حضرت خنسإ رضی اللہ تعالیٰ عنہا۔۔۔۔ ارثی العرب

mahajawad1 نے 'سیرتِ سلف الصالحین' میں ‏فروری 24, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. mahajawad1

    mahajawad1 محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 5, 2008
    پیغامات:
    473
    حضرت خنساء رضی اللہ تعالیٰ عنہا۔۔۔۔ ارثی العرب


    حضرت خنساء بنت عمرو رضی اللہ عنہا


    سیّدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں جنگ قادسیہ کا شمار عراق عرب کی سرزمین پر لڑی جانے والی نہایت خونریز اور فیصلہ کن جنگوں میں ہوتا ہے۔اس لڑائی میں سلطنت ایران نے اپنے دو لاکھ آزمودہ کار جنگ جو اور تین سو جنگی ہاتھی مسلمانوں کے مقابل لا کھڑے کئے۔ دوسری طرف مجاہدین اسلام کی کل تعداد صرف تیس اور چالیس ہزار کے درمیان تھی۔ ان میں سے بعض مجاہدین کے ساتھ انکے اہل و عیال بھی جہاد میں حصہ لینے کے لئے قادسیہ آئے تھے۔ اس موقع پر ایک ضعیف العمر خاتون بھی جذبہ جہاد سے سرشاراپنے چار جوان فرزندوں کے ساتھ میدان جنگ میں موجود تھیں۔ شب کے ابتدائی حصے میں جب ہر مجاہد آنے والی صبح کے ہولناک منظر پر غور کر رہا تھا اس خاتون نے اپنے چاروں فرزندوں کو اپنے پاس بلایا اور ان سے یوں خطاب کیا:
    میرے بچو! تم اپنی خوشی سے اسلام لائے اور اپنی خوشی سے تم نے ہجرت کی ۔ اس ذات لا یزال کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے جس طرح تم ایک ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے اسی طرح تم ایک باپ کی اولاد ہو۔ میں نے نہ تمہارے باپ سے خیانت کی اور نہ تمہارے ماموں کو ذلیل و رسوا کیا۔ تمہارا نسب بے عیب ہے اور تمہارا حسب بے داغ۔ خوب سمجھ لو کہ جہاد فی سبیل اللہ سے بڑھ کر کوئی کار ثواب نہیں۔ آخرت کی دائمی زندگی دنیا کی فانی زندگی سے کہیں بہتر ہے۔
    اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اصْبِرُواْ وَصَابِرُواْ وَرَابِطُواْ وَاتَّقُواْ اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

    ترجمہ: اے مسلمانوں ! صبر سے کام لو اور ثابت قدم رہو اور آپس میں مل جل کر رہو، اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو تاکہ مراد کو پہنچو۔
    ](سورۃ آل عمران: 200)

    کل اللہ نے چاہا اور تم خیریت سے صبح کرلو تو تجربہ کاری کے ساتھ اور خدا کی نصرت کی دعا مانگتے ہوئے دشمن پر ٹوٹ پڑنا اور جب تم دیکھو کہ لڑائی کا تنور خوب گرم ہو گیا اور اسکے شعلے بھڑکنے لگے تو تم خاص آتشدانِ جنگ میں گھس پڑنا اور راہ حق میں دیوانہ وار تلوار چلانا۔ ہو سکے تو دشمن کے سپہ سالار پر ٹوٹ پڑنا۔ اگر کامیاب رہے تو بہتر اور اگر شہادت نصیب ہوئی تو یہ اس سے بھی بہتر کے آخرت کی فضیلت کے مستحق ہونگے۔

    چاروں نونہالوں نے یک زبان ہو کر کہا:
    اے مادر محترم! ان شاء اللہ ہم آپ کی توقعات پر پورا اتریں گے اور آپ ہمیں ثابت قدم پائیں گی۔

    صبح جب معرکہ کارزار گرم ہوا تو ان خاتون کے چاروں فرزند اپنے گھوڑوں کی باگیں اٹھائے رجزیہ اشعار پڑھتے ہوئے ایک ساتھ میدان جنگ میں کود پڑے۔ بزرگ خاتون جن کے چہرے پر عجیب قسم کا جلال تھا اپنے فرزندوں کو میدان رزم میں بھیج کر بارگاہ الٰہی میں یوں عرض پیرا ہوئیں۔

    " الٰہی میری متاع عزیز یہی کچھ تھی، اب تیرے سپرد ہے"۔

    اپنی ماں کی تقریر سن کر ان نوجوانوں کے دلوں میں رات ہی سے شوق شہادت کے شعلے بھڑک رہے تھے۔ اب جو لڑائی کا موقع ملا تو ایسی وارفتگی سے لڑے کہ شجاعت بھی آفریں پکار اٹھی۔ جس طرف جھک پڑتے تھے غنیم کے پرّے کے پرّے صاف ہو جاتے تھے۔ آخر دشمن کے سینکڑوں جنگجوؤں نے انہیں اپنے گھیرے میں لے لیا۔ اس حالت میں بھی یہ سرفروش مطلق ہراساں نہ ہوئےاور دشمن کے بیسیوں سپاہیوں کو خاک اور خون میں لٹا کر خود بھی رتبہ شہادت پر فائز ہو گئے۔ جب ان خاتون نے اپنے بچوں کی شہادت کی خبر سنی تو نالہ و فریاد کرنےکی بجائے بارگاہ ربّ العزّت میں سجدہ ریز ہو گئیں اور انکی زبان پر بے ساختہ یہ الفاظ جاری ہو گئے،

    " اس اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے اپنے فرزندوں کے قتل سے مشرّف کیا۔ باری تعالیٰ سے امید ہے کہ وہ قیامت کے دن مجھے ان بچوں کے ساتھ اپنے سایہ رحمت میں جگہ دے گا۔"

    یہ ضعیف العمر خاتون جنہوں نے تسلیم و رضا اور صبر تحمّل کا ایسا مظاہرہ کیا کہ چشم فلک نے کبھی اسکی نظیر نہیں دیکھی تھی، عرب کی مشہور مرثیہ گو حضرت خنساء رضی اللہ تعالیٰ عنہا بنت عمرو تھیں۔
    حضرت خنساء رضی اللہ عنہا (الخنساء) کا شمار عظیم المرتبت صحابیات میں ہوتا ہے۔ ان کا تعلق نجد کے قبیلہ بنو سُلیم سے تھا جو بنو قیس بن عیلان کی ایک شاخ تھا۔ یہ قبیلہ اپنی شرافت نفس،جودوسخا اور شجاعت و ہمت کی بنا پر قبائل عرب میں امتیازی حیثیت کا حامل تھا۔ یہاں تک کہ ایک موقع پر خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قبیلے کی تعریف ان الفاظ میں فرمائی۔: ’’بلا شبہ ہر قوم کی ایک پناہ گاہ ہوتی ہے اور عرب کی پناہ گاپ قیس بن عیلان ہے۔‘‘
    حضرت خنساء کا اصل نام تماضر تھا۔ سلسلہ نسب یہ ہے:
    تماضر بنت عمرو (عمرو بن الحارث) بن الشرید بن رباح بن یقظہ بن عصیۃ بن خفاف بن امراء القیس بن یہثہ بن سُلیم بن منصور بن عکرمہ بن خصفہ بن قیس بن عیلان بن مضر۔
    تماضر چونکہ بہت ہوشیار، چست اور خوبرو تھیں اس لیے خنساء کے لقب سے مشہور ہوئیں جس کے معنی ہرنی کے ہیں۔
    مؤرخین نے حضرت خنساء کے سال ولادت کی تصریح نہیں کی لیکن قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہجرت نبوی سے تقریباً پچاس برس پہلے پیدا ہوئیں۔ ان کا والد عمرو بنو سُلیم کا رئیس تھا اور اپنی وجاہت اور ثروت کی بنا پر بڑے اثرورسوخ کا مالک تھا۔ اس نے اپنی اولاد (خنساء اور ان کے بھائیوں معاویہ و صخر) کی پرورش بڑے نازونعم سے کی، یہاں تک کہ وہ بڑے ہو کر اعلیٰ خصائل کے مالک ہوئے۔ مبدأ فیاض نے خنساء کی فطرت ہی میں شعروسخن کا ذوق ودیعت کیا تھا چنانچہ وہ صغر سنی میں کبھی کبھی دو چار شعر موزوں کر لیا کرتی تھیں۔ رفتہ رفتہ شعور کی پختگی کے ساتھ ان کی شعری صلاحیتیں بھی ترقی کرتی گئیں۔ یہاں تک کہ آگے چل کر وہ ایک شہرہ آفاق مرثیہ گو شاعرہ کے مرتبہ پر فائز ہوئیں۔ حضرت خنساء رضی اللہ عنہا کے عنفوان شباب کو پہنچنے سے پہلے ہی ان کے شفیق باپ کا انتقال ہو گیا۔ حضرت خنساء رضی اللہ عنہا کیلیے یہ ایک جانکاہ صدمہ تھا لیکن ان کے دونوں بھائیوں معاویہ اور صخر نے ایسی محبت اور دلسوزی کے ساتھ ان کی کی سرپرستی کی کہ وہ باپ کا غم بھول گئیں۔اب انکی عقیدت اور محبت کا مرجع ان کے دونوں بھائی تھے۔ وہ ان سے ٹوٹ کر محبت کرتی تھیں اور ان کو دیکھ دیکھ کر جیتی تھیں۔ اسی زمانے میں بنو ہوازن کے مشہور شہسوار شاعر اور رئیس دُرید بن الصمّہ نے خنساء رضی اللہ عنہا کو ان کے بھائی معاویہ کے ذریعے شادی کا پیغام دیا۔ حضرت خنساء رضی اللہ عنہا نے بعض وجوہات کی بنا پر یہ پیغام قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ بعض مؤرخین نے لکھا ہے کہ دُرید ایک معمر شخص تھا اور اسکی شکل وصورت بھی کوئی ایسی پسندیدہ نہیں تھی اسلیے خنساء رضی اللہ عنہا نے اسے دیکھ کر ناپسند کیا اور اسکے خلاف کچھ اشعار بھی کہے جن میں درید اور اسکے قبیلہ کا ذکر طنزیہ انداز میں کیا۔
    اسکے بعد اپنے قبیلے کے ایک نوجوان عبدالعزّیٰ (یابروایت ابن قتیبہ، رواحہ بن عبدالعزّیٰ) سے شادی کی۔ اس سے حضرت خنساء رضی اللہ عنہا کا ایک بیٹا ابو شجرہ عبداللہ پیدا ہوا۔ عبدالعزّیٰ نے جلد وفات پائی۔ اسکے بعد خنساء رضی اللہ عنہا نے بنو سُلیم ہی کے ایک دوسرے شخص مرداس بن ابی عامر سے نکاح کرلیا۔ اس سےان کے تین بیٹے عمرو، زید اور معاویہ ( یا بقول ابن حزم ہبیرہ، جزعہ اور معاویہ) پیدا ہوئےاور ان کے بعد ایک بیٹی عمرہ پیدا ہوئی۔ مرداس ایک بہادر اور حوصلہ مند آدمی تھا۔ اس نے اپنے کچھ ساتھیوں کی مدد سے ایک چشمے سے متصل دلدلی زمین کو قابل کاشت بنانے کی کوشش کی وہاں کی مرطوب آب و ہوا نے اس کی صحت پر برا اثر ڈالا اور وہ بخار میں مبتلا ہوکر انتقال کر گیا۔
    اسکے بعد حضرت خنساء رضی اللہ عنہا نے اپنی ساری زندگی بیوگی کی حالت میں کاٹ دی۔ ان کے بھائیوں معاویہ اور صخر نے ان کی دلجوئی میں کوئی کثر اٹھا نہ رکھی اور وہ دل جمعی کے ساتھ اپنے بچوں کی پرورش اور تربیت میں مصروف رہیں۔ اس زمانے میں وہ اپنا ذوق شعروسخن بھی پورا کرتی تھیں لیکن ان کا دائرہ شہرت محدود ہی رہا۔ جس واقعے نے انکی زندگی کا رخ بدل دیا اور ان کے اشعار میں غضب کی تاثیر پیدا کردی وہ ان کے مربی بھائیوں کا یکے بعد دیگرے انتقال تھا ۔ مؤرخین نے یہ واقعہ اس طرح بیان کیا ہے کہ خنساء رضی اللہ عنہا کے بھائی معاویہ کا عکاظ کے میلے میں بنو مُرّہ کے ایک شخص ہاشم بن حرملہ سے جھگڑا ہو گیا تھا۔وہ ہاشم سے بدلہ لینے کیلیے اپنے اٹھارہ ساتھیوں کے ہمراہ قبیلہ مرّہ پر دھاوہ بول دیا۔ لڑائی کے دوران وہ ہاشم کے بھائی درید کے ہاتھوں قتل ہو گیا۔ اسکے بعد صخر نے اپنے بھائی معاویہ کے قتل کا انتقام لینے کی قسم کھائی۔ چنانچہ اس نے موقع پا کر دُرید کو قتل کر دیا اور اسکے ایک سُلیمی ساتھی نے دُرید کے بھائی ہاشم بن حرملہ کو موت کے گھاٹ اتار دیا لیکن اس پر بھی صخر کی آتش انتقام سرد نہ ہوئی اور وہ بنو مرّہ پر برابر حملے کرتا رہا۔ اس کشمکش کے درمیان بنو مرّہ کے حلیف بنو اسد کے ایک شخص ظلعس نے صخر کو شدید زخمی کر دیااور وہ کئی ماہ تک اپنے خیمے میں نیم جان پڑا رہا۔ حضرت خنساء رضی اللہ عنہا نے بڑی بڑی تندہی سے اپنے محبوب بھائی کی تیماداری کی لیکن وہ جانبر نہ ہو سکا، صخر بڑا شجاع، عاقل اور خوبصورت جوان تھا۔ حضرت خنساء رضی اللہ عنہا کو اسکی موت پر بڑا شدید صدمہ پہنچا۔ ان کے دل و دماغ میں ایک آگ سی بھڑک اٹھی جس نے نہایت دردناک اور فصیح و بلیغ مرثیوں کی شکل اختیار کر لی۔ انہوں نے صخر کے فراق میں ایسے دلسوز اور جانگداز مرثیے کہے کہ جو سنتا اشکبار ہوئے بغیر نہ رہ سکتا۔ ان مرثیوں نے انہیں سارے عرب میں مشہور کردیا اور نہ صرف عام لوگ بلکہ ان کے ہم عصر عرب شعراء بھی ان کی قادر کلامی اور استادی کا لوہا مان گئے۔ انہوں نے صخر کی یاد میں جو مرثیے کہے ان کے چند اشعار کا ترجمہ حسب ذیل ہے۔

    اے میری آنکھوں! خوب آنسو بہاؤ اور ہرگز نہ رکو
    کیا تم صخر جیسے سخی پر نہیں روؤگی؟
    کیا تم اس شخص پر نہ روؤگی جو نہایت جری اورجوانِ رعنا تھا
    کیا تم اس سردار پر نہیں روؤگی جو سروقد تھا اور جس کا پرتلہ بڑا لمبا تھا۔
    جو کمسنی ہی میں اپنے قبیلے کا سردار بن گیا
    قوم نے اسکی طرف اپنے ہاتھ دراز کیے تو اس نے بھی اپنے ہاتھ دراز کر دیے
    اور ان بلندیوں پر پہنچ گیا جو لوگوں کے ہاتھوں سے بھی بلند تھیں
    اور اسی عزّت و عظمت کی حالت میں اس دنیا سے رخصت ہوا۔
    اگر شرافت اور عزت کا ذکر آئے تو دیکھو گے کہ
    صخر نے عزت کی چادر اوڑھ لی ہے
    صخر کی بڑے بڑے لوگ اقتدا کرتے ہیں، گویا کہ وہ ایک پہاڑ ہے
    جس کی چوٹی پر آگ روشن ہے۔


    اس مرثیے کے آخری شعر
    وَاَنَّ صَخَراًلَتَاتَمُّ الْھُدَاۃُ بِہِ کَاَنَّہُ عَلَمُُ فِیْ رَاسِہِ نَارُُ

    کی تاثیر کا تو یہ عالم تھا کہ جو سنتا تھا دانتوں تلے انگلیاں داب لیتا تھا۔
    درّ منثور میں ہے کہ حضرت خنساء رضی اللہ عنہا صخر کی قبر پر صبح و شام جا کر اس قسم کے دردناک اشعار پڑھا کرتیں اور زاروزار رویا کرتیں۔

    ’’سورج جب نکلتا ہے تو وہ مجھے صخر کی یاد دلاتا ہے
    اور اسی طرح ہر غروب آفتاب کے وقت بھی مجھے اسکی یاد آتی ہے
    اگر میرے ارد گرد اپنے مرے ہوؤں پر رونے والوں کی کثرت نہ ہوتی تو میں اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالتی
    اے صخر! اگر تونے اب میری آنکھوں کو رلایا ہے تو (کیا ہوا اس سے پہلے) ایک عرصے تک تم مجھے ہنساتے بھی تو رہے ہو
    تم زندہ تھے تو تمہارے طفیل میں آفات و حوادث کو دفع کر لیتی تھی افسوس کے اب کون اس بڑی مصیبت کو دور کرے گا۔
    بعض مقتولوں پر رونا اچھا نہیں لگتا لیکن تجھ پر رونا بیحد قابل ستائش ہے۔‘‘

    زمانہ جاہلیت میں عرب ربی الاوّل سے ذیقعدہ تک مختلف مقامات پر بڑی دھوم دھام سے میلے لگایا کرتے تھے۔ بازارِ عکاظ کا میلہ ان میں سب سے زیادہ مشہور تھا۔ اس میلے میں عرب قبائل کے تمام روؤسااور ہر قسم کے اربابِ ہنر وکمال شامل ہوتے۔ قبائل کے نئے سردار چنے جاتے اور باہمی تنازعات کے فیصلے کیے جاتے۔غرض یہ میلہ نہایت اہم اور مرکزی حیثیت کا حامل تھا۔ عرب کے کونے کونے سے ہر چھوٹا بڑا شاعر اس میں شریک ہوتا اور لوگوں کو اپنا کلام سناتا حضرت خنساء رضی اللہ عنہا بھی ہر سال بازار عکاظ کے اس میلے میں شریک ہوتیں۔ جب انکی آمد آمد ہوتی تو لوگ اس طرف ٹوٹ پڑتے ان کے اونٹ کے گرد گھیرا ڈال کر مرثیے سنانے کیلئے اسرار کرتے۔ جب وہ اپنے کسی مرثیہ کے اشعار پڑھتیں تو لوگ فرط رنج والم سے دھاڑیں مار مار کر روتےاور یہ سامعین کون ہوتے تھے؟ نہایت سنگدل اور خوفناک بدوی جنگجو جن کیلئے قتل وغارت محض ایک کھیل تھا۔ خنساء کے اشعار سن کر ان کے دل پگھل جاتے اور سیل اشک انکی آنکھوں سے رواں ہو جاتا۔ یہ سیل اشک ان میں جذبہ انسانیت پیدا کرنے کا سبب بنتا۔
    خنساء رضی اللہ عنہا کو اپنی زبان کے صرف ونحو پر کمال درجہ کا عبور حاصل تھا وہ اگرچہ تمام اصنافِ سخن میں ید طولیٰ اور مہارت تامہ رکھتی تھیں لیکن مرثیہ گوئی میں وہ اپنا جواب نہیں رکھتی تھیں۔ بازار عُکاظ میں ان کے دروازے پر ایک جھنڈا نصب ہوتا تھا جس پر یہ الفاظ لکھے ہوتے تھے۔
    الخنساء ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ارثی العرب

    یعنی عرب کی سب سے بڑی مرثیہ گو خنساء

    بازار عکاظ میں عرب کا عظیم ترین شاعر نابغہ ذبیانی بھی آیا کرتا تھا، اسکے لیے سرخ رنگ کا خیمہ نصب کیا جاتا تھا جو سارے میلے میں منفرد ہوتا تھا۔ اسلیے کہ وہ اپنے دور کے شاعروں میں مُسْلِمُ الثَّبوُت استاد مانا جاتا تھا اور بڑے بڑے نامی شعراء اسے اپنے اشعار سنانے میں فخر محسوس کرتے تھے۔ جب حضرت خنساء رضی اللہ عنہا پہلی بار بازارِ عُکاظ میں آئیں اپنے اشعار نابغہ کو سنائے تو وہ بے اختیار پکار اٹھا۔
    ’’ واقعی تو عورتوں میں بڑی شاعرہ ہےاگر میں اس سے پہلے ابو بصیر(اعشیٰ) کے اشعار نہ سن لیتا تو تجھ کو اس زمانے کے تمام شعراء پر فضیلت دیتا اور کہہ دیتا کہ تو جنّ و انس میں سب سے افضل ترین شاعرہ ہے۔‘‘؎۱
    رفتہ رفتہ خنساء رضی اللہ عنہا کی شاعرانہ عظمت کا چرچا تمام عرب میں پھیل گیا اور نہ صرف ان کے ہم عصر بلکہ بعد کے فحول شعرائے عرب نے بھی ان کی عظمت کا اعتراف کیا۔ حضرت خنساء رضی اللہ عنہا کے شعر کہنے کا اسلوب سادہ لیکن نہایت دلکش اور اثر انگیز ہے۔ فی الحقیقت فخریہ شعر کہنے اور مرثیہ میں تو مشکل ہی سے کوئی انکی ہمسری کا دعویٰ کر سکتا ہے۔ علامہ ابن اثیر کہتے ہیں کہ:
    ’’ تمام علمائے شعرو سخن اس بات پر متفق ہیں کہ کوئی بھی عورت شعر گوئی میں خنساء رضی اللہ عنہا
    کے برابر نہیں ہوئی نہ ان سے پہلے نہ ان کے بعد‘‘ (اسد الغابہ)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(1) کہا جاتا ہے کہ اس موقع پر حضرت حسّان بن ثابت بھی موجود تھے۔ وہ جاہلی دورمیں بھی عرب کے چوٹی کے شعراء میں شمار ہوتے تھے۔ اور اسلام لانے کے بعد تو انہیں ’’مدّاحِ رسول‘‘ اور شاعر دربار نبوت کی حیثیت سے جو فضیلت اور عظمت حاصل ہوئی وہ محتاجِ بیان نہیں۔ یہ واقعہ انکی زندگی کے جاہلی دور سے تعلق رکھتا ہے۔ خنساء کے بارے میں نابغہ کے الفاظ سن کر وہ غصہ سے بے تاب ہو گئے اور کڑک کر بولے۔ ’’ تونے غلط کہا، خنساء سے بہتر میرے شعر ہیں۔‘‘ نابغہ نے خود جواب دینے کے بجائے خنساء کی طرف دیکھا، انہوں نے حسّان سے مخاطب ہو کر کہا: ’’تمہیں اپنے قصیدے کے کس شعر پر سب سے زیادہ ناز ہے؟‘‘
    حسّان نے یہ شعر پڑھا:

    لَنَا الْجَفَانَاتُ الغُرُّ یَلَعْمَنَ فِی الضُحُّیٰ وَ اَسْیَا فَنَا یَقْطُرْنَ مِنْ نَجْدَۃٍ دَمَا
    (یعنی ہمارے پاس بڑے بڑے شفّاف برتن ہیں جو چاشت کے وقت چمکتے ہیں اور ہماری تلواریں بلندی سے خون ٹپکاتی ہیں)

    حضرت خنساء رضی اللہ عنہا نے فوراً کہا’ یہ شعر سات آٹھ جگہوں پر بلندی سے گر گیا ہے۔ جفنات کا اطلاق دس سے کم پر ہوتا ہے۔ غر پیشانی کی سفیدی کو کہتے ہیں اسکے بجائے بیض کا لفظ موزوں تھا۔ یلمعن ایک عارضی چمک کو کہتے ہیں اسکے بجائے یشرقن بہتر تھاکیونکہ اشراق، لمعان سے زیادہ دیرپا ہے۔ ضحیٰ سے وجیٰ بہتر تھا کیونکہ روشنی سیاہی میں زیادہ قابل وقعت ہوتی ہے۔ اسیاف جمع قلّت کا صیغہ ہے، سیوب کہنا چاہیئے تھا۔ یقطرن میں وہ خوبی نہیں جو یسلن میں ہے۔ اسی طرح بمقابہ دم کے دماء میں کثرت کا مفہوم ہے۔‘‘
    حضرت حسّان رضی اللہ عنہ خنساء رضی اللہ عنہا کے اعتراضات سن کر خاموش ہو گئے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    لیلائے اخیلیہ کو اپنے دور کی سب سے بڑی عرب شاعرہ مانا گیا ہے لیکن ابن قتیبہ کے نزدیک اس کو خنساء رضی اللہ عنہا پر فضیلت حاصل نہیں ہے۔ وہ اپنی کتاب طبقات الشعراء میں لکھتے ہیں:
    ’’ لیلائے اخیلیہ عربوں میں سب سے بڑی شاعرہ ہے جس پر کسی کو تفوق حاصل نہیں سوائے خنساء کے۔‘‘
    بنو امیّہ کے دور کے مشہور شاعر جریر متوفّیٰ ۱۱۰ ہجری) سے ایک مرتبہ لوگوں نے پوچھا۔ سب سے بڑا شاعر کون ہے؟ اس نے جواب دیا کہ اگر خنساء نہ ہوتی تو میں ہی سب سے بڑا شاعر تھا۔
    بشار بن برونہ نہ صرف خود ایک بہت بڑا شاعر تھا بلکہ کمال درجے کا سخن فہم بھی تھا۔ وہ کہا کرتا تھا کہ جب میں عورتوں کے اشعار دیکھتا ہوں تو ان میں کوئی نہ کوئی خامی ضرور پاتا ہوں۔ ایک مرتبہ لوگوں نے اس سے پوچھا، کیا خنساء کے اشعار بھی خامی سے پاک نہیں؟ اس نے جواب دیا:
    ’’وہ تو مردوں سے بھی بڑھ گئی ہے۔‘‘
    حافظ ابن الحجر نے ’’الاصابہ‘‘ میں لکھا ہے کہ عہد بنی امّیہ کا مشہور شاعر اخطل( جواپنی شاعرانہ صلاحیتوں کی بدولت نابغہ ذبیانی کا ہم مرتبہ شمار ہوتا ہے) ایک مرتبہ عبدالملک بن مروان کے دربار میں گیا اور ایک مدحیہ پیش کرنے کی اجازت مانگی۔ عبدالملک ایک صاحب علم و سخنفہم شخص تھا اس نے جواب دیا۔’’ اگر تم مجھے شیر اور سانپ سے تشبیہ دینا چاہتے ہو تو میں تمہارے شعر نہیں سنوں گا ہاں اگر تم خنساء رضی اللہ عنہا کے کلام جیسے اشعار پیش کرنا چاہتے ہو تو کرو۔‘‘
    حضرت خنساء رضی اللہ عنہا کا آغاز پیری تھا کہ فاران کی چوٹیوں سے آفتاب رسالت طلوع ہوا اور عرب کا گوشہ گوشہ اس کے ذریعے چمکنے لگا۔ وائے بدبختی کہ اہل مکہ میں سے اکثر نے اس نور ہدایت کی طرف سے آنکھیں بند کرلیں اور حق کے چراغ کو پھونکوں سے بجھانے کیلیے کوئی کثراٹھا نہ رکھی۔ یہ چراغ جسے خود اللہ تعالیٰ نے روشن کیا تھا ان سے کیا بجھنا تھا البتہ اپنے کرتوتوں کے باعث وہ عارضی طور پر اسکی برکات و انوار سے محروم ہو گئے۔ دوسری طرف تین سو میل دور اہل یثرب کی قسمت میں یہ سعادتِ عظمیٰ لکھی ہوئی تھی کہ انہوں نے اس متاع بے بہا کیلئے دیدہ و دل فرش راہ کر دیے۔ اور اپنی جانوں اور مالوں کو مکہ کے درّ یتیم کے قدموں میں لا دالا۔ چنانچہ جب یثرب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نزول اجلال کے بعد مدینۃ النّبی بن گیا تو اسلام کو ایک مرکز میّسر آگیا اور پیغام حق آہستہ آہستہ عرب کے تمام اطراف و اکناف میں پھیلنے لگا۔ حضرت خنساء رضی اللہ عنہا کے کانوں میں بھی اس پیغام کی بنک پڑی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں فطرت سعید سے نوازا تھا۔ یہ پیغام سنتے ہی دلو دماغ کی دنیا بدل گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنے قبیلے کے چند آدمیوں کو ساتھ لیا اور منزلوں پر منزلیں طے کرتی مدینہ منورہ پہنچیں اور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر دولت لازوال سے مالا مال ہو گئیں۔ علامہ ابن اثیر اور حافظ ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے کہ اس موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم بڑی دیر تک ان کا فصیح و بیلغ کلام سنتے رہے۔ وہ سناتی جاتی تھیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے جاتے تھے۔’’شاباش اے خنساء۔‘‘
    قبول اسلام کے بعد وہ اپنے قبیلے میں واپس تشریف لے گئیں اور لوگوں کو پیغام رسالت پہنچا کر اسلام قبول کرنے کی ترغیب دی۔ زبان میں بڑی تاثیر تھی چنانچہ بےشمار لوگوں نے ان کی تبلیغ سے متاثر ہو کر اسلام قبول کر لیا۔ اسکے بعد وہ وقتاً فوقتاً مدینہ منورہ آتیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر فیضان نبوی سے مقدور بھر بہرہ یاب ہوتیں۔ اسلام لانے کے بعد بھی حضرت خنساء رضی اللہ عنہا کے دل سے اپنے محبوب بھائیوں بالخصوص صخر کی یاد محو نہ ہو سکی۔ وہ ایام جاہلیت کے دستور کے مطابق صخر کے سوگ میں ہمیشہ اپنے سر پر بالوں کا ایک گچھا (یاسربند) باندھے رہتی تھیں۔ علامہ ابن اثیر کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ حضرت خنساء رضی اللہ عنہا کعبہ کا طواف کر رہی ہیں اور سر پر سوگ کی علامت کے طور پر سربند باندھ رکھا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں بلا کر فرمایا اسلام اس قسم کے سوگ کی اجازت نہیں دیتا، انہوں نے عرض کیا:
    ’’امیر المؤمنین کسی عورت پر غم و الم کا ایسا پہاڑ نہ ٹوٹا ہوگا، میں اسے کیسے برداشت کروں؟‘‘
    حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں دلاسہ دیتے ہوئے فرمایا: ’’ اس دنیا میں لوگوں کو اس سے بھی بڑے مصائب و آلام سے دوچار ہونا پڑتا ہے ذرا ان کے دلوں میں جھانک کر تو دیکھو۔ جس چیز کو اسلام نے ممنوع قرار دیا ہے اس کو اختیار کرنا معصیت ہے۔‘‘
    اس کے بعد حضرت خنساء رضی اللہ عنہا نے سوگ کی علامت ترک کردی لیکن صخر کو بھلانا ان کے بس کی بات نہ تھی۔ اسکی یاد میں ان کا رونا دھونا برابر جاری رہا لیکن اب اس نے دوسری صورت اختیار کر لی۔ کہا جاتا ہے کہ قبول اسلام کے بعد وہ اس قسم کے شعر پڑھا کرتی تھیں۔

    کنت ابکی لہ من الثار وانا ابکی لہ من النار
    (یعنی پہلے تو میں صخر کو بدلہ لینے کی خاطر رویا کرتی تھی اور اب اسلیے روتی ہوں کہ وہ (قتل ہو گیا اور اسلام نہ لا سکا) اور اب جہنّم کی آگ میں جلتا ہوگا۔

    حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ نے اس سلسلے میں یہ روایت بھی بیان کی ہے کہ حضرت خنساء کبھی کبھی امّ المؤمنین حضرت عائشہ صدّیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوتیں۔ ان کے سر پر ہمیشہ بالوں کا ایک گچھا بندھا ہوتا جو عرب میں انتہائے غم کا مظہر ہوتا تھا۔ ایک دفعہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ اسطرح کا سربند باندھ کے سوگ منانا اسلام میں منع ہے۔ حضرت خنساء نے جواب دیا:
    ’’ امّ المؤمنین یہ سر پر باندھنے کی ایک خاص وجہ ہے۔‘‘
    حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: ’’وہ کیا؟‘‘
    حضرت خنساء رضی اللہ عنہا نے جواب دیا:
    ’’ امّ المؤمنین میرا خاوند انتہائی فجول خرچ اور قمار باز تھا۔ اس نے اپنا تمام زرومال جوئے میں ہار دیا اور ہم دانے دانے کو محتاج ہو گئے۔جب میرے بھائی صخر کو میری حالت کا پتہ چلا تو اسنے اپنے تمام مال کا بہترین نصف مجھے دے دیا۔ میرے شوہر نے اسے بھی ضائع کردیا تو میرے بھائی نے اپنا بقایا مال کا بہترین نصف بھی مجھے دے دیا۔ صخر کی بیوی اس پر معترض ہوئی کہ تم اپنے مال کا بہترین حصہ اپنی بہن کو دیتے ہو اور اسکا شوہر اسے قمار بازی میں تلف کر دیتا ہے، یہ سلسلہ آخر کب تک چلے گا۔ میرے بھائی نے جواب دیا، خدا کی قسم میں اپنی بہن کو اپنے مال کا بدترین حصہ نہیں دوں گا وہ پاک دامن ہے اور میرے لیے یہ کافی ہے کہ میں اس کے ننگ وعار کا لحاظ رکھوں۔ اگر میں مر جاؤں گا تو وہ اپنی اوڑھنی میرے غم میں چاک کر ڈالے گی اور میرے سوگ میں اپنے سر پر بالوں کا سربند باندھے گی۔‘‘
    چنانچہ میں یہ سربند اپنے شجاع اور سخی بھائی کی یاد میں باندھتی ہوں۔
    بہرصورت حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ یا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی تنبیہ کے بعد انہوں نے سربند باندھنا چھوڑ دیا تو رضائے الٰہی پر شاکر ہو گئیں۔
    حضرت خنساء رضی اللہ عنہا کی زندگی کا سب سے تابناک واقعہ وہ ہے جس میں وہ اپنے چاروں بیٹوں کو ساتھ لے کر جنگ قادسیہ میں شریک ہوئیں اور اسکی تفصیل اوپر بیان کی جا چکی ہے۔ یہ چاروں بچے ان کا عصائے پیری تھے۔ (بالخصوص بعض اہل سیئر کے اس بیان کے پیش نظر کہ شدت غم اور کثرت الم سے روتے روتے ان کی آنکھیں سفید ہو گئیں تھیں) لیکن جب چاروں کی شہادت کی خبر سنی تو جزع و فزع کی بجائے ان کی زبان سے جو الفاظ نکلے وہ یہ تھے۔ الحمدللہ الّذی شُرفنِی بقتلھم۔۔۔۔ اس اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے ان کے (راہِ خدا میں) قتل ہونے کا شرف بخشا۔
    یہ الفاظ ان کے ایمانِ محکم اور صبرورضا پردال ہیں۔
    حضرت خنساء رضی اللہ عنہا کے یہ بچے جنگ قادسیہ سے پہلے کئی لڑائیوں میں بھی داد شجاعت دے چکے تھے اور حکومت کی طرف سے ہر ایک کے نام دوسو درہم سالانہ وظیفہ مقرر تھا۔ انکی شہادت کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ وظیفہ حضرت خنساء رضی اللہ عنہا کے نام منتقل کر دیا۔
    اسلام کی اس جلیل القدر خاتون نے ایک روایت کے مطابق جنگ قادسیہ کے سات یا آٹھ سال بعد ۲۴سنہ ہجری میں وفات پائی اور ایک دوسری روایت کے مطابق انہوں نے امیر معاویہ کے عید حکومت میں کسی بادیہ میں سفرِ آخرت اختیار کیا۔ واللہ اعلم بالصّواب۔
    مولانا سعید انصاری مرحوم نے ‘‘سیرت الصحابیات‘‘ میں لکھا ہے کہ حضرت خنساء رضی اللہ عنہا کا ضخیم دیوان مع شرح سن ۱۸۸۸ء میں بیروت سے چھپا۔ اس میں حضرت خنساء رضی اللہ عنہا کے علاوہ ساٹھ ۶۰ دوسری خواتین کے کہے ہوئے مرثیے بھی شامل ہیں۔ سنہ ۱۸۸۹ء میں اس کا فرانسیسی زبان میں ترجمہ ہوا اور اسے دوبارہ طبع کیا گیا۔
    مولانا محمّد نعیم ندوی صدیقی (اعظم گڑھ) نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ حضرت خنساء رضی اللہ عنہا کے دیوان کی شرح ایک عیسائی ــالاب لولیس الیسوعی‘‘ نے انیس المجلساء کے نام سے لکھی تھی۔ یہ شرح مطبع کاٹولیکیہ بیروت سے سنہ ۱۸۹۶ء میں شائع ہوئی۔ اسے دیوان خنساء رضی اللہ عنہا کے قدیمی قلمی نسخوں سے پوری صحت کے ساتھ مرتّب کیا گیا ہے۔ اس کے شروع میں ایک مبسوط اور وقیع مقدمہ بھی ہے جو بجائے خود ایک خاصہ کی چیز ہے۔
    (ماہنامہ فاران کراچی۔ جولائی انہ ۱۹۷۶ء)
    اگرچہ حضرت خنساء رضی اللہ عنہا سے کوئی حدیث مروی نہیں ہے لیکن ان کا شمار جلیل القدر صحابیات میں ہوتا ہے۔ آخر جن کے حسنِ کلام کی خورشیدالرسلین رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے تعریف و تحسین فرمائی ہو ان کی جلالت قدر اور عَلَوِّ مرتبت میں شک بھی کیا ہو سکتا ہے؟ اور پھر حضرت خنساء رضی اللہ عنہا نے راہِ حق میں اپنے جگر کے ٹکروں کی شہادت پر جس بے مثال صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا’ اس سے بلا شبہ ان کے نام کو جریدہ عالم پر دوام کا مستحق بنا دیا۔ ملّتِ اسلامیہ اگر تا ابد ان پر ناز کرتی رہے تو وہ بجا طور پر اسکی مستحق ہیں


    رضی اللہ تعالیٰ عنہا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,758
    جزاک اللہ خیرا سسٹر
     
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    جزاک اللہ خیرا وبارک فیک سسٹر ۔
    رضي اللہ عنها و أرضاها ، اللہ تعالى ہميں بھی اس طرح صبر وثبات اور راضى برضائے رب ہونے كى توفيق دے۔
     
  4. mahajawad1

    mahajawad1 محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 5, 2008
    پیغامات:
    473
    آمین۔یا رب العالمین
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں