اللہ تعالی کی وسعتیں

ساجد تاج نے 'ادبی مجلس' میں ‏فروری 20, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,758
    [​IMG]


    [​IMG]

    اللہ تعالی کی وسعتیں

    [​IMG]




    حضرت آدم علیہ السلام سے پہلے سے بھی اربوں‌فرشتے اللہ تعالی کی عبادت کرتے تھے ۔ اور آدم علیہ السلام ی تخلیق کے بعد بھی فرشتے اپنا فرض نبھا رہے ہیں۔

    اور جب انسان کا وجود اس کائنات سے ختم ہو جائے گا پھر بھی فرشتے اسی طرح عبادت کرتے رہیں گے۔

    انسان آزمائش کا وجود ہے اس نے زندگی کے امتحان سے گزر کر ایک طویل زندگی پائی ہے جس زندگی کو فرشتوں کی طرح‌موت نہیں‌ہو گی لیکن امتحان میں‌پاس ہونے کے بعد اللہ تعالی معاف ضرور کرے گا لیکن اپنے گناہوں کی سزا کے بعد۔

    پھر بہشت میں انسان اللہ تعالی کی عبادت کرے گا۔

    مگر انسان دنیا میں اتنے اختیارات کے باوجود یقین میں‌کمزور رہا ہے۔

    دنیا کا وجود اس بات پر ہے میں‌ تمہارا رب ہوں میں‌نے تمہیں دنیا میں‌بھیجا ہے اور تمھیں میرے پاس پوٹ کر آنا ہے اور جو اعمال تم اپنے ساتھ لائو گے اُس کا حساب ضرور ہوگا لیکن انسان کو اعتبار ہی نہیں‌آتا اگر اعتبار ہوتا تو گناہ نہ کرتا۔

    اس لیے آدم علیہ السلام سے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغبر آئے کہ صرف انسان کو اس بات کا یقین دلانا تھا کہ تو اپنے اعمال ٹھیک کر۔

    اگر انسان اپنے اعمال ٹھیک کر لیتا تو:۔

    پھر یہ جھوٹا نہ ہوتا۔

    پھر یہ بے ایمان نہیں ہوتا۔

    پھر یہ زانی نہ ہوتا۔

    پھر یہ چور نہ ہوتا۔

    پھر یہ حرام نہ کھاتا۔

    پھر یہ کسی کا حق نہ مارتا۔

    پھر یہ ضمیر فروش نہ ہوتا۔

    پھر یہ ناشکرا نہ ہوتا۔

    غرض تمام تر گناہوں کی وجہ بے یقینی ہے۔ اللہ تعالی اپنا ہر وعدہ پورا کرے گا پس انسان کو یقین کرنا ہوگا کہ معافی سزا کے بعد ہی ملے گی۔



    کیا یقین کرنے کے لیے درج ذیل نشانیاں کم ہیں۔

    1۔ انسان کو زندہ رکھنے کے لیے زمین کا وجود۔

    2۔ یہ پانی جو صرف زمین کی حدود میں ہے۔

    3۔ یہ گرمی ، سردی جو صرف زمین پر ہے۔

    4۔ یہ اناج ، یہ پھل ، یہ سبزیاں، یہ گوشت دینے والے حیوان، یہ موت ، یہ زندگی ، یہ حسن ، یہ دریا ، یہ سمندر ، یہ پہاڑ ، یہ صحرا ، یہ چاند ، یہ سورج ، یہ ستارے ، یہ دن ، یہ رات ، یہ موسم ، یہ درخت ، یہ پرندے ، یہ دن کی روشننی اور رات کا اندھیرا۔

    5۔ اے انسان یہ اللہ تعالی کی وسعتیں کیا کم ہیں آجے کے دور میں ‌دنیا میں ایک منٹ میں 40ہزار انسان مر جاتے ہیں‌ پھر بھی انسان کو کچھ سمجھ نہیں آتا۔

    تیرے لیے ہی تو اتارا ہے قرآن کو فرازی

    ورنہ فرشتوں کو ضرورت نہ تھی اصلاح کی بھی

    پورے یقین سے اللہ تعالی پر بھروسہ کرو

    اور اپنی عقل کے گُن نہ گاتے رہو۔

    اور صرف اپنی عقل پر تکیہ نہ کرو۔

    اللہ تعالی سے مدد کے طالب رہو۔

    وہی عقل عطا کرنے والا ہے۔

    وہی تمہاری رہنمائی کرتا ہے۔

    اپنی نگاہ میں‌خود کو سب سے دانشمند نہ سمجھو۔

    تمہاری دانشمندی کا فیصلہ دوسروں کے پاس ہے۔


    رائٹر : اورنگ زیب فرازی
    کتاب : حیاتِ بشر
    صفحہ نمبر : 248،249،250،251

    [​IMG]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    جزاک اللہ خیرا بھائ ساجد تاج
     
  3. بنت واحد

    بنت واحد محسن

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2008
    پیغامات:
    11,962
    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. سائرہ ساجد

    سائرہ ساجد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 3, 2011
    پیغامات:
    693
    جزاک اللہ خیرا
     
  5. فلاح کا راستہ

    فلاح کا راستہ -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏اگست 22, 2011
    پیغامات:
    238
    جزاک اللہ خیرا
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں