توہین مذہب ٹیچر کو سزا

ہیر نے 'حالاتِ حاضرہ' میں ‏نومبر 30, 2007 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. ہیر

    ہیر -: Banned :-

    شمولیت:
    ‏اگست 20, 2007
    پیغامات:
    433
    [​IMG]
    سوڈان میں مقیم ایک برطانوی سکول ٹیچر جلیئن گبنز کو توہین مذہب کا مجرم پایا گیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے سکول کے بچوں کو یہ اجازت دی تھی کہ وہ اپنے ٹیڈی بیئر کا نام محمد رکھ لیں۔

    [​IMG]

    برطانیہ کے شہر لیورپول کی رہنے والی 54 سالہ جلیئن گبنز کو پندرہ دن قید کی سزا سنائی گئی ہے جس کے بعد انہیں ملک بدر کر دیا جائے گا۔

    ان پر لگائے گۓ تین الزامات میں سے انہیں صرف توہین مذہب کا مرتکب پایا گیا ہے جبکہ مذہبی عقائد سے حقارت اور نفرت کے فروغ جیسے الزامات سے وہ بری قرار پائی ہیں۔

    برطانوی وزیرِ خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے برطانوی ٹیچر کی سزا پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ برطانیہ میں سوڈان کے سفارتکار عمر صدیق کو دفترِ خارجہ بلا کر اس فیصلے کے متعلق پوچھا گیا ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ 45 منٹ کی اس ملاقات کے دوران برطانوی وزیرِ خارجہ نے سوڈان کے نائب وزیرِ حارجہ سے بھی ٹیلیفون پر بات کی۔

    مسز گبنز کو اتوار کو اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب کئی والدین نے سوڈان کی وزارتِ تعلیم سے شکایت کی تھی کہ ٹیچر نے بچوں کو ٹیڈی بیر کا نام محمد رکھنے کی اجازت دی ہے۔

    اپنے ایک بیان میں وزیرِ اعظم گورڈن براؤن نے بھی کہا تھا کہ انہیں جلیئن گبنز کے خلاف لگائے جانے والے الزامات پر ’حیرت اور مایوسی‘ ہوئی ہے۔

    برطانیہ میں مسلم کونسل آف برٹن نے جلیئن گبنز کے خلاف الزامات پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔

    تنظیم کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر محمد عبدالباری نے ایک سخت بیان میں کہا: ’یہ فیصلہ شرمناک ہے اور عقلِ سلیم کے خلاف ہے۔ یہ واضح ہے کہ ٹیچر کا کوئی ارادہ نہیں تھا کہ وہ جان بوجھ کر اسلامی عقیدے کی توہین کریں۔‘

    ڈاکٹر باری نے سوڈانی صدر عمر البشیر سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے میں فوری طور پر مداخلت کریں اور یہ یقینی بنائیں کہ مسز گبنز کو اس ’شرمناک اور مشکل صورتِ حال‘ سے فوری رہائی ملے۔

    اس سے قبل لندن میں سوڈانی سفارت خانے نے کہا تھا کہ یہ چھوٹا سے مسئلہ ہے اور یہ کہ ٹیچر کو جلد ہی رہا کر دیا جائے گا۔ سفارت خانے نے کہا تھا کہ یہ واقعہ ثقافتی غلط فہمی کی پیداوار ہے۔

    دوسری طرف آرچ بشپ آف کنٹربری روان ولیمز نے بھی کہا ہے کہ انہیں اس سزا کا کوئی جواز نظر نہیں آتا۔
     
    Last edited by a moderator: ‏نومبر 30, 2007
  2. ہیر

    ہیر -: Banned :-

    شمولیت:
    ‏اگست 20, 2007
    پیغامات:
    433
    یہ سرود قمری و بلبل فریب گوش ہے
    باطن ہنگامہ آباد چمن خاموش ہے
    تیرے پیمانوں کا ہے یہ اے مۓ مغرب اثر
    خندہ زن ساقی ہے، ساری انجمن بے ہوش ہے
     
  3. راضی

    راضی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 3, 2007
    پیغامات:
    10,529
    اللہ ہر کسی کو توہینِ مذہب پر ایسا سبق دے کہ اُس کے 14 طبق روشن ہو جائیں۔۔۔۔
     
  4. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324

    ڈاکٹر عبد الباری خود کو اپنا عھدہ زیادہ عزیز ہے اس لئے اس نے اس طرح کا بیان دیا ہے تاکہ برطانیہ کی حکومت اس کو عھدے سے ہٹادے۔ دراصل ان جیسے ایمان فروش لوگوں ہی کو برطانیہ میں جگہ ملتی ہے۔ اگر اتنا ہی اپنا عھدہ عزیز تھا تو یہ ہی بیان دے دیتا کہ اس معاملے میں ہم کوئی کمیٹی تیار کرکے سوڈان بھیج دیں گے تاکہ اصل صورت حال سامنے آئے لیکن انھوں نے بغیر کسی تحقیق کے جلد بازی میں یہ بیان دیا۔

    توہین مذہب کا یہ معاملہ اب کسی سے مخفی نہیں۔ یہ خباثت ان کے دلوں میں اپنے پیغمبروں کیلئے ہے تو پھر آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسے پاک اور نبیوں کے سردار کیلئے کیوں نہیں ان کے دلوں میں۔

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کرنے والے کو موت کی سزا دینی چائیے جیسے کہ عہد نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں کعب بن اشرف کے ساتھ کیا گیا۔
     
  5. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,440
    السلام علیکم !
    برطانوی سکول ٹیچر جلیئن گبنز کو توہین مذہب کی پاداش میں موت کی سزا دینی چاہیے،تاکہ آئندہ آنے والوں کے لیے مقام عبرت ہو-
    جہاں تک بات ہے جنرل ڈاکٹر محمد عبدالباری کی تو یہ اسطرح کے میرجعفر،میرصادق ہر دور میں موجود رہے ہیں-حقیقت میں ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ان کودنیاوی شہرت وعزت عزیزہے- اپنا عہدہ بچانے کے لیے یہ بیان دیا ہے-
     
  6. irum

    irum -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 3, 2007
    پیغامات:
    31,582
    اللہ سب کو نیکی کی ہدایت دے آمین
     
  7. منہج سلف

    منہج سلف --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2007
    پیغامات:
    5,050
    اسلام علیکم!
    یہ بات میرے علم میں ہے۔
    اور اس عورت کو یہاں سے کافی ہمدردی مل رہی ہے، یہاں تک ہمارے وزیر اعظم گورڈن براؤن بھی اس میں کافی دلچسپی لے رہے ہیں۔
    خیر جو ہورہا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔
    محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا کی وہ عظیم ہستی ہیں جس کے بارے میں غلط سوچنا بھی غیر مسلم کے لیے اجازت نہیں۔
    یہ بات یہاں کے لوگوں کو سمجھ کچھ دیر سے آتی ہے۔
    اس ٹیچر نے دانستہ یا غیر دانستہ یہ بات کہی، اس کا علم تو اس کے اور اللہ کی ذات کے علاوہ کسی کو بھی نہیں۔
    اگر تو اس نے یہ بات غیر دانستہ کی ہے اور اس چيز کے علم آجانے کے بعد وہ اس چیز سے repentant ہوئی ہے تو میرے خیال میں سزا نہیں دینی چاہیے اور اگر وہ اس بات کو معمولی سمجھتی ہے اور repentant نہیں کرتی تو میرے خیال میں سزا ہونی چاہیے۔
    یہ اس ملک کے قانون کے اوپر ہے کہ وہ اسے کون سی سزا دیتی ہے۔
    خیر اب صرف انتظار اس بات کا ہے کہ وہ واپس اس ملک میں آکے کیا میڈیا کو کیا کہتی ہے۔
    اگر تو وہ اپنے اس فعل سے شرمندہ ہے اور اس کے بقول یہ غیر دانستہ تھا تو میرے خیال میں اسے مزید کچھ نہیں کہا جائے اور اگر وہ اپنے موقف پہ اڑی ہوئی ہے تو پھر اس بات پر احتجاج کرنا چاہیے۔
    رہی بات ڈاکٹر عبدالباری صاحب کی تو اس نے یہ بیان جلدی میں دے دیا ہے اسے پہلے حقائق معلوم کرنے چاہیے اور پھر اس کے برعکس بیان دینا چاہیے۔
    اللہ اسے دین کی سمجھ عطا فرمائے۔ آمین
    باقی جلدی میں کوئی بھی فیصلہ نہیں کرنا چاہیے، مگر پہلے اس بات کی تحقیق کرنی چاہیے۔
    واللہ اعلم
     
  8. irum

    irum -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 3, 2007
    پیغامات:
    31,582
    اللہ اسے دین کی سمجھ عطا فرمائے۔ آمین
     
  9. محمد نعیم

    محمد نعیم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 26, 2007
    پیغامات:
    901
    آج کل تو ہر ایک کتا بلا اسلام کے منہ کو آتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔اور
    اپنوں میں بھی بہت ایسے ہیں جو ان ٹٹ پنجیوں کی دل و جان سے وکالت کرتے ملیں گے۔
     
Loading...
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں