سامانِ قبر

ساجد تاج نے 'ادبی مجلس' میں ‏اپریل 4, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    پیغامات:
    38,758
    [​IMG]


    [​IMG]

    سامانِ قبر

    [​IMG]



    قبر میں‌ کچھ بھی پاس نہ ہو گا۔

    نہ روح‌ ، نہ سانس ، نہ دُکھ ، نہ خوشی ، نہ دولت ، نہ مفلسی ، نہ انتظار ، نہ صبر ، نہ بے چینی ، نہ جھوٹ ، نہ سچ ، نہ اُمید ، نہ ہوس ، نہ نفرت ، نہ محبت ، نہ روشنی ، نہ ہوا ، نہ التجا ، نہ دُعا ، نہ فریاد

    جو پاس ہو گا

    نہ ختم ہونے والا اندھیرا

    نہ ختم ہونے والا انتظار

    ہڈیوں‌ کا ایک پنجرا

    جس میں‌سوائے بدبو کے کچھ نہ ہو گا

    اعمال ناموں‌کی ایک کتاب جو اللہ تعالی کے پاس محفوظ ہو گی۔ جسے روزِ حساب کھولا جائے گا۔

    اور جب روح‌دوبارہ جسم میں‌ ڈالی جائے گی تو اُس وقت یہ دنیا یاد ہی نہیں‌ ہو گی۔ اگر زندگی میں‌انسان قبر کو یاد رکھے تو پھر قبر روشن ہو گی۔

    شاعر کا نام : اورنگ زیب فرازی
    کتاب : حیاتِ بشر
    صفحہ نمبر : 256


    [​IMG]
     
    سائرہ ساجد نے شکریہ ادا کیا ہے.
  2. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    پیغامات:
    6,692
    جزاک اللہ خیرا۔
     
  3. محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل -: منتظر :-

    پیغامات:
    3,848
    کچھ تحفظات ہیں۔ پہلی سطر کی عبارت کو غور سے پڑھیں اس میں بھی ہے ’’نہ انتظار‘‘۔
    اس کے بعد کی چوتھی سطر میں ہے ’’نہ ختم ہونے والا انتظار‘‘۔
    طنز نہیں بلکہ اصلاح کی اُمید ہے۔
    بارک اللہ لکم۔
     
  4. Ishauq

    Ishauq -: ممتاز :-

    پیغامات:
    9,614
    جزاک اللہ خیرا۔
     
  5. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    پیغامات:
    38,758
    جی بھائی آپ کی بات صحیح ہے
    اب رائٹر نے ایسا کیوں لکھا ہے یہ تو اب وہی جانتےہیں
     
  6. سائرہ ساجد

    سائرہ ساجد -: ماہر :-

    پیغامات:
    693
    جزاک اللہ خیرا
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں