ویلنٹائن ڈے اور حیا کا دن

ساجد تاج نے 'گرافک کی ضروریات' میں ‏فروری 11, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,756
    [​IMG]


    [​IMG]


    [​IMG]


    [​IMG]


    [​IMG]


    [​IMG]


    [​IMG]

    [​IMG]


    [​IMG]

    بشکریہ : صراط الھدی فورم
    اینڈ منج سلف (عتیق الرحمن بھائی)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. Ishauq

    Ishauq محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 2, 2012
    پیغامات:
    9,612
    جزاک اللہ خیرا
     
  3. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    السلام علیکم
    اس حوالے سے بہت کچھ لکھا ، پڑھا اور سمجھا جاچکا ہے، ہم مسلمان خاص طور پر ہمارے اپنے لنکڈ جتنے بھی رشتے ہیں ان سے یہ بات کہدیں‌کہ ویلنٹائن ڈے وغیرہ، ننگے کام ہیں، اور خاص طور پر مسلمان ایسے عریاں‌ چیزوں سے بس دور ، بہت دور رہیں، باقی اس حوالے سے کچھ بھی کہنا فضول ہے۔۔۔۔۔!!!

    نیچے دئے گئے لنک پر حیا کے کلچر کو عام کرنے کے حوالے سے ایک ترانہ بھی پیش ہے، مفید ثابت ہوسکتا ہے۔

    حیا کے کلچر کو عام کرنا

    جزاک اللہ خیرا۔ساجد بھائی
     
    Last edited by a moderator: ‏فروری 11, 2012
  4. مجیب منصور

    مجیب منصور -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 29, 2008
    پیغامات:
    2,151
    جزاک اللہ ساجد بھائی
    اللہ تعالی سے دعا ہے کہ معاشرے میں کینسر کی طرح پھیلی ہوئی برائیوں سے ہم سب کی ماں بھن، بہو، بیٹیوں کی حفاظت فرمائے
    اور ہمیں یہودیوں کی نقل سے توبہ نصیب فرمائے۔آمین
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. حرب

    حرب -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2009
    پیغامات:
    1,082
    مگر حیاء ڈے کس کے ساتھ منائیں؟؟؟۔۔۔
     
  6. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,498
    سوقیانہ گرا ہوا گھٹیا مزاح ۔ تف ہے ایسی ذہنیت پر۔
     
  7. ابوعمر

    ابوعمر محسن

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 23, 2007
    پیغامات:
    171
    شکریہ

    ساجد بھائی السلام علیکم
    جزاک اللہ خیر ، بہت شکریہ آپ نے بہترین مضمون پیش کیا، یہ ایک بہت ہی عمدہ کوشش ہے ۔ اس طرح اپنی نئی نسل کی صحیح تربیت کرنا مجھے بہت اچھا لگا ۔ میں نے اسے سینکڑوں لوگوں کو ای میل کے ذریعے آگے ارسال کر دیا۔

    اس وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ہم سب مل کر اپنی اور اپنے آنے والے نسلوں کی صحیح تربیت کریں ۔ آج بی بی سی اردو میں دیکھ رہا تھا کہ پاکستان میں بھی جسم پر کدائی کروا کر تصویر یعنی ٹیٹو کی ایک دکان کھلی ہے ، اسے دیکھ کر بہت افسوس ہوا کہ ہماری نئی نسل کس سمت میں جا رہی ہے ؟!!!

    اعجاز بھائی نے ویلنٹاین ڈے پر کچھ واضح گرافکس بنائی تھیں اگر وہ بھی اس تھریڈ میں شامل ہو جائیں تو بہتر ہوگا ۔
    شکریہ
     
  8. msshad001

    msshad001 -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏فروری 7, 2012
    پیغامات:
    38
    جزاک اللہ خیر
     
  9. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,756
    بھائی منانے کے ورڈ کو کچھ یوں نہ لیں آپ کہ اس کو منانے کے لیے بھی آپ کو کسی کا ساتھ چاہیے بلکہ اس میسج کا مقصد یہ ہے کہ اس چیز سے بائیکاٹ کیا جائے اور اس چیز سے رُکنا ہے نہ کہ اس میں کسی ورڈ کو پکڑ کر بحث شروع کر دی جائے
    والسلام
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  10. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,498
    وہ حرام كما كر راتوں رات رئيس بننے والے نو دولتيوں كى نئى نسل ہے اور بى بى سى انہی كو پروجيكٹ كرتا ہے۔
    رزق حلال پر چلنے والے گھروں ميں الحمدللہ حيا جيسى مذہبی اقدار زندہ ہيں ، اور ان كے مشاغل بھی صحت مندانہ ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  11. قاسم

    قاسم -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 29, 2011
    پیغامات:
    875
    شکریہ ساجد بھاہی
     
  12. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    الحمدللہ۔

    حیا بہت سی اسلامی اقدار کے ساتھ ساتھ، اسلامی رجحان رکھنے والے گھروں‌میں‌اور سوسائیٹی میں‌موجود ہے۔

    بہرحال حیا ایک اہم سبجیکٹ ہے، اور اسلامی کلچر، معاشرہ، اور سوسائیٹی میں‌حیا کے معاملہ میں‌ہمیشہ سے سنجیدگی کے ساتھ بات کی گئی ہے، کہ حیا کا معاملہ صرف اور صرف صنف نازک ہی کو لیکر جو جوڑا جارہا ہے، وہ بھی غلط ہے، کیونکہ بے حیائی کے کام، دونوں اصناف ملکر، اور کبھی الگ الگ انجام دیتے ہیں، یہ تمام چیزوں‌کو ملاکر حیا، کا احیا ہونے ضروری ہے۔

    البتہ ایسے خاص مواقعوں‌پر یوم حیا، اور کوئی خاص دن بھی اگر منایا جائے تب کوئی مذائقہ نہیں کہ ایک زبردست مظاہر کے ذریعہ ایک دن جہاں‌یوم عریانیت و بے حیائی منائی جاتی ہے، وہاں‌کچھ انسانی نفوس اس کی نفی کرتے نظر آئیں، جسکا اچھا اثر معاشرہ پر پڑسکتا ہے۔

    شیطان تو انسان کا ازلی دشمن ہے، اور مذہبی گھرانوں‌میں بھی اگر صحیح‌سمت توازن کے ساتھ اخلاقی تربیت کا ماحول نہ ہو، تب بے حیائی کی چیزیں‌، اسکول ، کالج، مارکٹیٹس، خاندان اور سوسائیٹیز کے ذریعہ انجیکٹ ہورہی ہیں، جیسا کہ آج کل ، مہذب اسلامی گھرانے کی جنریشن بھی وہی بے حیاسوسائیٹی میں گھل مل جاتی ہے، چاہتے ہو ئے اور نہ جاہتے ہوئے، وہی اسکلولز، کالجز، مارکیٹس جس پر مغرب چھایا ہے، نیوجنریشن جو کہ اسلامی اقدار سے لیس بھی ہے، کچھ حد تک متاثرہونے کا چانس ہے کہ شیطان کے حربے ہر جگہ استعمال ہوتے ہیں۔

    ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنے کی ضرورت ہے، اخلاقی تربیت کے ساتھ ساتھ، پیرنٹل لیول ہمیشہ اپنی جنریشن کے بارے میں‌غوروفکر بھی کرتا رہے، اور گہری نظر بھی تب کہیں‌جاکر، عریانیت کے طوفان سے اچھے گھرانے محفوظ رہسکتے ہیںَ ورنہ کسی حد تک متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

    (میں ایک مثال دیتا ہوں ، جو کہ پاکستان کے حالات سے مختلف ہے، لیکن کیسے اسلامی اذہان بھی متاثر ہوسکتے ہیں، نام لئے بنا، کسی اچھی آرگنائیزیشن کے تحت چلنی والے طالبات کے اسلامی جامعہ کی بعض لڑکیاں ، غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ غلط سمت ڈائرکٹ ہوئی ہیں، اور یہاں‌تک کہ ارتداد کے بھی بعض‌معاملے سامنے آئے جن کے گھرانے مکمل اسلامی تھے، مزید اسلامی مدارس کے بعض‌فارغین ، بعض ایسے گھناونے بے حیائی کے افعال میں‌مبتلا پائے گئے جس سے انسانیت شرماتی ہے۔۔۔)

    بہرحال یہ پیراگراف ایک مثال کے طور پر لیا جائے کہ، ماحول کا اثر ئینگ جنریشن پر پڑتا ہے، اور اگر اس پر قابو نہ پایا جائے تب اسکے اثرات تیزی سے پھیلتے ہیں، کیونکہ شیطان اس ٹاسک پر مستعدی کے ساتھ ہر انسان کے ساتھ لگا ہوا ہے۔

    اللہ شیطان کی کارستانیوں‌سے انسانیت کو محفوظ رکھے۔۔آمین ثم آمین

    میں‌ یہاں‌مزید ایک بات آڈ کرنا چاہونگا کہ ، موبائیل، اور انٹرنیٹ بھی بے حیائی کے فروغ میں‌زبردست ٹول کے طورپر استعمال ہوا ہے، جس پر ڈسکس ہوچکی ہے، البتہ سوشل فورمس جس میں ٹوئیٹر، فیس بک وغیرہ کے چرچے ہر خاص و عام کی زبان پر ہے، کے زریعہ بھی بے حیائی انجیکٹ ہورہی ہے، خاص طور پر نیو جنریشن کو اسکا استعمال کوئی بہت زیادہ ضروری نہیں، لیکن ہر چھوٹے بچے کے ہاتھ میں‌موبائیل، اور نیٹ کا ایزی ایکسس ، جہاں‌ہر صنف مخالف صنف کے ساتھ ، کسی بھی لیول پر رابطہ قائم کرسکتی ہے، اور اسکے مواقعہ کھلے ہیں، اس پر بھی گہری نظر کی ضرورت ہے، کیونکہ اخبارات میں سائیبر کرائم کے حوالے سے بھی ہر دن خبر موجود ہے۔۔۔۔۔


     
    Last edited by a moderator: ‏فروری 13, 2012
  13. فلاح کا راستہ

    فلاح کا راستہ -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏اگست 22, 2011
    پیغامات:
    238
    بہترین شیئرنگ ہے بھائی
     
  14. JUNAID BIN SHAHID

    JUNAID BIN SHAHID نوآموز.

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    806
    جزاک اللہ
     
    Last edited by a moderator: ‏فروری 24, 2012

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں