بعض عرب علماء كا قصہ سب جانتے ہيں لائيو درس كے دوران خواتين فون كر كے ان سے شادى كى خواہش كا اظہار كرتى ہيں ؟ قصور كس كا ہے ؟
    وڈيوز بنوانے والے ان سب علماء اور دعاة كو كون بتائے گا كہ آپ کی دعوت بہت بڑا فتنہ ہے؟
    ساری توپوں كا رخ بے چارى عورتوں كى طرف كيوں بھائى صاحب؟ كوئى فتوى اس كے متعلق جارى ہو تو ميں سارى داعيات کے متعلق ان بے كار حاشيوں كو من وعن درست مان لوں گی۔
    آپ كى اطلاع كے ليے عرض ہے كہ ذاتى طور پر ميں نے كبھی آڈيو ، وڈیو نہيں بنوائى ، ليكن ميں ان داعيات دين كا مذاق اڑانے ميں كسى صورت شريك ہونا پسند نہيں كرتى جو دينى حدود ميں رہ كر باوقار انداز ميں بہت عمدہ كام كر رہی ہيں۔ اللہ تعالى انہيں ان كا اجر دے۔
    اور كامن سينس ركھنے والوں سے درخواست ہے كہ قرآنى فيصلے پر غور فرمائيں حسنِ يوسف قصور وار ہے يا نفوسِ مريضہ ؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  8. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    آپ کی تمام گفتِ گو میں دلائل کو نظر انداز کر کے جزبات سے کام لیا گیا ہے۔


    اور قولا معروفا سے بھی وہ مراد نہیں‌جو آپ لے رہی ہیں، اور قرآن نے جس قول معروف کی اجازت دی ہے وہ، "یعنی یہ روکھاپن، صرف لہجے کی حد تک ہو، زبان سے ایسا لفظ نہ نکالنا جو معروف قاعدے اور اخلاق کے منافی ہو۔" از تفسیر احسن البیان

    یہاں‌سے معلوم ہو گیا ہے کہ جب مردوں سے سخت لہجے میں‌بات کی جائے تو اس سے بداخلاقی سے بات نہ کی جائے بلکہ سخت لہجے میں بھی اخلاق کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔

    یہ کام تو ہر مومن پر فرض ہے، اور ہم نے تو اس کے خلاف کچھ کہا بھی نہیں۔
    جبکہ حاشیہ نمبر چار میں‌ بھی بنت علامہ مقبل بن ہادی رحمہ اللہ کا ذکر سے جس سے ثابت ہو جاتا ہے کہ ہم اس طرح‌کے درس تدریس کے خلاف نہیں۔

    ا
    آمین
    اور الحمدللہ ہماری بہنیں‌ بھی اس پر گامزن ہیں‌مگر شریعت کی حدود مین‌رہ کر، اور جیسا کہ شیخ‌البانی رحمہ للہ نے اپنے فتویٰ میں بیان کیاہے اور اس قسم کی دعوت کا بیان فتویٰ میں‌ہے۔ مگر مجھے نہیں‌معلوم کہ آپ یہاں‌ یہ سب بیان کر کے کیا واضح کرنا چاہتی ہیں۔

    سبحان اللہ!
    شاید اس کی دلیل یہ بن سکتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم اور بعد کے سلف کے دور میں فیس بک موجود نہیں‌تھا اس لئے اس طرح‌کی داعیات پیدا نہیں‌ہوئیں تھیں۔
    کیونکہ اب ایسا دور آگیا ہے تو بیچاری یہ محاز پر نکل گئی ہیں۔

    اس امت کا اب اللہ ہی حافظ ہے، (ابتسامہ)

    امی عائشہ رضی اللہ عنہا جس مربی و معلم کی شاگردہ تھیں اس معلم کے علم کے وارث آج تمام علماء ہیں!!
    صلی اللہ علیہ آلہ وسلم


    یہ تمام ادارے اپنی حدود میں‌رہ کر کام کریں تو جائز ہیں، جس طرح جمعہ کا خطبہ بھی تو خواتین سنتی ہیں؟؟؟؟؟ مسجد آتی ہیں بس اتنی ہی اجازت ہے۔
    اور اللہ ہمیں‌ ایسے کامن سینس سے محفوظ فرمائے جس میں‌ سینس بمع نان ہو۔

    پھر یہی اصول آپ کو ہہلے یہاں‌ بھی سوچنا چاہیئے تھا۔
    آپ فرماتی ہیں:
    پھر آپ نے فرمایا:

    شیخ عبد اللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ کافتویٰ در اصل پاکستان کی ایک مشہور عالمہ کی بابت ہی تھا میں‌نے جن کا نام یہاں‌نہیں‌لکھا ورنہ لوگوں‌کو سانپ سونگھ جاتے۔ ہم آپ کو شیخ‌ کا فون نمبر ارسال کر دیتے ہیں آپ خود ہی پوچھ لیجئے۔

    یہ تو ایک احمقانہ اعتراض ہے،
    آپ فرماتی ہیں عورتوں‌کی طرح بناو سنگھار !؟؟؟؟؟؟؟ یہ کون کرتا ہے؟ ایسے لوگ علماء تو کیا مرد حضرات کی پارٹی میں‌ شامل ہونا بھی نہیں‌پسند کرتے کیونکہ وہ جن سے متاثر ہوتے ہیں انہی میں‌رہتے ہیں۔
    اور یہ کڑھائی والے کپڑے وغیرہ یہ سب عجیب و غیرب باتیں‌ہیں۔
    کیا کڑھائی والے کپڑے حرام ہیں؟ ہاں‌ریشم نہ ہو!۔

    کیا اللہ تعالیٰ نے کہیں‌مرد کی زینت عورت سے پوشیدہ رکھنے کا حکم دیا ہے؟
    کہیں‌ فرمایا ہےکہ اےمردوں جب گھر سے نکلو تو اپنے اوپر اوڑھنیاں ڈال لیا کرو؟؟؟؟
    نہیں!!!!!!
    بلکہ یہ حکم تو خواتین کے لئے ہے۔

    مرد حضرات شرعی حدود میں‌ رہ کر جو کچھ زیب تن کریں اگر خواتین اس پر نظریں ڈال کر اپنی نیت خراب کرتی ہیں تو نیت کی خرابی ہے حسن کی نہیں۔

    اور رہی بات ٹی وی پر آنے کی تو ہمارے نزدیک مرد ہو یا عورت اس کے لئے تصویر بنوانا ہی جائز نہیں‌خواہ متحرک ہو یا غیر متحرک، اس لئے یہ مسئلہ مختلف فیہ ہے۔


    ابتسامہ

    جی ہاں‌خواتین کی آواز ہی تو فتنہ بن سکتی ہے، جیسا کہ اوپر سورہ الاحزاب میں‌بیان ہوا۔
    اس پر مزید بات نہیں کریں گے، مگر مردوں کی لال ٹوپی آپ کو اتنی دلفریب کیوں‌لگ رہی ہے؟؟؟ عماموں اور کڑھای والی شیروانی ۔سبحان اللہ

    پھر آپ فرماتی ہیں۔
    اور یہاں‌کوئی تبصرہ نہ کرتے ہوئے آپ کے اقتباس کو پیش کروں گا کہ:
    دین کا کام مردوں‌کے ذمہ ہے وہ کر رہے ہیں، اور جتنا کام عورتوں کے ذمہ ہے اس کا حکم کتاب وسنت میں موجود ہے۔ اپنی اصلاح‌کریں، بہن بھائی اولادوغیرہ ان سب کی اصلاح کریں۔ ورنہ ہمیں سلف سے ثابت کر دیں کہ انکی خواتین کس طرح‌ دعوت دین کا کام کیا کرتی تھیں؟ بے شک وہ آج کی عورتوں‌سے بہترین عورتیں تھیں۔



    مزید بحث کرنے سے پہلے آپ علماء کا کلام بھی ملاحظہ فرما لیں۔
    جیسے [FONT="Al_Mushaf"]فتوى في حكم خروج المرأة للدعوة إلى الله- الشيخ يحيى الحجوري
    اس فتویٰ میں‌ہی شیخ‌نے اپنی ایک کتاب کی طرف رجوع ہونے کا بھی مشورہ دیا ہے اس کتاب کا مطالعہ کافی مفید رہے گا۔
    اس میں‌ خواتین کی دعوت میں غلو وغیرہ پر ہی بات کی گئی ہے۔

    اور اللہ ہی کی توفیق سے ہم حق سمجھ سکتے ہیں۔
    والسلام

    [/FONT]
     
  9. حجاب

    حجاب -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏جون 10, 2010
    پیغامات:
    666
    اللہ تعالٰی ہم سب کو ہدایت دے
    آپ تو عالمہ کی بات کر رہے ہیں لیکن اگر ایک عام خاتون کو دیکھا جائے جو اپنے گھر میں ہی رہتی ہے تو وہ کیسے دینی علوم حاصل کر سکتی ہے لازم ہے کہ وہ گھر سے باہر جائے گی ۔
    دوسری بات جس کا کوئی بھائی یا محرم نہیں ہے اور اسے ہر ہفتے سفر کرنا ہوتا ہے تو ایسے میں اس عورت کو کیا کرنا چاہیے؟
    اور اگر اسلام میں اس طرح کی سختی ہے تو پھر میری ذاتی رائے یہ ہے کہ عورت کا وجود ہی نہیں ہونا چاہیے یا پھر ایسا ہونا چاہیے جہاں زمین کے دو پورشن ہوں ایک میں عورتیں ہوں اور دوسری جگہ مرد
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  10. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    اصل مسئلہ يہی ہے اور اسى بات كى خاطر يہ سب شوروغل مچايا جا رہا ہے ۔اللہ تعالى ان خاتون داعيہ كريمہ كى حفاظت فرمائے ۔ اگر چہ ميرا ان سے يا ان كے ادارے سے كوئى براہ رسات تعلق نہيں ليكن مجھے اس سارے معاملے پر شديد افسوس ہے۔ تعاونوا على البر والتقوى بھی اسى اسلام كا حكم ہے۔
    ميں بھی ذاتى طور پر وڈيو بنوانے كے خلاف ہوں ليكن صرف اس نظرياتى اختلاف كو بنياد بنا كر شيخ طالب الرحمن اور شيخ توصيف الرحمن يا دوسرے شيوخ حفظهم اللہ كے وڈيو دروس كے متعلق يہ نہيں كہہ سكتى كہ وہ فتنہ پھيلا رہے ہيں ۔ نظرياتى اختلاف ركھنے اور كسى كى محنت كو خاك ميں ملانے ، اس كى كردار كشى كرنے ميں فرق ہوتا ہے ۔ اللہ تعالى ان خاتون داعيہ كريمہ كى حفاظت فرمائے ۔ اب تو وہ عمر كے اس حصے ميں ہيں كہ ان كو قواعد من النساء ميں شمار كيا جا سكتا ہے۔ كسى كى عمر بھر كى محنت پر خاك ڈالنے سے پہلے اللہ كا كچھ خوف كر لينا چاہیے ۔
    يہ بعينہ وہی مائنڈ سيٹ ہے جس كے متعلق ايك ليكچر يہاں پوسٹ كيا گيا تھا ۔ مجھے اسلام كے اس ورژن سے بالكل اتفاق نہيں اور ميں ان مشايخ كى مقلد نہيں ۔ البتہ اب مجھے اندازہ ہوا ہے كہ جہالت اور عدم برداشت ہميں كہاں پہنچا چکے ہيں ؟
    اس مراسلے كے بعد مجھے كچھ عرض نہيں كرنا كيوں كہ مخاطب كا مبلغ علم معلوم ہو چكا ہے۔ شايد اسى ليے بعض حضرات اپنا تعارف كروانے سے ہچكچاتے ہيں كہ دينى علوم ميں ان كا طول باع معلوم نہ ہو جائے۔
    انا لله و انا اليه راجعون ۔
     
  11. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672

    ۔

    سبحان اللہ!
    اور اصل مسئلہ یہی ہے جس کی وجہ سے آپ بےوجہ اس بحث کو طول دے رہی تھیں کیونکہ اس کا تو کوئی جواز نہیں۔
    اگر آپ چاہیں تو ان کے بارے میں ہم نے ذبیر علی زئی حفظہ اللہ سے بھی پوچھ رکھا ہے۔ تمام دلائل موجود ہیں مگر فتنہ کی وجہ سے پیش نہیں‌کرتے۔
    اسی طرح ان کے خاوند سے بھی ہمارے احباب کی اس موضوع پر بات ہو چکی ہے۔

    جبکہ میں‌نے قطعی انکا نام نہیں‌لیا اور نہ ہی ان کی طرف اشارہ کیا تھا مگر جب آپ نے شیخ‌کے فتویٰ پر الزام تراشیاں‌کیں! جبکہ دونوں شیوخ یعنی عبد اللہ ناصر رحمانی اور شیخ‌ذبیر علی زئی کی انکے منہج پربھی کچھ ملاحظات ہیں۔

    اور کچھ دنوں‌ پہلے ایک صاحب فیس بک پر مجھے اس موضوع پر دعوت مناطرہ دے رہے تھے اور مجھے معلوم تھا کہ شاید وہ ، وہ سب کچھ نہیں‌جانتے جو الحمدللہ ہمیں معلوم ہو چکا ہے۔ اس لئے میں نے انہیں‌ نظر انداز کیا تھا مجھے نہیں‌ معلوم کہ وہ میرے بھائی اردو مجلس پر ہیں‌بھی کہ نہیں‌ !


    ۔
    آمین، اور سب سے پہلے ہمیں‌ اور پھر انکو سلفی منہج پر چلنے کی توفیق نصیب فرمائے


    ۔

    ہم نے تو کسی کی محنت پر خاک نہیں ڈالی! ہم تو خاموش ہی تھے اور اپنا مدعہ بادلائل ثابت کر رہے ہیں۔ الحمدللہ


    آپ مجھے کھلے الفاظ میں جاہل کہہ سکتی ہیں کیونکہ میں نے اپنی کوئی بھی رائے پیش نہیں‌کی بلکہ کہیں‌تفسیرتو کہیں شیوخ کے کلام سے بات کی ہے۔
    مگر آپ نے اپنے علم کا مصدر قطعی ظاہر نہیں‌ کیا اپنے زاتی استدلال سے بات کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔
    اب جو حکم آپ مجھ پر لگاتی ہیں وہی حکم شیخ‌عبد اللہ ناصر رحمانی، ذبیر علی زئی پر بھی ہوگا۔
    جزاکم اللہ خیرا



     
    • ناپسندیدہ ناپسندیدہ x 1
  12. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,373
    السلام علیکم !بہت شکریہ ۔
    " محشّى " سے ہمیں یہ امید نہیں تھی کہ وہ اتنا جاہلانہ لفظ لکھیں گئے - ماضی قریب میں وہ اہل الحدیث داعی علماء کے لیے ایسے الفاط یوز کرتے رہتے تھے آج انہوں نے اہل حدیث داعیات کے لیے اتنے گھٹیا الفاظ یوز کرنے شروع کردیے ۔ اللہ ہدایت دے ۔

    ابوبکر بھائی سے گزارش ہے کہ پاکستان کے تین چارجید اہل حدیث علماء کے فتوٰی لکھے ہوئے مہیا کریں ، تاکہ ہمیں‌معلوم ہو سکے کہ علماء پاکستان کا اس حوالے سے کیا موقف ہے ۔ صرف فون کر کے ہم بھی علماء سے فتوٰی لے سکتے ہیں ۔ یہ کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں‌۔ گفتگو کو طویل نہ کیا جائے ۔ یاد رہے کہ ہمارے نزدیک " محشّى " اور ناقل کی بات کی کوئی حیثیت نہیں‌۔ جزاکم اللہ خیرا۔
     
    • متفق متفق x 1
  13. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    دلیل عنایت فرما دیں تاکہ یہ بات ان تک پہنچائی جا سکے!!!!

    آپ فون کر کے پوچھ لیں اور وہ جو جواب دیں وہ یہاں بمع تاریخ بیان کر دیں ان شاء اللہ ہم یقین کرینگے۔
    اور ہم نے شیخ‌عبد اللہ ناصر رحمانی سے پوچھا ہے! آپ بھی فون کر کے پوچھ لیں۔
    مکمل فتویٰ جو کسی کاغذ پر رقم ہو ہمارے پاس فی الوقت موجود نہیں۔

     
  14. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,373

    دلیل کی تو بات تو نہ کریں‌ بھائی ۔ دلائل موجود ہیں‌۔ الحمد للہ ۔ اس کی فکر نہ کریں‌۔ فی الحال ہمارا یہ موضوع نہیں‌۔
    میرے بھائی ۔ آپ نے تھریڈ لگایا ہے اور آپ ہی مہیا کریں ،ہمیں بحوالہ مکتوب فتوٰی چاہیں ۔ مجھے تو اعتراض نہیں ، میں کیوں‌مہیا کروں بھائی ۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ علماء کا اس حوالے سے موقف کیا ہے ، کوئی بھی شخص آپ سے فتوٰی مانگے گا تو آپ اس طرح فون نمبردیتے رہیں گئے ۔ اس سے اچھا نہیں‌کہ آپ چند علماء کے فتوٰی لکھے ہوئے مہیا کریں ۔ مجھے مطمئن نہ کریں بلکہ عام مسلمانوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کریں‌۔ شکریہ ۔
     
  15. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    4,974
    محترم ابو بکر سلفی صاحب

    میں نے آپ سے پہلے بھی گزارش کی تھی اور اب بھی کرتا ہوں کہ آپ کو ان پر جو اعتراضات ہیں، وہ بیان فرما دیں۔ میں ان شاء اللہ ان کا جواب دوں گا۔

    مزید یہ کہ آپ چونکہ شیوخ کو درمیان میں‌لا چکے ہیں اور شیوخ کے فتاویٰ بھی آپ کے پاس لکھے ہوئے موجود نہیں۔
    شیخ طالب الرحمان شاہ صاحب حفظہ اللہ کے ان سے متعلق فتوے پر امید ہے آپ کے شبہ کا ازالہ ہو چکا ہو گا۔
    میں آپ سے صرف ایک گزارش کرتا ہوں کہ محدث کبیر اور موجودہ دور میں اسماء‌ الرجال کے امام حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ کا ان کے متعلق موقف بیان فرما دیں۔ باقی باتیں بعد میں ان شاء اللہ
    میرا خیال ہے آپ مجھے پہچان گئے ہوں گے۔
     
    • متفق متفق x 1
  16. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    پھر دعویٰ ہی بے معنی ہوا؟
    اور محشی نے جو لفظ استعمال کیا ہے۔
    1-قطعی کسی خاتون کے بارے میں‌ استعمال نہیں‌ کیا بلکہ کچھ لوگوں‌کا ذکر کیا ہے۔
    2-اس میں ان خاتون کا نام بھی نہیں‌ جن کو آپ عالمہ کہہ رہے ہیں۔
    3- اور اس لفظ میں جو جہالت ہے اس کے بارے میں‌ ہمیں‌بھی مطلع فرما دیں۔




    کس بارے میں ؟ کسی ایک‌خاتون کے بارے میں‌ یا عورت کی آواز ریڈیو وغیرہ پر سننے کے بارے میں ؟
    میرا تھریڈ تو ایک عام فتویٰ ہے جس پربہن کا اعتراض‌تھا اور اس کا جواب دیا گیا۔
    جبکہ مستقل کوئی موضوع نہیں۔
    اور بہنا نے سب سے پہلے جو دو سوال کیئے تھے وہ بہت زیادہ مناسب تھے کیونکہ موضوع کے متعالق تھے موضوع تو بعد میں‌ اپنی اصل کھو چکا۔
    جس کےبارے میں آپ بات کر رہےہیں۔
     
  17. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    ماشاء اللہ، آپ کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔
    ویسے اہل حدیث بھائی میں نے آپ کو جب بھی انتظار کا کہا تھا اور اب بھی انتظار کا ہی کہونگا جس طرح ابھی میں کھل کربیان نہیں‌ کر رہا یہ بھی سلفی منہج میں شامل ہے کیونکہ رد جب ہوتا ہے جب کوئی اصلاح کی راہ باقی نہ ہو۔

    اور اس طرح کھل کر اگر تمام دلائل بیان کر دیئے جائیں تو وہ اصلاح‌میں مانع ہوں گے۔
    ان شاء اللہ ایک دو دن میں آپ لوگوں‌کو آڈیو فراہم کرنے کی کوشش کروں گا مگر زاتی پیغامات میں۔

    کیونکہ ہم نے نہ ہی انہیں‌ اھل الحدیث‌ سے باہر کیا ہے اور نہ ہی مبتدع ثابت کیا ہے۔
    منہج کی خرابیاں‌ہیں‌ جس پر ان شاء‌اللہ مدلل رد پیش کریں گے مگر ابھی نہیں‌وقت پر۔

    خواہ آپ کچھ بھی سمجھیں‌، مگر یہ ہمارے منہج میں شامل ہے۔

     
  18. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,373
    بہت شکریہ ۔ آپ کی تحریر سے خوب واقف ہیں ۔ اور محشی سے بھی ۔ اور ان سے بھی جو محشی سے خاص طور پر یہ مضمون تخلیق کرواتے ہیں اور انہیں منتشر کرتے ہیں ۔ محشی کے عقائد کے حوالے سے مضامین قابل تحسین ہیں ،میں ان کی قدر کرتا ہوں ، لیکن معذرت ان تک ہمارا یہ پیغام پہنچا دیجئے کہ اپنے مضامین کو عقائد تک رکھیں ۔ ایسے مسائل جس میں اپنا انفرادی موقف رکھتے ہیں اس کو عام لوگوں تک پہنچانے کی کوشش نہ کریں‌۔
    1- مجہول لوگوں کا ذکر کرے اتنی بڑی بات کردی ۔ اللہ ہدایت دے ۔ 2- میں نے کسی عالمہ کا ذکر کیا ہی نہیں‌۔ 3- جہالت ہی جب کوئی شخص کچھ لوگوں کی بات سن کر فتوٰی لگاتا پھرے ۔
    یہ فتوٰی قطعا عام نہیں ۔ اگر عام ہوتا تو آپ پہلی پوسٹ ہی اس کا ذکرکردیتے اور بحث نہ کرتے ۔
    علی کل حال ۔ یہ مضمون علماء کے فتوٰی آنے تک اوپن فورم سے منتقل کیا جا رہا ہے ۔جب وہ فتوٰی مہیا کیے جائیں گئے تو ان شاء اللہ اس تھریڈ کو واپس منتقل کردیا جائے گا ۔ لیکن یہ یاد رہے کہ ہمیں شیخ البانی رحمہ اللہ کے فتوٰی سے اختلاف نہیں ۔ معلوم نہیں شیخ کا فتوٰی کب دیا گیا تھا او اس کے پس منظر میں کیا اسباب تھے ۔ اوریہ بھی ضروری نہیں کہ موجود علماء شیخ کے اس فتوٰی سے متفق ہوں ۔
     
  19. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    خير شكريہ ابوبكر السلفى بھائى كم ازكم ميں تو تائب ہو گئی دعوت سے ۔ فارغ وقت ميں كيا كرنا ہے سوچتے ہيں ؟ پھر سسراليوں اور پڑوسيوں كى غيبتيں كرنا جائز ہو گا كم از كم چھوٹا شر ہے اتنا بڑا فتنہ تو نہيں ۔
     
  20. محمد اسد حبیب

    محمد اسد حبیب -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 3, 2011
    پیغامات:
    410
    مذکورہ موضوع سے متعلق فتاویٰ ثنایہ مدنیہ سے ایک اقتباس پیش خدمت ہے:
    سوال:
    عورتوں کے مدارس میں جو تبلیغی اجتماعات منعقد کیے جاتے ہیں جن میں صرف خواتین مبلغات ہی تبلیغ کا فریضہ انجام دیتی ہیں ۔کچھ لوگ اس کام کو اچھا نہیں سمجھتے اور کہتے ہیں کہ نبیﷺ کے مبارک زمانہ میں اور صحابہ رضی اللہ عنھم کے دور میں خواتین ایسا نہیں کرتی تھیں اور صرف مرد صحابہ رضی اللہ عنھم ہی تبلیغ کا فریضہ انجام دیتے تھے۔ سوال یہ ہے کہ خواتین کو تبلیغ کا موقع نہ ملےتو خواتین مبلغات کتمان علم کی مجرم تو نہ ہوں گی اور : بلغوا عني ولوا اية کی ذمہ داری ان پر بھی واجب ہے یا نہیں؟
    جواب:
    دین حنیف کی نشرواشاعت جسطرح مرد پر واجب ہے اسی طرح عورت پر بھی ضروری ہےکہ مختلف ذرائع سے اس فریضہ کو ادا کرے تاریخ اسلام اس بات پر شاہد ہے کہ اسلام کی اشاعت میں عورت کا ہمیشہ سے عظیم کردار رہا ہے۔ دراصل یہی وہ پہلا مدرسہ ہے جہاں سے ہر فرد ابتدائی مراحل میں تعلیم و تربیت حاصل کرتا ہے جس کے اثرات تا زندگی انسان کے لیے معاون و مددگار ثابت ہوتے ہیں ۔ پھر آغاز وحی میں اس کی جدوجہد سے پیغام نبوت کی آبیاری ہوئی ۔ جو بعد میں اقوام عالم کے لیے رشد و ہدایت کا باعث بنی۔
    کژت ازواج النبیﷺ میں یہی حکمت مضمر تھی کہ فریضہ دعوت و تبلیغ بطریق احسن سر انجام دیا جا سکے ۔بالخصوص آنحضرتﷺ کا گوشئہ خانگی جس پر مطلع ہونا ہر شخص کے لیے ممکن نہیں۔
    حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کے علم و فضل سے کون واقف نہیں ۔ کبار صحابہ کرام مشکل ترین مسائل میں ان کی طرف رجوع کرتے ، کئی ایک مسائل میں وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے کمزور پہلوؤں پر گرفت فرماتی تھیں ، اس سلسلہ میں علامہ زرکشی کی معروف تصنیف ’’ الاجابۃ بما استدرکتہ عائشۃ علی الصحابہ‘‘ کے موضوع سخن سے یہ بات عیاں ہے۔ پھر حضرت اسماء بنت یزید کی خطابت سے کون انکار کر سکتا ہے۔ جو خطیبۃ النساء کے لقب سے معروف تھیں۔ (الاصابۃ، ۴؍۲۲۹ )
    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ’’ الذرر الکامنۃ‘‘ میں ۷۰ محدثات کا تذکرہ فرمایا ہے۔ ان میں سے وہ بھی تھیں جن کی شاگردی امام احمد بن حنبل ، علامہ سیوطی ، ابوبکر الخطیب بغدادی ، اور مؤرخ ابن عساکر رحمۃ اللہ علیھم جیسے اجلاء نے اختیار کی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا نے انصار کی عورتوں کی تعریف درجہ غایت بیان فرمائی ہے کہ’’ تفقہ فی الدین‘‘ میں ان کو حیاء مانع نہیں۔ ان جملہ دلائل سے معلوم ہوا کہ مرد کی طرح عورت بھی اشاعت دین اور دعوت و تبلیغ کی مکلّف ہے لیکن اس کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ جملہ تحفظات کے ساتھ اس واجب کو ادا کرے۔
    (فتاوٰے ثنائیہ مدنیّہ ، جلد اوّل، صفحہ۲۲۱۔۲۲۰، تالیف:شیخ الحدیث حافظ ثناء اللہ مدنی حفظہ اللہ)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں