تنظیم اسلامی کے بانی ڈاکٹر اسرار احمد کا عقیدہ وحدت الوجود !

رفیق طاھر نے 'غیر اسلامی افکار و نظریات' میں ‏مارچ 16, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. رفیق طاھر

    رفیق طاھر ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,943
    وحدت الوجود ایک انتہائی شرکیہ عقیدہ ہے ۔ جس کے بارہ میں "اہل السنہ" کی دو رائے نہیں ۔ تنظیم اسلامی کے بانی اور معروف مفسر قرآن جناب ڈاکٹر اسرار احمد اسی عقیدہ کے حامل تھے ۔
    وحدت الوجود کے اس عقیدہ کو ابن العربی صوفی نے پروان چڑھایا ہے ۔ وہ اپنی کتاب فصوص الحکم میں لکھتے ہیں :
    [font="_pdms_saleem_quranfont"]فأنت عبد وأنت رب
    یعنی تو بندہ ہے اور تو رب ہے ۔
    ڈاکٹر اسرار احمد صاحب ابن عربی کے اسی عقیدہ کو یوں پیش کرتے ہوئے اپنی تصنیف " ام المسبحات ص ۸۸" میں لکھتے ہیں :
    " میرے نزدیک اس کا حل وہ ہے جو شیخ ابن عربی نے دیا ہے ‘ جو میں بیان کر چکا ہوں ‘ کہ حقیقت وماہیت کے وجود کے اعتبار سے خالق ومخلوق کا وجود ایک ہے ، کائنات میں وہی وجود بسیط سرایت کیے ہوئے ہے ۔۔۔۔۔۔۔"
    یعنی ڈاکٹر اسرار صاحب کے نزدیک بھی خالق ومخلوق کا وجود ایک ہے ۔ گویا انسان خالق بھی ہے مخلوق بھی !
    یعنی وہی عقیدہ وحدت الوجود !
    اعاذنا اللہ منہا [/font]
     
  2. محمد عرفان

    محمد عرفان -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 16, 2010
    پیغامات:
    764
    اعاذنا اللہ منہا
    اللہ ڈاکٹر صاحب کی مغفرت فرمائے آمین۔۔
     
  3. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    اللہ امت مسلمہ کو اس کفریہ عقیدہ سے دور رکھے۔
    ویسے جہاں تک ڈاکٹر اسرار احمد کا تعلق ہے تو یہ بات میں بتاتا چلوں کہ 2006 میں یا شاید 2007 کے اوائل میں ڈاکٹر ذاکر نائیک سعودی عرب آئے تھے تو میں بھی ان کے ساتھ ایک شیخ کے گھر گیا تھا میں نے یہ سوال اٹھا یا تو انہوں نے کہا کہ پہلے ان کا عقیدہ تھا لیکن بعد میں اصلاح کی۔
    اب انہوں نے رجوع کیا یا نہیں کیا یہ اللہ اور اس کے درمیان معاملہ ہے۔اللہ ان کو معاف کرے۔
    لیکن ہمیں ضرور ان کی اس غلطی کا ازالہ کرنا چاہیے کیوں کہ تصوف کی بنیادہی اس گندے عقیدے پر قائم ہے۔ تبلیغی نصاب یا فضائل اعمال میں ابن عربی جیسے گمراہ شخص کو "شیخ اکبر" جیسے القاب سے یاد کیا گیا ہے۔
     
  4. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,845
    میرے خیال سے اعجاز بھائی کی بات کسی حد تک درست ہے میں نے بھی ایک شیخ سے سنا ھے کہ انھوں نے رجوع کر لیا تھا اب کیا تھا یا نہیں‌یہ تو اللہ ہی جانتا ہے باقی اللہ تعالی ان کی حسنات کو قبو ل کر ے اور انکی بشری غلطیوں‌کو معاف کریں آمین۔
    :)
     
  5. irfan_channa

    irfan_channa -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 10, 2010
    پیغامات:
    225
    اللہ ڈاکٹر صاحب کی مغفرت فرمائے آمین۔۔
     
  6. سائرہ ساجد

    سائرہ ساجد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 3, 2011
    پیغامات:
    693
    آمین
     
  7. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,488
    نہيں ان كا رجوع آن ريكارڈ نہيں ہے ۔ ہمارے يہاں تنظيم كى مطبوعات ماہانہ ميگزين وغيرہ باقاعدہ آتے ہيں، ايسى كوئى بات انہوں نے نہيں كى۔
    اس موضوع پر كافى بحث پہلے بھی ہو چكى ہے مفصل فتاوى بھی موجود ہيں
    ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کی تفسیر سے متعلق ۔۔۔۔ - URDU MAJLIS FORUM

    ان كے ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے كہ شرك سے وہ خود بھى نفور تھے اور وحدت الوجود اور ہمہ اوست ميں فرق كے قائل تھے۔ بہر حال اس تاويل كى بنا پر ان سے حسن ظن ركھا جا سكتا ہے ليكن ان كے مداحين كو سمجھ لينا چاہیے كہ وحدت الوجود كا قرآنى تصور توحيد سے كوئى تعلق نہيں۔ اللہ تعالى ہم سب كو شرك كے ادنى شائبہ سے بھی محفوظ فرمائے اور خاتم النبيين صلى اللہ عليہ وسلم كى خالص تعليمات پر خاتمہ بالخير نصيب فرمائے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  8. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    ہوسکتا ہے کہ انہوں نے پرائیوٹ طور پر اس کا اظہار کیا ہو لیکن پبلک کے سامنے نہیں!
    بہرحال وحدت الوجود نہایت ہی خطرناک عقیدہ ہے اور اگر بالفرض یہ تسلیم کیا جائے کہ اللہ کے سوا کوئی ذات موجود ہی نہیں تو پھر شرک کا تصور ہی سرے سے ختم ہوجاتا ہے ۔ جب اللہ کے سوا کوئی موجود ہی نہیں تو پھر شریک کون ؟
    ڈاکٹر اسرار احمد (رحمہ اللہ) ایک انسان تھے اور بڑے بڑے علماء بھی غلطی کرسکتےہیں بشری تقاضوں کی وجہ سے۔ لیکن غلطی سے رجوع کرنا اور غلطی پر گرفت کرناسلف صالحین کا طریقہ کار رہا ہے۔
    اللہ ہمیں حق پر چلنے کی توفیق دے۔
     
  9. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    شیخ رفیق
    کیا عقیدہ طحاویہ میں ابن عربی کو ملحد نہیں کہا گیا ہے ؟؟؟؟
    کیا آپ کنفرم کرسکتےہیں
     
  10. ضیاءرحمن

    ضیاءرحمن محسن

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2008
    پیغامات:
    1,056
    پہلے یہ بھی واضح کیا جائے کہ ملحد کسی کہتے ہیں اور صوفی کا کیا مطلب ہے ، تاکہ سمجھنے میں آسانی ہو ۔
     
  11. أبو عبدالله بلال سلفي

    أبو عبدالله بلال سلفي رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جولائی 4, 2015
    پیغامات:
    30
    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

    جماعت اہلحدیث کا ایک بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم اصلاح سے زیادہ فتووں کا بازار گرم رکھنے میں پیش پیش رہتے ہیں خصوصا پاک و ہند کے عوامی حلقے میں یہ وائرس عام پایا جاتا ہے !!!! تعجب ہے اللہ وحدہ لا شریک نے ہمیں جو دعوت کا اسلوب سمجھایا ہے اپنے کلام اقدس میں اس کے برعکس عمل کرتے ہوئے ہم ہر نئے ہونے اہلحدیث بھائی کو تبلیغی دیوبندی جماعت اسلامی کی کتابوں کی چھان بین پر لگا دیتے ہیں وہاں سے عقیدے دیکھتے جاؤ اور کفر و شرک کے فتوے لگاتے جاؤ حالانکہ یہ کام علماء راسخون فی العلم کا تھا لیکن یہ سارا کام اہلحدیث کے عامی طبقہ کے سپرد کر دیا گیا !!!!علماء اہلحدیث کو چاہیے تھا کہ وہ اپنی مساجد اور مدارس میں قرآن فہمی کی تعلیم دیتے ہر نئے پرانے اہلحدیث کو ایجوکیٹ کرتے تاکہ اہلحدیث عوام کا قرآن و حدیث کے ساتھ تعلق مضبوط ہوتا لیکن بدقسمتی سے ہوتا کیا ہے اہلحدیث عام الناس کو دیوبندی تبلیغی کتابوں کے حوالے تو یاد رہتے ہیں لیکن قرآن مجید کے حقیقی علم سے بالکل نا آشنا ہوتے ہیں !!!یہ ساری زمہ داری علماء کرام پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اہلحدیث عوام کی صحیح معنوں میں دینی تربیت کریں انہیں قرآن کا علم سکھائیں !!!! رہی بات ڈاکٹر اسرار احمد علیہ الرحمہ کی تو انہوں نے انجمن خدام القرآن کی بنیاد رکھی اور امت مسلمہ کے قرآن حکیم کے ساتھ تعلق کو زندہ کرنے کے لئے 1972ء میں مرکزی انجمن خد ام القرآن لاہور قائم کی اس انجمن کی اندرون ملک اور بیرون ملک کئی شاخیں قائم ہوئیں والحمدللہ جو ان شاءاللہ تا قیامت تک ان کے لیے صدقہ جاریہ ہے !!! ہمارے علماء اہلحدیث کے لیے ایک عظیم ہستی علامہ عطاءالرحمن ثاقب شہید علیہ الرحمہ کی شخصیت مثال ہے جنہوں نے قرآن فہمی کے حوالے سے عامی پڑھے لکھے اور ان پڑھ کے لیے کورسز کا باقاعدہ طور پر آغاز کیا اور الحمد للہ کثیر تعداد میں لوگ شیخ رحمہ اللہ سے مستفید ہوئے
    شیخ رحمہ اللہ تعالی کے تاریخی الفاظ ”ہم نے جو پہلے زندگی گزاری، وہ اپنی عمر کا ایک قیمتی حصہ تھا جو ضائع کرلیا اب ہمیں قرآنِ حکیم کی تعلیمات کو عام کرنے کے لئے اپنے آپ کو وقف کرنا چاہئے۔ لہذا علماء اہلحدیث کو بھی چاہئے کہ مزید عام الناس کو مسئلے مسائل فرقوں کی بحث میں الجھانے کی بجائے انہیں قرآن فہمی کی تعلیم سے روشناس کروائیں آخر میں شیخ عطاء الرحمن ثاقب علیہ الرحمہ کا ایک اور سنہری بیان قلمبند کیے دیتا ہوں

    روزنامہ ’جنگ‘ کے تحت ہونیوالے ایک پروگرام (روا داری اور مذہبی ہم آہنگی، تعلیمات ِنبوی کی روشنی میں) میں اظہارِ ِخیال کرتے ہوئے کہا تھا

    ان کے یہ خیالات ان کی قرآنِ مجید سے والہانہ محبت و شیفتگی، ملت ِاسلامیہ کے اتحاد کے لئے فکری جمود کو ختم کرنے کے شدید جذبہ کا اعلیٰ مظہر ہیں۔

    جہاں تک خود مسلمانوں کے درمیان مذہبی رواداری کے سلسلے میں میری تجویز ہے کہ جب تک دینی مدارس میں ایک مخصوص فقہ کی بجائے مذاہب ِاربعہ کی فقہ کا تقابلی مطالعہ نہیں کروایا جائے گا، اس وقت تک وسعت ِظرفی اور مذہبی رواداری کا جذبہ پروان نہیں چڑھے گا اور نہ ہی فکری جمود کا خاتمہ ہونا، ممکن ہوسکے گا۔ ہمارے مدارس میں تقابلی تعلیم کے اہتمام سے تعصب اور فکری جمود ختم نہیں ہورہا اسی طرح ائمہ اور خطباءِ مساجد کے لئے کوئی معیار مقرر کیا جانا ضروری ہے۔ کم از کم ان کے لئے یہ تو لازمی قرار دیا جائے کہ وہ قرآن کے ترجمہ سے آشنا ہوں جبکہ ان کی ۷۰ فیصد اکثریت قرآن مجید کے مکمل ترجمہ سے بھی واقف نہیں دین ہماری متاع ہے اور ہم نے اسے مذہبی پیشواؤں کے سپرد کررکھا ہے۔ اس کے سدباب کے لئے قانون سازی کی ضرورت ہے تاکہ تعلیماتِ نبوی کی روشنی میں رواداری اور مذہبی ہم آہنگی کو فروغ حاصل ہوسکے

    وما علینا الا البلاغ
     
  12. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,348
    ایسا کچھ نہیں.اہل حدیث فتوی یا حکم لگانے کے حوالے سے سب فرقوں میں سب سے زیادہ محتاط ہوتے ہیں.
    ہاں یہ بات کسی حد تک درست ہے کہ پاک و ہند، اور خاص پاکستان میں اہل حدیث جو جماعتوں میں منقسم ہیں. اور بعض سیاسی اور جہادی، جذباتی قسم کے نوجوان جو اپنے علماء کو ہی شیخ الکل سمجھتے ہیں.ہر قرآنی آیت یا حدیث سے استدلال کر کے لوگوں پر فٹ کرتے ہیں.یہ نہیں دیکھتے کہ وہ آیت محکم یا متبع سنت بھی ہے یا نہیں. یہ سلف کا منہج نہیں.یہ دین و ایمان کا نقصان ہے. یہ خود لا شعوری طور پر پر فتن میں مبتلا ہیں. اللہ عافیت دے.
    عطاء الرحمن ثاقب رحمہ اللہ کی قرآن فہمی منہج سلف کے فہم پر تھی. اس کا خدام القرآن کی دعوت سے کوئی تعلق نہیں وہ تو فقط خلافت کے گرد گھومتی ہے. یا ملوکیت اور اہل عرب و بنو امیہ کی مذمت پر. ڈاکٹر اسرار کی کتاب المسبحات آج بھی ان کی ویب سائٹس پر موجود ہے. جس میں أسماء و صفات کی من مانی تفسیر کی گئی ہے. جس سے عقیدت وحدت الوجود کا رنگ نمایاں ہوتا ہے.
    اہل حدیثوں کو چاہیے کہ وہ ماشاءاللہ منہج سلف صالحین پر چلتے ہیں.. فہم سلف کو بھی متنازعہ دینی مسائل میں اولیت دے دیں تو ان کے لیے بہتر ہے. اللہ رحم کرے
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں