چرواہے کا تقوی

irum نے 'ادبی مجلس' میں ‏مارچ 28, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. irum

    irum -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 3, 2007
    پیغامات:
    31,582
    چرواہے کا تقوی
    عبدالمالک مجاہد
    حضرت عبداللہ بن عمر رضي الله عنهما کے غلام نافع کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ عبداللہ بن عمررضي الله عنهما مدینہ منورہ کے کسی کنارے کی طرف نکلے ۔ آپ کے ہمراہ آپ کے چند ساتھی بھی تھے ۔ ساتھیوں نے آپ کے کھانے کے لیے دسترخوان بچھایا ۔ اسی دوران وہاں سے ایک چرواہے کا گذر ہوا ۔ حضرت ابن عمر رضي الله عنه نے اس سے کہا:”چرواہے آؤ آؤ ! اس دسترخوان سے تم بھی کچھ کھا پی لو “ چرواہا بولا:”میں روزے سے ہوں“
    عبداللہ بن عمررضي الله عنهما نے کہا:”اس طرح کے سخت گرم دن میں تم روزے کی مشقت برداشت کررہے ہو جبکہ لُو نہایت تیز ہے اور تم ان پہاڑوں میں بکریاں بھی چرا رہے ہو ۔“
    چرواہے نے جواب دیا : جی ہاں! میں ان خالی ایام کی تیاری کررہاہوں جن میں عمل کرنے کا موقع نہیں ملے گا ،اسی لیے دنیوی زندگی میں عمل بجا لا رہاہوں ۔ عبداللہ بن عمررضي الله عنهما نے چرواہے کے تقوی اور خوف الٰہی کا امتحان لینے کے ارادے سے اس سے کہا : کیا تم اس ریوڑمیں سے ایک بکری بیچ سکتے ہو ، ہم تمہیں اس کی نقد قیمت دیں گے ، مزید تمہارے افطار کے لیے گوشت بھی دیں گے ؟ چرواہے نے جواب دیا :
    ”یہ بکریاں کوئی میری نہیں ہیں جو بیچ دوں بلکہ میر ے آقا کی ہیں ، اس لیے میں تصرف نہیں کرسکتا “۔
    عبداللہ بن عمررضي الله عنهما نے کہا: تمہارا آقا اگر کوئی بکری کم پائے گا اور تم اس سے کہہ دوگے وہ بکری گم ہوگئی ہے تو وہ کچھ نہیں کہے گا ، کیوں کہ ریوڑ سے ایک دو بکریاں پہاڑوں میں گم ہوتی ہی رہتی ہیں ۔ یہ سننا تھا کہ چرواہا حضرت عبداللہ بن عمررضي الله عنه کے پاس سے چل دیا ، وہ اپنی انگلی آسمان کی طرف اٹھاکر یہ جملہ کہے جا رہا تھا :
    أینَ اللّٰہُ ”پھر اللہ کہا ں ہے ۔ اللہ کہاں ہے؟ “
    جب چرواہا چلا گیا تو حضرت عبداللہ بن عمر رضي الله عنهما اس کا یہ جملہ بار بار دہرانے لگے : أینَ اللّٰہُ ”پھر اللہ کہا ںہے ۔اللہ کہاں ہے ؟“
    جب حضرت عبداللہ بن عمررضي الله عنهما مدینہ آئے توچرواہے کے آقا کے پاس انہوں نے اپنے آدمی بھیجے اور اس سے بکریاں اور اس چرواہے کو خرید کر اسے آزاد کر دیا اور وہ بکریاں اسے ہبہ کردیں ۔ ( شعب الایمان ، للبیھقی (5291) ، اسد الغابة (3082) اس کی سند حسن ہے )


    (ماخوذ سنہرے اوراق )
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    اللہ تعالی ہمیں‌بھی، ایسی واقعات، شئیرنگ، حکایات، حوالات سے کچھ سیکھنے کا موقعی عطافرمائے۔ آمین۔

    جزاک اللہ خیرا۔

    مفید۔
     
  3. محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل -: منتظر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2011
    پیغامات:
    3,848
    ایمانداری اور امانت داری دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ امانت دار لوگوں کو ایمان ملا کرتا ہے۔ اور جب یہ دونوں چیزیں جمع ہو جائیں تو پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے خیر و برکت کے دروازے بھی کھل جایا کرتے ہیں۔ جیسا کہ اس واقعہ سے ظاہر ہے۔ اور ایک سبق اور بھی ہے کہ امانتداری کا ایمانداری سے کیا تعلق ہے؟؟؟؟ دیگر احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ جو شخص ایمان کا دعویٰ تو کرتا ہے لیکن ’’امانتداری‘‘ اختیار نہیں کرتا تو وہ ’’منافقت‘‘ کے انتہائی قریب ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ایماندار اور امانت دار بنا دے۔ آمین۔ یارب العالمین۔
     
  4. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,758
    جزاک اللہ خیرا
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں